Ayahs 69:1–33 قیامت کی ہولناکی کی تاکید مزید کا اظہار وبیان : سو قیامت کی ہولناکی کی تاکید مزید کے طور پر استفہام مکرر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ ہو کر رہنے والی ؟ : کہ تم نے اس کو دیکھا نہیں اس لئے اس کی کنہہ اور حقیقت کو پوری طرح پالینا تمہارے حیطہ بس و امکان سے باہر ہے، (روح، قرطبی، مدارک، محاسن، کبیر وغیرہ) سو اس لفظ کے اس طح کے اعادہ و تکرار سے اس کے ہول و خوف اور اس کی دہشت و بےپناہی کو اور واضح اور موکد فرما دیا گیا ہے، سو کون جان سکتا ہے اور کون بتاسکتا ہے کہ وہ ہونی شدنی کتنی عظیم اور کس قدر ہولناک حقیقت ہے، سو جب وہ ظہور میں آئے گی تو اس وقت کیا گزرے گی ان لوگوں پر جو آج اس کو جھٹلا رہے ہیں اور اس سے اور اس کے تقاضوں سے غفلت و لاپرواہی برت رہے ہیں ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ اس لئے تاکید در تاکید اور استفہام مکرر کے ساتھ قیامت کے اس حادثہ کبریٰ کو موکد کر کے ذکر وبیان فرمایا گیا ہے کہ انسان اور غافل انسان چونک کر خواب غفلت سے بیدار ہوجائے اور اس کے لئے فکر و تیاری میں لگ جائے قبل اس سے کہ عمر رواں کی یہ فرصت محدود اس کے ہاتھ سی نکل جائے اور یہ ہمیشہ ہمیش کے خسارے اور عذاب میں مبتلا ہوجائے۔ والعیاذ باللہ العظیم
Ayah 69:44 قیامت کی صداقت و حقانیت کے لئے تاریخ کا حوالہ و ذکر : سو قیامت کی صداقت و حقانیت کے ثبوت کے لئے تاریخ کے حوالے کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جھٹلایا عاد اور ثمود نے دہلا کر رکھ دینے والے اس حادثہ کبری کو، والعیاذ باللہ العظیم سو وہ حادثہ کبری ایسا ہولناک ہوگا کہ اس سے لوگوں کے ہوش اڑ جائیں گے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا وتری الناس سکاری وما ھم بسکاری ولکن عذاب اللہ شدید اور دل دہل جائیں گے اور وہ مارے خوف کے اس روز کانپ رہے ہوں گے جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا قلوب یومئذ واجفۃ کہ وہ بڑا ہی عظیم اور انتہائی ہولناک حادثہ ہوگا جس میں زمین کے اس عظیم الشان کرے کو اور اس میں موجود ان دیوہیکل پہاڑوں کو ایک ہی ضرب میں کوٹ کر ریزہ ریزہ کردیا جائے گا جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا وحملت الارض و الجبال قدکتادکۃ واجدۃ (الحاقتہ :14) اس کی عظمت اور ہولناکی کا اندازہ لگانا ہی کس کے بس میں ہوسکتا ہے ؟ اسی لئے اس کو دوسرے مقام پر سب دنیا اور تمام مخلوقات کو تہس نہس اور ملیا میٹ کر کے رکھ دینے والا سب سے بڑا حادثہ فرمایا گیا ہے یعنی الطامۃ الکبری اور بتایا گیا کہ آج غفلت میں پڑے ہوئے انسان کے ہوش اس دن ٹھکانے لگ جائیں گے اور اس وقت اس کو زندگی بھر کا کیا کرایا پوری طرح یاد آجائے گا اور وہ سب کچھ ماننے کے لئے تیار ہوجائے گا لیکن تب اس کا موقع و مقام کہاں اور کیسے ؟ وانی لہ الذکری کہ ماننے کا وقت گزر چکا ہوگا اور اس کا موقع ہاتھ سے نکل چکا ہوگا وانی لھم التناؤش من مکان بعید (سبا :53) ایسے حادثہ عظمیٰ اور طاسہ کبریٰ کی کا اندازہ لگانا کس کے بس میں ہوسکتا ہے ؟ سورة زلزال میں اس کی ہولناکی کو اس طرح بیان فرمایا گیا ہے اذا زلزلت الارض زلزالھا یعنی جب زمین ایسے ہولناک زلزلے سے دو چار ہوگی، جو اس عظیم الشان کرہ کے زلزلے کے لائق ہوگا اس لئے القارعتہ کا ترجمہ عام طور پر حضرات مترجمین جو کھڑکھڑانے والی جیسے الفاظ سے کرتے ہیں وہ دل کو لگتا نہیں کیونکہ ان الفاظ سے وہ تصور سامنے نہیں آتا جو وقع قیامت کی شدت اور ہولناکی کی پوری طرح عکاسی کرتا ہو، بہرکیف وہ بہت ہی بڑا حادثہ ہوگا، اس لیے القارعۃ کا صحیح مفہوم وہ ہے جو بعض محققین نے اس طرح بیان کیا ہے التی تفرع قلوب الناس بالمخاوف والا ہوال و تقرع الاجرام بالا نفطار والا نتشار (تفسیر المراغی وغیرہ) بہر کیف اس موقع پر تاریخ کے اس حوالے سے واضح فرما دیا گیا کہ جن قوموں نے آخرت کا انکار کر کے اسی دنیاوی زندگی کو اصل زندگی سمجھا اور وہ اسی کی ہو کر رہ گئیں اور آخرت کی باز پرس اور وہاں کی جوابدہی سے وہ غافل و لاپروا ہوگئیں وہ اخلاق و کردار کے ایسے ہولناک بگاڑ میں مبتلا ہو کر رہیں کہ آخر کار اللہ تعالیٰ نے مختلف قسم کے عذابوں کے ذریعے ان کا ایسا صفایا کردیا کہ وہ قصہ پارینہ اور افسانہ ماضی بن گئیں۔ اب ان کا کہیں کوئی وجود نہیں " فھل تری لھم من باقیہ ؟ " والعیاذ باللہ العظیم سو اس میں بڑا سامان عبرت و بصیرت ہے۔
Ayah 69:55 ۔ قوم ثمود کے انجام کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ قوم ثمود کو طاغیہ سے ہلا کیا گیا یعنی ایسی ہولناک آواز سے جس کو سورة اعراف میں الرجفتہ (سخت زلزلے) کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے اور سورة ہود کی آیت نمبر 67 میں اس کے لیے الصیحتہ کا لفظ اسعتمال فرمایا گیا ہے جس کے معنی سخت ہولناک آواز اور زور دار دھماکے کے ہیں جبکہ سورة حم السجدہ کی آیت نمبر 17 میں اس کو صاعقتہ العذاب عذاب کا کڑکا۔ فرمایا گیا ہے سو اس بدبخت قوم پر آنے والے عذاب میں ہلاکت و تباہی کی یہ سب ہی شکلیں موجود تھیں اس کو یہاں پر طاغیہ کی لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے سو وہ ایسی ہولناک آفت تھی جو سب حدود کو کر اس کر کے ان سے باہر نکل گئی تھی، دنیا بھر کی رعد و برق کی گرج و چمک کی ہولناکیوں سے اس کی ہولناکی کہیں بڑھ کر تھی، جس کو سنتے ہی وہ بدبخت قوم ڈھیر ہو کر رہ گئی اور اپنے مصیر محتوم سے دوچار ہو کر یہ لوگ ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا ہوگئے اور ایسے نیست و نابود ہوئے کہ قصوں کہانیوں کے سوا اور ان کا کوئی وجود و نشان دنیا میں باقی نہیں رہ گیا اور مرقناھم کل ممزق وجعلناھم احادیث (سبا :19) کا مصداق بن گئے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ان کے عذاب کے لیے آنے والی وہ آفت اس قدر ہولناک اور ایسی سرکش تھی کہ کسی کے قابو میں آنے والی نہیں تھی اور اس سے بچ نکلنے کا کوئی سوال و امکان نہیں تھا، یہاں تک کہ ہو ان فرشتوں کے قابو سے بھی باہر ہوگئی تھی جو کہ اس پر متعین و مامور تھے اور اس کا یہ غیظ و غضب اللہ تعالیٰ کے دشمنوں اور اس کے باغیوں اور سرکشوں پر اللہ تعالیٰ کے لئے تھا یہاں تک کہ وہ ان کو ان کے انجام محتوم تک پہنچا کر رہی، (ابن کثیر، مدارک، جامع، صفوہ وغیرہ) اور اس طرح وہ سرکش قوم اپنی بغاتو و سرکشی کی بناء پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مٹ مٹا کر قصہ پارنیہ بن کر رہ گئی والعیاذ باللہ العظیم۔ سو یہ تاریخ کے حوالے سے قیامت کا ثبوت پیش فرما دیا گیا کہ اخلاقی حدود و قبود کو پھلانگ لینے، اور کفر و انکار کے جرم عظیم پر اصرار کرنے والوں کو ان کے عذاب نے بہرحال پہنچ کر رہنا ہے اور ایسے موقع پر کوئی بھی ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی گرفت و پکڑ سے بچانے والا نہیں ہوسکتا اور حضرات انبیاء کرام نے اپنی قوموں کو دنیاو آخرت کے ان دونوں ہی قسم کے عذابوں سے ڈرایا اور خبردار کیا ہے، قیامت کے عذاب سے بھی او اس سے پہلے آنے والے اس طرح کے ہولناک عذاب سے بھی والعیاذ باللہ العظیم اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین
