69. Surah Al-Haaqqa

الحاقةThe Reality · 52 ayahsانوار البیان

Ayah 69:1

اَلْحَآقَّةُۙ Open ayah 69:1 in the Quran reader

سچ مچ ہونیوالی

(69:1) الحاقۃ : حق ہونے والی، ثابت ہونے والی۔ حق باب ضرب، نصر۔ مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث یہاں روز قیامت مراد ہے۔ قیامت کو الحاقۃ اس لئے کہتے ہیں کہ اس کا واقع ہونا ایک مسلمہ حقیقت اور اٹل صداقت ہے۔ مبتدا ہے۔
Ayah 69:2

مَا الْحَآقَّةُۚ Open ayah 69:2 in the Quran reader

سچ مچ ہونیوالی کیا ہے

(69:2) ما الحاقۃ : ما استفہامیہ ہے۔ کیا ہے وہ ہوکر رہنے والی۔ اصل میں ماہی تھا۔ جس صورت میں یہ مبتداء کی خبر ہے اگرچہ اصل میں ماہی ہونا چاہیے تھا۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا لیکن قیامت کی ہولناکی اور عظمت شان کو ظاہر کرنے کے لئے ضمیر کی جگہ اسم ظاہر بمعہ استفہام لایا گیا ہے۔
Ayah 69:3

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحَآقَّةُؕ Open ayah 69:3 in the Quran reader

اور تم کو کیا معلوم ہے کہ وہ سچ مچ ہونیوالی کیا ہے

(69:3) وما ادراک استفہام انکاری ہے ما بمعنی من ہے کون ہے ؟ ادرک ادری ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ دری مادہ۔ یدری فعل مضارع ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر ما ادراک تجھے کون بتالئے۔ تجھے کون خبردار کرے۔ ما ادراک۔ وما یدریک تم نہیں سمجھتے (المنجد) کیا تم کو معلوم ہے۔ کس چیز نے تم کو بتلایا۔ تم کو کیا معلوم ؟ یحییٰ بن سلام کہتے ہیں :۔ کہ قرآن مجید میں جہاں کہیں ما ادراک ماضی کے صیغہ سے آیا ہے آخر اسی چیز سے آنحضرت ﷺ کو مطلع کردیا گیا ہے اور جہاں کہیں ما یدریک مضارع کا صیغہ آیا ہے وہاں وہ بات آپ سے مخفی رکھی گئی ہے۔ ماالحاقہ : کیسی ہولناک ہے قیامت۔ جملہ استفہامیہ ہے جو قیامت کی ہولناکی کو ظاہر کر رہا ہے ۔ یعنی قیامت بڑی ہولناک چیز ہے۔
Ayah 69:4

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ Open ayah 69:4 in the Quran reader

کھڑکھڑانے والی (جس) کو ثمود اور عاد (دونوں) نے جھٹلایا

(69:4) ثمود : ثمود یعنی حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم۔ عاد حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم ۔ بالقارعۃ : اقوام صالح اور ہود نے، قیامت کی تکذیب کی۔ القارعۃ : کھٹکھٹا دینے والی ساعت۔ یعنی قیامت جو ہر چیز کی پھوڑ توڑ، شکست دریخت اور انتشار وپراگندگی کی وجہ سے لوگوں کے کانوں پر چوٹ لگائے گی۔ اس جگہ بھی ضمیر کی بجائے اسم ظاہر کو استعمال کیا گیا ہے۔ مگر ایسا مرادف لفظ لایا گیا ہے جو کہ شدت ہول میں زیادتی کو ظاہر کر رہا ہے۔ یہ جملہ سابقہ جملوں کے ساتھ مل کر بتارہا ہے کہ قیامت کو نہ ماننا اور اس کی تکذیب کرنا ہلاکت و تباہی کا موجب ہے۔ القارعۃ قرع (باب فتح) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ ہے واحد مؤنث کھٹکھٹانے والی۔ قارع الباب۔ دروازہ کھٹکھٹانے والا۔
Ayah 69:5

فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِیَةِ Open ayah 69:5 in the Quran reader

سو ثمود تو کڑک سے ہلاک کردیے گئے

(69:5) فاما ثمور فاہلکوا بالطاغیۃ : یہ جملہ کذبت پر معطوف ہے۔ فاما میں فاء سببیہ ہے اور اما سے مجمل کی تفصیل کی گئی ہے اصل کلام یوں تھا :۔ ثمود اور عاد نے قیامت کی تکذیب کی اس لئے تباہ کر دئیے گئے۔ ثمود تو طاغیہ کی وجہ سے ہلاک ہوئے (اور عاد کو سخت ٹھنڈی یا سخت شور انگیز ہوا سے ہلاک کردیا گیا ۔ آیت 6) اھلکوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب اہلاک (افعال) مصدر سے ۔ وہ ہلاک کئے گئے۔ بالطاغیۃ۔ سخت کڑک سے۔ طاغیۃ غیر معمولی چیز سے بالاتر۔ قتادہ نے یہی فرمایا ہے اور یہی صحیح ہے۔ صورت یہ ہوئی کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے ایک چیخ اتنی بلند ماری کہ سب مر کر رہ گئے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ آسمان کی طرف سے ایک ایسی چیخ پیدا ہوئی تھی جس میں ہر تڑک ہر کڑک اور ہر زمینی چیز کی آواز تھی۔ جس سے سینوں کے اندر دل پار ہ پارہ ہوگئے۔ اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ :۔ طاغیۃ، عافیۃ کی طرح مصدر ہے طغیان کا ہم معنی ہے یعنی ثمود اپنے طغیان (گناہوں میں حد سے آگے بڑھ جانے) کی وجہ سے ہلاک ہوگئے۔ اس صورت میں باء سببیہ ہوگی۔ پیغمبر کی تکذیب کی، اونٹنی کو قتل کیا وغیرہ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ طاغیۃ میں تا مبالغہ کی ہے بڑا سرکش، اس سے مراد حضرت صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی کا قاتل قذار بن سالف ہے۔ یہ بھی ایک قول ہے کہ :۔ طاغیۃ میں تاء تانیث ہے (اور) اس سے مراد وہ جماعت ہے جس نے اونٹنی کے قتل پر اتفاق کیا اور قذار کو اس فعل پر آمادہ کیا تھا ۔ یہی جماعت پوری قوم کی تباہی کا سبب بنی تھی۔ یہ تاویل یعنی طاغیۃ کو مصدر کہنا یا جماعت مراد لینا یا صرف قذار مراد لینا اور تاء کو مبالغہ کے لئے قرار دینا آئندہ آیت کے مناسب نہیں ہے کیونکہ آئندہ آیت میں فرمایا ہے :۔ فاھلکو بریح کہ عاد کو طوفان ہوا سے ہلاک کیا گیا (یعنی ذریعہ ہلاکت بیان فرمایا ہے باعث ہلاکت بیان نہیں فرمایا۔ پس طاغیۃ سے مراد بھی ذریعہ ہلاکت یعنی ہولناک چیخ ہونی چاہیے۔ (تفسیر مظہری) ۔
Ayah 69:6

وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَةٍۙ Open ayah 69:6 in the Quran reader

رہے عاد تو ان کا نہایت تیز آندھی سے ستیاناس کردیا گیا .

(69:6) واما عاد اور رہے عاد (یعنی جہاں رک عاد کا تعلق ہے) فاہلکوا بریح صرصر : موصوف و صفت تو وہ ہلاک کئے گئے۔ ریح صرصر سے۔ صر صر سناٹے کی ہوا۔ عاتیۃ۔ صفت ثانی ریح صر صر کی۔ عتو (ع ت و حروف مادہ) (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل واحد مؤنث ہے۔ عتو کے مونی ہیں حد سے بڑھ جانا (قاموس) حد سے گزر جانا (المنجد) حکم عدولی کرنا (المفردات) گستاخ ، متکبر، (الفرائد الدریہ) قاضی شوکانی لکھتے ہیں :۔ عاتیۃ وہ جو اطاعت سے گردن تابی کرے ۔ گویا وہ فرشتگان ہوا سے سرکشی کر رہی تھی۔ ان کی اطاعت نہیں کرتی تھی۔ اور وہ اس کے تیز و تند ہونے کے باعث اس کے تھامنے پر قابو نہ پا رہے تھے یا عاد کے خلاف اس نے سرکشی کی تھی کہ وہ اس کو روک نہ سکے بلکہ الٹا اس نے ہی ان کو تباہ کر ڈالا۔ (لغات القرآن) آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ رہے عاد تو ان کو نہایت تیز و تند آندھی کے ذریعہ ہلاک کردیا گیا۔
Ayah 69:7

سَخَّرَهَا عَلَیْهِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَةَ اَیَّامٍ١ۙ حُسُوْمًا١ۙ فَتَرَى الْقَوْمَ فِیْهَا صَرْعٰى١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَةٍۚ Open ayah 69:7 in the Quran reader

