69. Surah Al-Haaqqa

الحاقةThe Reality · 52 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 69:1

اَلْحَآقَّةُۙ Open ayah 69:1 in the Quran reader

سچ مچ ہونے والی

الحاقۃ . یعنی قیامت چونکہ قیامت حق ہے ‘ امر واقع ہے ‘ اس کے وقوع میں کوئی شک نہیں ہے (اس لیے اس کو حاقۃٌ کہا گیا) ۔ یا اس وجہ سے (حاقہ کہا گیا) کہ تمام امور کی حقیقت اس روز معلوم ہوجائے گی یا اس وجہ سے کہ اعمال کا بدلہ اس روز ضرور ملے گا۔ حَقَّ عَلَیْہِ الشَّیْ ءُ ۔ وہ چیز اس پر لازم ہوگئی۔ اللہ نے فرمایا ہے : حقت کلمۃ العذاب۔ عذاب کی بات لازم ہوگئی (مؤخر الذکر دونوں صورتوں میں) قیامت کو الحاقۃ کہنا مجازاً ہوگا۔
Ayah 69:2

مَا الْحَآقَّةُۚ Open ayah 69:2 in the Quran reader

وہ سچ مچ ہونے والی کیا ہے؟

ما الحاقۃ . کسی عظیم الشان قیامت (اصل کلام ماھی ہونا چاہیے کیسی ہے وہ لیکن قیامت کی ہولناکی اور عظمت شان کو ظاہر کرنے کے لیے ضمیر کی جگہ اسم ظاہر مع استفہام لایا گیا۔
Ayah 69:3

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحَآقَّةُؕ Open ayah 69:3 in the Quran reader

اور تم کو کیا معلوم ہے کہ سچ مچ ہونے والی کیا ہے؟

وما ادراک . استفہام انکاری ہے ‘ کیا تم کو معلوم ہے ‘ کسی چیز نے تم کو بتایا ‘ تم کو کیا معلوم۔ ما الحاقۃ . کیسی ہولناک ہے ‘ قیامت۔ جملۂ استفہامیہ قیامت کی ہولناکی کو ظاہر کر رہی ہے یعنی قیامت بڑی ہولناک چیز ہے۔ اس کی حقیقت تم کو معلوم نہیں ‘ کوئی بھی اس کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا۔
Ayah 69:4

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ Open ayah 69:4 in the Quran reader

کھڑکھڑانے والی (جس) کو ثمود اور عاد (دونوں) نے جھٹلایا

کذبت ثمود . حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم۔ و عاد . حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم بالقارعۃ . کھٹ کھٹا دینے والی ساعت۔ یعنی قیامت ‘ جو ہر چیز کی توڑ پھوڑ ‘ شکست و ریخت اور انتشار و پراگندگی کی وجہ سے لوگوں کے کانوں پر ضرب لگائے گی۔ اس جگہ بھی ضمیر کی جگہ اسم ظاہر کو استعمال کیا گیا ہے۔ مگر ایسا مرادف لفظ لایا گیا جو شدت ہول میں زیادتی کو ظاہر کر رہا ہے۔ یہ جملہ سابقہ جملوں کے ساتھ مل کر بتارہا ہے کہ قیامت کو نہ ماننا اور اس کی تکذیب کرنا ہلاکت و تباہی کا موجب ہے۔
Ayah 69:5

فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِیَةِ Open ayah 69:5 in the Quran reader

سو ثمود تو کڑک سے ہلاک کردیئے گئے

فاما ثمود فاھلکوا بالطاغیۃ . یہ جملہ کذبت پر معطوف ہے۔ فاء سببی ہے اور اما سے مجمل کی تفصیل کی گئی ہے۔ اصل کلام یوں تھا کہ ثمود و عاد نے قیامت کی تکذیب کی۔ اس لیے تباہ کردیئے گئے۔ ثمود تو طاغیہ کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ طاغیہ غیر معمولی چیخ سے بالاتر۔ قتادہ نے یہی فرمایا ‘ یہی صحیح بھی ہے۔ صورت یہ ہوئی کہ حضرت جبرئیل نے ایک اتنی بلند چیخ ماری کہ سب مر کر رہ گئے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ آسمان کی طرف سے ایک ایسی چیخ پیدا ہوئی تھی جس میں ہر تڑک ہر کڑک اور ہر زمینی چیز کی آواز تھی ‘ جس سے سینوں کے اندر دل پارہ پارہ ہوگئے۔ بعض نے کہا کہ طاغیۃٌ عافیۃٌ کی طرح مصدر ہے۔ طغیان کا ہم معنی ہے۔ یعنی ثمود اپنے طغیان (گناہوں میں حد سے آگے بڑھ جانے) کی وجہ سے ہلاک ہوگئے۔ پیغمبر کی تکذیب کی ‘ اونٹنی کو قتل کیا ‘ وغیرہ۔ یہ بھی کہا گیا کہ طاغیۃ میں تاء مبالغہ کی ہے ‘ بڑا سرکش اس سے مراد ہے۔ حضرت صالح کی اونٹنی کا قاتل قذار بن سالف۔ یہ بھی ایک قول ہے کہ (طاغیۃ میں تاء تانیث ہے اور) اس سے مراد وہ جماعت ہے جس نے اونٹنی کے قتل پر اتفاقِ رائے کر کے قذار کو اس فعل پر آمادہ کیا تھا۔ یہی جماعت سب قوم کی تباہی کا سبب بنی۔ قصہ یوں ہوا کہ ثمود کی ہدایت کے لیے اللہ نے حضرت صالح کو مامور فرمایا۔ حضرت صالح نے احکام الٰہی کی دعوت دی۔ لوگوں نے انکار کیا اور درخواست کی کہ (بطور معجزہ) ایک دس ماہ کی حاملہ اونٹنی پتھر کی چٹان سے برآمد کرو ‘ اگر ایسا ہوگیا تو وہ ایمان لے آئیں گے۔ صالح ( علیہ السلام) نے دعا کی۔ آپ کی دعا سے ایک بڑی قد آور اونٹنی جس کی چوڑائی کا قطر ایک سو بیس ہاتھ تھا اور دس ماہ کی گابھن تھی ‘ پتھر کی چٹان سے برآمد ہوئی اور فوراً ہی ایک بچہ بیاہ گئی جو اسی کی طرح تھا لیکن لوگوں نے تب بھی آپ کی نبوت کا یقین نہیں کیا اور کہنے لگے : یہ جادو ہے۔ اللہ نے اس اونٹنی کو ان کے لیے عذاب بنا دیا۔ اس خطہ میں پانی کم تھا۔ ایک روز تمام پانی اونٹنی پی جاتی تھی اور ایک روز ان کیلئے چھوڑ دیتی تھی۔ گھاس کی بھی یہی صورت تھی۔ آخر ایک جماعت نے اونٹنی کو قتل کرنے پر اتفاق کرلیا اور سب سے بڑے بدبخت یعنی قذار بن سالف کو قتل پر مامور کیا۔ سب نے اونٹنی کو قتل کردیا اور اللہ سے سرکشی کرنے میں حد سے بڑھ گئے اور حضرت صالح سے کہنے لگے : اگر تو سچا ہے تو جس عذاب کی تو ہم کو دھمکی دیتا ہے اس کو لے آ۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا : تین روز تک اپنے گھروں میں مزے اڑا لو۔ پہلے روز تمہارے چہرے زرد ہوجائیں گے۔ دوسرے روز سرخ اور تیسرے روز سیاہ ‘ پھر چوتھے روز صبح کو تم پر عذاب آجائے گا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ ایک چیخ نے ان ظالموں کو آپکڑا اور گھروں میں زمین پر چپکے رہ گئے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہاں بستی ہی نہ تھی۔ یہ تاویل یعنی طاغیہ کو مصدر کہنا یا جماعت مراد لینا یا صرف قذار مراد لینا اور تاء کو مبالغہ کے لیے قرار دینا آئندہ آیت کے مناسب نہیں کیونکہ آئندہ آیت میں فرمایا ہے : فاھلکوا بریح کہ عاد کو طوفان ہوا سے ہلاک کیا گیا (یعنی ذریعہ ہلاکت بیان فرمایا ہے باعث ہلاکت نہیں فرمایا۔ پس طاغیہ سے مراد بھی ذریعہ ہلاکت یعنی ہولناک چیخ ہونی چاہیے) ۔
Ayah 69:6

وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَةٍۙ Open ayah 69:6 in the Quran reader

رہے عاد تو ان کا نہایت تیز آندھی سے ستیاناس کردیا گیا

واما عاد فاھلکوا بریح صرصر . سخت ٹھنڈی یا سخت شور انگیر ہوا (قاموس) سے عاد کو ہلاک کیا گیا۔ عاتیۃ . جو شدت اور ٹھنڈک میں حد سے زائد تھی۔ قاموس میں ہے عتٰی (ماضی) تکبّر کیا اور حد سے بڑھ گیا۔ عاتی اسم فاعل۔
Ayah 69:7

سَخَّرَهَا عَلَیْهِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَةَ اَیَّامٍ١ۙ حُسُوْمًا١ۙ فَتَرَى الْقَوْمَ فِیْهَا صَرْعٰى١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَةٍۚ Open ayah 69:7 in the Quran reader

خدا نے اس کو سات رات اور آٹھ دن لگاتار ان پر چلائے رکھا تو (اے مخاطب) تو لوگوں کو اس میں (اس طرح) ڈھئے (اور مرے) پڑے دیکھے جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے

سخرھا علیھم . اللہ نے اپنی قدرت سے اس طوفان کو عاد پر مسلط کردیا تھا۔ جملہ استینافیہ ہے یا ریح کی صفت ہے۔ اس سے (نجومیوں کے) اس خیال کو دفع کرنا مقصود ہے کہ حادثہ طوفان (اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا عذاب نہ تھا بلکہ) آسمانی چکروں سے پیدا شدہ (معمولی نیچرل) حادثہ تھا۔ سبع لیال و ثمانیۃ ایام . سات رات اور آٹھ روز تک بدھ کے دن کی صبح سے آئندہ بدھ کی شام تک۔ وہب نے بیان کیا کہ یہ طوفان ان ایّام میں آیا تھا جن کو عرب ایام عجوز پچھلی سردی کے دن کہتے تھے۔ ان دنوں میں سخت سردی اور تیز ہوائیں ہوتی تھیں۔ ان ایام کو عجوز (بوڑھی) کہنے کی یہ وجہ بھی بیان کی گئی ہے کہ قوم عاد کی ایک بوڑھی عورت طوفان سے بچنے کے لیے ایک تہہ خانہ میں گھس گئی تھی لیکن ہوا نے اس کو وہاں بھی جا لیا۔ یہ عذاب کے آٹھویں دن کا واقعہ تھا۔ اس کے بعد عذاب ختم ہوگیا۔ حسوما . پیہم۔ یہ حاسم کی جمع ہے حسام ال کی بیماری کے مقام پر پیہم اس حد تک داغنا کہ مرض جاتا رہے۔ (مجاہد و قتادہ) یا حسو ماً کا معنی ہے منحوس۔ دوسری آیت میں آیا ہے : فی ایام تحسات (اس وقت حسمٌ سے مشتق ہوگا اور حسم کا معنی ہے بیخ کنی) یعنی ایسے دن رات جس میں ہر بھلائی کی بیخ کنی ہوگئی تھی۔ (عطیہ) یا کاٹ دینے والی جس کی وجہ سے انکی نسل منقطع ہوگئی (زجاج اور نضر بن شمیل) یہ بھی ممکن ہے کہ حسومًا (جمع نہ ہو) مصدر ہو اور فعل مقدر کا مفعول مطلق یا علت فعل سابق (مفعول لہٗ ) ہو (یعنی اللہ نے ایّام طوفان کو ان کی بیخ کنی یا قطع نسل کے لیے مسلط فرمایا) ۔ فتری . حال ماضی کی حکایت ہے ‘ مخاطب عام ہے کوئی ہو۔ القوم . یعنی عاد۔ فیھا . ان راتوں اور دنوں میں یا ان کے درمیان۔ صرعی . زمین پر پڑے ہوئے صریعٌ کی جمع اور صریعٌ اسم مفعول کے معنی میں ہے۔ اگر رویت قلب سے ہو (یعنی دل کی آنکھوں سے دیکھنا اور جاننا) تو صرعٰی ترٰی کا دو سرا مفعول ہوگا ورنہ القوم کی حالت کا اظہار ہوگا۔ کانھم اعجاز نخل خاویۃ . اَعْجَاز ‘ جڑیں۔ خاویۃ ‘ کھوکھلا۔
Ayah 69:8

فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِیَةٍ Open ayah 69:8 in the Quran reader

بھلا تو ان میں سے کسی کو بھی باقی دیکھتا ہے؟

فھل تری . استفہام تقریری ہے مخاطب کو اقرار پر آمادہ کیا ہے۔ لھم من باقیۃ . کیا تم کو عاد کی کوئی نشانی باقی نظر آتی ہے۔
Ayah 69:9

وَ جَآءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَهٗ وَ الْمُؤْتَفِكٰتُ بِالْخَاطِئَةِۚ Open ayah 69:9 in the Quran reader

اور فرعون اور جو لوگ اس سے پہلے تھے اور وہ جو الٹی بستیوں میں رہتے تھے سب گناہ کے کام کرتے تھے

وجاء فرعون و من قبلہ . یعنی فرعون اور فرعون سے پہلے کافر قومیں آئیں۔ والموتفکات . اور الٹی بستیاں یعنی قوم لوط کے دیہات جن کو الٹ دیا گیا تھا۔ یہ افک سے ماخوذ ہے۔ افک کا معنی ہے الٹا بستیوں سے مراد ہیں ان کے باشندے یا الٹ جانے والی قومیں یعنی قوم لوط مراد ہے۔ بالخاطءۃ . خطا اور گناہ یعنی شرک کی وجہ سے یا بدکرداری کی وجہ سے یا خطا اور گناہ کے کاموں کی وجہ سے۔
Ayah 69:10

فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ فَاَخَذَهُمْ اَخْذَةً رَّابِیَةً Open ayah 69:10 in the Quran reader

انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغمبر کی نافرمانی کی تو خدا نے بھی ان کو بڑا سخت پکڑا

فعصوا رسول ربھم . یعنی فرعون نے حضرت موسیٰ کا فرمان نہ مانا اور ہر کافر امت نے اپنے اپنے پیغمبروں کی نافرمانی کی۔ یہ جاء پر عطف تفسیری ہے۔ فاخذھم اخذۃ رایۃ . فاء سببی ہے اخذۃً مفعول مطلق بیان نوع کے لیے ہے یعنی فعل مذکور کی وجہ سے اللہ نے ان کی ایسی پکڑ کی جو شدت میں زائد تھی (بڑی سخت تھی) ۔
Ayah 69:11

اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِی الْجَارِیَةِۙ Open ayah 69:11 in the Quran reader

جب پانی طغیانی پر آیا تو ہم نے تم (لوگوں) کو کشتی میں سوار کرلیا

انما لما طغی الماءُ . یعنی حضرت نوح کے زمانہ میں پانی حد سے گزر گیا اور ہر چیز سے اونچا ہوگیا تھا۔ حملنکم فی الجاریۃ . تو ہم نے تمہارے آباء و اجداد کو نوح کی کشتی میں جو پانی میں چل رہی تھی سو ار کردیا اس وقت تم اپنے اسلاف اعلیٰ کی پشتوں میں تھے (تو گویا تم کو سوار کردیا) ۔
Ayah 69:12

لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّ تَعِیَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِیَةٌ Open ayah 69:12 in the Quran reader

تاکہ اس کو تمہارے لئے یادگار بنائیں اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں

لنجعلھا . تاکہ ہم اس کشتی کو یا پانی کے حد سے بڑھے ہوئے طوفان میں کشتی کے ذریعہ اہل ایمان کی نجات کو۔ لکم تذکرۃ . تمہارے لیے عبرت اور نصیحت بنا دیں کیونکہ اس سے خالق کی قدرت ‘ حکمت ‘ رحمت اور وفور غضب کا علم ہوتا ہے۔ و تعیھا اذن واعیۃ . اور اس لیے بھی کہ یاد رکھنے والے اس کو یاد رکھیں ‘ سمجھیں اور غور کریں۔ کان سننے اور یاد رکھنے کا ذریعہ ہے اس لیے یادداشت کا فاعل کان کو قرار دیا ‘ ورنہ حقیقت میں یاد رکھنے والا دل یا نفس ہے یا کان سے مراد ہیں کانوں والے یعنی اصحاب اذن۔ مضاف (اصحاب) کو حذف کر کے مضاف الیہ (اذن) کو اس کے قائم مقام کردیا (اوّل مجاز فی الاسناد ہے اور دوسرا مجاز لغوی یا مجاز فی الحذف) ۔ وَاعیۃٌ میں تنوین تنکیر قلت پر دلالت کر رہی ہے کیونکہ عبرت اندوز آدمی خواہ کم ہی ہوں مگر ایک جمہور کو نجات دلانے اور ان کی نسل کو قائم رکھنے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ حضرت ابن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ دل ظروف ہیں ‘ پس افضل ترین وہی دل ہے جو زیادہ یاد رکھنے والا ہو۔ (طبرانی) جب قیامت کی ہولناکی اور قیامت کا انکار کرنے والوں کا نتیجہ پرزور طور پر بیان کردیا تو آئندہ آیات میں قیامت کی تشریح فرمائی اور ارشاد فرمایا :
Ayah 69:13

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 69:13 in the Quran reader

تو جب صور میں ایک (بار) پھونک مار دی جائے گی

فاذا نفخ فی الصور . حضرت ابن عمر ؓ کی روایت ہے ‘ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : صور ایک سینگ ہوگا ‘ جس میں پھونکا جائیگا۔ نفخۃ واحدۃ . جب صور میں ایک بار پھونک ‘ پھونکی جائے گی۔ اس سے مراد نفخۂ بیہوشی ہے یعنی وہ نفخ جس کی آوازسن کر ہر زندہ بیہوش ہوجائے گا (اور مرجائے گا) ۔ کتنی مرتبہ صور پھونکا جائے گا ‘ تعداد میں علما کا اختلاف ہے۔ بعض کا قول ہے تین بار نفخ صور ہوگا : 1) نفخہ فزع : (جس کو سن کر سب گھبرا جائیں گے) ۔ 2) نفخہ صعق : (جس کو سن کر سب بیہوش ہوجائیں گے اور مرجائیں گے) ۔ 3) نفخہ بعث : (جس کو سن کر سب جی اٹھیں گے) ۔ اللہ نے (نفخہ فزع کے متعلق) فرمایا : و یوم ینفخ فی الصور ففزع من فی السمٰوٰت ومن فی الارض الا من شاء اللہ وکل اتوہ داخرین اور ( نفخۂ صعق کے متعلق) فرمایا : و نفخ فی الصور فصعق من فی السمٰوٰت ومن فی الارض الا من شاء اللہ اور ( نفخۂ بعث کے متعلق) فرمایا : ثم نفخ فیہ اخرٰی فاذاھم قیام ینظرون۔ یہ قول شیخ ابن عربی کا مختار ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت کردہ ایک طویل حدیث میں صراحۃً آیا ہے۔ فینفخ فیہ ثلث نفخات الاولی نفخۃ الفزع والثانیۃ نفخۃ الصعق والثالثۃ نفخۃ القیام لرب العالمین۔ ابن جریر (رح) نے اپنی تفسیر میں ‘ طبرانی نے مطولات میں ‘ ابو یعلی نے مسند میں اور بیہقی نے البعث میں اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ بعض علماء کا قول ہے کہ صرف دو بار صور پھونکا جائے گا اور نفخۂ فزع ہی نفخۂ صعق ہے۔ گھبراہٹ اور بےہوشی لازم اور ملزوم ہیں۔ لوگ صور کی آواز سن کر اتنے گھبرا جائیں گے کہ مرجائیں گے۔ قرطبی (رح) نے اسی قول کو صحیح قرار دیا ہے اور دلیل یہ پیش کی ہے کہ نفخۂ فزع اور نفخۂ صعق دونوں کے بیان میں اللہ نے بعض لوگوں کو مستثنیٰ قرار دیا ہے (اور الا من شاء اللہ دونوں جگہ فرمایا ہے ‘ دونوں جگہ) استثناء کی یہ وحدت دلالت کر رہی ہے کہ نفخۂ فزع ہی نفخۂ صعق ہے اور اکثر احادیث میں بھی دو کا ہی ذکر آیا ہے اور دونوں کے درمیان چالیس برس کی مدت ظاہر کی۔ رہی حضرت ابوہریرہ ؓ والی طویل حدیث اس کی صحت میں کلام ہے۔ اس کی صحت متفق علیہ نہیں ہے۔ ابن عربی اور قرطبی کے نزدیک صحیح ہے۔ بیہقی اور عبدالحق کے نزدیک ضعیف ہے کیونکہ اس حدیث (کی روایت) کا مدار مدینہ کے قاضی اسماعیل بن رافع پر ہے اور اسماعیل (کے ثقہ ہونے) میں کلام کیا گیا ہے۔ سیوطی نے کہا ہے کہ اس حدیث کی رفتار عبارت میں کچھ نکارت (عدم رابطہ یا بےتعلقی) ہے۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ مختلف طریقہ ہائے اسناد اور متعدد مقامات سے جمع کر کے حدیث کا ایک سیاق بنایا گیا ہے۔ اذا نفخ فی الصور میں جس زمانہ کو بیان کیا گیا ہے وہ (کوئی چھوٹا وقت نہ ہوگا بلکہ) ایک لمبی مدت ہوگی جس کی تعبیر الحاقۃ ‘ القارعۃ ‘ القیامۃ ‘ الواقعۃ وغیرہ مختلف کثیر ناموں سے کی گئی ہے۔ اس مدت کا آغاز نفخۂ اوّل سے ہوگا اور اختتام اس وقت ہوگا جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں جا چکیں گے۔ ابن عساکر نے بحوالہ زیاد بن مخراق بیان کیا ہے کہ حجاج نے حضرت ابن عباس ؓ کے آزاد کردہ غلام عکرمہ سے دریافت کیا کہ قیامت کا دن دنیا کا دن ہوگا یا اس کا شمار آخرت میں ہوگا ؟ عکرمہ ؓ نے فرمایا : اس کا ابتدائی حصہ دنیا کا ہوگا اور آخری حصہ آخرت کا۔ اس بناء پر زمانۂ نفخ صور وہ بھی ہوگا جس میں پہلی مرتبہ صور پھونکا جائے گا اور وہ بھی ہوگا جب سب مرجائیں گے ‘ پھر جی اٹھیں گے اور ان کا حساب ہوگا اور آسمان پھٹ جائیں گے اور ستارے ٹوٹ کر پراگندہ ہوجائیں گے اور کچھ لوگ جنت میں اور کچھ دوزخ میں چلے جائیں گے۔ پس آیت مذکورہ میں زمان قیامت کے آغاز کو بیان کیا گیا ہے اور آیت : فھو فی عیشۃ راضیۃ اور خذوہ فغلوہ ..... میں انتہاء قیامت کا اظہار ہے۔
Ayah 69:14

وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةًۙ Open ayah 69:14 in the Quran reader

اور زمین اور پہاڑ دونوں اٹھا لئے جائیں گے۔ پھر ایک بارگی توڑ پھوڑ کر برابر کردیئے جائیں گے

و حملت الارض والجبال . زمین اور پہاڑوں کو ان کی جگہ سے اٹھا لیا جائے گا۔ فدکتا دکۃ واحدۃ . اور یک دم سب کو توڑ پھوڑ دیا جائے گا۔ دکٌ کا معنی ہے کوٹنا ‘ ڈھانا۔ (قاموس) جوہری نے کہا : اس کا اصل معنی ہے توڑ پھوڑ دینا۔ بغوی نے یہی ذکر کیا ہے کہ جوہری نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ دک کا معنی ہے نرم زمین۔ اللہ نے فرمایا : دکت الجبال دکًا یعنی پہاڑوں کو نرم زمین کی طرح کردیا جائے گا۔ حاصل یہ ہے کہ زمین یکدم ہموار ہوجائے گی۔ اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔ بیہقی نے و حملت الارض والجبال فدکتا دکۃ واحدۃ کی تفسیر میں حضرت ابی بن کعب کا قول نقل کیا ہے کہ زمین اور پہاڑ غبار ہوجائیں گے اور وہ غبار کفار کے چہروں پر چڑھ جائے گا۔ اہل ایمان کے چہروں پر نہیں پڑے گا۔ کفار ہی کے چہرے اس روز غبار آلود اور دھواں دار ہوں گے۔ آیت میں صرف شرط کا بیان ہے جزاء محذوف ہے یعنی جب صور پھونکا جائے گا اور زمین و کوہ اپنی جگہ سے اٹھا کر توڑ پھوڑ دیئے جائیں گے تو اس وقت دنیا ختم ہوجائے گی اور قیامت آجائے گی۔
Ayah 69:15

فَیَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 69:15 in the Quran reader

تو اس روز ہو پڑنے والی (یعنی قیامت) ہو پڑے گی

فیومئذ وقعت الواقعۃ . پس اس روز یعنی نفخ صور کے دن وہ انتظار کی گھڑی آجائے گی جس کا آنا قرآن اور حدیث کی رو سے لازم ہے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ جن امور کا واقع ہونا ضروری اور لازمی ہے مثلاً حساب اور اعمال کا بدلہ وہ واقع ہوجائیں گے۔
Ayah 69:16

وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِیَ یَوْمَئِذٍ وَّاهِیَةٌۙ Open ayah 69:16 in the Quran reader

اور آسمان پھٹ جائے گا تو وہ اس دن کمزور ہوگا

وانشقت السماء فھی یومئذ واھیۃ . اور آسمان پھٹ جائے گا اور کمزور ہو کر اس کی بندش ڈھیلی ہوجائے گی جو مضبوطی اور قوّت اب ہے وہ اس میں نہیں رہے گی ‘ فراء نے کہا : آسمان کی کمزوری پھٹ جانے کی وجہ سے ہوگی ‘ کسی چیز میں شگاف پڑجانے کو وھیٌ کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے وھٰی وہ پھٹ گیا اور اس کے بندھن ڈھیلے پڑگئے۔ (قاموس)
Ayah 69:17

وَّ الْمَلَكُ عَلٰۤى اَرْجَآئِهَا١ؕ وَ یَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمٰنِیَةٌؕ Open ayah 69:17 in the Quran reader

اور فرشتے اس کے کناروں پر (اُتر آئیں گے) اور تمہارے پروردگار کے عرش کو اس روز آٹھ فرشتے اپنے سروں پر اُٹھائے ہوں گے

