Ayahs 69:1–5(الحاقہ) یہ قیامت کے ناموں میں سے ہے، کیونکہ یہ ثابت اور واجب ہے اور مخلوق پر نازل ہوگی، اس میں تمام امور کے حقائق اور سینوں کے بھید ظاہر ہوں گے، اللہ نے اپنے اس فرمان (الحاقہ۔ ما الحاقہ۔ وما ادراک ما الحاقہ) کے تکرار کے ذریعے سے اس کی عظمت شان اور تفخیم بیان فرمائی ہے۔ اس کی شان بہت عظیم ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے احوال کے نمونے کا ذکر فرمایا جو دنیا میں موجود ہے جس کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ وہ سخت عقوبتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے سرکش قوموں پر نازل فرمائیں، چناچہ فرمایا (کذبت ثمود) ۔ ثمود ایک مشہور قبیلہ ہے جو حجر کے علاقے میں آباد تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے رسول حضرت صالح کو مبعوث کیا جو ان کو شرک سے روکتے تھے اور ان کو توحید کا حکم دیتے تھے، پس انہوں نے حضرت صالح کی دعوت کو ٹھکرا دیا ان کو جھٹلایا اور قیامت کے روز کو جھٹلایا جس کے بارے میں حضرت صالح (علیہ السلام) نے خبر دی تھی اور وہ یہی کھڑکھڑانے والی ہے جو مخلوق کو اپنی ہولناکیوں سے ہلاک کرڈالے گی۔ اسی طرح عاد اولی کو ہلاک کرڈالا جو حضرموت کے باشندے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے رسول ہود کو بھیجا جو انہیں اکیلے اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے تو انہوں نے حضرت ہود کی تکذیب کی اور قیامت کے متعلق حضرت ہود نے جو خبر دی تھی اس کا انکار کیا پس اللہ تعالیٰ نے فوری عذاب کے ذریعے سے دونوں قوموں کو ہلاک کر ڈالا (فاما ثمود فاھلکوا باالطاغیہ) پس ثمود تو کڑک سے ہلاک کردیے تئے اور وہ ایک زبردست اور انتہائی کرخت چنگھاڑ تھی جس نے ان کے دلوں کو پارہ پارہ کردیا اور ان کی روحین پرواز کرگئی اور وہ مردہ پڑے رہ گئے کہ ان کی رہائش گاہوں اور ان کی لاشوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔
Ayah 69:6(واما عاد فاھلکوا بریح صرصر) اور رہے عاد تو انہیں نہایت تیز آندھی سے ہلاک کردیا گیا یعنی بہت طاقت ور اور طوفانی ہوا جس کی آواز بادل کی کڑک سے زیادہ تھی۔ (عاتیہ) بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق یہ ہوا اپنے داروغوں کے سامنے سرکش تھی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ قوم عاد پر نہایت سرکشی کے ساتھ چلتی رہی اور حد سے بڑھ گئی اور یہی قول صحیح ہے۔
Ayah 69:7(سخرھا علیھم سبع لیال وثمانیہ ایام حسوما) ۔ اس نے اس کو سات رات اور آٹھ دن لگاتار ان پر چلائے رکھا یعنی یہ ایام نہایت منحوس، برے اور ان کے لیے انتہائی سخت تھے، اس ہوا نے ان کو تباہ و برباد کرکے ہلاک کرڈالا۔ (فتری القوم فیھا صرعی) یعنی آپ دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ ہلاک ہو کرمردہ پڑے ہیں۔ (کانھم اعجاز نخل خاویہ) ۔ یعنی گویا کہ وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہیں جن کے سروں کو کاٹ دیا گیا ہے اور وہ ایک دوسرے پر گرے پڑے ہیں۔