خدا نے اس کو سات رات اور آٹھ دن ان پر چلائے رکھا تو لوگوں کو اس میں (اس طرح) ڈہے (اور مرے) پڑے دیکھے جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے

(69:7) سخرھا علیہم : جملہ مستانفہ ہے سخر ماضی واحد مذکر غائب تسخیر (تفعیل) مصدر ۔ بمعنی زبردست کسی کو خاص کام میں لگا دینا۔ کسی کو مقرر کرنا۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب کا مرجع ریح صرصر ہے۔ اس نے یعنی اللہ نے اس (طوفان ۔ باد تند و تیز) کو ان پر مسلط کردیا۔ سبع لیال وثمنیۃ ایام : سات راتیں اور آٹھ دن۔ یہ ہوا بدھ کے روز صبح سے شروع ہوئی اور اگلے بدھ کی شام کو تھی۔ (تفسیر حقانی) حسوما : یہ ھسم یحسم کا مصدر بھی ہوسکتا ہے جس کے معنی ہیں :۔ (1) جڑ سے کاٹ دینا (2) زخم کو مسلسل داغ دینا۔ اور یہ (حسوما) حاسم کی جمع بھی ہوسکتا ہے جیسے شاھد کی جمع شھود ہے اس صورت میں یہ حسم یحسم سے اسم فاعل کا صیغہ مذکر ہے، بمعنی (1) جڑ سے کاٹ دینے والے۔ (2) لگاتار، مسلسل، پیہم۔ مجاہد اور قتادہ نے اسی معنی میں لیا ہے۔ مطلب یہ کہ یہ طوفان متواتر سات رات اور آٹھ دن قوم عاد پر مسلط رہا۔ اور ان کی تباہی و بربادی کرتا رہا۔ فتری القوم فیہا صرعی :عاطفہ، تری مضارع واحد مذکر حاضر۔ رؤیۃ (ر ء ی حروف مادہ) باب فتح۔ مصدر۔ حال ماضی کی حکایت ہے۔ (فعل مضارع کو کسی گذشتہ بات کو بیان کرنے کے لئے ماضی کے بجائے استعمال کرنا) تو تو دیکھتا) مخاطب عام ہے کوئی ہو۔ القوم سے مراد قوم عاد۔ فیہا میں ضمیر ھا واحد مؤنث غائب کا مرجع مذکورہ لیل و نہار ہے ۔ صرعے : صرع (باب فتح) مصدر سے۔ صریع (اسم مفعول) کی جمع ہے۔ زمین پر پڑے ہوئے۔ مصروع مرگی کا مریض۔ صرعی۔ یا تو تری کا دوسرا مفعول ہے یا القوم سے حال ہے۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ (اگر تو اے مخاطب اس وقت موجود ہوتا) تو تو دیکھتا قوم عاد کو ان دنوں میں (زمین پر) گرے پڑے۔ کانھم اعجاز نخل خاویۃ۔ یہ جملہ بھی القوم سے حال ہے ک حرف تشبیہ ان حرف مشبہ بالفعل ۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ بیشک وہ لوگ ، اعجاز نخل۔ مضاف مضاف الیہ۔ اعجاز تنے، جڑیں۔ عجز کی جمع ہے۔ نخل۔ کھجور کا درخت۔ خاویۃ۔ اقتادہ۔ گری ہوئی۔ کھوکھلی۔ خواء (باب سمع) (خ و ی حروف مادہ) جگہ یا مکان کا خالی ہونا۔ اور باب ضرب سے بھی بمعنی خالی ہونا ہے ای خویٰ بطنہ من الطعام اس کا پیٹ طعام سے خالی ہوگیا۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے یہ نخل کی صفت ہے گویا وہ کھوکھلی کھجور کے مڈھ و جڑیں ہیں ۔
Ayah 69:8

فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِیَةٍ Open ayah 69:8 in the Quran reader

بھلا تو ان میں سی کسی کو بھی باقی دیکھتا ہے ؟

(69:8) فہل تری لہم من باقیۃ۔ استفہام انکاری ہے مخاطب کو اقرار پر آمادہ کیا جا رہا ہے یعنی کوئی بھی باقی نہیں۔ باقیۃ صفت ہے موصوف مقدرہ کی ای من نفس باقیۃ۔ کیا تو ان میں سے کوئی جان باقی دیکھتا ہے ؟ کیا تمہیں ان کا کوئی فرد نظر آتا ہے۔
Ayah 69:9

وَ جَآءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَهٗ وَ الْمُؤْتَفِكٰتُ بِالْخَاطِئَةِۚ Open ayah 69:9 in the Quran reader

اور فرعون اور جو لوگ اس سے پہلے تھے اور وہ جو الٹی بستیوں میں رہتے تھے سب گناہ کے کام کرتے تھے

(69:9) وجاء فرعون والمؤتفکت بالخاطئۃ۔ واؤ عاطفہ ہے بالخاطئہ ب تعدیہ کا ہے۔ اس نے گناہ کا ارتکاب کیا۔ (1) فرعون۔ (2) من قبلہ۔ (3) والمؤتفکت فاعل ہیں فعل جاء ب کے۔ جاء (باب ضرب) فعل لازم ہے۔ ب کے صلہ کے ساتھ فعل متعدی ہوجاتا ہے جاء بمعنی وہ آیا۔ اور جاء ب وہ لایا۔ خاطئۃ گناہ۔ گنہگار۔ خطیء یخطا کا مصدر بھی ہے اور اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث بھی۔ جاء بالخاطئۃ اس نے گناہ کیا۔ من موصولہ ہے۔ اور قبلہ مضاف مضاف الیہ مل کر من کا صلہ۔ اور جو اس سے پہلے گزر چکے ۔ یعنی فرعون سے پہلے۔ والمؤتفکت : اسم فاعل جمع مؤنث الموتفکۃ واحد۔ ائتفاک (افتعال) مصدر (اک مادہ) الٹی ہوئی منقلب، مراد حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیاں جو بحیرہ مردار کے ساحل پر آباد تھیں۔ اور جن کی تخت گاہ یا سب سے بڑا شہر سدوم تھا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کا حکم نہ ماننے اور ظلم و لواطت سے باز نہ آنے کی وجہ سے اللہ نے ان کی زمین کا تختہ الٹ دیا اور اوپر سے کنکریلے پتھروں کی بارش کی۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ اور فرعون اور جو لوگ اس سے پہلے تھے اور وہ جو الٹی ہوئی بستیوں میں رہتے تھے (سب نے) گناہ کا ارتکاب کیا۔
Ayah 69:10

فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ فَاَخَذَهُمْ اَخْذَةً رَّابِیَةً Open ayah 69:10 in the Quran reader

انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغمبر کی نافرمانی کی تو خدا نے بھی انکو بڑا سخت پکڑا

(69:10) فعصوا :عاطفہ اس جملہ کا عطف جاء عطف تفسیری ہے (کیونکہ یہ جملہ جاء بالخاطئۃ کی تفصیل بیان کرتا ہے) عصوا ماضی جمع مذکر غائب معصیۃ وعصیان (باب ضرب۔ عصی مادہ) مصدر سے بمعنی نافرمانی کرنا۔ عصوا۔ اصل میں عصیوا تھا۔ یاء متحرک ماقبل اس کا مفتوح اس لئے یاء کو الف سے بدلا گیا۔ اجتماع ساکنین سے الف گرگیا۔ عصوا رہ گیا۔ رسول ربھم مفعول ہے عصوا کا۔ ترجمہ ہوگا :۔ پس انہوں نے اپنے رب کے رسولوں کی نافرمانی کی۔ (یعنی ہر قوم نے اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کی۔ ای فعصی کل امۃ رسولہا (روح المعانی) فاخذھم اخذۃ رابیۃ : ای فاخذھم اللہسببیہ ہے۔ بدیں سبب اللہ نے ان کو پکڑ لیا۔ اخذۃ مفعول مطلق۔ موصوف۔ رابیۃ صفت۔ ربو (باب نصر) مصدر بمعنی بڑھنا۔ اور زائد ہونا۔ سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ بدیں سبب اللہ نے ان کو نہایت سختی اور شدت کے ساتھ پکڑا۔
Ayah 69:11

اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِی الْجَارِیَةِۙ Open ayah 69:11 in the Quran reader

