69. Surah Al-Haaqqa

الحاقةThe Reality · 52 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 69:1–4

اَلْحَآقَّةُۙ Open ayah 69:1 in the Quran reader

ہوجانے والی

مَا الْحَآقَّةُۚ Open ayah 69:2 in the Quran reader

کیا ہے وہ ہوجانے والی

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحَآقَّةُؕ Open ayah 69:3 in the Quran reader

اور آپ کو کیا خبر ہے کہ کیا ہے وہ ہوجانے والی

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ Open ayah 69:4 in the Quran reader

ثمود نے اور عاد نے اس کھڑکھرانے والی چیز کی تکذیب کی

1۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ الحاقۃ قیامت کے دن کے ناموں میں سے ہے۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر والحاکم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ الحاقہ سے مراد ہے قیامت کہ ہر عامل کے لیے اس کا عمل ثابت کردے گی۔ آیت وما ادرک ما الحاقہ تجھ کو کیا معلوم کہ قیامت کیسی ہولناک ہے۔ یعنی قیامت کے دن کی تعظیم کے لیے ہے جیسے تم سنتے ہو۔ اور فرمایا آیت کذبت ثمود وعاد بالقارعۃ قوم ثمود اور عاد نے قیامت کو جھٹلایا۔ یعنی قیامت کو۔ 3۔ ابن المنذر ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت الحاقہ سے مراد ہے کہ ہر عامل کے لیے اس کا عمل ثابت کیا جائے گا۔ مومن کے لیے اس کا ایمان اور منافق کے لیے اس کا نفاق اور آیت بالقارعہ سے مراد ہے قیامت کا دن۔
Ayah 69:5

فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِیَةِ Open ayah 69:5 in the Quran reader

سو ثمود تو زور والی آواز سے ہلاک کردئیے گئے

4۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاہلکوا بالطاغیۃ کہ وہ لوگ غیر معمولی چیخ سے ہلاک ہوئے یعنی گناہوں کی وجہ سے۔ اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس سے سخت چیخ مراد ہے۔ 5۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاہلکو ا بالطاغیہ سخت ہیبت ناک چیخ سے ہلاک کیے گئے یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک چیخ بھیجی جس نے ان کو گرادیا اور وہ ہلاک کردئیے گئے۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول میں آیت بریح صرصر عاتیہ ایک سخت ٹھنڈی ہوا سے ہلاک کیے گئے یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت ٹھنڈی اور بہت تیز آندھی کو بھیجا۔ یہاں تک کہ ان کے دل پھٹ گئے۔
Ayah 69:6

وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَةٍۙ Open ayah 69:6 in the Quran reader

اور عاد ٹھنڈی تیزہوا کے ذریعہ ہلاک کیے گئے

قوم نوح اور عاد کی ہلاکت 6۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ ہوا میں سے کوئی چیز نہیں بھیجتے مگر پیمانہ کے ساتھ اور کوئی قطرہ بارش کا نازل نہیں فرماتے مگر پیمانے کے ساتھ۔ سوائے قوم نوح اور قوم عاد پر کہ ان دونوں کو بغیر کسی پیمانے اور حد کے بھیجا اور نوح (علیہ السلام) کی قوم کو جب تباہ و برباد کیا تو پانی اس کے خازن فرشتوں پر بھی غالب آگیا اور ان کے لیے اس پر قابو پانے کا کوئی راستہ نہیں رہا پھر یہ آیت پڑھی آیت انا لما طغا الماء (جب پانی نے جوش مارا) اور قوم عاد کی تباہی کے وقت ہوا خازن فرشتوں پر غالب آگئی اور ان کے لیے اس سے بچاؤ کا کوئی ذریعہ نہیں رہا پھر یہ آیت پڑھی۔ آیت بریح صرصر عاتیہ۔ 7۔ ابن جریر نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ فرشتوں کے ہاتھوں سے بغیر پیمانے اور مقرر حد کے بارش کا کوئی قطرہ نازل نہیں ہوا سوائے نوح (علیہ السلام) کی قوم پر آنے والے سیلاب کے کیونکہ اس دن نے پانی کو خازن فرشتوں کے بغیر اجازت دے دی۔ لیکن اس دن پانی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے خازن فرشتوں پر غالب آگیا اور پھر نکل گیا۔ اور قوم عاد کی تباہی کے دن کے سوا فرشتوں کے ہاتھوں بغیر حدود اور پیمانے کے کبھی ہوا نہیں چلی۔ کیونکہ اس دن اسے نگران فرشتوں کے بغیر چلنے کی اجازت دے دی گئی ہو وہ نکل گئی اسی کو فرمایا آیت انا لما طغا الماء (حد سے تجاوز کرنے کی وجہ سے) نگران فرشتوں پر غالب آگئی۔ 8۔ ابو الشیخ نے العظمہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا میری صبا کے ساتھ مدد کی گئی اور قوم عاد کو دبور کے ساتھ ہلاک کیا گیا پھر فرمایا ذمہ دار فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ وہ قوم عام پر ہوا کو بھیجیں انگوٹھی کی مقدار سوراخ سے تو وہ ذمہ دار فرشتوں پر غالب آگئی۔ اور وہ درواوں کے کناروں سے نکل گئی تو اس لیے فرمایا آیت بریح صرصر عاتیہ پھر فرمایا وہ تیز اور تند ہوا جو ذمہ دار فرشتوں پر غالب آگئی۔ وہ دیہات کے رہنے والوں پر سب سے پہلے چلی اور اس نے انہیں ان کے مویشیوں اور ان کے گھروں کے ساتھ اٹھالیا اور ان کو شہری آبادی کے سامنے لے آئی۔ آیت فلما رأوہ عارض امستقبل اودیتہم۔ قالوا ہذا عاض ممطرنا (الاحقاف آیت 24) جب انہوں نے اسے دیکھا کہ وہ ایک ابر ہے جو ان کے میدانوں کی طرف بڑھا چلا آرہا ہے کہنے لگے یہ تو ابر ہے جو ہم پر برسے گا۔ جب ہوا قریب آئی تو ان پر چھاگئی تو لوگ اور مویشی اس میں آگے بڑھ گئی۔ تو اس نے دیہاتیوں کو شہریوں پر پھینک دیا وہ ان کو توڑنے لگی تو وہ سب کے سب ہلاک ہوگئے۔ 9۔ ابو الشیخ نے العظمہ میں والدارقطنی فی الافراد ووابن مردویہ وابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی کا ایک بھی پانی نہیں اتارا مگر پیمانے کے ساتھ اور ہا کی ایک مشت نہیں بھیجی مگر پیمانے کے ساتھ۔ مگر نوح (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب کے دن ایسا نہیں کیا کیونکہ اس دن پانی ذمہ دار فرشتوں پر غالب آگیا تو ان کو اس پر کوئی کنٹرول نہ رہا کہ اس کو روک سکیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت انا لما طغا الماء حملنک فی الجاریۃ۔ جب پانی نے جوش مارا تو ہم نے تم کو اس کشتی میں سوار کردیا جو پانی میں چل رہی تھی۔ اور قوم عاد کے دن ہوا ذمہ دار فرشتوں پر غالب آگئی اس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت بریح صرصر عاتیہ یعنی غالب ہونے والی۔ 10۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ” الصر صر “ سے مراد ہے سخت ٹھنڈی ہوا۔ عاتیہ یعنی وہ ہوا ذمہ دار فرشتوں پر غالب آگئی۔ 11۔ ابو الشیخ نے العظمہ میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” عاتیہ “ سے مراد انتہائی شدید آندھی اور آیت ” حسوما “ سے مراد ہے لگاتار۔ 12۔ ابن عساکر نے ابن شہاب (رح) کے طریق سے قبیصہ بن ذوئب (رح) سے روایت کیا کہ جو بھی ہوا چلتی اس پر فرشتے مقر رہوتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں اس کی مقدار کو اس کے عدد کو اور اس کے وزن اور کیل کو، مگر وہ ہوا جو قوم عاد پر بھیجی گئی وہ اتنی تیزی سے نکلی کہ فرشتے نہیں جانتے تھے اس کے وزن کو، اس کی مقدار کو اور اس کے کیل اور اس کی وجہ یہ تھی یہ اللہ تعالیٰ کا غضب تھا۔ اسی لیے اس کو عاتیہ کا نام دیا گیا اور پانی بھی اسی طرح تھا جب کہ اسے نوح (علیہ السلام) کی تباہی کا حکم دیا گیا۔ اسی وجہ سے اس کا نام طاغیہ رکھا گیا۔
Ayahs 69:7–8