Ayah 69:66 ۔ قوم عاد کی ہلات و تباہی کا ذکر وبیان : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا اور اس کی تصریح فرما دی گئی کہ قوم عاد کا خاتمہ ایک نہایت ہی تند و تیز اور سرکش ہوا کے ذریعے ہوا۔ سو اس سرکش قوم کا خاتمہ ایک ایسی نہایت ہی تندو تیز اور سرکش ہوا کے ذریعے کیا گیا، جو ان پر لگاتار سات راتیں اور آٹھ دن مسلط رہی، اس ہوا کی صفت یہاں پر عاتیتہ بیان فرمائی گئی ہے جس کے معنی ہیں وہ سرکش ہوا جو قابو سے باہر ہو گئیہ و، ہو کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ملہ اور حکمت بالغہ سے انسان کی بہتری کے لئے مسخر کیا ہے اور یہ ان عظیم الشان نعمتوں میں سے ہے جن پر انسان کی بقاء اور اس کی زندگی کا مدارو انحصار ہے، لیکن جب انسان اپنی حدود بندگی سے نکل کر سرکشی میں مبتلا ہوجاتا ہے والعیاذ باللہ تو اللہ تعالیٰ اسی مسخر ہوا کو ذرہ سی ڈھیل دے دیتا ہے، جس سے یہ اپنی حدود سے نکل کر انسان کی خدمت و بہتری کی بجائے اس کی ہلاکت و تباہی کا باعث بن جاتی ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس سے یہ اہم اور بنیادی حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اشیاء اپنی نفع رسانی اور ضرر رسانی میں حضرت حق جل مجدہ کے اذن و مشیت اور اس کے حکم و ارشاد کے تابع ہیں۔ جب تک اس کی طرف سے اذن و حکم ہوتا ہے یہ چیزیں نفع پہنچاتی ہیں ورنہ یہی بگڑ کر نیست و نابود کرنے والا عذاب بن جاتی ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم سو معاملہ سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کے حصہ اختیار میں ہے۔
Ayah 69:77 قوم عاد کے ہولناک انجام کی تصویر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ایسے پڑے ہوئے تھے گویا کہ وہ تنے ہیں اکھڑی ہوئی کھجوروں کے۔ سو اپنے جس پڑے ڈیل ڈول اور جس جسمانی طاقت وقوت پر ان لوگوں کو بڑا ناز تھا اور جس کے بار میں وہ لوگ اعلانیہ اور فخریہ طور پر کہا کرتے تھے ومن اشد منا قوۃ (ہم سے بڑھ کر طاقتور اور کون ہوسکتا ہے) (حم السجدۃ -15) سو وہ نمونہ عبرت بنے ہوئے آج اس طرح بےحس و حرکت پڑے ہوئے تھے اور ہوا جیسی غیر مئری اور کمزور مخلوق نے ان کو اس عبرتناک انجام سے دوچار کردیا تھا وما یعلم جنود ربک الاھو اور وہ لوگ سربریدہ کھجوروں کے لمبے لمبے تنوں کی طرح گرے پڑے تھے اور وہ بھی اس حال میں جب کہ وہ بوسیدہ اور اندر سے کھوکھلے ہوچکے ہوں جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا کانھم اعجاز نخل منفعر (القمر -20) بہر کیف معذب اور ہلاک شدہ ان دو قموموں کا حالہ دے کر یہ بتادیا گیا ہے کہ آخرت کا انکار اور حضرات انبیاء و رسل کی تکذیب کا جرم ایسا سنگین جرم ہے کہ اس پر آخرت کے اس حقیقی اور دائمی عذاب سے پہلے کبھی اس دنیا میں بھی عذاب آدبوچتا ہے اور یہ کہ جو قوم آخرت کی جزا و سزا اور وہاں کے حساب کتاب کے تقاضوں سی نچنت اور بےفکر ہو کر لاپرواہی کی زندگی گزارتی ہے وہ ایسے ہولناک اخلاقی بگاڑ میں مبتلا ہوجاتی ہے کہ اس کے نتیجے میں آخر کار وہ لقمہ عذاب بن جاتی ہی۔ سو ایسی قوموں کو قدرت کے قانون امہال کی مطابق مہلت جتنی بھی ملے ان کا انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہی ہوتا ہے والعیاذ باللہ العظیم اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین
Ayah 69:88 ۔ عذاب الٰہی کی بےپناہ کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تمہیں ان میں سے کوئی بھی بچا ہوا نظر آتا ہے ؟ : استفہام انکاری ہے یعنی نہیں، اب ان میں کا کوئی بھی متنفس زندہ نہیں رہ گیا بس اب ان کے قضے ہی ہیں جو عبرت انگیزی کے لئے باقی ہیں وجعلناھم احادیث جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ھل تحس من احد او تسمع لھم رکزا ؟ " (مریم : 98) سو وہ قومیں ہمیشہ ہمیش کے لئے مٹ گئیں اور ایسی مٹیں کہ ہمیشہ کے لئے اور دائمی طور پر لقمہ عذاب بن گئیں، سو یہ ہوتا ہے نتیجہ و انجام حق کے انکار کا، والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے عذاب الٰہی کی ہولناکی اور بےپناہی کا ذکر فرمایا گیا ہی کہ وہ جب آتا ہی تو ایسی قوموں کا صفایا کردیتا ہے اور ان میں سے کس بھی متنفقس کو باقی نہیں چھوڑتا۔ سو بڑے بدبخت اور انتہائی احمق ہیں وہ لوگ جو ایسے عذابوں سے بچنے کی فکر کی بجائے ان کو لاد کھانے کا مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ یہ چیز دیکھنے دکھانے کی نہیں بلکہ پناہ مانگنے کی ہے۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔ لیکن جن کی مت ماری دی جاتی ہے ان کا حال یہی ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم
Ayah 69:99 فرعون اور اس سے پہلے کے منکروں کے انجام کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور فرعون اور اس سے پہلے کے لوگوں نے بھی اسی جرم کا ارتکاب کیا۔ قوم نوح وغیرہ کافر و سرکش قومیں، کہ وہ سب ہی قومیں انکار حق اور تکذیب رسل کے اس سنگین اور ہولناک جرم کی مرتکب ہوئی تھیں، جس کا بھگتان ان کو آخر کار بھگتنا پڑا، والعیاذ باللہ العظیم کہ اللہ تعالیٰ کا قانون سب کیلئے یکساں اور بہرحال سب پر لاگو ہے کہ واں پر مدار فلاں ابن فلاں پر نہیں بلکہ عمل و کردار پر ہے، سو ان سب منکر و باغی اور کافر و سرکش قوموں نے جب تکذیب و انکار حق کے اسی جرم کا ارتکاب کیا جو کہ جرموں کا جرم اور ہلاکتوں کی ہلات ہے تو آخر کار یہ سب اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر ہے کہ اللہ کا قانون سب کے لئے یکساں اور بےلاگ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان الٹی ہوئی بستیوں کے باسیوں نے بھی اسی جرم و خطاء کا ارتکاب کیا اور ان بستیوں سے مراد قوم لوط کی وہ عذاب یافتہ بستیاں ہیں جن کو ان کے خلاف وضع فطری فعل کے ارتکاب کے باعث تہ وبالا کر کے رکھ دیا گیا، وجعلنا عالیھا سافلھا و امطرنا علیھم حجارۃ من سجیل (ھود -82) سو حضرات انبیاء سو حضرات انبیاء ورسل اور ان کی دعوت کی تکذیب پر اگر کسی قوم کو ڈھیل ملتی ہے تو اس سے کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہئے کہ وہ ڈھیل بہرحال ایک ڈھیل ہے، ایسے لوگوں کا مآل اور انجام بہرحال ہلاکت اور تباہی ہے، تاریخ کے یہ سب حوالے اس حقیقت کی تائید و تصدیق کرتے ہیں، کہ انکار حق کے جرم کا آخری نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے، والعیاذ باللہ العظیم ان واقعات عبرت اور تاریخی حقائق اوراقوام بائدہ میں سے اوپر عاد وثمود کی دو قموموں کا ذکر فرمایا گیا تھا اور اب اس ضمن میں فرعون اور قوم لوط کی الٹ دی گئی بستیوں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے بھی انکار و تکذیب حق کے اسی جرم کا ارتکاب کیا جس کا ارتکاب اس سے پہلے قوم عاد وثمود وغیرہ نے کیا تھا۔ سو جو نتیجہ و انجام ان کو پیش آیا اسی سے بالاخر یہ لوگ بھی دوچار ہوئے۔ سو کتنے اندھے اور اوندھے اور سک قدر بدبخت اور عاقبت ناندیش ہیں وہ لوگ جو مضای کے ان قوموں کے انجام سے درس عبرت لینے کی بجائے آنکھیں بند کر کے ہلاکت و تباہی کی اسی راہ پر چلے حجا رہے ہیں جس پر ماضی کی یہ قومیں چلی تھیں۔ والعیاذ باللہ العظیم
Ayah 69:1010 منکرین و مکذبین کے اشتراک جرم اور ان کے ہولناک انجام کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سب نے اسی بڑی خطا کا ارتکاب کیا۔ یعنی انکار آخرت اور تکذیب انبیاء و رسل علیھم الصلوۃ والسلام کی اس بڑی خطائکا جو کہ سب سے بڑی اور ہولناک خطاء ہے کہ یہ گناہ اور خطاء عظیم دراصل جڑ بنیاد ہے تمام فساد و خرابی کی، کہ اس سے انسان کی زندگی کا راست ہیہ بدل جاتا ہے اور اس جرم عظیم کے ارتکاب کے بعد انسان ایک عذب بن جاتا ہے، خود اپنے لئے بھی اور دو رسوں کے لئے بھی، والعیاذ باللہ العظیم اور خاطہ مصدر ہے خطا کے معنی میں اور اس سے مراد تکذیب حق کی خطا ہے جو کہ سب سے بڑی خطا ہے، (روح، جواہر اور صفوۃ وغیرہ) سو منکرین و مکذبین کا جرم ایک ہی رہا اور اس کے نتیجے میں ان سب کا انجام بھی ایک ہی رہا۔ چناچہ ان سب کے ہولناک انجام کے بارے میں۔ ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کار اس قادر مطلق نے ان سب کو پکڑا بڑی ہی سخت پکڑ میں۔ والعیاذ باللہ کہ ان کے کئے کا کچھ بدلہ ان کو اس دنیا میں ہی چکھا دیا جیسا کہ دسری جگہ فرمایا گیا کل کذب الرسل فحق وعید (ق : 12) اور اس طور پر کہ ان کے لئے دنیا کے اس عذاب کو آخرت کے دائمی اور ابدی عذاب سے ملا دیا گیا، جس سے نکلنے اور بچنے کی اب کوئی صورت ان کے لئے ممکن نہیں رہی تھی اور کبھی ممکن نہیں ہوگی اور آخرت کا عذاب جو کہ دائمی اور ابدی ہے وہ دنیاوی عذاب کے مقابلے میں بہرحال کہیں زیادہ سخت اور ہولناک ہے ارشاد ہوتا ہے ولعذاب الاخرۃ اشدوابقی (طہ -137) تو کیا اس سے بڑی سخت اور ہولناک پکڑ اور کوئی ممکن ہوسکتی ہے سو یہ نتیجہ اور انجام ہوتا ہے پیغام حق اور پیغمبر ان حق کی تکذیب کا لیکن افسوس کہ دنیا کی اکثریت پھر بھی اس سے بےفکر اور لاپرواہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم
Ayah 69:1111 قوم نوح کے ہولناک انجام کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور بلاشبہ ہم نے تم لوگوں کو سوار کیا اس کشتی میں جو حضرت نوح نے بنائی تھی۔ سو تم لوگوں کو اس میں سوار کیا یعنی تمہارے ان باپ دادا کو جن کی نسل سے تم لوگ ہو ‘ پس اس عظیم انعام کو یاد کرکے تم لوگ اپنے جد امجد حضرت نوح کی طرح سچے دل سے اپنے رب کے حضور جھک جاؤ ‘ اور اس کے شکر گزار بن جاؤ۔ جیسا کہ سورة بنی اسرائیل میں فرمایا گیا ذریۃ من حملنا مع نوح انہ کان عبداً شکوراً (بنی اسرائیل : 3) یعنی اے اولاد ان لوگوں کی جن کو ہم نے سوار کیا نوح کے ساتھ بلاشبہ وہ بڑے ہی شکر گزار بندے تھے۔ سو یہاں سے معلوم ہوا کہ باپ دادا پر کیا ہوا انعام و احسان ان کی اولاد پر بھی احسان ہوتا ہے ‘ سو اس کو یاد کرکے اس کا حق ادا کرنے کی فکر و سعی کرنا چاہیئے ‘ بہرکیف یہاں پر امم بائدہ اوراقوام ہالکہ میں سے جن قوموں کے ہولناک انجاموں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے ان میں آخری قوم قوم نوح ہے جس کا ذکر اب فرمایا جارہا ہے جو مذکورہ واقعات سے بھی بہت پہلے پیش آچکا تھا لیکن اس کو سب سے آخر میں بیان کرنے میں یہ اہم اور بنیادی درس بھی ہے کہ ان قصوں کو محض تاریخی تسلسل کے طور پر یا صرف معلومات میں اضافے کی غرض سے نہیں بلکہ درس عبرت لینے کیلئے پڑھا جائے کہ قرآن کوئی تاریخ یا جغرافیہ کی کتاب نہیں بلکہ کتاب ہدایت ہے۔ اس لئے ان قصوں کو اسی اعتبار سے پڑھا جائے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید۔
Ayah 69:1212 امم بائدہ کے قصوں کے ذکر سے اصل مقصد کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ سب سرگزشتیں اس لئے سنائی گئیں کہ تاکہ یہ سامان عبرت و بصیرت ہو رہتی دنیا کیلئے اور تاکہ اس کو یاد رکھیں یاد رکھنے والے کان۔ اور یہ حقیقت ہمیشہ ان کے سامنے رہے کہ حق کی تکذیب اور حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی توہین کا انجام بہرحال تباہی اور بربادی ہی ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو طوفان نوح سے بچ رہنے والوں کو ہم نے اپنی رحمت و نقمت کی یہ شان اس لئے دکھائی کہ تاکہ یہ نصیحت اور یاددہانی ہو تم سب کیلئے اور تاکہ اس کو یاد رکھیں یاد رکھنے والے کان اور وہ اس سے نصیحت حاصل کریں اور اسلاف کی طرف سے اخلاف کی طرف منتقل ہونے والا یہ سرمایہ عبرت و بصیرت رہتی دنیا تک لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کا ذریعہ بنتا رہے۔ سو اس سے اس اصل مقصد کو واضح فرما دیا گیا جو ان قوموں کے انجام اور ان کی سرگزشتوں کے ذکر وبیان سے اصل مقصود ہے تاکہ اس کے آئینے میں لوگ حضرت حق جل مجدہ کی شان رحمت و نقمت کو دیکھ سکیں۔ سو " لنجعلھا " کی ضمیر منصوب کا مرجع صرف جاریۃ۔ کشتی۔ نہیں بلکہ یہ درسہائے عبرت و بصیرت سے معمور و لبریز یہ تمام سرگزشتیں اور ان سے ملنے والے گرانقدر سبق ہیں کہ یہ سب بڑے بصیرت افروز اور چشم کشا درس ہیں۔