Ayah 69:8(فھل تری لھم من باقیہ) ۔ پس کیا تو ان میں سے کسی کو بھی باقی دیکھتا ہے ؟ یہ استفہام نفی متقرر کے معنی میں ہے۔
Ayah 69:9اسی طرح ان دو سرکش قوموں، عاد وثمود کے علاوہ بھی سرکش اور نافرمان لوگ آئے جیسے فرعون مصر جس کی طرف اللہ نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ بن عمران کو مبعوث کیا اور انہیں واضح نشانیاں دکھائیں جن کی بنا پر انہیں حق کا یقین آگیا مگر انہوں نے ظلم اور عناد ہے، نیز فسق و معاصی کی دیگر اقسام بھی اس میں شامل ہیں۔
Ayah 69:10(فعصوا رسول ربھم) ۔ یہ اسم جنس ہے یعنی ان تمام قوموں نے اپنے اپنے رسول کو جھٹلایا جو ان کی طرف بھیجا گیا تھا پس اللہ نے ان سب کو پکڑ لیا (اخذۃ رابیہ) یعنی حد اور مقدار سے بڑھ کر ان کی گرفت کی جس سے وہ تباہ و برباد ہوگئے۔
Ayah 69:11منجملہ ان قوموں کے نوح کی قوم بھی تھی جن کو اللہ نے سمندر (کے سیلاب) میں غرق کر ڈالا جب پانی سرکشی کر کے زمین میں پھیل گیا اور بلند مقامات سے بھی بلند ہوگیا۔ حضرت نوح کی سرکش قوم کے غرق ہونے کے بعد جو مخلوق موجود تھی اللہ نے ان پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا کہ ان کو سوار کیا (فی الجاریۃ) ۔ کشتی میں جب کہ یہ اپنے باپوں اور ماؤں کی صلب میں تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے طوفان سے نجات دی تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرو، اس کا شکر کرو جس نے تمہیں اس وقت نجات دی جب اس نے سرکش لوگوں کو ہلاک کرڈالا اور اس کی آیات سے عبرت حاصل کرو جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں۔
Ayah 69:12(لنجعلھا) تاکہ ہم اس کو بنادیں۔ یعنی کشتی اور اس سے مراد اسم جنس ہے، تمہارے لیے (تذکرۃ) یادگار، جو تمہیں اولین کشتی کی صنعت اور اس کے قصے کی یاد دلاتی ہے کہ کیسے اللہ تعالیٰ نے اس کشتی پر سوار ان لوگوں کو نجات دی جو ایمان لائے اور اپنے رسول کی اتباع کی اور روئے زمین کے دیگر تمام لوگوں کو ہلاک کرڈالا، کیونکہ اشیاء کی جنس اپنی اصل کی یاد دلاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان (وتعیھا اذن واعیۃ) ۔ اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں۔ یعنی خڑد مند لوگ ہی اس کو یاد رکھتے ہیں اور اس سے مقصود کی معرفت اور اس کے ذریعے سے نشانی و معجزے کی وجہ معلوم کرتے ہیں اور اہل غفلت، کند ذہن اور ذہانت سے محروم لوگوں کا معاملہ اس کے برعکس ہے کیونکہ وہ اللہ کی طرف سے عبرتوں کو یاد نہ رکھنے اور اس کی آیات میں غور و فکر نہ کرنے کے سبب سے آیات الٰہی سے فائدہ اٹھانے سے محروم ہیں۔
Ayah 69:13جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ کیا کیا، انہیں کیسا بدلہ دیا، دنیا کے اندر ہی ان پر عذاب بھیج دیا اور اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کو بچا لیا۔ یہ قیامت کے روز اخروی جزا اور اعمال کے کامل بدلے کا مقدمہ ہے پھر اللہ تعالیٰ نے بہت ہولناک واقعات کا ذکر فرمایا ہے جو قیامت سے پہلے وقوع پذیر ہوں گے ان میں سے اولین واقعہ یہ ہوگا کہ اسرافیل (فی الصور) صور پھونکیں گے جب اجساد مکمل ہوجائیں گے (نفختہ واحدہ) ۔ ایک دفعہ پھونک ماری جائے گی۔ پس روحیں نکل آئیں گی اور ہر روح اپنے جسد میں داخل ہوجائے گی تب تمام لوگ رب کائنات کے سامنے کھڑے ہوجائیں گے۔