جب پانی طغیانی پر آیا تو ہم نے تم (لوگوں) کو کشتی میں سوار کرلیا

(69:11) انا لما طغی المائ : انا مبتدائ۔ ان حرف مشبہ بالفعل اور نا ضمیر جمع متکلم سے مرکب ہے۔ تحقیق ہم نے۔ تحقیق ہم۔ حملنکم مبتداء کی خبر۔ لما طغی الماء ظرف حملنکم کا۔ فی الجاریۃ ای فی سفینۃ نوح علیہ السلام۔ لما بمعنی جب۔ طغی ماضی واحد مذکر غائب۔ طغیان باب نصر و سمع) مصدر سے وہ حد سے نکل گیا۔ (جب نگاہ اپنی حد سے گزر جاتی ہے تو بہکنے لگتی ہے اور جب پانی اپنی حد سے متجاوز ہوتا ہے تو طغیانی آجاتی ہے) یہاں مراد ہے : جب پانی ہر چیز سے اونچا ہوگیا تھا۔ الجاریۃ۔ کشتی۔ ترجمہ ہوگا :۔ جب پانی حد سے گزر گیا تھا تو ہم نے تم کو کشتی میں سوار کرلیا تھا۔ فائدہ : حملنکم میں کم ضمیر جمع مذکر حاضر ہے اس سے مراد تمہارے اسلاف ہیں۔ کیونکہ تم اس وقت اپنے اسلاف اعلیٰ کی پشتوں میں تھے۔ تو جب تمہارے اسلاف کو کشتی میں سوار کیا تو گویا تمہیں کشتی میں سوار کیا۔
Ayah 69:12

لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّ تَعِیَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِیَةٌ Open ayah 69:12 in the Quran reader

تاکہ اس کو تمہارے لئے یادگار بنائیں اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں

(69:12) لنجعلہا تذکرۃ : لنجعلہا لام تعلیل کا ہے۔ نجعل فعل مضارع جمع متکلم ۔ جعل (باب فتح) مصدر سے۔ ہم بنادیں۔ ہم کردیں۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب۔ مراد اس سے وہ فعل ہے جس سے مؤمنوں کو بجات نصیب ہوئی اور کافر ہلاک ہوگئے۔ الضمیر للفعلہ وہی نجاۃ المؤمنین واغرق الکفرۃ : الکشاف : ضمیر نجات المؤمنین واغراق الکفرین کے فعل کی طرف راجع ہے۔ فراء نے لکھا ہے کہ ضمیر الجاریۃ (السفینۃ) کے لئے ہے۔ صاحب السیر التفاسیر کا بھی یہی قول ہے۔ لکھتے ہیں :۔ وقولہ لنجعلہا لکم تذکرۃ : ای لنجعل السفینۃ تذکرۃ لکم و موعظۃ وعبرۃ تفعلۃ باب تفعیل کا مصدر ہے۔ اور فعل نجعل کا مفعول ثانی ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ تاکہ ہم اس کو (یعنی اس واقعہ کو) تمہارے لئے یادگار بنادیں۔ وتعیہا : واؤ عاطفہ، تعی مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ وعی (باب ضرب) مصدر سے ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب کا مرجع وہی ہے جو نجعلہا میں ھا کا ہے جس کی اوپر بحث ہوئی ہے (اور تاکہ اس کو) وہ یاد رکھے۔ اذن داعیۃ : موصوف و صفت، اذن کان مجازا اس شخص کو بھی کہتے ہیں جو کان لگا کر سنے۔ اور سن کر مانے۔ داعیۃ اسم فاعل، واحد مؤنث۔ وعی باب ضرب مصدر یاد رکھنے والے۔ اذن واعیۃ یاد رکھنے والے کان ۔ وعاء برتن کو کہتے ہیں جس میں کوئی چیز بھری جاتی ہے یا رکھی جاتی ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور تاکہ یاد رکھنے والے اس کو یاد رکھیں۔ (سمجھیں اور غور کریں) علامہ پانی پتی (رح) تعالیٰ لکھتے ہیں :۔ کان سننے اور یاد رکھنے کا ذریعہ ہے اس لئے یاداشت کا فاعل کان کو قرار دیا۔ ورنہ حقیقت میں یاد رکھنے والا دل یا نفس ہے۔ یا کان سے مراد کانوں والے (یعنی اصحاب اذن) مضاف (اصحاب) کو حذف کرکے مضاف الیہ (کان) کو اس کے قائم مقام کردیا۔ (اول مجاز فی اسناد ہے اور دوسرا مجاز لغوی یا مجاز فی الحدف)
Ayah 69:13

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 69:13 in the Quran reader

تو جب صور میں ایک (بار) پھونک مار دی جائے گی

(69:13) فاذا نفخ فی الصور نفخۃ واحدۃ :عاطفہ ، اذا ظرف زمان ہے، پھر جب۔ نفخ ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ نفخ (باب نصر) مصدر۔ بمعنی پھونکنا، پھونک مارنا۔ نفیخ۔ ڈھولچی، وہ شخص جس کے ذمہ پھونکنے کی خدمت ہو۔ نفخۃ ایک بار پھونک مارنا۔ الصور ترسنگہا۔ سینگ۔ شاخ۔ وہ چیز کہ جس کو حضرت اسرافیل (علیہ السلام) خلق کو مارنے اور جلانے کے لئے پھونکیں گے۔ نفخۃ واحدۃ مفعول مالم یسم فاعلہ۔ ترجمہ ہوگا :۔ پھر جب صور میں ایک بار پھونک مار دی جائے گی۔ فائدہ : آیات 5:20، 36:51، 18:99، میں نفخ سے مراد نفخۂ دوم ہے آیت 39:68: ونفخ فی الصور فصعق من فی السموت ومن فی الارض میں نفخہ اول مراد ہے اور اسی آیت میں ثم نفخ فیہ اخری میں نفخہ دوم مراد ہے آیت زیر مطالعہ 69:13 میں نفخہ اول مراد ہے آیت 23:101 مختلف فیہ ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ نفخہ دوم مراد ہے۔ سعید بن جبیر (رح) تعالیٰ کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک نفخہ اول مراد ہے اور عطاء کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک نفخۃ دوم مراد ہے۔ (لغات القرآن)
Ayah 69:14

وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةًۙ Open ayah 69:14 in the Quran reader

اور زمین اور پہاڑ دونوں اٹھا لئے جائیں گے پھر ایک بارگی توڑپھوڑ کر برابر کردئیے جائیں گے

(69:14) وحملت الارض والجبال جملہ معطوف ہے اور اس کا عطف نفخ پر ہے حملت ماضی واحد مؤنث غائب حمل (باب ضرب) مصدر ۔ اٹھانا۔ وہ اٹھائی گئی (وہ اٹھائی جائے گی) یعنی زمین اور پہاڑوں کو ان کی جگہ سے اٹھالیا جائے گا۔ دکتا : ماضی مجہول تثنیہ مؤنث غائب۔ دک (باب ضرب) مصدر سے ۔ بمعنی ریزہ ریزہ کرنا۔ ڈھا کر برابر کرنا۔ کوٹ کر ہموار کرنا۔ اصل میں دک نرم اور ہموار زمین کو کہتے ہیں۔ اور چونکہ نرم زمین ہموار اور ریزہ ریزہ ہوتی ہے اسی لئے اسی مناسبت سے اس کی مصدر کے معنی مقرر ہوئے۔ تمام زمین کو واحد لایا گیا ہے اور تمام پہاڑوں کو واحد لایا گیا ہے ۔ لہٰذا زمین اور پہاڑوں کے لئے تثنیہ کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو آیت (21:30) ان السموت والارض کانتا رتقا ففتقنھما کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے ان دونوں کو جدا جدا کردیا۔ دکۃ مفعول مطلق موصوف واحدۃ صفت، اسم فاعل واحد مؤنث۔ ایک ہی بار میں ۔ یعنی زمین اور پہاڑوں کو یکبارگی اٹھا کر کوٹ کر ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔
Ayah 69:15

فَیَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 69:15 in the Quran reader

تو اس روز ہو پڑنے والی (یعنی قیامت) ہو پڑے گی

(69:15) فیومئذ وقعت الواقعۃ :تعقیب کا ہے ۔ یومئذ ظرف وقعت کا پس اس روز وقوع پذیر ہوجائے گی وقوع پذیر ہونے والی۔ یعنی قیامت برپا ہوجائے گی۔ الواقعۃ : وقع سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث وقع (باب فتح) مصدر۔
Ayah 69:16

وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِیَ یَوْمَئِذٍ وَّاهِیَةٌۙ Open ayah 69:16 in the Quran reader

اور آسمان پھٹ جائے گا تو وہ اس دن کمزور ہوگا

(69:16) وانشقت السماء فہی یؤمئذ واھیۃ واؤ عاطفہ۔ انشقت کا عطف وقعت پر ہے یومئذ ظرف ہے واھیۃ کا۔ انشقت ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب انشقاق (افعال) مصدر سے جس کا معنی شق ہوجانا۔ پھٹ جانا۔ اور (اس روز) آسمان پھٹ جائے گا۔ فہی میں ہی ضمیر کا مرجع السماء ہے واھیۃ وہی (باب ضرب، فتح، سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ، بمعنی کمزور، بوسیدہ۔ پھٹا ہوا۔ وہی کے معنی مشک پھٹ جانا۔ رسی کا بند کمزور اور ڈھیلا ہوجانا۔ ابر کا ٹکڑے ٹکڑے ہوجانا۔ گرپڑنا۔ کمزور ہوجانا۔ دیوار کا گرنے کے قریب ہوجانا ہے۔ فہی یومئذ واہیۃ : پس وہ (یعنی آسمان) اس روز بالکل بودا ہوگا۔
Ayah 69:17