Ayahs 69:13–1513 ہنگامہ قیامت کے وقوع کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب پھونک مار دی جائے گی صور میں ایک ہی مرتبہ اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر اور کوٹ کر چورا چورا کردیا جائے گا ایک ہی چوٹ میں۔ سو اس روز واقع ہو کر رہے گی وہ ہو پڑنے والی۔ اور پھٹ پڑے گا اس روز آسمان۔ یعنی مضبوط بندشوں والا یہ آسمان جو زمانہ ہائے دراز سے ایسا چلا آرہا ہے کہ اس میں نہ کوئی شگاف ہے نہ ھٹن ‘ اور جو بغیر کسی ٹوٹ پھوٹ ‘ فتور و قصور کے اور بدوں کسی نقص و فساد کے قائم ہے اس روز یہ پھٹ پڑے گا کہ اس کے رب کا اس کو یہی حکم ہوگا اور یہ حکم مانے گا اپنے رب کا ‘ اور اس کے آگے سر تسلیم کردے گا ‘ سبحانہ و تعالیٰ واذنت لربھا و حقت کہ وہ حکم مانے گا اپنے رب کا اور اس کے لائق بھی یہی ہے کہ وہ سر تسلیم خم کردے اپنے رب کے حکم و ارشاد کے آگے ‘ اور حکم و تصرف سب پر اسی خالق ومالک کا چلتا ہے کہ حاکم حقیقی بہرحال وہی ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔
Ayah 69:1614 قیامت کے روز آسمان کے حال کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آسمان پھٹ پڑے گا اور اس روز یہ بالکل بودا ہو کر رہ جائے گا۔ اور آج جس تماسک و تجاذب کی بنآء پر یہ اس قدر مضبوطی سے قائم ہے وہ سب کچھ اس روز ختم ہوجائے گا کہ اس روز اس کے خالق ومالک کے حکم و ارشاد سے یہ سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا کہ یہ سب کچھ اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف زمین اور اس کے پہاڑوں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب یہ آسمان کا حال بیان فرمایا جا رہا ہے ‘ کہ جس آسمان میں آج ڈھونڈے سے بھی کسی نقص یا شگاف کا کوئی نشان نہیں مل سکتا ‘ اس روز یہ بالکل بودا اور پھس پھسا ہو کر رہ جائے گا ‘ اور روئی کے گالوں اور دھوئیں کے بادلوں کی طرح اڑتا پھرے گا۔ سو عذاب سے متعلق تاریخی واقعات کے ذکر وبیان کے بعد ظہور وقوع قیامت کے ذکر میں یہ درس پایا جاتا ہے کہ جس طرح ان معذب قوموں پر عذاب واقع کرنے کیس لسلے میں ہمیں کوئی خاص اہتمام نہیں کرنا پڑا بلکہ ہم نے چشم زدن میں ان باغی اور سرکش قوموں پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ اسی طرح قیامت کو واقع کرنے کیلئے بھی ہمیں کسی خاص اہتمام کی کوئی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ صرف ایک مرتبہ صور میں پھونک مارنے کی دیر ہوگی کہ وہ ہنگامہ قیامت بپا ہوجائے گا اور اس کے بعد ایک نیا جہاں نئے قوانین و نوامیس کے مطابق قائم ہوجائے گا۔
Ayah 69:1715 قیامت کے روز فرشتوں کے حال کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز فرشتے آسمان کے کناروں پر ہوں گے اور اس روز تمہارے رب کے عرش کو اوپر اٹھائے ہوں گے آٹھ فرشتے۔ جب کہ اس سے پہلے اس کو اٹھایا ہوگا چار فرشتوں نے (مدارک ‘ معارف ‘ بحر اور صفوہ وغیرہ) اور حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے مروی ہے کہ یہاں پر آٹھ سے مراد فرشتوں کی آٹھ صفیں ہیں ‘ نہ کہ آٹھ فرشتے ‘ فرشتوں کی تعداد اللہ پاک ہی کے علم میں ہے (ابن کثیر ‘ مدارک ‘ جامع ‘ محاسن ‘ صفوہ اور معارف وغیرہ) یہ آیت کریمہ بھی دراصل ان متشابہات میں سے ہے جن کی صحیح اور حقیقی مراد اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا پس اس میں بہتر اور سلامتی کی راہ وہی ہے جو حضرات سلف صالحین نے اختیار فرمائی کہ ایسے امور کی کنہہ اور حقیقت کو حضرت حق جل مجدہ کے سپرد کردیا جائے اور یہ ایمان و اعتقاد رکھا جائے کہ جو بھی اس کی اصل اور حقیقی مراد ہوگی وہی صحیح ہے اور اسی پر ہمارا ایمان ہے کہ غیبی حقائق کا احاطہ و ادراک انسان کی عقل محدود و نارسا کی حدود اور اس کے احاطہ علم و ادراک سے باہر ہے ‘ والعلم عنداللہ سبحانہ و تعالیٰ و ھوا علم بمراد کلامہ جل وعلا۔ اللہ ہمیشہ راہ حق و صواب پر مستقیم و ثابت قدم رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 69:1816 روز قیامت کی پیشی اور حضور عدالت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز تم سب کو پیش کیا جائے گا تمہارے رب کے حضور اس حال میں کہ تمہاری کوئی بھی بات چھپی نہیں رہے گی۔ بلکہ زندگی بھر کا سب کچھ کیا کرایا تمہارے سامنے ہوگا اور اسی کے مطابق تمہیں اپنے کئے کرائے کا بدلہ ملے گا تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں ‘ سو جب تم کو تمہارے رب کے حضور پیش کیا جائے گا ‘ تو تمہارے احوال و کو ائف میں سے کوئی بھی چیز اس سے مخفی و مستور نہیں رہے گی ‘ کہ وہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے ‘ زمین و آسمان کی کوئی بھی چیز اس سے مخفی نہیں رہ سکتی ‘ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا " وما یخفی علی اللہ من شیء فی الارض ولا فی السمائ " (ابراہیم : 38) اور قیامت کے روز تو تمہاری یہ کیفیت اور بھی زیادہ واضح ہوگی کہ اس روز جب آسمان و زمین کی ساری بساط کو لپیٹ کر رکھ دیا جائے گا تو نہ کسی کیلئے چھپنے کی کوئی جگہ ہوگی اور نہ چھپانے کی کوئی چیز جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا " یوم ھم بار زون لایخفی علی اللہ منھم شی " (المومن :16) ۔ یعنی اس روز یہ سب سامنے موجود ہوں گے ‘ ان کی کوئی بھی چیز اللہ سے مخفی نہیں ہوگی۔
Ayah 69:1917 کامیاب ہونے والے خوش نصیبوں کا ذکر وبیان : سو وہاں کی اس عدالت کبریٰ میں کامیاب ہونے والوں کو ان کے نامہ ہائے اعمال داہنے ہاتھ میں دیئے جائیں گے۔ سو داہنے ہاتھ میں اعمال نامے کا ملنا خوش بختی کی علامت ہوگی کیونکہ نامہ اعمال کا داہنے ہاتھ میں ملنا کامیابی اور فائزالمرامی کی علامت و نشانی ہوگی ‘ اللہ پاک ہم سب کو اپنے فضل و کرم سے ایسے ہی خوش نضیبوں میں سے کرے آمین ثم آمین ‘ بہرکیف یہاں سے اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیشی کے بعد سزا و جزا کی تفصیل کو بیان فرمایا جا رہا ہے ‘ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس کو اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ‘ وہ اس کو دیکھتے ہی خوشی سے اچھل پڑے گا ‘ اور دوسروں سے کہے گا کہ لو جی ذرا میرا نامہ اعمال پڑھیئے گا۔ اور ظاہر ہے کہ زندگی بھر کی محنت کے بعد کی کامیابی اور وہ کامیابی جو ابدی سعادتوں سے سرفراز کرنے والی کامیابی ہوگی اس سے بڑھ کر خوشی و مسرت کا مقام اور کونسا ہوسکتا ہے ؟ اللہ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔
18 اصحاب یمین کے اظہار مسرت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس کو اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا لو جی ذرا میرا نامہ اعمال پڑھیئے۔ جیسا کہ انسان کی طبیعت و فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ خوشی و مسرت کے موقع پر ایسے ہی کرتا اور کہتا ہے اور اپنی کامیابی پر نازاں وفرحاں ہوتا ہے جس سے اس کا سرور دوبالا ہوجاتا ہے ‘ اور پھر آخرت کی وہ کامیابی جو کہ سب سے بڑی اور حقیقی کامیابی ہوگی اور جو زندگی بھر کی کوشش و محنت کا صلہ وثمرہ ہوگا اس کی مسرتوں کا ٹھکانا ہی کیا ‘ اللھم شرفنا بھذا الفوز العظیم المبارک بمض منک وکرمک یا ارحم الراحمین ویا اکرم الاکرمین یہاں پر کلمہ ھاؤ کے اندرھا کی حیثیت محض ایک آواز کی ہے ‘ جیسے ہمارے یہاں کہا جاتا ہے ارے ‘ اوہ ‘ اور اف وغیرہ ‘ اور یہ اس موقع پر بولا جاتا ہے کہ جب کہنا ہو کہ یہ لو یا یہ لو جی وغیرہ اور پھر ہا اوراقرؤا کے درمیان کے خلا کو پر کرنے کیلئے ؤم کا لفظ لایا گیا ہے اسی لئے اس کو اسم فعل کہا جاتا ہے خذ کے معنی میں (روح وغیرہ) بہرکیف جس خوش نصیب کو اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ خوش ہوہوکر اپنا نامہ اعمال دوسروں کو دکھائے گا اور ان سے اس کو پڑھنے کیلئے کہے گا کہ اس سے اس کا سرور دوبالا ہوگا۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔ اور کتابیہ میں ہوسکتے کی ہے جس کو محض رعایت قافیہ کیلئے لایا گیا ہے۔ بہرکیف اس دن کی وہ خوشی سب سے بڑی خوشی ہوگی۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین۔
Ayah 69:2019 اس عظیم کامیابی کے سبب کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس کو اس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا کہ میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ میں نے اپنا حساب پانا ہے۔ سو اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ دولت ایمان و یقین اور عقیدئہ آخرت اس عظیم الشان اور بےمثال کامیابی کی اولین اساس ہے۔ پس یہاں پر ظن کے لفظ سے تعبیر کرنے میں یہ درس ہے کہ آفاق وانفس کید لائل میں غور کرنے سے اور حضرات انبیاء و حکماء کے ارشاد فرمودہ دلائل وبراہین کے ذریعے آخرت کے بارے میں اس طرح کا یقین تو اگرچہ نہیں ہوسکتا ‘ جیسا کہ آنکھوں دیکھی چیز سے ہوا کرتا ہے الا ماشاء اللہ۔ مگر ایک ظن غالب ضرور حاصل ہوجاتا ہے ‘ جو ایمانی تجربات سے درجہ بدرجہ مضبوط اور مستحکم ہوتا رہتا ہے ‘ سو آخرت کا اعتقاد و یقین کامیابی اور فائز المرامی کی اولین اساس ہے بہرکیف نامہ اعمال کا دائیں ہاتھ میں مل جانا ہی کامیابی کی نشانی و علامت ہوگا اور ایسے خوش نصیب خوش ہو ہو کر اپنے اعمال ناموں کو پڑھیں گے اور دوسروں سے بھی پڑھنے کو کہیں گے۔ اللہ ہمیں بھی انہی میں سے کردے اور محض اپنے فضل و کرم سے اس شرف سے نوازے۔ آمین۔ و انہ سبحانہ و تعالیٰ سمیع قریب مجیب و علی مایشاء قدیر ‘ بہرکیف اس سے عقیدئہ آخرت کی انقلاب آفرینی کا پہلو واضح ہوجاتا ہے کہ اس کی بناء پر انسان کہیں سے کہیں جاپہنچتا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ کہے گا کہ مجھے اس بات کا یقین تھا کہ میں نے اپنا حساب پانا ہے۔ جس کی بناء پر میں نے زندگی کے ہر مرحلے پر پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی کوشش کی کہ کل قیامت میں کیا جواب دوں گا ‘ سبحان اللہ خوف خداوندی اور آخرت کی جواب دہی کا احساس انسان کو کس طرح سیدھا رکھتا ہے ‘ فصدق اللہ القائل ان الذین لا یومنون بالاخرۃ عن الصراط لناکبون (المومنون :74) والعیاذ باللہ العظیم۔ سو آخرت کی جوابدہی کا اعتقاد ایک ایسا انقلاب آفریں عقیدہ ہے جس سے انسانی زندگی کے دھارے بدل جاتے ہیں ‘ اور انسان خود بخود اور اپنے اندر کی آواز سے راہ حق و ہدایت پر چلنے لگتا ہے جبکہ اس ایمان و یقین سے محروم انسان محض ایک حیوان بلکہ بدترین حیوان۔ شرالبریۃ۔ بن کر رہ جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ راہ حق پر مستقیم و ثابت قدم رکھے۔ آمین۔
Ayah 69:2120 اصحاب یمین کیلئے پسندیدہ گزران کا مژدئہ جانفزا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس کو اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ پسندیدہ گزراں میں ہوگا : دنیاوی زندگی چونکہ اس نے اپنی خواہشات کو کچل کر خدا چاہی زندگی کے طور پر گزاری تھی ‘ اس لئے اس کے صلہ میں وہ اکرم الاکرمین اس کو وہاں پر من چاہی زندگی کی ایسی عظیم الشان نعمت سے نوازے گا جو اس دنیا میں کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کو بھی نصیب نہیں ہوسکتی فایاک نسال اللھم التوفیق والسداد لما تحب وترضی من القول والعمل۔ سو ایمان و یقین کی زندگی اور رضاء خداوندی کو مقصود حیات بنانے کی روش وہ پاکیزہ اور پسندیدہ روش ہے جو انسان کو آخرت کی ابدی بادشاہی سے سرفراز کرتی ہے۔ سو ایسے خوش نصیبوں کو وہاں وہ کچھ ملے گا جو ان کے دل چاہیں گے اور ان کو وہاں پر ہر وہ چیز پیش کی جائے گی جو یہ مانگیں گے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا " ولکم فیھا ماتشتھی انفسکم ولکم فیھا ماتدعون "۔ یعنی تم لوگوں کو وہاں پر ہر وہ چیز ملے گی جو تمہارے دل چاہیں گے اور تمہارے لئے وہاں پر وہ سب کچھ موجود ہوگا جو تم مانگو گے۔ (حم السجدہ :31) ۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے ‘ اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayahs 69:22–2321 بےمثال باغ اور اس کے بےمثال پھل : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ایسی عالیشان اور بلند مرتبہ جنت میں ہوں گے جس کے خوشے جھکے ہوئے ہوں گے ‘ تاکہ وہ لیٹے بیٹھے ‘ جب اور جیسے چاہے ان سے بہرہ ور اور لطف اندوز ہوسکے ‘ اللھم شرفنا بھا بمحض منک وکرمک یا ارحم الراحمین ویا اکرام الاکرمین بہرکیف جنب کی اس عظیم الشان اور بےمثال زندگی میں انسان کو وہ سب کچھ ملے گا جو وہ چاہے گا ‘ اور جس کی وہ خواہش کرے گا ‘ اس کے باغوں اور پھلوں کے بارے میں یہاں پر دو صفتیں بیان فرمائی گئی ہیں ‘ ایک عالیہ اور دوسری دانبۃ ‘ یعنی وہ باغ ہوں گے تو بڑے بلند اور نہایت عالیشان ‘ لیکن ان کے پھل اور خوشے جو کہ اصل مقصود ہیں وہ جھکے ہوئے ہوں گے ‘ اور ایسے اور اس قدر کہ وہ لیٹے بیٹھے ہر حال میں ان کی دسترس میں ہوں گے ‘ اللہ نصیب فرمائے آمین ‘ قطوف قطف کی جمع ہے مایقطف کے معنی میں یعنی وہ پھل جس کو توڑا اور چنا جاتا ہے۔ سو یہ مصدر مفعول کے معنی میں ہے جیسے ذبح بمعنی مذبوح وغیرہ (التحریر والتنویر لا بن عاشور) سو اہل جنت کو وہاں پر ہر وہ چیز ملے گی جو ان کے نفس چاہیں گے اور جس سے ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک اور لذت نصیب ہوگی اور ان کو نعمتوں بھری ان جنتوں میں ہمیشہ رہنا نصیب ہوگا جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ " وفیھا ما تشتھیہ الآنفس وتلذ الاعین وانتم فیھا خالدون " (الزخرف :71) ۔ اللہ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayahs 69:24–2723 اصحاب الشمال کے انجام اور ان کی بدبختی کا ذکر وبیان : سو اس سے اصحاب الشمال یعنی بائیں بازو والوں کی بدبختی اور ان کی یاس و حسرت کا منظر پیش فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ یاس و حشرت کے مارے کہے گا کہ اے کاش مجھے میرا نامہ اعمال دیا ہی نہ گیا ہوتا اور مجھے پتہ ہی نہ ہوتا کہ میرا حساب کیا ہے ؟ اور میرے لئے میری وہ دنیا والی موت ہی خاتمہ کردینے والی ہوجاتی ‘ تاکہ مجھے اس ذلت اور رسوائی سے دوچار نہ ہونا پڑتا ‘ مگر بےوقت کے اس پچھتاوے سے اس کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ سوائے ان کی آتش یاس و حسرت میں اضافے اور اس کی تیزی کے ‘ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس سے اصحاب الشمال کی یاس و حسرت کی کیفیت کو ظاہر اور واضح فرما دیا گیا چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جس کو اس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ بصد حسرت کہے گا کاش کہ وہی دنیا والی موت میرا کام تمام کردیتی تاکہ مجھے یہ روز بد نہ دیکھنا پڑتا قتادہ کہتے ہیں کہ اس وقت کی ہولناکی کے پیش نظر وہ موت کی تمنا کرے گا حالانکہ دنیا میں اس کو موت ہی سے سب سے زیادہ نفرت تھی ‘ (صفوۃ التفاسیر ‘ تفسیر المراغی) بہرکیف اس روز وہ رہ رہ کر یہ خواہش اور تمنا کرے گا کہ کاش کہ وہی دنیا والی موت میرا کام تمام کردیتی ‘ اور مجھے دوبارہ اٹھ کر یہ روز بد نہ دیکھنا پڑتا۔ مگر بےوقت کی اس یاس و حسرت سے اس کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا سوائے آتش یاس و حسرت کے مزید بھڑکنے کے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین۔
Ayah 69:2824 ان کا مال بھی ان کے کچھ کام نہیں آسکے گا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ کہے گا کہ میرے کچھ کام نہ آسکا میرا مال۔ یعنی میرا وہ مال جس کو میں دنیا میں سب کچھ سمجھتا اور اس کو سینت سینت کر رکھا کرتا تھا اور جس کو میں بہت کچھ بلکہ سب کچھ سمجھتا تھا۔ اور میں اسی کے کمانے اور جوڑنے و جمع کرنے میں لگا رہتا تھا یہاں تک کہ حیات دنیا کی وہ فرصت محدود میرے ہاتھ سے نکل گئی ‘ جو کہ اصل میں آخرت کی اسی حقیقی اور ابدی زندگی کی کمائی اور اس کی تیاری کیلئے عطا فرمائی گئی تھی ‘ اور مجھے دنیا سے خالی ہاتھ رخصت ہونا پڑا ‘ مگر بےوقت کے اس پچھتاوے سے اس کو کچھ حاصل نہ ہوگا ‘ بجز حسرت و یاس میں اضافے کے ‘ والعیاذ باللہ العظیم۔ وایاک نسال اللھم التوفیق والسداد لما تحب وترضی من القول والعمل۔ برکیف حضرت حق جل مجدہ نے غیب کے اس جہاں کے ان حقائق کو اس قدر صراحت و وضاحت کے ساتھ اور اتنا پیشگی بیان فرما دیا ‘ تاکہ کسی کیلئے کوئی عذر باقی نہ رہے اور کل کوئی یہ نہ کہے کہ مجھے پتہ نہیں تھا۔ اب جس کی مرضی جو راستہ چاہے اختیار کرے ہر ایک اپنے کئے کرائے کا پھل پائے گا جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا " فمن شاء فلیومن ومن شاء فلیکفر انا اعتدنا للظالمین نارا احاط بھم سرادقھا " (الکہف :29) ۔ یعنی اب جس کی مرضی ایمان لائے اور جس کی مرضی کفر کرے۔ ہم نے یقینا ظالموں کیلئے ایک ایسی ہولناک آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتوں نے ان کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے اور ہر قسم کے شرور و فتن سے ہمیشہ اور ہر اعتبار سے محفوظ رکھے ‘ آمین ثم آمین۔
Ayah 69:2925 اور ان کا اقتدار بھی ان کے کچھ کام نہ آسکے گا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسا شخص کہے گا اور کھو گیا مجھ سے میرا جاہ و اقتدار۔ جس پر مجھے بڑا گھمنڈ اور ناز تھا ‘ اور جس کو حاصل کرنے کیلئے میں طرح طرح کے پاپڑ بیلا کرتا تھا ‘ اور سلطان کا دوسرا معنی حجت اور دلیل بھی آتا ہے یعنی وہ کہے گا کہ میری وہ دلیل اور حجت بازی بھی مجھے آج کچھ کام نہ آسکی جس کی بدولت میں دنیا میں دوسروں کو دبا دیا کرتا تھا ‘ بہرکیف وہ یاس و حسرت بھرے انداز میں کہے گا کہ دنیا میں میرے جس اقتدار اور حجت بازی پر مجھے بڑا ناز ہوا کرتا تھا ‘ اور جس نے مجھے ایسا اوندھا اور اوندھا کردیا تھا ‘ کہ میں کسی ناصح کی بات کو سننے اور ماننے کیلئے تیار نہیں ہوتا تھا ‘ آج وہ سب کچھ ہوا ہوگیا اور میرے کچھ کام نہ آسکا ‘ یہاں پر یہ امر بھی واضح رہے کہ ما اغنی میں جو کلمہ ما پایا جاتا ہے یہ نافیہ بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی میرے کچھ کام نہ آسکا میرا مال اور یہ استفہامیہ بھی ہوسکتا ہے یعنی میرے کس کام آیا میرا مال ؟ اور یہ دوسرا قول و احتمال زیادہ موزوں اور مناسب حال ہے۔ سو ایمان و یقین کی دولت سے محروم لوگوں کو اس روز کچھ بھی کام نہیں آسکے گا۔ اور مال و دولت اور جاہ و اقتدار سب کچھ سراب معلوم ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 69:30–3226 مجرموں کو پکڑنے اور طوق ڈالنے کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حکم ہوگا کہ پکڑو اس کو اور طوق ڈال دو اس کے گلے میں۔ روایات میں ہے کہ یہ حکم ملتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی تعمیل میں دوڑ پڑینگے ‘ اور جو بھی چیز وہاں موجود ہوگی وہ اس کو مارنے میں شریک ہوجائے گی ‘ یہ ان سے کہے گا تمہیں کیا ہوگیا ؟ تم سب مجھے بلاوجہ کیوں مارتے ہو ؟ تو ان سب کی طرف سے جواب ملے گا کہ چونکہ رب تعالیٰ تجھ پر ناراض اور غضبناک ہے ‘ اس لئے ہم سب بھی تجھ پر ناراض اور غضبناک ہیں ‘ اور بعض روایات میں ان فرشتوں کی تعداد ستر ہزار کی بجائے ایک لاکھ بیان فرمائی گئی ہے اور بعض میں چار لاکھ ‘ (روح ‘ قرطبی ‘ ابن کثیر ‘ جامع البیان ‘ صفوہ وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس سے اصحاب الشمال کے ان بدبختوں کا انجام واضح فرما دیا گیا ہے کہ ان کے بارے میں حکم ہوگا کہ ان کو پکڑو ‘ طوقوں میں جکڑو۔ پھر ان کو دوزخ میں جھونک دو ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ پھر حکم ہوگا کہ جکڑ دو اس کو ایک ایسی ہولناک زنجیر میں جس کی لمبائی ستر ہاتھ ہوگی۔ اور ہاتھ یہ دنیا کے معروف ہاتھ نہیں ہوں گے بلکہ حضرت حسن فرماتے ہیں کہ اللہ ہی جانے کہ وہ ہاتھ کیسے اور کس قدر لمبے ہوں گے اور حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ زنجیر اس کے دبر سے ڈال کر اس کے منہ سے نکالی جائے گی اور پھر اس کے دونوں سروں کو اس طرح کس کر باندھ دیا جائے گا کہ اس کی پیشانی اس کے قدموں سے مل جائے گی ‘ (روح ‘ قرطبی ‘ ابن کثیر ‘ کبیر ‘ صفوہ وغیرہ) سو جس کافر کا انجام یہ ہونے والا ہے اس کو اگر دنیا کی ساری دولت بھی مل جائے تو بھی اس کو کیا ملا ‘ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور ستر کا لفظ جیسا کہ علامہ قاشانی وغیرہ نے کہا خاص عدد کیلئے نہیں بلکہ مطلقا تکثیر کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے (محاسن التاویل اور تفسیر مراغی و مظہری وغیرہ) اور یہ اسلوب دنیا کی ہر زبان میں اور خود ہماری زبان میں بھی پایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 69:3327 دولت ایمان سے محرومی کا نتیجہ و انجام عذاب دوزخ والعیاذ باللہ جل و علائ۔ سو اس سے اس حقیقت کو اضح فرما دیا گیا کہ دولت ایمان سے محرومی کا نتیجہ و انجام بہرحال دوزخ ہے چناچہ ان مجرموں کے فرد جرم کی اظحار وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ایمان نہیں رکھتا تھا خدائے عظیم پر جس کی عظمتوں کے آثار اس کی کائنات میں ہر طرف پھیلے ہوئیت ہے اور جو اپنی زبان حال سے پکار پکار کر اس کو دعوت فکر و ایمان دے رہے تھے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ یہ اس شخص کی فرد جرم کے پہلے حصے یعنی اس کے کفر اور اس کی بےایمانی کا ذکر ہوا۔ پس یہاں سے یہ بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کافر کو اگر دنیا کی ساری دولت اور عمر بھر کی حکومت بھی مل جائے تو بھی وہ سراسر ناکام و نامراد ہے کہ اس کا انجام یہ ہونے والا ہے ‘ والعیاذ باللہ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایمان سے محرومی دوزخ میں داخلے کا سب سے بڑا اور بنیادی سبب اور باعث ہے ‘ کہ نؤر ایمان و یقین سے محرومی دنیا و آخرت کی ہر خیر سے محرومی ہے۔ اور دولت ایمان و یقین سے سرفرازی سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اور دولت ایمان سے سرفرازی کا موقع اسی دنیاوی زندگی میں ہے اور بس ‘ کیونکہ مقصود و مفید ایمان بالغیب ہی ہے ‘ حصول اور اس سے سرفرازی کا موقع اسے دنیاوی زندگی میں مل سکتا ہے ‘ اور بس۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علیٰ مایحب ویرید۔ لکل حال من الاحوال۔
Ayah 69:3428 مسکینوں کے کھانے کی ترغیب نہ دینا بھی دوزخ کا باعث ہے۔ والعیاذ باللہ۔ مسکینوں پر خرچ کی ترغیب نہ دینا دوزخ میں داخلے کا دوسرا بڑا سبب ہے۔ والعیاذ باللہ۔ چناچہ فرد جرم کے سلسلے میں مزید ارشاد فرمایا گیا اور یہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب بھی نہیں دیتا تھا۔ یعنی خود کھلانا تو درکنار یہ دوسروں کو اس کی ترغیب بھی نہیں دیتا تھا ‘ یہ اس کے اخلاقی روگ کا ذکر ہے جو کہ اس کے بخل اور اس کی بےرحمی اور سنگ دلی کی غمازی کرتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور بخیل لوگوں کا حال یہی ہوتا ہے کہ وہ نہ خود خرچ کرتے ہیں اور نہ کسی دوسرے کو خرچ کرنے کی تعلیم و تلقین ہی کرتے ہیں ‘ بلکہ ان کی خواہش اور کوشش بھی یہی ہوتی ہے کہ دوسرا بھی خرچ نہ کرے ‘ تاکہ ان کے بخل اور کنجوسی پر پردہ پڑا رہے ‘ والعیاذ باللہ۔ اور اسی بات کو سورة ماعون میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے " فذالک الذی یدع الیتیم ولا یحض علی طعام المسکین " (الماعون :2 ۔ 3) ۔ یعنی پس یہ وہی شخص ہے جو دھکے دیتا ہے یتیم کو اور مسکین کے کھانے پر انہیں ابھارتا دوسروں کو البتہ زیر بحث آیت کریمہ سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ جو لوگ مال و دولت رکھتے ہوئے بھی مسکینوں پر خرچ نہیں کرتے اور وہ یتیموں اور مسکینوں کو دھکے دیتے ہیں وہ خدائے عظیم پر ایمان نہیں رکھتے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayahs 69:35–3630 دوزخیوں کا کھانا زخموں کی دھو ون۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے الفاظ و کلمات کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا اور نہ ہی اس کیلئے کوئی کھانا ہوگا سوائے زخموں کی دھون کے۔ جو کہ دوزخیوں کے جسموں سے پیپ ‘ لہو اور کچ لہو وغیرہ کی صورت میں بہہ رہی ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ واضح رہے کہ یہ حصر اضافی ہے یعنی کوئی مرغوب اور مفید غذا ان کو بہرحال نہیں ملے گی بلکہ غسلین ‘ زقوم ‘ اور حمیم جیسی سخت بری اور تکلیف دہ چیزیں ہی کھانے کو ملیں گی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ غسلین ناپاک اور گندی چیزوں کے غسالہ یعنی دھو ون کو کہا جاتا ہے۔ سو ایسے لوگوں نے چونکہ اپنے مال و دولت کا مصرف اپنی تن پروری ‘ شکم پروری اور کام و دہن کی لذت ہی کو سمجھا اور اس حرص و ہوس میں مساکین و غرباء کے حقوق ہڑپ کرکے اپنے سارے مال کو انہوں نے نجس بنادیا اس لئے قیامت کے اس یوم حساب و جزاء میں ان کو ناپاک چیزوں کا غسالہ اور دھو ون ہی کھانے پینے کو ملے گا کہ الجزاء من جنس العمل کے اصول کا تقاضا یہی ہے۔ یہاں پر اس ضمن میں یہ حقیقت بھی واضح رہنی چاہئے کہ انسان کا مال اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کیلئے خرچ کرنے سے پاک ہوتا ہے۔ پس جو لوگ دنیا کے اس دارالعمل میں انفاق فی سبیل اللہ کی اس سعادت سے محروم ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ ان کا مال نجاست و غلاظت کا ڈھیر بن جاتا ہے جس پر آج دنیا کے اس دارالامتحان میں پردہ پڑا ہوا ہے لیکن کل قیامت کے اس جہان غیب میں جو کہ کشف حقائق اور ظہور نتائج کا جہاں ہوگا ایسے بدبختوں کی سینت سینت کر رکھی گئی وہ پونجی اپنی اس اصل شکل میں سامنے آجائے گی جو کہ اوپر بیان ہوئی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ من کل سوء وزیغ و ضلال و انحراف۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین۔