سَخَّرَهَا عَلَیْهِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَةَ اَیَّامٍ١ۙ حُسُوْمًا١ۙ فَتَرَى الْقَوْمَ فِیْهَا صَرْعٰى١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَةٍۚ Open ayah 69:7 in the Quran reader

اللہ نے اس ہوا کو لگاتار سات رات اور آٹھ دن ان پر مسلط کردیا تھا۔ سو اے مخاطب ! تو ان لوگوں کو اس ہوا میں پچھاڑے ہوئے دیکھتا کہ گویا وہ کھجور کے کھوکھلے درختوں کے تنے ہیں

فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِیَةٍ Open ayah 69:8 in the Quran reader

سو کیا تجھے ان میں سے کوئی بچا ہوا نظر آتا ہے

13۔ ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ آیت سخرہا علیہم سبع لیال وثمنیۃ۔ ان پر مسلط کردیا سات راتیں اور آٹھ دن۔ اور ان میں سے پہلا دن جمعہ کا تھا۔ 14۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والطبرانی والحاکم وصححہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ” حسوما “ سے مراد ہے لگاتار۔ 15۔ عبد بن حمید وابن جریر نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ” حسوما “ سے مراد ہے مسلسل اور دوسرے لفظ میں ہے کہ اس کا معنی ہے ” متتابعات “ یعنی لگاتار۔ 16۔ الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” حسوما “ کے بارے میں بتائیے۔ تو فرمایا اس سے مراد ہے لگاتار اور شدید یعنی آزمائش اور مصیبت کے ساتھ مسلسل چلائی گئی۔ پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہی۔ فرمایا : ہاں کیا تو امیہ بن ابی صلت کا شعر سنا کہ وہ کہتا ہے کہ وکم کنا بہا من فرط عام وہذا الدہر مقتل حسوم ترجمہ : اور ہم نے اس کے بارے کثرت سے بےاعتدالی کی اور یہ زمانہ مسلسل مصائب اور شدتیں لانے والا ہے۔ 17۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت سخرہا علیہم سبع لیال وثنمیۃ ایام حسوما اور اس طوفان کو ان پر مسلط کردیا سات رات اور آٹھ دن کہ وہ سات راتیں اور آٹھ دن اللہ کی جانب سے ہوا کے عذاب میں زندہ رہے۔ جب آٹھویں دن کی شام ہوئی تو سب مرگئے۔ پھر ان کو ہوا نے اٹھایا اور سمندر میں ڈال دیا۔ اسی کو فرمایا فہل تری لہم من باقیہ کیا تو ان میں سے کوئی باقی دیکھتا ہے اور آیت فاصبحوا لا یری الا مسکنہم (الاحقاف آیت 25) اور وہ صبح کو ایسے ہوگئے کہ تو نہیں دیکھے گا مگر ان کے خالی گھروں کو۔ اور مجھے خبردی گئی کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ان کی صبح سویرے عذاب دیا گیا اور اگلے دن ان سے ہٹادیا گیا یہاں تک کہ رات ہوگئی۔ 18۔ عبد بن حمید نے مجاہد اور عکرمہ رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ ” حسوما “ سے مراد ہے لگاتار۔ 19۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” حسوما “ سے مراد ہے مسلسل اور فرمایا آیت کانہم اعجاز نخل خاویہ گویا کہ وہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہیں۔ اور وہ کھجور کی جڑیں ہیں کہ ان کی جڑیں باقی رہیں جائیں اور ان کی شاخیں ختم ہوجائیں۔ 20۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے آیت کا ہم اعجاز نخل خاویہ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے ان کی جڑیں مراد ہیں
Ayahs 69:9–10

وَ جَآءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَهٗ وَ الْمُؤْتَفِكٰتُ بِالْخَاطِئَةِۚ Open ayah 69:9 in the Quran reader

اور فرعون نے اور اس سے پہلے لوگوں نے اور الٹی ہوئی بستیوں نے گناہ کیے

فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ فَاَخَذَهُمْ اَخْذَةً رَّابِیَةً Open ayah 69:10 in the Quran reader