وَّ الْمَلَكُ عَلٰۤى اَرْجَآئِهَا١ؕ وَ یَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمٰنِیَةٌؕ Open ayah 69:17 in the Quran reader

اور فرشتے اس کے کناروں پر اتر آینگے اور تمہارے پروردگار کے عرش کو اس روز آٹھ فرشتے اٹھائے ہونگے

(69:17) والملک علی ارجائھا۔ جملہ معطوف ہے اس کا عطف جملہ سابقہ فیومئذ وقعت الواقعۃ پر ہے۔ الملک سے مراد فرشتوں کی جنس ہے کوئی خاص فرشتہ مراد نہیں ارجائھا مضاف مضاف الیہ۔ ارجاء رجا کی جمع ہے یعنی کنارے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع السماء ہے اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے۔ صاحب ضیاء القرآن اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :۔ وہ فرشتے جو آج اپنے قیام ، رکوع، سجود، سے آسمان کے چپہ چپہ کو مزین کئے ہوئے ہیں۔ جب آسمان کا نظام درہم برہم ہوجائے گا تو وہ صفیں باندھ کر کناروں پر کھڑے ہوجائیں گے۔ ویحمل عرش ربک فوقھم یومئذ ثمنیۃ : اس جملہ کا عطف بھی سابقہ جملہ کی طرح فیومئذ وقعت الواقعۃ پر ہے۔ فوقھم مضاف مضاف الیہ۔ ان کے اوپر۔ فوقھم : ای فوق الملئکۃ الذین ہم علی الارجاء اوفوق الثمنیۃ ہے (بیضاوی) ۔ یعنی قیامت کے دن آٹھ فرشتے اطراف آسمان پر مقیم ملائکہ کے اوپر یا اپنے اوپر اللہ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ ثمنیۃ اسم عدد۔ آٹھ ۔ یہاں آٹھ فرشتے مراد ہیں۔ آیت کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ عرش پر تشریف فرما ہوگا ۔ اور فرشتے عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس سے منزہ اور پاک ہیں کہ وہ کسی مکان میں سما سکیں۔ عرش کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف اس لئے ہے کہ اس نسبت سے عرش کی شان بلند ہو۔ نیز یہ مقام اللہ تعالیٰ کی خصوصی تجلیات کی جلوہ گاہ ہے۔ کائنات علوی و سفلی میں جس قسم کے تصرفات ہو رہے ہیں جن تدبیروں کا ظہور ہو رہا ہے ان سب کا مرکز یہ مقام ہے جسے عرش کہا جاتا ہے جس طرح بادشاہ اپنے تخت پر بیٹھ کر اپنے فرائض جہانبانی انجام دیتا ہے اسی طرح عالم وجود میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا منبع اور مصدر یہ مقام ہے اس لئے اسے عرش یعنی تخت الٰہی کہا گیا ہے (ضیاء القرآن) لغات القرآن میں منجملہ دیگر توضیحات کے یہ بھی تحریر ہے :۔ امام ابوبکر احمد بن الحسین البیہقی المتوفی 458 ھ کتاب الاسماء والصفات میں لکھتے ہیں :۔ مفسرین کے اقوال یہی ہیں کہ عرش سے مراد تخت ہی ہے اور یہ ایک جسم مجسم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے اور فرشتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اٹھائے رکھیں اور اس کی تعظیم اور طواف کے ذریعے عبادت کو بجا لائیں۔ جس طرح کہ زمین میں اس نے ایک گھر پیدا فرمایا اور بنی آدم کو حکم دیا کہ اس کا طواف کریں۔ اور نماز میں اس کی طرف منہ کیا کریں۔ (لغات القرآن ج 4 لفظ عرش کے محاذ
Ayah 69:18

یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِیَةٌ Open ayah 69:18 in the Quran reader

اس روز تم (سب لوگوں کے سامنے) پیش کئے جاؤ گے اور تمہاری کوئی پوشیدہ بات چھپی نہ رہے گی

(69:18) یومئذ : یوم اسم ظرف منصوب۔ مضاف اذ مضاف الیہ۔ اسی دن، اسی روز، ایسے واقعات کے دن۔ یعرضون۔ مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ عرض (باب ضرب) مصدر سے ۔ جس کے معنی ہیں، سامنے ہونا۔ ظاہر و آشکار کرنا۔ تم پیش کئے جاؤ گے۔ تم رو برلائے جاؤ گے۔ تم سامنے کئے جاؤ گے۔ (یہ پیشی نفخہ بعث کے بعد ہوگی۔ خطاب تمام آدمیوں سے ہے یعنی اسے انسانو ! اس روز حساب کے لئے اللہ تعالیٰ کے سامنے تمہیں جانا ہوگا) ۔ لا یخفی منکم خافیۃ۔ مضارع منفی واحد مؤنث غائب۔ خفاء (باب سمع) مصدر سے نہیں چھپی رہے گی تم سے۔ خافیۃ خفاء سے اسم فاعل کا سیغہ واحد مؤنث۔ چھپنے والی پوشیدہ ہونے والی۔ بھید۔ مترجمین نے حسب ذیل اس کے ترجمے کئے ہیں :۔ (1) تم میں سے کسی کا راز نہ چھپ سکے گا۔ (ترجمہ) تم سے کوئی شخص مخفی نہ رہ سکے گا نہ کوئی بات مخفی رہے گی۔ (تفسیر) ۔ تفسیر حقانی۔ (2) تمہاری کوئی پوشیدہ حرکت بھی چھپی نہ رہ سکے گی۔ (تفسیر مظہری) (3) تمہارا کوئی راز بھی چھپا نہ رہ جائے گا۔ (تفہیم القرآن، ضیاء القرآن) (4) ای لا تخفی منکم سویرۃ من السوائر التی تخفونھا۔ (کوئی بھید جسے تم چھپائے رکھتے تھے وہ بھی پوشیدہ نہیں رہے گا) الیسر التفاسیر۔ (5) وقیل معناہ لا یخفی منکم یوم القیامۃ ماکان مخفیا فی الدنیا۔ (الخازن) اس کا معنی یہ ہے کہ جو بات دنیا میں تم پر مخفی تھی قیامت کے روز وہ بھی مخفی نہ رہے گی۔ فائدہ : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ :۔ قیامت کے دن لوگوں کی تین نشانیاں ہوں گی۔ دو پیشیاں تو جھگڑا کرنے اور معذرتوں کے لئے ہوں گی اور تیسری پیشی کے وقت اعمالنامے ہاتھوں میں نمودار ہوجائیں گے۔ کوئی دائیں ہاتھ لینے والا ہوگا اور کوئی بائیں ہاتھ میں۔ (تفسیر مظہری)
Ayah 69:19

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ١ۙ فَیَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِیَهْۚ Open ayah 69:19 in the Quran reader

تو جس کا (اعمال) نامہ اسکے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ (دوسروں) سے کہے گا کہ لیجئے میرا نامہ (اعمال) پڑھیے

(69:19) فاما من اوتی کتبہ بیمینہ :ترتیب کا ہے بمعنی پھر، اما حرف شرط تفصیلیہ ہے بمعنی لیکن، یا ۔ سو۔ من مفعول مالم یسم فاعلہ۔ اوتی ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ کتبہ مضاف الیہ مل کر مفعول اوتی کا۔ ب تعدیہ کا۔ یمینہ مضاف مضاف الیہ۔ دایاں ہاتھ۔ پس جو دیا جائے گا ، یا دیا گیا۔ اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں۔ جملہ شرطیہ ہے۔ فیقول :جزائیہ ہے۔ جملہ جزائیہ ہے۔ پس وہ کہیگا۔ ھاؤم اقرء وا کتبیہ۔ یہ فعل یقول کا مقولہ ہے۔ ھا عربی میں تین طرح آتا ہے :۔ (1) اسم فعل ، یعنی اسم بمعنی فعل امر۔ لے ۔ لو۔ اس وقت الف کو ممدودہ پڑھنا بھی جائز ہے اور دونوں شکلوں میں اس کے بعد کبھی ک خطاب تمام حالات میں آتا ہے جیسے ھاک ھاک ھاکما ھاکم ۔۔ ھاکن۔ کبھی نہیں آتا اگر ممدودہ کے بعد ک خطاب نہ ہو تو ہمزہ کے اعراب کو تذکیر ، تانیث افراد ، تثنیہ ، جمع ، مختلف احوال کو ظاہر کرنے کے لئے بولتے رہتے ہیں۔ مثلا واحد مذکر میں ھاء واحد مؤنث میں ھاء تثنیہ مذکر و مؤنث میں ھاؤنا ھاؤن اور جمع مذکر میں ھاؤم کہا جاتا ہے یہ آخری لفظ قرآن مجید میں آیت ہذا میں استعمال ہوا ہے۔ ھاؤم اقرء وا کتبیہ لو میرا اعمالنامہ پڑھو۔ (2) ھا کی دوسری صورت ضمیر واحد مؤنث غائب متصل ہے۔ جو بحالت نصب و جر مستعمل ہے۔ جیسے فالہمھا فجورھا وتقوھا (91:8) اول ضمیر منصوب اور آخری دونوں مجرور ہیں۔ (3) ھا تثنیہ کے لئے یہ چار طرح مستعمل ہے۔ (ا) اسم اشارہ قریب پر آتی ہے جیسے کہ ھذا ۔ ھذان ۔ ھاتی ھاتان ھولائ۔ (ب) اس ضمیر مرفوع پر آتی ہے جس کی خبر اسم اشارہ ہو جیسے ھا انتم اولاء (انتم ضمیر مرفوع مبتداء اور اولاء خبر) (ج) نداء کی صورت میں ای کی لغت ہوتی ہے جیسے یا ایھا الرجل ۔ ایہا الساحر۔ (د) اگر حرف قسم حذف کردیا گیا ہو اور اللہ کی قسم کھانا ہو تو لفظ اللہ پر ھا کو لے آتے ہیں ۔ اور اللہ کی ہمزہ کو باقی رکھتے ہیں یا حذف کردیتے ہیں۔ جیسے ھا اللہ ۔ ھ اللہ۔ اقرء وا : فعل امر جمع مذکر ھاضر قراء ۃ (باب فتح و نصر) مصدر۔ تم پڑھو، تم پڑھ لیا کرو۔ کتبیہ : کتبی مضاف مضاف الیہ۔ میری کتاب۔ میرا اعمال نامہ۔ ۃ، ھاء سکتہ ساکنہ جو عموما حالت وقف میں ماقبل کی حرکت کے اظہار کے لئے آتی ہے۔ کتبیہ اسم مفعول ہے اقرء وا کا۔
Ayah 69:20

اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَهْۚ Open ayah 69:20 in the Quran reader

مجھے یقین تھا کہ مجھ کو میرا حساب (کتاب) ضرور ملے گا

(69:20) ظننت ماضی واحد متکلم ظن (باب نصر) مصدر۔ میں نے یقین کیا۔ میں نے جانا۔ انی : بیشک میں۔ ان حرف مشبہ بالفعل اور ی ضمیر واحد متکلم سے مرکب ہے۔ انی : بیشک میں ۔ ان ھرف مشبہ بالفعل اور ی ضمیر واحد متکلم سے مرکب ہے۔ ملاق : ملاقاۃ (مفاعلۃ) مصدر سے ۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے اصل میں ملاقی تھا۔ پہنچنے والا۔ پانے والا۔ مضاف حسابیہ : حسابی مضاف ، مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ۔ میرا حساب ۃ وقف کی ہے ملاحظہ ہو کتبیہ : آیت 69:19 متذکرۃ الصدر۔ ملاق حسابیہ : اپنے حساب کو، (یعنی اپنے اعمال کی سزا و جزائ) پالینے والا۔
Ayah 69:21

فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍۙ Open ayah 69:21 in the Quran reader

پس وہ (شخص) من مانے عیش میں ہوگا

(69:21) فھو فی عیشۃ راضیۃ :تعقیب کا یا ترتیب کا ہے۔ ھو سے مراد وہ شخص ہے جسے اس کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ لادیا گیا ہو۔ عیشۃ زندگانی، گزران، عاش یعیش (باب ضرب) کا مصدر ہے۔ جس کے معنی جینے کے ہیں۔ موصوف ہے۔ راضیۃ : رضی ۔ رضی (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ پسندیدہ، من بھاتی۔ خوش، صفت، ھو مبتداء فی عیشۃ راضیۃ اس کی خبر۔ ترجمہ :۔ پس وہ شخص پسندیدہ زندگی بسر کرے گا۔
Ayah 69:22

فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ Open ayah 69:22 in the Quran reader

(یعنی) اونچے (اونچے محلوں کے) باغ میں

(69:22) فی جنۃ عالیۃ : یہ مبتداء کی خبر کے بعد دوسری خبر ہے ، بلند مرتبہ باغوں میں عالیۃ علو (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔
Ayah 69:23

قُطُوْفُهَا دَانِیَةٌ Open ayah 69:23 in the Quran reader

جن کے میوے جھکے ہوئے ہوں گے

(69:23) قطوفھا دانیۃ : قطوف جمع ہے قطف کی۔ قطوف مضاف ھا ضمیر واحد مؤنث مضاف الیہ ، قطب مصدر۔ (باب ضرب) بمعنی پھل توڑنا درخت سے، قطف (ق کی کسرہ سے) وہ پھل جو درخت سے توڑے جائیں یعنی خود گرے ہوئے نہ ہوں۔ (خواہ توڑ لئے گئے ہوں یا توڑے نہ گئے ہوں مگر توڑے جانے کے قابل ہوں) ۔ آیت میں وہ پھل مراد ہیں جو اہل جنت بیٹھے کھڑے توڑ سکیں گے ؟ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جنۃ کے لئے ہے قطوفھا سے مراد قطوف اثمارھا ہے یعنی ان باغوں کے پھل ہیں۔ دانیۃ : دلو (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے نزدیک ، جھکی ہوئی، جھکنے والی۔ لٹکی ہوئی، لٹکنے والی۔ ان باغوں کے پھل جھکے ہوں گے۔
Ayah 69:24

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَةِ Open ayah 69:24 in the Quran reader

جو (عمل) تم ایام گزشتہ میں آگے بھیج چکے ہو اس کے صلے میں مزے سے کھاؤ اور پیو

(69:24) کلوا واشربوا : ای قیل لہم کلوا واشربوا۔ ان سے کہا جائے گا کھاؤ اور پیو۔ ھو کی ضمیر (آیت 21 متذکرۃ الصدر) اگرچہ واحد کی ہے اور کلوا واشربوا جمع کے صیغے ہیں۔ لیکن معنی کے لحاظ سے ھو جمع ہے۔ اس لئے کلواواشربوا کہنا صحیح ہے۔ اس صورت میں یہ جملہ ھو کی خبر ہوگی۔ ممکن ہے کہ جملہ مستانفہ ہو۔ ھنیئا : ھناء (باب فتح و نصر) مصدر سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ خوش مزہ، پاکیزہ، ھناء مصدر بمعنی خوراک کا خوشگوار ہونا۔ ھنیئا ضمیر کلوا سے حال ہے۔ خوشگواری کے ساتھ بغیر کسی تکلیف کے کھاؤ پئو۔ مرے لے لے کر کھاؤ پیئو۔ یا یہ مفعول مطلق کی صفت ہے اور کلام یوں ہے کلوا واشربوا اکلا وشرایا ھنیئا۔ بما اسلفتم : ب بمعنی مقابلہ ہے یہ وہ ب ہے جو عوض میں دی جانی والی چیوں پر داخل ہوتی ہے۔ مثلاً قولہ تعالیٰ ، ادخلوا الجنۃ بما کنتم تعملون (16:32) تم لوگ اپنے نیک اعمال کے عوض جنت میں داخل ہوجاؤ۔ اس ب کو سببیت کے لئے اس لئے قرار نہیں دیا کہ جو چیز معاوضہ میں ملا کرتی ہے وہ کبھی مفت میں بھی دیدی جاتی ہے لیکن مسبب کا بدون سبب کے پایا جانا ناممکن ہے (الاتقان حصہ اول چالیسویں نوع) ۔ ما موصولہ : اسلفتم صلہ۔ اسلفتم ماضی جمع مذکر حاضر ۔ اسلاف (افعال) مصدر۔ تم آگے بھیج چکے۔ تم پہلے کرچکے۔ ما سلف جو پہلے ہوچکا۔ اسلاف پہلے لوگ (سلف کی جمع) آباء و اجداد۔ جو پہلے گزر چکے۔ بما اسلفتم بعوض (اعمال صالحہ کے) جو تم پہلے (یعنی دنیا میں) کرچکے۔ الایام الخالیۃ۔ موصوف و صفت، الخالیۃ : خلو (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث بمعنی گزرنے والی۔ گزشتہ۔ گزشتہ ایام (میں) دنیا کے اندر۔ خالی وہ زمانہ یا مکان جس کو کوئی بھرنے والا نہ ہو۔ خالی زمانہ۔ وہ زمانہ جس میں اہل زمانہ باقی نہ رہے ہوں۔ باقی رہنے کے لئے گزر جانا لازم ہے۔ اس لئے خالی کا معنی ہوگیا ماضی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :۔ قد خلت من قبلہ الرسل (3:144) اس سے پہلے پیغمبر گزر چکے۔
Ayah 69:25

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ Open ayah 69:25 in the Quran reader

اور جس کا نامہ (اعمال) اسکے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا اے کاش مجھ کو میرا (اعمال) نامہ نہ دیا جاتا