Ayahs 69:14–16(وحملت الارض والجبال فدکتا دکۃ واحدۃ) ۔ یعنی پہاڑ ریزہ ریزہ کردیے جائیں گے وہ نیست ونابود ہو کر رزق خاک ہوجائیں گے، یعنی ان کو ڈھا کر زمین کے برابر کردیا جائے گا چناچہ تمام زمین ہموار میدان بن جائے گی، آپ اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھیں گے، یہ تو زمین اور اس پر رہنے والوں کے ساتھ ہوگا، رہا وہ معاملہ جو آسمان کے ساتھ کیا جائے گا تو وہ یہ ہوگا کہ وہ متحرک اور متموج ہو کر پھٹ جائے گا، اس کا رنگ متغیر ہوجائے گا اور آسمان اپنی صلابت اور عظیم قوت کے بعد کمزور ہوجائیں گے اور یہ سب کچھ ایک عظیم امر کی بنا پر ہوگا جو ان کو ہلا کر رکھ دے گا اور بہت بڑے تکلیف دہ اور ہولناک معاملے کے سبب سے ہوگا جو ان کو کمزور کردے گا۔
Ayah 69:17(والملک) اور مکرم فرشتے (علی ارجاءھا) آسمان کی تمام جوانب اور کناروں پر اپنے رب کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہوں گے (ویحمل عرش ربک فوقھم یومئذ ثمانیۃ) ۔ اور تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے جوا نتہائی طاقت ور ہوں گے (یہ اس وقت ہوگا) جب رب تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان، اپنے عدل و انصاف اور اپنے فضل و کرم کے ساتھ فیصلے کرنے کے لیے آئے گا، اس لیے فرمایا (یومئذتعرضون) اس روز تم اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیے جاؤ گے۔
Ayah 69:18(لاتخفی منکم خافیہ) ۔ تمہارے اجساد اور ذوات چھپ سکیں گے نہ تمہارے اعمال اور اوصاف چھپ سکیں گے نہ تمہارے اعمال اور اوصاف چھپ سکیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ غائب اور موجود سب کا علم رکھتا ہے تمام بندے ننگے پاؤں، ننگے جسم اور غیر مختون حالت می، ایک ہموار میدان میں جمع کیے جائیں گے، پکارنے والا ان کو اپنی آواز سنا سکے گا اور نگاہ ان سب تک پہنچ سکے گی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ انہیں ان کے اعمال کی جاز دے گا اس لیے جزا کی کیفیت کا ذکر کیا۔
Ayahs 69:19–20یہی لوگ اہل سعادت ہوں گے ان کو ان کے اعمال نامے، جن میں ان کے نیک اعمال درج ہوں گے ان کے امتیاز، ان کی شان اور قدر بلند کرنے کے لیے، ان کے دائیں ہاتھوں میں دیے جائیں گے، اس وقت ان میں سے کوئی فروخت و سرور اور اس خواہش کے ساتھ کہ مخلوق پر ظاہر ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کس قدر اکرام و تکریم سے سرفراز کیا ہے تو پکار اٹھے گا، (ھاء م اقروا کتابیہ) ۔ یعنی یہ لو میری کتاب اور اسے پڑھو۔ یہ کتاب جنتوں، اکرام و تکریم، گناہوں کی مغفرت اور عیوب کو ڈھانپنے کی بشارت دیتی ہے اور جس چیز نے مجھے اس مقام پر پہنچایاوہ قیامت اور حساب کتاب پر ایمان ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے مجھے نوازا اور ایسے اعمال کے ذریعے سے قیامت کے دن کے لیے تیاری کی توفیق دی، جو امکان اور استطاعت میں ہیں، اسی لیے فرمایا۔ (انی ظننت انی ملق حسابیہ) مجھے یقین تھا کہ مجھے میرا حساب ضرور ملے گا۔ یہاں (ظن) یقین کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