سو انہوں نے اپنے رب کے رسول کی نافرمانی پھر اس نے ان کو سختی کے ساتھ پکڑ لیا

21۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا وجاء فرعون ومن قبلہ قاف کے نصب کے ساتھ۔ 22۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجاء فرعون ومن قبلہ یعنی فرعون اور فرعون سے پہلے کافر قوتیں آئیں۔ یعنی فرعون اور جو اس کے ساتھ تھا۔ 23۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولموتفکت اور الٹی بستیاں اور وہ لوط (علیہ السلام) کی قوم ہے کہ ان کے ساتھ ان کی زمین کو الٹ دیا گیا۔ 24۔ عبدبن حمید وابن المنذر نے مجاہدد (رح) سے روایت کیا کہ آیت بالخاطءۃ سے مراد خطائیں ہیں آیت اخذۃ رابیۃ یعنی شدت اور سختی کے ساتھ پکڑنا آیت انا لما طغا الماء جب پانی حد سے گزر گیا۔ یعنی زیادہ ہوگیا۔ آیت حملناکم فی الجاریۃ ہم نے تم کو کشتی میں سوار کیا۔ یعنی کشتی میں آیت وتعیہا اذن واعیۃ اور اس کو کان یاد رکھنے والے یاد رکھیں یعنی یاد رکھنے والے کان اور دوسرے لفظ میں یوں ہے سننے والے کان۔
Ayah 69:11

اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِی الْجَارِیَةِۙ Open ayah 69:11 in the Quran reader

بلاشبہ جب پانی کو طغیانی ہوئی تو ہم نے تمہیں کشتی میں اٹھادیا

25۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا آیت انا الما طغا الماء یعنی کہ پانی اپنے ذمہ دار فرشتوں پر غالب آگیا اور نازل ہوا حالانکہ آسمان سے کوئی پانی نہیں نازل ہوا۔ مگر پیمانے اور وزن کے ساتھ سوائے نوح (علیہ السلام) کے زمانہ کے کیونکہ وہ اپنے اوپر مقرر فرشتوں پر غالب آگیا اس لیے وہ بغیر وزن اور کیل کے نازل ہوا۔ 26۔ ابن المنذر وابو شیخ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آسمان سے کبھی کوئی قطرہ نازل نہیں ہوتا مگر ذمہ دار فرشتوں کے علم سے مگر اس وقت جب کہ پانی غالب آگیا کیونکہ وہ اس وقت غضب میں تھا اللہ کے غضب کی وجہ سے پس وہ ذمہ دار فرشتوں پر غالب آگیا۔ اور وہ نکلا اتنی مقدار میں کہ وہ نہیں جانتے تھے وہ کتان ہے۔ 27۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لما طغا الماء کے بارے میں مجھ کو یہ خبر پہنچی ہے کہ طغی سے مراد ہے کہ پانی ہر چیز پر پندرہ پندرہ ہاتھ بلند ہوا تھا۔ 28۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت حملنکم فی الجاریہ یعنی کشتی میں آیت لنجعلہا لکم تذکرۃ تاکہ ہم اسے تمہارے لیے ایک یادگار بنائی تاکہ تم اس سے نصیحت حاصل کرو جو کچھ ان کے ساتھ کیا گیا جب انہوں نے نوح (علیہ السلام) کی نافرمانی کی آیت وتعیہا اور اس کو یاد رکھیں۔ یعنی اس کو شمار کرتے رہیں۔ اذن واعیہ کان یادر کھنے والے یعنی کان یادر کھیں کشتی کے واقعہ کو۔
Ayahs 69:12–13

لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّ تَعِیَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِیَةٌ Open ayah 69:12 in the Quran reader

تاکہ ہم تمہارے لیے اس واقعہ کو نصیحت بنادیں اور تاکہ اسے یادرکھنے والے کان یاد رکھیں

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 69:13 in the Quran reader

سو جب صور میں پھونکا جائے گا ایک مرتبہ

حضرت علی ؓ کی فضیلت 29۔ سعید بن منصور وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت وتعیہا اذن واعیہ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ حضرت علی ؓ کے کان اس طرح بنادے، مکحول ؓ نے کہا کہ علی ؓ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے کوئی بات رسول اللہ ﷺ سے نہیں سنی کہ میں اسے بھول گیا ہوں۔ یعنی میں کسی بات کو نہیں بھولا۔ 30۔ ابن جریر وابن ابی حاتم واحدی وابن مردویہ وابن عساکر وابن مردویہ وابن عساکر وابن البخاری نے بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے علی ؓ سے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تجھ کو قریب کروں اور تجھ کو دور نہ کروں اور اگر میں تجھ کو علم سکھاؤں تو تو اس کو محفوظ رکھے اور تیرے لیے حق ہے کہ تو اس کو یاد رکھے، پھر یہ آیت نازل ہوئی آیت وتعیہا اذن واعیہ۔ 31۔ ابونعیم نے الحلیہ میں علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے علی ! اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تجھ کو قریب کروں اور میں تجھ کو علم سکھاؤں تاکہ تو اس کو یاد رکھے تو یہ آیت نازل ہوئی آیت وتعیہا اذن واعیۃ اور تو کان ہے یاد رکھنے والا میرے علم کے لیے۔ 32۔ ابن المنذنے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت لنجعلہا لکم تذکرۃ تاکہ ہم اسے محمد ﷺ کی امت کے لیے یادگار اور نصیحت بنادیں اور کتنی کشتیاں تھیں تباہ ہوگئیں اور ان کا نشان ختم ہوگیا یعنی کشتی میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہا حتی کہ محمد ﷺ کی امت اس کو پالیتی اور اس کو اس حال میں دیکھا کہ اس کے تختے جودی پہاڑ پر دکھائی دیتے تھے۔ 33۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لنجعلہا لکم تذکرۃ سے مراد ہے عبرت اور نشانی اور اللہ تعالیٰ نے اس کو باقی رکھا یہاں تک کہ اس امت نے اسے دیکھا اور کتنی کشتیاں نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے علاوہ بوسیدہ ہوگئیں۔ 34۔ عبد بن حمید وابن المنذر ابن عمران ؓ سے آیت لنجعہا لکم تذکرۃ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ کان جس کو اللہ کی طرف سے عقل دی گئی۔ 35۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت اذن واعیہ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ کان جو سنیں اور سمجھیں اور جو کچھ سنیں اسے یاد رکھیں۔
Ayahs 69:14–15

وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةًۙ Open ayah 69:14 in the Quran reader

اور اٹھا دی جائے گی زمین اور پہاڑ پھر دونوں کو ایک دفعہ میں ریزہ ریزہ کردیا جائے گا

فَیَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 69:15 in the Quran reader

سو اس دن واقع ہونے والی واقع ہوجائے گی

1۔ الحاکم وصححہ اور بیہقی نے البعث والنشور میں ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ آیت وحملت الارض والجبال فدکتا دکۃ واحدہ زمین اور پہاڑوں کو ان کی جگہ سے اٹھالیا جائے گا اور ایک دم سب کو توڑ پھوڑ دیا جائے گا۔ یعنی زمین اور پہاڑ دونوں کو ریزہ ریزہ ہو کر کافروں کے چہروں پر غبار بن جائیں گے نہ مکہ مومنین کے چہروں پر اور اس کو فرمایا آیت ووجوہ یومئذ علیہا غبرۃ ترھقہا قترہ۔ کافروں کے چہروں پر اس دن غبار یا کدورت ہوگی ان پر سیاہی چھائی ہوگی۔ 2۔ الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت فدکتا دکۃ واحدہ۔ کے بارے میں بتائیے۔ فرمایا اس سے مراد ہے شدید زلزلہ دوسرے نفحہ کے وقت۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے عدی بن زید کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا ملک ینفق الخزائن والرقۃ قد دکہا وکادت تبور ترجمہ : بادشاہ ہے جو خزانوں اور عقد کی آمدنی کو خرچ کرتا ہے تحقیق اس نے اسے کمزور کردیا ہے اور وہ برباد ہونے کے قریب ہوگئی ہے۔ 3۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ آیت فدکتا دکۃ واحدۃ (پس وہ دونوں ریزہ ریزہ کردئیے جائیں گے) مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ زمین کو قبض کرلی نگے اور آسمان کو اپنے داہنے ہاتھ کے ساتھ لپیٹ لیں گے۔ پھر فرمائیں گے آج کس کی بادشاہی ہے دنیا کے بادشاہ کہاں ہیں۔۔
Ayah 69:16

وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِیَ یَوْمَئِذٍ وَّاهِیَةٌۙ Open ayah 69:16 in the Quran reader

اور آسمان پھٹ جائے گا اور وہ اس روز بالکل ضعیف ہوجائے گا

4۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آتی وانشقت السماء اور آسمان پھٹ جائے گا اسی کو فرمایا آیت وفتحت السماء فکانت ابوابا اور آسمان کھولا جائے گا تو وہ دروازے ہوں گے۔ 5۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ فہی یومئذ واہیۃ یعنی اس دن آسمان پھٹا ہوا ہوگا۔
Ayah 69:17

وَّ الْمَلَكُ عَلٰۤى اَرْجَآئِهَا١ؕ وَ یَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمٰنِیَةٌؕ Open ayah 69:17 in the Quran reader

اور فرشتے اس کے کناروں پر آجائیں گے اور اس روز آپ کے پروردگار کے عرش کو آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے

6۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت والملک علی ارجاۂا۔ یعنی فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے۔ 7۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ربیع بن انس ؓ آیت والملک علی ارجاۂا کے بارے میں روایت کیا کہ فرشتے آسمان کی ایک طرف پر ہوں گے اور زمین والوں کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ جو ان پر گھبراہٹ اور خوف طاری ہوگا۔ 8۔ ابن المنذر نے سعید بن جبیر اور ضحاک رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ آیت والملک علی ارجاۂا یعنی فرشتے آسمان کے اس حصہ پر ہوں گے جو ابھی نہیں پھٹا ہوگا۔ 9۔ عبد بن حمید نے ضحاک قتادہ اور سعید بن جبیررحمہم اللہ سے روایت کیا کہ آیت والملک علی ارجاۂا سے مراد ہے کہ آسمان کے کناروں پر ہوں گے۔ 10۔ فریابی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت والملک علی ارجاۂا کے بارے روایت کیا کہ فرشتے آسمان کے ان کناروں پر ہوں گے جو ابھی بوسیدہ اور ڈھیلا نہیں ہوا ہوگا۔ 11۔ عبد بن حمید و عثمان بن سعید الدارمی فی الرد علی الجہمیۃ وابویعلی وابن المنذر وابن خزیمہ وابن مردویہ والحاکم وصححہ والخطیب نے تالی التلخیص میں عباس بن عبدالمطلب ؓ سے روایت کیا آیت ویحمل عرش ربک فوقہم یومئذ ثمنیۃ اور تییر رب کے عرش کو اس دن آٹھ فرشتے اٹھائیں گے۔ یعنی وہ آٹھ فرشتے ہوں گے پہاڑی بکروں کی صورت میں۔ 12۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ویحمل عرش ربک فوقہم یومئذ ثمنیۃ یعنی فرشتوں کی آٹھ صفیں ہوں گی ان کی گنتی اللہ کی سوا کوئی نہیں جانتا۔ 13۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے آیت ویحمل عرش ربک فوقہم یومئذ ثمنیۃ کے بارے میں روایت کیا کہ کہا گیا وہ آٹھ صفیں ہوں گی ان کی گنتی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور کہا گیا کہ آٹھ فرشتے ہوں گے۔ ان کے سر عرش کے پاس ساتویں آسمان پر ہوں گے اور ان کے قدم سب سے نچلی زمین میں ہوں گے ان کے سینگ ہوں گے جیسے پہاڑی بکروں کے سینگ ان کے ایک سینگ کی جڑ اس کی انتہاتک پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔ 14۔ عبد بن حمید نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویحمل عرش ربک فوقہم یومئذ ثمنیۃ سے مراد ہے آٹھ فرشتے۔ 15۔ ابن جریر نے ابن زید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آج اس کو چار فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں اور قیامت کے دن آٹھ ہوں گے۔ روایت سنداً محل کلام سے۔ 16۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید ؓ سے روایت کیا کہ عرش کے اٹھانے والوں میں سے سوائے اسرافیل (علیہ السلام) کے اور کسی کا نام نہیں لیا گیا اور میکائیل (علیہ السلام) عرش کے اٹھانے والوں میں نہیں ہیں۔ 17۔ ابن ابی حاتم وتمام الرازی فی فوائد وابن عساکر نے ابوزاہر (رح) سے روایت کیا کہ مج کو خبر دی گئی کہ لبنان فرشتہ ان آٹھ عرش کے اٹھانے والوں میں سے قیامت کے دن ایک ہوگا۔ 18۔ ابن عساکر نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ لبنان (فرشتہ) ان آٹھ عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک ہوگا قیامت کے دن۔ 19۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے میسرہ (رح) سے آیت ویحمل عرش ربک فوقہم یومئذ ثمنیۃ کے بارے میں روایت کیا کہ ان فرشتوں کے پاؤں تحت الثری میں ہوں گے۔ اور ان کے سر عرش کے پاس ہوں گے وہ اپنی آنکھوں کو اوپر اٹھانے کی طاقت نہیں رکھیں گے نور کی شعاعوں کی وجہ سے۔ عرش کو اٹھانے والے فرشتوں کا ذکر 20۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وہب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ چار فرشتے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اپنے کندھوں پر۔ ان میں سے ہر ایک کے چار چہرے ہیں۔ بیل کا چہرہ، شیر کا چہرہ، گدھ کا چہرہ اور انسان کا چہرہ۔ ان میں سے ہر ایک کے لیے چار پر ہیں۔ دو پر اس کے چہرے پر ہیں ایسا نہ ہو کہ وہ عرش کی طرف دیکھے اور بےہوش ہوجائے اور دوسرے دو پروں کے ساتھ وہ پھڑپھڑاتا ہے اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ ان دونوں کے ساتھ اڑتا ہے۔ ان کے قدم نرم مٹی کے اندر ہیں اور عرش ان کے کندھوں پر ہے۔ ان کا کلام صرف یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ آیت قدسوا اللہ القوی ملأ تعظمتہ السموات والارض۔ پاکی بیان کرو اس اللہ کی جو قوی ہے اور اس کی عظمت نے زمین و آسمان کو بھردیا ہے۔
Ayah 69:18

یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِیَةٌ Open ayah 69:18 in the Quran reader

جس روز تم پیش کیے جاؤ گے تمہاری کوئی بات پوشیدہ نہ ہوگی

21۔ عبد الرزاق اور ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یومئذ تعرضون جس دن تم پیش کیے جاؤ یعنی تم تین مرتبہ پیش کیے جاؤ گے دو پیشیوں میں تو خصومت اور جھگڑا ہوگا اور تیسری پیشی کے وقت اعمال نامہ اڑا کر ہاتھوں میں دے دیا جائے گا۔ 22۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یومئذ تعرضون لا تخفی منکم خافیۃ اس دن تم پیش کیے جاؤ گے اور تمہاری کوئی پوشیدہ حرکت بھی چھپی نہیں رہے گی۔ ہم کو ذکر کیا گیا کہ نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ لوگ قیامت کے دن تین مرتبہ پیش ہوں گے۔ پس دو پیشیوں میں تو خصومات عذر اور جھگڑے ہوں گے اور تیسری پیشی میں نامہ اعمال اڑ کر ہاتھوں میں آجائے گا اے اللہ ! ہم کو ان لوگوں میں بنادے جن کو داہنے ہاتھوں میں اعمال نامے ملیں گے۔ راوی نے کہا کہ بعض اہل علم یوں کہتے تھے کہ میں نے عقل مند لوگوں میں اس کو پایا جو جس نے کہا آیت ھاء م اقرء و اکتبیہ انی ظننت انی ملق حسابیہ۔ لو میر اعمال نامہ پڑھ لو بےمجھے یقین تھا کہ مجھے میرے اعمال کا حساب پیش آئے گا۔ یعنی اس نے یقین اگمان کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے گمان کے مطابق نفع عطا فرمایا۔ راوی نے کہا اور ذکر کیا گیا کہ اللہ کے نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے : جو شخص طاقت رکھتا ہو کہ وہ اس حال میں مرے کہ وہ اللہ کے ساتھ اچھا گمان رکھتا ہو تو اس کو چاہیے ایسا کرے۔ روایت غیر مسند ہے۔ 23۔ احمد وعبد بن حمید والترمذی وابن ماجہ وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابوموسی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگ تین مرتبہ اللہ کے سامنے پیش کیے جاءٰں گے دو پیشیوں میں جھگڑے اور عذر ہوں گے اور تیسری پیشی میں اعمال نامے اڑ کر ہاتھوں میں آجائیں گے۔ وہ کسی کے داہنے ہاتھ میں آئے گا اور کسی کے بائیں ہاتھ میں آئے گا۔ 24۔ ابن مردویہ نے دوسری سند سے ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آیت یومئذ تعرضون لاتخفی منکم خافیۃ سے مراد ہے کہ دو پیشیوں میں خصومت اور جھگڑے ہوں گے اور تیسری پیشی میں اعمال نامے اڑ کر لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچ جائیں گے۔ 25۔ ابن جریر والبیہقی نے البعث میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ قیامت کے دن لوگوں کو تین مرتبہ پیش کیا جائے گا دو پیشیوں میں جھگڑے اور عذر ہوں گے اور تیسی پیش میں اعمال نامے اڑ کر دائیں اور بائیں ہاتھوں میں آجائیں گے۔ 26۔ ابن المبار نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ تم اپنا محاسبہ کرو اس سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے کیونکہ وہ تمہارے حساب کو آسان بنادے گا اور اپنے آپ کا وز کرلو پہلے اس سے کہ تمہارا وزن کیا جائے اور بڑی پیشی کے لیے اپنے آپ کو تیار کرو۔ اسی کو فرمایا آیت یومئذن تعرضون لاتخفی منکم خافیہ۔
Ayah 69:19

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ١ۙ فَیَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِیَهْۚ Open ayah 69:19 in the Quran reader

سو جس شخص کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا وہ کہے گا کہ لو میرا اعمال نامہ پڑھ لو