(69:25) فاما من اوتی کتبہ بشمالہ : شمالہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کے بائیں طرف اس کے بائیں ہاتھ میں ۔ (نیز ملاحظہ ہو 69:19 متذکرۃ الصدر) فیقول : میںتعقیب کی ہے۔ جس پر وہ (اپنے اعمال بد اور ان کا برا انجام دیکھ کر کہے گا۔ یلیتنی : یاء حرف نداء منادی محذوف (یعنی اے قوم) لیت حرف مشبہ بالفعل : اسم کو نصب دیتا ہے اور خبر کو رفع۔ تمنا کے لئے مستعمل ہے۔ کاش ! فی اسم ہے۔ یلیتنی : کاش مجھے۔ لم ادت : مضارع مجہول نفی جحد بلم۔ صیغہ واحد متکلم ۔ ایتاء (افعال) مصدر۔ اوت اصل میں اوتی تھا۔ لم کے عمل سے ی حذف ہوگئی۔ اور مضارع ماضی کے معنی میں تبدیل ہوگیا۔ کتبیہ : ۃ ساکنہ۔ (دیکھو متذکرۃ الصدر) کتابی میرا اعمال نامہ۔ میری کتاب ترجمہ ہوگا :۔ اے قوم کاش مجھے میرا اعمال نامہ نہ ہی دیا جاتا۔
Ayah 69:26

وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَهْۚ Open ayah 69:26 in the Quran reader

اور مجھے معلوم نہ ہوتا کہ میرا حساب کیا ہے ؟

(69:26) ولم ادر ما حسابیہ : اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ لم ادر مضارع نفی جحد۔ ادر اصل میں اری تھا۔ لم کے آنے سے ی حذف ہوگئی۔ لم ادر نفی جحد بلم مضارع واحد متکلم کا صیغہ ہے۔ درایۃ (باب ضرب) مصدر سے جس کے معنی کسی چیز کے متعلق جاننے اور معلوم کرنے کے ہیں۔ ولم ادر اور میں جانتا ہی نہ ہوتا اور مجھے معلوم ہی نہ ہوتا۔ ما حسابیہ : ما استفہامیہ ہے حسابیہ میں ہ ساکنہ ہے جیسا کہ اوپر آیت 19 میں مذکور ہوا۔ جملہ ہذا لم ادر کا مفعول ہے اور مجھے معلوم ہی نہ ہوتا کہ میرا کیا حساب ہے۔
Ayah 69:27

یٰلَیْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِیَةَۚ Open ayah 69:27 in the Quran reader

اے کاش موت (ابدالاآباد کیلئے میرا کام) تمام کرچکی ہوتی

(69:27) یلیتھا : یاء حرف نداء ۔ منادی محذوف۔ لیت حرف مشبہ بالفعل۔ ھا اسم اے قوم کاش وہ ۔۔ ھا سے مراد وہ نفخہ یا دنیاوی زندگی کے بعد موت ہے یا زندگی کے بعد عدم کی حالت ہے۔ کانت القاضیۃ : کانت ماضی واحد مؤنث غائب ۔ کون (باب نصر) مصدر۔ وہ ہوگئی وہ ہوگئی ہوتی۔ (ماضی تمنائی) کانت کا اسم فاعل یل تھا کی ھا ہے یعنی دنیاوی زندگی کے بعد موت یا عدم کی حالت۔ القاضیۃ۔ اسم فاعل واحد مؤنث، قضاء (باب ضرب) مصدر سے جس کے معنی فیصلہ کرنا۔ طے کرنا۔ آخری قطعی حکم اور قطعی عمل آیت ہذا میں عملی قضاء مراد ہے؛ یعنی ختم کردینے والی ایسی موت جس کے بعد زندگی نہ ہو۔ کام تمام ہوجائے۔ القاضیۃ خبر ہے کانت کی لہٰذا منصوب ہے۔ یلیتھا کانت القاضیۃ : ای کاش دنیاوی زندگی کے بعد موت ہی کام تمام کردینے والی ہوتی (نہ میں دوبارہ زندہ ہوتا نہ اعمال نامہ دیکھنے کی نوبت آتی) ۔
Ayah 69:28

مَاۤ اَغْنٰى عَنِّیْ مَالِیَهْۚ Open ayah 69:28 in the Quran reader

(آج) میرا مال میرے کچھ بھی کام نہ آیا۔

(69:28) ما اغنی عنی مالیہ : ما نافیہ بھی ہوسکتا ہے اور استفہامیہ انکاریہ بھی کیا کام آیا مال۔ یعنی کام نہ آیا۔ اغنی ماضی واحد مذکر غائب ۔ اغناء (افعال) مصدر۔ وہ کام آیا۔ اس نے غنی بنادیا۔ اس نے دولت دی۔ مالیہ میں ۃ سکنہ کی ہے۔ دیکھو 69:19 متذکرہ بالا) ۔ مالی مضاف مضاف الیہ۔ میرا مال۔ میرا مال میرے کسی کام نہ آیا۔ مال میرے کسی کام آیا (یعنی نہیں آیا)
Ayah 69:29

هَلَكَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَهْۚ Open ayah 69:29 in the Quran reader

(ہاے) میری سلطنت خاک میں مل گئی

(69:29) ہلک عنی سلطنیہ : ہلک ماضی واحد مذکر غائب ہلک (باب ضرب) مصدر۔ وہ مرگیا وہ جاتا رہا۔ عنی حرف جار۔ ن وقایہ ی ضمیر متکلم مجرور۔ مجھ سے۔ سلطنیہ ۃ سکنہ کی۔ سلطانی مضاف مضاف الیہ ۔ میری حکومت۔ میری سلطنت، میری وہ حجتیں جو میں دنیا میں پیش کیا کرتا تھا۔ اور میری سلطنت مجھے سے جاتی رہی۔ میرا اقتدار مجھ سے جاتا رہا۔
Ayah 69:30

خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُۙ Open ayah 69:30 in the Quran reader

(حکم ہوگا کہ) اسے پکڑ لو اور طوق پہنا دو .

(69:30) خذوہ : خذوا فعل امر ، جمع مذکر حاضر۔ غل (باب نصر) مصدر۔ الغلل کے اصل معنی کسی چیز کو اوپر اوڑھنے یا اس کے درمیان میں چلے جانے کے ہیں۔ اسی سے غلل اس پانی کو کہا جاتا ہے جو درختوں کے درمیان سے بہہ رہا ہو۔ غل (طوق) خاص کر اس چیز کو کہا جاتا ہے جس سے کسی کے اعضاء جکڑ کر اس کے وسط میں باندھ دیا جاتا ہے اس کی جمع اغلال آتی ہے۔ غلوا طوق پہنا دو ۔ ہاتھ پاؤں اور گردن میں قید ڈال دو ۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب ہے۔
Ayah 69:31

ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْهُۙ Open ayah 69:31 in the Quran reader

پھر اسے دوزخ کی آگ میں جھونک دو

(69:31) ثم تراخی وقت کے لئے ہے یعنی پھر۔ اس کے بعد۔ صاحب تفسیر مظہری تحریر فرماتے ہیں :۔ اس جگہ اور اس کے بعد ثم کے لفظ سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ ہر آئندہ مصیبت پچھلی مصیبت سے بہت زیادہ سخت ہوگی۔ (اول گرفتاری، اس کے بعد ہاتھ پاؤں کی گردن سے بندش اس کے بعد جہنم میں داخلہ بہت سخت ہوگا الجحیم : دوزخ، دیکتی ہوئی آگ۔ جحم (باب فتح) مصدر۔ بمعنی آگ کا (سخت) بھڑکنا یہ فعل صلوۃ کا مفعول ہے مفعول کو فعل سے پہلے حصر کے لئے لایا گیا ہے۔ صلوہ : صلوا فعل امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تصلیۃ (تفعیل) مصدر سے ۔ جس کے معنی آگ میں داخل کرنے کے ہیں ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ پھر اس کو سخت بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دو ۔
Ayah 69:32

ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُؕ Open ayah 69:32 in the Quran reader

پھر زنجیر سے جس کی ناب ستر گز ہے جکڑ دو

(69:32) ثم پھر (نیز ملاحظہ ہو 69:31 متذکرۃ الصدر) ۔ سلسلۃ زنجیر، واحد، سلاسل جمع زنجیریں۔ ذرعھا : مضاف مضاف الیہ۔ اس کا طول، اس کی درازی، اس کا ناپ۔ ذرع (باب فتح) مصدر سے جس کے معنی پیمائش کرنے اور ناپنے کے آتے ہیں۔ ذراعا : ذراع واحد۔ اذرع (جمع) بازو، ہاتھ سمیت کہنی تک کا حصہ (اردو میں بھی اس اس ماپ کو ہاتھ بھی کہتے ہیں مثلا دو ہاتھ لمبا) ۔ فاسلکوہ :زائدہ ہے اسلکوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ سلوک (باب نصر) مصدر سے سلک یسلک چلنا۔ داخل ہونا۔ داخل کرنا۔ اسی سے سنلک لڑی، تار، اور لاسلکی (بلاتار) ہے اور اسی سے مسلک طریقہ دین ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ ترجمہ ہوگا :۔ پھر ستر ہاتھ لمبے زنجیر میں اس کو جکڑ دو ۔
Ayah 69:33

