69. Surah Al-Haaqqa

الحاقةThe Reality · 52 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الحاقہ سورة نمبر 69 کل رکوع 2 آیات 52 الفاظ و کلمات 260 حروف 1134 مقام نزول مکہ مکرمہ “ الحاقہ ” واقع ہونے والی وہ قیامت جب بلند وبالا اور مضبوط پہاڑ کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دئیے جائیں گے۔ آسمان پھٹ جائے گا اور پورے نظام کائنات کو الٹ کر رکھ دیا جائے گا۔ ” آخرت “ وہ حقیق دن جب میدان حشر قائم ہوگا اور اس میں ہر شخص کو حاضر ہو کر اللہ کی عدالت میں اپنی زندگی بھر کے کیے ہوئے کاموں کا حساب دینا ہوگا۔ ہر شخص کا نامہ اعمال اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا جن کے اعمال بہتر ہوں گے وہ اپنا نامہ اعمال خوشی اور مسرت کے ساتھ ایک دوسرے کو دکھاتے اور پڑھواتے پھریں گے اور جن کے اعمال نامے خراب ہوں گے وہ نہایت حسرت و افسوس کے ساتھ کہتے ہوں گے کاش یہ دن دیکھنے سے پہلے ہی مٹی ہوگئے ہوتے وہ اپنی بدنصیبی پر رنج و غم میں مبتلا ہوں گے۔ فرمایا کہ جو لوگ قیامت، آخرت اور رسولوں کی لائی ہوئی تعلیمات کے منکر ہوتے ہیں ان کو اسی دنیا میں قیامت کی تباہ کاریاں دکھا دی جاتی ہیں چناچہ قوم عاد، قوم ثمود، قوم فرعون اور قو م لوط جو دنیاوی اعتبار سے نہایت مضبوط اور خوش حال قومیں تھیں جب انہوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کی نافرمانیوں کی انتہا کردی تو پھر ان پر شدید ترین عذاب آئے۔ کوئی طاقت و قوت ان کے کام نہ آسکی اور آج ان کے کھنڈرات اس کے گواہ ہیں کہ ان میں سے کسی کو بھی باقی نہیں رکھا گیا اور دنیا سے ان کا وجود مٹا دیا گیا ہے۔ ایسے نافرمانیوں کو آخرت میں اس سے بھی شدید عذاب دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ نے پہلے ہی سے آگاہ کرنے والا کلام اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعہ بھیج دیا ہے وہ ایسا کلام ہے جو نہ تو کسی شاعر کا قول ہے اور نہ کسی کاہن کا بلکہ اللہ رب العالمین کا کلام ہے جو ایک مقدس فرشتے کے ذریعہ پہنچایا گیا ہے۔ جو لوگ اللہ کے اس کلام پر عمل کریں گے ان کو دنیا اور آخرت میں بلندی اور نجات ملے گی اور اگر نافرمانی کے طریقے اختیار کیے گئے تو اللہ کا دستور یہی ہے کہ وہ ظالموں کو آخرت سے پہلے اسی دنیا میں ان کا بدترین ٹھکانا دکھا دیا کرتا ہے۔ فرمایا کہ جب قوم عاد اور قوم ثمود نے قیامت، آخرت، رسول اور اس کے لائے ہوئے کلام کو جھٹلایا تو ایک سخت اور دہشت ناک چنگھاڑ کے ذریعہ ان کو تباہ و برباد کردیا گیا۔ قوم عاد جن کو اپنی طاقت اور مال و دولت پر بڑا ناز تھا ان کو شدید طوفانی آندھیوں سے تباہ کیا گیا۔ ان پر مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس طرح طوفان مسلط کیا گیا کہ وہ طوفانی ہوائیں ان کو اس طرح اٹھا اٹھا کر پٹک رہی تھیں کہ ان کے وجود کھجور کے کھوکھلے تنوں کی طرح ہر طرف بکھرے ہوئے نظر آتے تھے اور آج ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں بچا ہے۔ قوم ثمود کو ایک زبردست اور زوردار دھماکے سے تباہ کیا گیا۔ فرمایا کہ قوم عاد اور قوم ثمود کی طرح جس قوم نے بھی اللہ کی بھیجی ہوئی سچائی کو جھٹلایا اس کا یہی انجام ہوا۔ چناچہ قوم فرعون، اس سے پہلے منکرین اور قوم لوط جن کی بستیوں کو الٹ کر پھینک دیا گیا تھا سب کو نافرمانی کی سکت سزا دی گئی اور ان کو سختی سے پکڑا گیا۔ فرمایا کہ طوفان نوح کے موقع پر اللہ نے اپنے فرمانبرداروں کو کشی میں سوار کرا کے بچا لیا تاکہ اس واقعہ سے ہر شخص عبرت حاصل کرسکے۔ اس کو ایک یادگار بنایا گیا تاکہ یادر رکھنے والے کان اس کو محفوظ کرلیں۔ فرمایا کہ میدان حشر میں جب اچھے یا برے اعمال نامے ہر شخس کے سامنے رکھ دئیے جائیں گے تو ان لوگوں کی خوشی کا ٹھکانا نہ ہوگا جنہوں نے نیک اعمال کیے تھے لیکن برے اعمال والے لوگ جو حسرت اور افسوس کرتے ہوئے ہوں گے ان کے لئے اللہ کی طرف سے حکم ہوگا کہ ان کو پکڑو، ان کی گردنوں میں طوق ڈالو اور گھسٹتے ہوئے جہنم میں لے جا کر جھونک دو اور انہیں ستر ہاتھ لمبی زنجیروں میں جکڑ دو کیونکہ یہ وہ بدنصیب لوگے ہیں جو دنیا میں نہ تو اللہ پر ایمان لائے اور نہ انہوں نے کسی غریب اور محتاج کو سہارا دیا۔ آج ان کا کوئی جگری اور گہرادوست ان کے کسی کام نہ آئے گا۔ ان کا آج کھانا بھی زخموں کی پیپ (دھو ون) کے سوا کچھ نہیں ہے جو ایسے منکرین کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان تما چیزوں کو قسم کھا کر جو آدمی کو نظر آتی ہیں یا نظر نہیں آتیں فرمایا ہے کہ یہ کلام یعنی (قرآن مجید) ایک معزز اور ایک بزری والے فرشتے کے ذریعہ بھیجا گیا کلام الٰہی ہے۔ یہ کسی شاعر یا کاہن کی باتیں اور کلام نہیں ہے۔ نہ اس کو ہمارے رسول نے خود سے گھڑ کر ہماری طرف منسوب کیا ہے بلکہ اللہ کا نازل کیا ہوا کلام ہے اگر اس کلام کو نبی گھڑ کر ہماری طرف منسوب کرتے تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکر کر ان کی رگ جان کو کاٹ ڈالتے اور تم میں سے کوئی ہمیں اس سے روکنے والا نہ ہوتا۔ یہ قرآن کریم ان لوگوں کے دھیان دینے کی چیز ہے جو اللہ کا خوف رکھتے ہیں۔ فرمایا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے اس کلام کو ہی لوگ جھٹلاتے ہیں جن کا مزاج ہی کفرو انکار بن چکا ہے جو آخر کار ان کافروں کے لئے حسرت و افسوس کا ذریعہ بن جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا کہ کہ یہ ہمارا کلام بالکل سچا کلام ہے یعنی اس کی سچائی دنیا پر کھل کر رہے گی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کا دین پہنچانے کی جو جدوجہد کر رہے ہیں وہ کرتے رہیے اور اپنے رب عظیم کی تسبیح اور حمدو ثنا کرتے رہیے۔