27۔ ابن ابی حاتم نے عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو قیامت کے دن کھڑا کریں گے اور اس پر اس کے اعمال نامے سے اس کی برائیوں کو ظاہر فرمائیں گے۔ پھر اس سے فرمائیں گے کیا تو نے یہ عمل کیے تھے وہ کہے گا ہاں اے میرے رب۔ پھر اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے بلاشبہ میں نے تجھ کو رسوا نہیں کیا اور میں نے تجھ کو بخش دیا ہے اور وہ اس وقت کہے گا آیت ھاءم اقرء وا کتبیہ۔ انی ظننت انی ملق حسابیہ جب وہ نجات پائے گا قیامت کے دن اپنی رسوائی سے۔ مومن کا اعمال نامہ پردے میں دیا جائے گا 28۔ ابن المبارک میں الزہد میں وعبد بن حمید وابن المنذر والخطیب نے ابو عثمان النہدی (رح) سے روایت کیا کہ مومن کو اس کا عامل نامہ پردے میں دیا جائے گا اللہ تعلیٰ کی طرف سے جب وہ اپنے گناہوں کو پڑھے گا تو اس کا رنگ تبدیل ہوجائے گا۔ پھر وہ اپنی نیکیوں کو پڑھے گا۔ تو اس کا رنگ اس کی طرف لوٹ آئے گا پھر وہ دیکھے گا کہ اس کی برائیاں نیکیوں میں تبدیل کردی گئیں اس وقت وہ کہے گا آیت ھاء م اقرء و کتابیہ۔ 29۔ احمد نے ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں پہلا شخص ہوں گا جس کو قیامت کے دن سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ اور میں ہی پہلا ہوگا جس کو سر اٹھانے کی اجازت دی جائے گی۔ پھر میں اپنے سامنے دیکھوں گا اور اپنی امت کو باقی امتوں کے درمیان پہچانوں گا۔ اور اس طرح اپنے پیچھے کی جانب سے اور اپنی داہنی جانب سے اور اسی طرح اپنی بائیں جانب سے اپنی امت کو پہچان لوں گا ایک آدمی نے کہا یارسول اللہ ! آپ اپنی امت کو باقی امتوں کے درمیان کیسے پہچانیں گے۔ جبکہ وہاں نوح (علیہ السلام) سے آپ کی امت تک سب ہوں گے۔ فرمایا میری امت کے لوگ سفید پیشان سفید ہاتھ پاؤں والے ہوں گے وضو کے اثر سے۔ ان کے علاوہ ایسا کوئی نہیں ہوگا اور میں ان کو پہچانوں گا کہ ان کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے۔ اور میں ان کو پہچانوں گا کہ ان کا نور ان کے سامنے دوڑ رہا ہوگا۔
Ayahs 69:20–22

اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَهْۚ Open ayah 69:20 in the Quran reader

بلاشبہ میں پہلے ہی یقین رکھتا تھا کہ میرا حساب میرے سامنے پیش ہونے والا ہے

فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍۙ Open ayah 69:21 in the Quran reader

سو یہ شخص پسندیدہ زندگی میں ہوگا

فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ Open ayah 69:22 in the Quran reader

بہشت بریں میں ہوگا

30۔ جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت انی ظننت سے مراد ہے بلاشبہ مجھے یقین تھا۔
Ayah 69:23

قُطُوْفُهَا دَانِیَةٌ Open ayah 69:23 in the Quran reader

اس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے

31۔ سعید بن منصور وابن ابی حاتم نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ آیت قطوفہا دانیہ اسکے میوے جھکے ہوئے ہو گے یعنی قریب ہوں گے۔ 32۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت قطوفہا دانیۃ یعنی ان کے خوشے قریب ہیں ان کے ہاتھوں کو ان سے دوری واپس نہیں لوٹائے گی اور نہ کوئی کانٹا واپس لوٹائے گا یعنی کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنے گی۔ 33۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر نے براء ؓ سے روایت کیا کہ آیت قطوفہا دانیۃ سے مراد ہے کہ آدمی اس کے پھلوں کو کھڑے کھڑے بھی کھاسکے گا یعنی وہ اتنے قریب ہوں گے۔ 34۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت قطوفہا سے مراد ہے اس کے پھل 35۔ عبدالرزاق وابن المنذر والطبرانی وابن مردویہ نے سلمان فارسی ؓ سے روایت کیا کہ جنت میں کوئی داخل نہیں ہوگا مگر بسم اللہ الرحمن الرحیم کی امان کے ساتھ یہ تحریر ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے فلاں بن فلاں کے لیے اس کو اونچی جنت میں داخل کردو۔ آیت قطوفہا دانیۃ۔
Ayahs 69:24–26

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَةِ Open ayah 69:24 in the Quran reader

کھاؤ اور پیو مبارک طریقہ پر ان اعمال کے بدلہ جو تم نے گزشتہ دنوں میں آگے بھیجے تھے

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ Open ayah 69:25 in the Quran reader

اور جس کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا سو وہ کہے گا کہ ہائے کاش میرا اعمال نامہ مجھے نہ دیا جاتا

وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَهْۚ Open ayah 69:26 in the Quran reader

اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے

36۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کلوا واشربو ہنیئا بما اسلفتم فی الایام الخالیۃ کھاؤ اور یو ان کاموں کے بدلے میں جو تم نے گذشتہ دنوں میں کئے تھے۔ یعنی یہ تمہارے یہ دن ایام خالیہ اور فنا ہونے والے ہی۔ جو باقی رہنے والے ایام تک پہنچانے والے ہیں پس تم ان دنوں عمل کرکے خیر اور نیکی آگے بھیجو اگر تم یہ طاقت رکھتے ہو اور اللہ کے سوا کوئی قوت اور طاقت والا نہیں۔ اہل جنت کی مہمان نوازی 37۔ ابن المنذر نے یوسف بن یعقوب حنفی (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ اے میرے دوستو ! طویل عرصہ گزر گیا کہ میں تمہاری طرف دنیا میں متوجہ نہیں ہوا۔ حالانکہ تمہارے ہونٹ مشروبات سے دور رہے اور تمہاری آنکھیں دھنس گئیں اور تمہارے پیٹ خشک ہوگئے۔ آج کے دن تم اپنی نعمتوں میں داخل ہوجاؤ کھاؤ اور پئیو آیت ہنیئا بما اسلفتم فی الایام الخالیہ۔ کھاؤ اور پئیو ان کاموں کے بدلے میں جو تم نے گزشتہ دنوں میں آگے بھیجے تھے۔ 38۔ ابن المنذر وابن عدی فی الکامل اور بیہقی نے شعب الایمان میں عبداللہ بن رفیع (رح) سے روایت کیا کہ آیت بما اسلفتم فی الایام الخالیہ سے مراد روزے ہیں جو تم نے دنیا میں رکھے تھے۔ 39۔ بیہقی نے نافع (رح) سے روایت کیا کہ ابن عمر ؓ مدینہ منورہ کے نواح میں نکلے اور ان کے ساتھ ان کے ساتھی بھی تھے۔ ساتھیوں نے اپنے لیے دسترخوان بچھایا ان کے پاس سے ایک بکریاں چرانے والا گذرا۔ اس نے سلام کیا ابن عمر ؓ نے فرمایا اے گڈریے آجاؤ۔ آجاؤ اور اس دسترخوان میں سے کھالو۔ اس نے کہا میں روزے سے ہوں۔ ابن عمر ؓ نے فرمایا کیا تو اس سخت گرم دن میں روزے رکھے ہوئے ہے اور تو ان پہاڑوں میں بکریوں کو چرا رہا ہے۔ اس نے کہا بلاشبہ اللہ کی قسم میں اپنے گذرے ہوئے دنوں کو جلدی پالوں گا۔ ابن عمر ؓ نے اس سے فرمایا اور وہ اس کی پرہیزگاری کا امتحان لینے کا ارادہ رکھتے تھے کیا تو اپنی بکریوں میں سے ایک بکری ہم کو بیچے گا ؟ ہم تجھ کو اس کی قیمت دیں گے اور ہم تجھ کو اس کے گوشت میں سے بھی دیں گے تاکہ تو اسکے ساتھ روزہ افطار کرے۔ اس نے کہا یہ بکریں میری نہیں ہیں یہ بکریاں میر آقا کی ہیں۔ ابن عمر ؓ نے اس سے فرمایا جب تیرا آقا اس بکری کو گم پائے گا تو تو اس سے کہہ دینا کہ اسے بھیڑیے نے کھالیا ہے۔ چرواہے نے منہ پھیرلیا اور وہ اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے تھا اور کہنے لگا پھر اللہ کہاں ہے ؟ ابن عمر ؓ گڈریے کی بات کو بار بار دھرانے لگے کہ گڈریے نے کہا تو پھر اللہ کہاں ہے ؟ جب آپ واپس مدینہ منورہ واپس آئے تو اس کے آقا کی طرف کسی کو بھیجا اور اس سے ریوڑ اور چرواہے سب کو خرید لیا۔ پھر چرواہے کو آزاد کر کے بکریاں اس کو ہبہ کردیں۔
Ayahs 69:27–28

یٰلَیْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِیَةَۚ Open ayah 69:27 in the Quran reader

ہائے کاش موت ہی میرا فیصلہ کردیتی

مَاۤ اَغْنٰى عَنِّیْ مَالِیَهْۚ Open ayah 69:28 in the Quran reader

میرے مال نے مجھے فائدہ نہیں پہنچایا

1۔ عبد بن حمید قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یلیتہا کانت القاضیۃ کاش وہ موت خاتمہ کرنے والی ہوتی یعنی وہ موت کی تمنا کریں گے۔ حالانکہ ان کے نزدیک دنیا میں موت سے بڑھ کوئی چیز زیادہ ناپسندیدہ نہ تھی۔ ہلک عنی سلطنیہ۔ مجھ سے میری حکومت بھی جاتی رہی اللہ کی قسم ہر کوئی جو جہنم میں داخل ہو وہ بستی کا امیر تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا اور ان کو مسلط کیا ان کے بدنوں پر اور ان کو اپنی اطاعت کا حکم دیا اور ان کو منع کیا اپنی نافرمانی سے۔ 2۔ ہناد نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت یلیتہا کانت القاضیۃ یعنی اے کاش موت ہوتی اور اس کے بعد زندگی نہ ہوتی۔
Ayah 69:29

هَلَكَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَهْۚ Open ayah 69:29 in the Quran reader

میری جو سلطنت تھی وہ برباد ہوگئی

3۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ہلک عنی سلطنیہ سے مراد ہے کہ میری حجت بھی جاتی رہی۔ 4۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ہلک عنی سلطنیہ یعنی اس کی حجت بھی جاتی رہی۔ 5۔ سعید بن منصور نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ آیت یلیتہا کان القاضیہ سے مراد ہے میری حجت یعنی اے کاش میری حجت فیصلہ کن ہوتی۔ 6۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ہلک عنی سلطنیہ یعنی ہر دلیل مجھ سے جاتی رہی اور انہوں نے مجھے کسی بھی قسم کا نفع نہیں دیا۔
Ayahs 69:30–31

خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُۙ Open ayah 69:30 in the Quran reader

اس کو پکڑو اور اس کو طوق پہنادو

ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْهُۙ Open ayah 69:31 in the Quran reader

پھر اسے دوزخ میں داخل کردو

7۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت خذوہ فغلوہ اسے پکڑو اور اسے طوق پہنادو۔ یعنی مجھے خبر دی گئی کہ اس سے مراد ابو جہل ہے۔ 8۔ ابن المبارک وہناد فی الزہد وعبد بن حمید وابن المنذر نے نوف الشامی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم فی سلسلۃ ذرعہا سبعون ذرا عا پھر ایک زنجیر میں جس کا طول ستر گز ہے اس جکڑ دو ۔ اک ذراع ستر باع ہے۔ اور ایک باع کی مقدار اتنی ہے جتناتیرے اور مکہ کے درمیان فاصلہ اور وہ اس وقت کوفہ میں تھے۔ 9۔ ابن المبارک وعبد الرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ زنجیر میں سے ایک حلقہ جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا دنیا کے سارے لوحوں کی طرح ہے۔
Ayahs 69:32–33

ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُؕ Open ayah 69:32 in the Quran reader

پھر ایسی زنجیر میں اس کو جکڑ دو جس کی پیمائش ستر ہاتھ ہے

اِنَّهٗ كَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 69:33 in the Quran reader