والملک علی ارجاءھا . آسمان کے جو اطراف اور کنارے پھٹ جانے کے بعد باقی رہیں گے ‘ ان پر فرشتے ہوں گے ‘ ملک سے فرشتوں کی جنس مراد ہے (کوئی خاص فرشتہ مراد نہیں ہے) ۔ و یحمل عرش ربک . اور تمہارے رب کے عرش (تخت) کو اٹھائے ہوں گے تخت کی نسبت اللہ کی طرف تخت کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے ہے اور یہ وجہ بھی ہے کہ عرش ‘ خصوصی طور پر تجلی گاہ نور ہے۔ فوقھم یومئذ ثمانیۃ . اپنے اوپر یا ان فرشتوں کے اوپر جو آسمان کے کناروں پر ہوں گے آٹھ ملائکہ (یعنی قیامت کے دن آٹھ فرشتے اپنے اوپر یا اطراف آسمان پر مقیم ملائکہ کے اوپر) اللہ کے عرش کو اٹھائے ہوں گے۔ ابوداؤد اور ترمذی نے حضرت ابن عباس ؓ بن عبدالمطلب کا قول نقل کیا ہے۔ عباس ؓ نے بیان کیا کہ میں بطحا میں ایک گروہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ رسول اللہ ﷺ بھی تشریف فرما تھے۔ ایک بادل گزرنے لگا ‘ لوگوں نے اسکی طرف دیکھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم اس کو کیا کہتے ہو ؟ لوگوں نے جواب دیا : سحاب (ابر) فرمایا : اور مزن (بھی) ؟ لوگوں نے کہا : مزن بھی (کہتے ہیں) فرمایا : اور عنان بھی (کہتے ہو) ؟ لوگوں نے کہا : عنان بھی (کہتے ہیں) فرمایا : کیا تم کو معلوم ہے کہ آسمان و زمین کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ لوگوں نے کہا : نہیں۔ فرمایا : دونوں کے درمیان فاصلہ اکہتر یا بہتر یا تہتر سال (کی راہ کا) ہے اور نچلے آسمان سے اوپر والا آسمان بھی ایسا ہی (یعنی اتنی ہی دور) ہے یہاں تک کہ آپ نے سات آسمان شمار کیے (اور فرمایا) پھر ساتویں آسمان کے اوپر ایک سمندر ہے جس کے زیریں اور بالائی (سطح) کا فاصلہ اتنا ہی ہے جتنا ایک آسمان کا دوسرے آسمان سے ہے۔ پھر سمندر کے اوپر آٹھ پہاڑی بکرے ہیں ‘ جن کے کھروں اور کو لہوں (سرینوں) کا فاصلہ دو آسمانوں کی درمیانی مسافت کے برابر ہے ‘ اسکے اوپر عرش ہے جس کے اعلیٰ اور اسفل کا فاصلہ بھی دو آسمانوں کی درمیانی مسافت کے برابر ہے ‘ اسکے اوپر اللہ ہے۔ بغوی نے بھی یہ حدیث اسی طرح نقل کی ہے مگر زمین و آسمان کے درمیان کے فاصلہ کی مقدار اسی طرح ہر دو آسمانوں کے درمیانی فاصلہ کی مقدار پانچ سو برس کی راہ بتائی ہے۔ سمندر کے اعلیٰ و اسفل کا فاصلہ اور پہاڑی بکروں کے کھروں اور سرینوں کا درمیانی فاصلہ بھی اتنا ہی نقل کیا ہے۔ مسافت کا یہ اختلاف (شاید) چلنے والے کے اختلاف کے لحاظ سے ہو ‘ واللہ اعلم۔ بغوی نے بیان کیا ہے کہ حدیث میں آیا ہے عرش کو اٹھانے والے ملائکہ اب تو چار ہیں ‘ قیامت کے دن ان کی مدد کے لیے اللہ چار اور مقرر فرما دے گا۔ ان کی شکل بکروں جیسی ہے۔ حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ ایک کی صورت مرد کی ‘ دوسرے کی شیر کی ‘ تیسرے کی بیل کی اور چوتھے کی گدھ کی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اس آیت مذکور کی تفسیر میں فرمایا : قیامت کے دن عرش الٰہی کو آٹھ (ملائکہ) یعنی ملائکہ کی آٹھ جماعتیں اٹھائے ہوں گی جن کی گنتی سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا۔
Ayah 69:18

یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِیَةٌ Open ayah 69:18 in the Quran reader

اس روز تم (سب لوگوں کے سامنے) پیش کئے جاؤ گے اور تمہاری کوئی پوشیدہ بات چھپی نہ رہے گی

یومئذ تعرضون . (تمام آدمیوں کو خطاب ہے) یعنی اے انسانو ! اس روز حساب کے لیے اللہ کے سامنے تمہیں جانا ہوگا۔ یہ پیشی نفخۂ بعث کے بعد ہوگی۔ لا تخفی منکم خافیۃ . تمہاری کوئی پوشیدہ حرکت بھی چھپی نہیں رہے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے روز لوگوں کی تین پیشیاں ہوں گی۔ دو پیشیاں تو جھگڑا کرنے اور معذرتوں کے لیے ہوں گی اور تیسری پیشی کے وقت اعمالنامے ہاتھوں میں نمودار ہوجائیں گے۔ کوئی دائیں ہاتھ میں لینے والا ہوگا ‘ کوئی بائیں ہاتھ میں۔ (ترمذی بروایت حضرت ابوہریرہ و ابن ماجہ بروایت حضرت ابو موسیٰ اشعری و بیہقی بروایت حضرت ابن مسعود) حکیم ترمذی نے یہ بھی کہا ہے کہ جھگڑا کرنے کے لیے پیشی دشمنوں کی ہوگی وہ رب کو نہیں پہچانیں گے اس لیے خیال کریں گے کہ رب سے جھگڑا کر کے ان کو نجات مل جائے گی اور بات بن جائے گی یہ سوچ کر وہ اللہ سے جھگڑیں گے اور معذرت کے لیے پیشی اللہ کی طرف سے ہوگی۔ آدم اور دوسرے انبیاء کے سامنے اللہ دشمنوں کے خلاف اتمام حجت فرما دے گا اور (تمام معذرتوں کے بعد) اعداء کو دوزخ میں بھیج دے گا اور تیسری پیشی اہل ایمان کی ہوگی مگر اللہ تنہائی میں ان پر اس حد تک عتاب فرمائے گا کہ ان کو شرم آجائے پھر ان کی مغفرت فرما دے گا اور ان سے راضی ہوجائے گا۔
Ayah 69:19

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ١ۙ فَیَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِیَهْۚ Open ayah 69:19 in the Quran reader

تو جس کا (اعمال) نامہ اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ (دوسروں سے) کہے گا کہ لیجیئے میرا نامہ (اعمال) پڑھیئے

فاما من اوتی کتابہ بیمینہ . یہ تیسری پیشی کی تفصیل ہے اور دائیں ہاتھ میں اعمالنامہ مؤمن کو دیا جائے گا۔ فیقول ھاؤم . یعنی جس کا اعمالنامہ دائیں ہاتھ میں دیا گیا تو وہ کہے گا : لو۔ ھاء اسم (بمعنی فعل) ہے یعنی لے ‘ اس کا استعمال واحد اور تثنیہ ‘ مذکر نیز واحد اور تثنیہ مؤنث کے لیے ہوتا ہے (یعنی لے تو اور لو تم دونوں) لیکن جمع مذکر کے لیے ھَاؤُمُ آتا ہے (لو تم سب مرد) اور جمع مؤنث کے لیے ھاؤن آتا ہے (لو تم سب عورتیں) ۔ اقرء واکتبیہ . پڑھو میرا اعمالنامہ۔ کتابیہ اور مالیہ اور سلطانیہ میں ہاء سکتہ ہے۔ وقف کی صورت میں باقی رہتی ہے اور وصل (بعد والے کلام کے ساتھ ملانا) کی حالت میں ساقط ہوجاتی ہے یہاں وقفی حالت مستحب ہے کیونکہ الایام الخالیہ میں وصل کی حالت میں ساقط نہیں ہوتی۔ کتابیہ اقرء وا کا مفعول ہے اور ھاؤم کا مفعول محذوف ہے کیونکہ اقرء وا۔ کتابیہ کے قریب مذکور ہے۔
Ayah 69:20

اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَهْۚ Open ayah 69:20 in the Quran reader

مجھے یقین تھا کہ مجھ کو میرا حساب (کتاب) ضرور ملے گا

انی ظننت انی ملاق حسابیہ . یعنی بیشک میں تو جانتا تھا مجھے تو یقین تھا کہ مجھے میرے اعمال کا حساب پیش آئے گا۔ حساب کا یقین رکھنے کے بعد نیک اعمال کرنا لازم ہیں اس لیے حساب پر یقین ظاہر کرنے سے درپردہ اس کی مراد ہے نیک اعمال کرنا۔ یعنی وہ کہے گا اسی لیے تو میں نے اچھے عمل کیے تھے مگر اظہار عجز کے طور پر صراحۃً وہ یہ بات نہیں کرے گا یہی اعتراف فروتنی اس کا باعث ہوگا کہ وہ یقین کو ظن سے تعبیر کرے گا۔ اللہ علام الغیوب کے سامنے یقین کا دعویٰ کرنے سے اس کو اپنی ذات کا استحقار روکے گا۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ چونکہ علوم نظریہ وسوسوں سے خالی نہیں ہوتے اس لیے یقین کی تعبیر بلفظ ظن (غالب خیال) کرنے سے شاید اس امر کا اظہار مقصود ہے کہ اعتقاد میں نفسانی وسوسوں سے خرابی نہیں ہوسکتی (عقیدہ نظری علم ہوتا ہے اور علم نظری میں وسوسہ پیدا ہونا لازم ہے لیکن یہ وسوسہ مخل نہیں ہوسکتا) ۔ ابن مبارک نے بروایت ابو عثمان نہدی بیان کیا کہ مؤمن کو اللہ کی طرف سے دوسروں سے چھپا کر اعمالنامہ دیا جائے گا ‘ اپنی بد اعمالیوں کو پڑھ کر اس کا رنگ بدل جائے گا پھر نیکیوں کو پڑھے گا تو رنگ لوٹ آئے گا پھر جو اس کی نظر پڑے گی تو دیکھے گا کہ اس کی بد اعمالیوں کو نیکیوں سے بدل دیا گیا ہے (برائیوں کی جگہ بھلائیاں لکھ دی گئیں) اس وقت وہ کہے گا لو میرا اعمالنامہ پڑھو۔
Ayah 69:21

فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍۙ Open ayah 69:21 in the Quran reader

پس وہ (شخص) من مانے عیش میں ہوگا

فھو فی عیشۃ راضیہ . تو وہ پسندیدہ عیش میں ہوگا۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے کہ راضیہ (اسم فاعل) بمعنی مرضیہ (اسم مفعول) ہے یعنی پسندیدہ رُضِیَتِ الْعِیْشَۃُ بصیغۂ مجہول کہا جاتا ہے رُضِیَتِ الْعِیْشَۃُ بصیغۂ معروف نہیں بولا جاتا۔ بیضاوی نے راضیۃ کا ترجمہ کیا ہے پسندیدگی والی۔ گویا صیغۂ اسم فاعل پسندیدگی کی نسبت کو بتارہا ہے یا رضاء کی نسبت عیشۃ کی طرف مجازی ہے ( عیشہ کو پسند کیا جاتا ہے عیشہ بجائے خود پسند کرنے والی چیز نہیں پسندیدہ چیز ہوتی ہے ‘ مجازی طور پر عیشہ کو پسند کرنے والا قرار دیا) ۔
Ayah 69:22

فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ Open ayah 69:22 in the Quran reader

(یعنی) اونچے (اونچے محلوں) کے باغ میں

فی جنۃ عالیۃ . وہ خوشگوار زندگی ایک اونچے باغ میں ہوگی۔ اونچا باغ یعنی اللہ کے قریب میں اونچے مرتبہ والا باغ ‘ یا بلند جگہ پر واقع کیونکہ جنت آسمان پر ہے یا اونچے درجات ‘ بلند عمارات اور بڑے بڑے درختوں والا باغ۔ درختوں کے اونچا ہونے سے خیال پیدا ہوسکتا ہے کہ ان کے پھل بھی بہت دور ہوں گے۔ ان کو حاصل کرنا آسان نہ ہوگا۔ اس لیے اللہ نے اس کے بعد فرمایا :
Ayah 69:23

قُطُوْفُهَا دَانِیَةٌ Open ayah 69:23 in the Quran reader

جن کے میوے جھکے ہوئے ہوں گے

قطوفھا دانیہ ان کو یعنی ان کے پھلوں کو توڑنا تم سے دور نہ ہوگا۔ کھڑے ‘ بیٹھے ‘ لیٹے (ہر طرح) انکا حصول سہل ہوگا۔
Ayah 69:24

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَةِ Open ayah 69:24 in the Quran reader

جو (عمل) تم ایام گزشتہ میں آگے بھیج چکے ہو اس کے صلے میں مزے سے کھاؤ اور پیو

کلوا واشربوا ھنیئا . ھنئ : ایسی چیز جس کے حصول میں نہ کچھ دشواری ہو نہ ناگواری کی تکلیف۔ اس جملہ سے پہلے قول محذوف ہے یعنی ان سے کہا جائے گا خواشگواری کے ساتھ بغیر کسی تکلیف کے کھاؤ ‘ پیو۔ ھو ضمیر اگرچہ واحد کی ہے اور کلوا اور اشربو جمع کے صیغے ہیں لیکن معنی کے لحاظ سے ھو جمع ہے اس لیے کلو اور اشربوا کہنا صحیح ہے۔ اس صورت میں یہ جملہ ھُوَ کی خبر دوئم ہوگی اور ممکن ہے کہ جملہ مستانفہ ہو۔ بما استلفتم . اپنے سابق نیک اعمال کے صلہ میں کھاؤ ‘ پیو۔ سلف میں بمعنی متقدم (سابق) ۔ فی الایام الخالیۃ . یعنی دنیا کے اندر گزشتہ ایام میں خالی وہ زمانہ اور مکان جس کا کوئی بھرنے والا نہ ہو۔ خالی زمانہ میں جس میں اہل زمانہ باقی نہ رہے ہوں ‘ باقی نہ رہنے کے لیے گزر جانالازم ہے اس لیے خالی کا معنی ہوگیا ماضی۔ اللہ نے فرمایا ہے : قد خلت من قبلہ الرسل۔ اس سے پہلے پیغمبر گزر چکے۔
Ayah 69:25

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ Open ayah 69:25 in the Quran reader

اور جس کا نامہ (اعمال) اس کے بائیں ہاتھ میں یاد جائے گا وہ کہے گا اے کاش مجھ کو میرا (اعمال) نامہ نہ دیا جاتا

واما من اوتی کتابہ بشمالہ . اس سے مراد کافر ہے ‘ کافر کا بایاں ہاتھ پشت کے پیچھے کر کے اس میں اعمالنامہ دیا جائے گا (کذا اخرج البیہقی عن مجاہد) ابن سائب نے کہا بائیں ہاتھ کو موڑ کر پشت کے پیچھے کر کے اعمالنامہ دیا جائے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کافر کا بایاں ہاتھ سینہ کے اندر سے کھینچ کر پشت کے پیچھے کردیا جائے گا۔ فیقول . تو وہ اپنے اعمالِ بد اور ان کا برا انجام دیکھ کر کہے گا۔ یلیتنی . منادیٰ محذوف ہے یعنی اے قوم کاش مجھے لم اوت کتبیہ . میرا اعمالنامہ نہ دیا جاتا
Ayah 69:26

وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَهْۚ Open ayah 69:26 in the Quran reader

اور مجھے معلوم نہ ہو کہ میرا حساب کیا ہے

ولم ادر ما حسابیہ . اور مجھے معلوم ہی نہ ہوتا کہ میرا کیا حساب ہے۔ ما حسابیہ۔ جملہ استفہامیہ ہے اور لم اوت کا مفعول ہے۔
Ayah 69:27

یٰلَیْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِیَةَۚ Open ayah 69:27 in the Quran reader

اے کاش موت (ابد الاآباد کے لئے میرا کام) تمام کرچکی ہوتی

یلیتھا . یعنی اے کاش ! وہ نفخہ یا دنیوی زندگی کے بعد موت یا زندگی کے بعد عدم کی حالت۔ کانت القاضیۃ . کام تمام کردینے والی ہوتی ‘ زندگی کو بالکل ختم کردیتی ہے ‘ اس کے بعد مجھے زندہ ہی نہ کیا جاتا۔ قتادہ نے کہا : دنیا میں اس کے لیے ناگوار ترین چیز موت تھی مگر قیامت کے دن وہ موت کی تمنا کرے گا۔ اعمال نامہ نہ ملنے اور حساب نہ جاننے کی تمنا سے درپردہ مراد ہے دوبارہ زندہ نہ ہونا اور یٰلیتھا کانت القاضیۃ میں صراحت کے ساتھ عدم بعث کی تمنا ہے۔ اس لیے دونوں جملوں کا مضمون ایک ہی ہوا (ہاں اوّل درپردہ اظہار ہے اور دوسرا صراحۃً ) اور دوسرا جملہ اوّل جملہ کی تاکید ہوگیا ‘ اسی وجہ سے حرف عطف کو ذکر نہیں کیا گیا۔
Ayah 69:28

مَاۤ اَغْنٰى عَنِّیْ مَالِیَهْۚ Open ayah 69:28 in the Quran reader

آج) میرا مال میرے کچھ بھی کام بھی نہ آیا

ما اغنی عنی . ما نفی کے لیے ہے یا استفہام انکاری کے لیے میرے لیے کارآمد نہیں ہوا ‘ کیا مجھے کچھ مفید ہوا۔ مالیہ . وہ جو میرا تھا یعنی مال ‘ اولاد ‘ خدام۔
Ayah 69:29

هَلَكَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَهْۚ Open ayah 69:29 in the Quran reader

(ہائے) میری سلطنت خاک میں مل گئی

ھلک عنی سلطانیہ . میری حکومت اور سلطنت مجھ سے جاتی رہی یا وہ حجتیں جاتی رہیں جو دنیا میں پیش کرتا تھا۔
Ayah 69:30

خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُۙ Open ayah 69:30 in the Quran reader

(حکم ہوگا کہ) اسے پکڑ لو اور طوق پہنا دو

خذوہ . اللہ جہنم کے دربانوں کو حکم دے گا اس کو گرفتار کرلو۔ فغلوہ . اور اس کے ہاتھ گردن سے باندھ دو ‘ جکڑ دو ۔
Ayah 69:31

ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْهُۙ Open ayah 69:31 in the Quran reader

پھر دوزخ کی آگ میں جھونک دو

ثم الجحیم صلوۃ . پھر بڑی دہکتی ہوئی آگ کے اندر اس کو جھونک دو ۔ الجحیم (مفعول) کو فعل سے پہلے لانا مفید حصر ہے ‘ جحیم کا معنی ہے بڑی (دہکتی) آگ۔ اس جگہ اور اس کے بعد لفظ ثم سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ ہر آئندہ مصیبت پچھلی مصیبت سے بہت زیادہ سخت ہوگی (اوّل گرفتاری اس کے بعد گردن سے ہاتھوں کی بندش ہوگی ‘ اس کے بعد جہنم میں داخلہ بہت سخت ہوگا ‘ اس کے بعد ایک زنجیر میں پرو دیا جانا اور بھی شدید ہوگا۔
Ayah 69:32

ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُؕ Open ayah 69:32 in the Quran reader

پھر زنجیر سے جس کی ناپ ستر گز ہے جکڑ دو

ثم فی سلسلۃ ذرعھا سبعون ذراعا فاسلکوہ . فاسلکوہ میں تحسین کلام کے لیے فاء کو زائد کیا گیا ہے عاطفہ نہیں ورنہ دو حروف عطف کا اجتماع لازم آئے گا۔ (ثم اور فاء ) ۔ ابن ابی حاتم اور بیہقی نے عوفی کے حوالہ سے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ زنجیر کافر کے مقعد سے داخل کر کے ناک کے نتھنوں میں سے نکالی جائے گی (اس طرح اس کو زنجیر میں پرو دیا جائے گا) تاکہ وہ پاؤں پر کھڑا نہ ہو سکے۔ ابن ابی حاتم نے ابن جریر کے طریقہ سے حضرت ابن عباس کا قول بیان کیا ہے کہ زنجیر سرین سے داخل کی جائے گی اور منہ سے نکالی جائے گی اور جس طرح ٹڈی کو لکڑی میں پروتے ہیں ‘ اسی طرح زنجیر میں کافر کو پرو دیا جائے گا۔ اس کے بعد اس کو بھونا جائے گا۔ نوف بکائی شامی کا قول ہے : زنجیر ستّر ذراع کی ہوگی اور ہر ذراع ستّر بانہہ کا اور ہر بانہہ اتنی لمبی جتنی یہاں سے مکہ تک کی مسافت ہے ‘ اس بات کے وقت بکائی کوفہ کے میدان میں تھے۔ ہناد اور ابن مبارک کا بیان ہے کہ سفیان نے فرمایا ہر ذراع ستّر ذراع کا ہوگا۔ حسن بصری (رح) نے فرمایا : اللہ جانے کونسا ذراع ہوگا۔ میں کہتا ہوں شاید دوزخ کے دربان فرشتوں کے ذراع مراد ہو یا جہنم کے اندر کافر کا ذراع اتنا بڑا ہوجائے کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ دوزخ کے اندر کافر کی داڑھ کوہ احد کی برابر اور اس کی کھال کی موٹائی تین روز کی راہ کے بقدر ہوگی۔ (رواہ مسلم عن ابی ہریرۃ مرفوعاً ) احمد ‘ ترمذی اور بیہقی نے حضرت ابن عمر کی روایت بیان کی ہے اور ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سر کی کھوپڑی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اس (زنجیر) کا اتنا گولا اگر آسمان سے چھوڑا جائے تو رات ہونے سے پہلے زمین پر پہنچ جائے گا باوجودیکہ آسمان و زمین کے درمیان پانچ سو برس کی مسافت ہے لیکن اگر وہ گولا زنجیر کے ایک سرے سے دوزخ میں لٹکایا جائے گا تو شبانہ روز چل کر چالیس برس میں دوزخ کی تہ یا قعر تک پہنچے گا۔ ابن مبارک نے کعب کا قول نقل کیا ہے کہ اس زنجیر کی ایک کڑی دنیا کے سارے لوہے کے برابر ہوگی۔ ابو نعیم نے محمد بن منکدر کا قول نقل کیا ہے کہ اگر دنیا کا تمام گزشتہ اور آئندہ لوہا جمع کیا جائے تو جہنم کی زنجیر کی ایک کڑی کے برابر نہیں ہوگا۔
Ayah 69:33

