Ayahs 69:1–6کھڑکھڑانے والی چیز (یعنی قیامت) کو جھٹلانے والوں کی ہلاکت
یہاں سے سورة الحاقۃ شروع ہو رہی ہے الحاقۃ حق یحق سے اسم فاعل ہے جس کا ترجمہ ہے واقع ہونے والی چیز یعنی جس کا وجود میں آجانا ضروری ہے وہ ٹل نہیں سکتی، اس سے قیامت مراد ہے قرآن مجید میں اس کے کئی نام آئے ہیں ان میں سے ایک القارعۃ بھی ہے جو اس سورت کی چوتھی آیت میں مذکورہ ہے علماء نحو نے فرمایا ہے الحاقة مبتدا ہے اور ما الحاقة خبر ہے۔
طرز بیان ایسا اختیار فرمایا ہے جس سے قیامت کی اہمیت ظاہر ہوجائے ارشاد فرمایا کہ کیسی چیز ہے وہ ہوجانے والی اور اے مخاطب تجھے کیا خبر ہے کہ وہ ہوجانے والی چیز کیا ہے ؟ یعنی وہ بڑی چیز ہے اس دن کی پیشی کے لیے فکر مند ہونا لازم ہے۔
جتنے بھی انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لائے ان کی بنیادی دعوت تین چیزوں پر ایمان لانے کی تھی : (1) توحید (2) رسالت (3) معاد یعنی وقوع قیامت
قوم ثمود کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) اور قوم عاد کی طرف ھود (علیہ السلام) معبوث ہوئے تھے ان لوگوں نے اپنے اپنے پیغمبر کی دعوت کو نہیں مانا، وقوع قیامت کو جھٹلایا لہٰذا عذاب میں پکڑے گئے اور ہلاک کیے گئے اسی کو فرمایا ﴿ كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ 004﴾ (ثمود اور عاد نے کھڑکھڑانے والی چیز یعنی قیامت کو جھٹلایا) ﴿ فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بالطَّاغِيَةِ 005﴾ (سو قوم ثمود کے لوگ طاغیہ یعنی سخت چیخ کے ذریعے ہلاک کیے گئے جو اپنی شدت میں حد سے بڑھی ہوئی تھی (یہ سخت ترین چیخ تھی جس کے ذریعہ ہلاک کیے گئے) ۔ ﴿ وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِيْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍۙ006﴾ (اور عاد کو ٹھنڈی تیز ہوا سے ہلاک کیا گیا) ﴿سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَّ ثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ 1ۙ حُسُوْمًا ﴾ (اللہ تعالیٰ نے اس تیز ہوا کو ان پر سات رات اور آٹھ دن لگاتار مسلط رکھا) ۔ اسی کو سورة ٴ حم السجدہ میں یوں بیان فرمایا ہے ﴿فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا صَرْصَرًا فِيْۤ اَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِيْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا 1ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَ هُمْ لَا يُنْصَرُوْنَ 0016﴾ (سو ہم نے ان پر ایک سخت تیز ہوا منحوس دنوں میں بھیج دی تاکہ ہم انہیں دنیا والی زندگی کی ذلت کا عذاب چکھائیں اور البتہ آخرت کا عذاب بہت زیادہ رسوا کرنے والا ہے اور ان کی مدد نہیں کی جائے گی) ۔
Ayahs 69:7–8﴿ فَتَرَى الْقَوْمَ فِيْهَا صَرْعٰى1ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍۚ007﴾ (سو ان لوگوں نے گر پڑنے کا جو منظر تھا اسے مخاطب اگر تو اسے دیکھتا تو یوں معلوم ہوتا کہ وہ کھوکھلی کھجوروں کے تنے ہیں) ۔ اسی تیز ہوا کے چلنے سے سب مرگئے ان میں سے ایک بھی نہ بچا اسی لیے بعد میں فرمایا ﴿ فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِيَةٍ 008﴾ (اے مخاطب کیا تو ان میں سے کسی کو دیکھ رہا ہے جو بچا ہوا ہو) ۔
Ayah 69:9فرعون کی بغاوت اور ہلاکت :