Ayahs 69:21–22(فھو فی عیشۃ راضیہ) ۔ پس وہ ایک دل پسند زندگی میں ہوگا، یعنی جو ان تمام چیزوں پر مشتمل ہوگی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی ان کا حال یہ ہوگا کہ وہ اس زندگی سے راضی ہوں گے اور اس کے بدلے کسی اور چیز کو منتخب نہیں کریں گے۔ (فی جنۃ عالیہ) بلند رہائش گاہوں اور بلند محلوں والی جنت میں ہوں گے۔
Ayah 69:23(قطوفھا دانیہ) اس کے پھل اور مختلف انواع کے میوے بہت قریب ہوں گے۔ اہل جنت کے لیے ان کا حاصل کرنا بہت آسان ہوگا، اہل جنت کھڑے، بیٹھے۔ لیٹے ہوئے ہر حالت میں ان کو حاصل کرسکیں گے اکرام و تکریم کے طور پر ان سے کہا جائے گا (کلو واشربوا) ہر قسم کالذیذ کھانا اور مزیدار مشروب کھاؤ اور پیو۔
Ayah 69:24(ھنیئا) ۔ کسی تکدر اور ناگواری کے بغیر کامل طریقے سے کھاؤ اور پیو۔ یہ جزا تمہیں اس سبب سے حاصل ہوئی ہے (بما اسلفتم فی الایام الخالیہ) ۔ جو تم نے اعمال صالحہ، نماز، روزہ، زکوۃ، حج، مخلوق کے ساتھ حسن سلوک، اللہ تعالیٰ کا ذکر، اس کی طرف انابت کی اور برے اعمال ترک کیے، پس اعمال کو اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخل ہونے کا سبب، اس کی نعمتوں کا مادہ اور اس کی سعادت کی بنیاد بنایا ہے۔
Ayah 69:25(یہی وہ لوگ ہیں جو بدبخت ہیں جن کو امتیاز رسوائی، عار اور فضیحت کے طور پر ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے۔ جائیں گے جن میں اعمال بددرج ہوں گے پس ان میں سے کوئی حزن وغم سے کہے گا۔ (یلیتنی لم اوت کتابیہ) ۔ اے کاش مجھے کتاب نہ دی گئی ہوتی، کیونکہ یہ کتاب جہنم میں داخلے اور ابدی خسارے کی، خوش خبری) سناتی ہے۔
Ayahs 69:26–27(ولم ادر ماحسابیہ) ۔ اور کاش میں بھولا بسرا ہوگیا ہوتا، مجھے دوبارہ زندہ کیا جاتا نہ مجھ سے حساب لیا جاتا، اس لیے وہ کہے گا، (یلیتھا کانت القاضیہ) کاش میری موت، ایسی موت ہوتی ہے جس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔
Ayah 69:28پھر وہ اپنے مال اور سلطنت کیطرف التفات کرے گا تو وہ اس کے لیے وبال ہی وبال ہوں گے اس نے اسمیں سے کچھ بھی آگے روانہ نہ کیا اب یہ مال خواہ اسے فدیے میں دے دے اسے عذاب سے نہیں بچا سکے گا پس وہ کہے گا (ما اغنی عنی مالیہ) یعنی اس مال نے مجھے دنیا میں کوئی فائدہ نہیں دیا کیونکہ میں نے اس میں سے کچھبھی آگے نہیں بھیجا اور نہ یہ مال آخرت ہی میں میرے کام آیا کیونکہ اس کے نفع مند ہونے کا وقت گزر گیا۔
Ayah 69:29(ھلک عنی سلطانیہ) ۔ یعنی سلطنت چلی گئی اور مٹ گئی، پس لشکروں نے کوئی فائدہ دیا نہ کثرت اور تعداد نے، سازوسامان کوئی کام آیا نہ جاہ و جلال بلکہ سب کچھ رائیگاں گیا، اس کے سبب سے تمام منافع کھو گئے اور اس کے بدلے میں غم وہموم اور محتاجی نے آگھیرا۔