اِنَّهٗ كَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 69:33 in the Quran reader

یہ نہ تو خدائے جل شانہ پر ایمان لاتا تھا

انہ کان لا یومن باللہ العظیم . اس لیے کہ وہ عظمت والے اللہ پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔ عذاب مذکور کی علت کا بیان ہے۔ لفظ عظیم کے ذکر سے اس امر کی طرف ایماء ہے کہ اللہ ہی مستحق عظمت ہے اگر اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کو مستحق عظمت قرار دے گا تو وہ عذاب کا مستحق ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بزرگی میری چادر ہے اور عظمت میری ازار (یعنی میں بزرگی اور بڑائی کے پردوں میں پوشیدہ ہوں) اب جو شخص میرا کوئی لباس مجھ سے کھینچے گا میں اس کو آگ میں داخل کروں گا۔ (مسلم)
Ayah 69:34

وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ Open ayah 69:34 in the Quran reader

اور نہ فقیر کے کھانا کھلانے پر آمادہ کرتا تھا

ولا یحض عی طعام المسکین . یعنی مسکینوں کو خود دینا تو درکنار دوسروں کو بھی مسکین کو کھانا کھلانے پر نہیں ابھارتا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ برانگیختہ کرنے کا تذکرہ کر کے یہ بات بتانی مقصود ہو کہ برانگیختہ نہ کرنے (اور ترغیب نہ دینے والے) کا جب یہ برا درجہ ہوگا تو خود نہ کرنے (اور مسکین کو نہ دینے والے) کا کیا درجہ ہوگا۔ آیت سے ثابت ہے کہ فروع اعمال پر بھی کافروں کا مواخذہ ہوگا۔ عدم ایمان اور عدم ترغیب کا خصوصیت کے ساتھ اس جگہ ذکر شاید اس لیے کیا گیا کہ بدترین (عقیدہ) کفر ہے اور بدترین (عمل) بخل۔
Ayah 69:35

فَلَیْسَ لَهُ الْیَوْمَ هٰهُنَا حَمِیْمٌۙ Open ayah 69:35 in the Quran reader

سو آج اس کا بھی یہاں کوئی دوستدار نہیں

فلیس لہ الیوم ھھنا حمیم . فاء سببی ہے۔ اسی لیے آج یہاں (یعنی اس روز وہاں) اس کا کوئی رشتہ دار دل دکھانے والا نہ ہوگا۔
Ayah 69:36

وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍۙ Open ayah 69:36 in the Quran reader

اور نہ پیپ کے سوا (اس کے لئے) کھانا ہے

ولا طعام الا من غسلین . اور سوائے غسلین کے اس کے لیے کوئی کھانے کی چیز نہ ہوگی۔ لفظ لا زائد (برائے تاکید) ہے اور استثناء مضرغ ہے۔ غسلین دوزخیوں کا کچ لہو ہوگا (دھو ون) غسلین بروزن فعلین غسل (دھونا) سے ماخوذ ہے۔ ابن ابن حاتم نے بطریق عکرمہ حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ غسلین دوزخیوں کا کچ لہو ہوگا۔ ضحاک اور ربیع کا قول ہے کہ غسلین ایک درخت ہوگا جس کو دوزخی کھائیں گے۔ ابن ابی حاتم نے بطریق مجاہد بیان کیا کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا مجھے نہیں معلوم کہ غسلین کیا چیز ہوگی مگر میرا خیال ہے کہ غسلین ہی زقوم (تو ہر کا درخت) ہوگا۔
Ayah 69:37

لَّا یَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِئُوْنَ۠ Open ayah 69:37 in the Quran reader

جس کو گنہگاروں کے سوا کوئی نہیں کھائے گا

لا یاکلہ الا الخاطؤن . استثناء مضرغ ہے یعنی خطا کاروں کے سوا اس کو کوئی نہیں کھائے گا۔ لفظ الخاطؤن اس خطا (نادانستہ غلطی) سے ماخوذ نہیں جو صحت (درستی) کی ضد ہے بلکہ خطی الرجل (اس شخص نے قصداً گناہ کیا) سے ماخوذ ہے۔
Ayah 69:38

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 69:38 in the Quran reader

تو ہم کو ان چیزوں کی قسم جو تم کو نظر آتی ہیں

فلا اقسم . میں قسم نہیں کھاتا کیونکہ بات کھلی ہوئی ہے ‘ قسم کھا کر اس کو پختہ کرنے کی ضرورت نہیں (اس صورت میں لا نفی کا ہوگا) یا لا زائد ہے یعنی میں پختہ قسم کھاتا ہوں یا لا کا تعلق کلام محذوف سے ہے یعنی کافر جو کہتے ہیں کہ محمد ﷺ نے قرآن کی نسبت خدا کی طرف غلط ہے۔ یہ خود شاعر یا کاہن ہے اور حشر و نشر کچھ نہ ہوگا یہ باتیں سچ نہیں ہیں۔ میں قسم کھاتا ہوں (اس صورت میں بھی لا نفی کا ہوگا) ۔ بما تبصرون . ان چیزوں کی جو صفات خداوندی کا مظہر ہیں اور جن کو تم عقل یا چہرہ کی آنکھوں سے دیکھتے ہو۔
Ayah 69:39

وَ مَا لَا تُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 69:39 in the Quran reader

اور ان کی جو نظر میں نہیں آتیں

وما لا تبصرون . اور ان صفات و ذوات جن کی حقیقت نہ تم کو دانش و فہم سے نظر آتی ہے ‘ نہ آنکھوں سے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اوّل سے مراد ہیں اجسام اور دوسرے سے ارواح یا اوّل سے انسان اور دوسرے سے جن و ملائکہ یا اوّل سے ظاہری اور دو سرے سے باطنی نعمتیں یا اوّل سے وہ علم مراد ہے جس کو اللہ نے ملائکہ اور جن و انس پر ظاہر کردیا ہے اور دوسرے سے مراد وہ خصوصی علم ہے جس سے اور کوئی واقف نہیں) ۔
Ayah 69:40

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۚۙ Open ayah 69:40 in the Quran reader

کہ یہ (قرآن) فرشتہٴ عالی مقام کی زبان کا پیغام ہے

انہ لقول رسول کریم . کہ بلاشک یہ قرآن اللہ کی طرف سے ایک باعزت پیغامبر کا (زبانی) قول ہے اس کا خود ساختہ نہیں۔ رسول کریم ﷺ سے مراد رسول اللہ ﷺ یا جبرئیل ہیں۔