Ayah 69:3731 غسلین مجرموں ہی کی غذا ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے الفاظ و کلمات کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ اس کو کوئی نہیں کھ اس کے گا بجز ان خطاکاروں کے : جن کے گناہوں کی میل نے ان کے ظاہر و باطن کو سیاہ کردیا ہوگا ‘ اور وہ واحاطت بہ خطئتہ کے مصداق بن چکے ہوں گے سو کشف حقائق حقیقی عدل و انصاف اور جزا و سزا کے اس ابدی اور حقیقی جہاں میں وہ اپنے کئے کرائے کا بھگتان بھگت کر رہیں گے والعیاذ باللہ ‘ سو غسلین یعنی زخموں کے دھو ون کی یہ خوراک انہی مجرموں اور خطا کاروں کیلئے خاص ہوگی ‘ ان کے سوا دوسرا کوئی اس کو نہیں کھ اس کے گا ‘ سو یہ سزا ان کے جرم کے عین مناسب ہوگی۔ سو جس طرح ان کا جرم خاص نوعیت کا تھا اسی طرح ان کی غذا و سزا بھی خاص نوعیت کی ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 69:3832 منکرین کے زعم باطل کی تردید : سو ارشاد فرمایا گیا پس نہیں ایسے نہیں ‘ یعنی ایسے نہیں جیسا کہ کفار و مشرکین اور دوسرے باطل پرستوں نے سمجھ رکھا ہے ‘ بلکہ حق وہی اور صرف وہی ہے جو کہ یہ قرآن اور اس کو پیش کرنے والے پیغمبر (صلوات اللہ وسلامہ علیہ) بتا رہے ہیں اور ان کی بتائی ہوئی ایک ایک بات نے بہرحال پورا ہو کر رہنا ہے ‘ سو قسم سے پہلے جو اس طرح کا لا آتا ہے ‘ وہ نہ تو زائد ہوتا ہے اور قسم کی نفی کیلئے ‘ بلکہ یہ قسم سے پہلے اسی بات کی تردید کیلئے آتا ہے ‘ جس کیلئے قسم کھائی گئی ہوتی ہے ‘ اور یہ عربی کا ایک عام اور معروف اسلوب ہے جو آج تک عربوں میں پایا جاتا ہے ‘ اور یہ لوگ آج بھی لاو اللہ اور بلی واللہ جیسے الفاظ سے اس طرح کی قسمیں کھاتے ہیں ‘ بلکہ یہ اسلوب خود ہماری زبان اور محاورے میں بھی علم پایا جاتا ہے ‘ چناچہ ہمارے محاورے اور عام بول چال میں بھی لوگ کہتے ہیں ‘ نہیں خدا کی قسم بات ایسے نہیں ایسے ہے وغیرہ وغیرہ۔ سو اسی طرح قسم سے پہلے استعمال کیا جانے والا یہ لا بھی ایسے ہی ہے ‘ اور اس میں دراصل بلاغت کا یہ اسلوب کارفرما ہے کہ یہ بات اور یہ خیال جس کی تردید کیلئے قسم کھائی جا رہی ہے ‘ اتنا غلط اور اس قدر لچر و بےبنیاد ہے کہ متکلم اس کی تردید میں ایک لمحے کے توقف کیلئے بھی تیار نہیں ‘ سو تعجب ہوتا ہے ان لوگوں پر جو ایسے لا کے بارے میں فوراً کہہ دیتے ہیں کہ یہ زائد ہے ‘ اور اسی بناء پر اس کا ترجمہ بھی غلط کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ برکیف " فلا " سے منکرین کے زعم باطل کی تردید فرما دی گئی ہے۔
Ayah 69:3933 ایک اہم اور جامع قسم کا ذکر وبیان : سو اس سے منکرین کے زعم باطل کی تکذیب و تردید کیلئے ایک اہم اور جامع قسم کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ میں قسم کھاتا ہوں ان چیزوں کی جن کو تم لوگ دیکھتے ہو اور ان کی بھی جن کو تم لوگ نہیں دیکھتے۔ پس اس میں سب ہی چیزوں کی قسم آگئی ‘ خالق و مخلوق ‘ دنیا و آخرت ‘ ظواہر و بواطن ‘ اجسام و ارواح ‘ انس و جن ‘ آثار و اسرار وغیرہ سب کی کہ " ماتبصرون وما لا تبصرون " کا عموم ان سب کو شامل ہے ‘ سو اس جامع قسم کے ساتھ ارشاد فمرایا گیا کہ تم لوگ جو پیغمبر کو ساحر اور شاعر وغیرہ قرار دیتے ہو سب غلط اور باطل ہے۔ بات ایسے نہیں ہے بلکہ ان کا کہنا اللہ کی طرف سے ہے ‘ اور جس سزا و جزا کی خبر پیغمبر تمہیں دے رہے ہیں عالم مشہود اور غیر مشہود سب کے دلائل اس کی تائید و تصدیق کرتے ہیں ‘ اس لئے تم لوگ اس کو کسی شاعر یا کاہن کا قول قرار دے کر جھٹلانے کی کوشش نہ کرو ‘ کہ اس میں تمہاری اپنی محرومی ہے ‘ یہ کسی شیطان کا یا کسی جن کا کلام ہوسکتا ہی نہیں ‘ بلکہ یہ ایک نہایت ہی معزز فرشتے کی لائی ہوئی وحی اور ایک نہایت ہی معزز رسول کا پیش کردہ کلام خداوندی ہے ‘ جس کو حضرت حق جل مجدہ نے اپنے بندوں کی بہتری اور بھلائی کیلئے نازل فرمایا ہے تاکہ وہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوسکیں۔ پس دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا راستہ وہی اور صرف وہی ہے جس کی ہدایت و رہنمائی یہ کتاب ہدایت قرآن مجید کرتا ہے اور بس۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ‘ وعلی مایحب ویرید۔ بکل حال من الاحوال۔
Ayah 69:4034 قرآن حکیم کی عظمت شان کے ایک خاص پہلو کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ فرمایا گیا کہ لاشبہ یہ قرآن ایک معزز پیغمبر کا پیش کردہ کلام ہے۔ اتنے بڑے کرم والے کہ اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق میں اتنی کرم والی دوسری کوئی ہستی نہ ہوئی ہے ‘ نہ ہوگی ‘ اس سے مراد ہیں نبی اکرم رحمت مجسم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ جن کی بعثت و تشریف آوری نے پوری انسانیت کو قعر مذلت سے نکال کر اوج ثریا سے ہمکنار ہونے بلکہ اس سے بھی آگے پرواز کر جانے کی راہ بتائی اور اس کو دارین کی سعادتوں سے بہرہ ور ہونے کی تعلیم سے نوازا ‘ صلوات اللہ وسلامہ علیہ آگے یہ انسان کی اپنی شقاوت اور بدبختی ہے کہ وہ اس راہ حق سے اعراض کرکے اور منہ موڑ کر اسفل السافلین کے گڑھے میں جاگرے ‘ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو رسول کریم کے لفظ سے یہاں پر مراد حضرت محمد ﷺ ہیں۔ کیونکہ یہاں پر رسول کریم فرمانے کے بعد فرمایا گیا کہ یہ کسی شاعر یا کاہن کا کلام نہیں اور یہ بات ظہار ہے کہ کفار مکہ شاعر اور کاہن جبریل امین کو نہیں بلکہ حضرت محمد ﷺ ہی کو کہتے تھے جبکہ سورة تکویر کی آیت نمبر 19 میں وارد لفظ رسول سے مراد جبریل امین ہیں کیونکہ وہاں پر اس کے بعد جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ حضرت جبریل کی ہیں نہ کہ حضرت محمد کی۔ جبکہ بعض اہل علم کے نزدیک دونوں جگہوں پر اس کی مراد جبریل امین ہی ہیں۔ بہرکیف اس سے قرآن حکیم کی عظمت شان کے اس خاص پہلو کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ والحمدللہ جل و علا۔ سو قرآن حکیم ایک بڑے ہی معزز رسول کا کلام ہے۔ یعنی یہ رسول کریم کا پیشہ کردہ کلام ہے۔ سو یہ نسبت مجازی ہے یعنی قرآن حکیم کلام تو بیشک حضرت رب العالمین احکم الحاکمین جل جلالہ ہی کا ہے لیکن اللہ پاک کی طرف سے اس کو دنیا کے سامنے پیش کرنے والی اور اہل دنیا کو پڑھ کر سنانے اور بتانے والی ذات اقدس آپ ہی کی ہے اسی لئے یہاں لقول محمد نہیں فرمایا گیا بلکہ لقول رسول فرمایا گیا ہے کہ آپ ﷺ ہی اس کو دنیا کے سامنے پیش فرمانے والے ہیں ‘ اور آنحضرت ﷺ تک چونکہ اس کلام خداوندی کو حضرت جبریل امین نے پہنچایا اس لئے سورة تکویر میں اس کلام معجز نظام کو ان کی طرف منسوب فرمایا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے انہ لقول رسول کریم ٭ ذی قوۃ عند ذی العرش مکین ٭ مطاع ثم امین (التکویر۔ 19 ۔ 21) کیونکہ اس کو الہ پاک سے آنحضرت ﷺ تک آپ (علیہ السلام) ہی نے پہنچایا ‘ سو ان دونوں کی طرف یہ اسناد مجازی ہے۔