اِنَّهٗ كَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 69:33 in the Quran reader

یہ نہ تو خدائے جل شانہ پر ایمان لاتا تھا

(69:33) انہ کان لا یؤمن باللہ العظیم۔ یہ جملہ عذاب مذکور کی علت ہے۔ یہ عذاب اسے اس لئے دیا جائے گا کیونکہ وہ عطمت والے اللہ پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔
Ayah 69:34

وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ Open ayah 69:34 in the Quran reader

اور نہ فقیر کے کھانا کھلانے پر آمادہ کرتا تھا۔

(69:34) ولا یحض علی طعام المسکین اس کا عطف آیت سابقہ پر ہے۔ لا یحض مضارع منفی واحد مذکر غائب ۔ حض (باب نصر) مصدر سے جس کا معنی ہے کسی کو کسی کام کے لئے آمادہ کرنا ہے۔ ترغیب دینا یا ابھارنا ہے۔ علی حروف جر میں سے ہے۔ کثیر المعانی ہے۔ یہاں اس کے معنی ” کیلئے “ ہیں۔ طعام المسکین مضاف مضاف الیہ (مجرور ترجمہ ہوگا :۔ اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی (کسی دوسرے کو) ترغیب دیتا تھا۔
Ayah 69:35

فَلَیْسَ لَهُ الْیَوْمَ هٰهُنَا حَمِیْمٌۙ Open ayah 69:35 in the Quran reader

سو آج اس کا بھی یہاں کوئی دوست دار نہیں .

(69:35) فلیس لہ الیوم ھھنا حمیم :سببیہ ہے یعنی بہ سبب اس بات کے کہ وہ نہ عظمت والے اللہ پر ایمان رکھتا تھا اور نہ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی کسی کو ترغیب دیتا تھا۔ (از خود کھانا تو درکنا) آج کے دن اس کا کوئی یارو مددگار نہ ہوگا۔ الیوم بوجہ ظرفیت منصوب ہے۔ ھھنا حرف ھا حرف تنبیہ ہے۔ ھنا اسم ظرف یہاں۔ اس جگہ۔ حمیم دوست : مددگار۔ یار۔
Ayah 69:36

وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍۙ Open ayah 69:36 in the Quran reader

اور نہ پیپ کے سوا (اسکے لئے) کھانا ہے

(69:36) ولا طعام الا من غسلین۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اور نہ ہی (اس کے لئے یہاں) کھانا ہوگا سوائے غسلین کے۔ غسلین : غسل مصدر سے (باب ضرب) (1) زخموں کا دھو ون یعنی کافر دوزخیوں کے زخموں سے نکلنے والا پانی۔ پیپ۔ (2) دوزخ کے ایک درخت کا نام ہے۔ (3) ای صدید اہل النار الخارج من بطونھم لاکلہم شجرۃ الغسلین۔ غسلین کا درخت کھانے پر دوزخیوں کے پیٹ سے نکلنے والی پیپ۔
Ayah 69:37

لَّا یَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِئُوْنَ۠ Open ayah 69:37 in the Quran reader

جس کو گناہ گاروں کے سوا کوئی نہیں کھائیگا

(69:37) لایاکلہ میں ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع غسلین ہے۔ لایاکلہ الا الخاطئون استثناء مفرغ ہے (یعنی وہ استثناء جس کا مستثنی منہ مذکور نہ ہو) یعنی خطا کاروں کے سوا اس کو کوئی نہ کھائے گا۔ خاطئون : گنہگار، خطا (باب سمع) مصدر۔ (خ ط ء مادہ) بمعنی چوک جانا۔ گناہ کرنا الخطاء کے معنی صحیح جہت سے عدول کرنے کے ہیں۔ اس کی مختلف صورتیں ہیں :۔ (1) کوئی ایسا کام بالا رادہ کرے جس کا ارادہ بھی مناسب نہ ہو۔ یہ خطاء تام ہے جس پر مؤاخذہ ہوگا۔ اس معنی میں فعل خطی یخطأ خطأ بولا جاتا ہے۔ جیسے قرآن مجید میں ہے :۔ ان قتلہم کان کبیرا۔ (17:31) کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا بڑا سخت جرم ہے (2) امادہ تو اچھا کام کرنے کا ہو لیکن غلطی سے برا کام سرزد ہوجائے۔ اس صورت میں کہا جائے گا اخطأ یخطی، یخطاء فھو مخطیء (باب افعال) (3) غیر مستحسن فعل کا ارادہ کرے لیکن اتفاق سے مستحسن فعل سرزد ہوجائے۔ اس صورت میں فعل تو درست ہے لیکن ارادہ غلط ہے لہٰذا اس کا قصد و مذموم ہوگا مگر فعل بھی قابل ستائش نہیں ہے۔ خاطئون بالارادہ گناہ کرنے والے کو کہتے ہیں خطا سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر بالارادہ گناہ کا ارتکاب کرنے والے (المفردات)
Ayah 69:38