بلاشبہ یہ شخص اللہ پر ایمان نہیں رکھتا تھا جو عظیم ہے

10۔ ابن ابی حاتم اور بیہقی نے البعث والنشور میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فاسلکوہ اس کو جکڑ دو ۔ یعنی اس زنجیر کو۔ اس کی دبر میں داخل کی جائے گی۔ یہاں تک کہ وہ اس کے نتھنوں سے باہر نکلے گی یہاں تک کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑ انہیں ہوسکے گا۔ 11۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) نے آیت فاسلکوہ کے بارے میں روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ زنجیر اس کی دبر میں داخل ہوگی پھر اس کے منہ سے باہر نکلے گی۔ پھر ان کو اس طرح پرو دیا جائے گا جیسے مچھلی کو سلاخ میں پرو دیا جاتا ہے پھر بھونا جاتا ہے۔ 12۔ ابن المنذر نے ابن جریج کے طریق سے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ زنجیر کو اس کی مقعد میں داخل کیا جائے گا یہاں تک کہ اس کے منہ سے نکالا جائے گا پھر بعد میں اسے اس کے ساتھ باندھا جائے گا۔ یا اس کے منہ سے زنجیر داخل کر کے اس کے معدہ سے نکالا جائے گا۔
Ayahs 69:34–35

وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ Open ayah 69:34 in the Quran reader

اور مسکین کو کھلانے کی ترغیب نہ دیتا تھا

فَلَیْسَ لَهُ الْیَوْمَ هٰهُنَا حَمِیْمٌۙ Open ayah 69:35 in the Quran reader

سو آج اس کے لیے کوئی دوست نہیں ہے

مسکینوں کے کھانے پر ابھارنا 13۔ ابو عبید وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ایک زنجیر ہے اور اس میں دوزخ کی آگ کی ہنڈیا اس وقت سے مسلسل ابل رہی ہ۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے دوزخ کو پیدا فرمایا اور یہ قیامت کے دن تک جاری رہے گا۔ یہاں تک کہ وہ لوگوں کی گردنوں میں پڑجائے گا۔ اور تحقیق اللہ تعالیٰ جو عظمت وشان والا ہے اس پر ایمان لانے کی وجہ سے ہمیں اس کے آدھے سے نجات عطا فرمادی۔ پس اے ام درداء مسکینوں کو کھانا کھلانے پر آمادہ کیا کر۔
Ayah 69:36

وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍۙ Open ayah 69:36 in the Quran reader

اور نہ غسلین کے علاوہ کوئی کھانا ہے

1۔ ابن ابی حاتم وابو القاسم الزجاجی النحوی فی امالیہ مجاہد کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نہیں جانتا کہ غسلین کیا ہے۔ لیکن میں اس کو زقوم کا درخت گمان کرتا ہوں۔ 2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت غسلین سے مراد ہے خون اور پانی جو دوزخ والوں کے گوشت سے بہے گا۔ 3۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی بن ابی طلیحہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت غسلین سے مراد ہے دوزخ والوں کی پیپ غسلین سخت بدبو دار ہے 4۔ الحاکم وصححہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اگر غسلین میں سے ایک ڈول دنیا میں بہادیا جائے گا تو سارے دنیا والوں کو بدبو دار کردے۔ 5۔ ابن المنذر نے ابن جریج کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ غسلین ایک کھانے کا نام ہے آگ کے کھانوں میں سے۔ 6۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ غسلین آگ میں ایک درخت ہے۔ 7۔ بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں صعصعہ بن صوحان (رح) سے روایت کیا کہ ایک دیہاتی حضرت علی ؓ کے پاس آیا اور کہا یہ حرف کیسے ہیں آیت لا یاکلہ الا الخاطؤن اس کو نہیں کھاتے مگر قدم اٹھانے والے یعنی کھائیے اللہ تعالیٰ قدم کھولے ہوئے ہے تو علی ؓ ہنس پڑے اور فرمایا اے دیہاتی یہ الفاظ اس طرح ہیں۔ لا یاکلہ الا الخاطؤن خطا کاروں سے سوا اس کو کوئی نہیں کھائے گا۔ دیہاتی نے کہا اے امیر المومنین ! اللہ کی قسم ! آپ نے سچ فرمایا اور اللہ تعالیٰ نہیں ہیں کہ وہ اپنے بندے کو اس کے حوالے کردے۔ پھر علی ؓ ابو الاسود کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا یہ عجمی لوگ مکمل طور پر دین میں داخل ہوچکے ہیں پس تو لوگوں کے لیے ایسی چیز وضع کردیجیے کہ جن کے ذریعہ وہ اپنی زبانوں کی اصلاح اور درستگی پر دلیل پکڑ سکیں تو انہوں نے ان کے لیے پیش، زبر اور زیر کی حرکات مقرر کردیں۔
Ayah 69:37

لَّا یَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِئُوْنَ۠ Open ayah 69:37 in the Quran reader

اسے صرف گناہگار ہی کھائیں گے

8۔ عبد بن حمید والبخاری فی تاریخہ ابوالدہقان کے طریق سے عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت لا یاکلہ الا الخاطؤن ہمزہ کے ساتھ۔ 9۔ سعید بن منصور نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے آیت لا یاکلہ الا الخاطؤن بغیر ہمزہ کے۔ 10۔ الحاکم وصححہ نے ابو الاسود الدوئلی اور یحییٰ بن یعمر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الخاطؤن کیا ہے ؟ بیشک وہ تو الخاطؤان ہے اور الصابون کیا ہے بیشک وہ تو الصائبون ہے۔
Ayahs 69:38–40

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 69:38 in the Quran reader

سو میں ان چیزوں کی قس کھاتا ہوں جن کو تم دیکھتے ہو

وَ مَا لَا تُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 69:39 in the Quran reader

اور ان چیزوں کو بھی جن کو تم نہیں دیکھتے

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۚۙ Open ayah 69:40 in the Quran reader

بلاشبہ یہ قرآن کلام ہے ایک معزز فرشتے کا لایا ہوا

11۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فلا اقسم بما تبصرون وما لا تبصرو۔ سو میں ان چیزوں کی قسم کھاتا ہوں جو تم دیکھتے ہو اور ان کی جس کو تم نہیں دیکھتے یعنی جو تم دیکھتے ہو اور جو تم نہیں دیکھتے۔