Ayahs 69:1–8

اَلْحَآقَّةُۙ Open ayah 69:1 in the Quran reader

وہ ” حاقہ “ (ضرور واقع ہونے والی)

مَا الْحَآقَّةُۚ Open ayah 69:2 in the Quran reader

اور کیا ہے وہ حاقہ ؟

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحَآقَّةُؕ Open ayah 69:3 in the Quran reader

اور اے نبی ﷺ کیا آپ کو معلوم ہے کہ ” حاقہ “ کیا ہے ؟

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ Open ayah 69:4 in the Quran reader

جب قوم ثمود اور قوم عاد نے اس تباہ و برباد کرنے والی آفت (قیامت) کا انکار کیا

فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِیَةِ Open ayah 69:5 in the Quran reader

تو ثمود ایک خوفناک آواز سے تباہ کردئے گیے۔

وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَةٍۙ Open ayah 69:6 in the Quran reader

اور عاد تند و تیز ہوا (زبردست آندھی) کے ذریعہ ہلاک کئے گئے۔

سَخَّرَهَا عَلَیْهِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَةَ اَیَّامٍ١ۙ حُسُوْمًا١ۙ فَتَرَى الْقَوْمَ فِیْهَا صَرْعٰى١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَةٍۚ Open ayah 69:7 in the Quran reader

جو ان پر سات رات اور آٹھ دن لگاتار مسلط رہی۔ اور (اے مخاطب) تو ان لوگوں کو دیکھتا کہ وہ ایسے پڑے ہوئے تھے جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے ( اے مخاطب)

فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِیَةٍ Open ayah 69:8 in the Quran reader