Ayah 69:30پس اس وقت اسے عذاب میں ڈال دینے کا حکم دیا جائے گا انتہائی سخت اور نہایت درشت خو فرشتوں سے کہا جائے (خذوہ فغلوۃ) یعنی اس کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو جو اس کا گلا گھونٹ دے۔
Ayah 69:31(ثم الجحیم صلوہ) ۔ پھر جہنم کے انگاروں اور اس کے شعلوں پر اسے الٹ پلٹ کرو۔
Ayahs 69:32–33(ثم فی سلسلۃ ذرعا سبعون ذراعا) ۔ پھر زنجیر سے، جس کی ناپ ستر گز ہے یعنی انتہائی حرارت میں جہنم کی زنجیروں کے ساتھ (فاسلکوہ) اسے جکڑ دو ۔ یعنی ان زنجیروں میں پرودو وہ اس طرح کی زنجیروں کو اس کی دبر میں داخل کرکے منہ کی طرف سے نکالا گیا ہوا اور پھر ان زنجیروں میں لٹکا دیا گیا ہو پس اسے ہمیشہ یہ انتہائی برا عذاب ملتا رہے گا یہ بہت برا عذاب اور بہت بری سزا ہے، ہائے اس کے لیے حسرت ہے اس زجر وتوبیخ اور عتاب پر۔ وہ سبب جس نے اسے اس مقام پر پہنچایا یہ ہے (انہ کان لایومن باللہ العظیم) وہ اپنے رب کا انکار کرنے والا اور اس کے رسولوں سے عناد رکھنے والا اور رسول جو حق لے کر آئے ہیں اس کو ٹھکرادینے والا تھا۔
Ayah 69:34(ولا یحض علی طعام المسکین) یعنی اس کے دل میں رحم نہیں تھا کہ اس بنا پر فقرا اور مساکین پر رحم کرتا وہ اپنے مال میں سے ان کو کھانا کھلاتا نہ دوسروں کو ترغیب دیتا تھا کہ وہ ان کو کھانا کھلائیں کیونکہ اس کا دل ملامت کرنے والے ضمیر سے خالی تھا سعادت اور اس کے مادے کا دارومدار امور پر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اخلاص جس کی بنیاد ایمان باللہ ہے۔ 2۔ احسان کی تمام اقسام کے ذریعے سے مخلوق پر احسان کرنا جن میں سے سب سے بڑا احسان محتاجروں کو کھانا کھلاکر ان کی ضرورت پوری کرنا ہے۔ مگر ان لوگوں کے پاس اخلاص ہے نہ احسان۔ اس لیے وہ اسی چیز کے مستحق ہیں جس کا استحقاق انہوں نے ثابت کردیا ہے۔
Ayah 69:35(فلیس لہ الیوم ھھنا حمیم) ۔ پس نہیں ہے آج یہاں اس کے لیے، یعنی قیامت کے دن (حمیم) کوئی قریبی رشتہ دار یا کوئی دوست جو اس کیسفارش کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے یا اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (ولا تنفع الشفاعۃ عندہ الا لمن اذن لہ۔ سبا 23) ۔ اللہ کے ہاں، کسی کے لیے سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں خود سفارش کی اجازت دے۔ نیز فرمایا (ما للظلمین من حمیم ولا شفیع یطاع۔ المومن 18) ۔ ظالموں کا کوئی جگری دوست ہوگا نہ کوئی سفارش کرنے والا کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔
Ayahs 69:36–37(ولا طعام الا غسلین) اور نہ غسلین کے سوا اور ان کا کوئی کھانا ہے۔ یہ اہل جہنم کی پیپ ہے جو حرارت، کڑواہٹ، بدبو اور بدذائقہ ہونے میں انتہاء کو پہنچی ہوئی ہوگی، نہیں کھائیں گے یہ قابل مذمت کھانا (الا الخاطئون) مگر خطاکار ہی جو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور ہر اس راستے پر چل پڑے جو انہیں جہنم تک پہنچاتا ہے، اس لیے وہ دردناک عذاب کے مستحق ٹھہرے۔