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 69:38 in the Quran reader

تو ہم کو ان چیزوں کی قسم جو تم کو نظر آتی ہیں

(69:38) فلا اقسم : میں لا نفی کا بھی ہوسکتا ہے جس کی دو صورتیں ممکن ہیں :۔ (1) بات صاف ظاہر ہے قسم کھا کر پختہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ (2) لا کا تعلق کلام محذوف سے ہے یعنی کافر جو یہ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ نے قرآن کی نسبت خدا کی طرف غلط کی ہے۔ یہ خود شاعر اور کاہن ہے اور حشر و نشر کچھ نہہوگا۔ یہ باتیں سچ نہیں ہیں میں قسم کھاتا ہوں۔ (تفسیر مظہری) جمہور مفسرین کے نزدیک لااقسم میں تاکیدکا ہے۔ لغات القرآن میں ہے :۔ اقسم میں قسم کھاتا ہوں۔ اقسام (افعال) سے جس کے معنی قسم کھانے کے ہیں :۔ مضارع کا صیغہ واحد متکلم۔ یہ دراصل قسامۃ سے ماخوذ ہے۔ قسامت وہ قسمیں ہیں جو اولیاء مقتول پر تقسیم کی جاتی ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے تین چیزوں کی قسمیں کھائی ہیں :۔ (1) اپنی ذات مقدسہ کی۔ (2) اپنے افعال حکیمانہ کی۔ (3) اپنی مخلوق کی۔ مخالفین قرآن پر جو اعتراض کرتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے قسمیں کیوں کھائیں۔ یہ اعتراض طرح طرح کی رنگ آمیزیوں کے ساتھ مختلف طور پر دہرایا جاتا رہتا ہے۔ لیکن قسم کی حقیقت اور تاریخ پر ذرا غور وفکر کی زحمت گوارہ کی جائے تو یہ عقدہ خود بخود حل ہوجائے گا۔ اصل میں قسم کا استعمال ابتداء اس طرح شروع ہوا کہ جب کوئی اہم واقعہ بیان کیا جاتا تو اس کی صحت اور تصدیق کے لئے کسی شخص کی گواہی پیش کی جاتی یہی طریقہ جب بڑھنے لگا تو انسان کے علاوہ حیوانات و جمادات کی شہادت بھی فرض ثبوت میں آنے لگی۔ مثلاً ہم خود اپنی زبان میں کہتے ہیں ” درو دیوار۔ اس بات پر شاہد ہیں “ آسمان و زمین اس پر گواہ ہیں۔ اس نے جنگ میں جس طرح جانبازی کے جوہر دکھائے میدان جنگ اس کی گواہی دے سکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ عربی زبان میں اس کی ہزاروں مثالیں ہیں۔ اس قسم کی شہادتوں سے اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ یہ چیزیں زبان حال سے اس کی شاہد ہیں۔ یعنی اگر ان میں ذرا بھی بولنے کی سکت ہوتی تو ضرور کہہ اٹھتیں کہ ہاں یہ واقعہ سچ ہے، یہی طریقہ آگے چل کر قسم کے معنی میں مستعمل ہونے لگا۔ چناچہ خود قرآن مجید میں بھی شہادت کا لفظ قسم کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ سورة منافقون میں ارشاد ہے :۔ اذا جاءک المنفقون قالوا نشھد انک لرسول اللہ ، واللہ یعلم انک لرسولہ ، واللہ یشھد ان المنفقین لکذبون ۔ اتخذوا اہمانھم جنۃ (63:1-2) منافقین جب تمہارے پاس آتے ہیں تو کہنے لگتے ہیں کہ ہم شہادت دیتے ہیں کہ بیشک تو اللہ کا رسول ہے اور اللہ جانتا ہے کہ بیشک تو اس کا رسول ہے لیکن خدا شہادت دیتا ہے کہ منافقین جھوٹے ہیں انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے۔ آیت مذکورہ میں منافقین کے الفاظ میں قسم کا کوئی لفظ مذکور نہیں ہے صرف شہادت کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن مجید نے اس شہادت کو قسم قرار دیا ہے اس کا اثر یہ ہے کہ آج بھی ہم اپنی زبان میں قسم کھاتے ہیں تو کہتے ہیں ” اللہ جانتا ہے، خدا گواہ ہے ، خدا شاہد ہے۔ عربی زبان نے جب وسعت اختیار کی تو بعض حروف قسم کے ساتھ خاص ہوگئے جیسے واؤ ۔ ب ۔ ت۔ واللہ ، باللہ، تاللہ کہیں صاف لفظ قسم ہوتا ہے اور کبھی لأ کے ساتھ آتا ہے۔ جیسے لا اقسم : اور کبھی جملہ پر لام لاکر قسم کھائی جاتی ہے جیسے لعمرک (15:72) اب قسم کا استعمال دو معنی میں ہوتا ہے :۔ ایک یہ ہے کہ جب کوئی چیز بیان کی جائے اور اس کے ثبوت پر کوئی شہادت پیش کی جائے چاہے وہ شہادت ذی روح کی ہو یا غیر ذی روح کی ہو۔ بزبان حال ہو یا بزبان قال۔ دوم یہ کہ کسی چیز کی توثیق و اثبات کے لئے کسی عظیم الاشان شے یا کسی عزیز چیز کی قسم کھائی جائے۔ یہ دوسرے معانی قسم کے حقیقی معنی نہیں بلکہ مجازی ہیں جو بعد میں چل رک پیدا ہوگئے۔ جہاں جہاں قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے لئے قسم کا لفظ آیا ہے وہ پہلے معنی کے لحاظ سے آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نہایت کثرت سے شمس و قمر، لیل و نہار، ابروباد، کو وہ صحرا ، چرند، پرند، دریا اور سمندر غرض جا بجا۔ مظاہر قدرت کی نسبت آیت کا لفظ استعمال کیا ہے جس کے معنی نشانی کے ہیں جن چیزوں کو اکثر مواقع پر آیات کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ انہی کی جابجا قسم بھی کھائی ہے جس کے صاف معانی یہ ہیں کہ یہ تمام چیزیں اس کے وجود اور عظمت و شان پر شہادت دے رہی ہیں اور اس کی قدرت پر گواہ ہیں۔ یہ بھی خیال رہے کہ قسم، یمین۔ حلف، عام لوگ ان تینوں کو ہم معنی خیال کرتے ہیں جس کی بنا پر بڑی غلط فہمی پیدا ہوجاتی ہے حالن کہ ان سب الفاظ کے معنی اور مفہوم بالکل جدا جدا ہیں قسم کے معنی ہیں کسی چیز کی صحت اور تصدیق کے لئے گواہی پیش کرنا۔ قرآن مجید میں جو قسمیں مذکور ہیں ان سب کے یہی معنی ہیں کہ جن چیزوں پر قسم کھائی گئی ہے وہ خدا کے وجود ہر۔ اس کی قدرت اور شان پر اور اس کی عظمت و اقتدار پر شہادت دے رہی ہیں۔ سورة فجر میں ارشاد ہے :۔ والفجر ولیال عشر والشفع والوتر والیل اذا یسر ۔ ہل فی ذلک قسم لذی حجر ۔ (89:1-5) (فجر دس راتیں جفت و طاق اور رات جب چلنے پر ہو ان سب باتوں میں صاحب عقل کیلئے قسم ہے) یعنی یہ سب چیزیں عقل مند کے نزدیک خدا کے وجود اور اس کی قدرت پر زبان حال سے گواہی دے رہی ہیں۔ یمین کے معنی ہاتھ کے ہیں یہ لفظ عموما معاہدات کی توثیق کے لئے استعمال ہوتا ہے گویا دوسرے معاہد کو ضامن دینا ہوتا ہے۔ امام راغب اصفہانی (رح) رقمطراز ہیں :۔ والیمین فی الحلف مستعار فی الید اعتبارا بما یفعلہ المعاھد و المحالف غیرہ۔ معاہدہ کرنے والا اور حلیف جو دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارتا ہے یمین حلف کے معنی میں اسی فعل سے مستعار لیا گیا ہے یمین کا لفظ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے کہیں استعمال نہیں فرمایا۔ حلف کا لفظ ان دونوں لفظوں سے وسیع ہے۔ لیکن اس کے مفہوم میں ذماءت و ذلت شامل ہے۔ اور اس کا استعمال بالکل اسی طرح ہوتا ہے جس طرح آج کل عوام قسمیں کھاتے ہیں اسی وجہ سے قرآن مجید میں حلاف کے لئے مہین کا لفظ (قابل اہانت) استعمال کیا گیا ہے۔ ارشاد باری ہے :۔ ولا تطع کل حلاف مہین (68:10) اور تو کہا نہ مان پر قسمیں کھانے والے بےقدر کا یہ لفظ جہاں آیا ہے منافقین کی زبان سے آیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے لئے کہیں بھی استعمال نہیں فرمایا ہے۔ (ا) اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جو اپنی ذات پاک کی قسمیں کھائی ہیں وہ یہ ہیں :۔ (1) قل ای وربی انہ لحق (10:53) کہ دو کہ ہاں خدا کی قسم یہ سچ ہے۔ (2) قل بلی وربی لتبعثن (64:7) کہہ دو ہاں میرے پروردگار کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے۔ (3) فوربک لنحشرنھم والشیطین (19:68) تمہارے پروردگار کی قسم ! ہم ان کو جمع کردیں گے اور شیطانوں کو بھی۔ (4) فوربک لنسئلنھم اجمعین۔ (15:92) تمہارے پروردگار کی قسم۔ ہم ان سے ضرور باز پرس کریں گے۔ (5) فلا وربک لا یؤمنون (4:65) تمہارے پروردگار کی قسم ! یہ لوگ مومن نہیں ہوں گے۔ (ب) اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک کے علاوہ اپنے فعل کی قسم کھائی ہے۔ جیسے کہ ارشاد ہے :۔ والسماء وما بنھا والارض وما طحھا ، ونفس وما سوھا (91:5-7) قسم ہے آسمان کی جس نے اسے بنایا۔ اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے پھیلایا۔ اور انسان کی اور اس کی جس نے اس کے اعضاء کو درست بنایا۔ (ج) اور اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مفعول (مخلوق) کی قسم بھی کائی ہے، جیسے :۔ (1) والنجم اذا ھوی (53:1) قسم ہے تارے کی جب غائب ہونے لگے۔ (2) والطور (52:1) قسم ہے (کوہ) طور کی۔ (3) وکتب مسطور (52:2) اور قسم ہے کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے۔ وغیرہ ذلک۔ مذیر تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو : (1) التبیان فی اقسام القران، مصنفہ علامہ ابن قیم (رح)۔ (2) امعان فی اقسام القران، مصنفہ حمید الدین فراہی۔ (3) الاتقان فی علوم القران، حصہ دوم نوع 67 ۔ مصنفہ علامہ جلال الدین سیوطی (رح)۔ بما تبصرون : ما موصولہ، تبصرون سلہ، مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر ابصار (افعال) مصدر، تم دیکھتے ہو۔
Ayah 69:39

وَ مَا لَا تُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 69:39 in the Quran reader

اور انکی جو نظر نہیں آتی

(69:39) وما لا تبصرون : اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اور (ان چیزوں کی) جن کو تم نہیں دیکھ سکتے۔ آیات 38:39 میں اول الذکر سے مراد وہ چیزیں ہیں جو صفات خداوندی کی مظہر ہیں۔ اور جن کو عقل یا چہرہ کی آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ مؤخر الذکر سے مراد وہ صفات و ذوات مراد ہیں جن کی حقیقت نہ دانش و فہم سے نظر آتی ہیں نہ آنکھوں سے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اول سے مراد اجسام اور دوسرے سے ارواح۔ یا اول سے مراد انسان اور دوسرے سے مراد جن و ملائکہ۔ یا اول سے مراد وہ علم ہے جس کو اللہ نے ملائکہ، جن و انس پر ظاہر کردیا ہے اور دوسرے سے مراد وہ خصوصی علم ہے جس سے اور کوئی واقف نہیں ہے۔
Ayah 69:40

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۚۙ Open ayah 69:40 in the Quran reader

کہ یہ (قرآن) فرشتہ عالی مقام کی زبان کا پیغام ہے

(69:40) انہ لقول رسول کریم جملہ جواب قسم ہے ان (حرف تحقیق) حروف مشبہ بالفعل میں سے ہے) لام تاکید کی۔ اور جملہ اسمیہ، تینوں جواب قسم کی تاکید میں آئے ہیں۔ قول بات ۔ کہنا (مصدر یا مفعول) مضاف رسول کریم موصوف و صفت مل کر مضاف الیہ۔ بیشک یہ (قرآن) معزز رسول کا قول (کلام) ہے۔