اب کیا ان میں سے کوئی بھی بچا ہوا نظر آتا ہے ؟

لغات القرآن۔ الحاقۃ۔ سچ مچ ہونے والی۔ یقینی۔ القارعۃ۔ کوٹنے والی۔ اھلکوا۔ ہلاک کئے گئے۔ الطاغیۃ۔ زلزلہ۔ صرصر۔ زبردست آندھی۔ عاتیۃ۔ قابو سے باہر۔ سبع لیال۔ سات رات۔ ثمینۃ آیام۔ آٹھ دن۔ حسوما۔ متواتر۔ مسلسل۔ صرعی۔ اوندھے پڑے ہوئے۔ اعجاز نخل ۔ تنے کھجور کے۔ خاویۃ۔ کھوکھلے۔ تشریح : قرآن کریم میں قیامت کے بتہ سے نام آئے ہیں ” حاقہ “ بھی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ قیامت کفار کے لئے ایک ہولناک دن بھی ہے اس لئے اس کی طرف پوری توجہ دلانے کے لئے سوالیہ انداز اختیار فرمایا۔ حاقہ ایک ایسی سچائی ہے جس کا آنا اور واقع ہونا یقینی ہے۔ قیامت کے دن پر یقین رکھنے والا ذہنی پستی، اخلاقی بگاڑ اور گناہوں کی دلدل میں نہیں پھنس سکتا۔ آخرت کا یقین، انسان کے کردار کی بلندی اور اس کی نجات کی ضمانت ہے۔ جس قوم نے بھی آخرت اور قیامت کا انکار کیا اس نے اپنی دنیا کو اپنے ہاتھوں برباد کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی بہت زبردست اور ترقی یافتہ قوموں قوم عاد اور قوم ثمود کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے جب اللہ و رسول اور آخرت کو جھٹلایا اور نافرمانیوں کی انتہا کردی تو ان پر اس طرح عذاب آیا کہ آج وہ صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہیں۔ قوم عاد جس نے دنیا پر سیکڑوں سال بڑی شان سے حکومت کی۔ ہر طرف خوش حالی، سرسبزی و شادابی، تجارتی پھیلائو، مال و دولت کی ریل پیل، سونے چاندی کے برتنوں کا استعمال، اعلیٰ ترین رہائش گاہیں تھیں ان چیزوں نے انہیں غرور وتکبر کا مجسمہ بنا کر رکھ دیا تھا وہ کہتے تھے کہ ہم سے زیادہ طاقت ور کوئی نہیں ہے۔ لیکن ان کی ذہنی پستی اور کفرو شرک کا یہ حال تھا کہ وہ بےحقیقت معبودوں کو اپنا مشکل کشا مان کر اسن کے سامنے جھک کر اپنی مرادوں کو مانگتے تھے۔ عیاشی اور گناہوں کی زندگی اختیار کرنے کی وجہ سے وہ اخلاقی بگاڑ کی انتہاؤں تک پہنچ چکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کی اصلاح کے لئے اپنے پیغمبر حضرت ہود (علیہ السلام) کو بھیجا۔ جنہوں نے نے غرور وتکبر اور گناہوں میں مبتلا قوم کو بتایا کہ اس کائنات میں ساری طاقت و قوت اللہ رب العالمین کی ہے۔ وہی اس کائنات کا خالق ومالک ہے۔ وہ اپنی ذات میں یکتا اور واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک دن ایسا آنے والا ہے جب اس پورے جہان کو توڑ دیا جائے گا اور پھر میدان حشر میں اللہ کے سامنے حاضر ہو کر اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب دینا ہوگا۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کی باتیں سن کر وہ مذاق اڑاتے اور ان کی اطاعت سے انکار کرتے۔ ان کو طرح طرح سے ستاتے۔ جب اس قوم نے نافرمانی کی انتہا کردی تب اللہ نے ان پر عذاب مسلط کردیا۔ سات رات اور آٹھ دن تک ایسی زبردست طوفانی ہوائیں بھیجیں جن سے ان کی بنیادوں کو اکھاڑ کر رکھ دیا۔ اس قوم اور اس کی ترقیات کو اس طرح مٹا دیا گیا کہ پھر کوئی چیز باقی نہ بچ سکی۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ بدھ کے دن سے اگلے بدھ کی شام تک ایک مسلسل طوفان تھا جس نے ان کے مکانات اور ترقیات کو ریزہ ریزہ کردیا اور کھجور کے کھوکھلے تنوں کی طرح ان کی لاشیں ہر طرف بکھری ہوئی تھیں۔ اسی طرح قوم ثمود جنہوں نے پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر اس زمانہ میں بیس بیس منزلہ عمارتیں بنائیں جس زمانہ میں دو منزلہ مکان بنانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ انہوں نے دنیاوی اسباب اور تہذیب و تمدن کے بنانے میں زبردست محنتیں کیں لیکن وہ قوم بھی کفر وشرک میں مبتلا ہو کر آخر کے ہر تصور سے محروم تھی۔ ان کی اصلاح کے لئے اللہ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو بھیجا۔ انہوں نے دن رات اس قوم کو سمجھایا مگر وہ کھلی ا انکھوں سے معجزات دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے۔ جب حضرت صالح کو اور آخرت کو جھٹلایا تو قوم ثمود کو تیز بارشوں، ہیبت ناک کڑکے اور زلزلے سے تباہ و برباد کردیا گیا۔ اللہ کا نظام اور دستور یہ ہے کہ جو بھی اللہ ورسول کی نافرمانی کرتا ہے وہ دنیاوی طاقت و قوت میں کتنی بھی ترقی کیوں نہ کرلے آخر کار اپنی نافرمانیوں کی وجہ سے تباہ و برباد کردیا جاتا ہے اور جو اللہ پر اس کے رسول پر ایمان لا کر عمل صالح اختیار کرتا ہے اور آخرت پر اس کا یقین ہے تو اللہ اس کو دنیا میں سربلندی اور آخرت میں نجات کی خوش خبری عطا فرماتا ہے۔