اس کے بعد فرعون اور اس سے پہلے باغیوں اور ان بستیوں کا ذکر فرمایا جو برے افعال کرنے کی وجہ سے لپٹ دی گئی تھیں۔ ارشاد فرمایا ﴿ وَ جَآءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَهٗ وَ الْمُؤْتَفِكٰتُ بالْخَاطِئَةِۚ009﴾ (اور فرعون اور اس سے پہلے لوگ اور الٹی ہوئی بستیوں کے رہنے والوں نے گناہ کیے) ۔
Ayah 69:10﴿ فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ فَاَخَذَهُمْ اَخْذَةً رَّابِيَةً 0010﴾ (سو انہوں نے اپنے رب کے پیغمبر کی نافرمانی کی لہٰذا اس نے انہیں سخت گرفت کے ساتھ پکڑ لیا) ۔
Ayah 69:11حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان کا ذکر :
﴿ اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِۙ0011﴾ (بلاشبہ جب پانی میں طغیانی آئی تو ہم نے تمہیں کشتی میں سوار کردیا) اس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان کا تذکرہ ہے حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشی میں مومنین سوار ہوگئے تھے جن کی تھوڑی سی تعداد تھی پھر انہی سے دنیا میں آبادی بڑھی اور حضرت آدم (علیہ السلام) کی نسل پھلی پھولی، نزول قرآن کے وقت جو لوگ موجود تھے اور جواب موجود ہیں مومن ہوں یا کافر سب انہی لوگوں کی نسل ہیں جو نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار ہو کر نجات پا گئے چونکہ ان لوگوں کا وجود ان لوگوں کی نجات سے متعلق ہے جو کشی میں سوار ہوگئے تھے اس لیے بطور امتنان ﴿حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِۙ0011﴾ فرمایا کہ ہم نے تمہیں کشتی میں اٹھا دیا۔
Ayah 69:12﴿ لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّ تَعِيَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِيَةٌ0012﴾ (تاکہ اس کو یادگار بنا دیں اور یاد رکھنے والے کان اس کو یاد رکھیں) کیونکہ اس میں اہل فکر اور اہل نظر کے لیے عبرت اور نصیحت ہے۔
Ayahs 69:13–18قیامت کے دن صور پھونکا جائے گا، زمین اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے عرش الٰہی کو آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے
ان آیات میں روز قیامت کے مناظر ذکر فرمائے ہیں پہلے تو یوں فرمایا کہ جب صور پھونکا جائے گا اور زمین اور پہاڑ اپنی جگہ سے اٹھا دیئے جائیں گے اور وہ دونوں ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے تو اس دن واقع ہونے والی واقع ہوجائے گی یعنی قیامت آجائے گی اور آسمان پھٹ پڑے گا سو وہ اس دن ضعیف ہوگا اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے اور آپ کے رب کے عرش کو اس دن اپنے اوپر آٹھ فرشتوں نے اٹھا رکھا ہوگا۔
مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ عرش کو آٹھ فرشتوں کا اٹھانا نفخہ ثانیہ کے بعد ہوگا اس کے بعد قیامت کے دن کی پیشی کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا ﴿ يَوْمَىِٕذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِيَةٌ0018﴾ (اس دن تم پیش کیے جاؤ گے اس دن تمہاری کوئی چیز پوشیدہ نہ ہوگی) یوں تو اللہ تعالیٰ کو سب کچھ علم ہے لیکن اس نے فرشتوں سے سب کے اعمال لکھوا بھی رکھے ہیں سورة الجاثیہ میں فرمایا : ﴿هٰذَا كِتٰبُنَا يَنْطِقُ عَلَيْكُمْ بالْحَقِّ 1ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 0029﴾ (یہ ہماری کتاب جو تمہارے اوپر حق کے ساتھ بولتی ہے بلاشبہ ہم لکھوا لیتے تھے جو تم کرتے تھے) ۔
Ayahs 69:19–20اعمال ناموں کی تفصیل اور دائیں ہاتھ میں اعمال نامے ملنے والوں کی خوشی :
اس کے بعد اعمال ناموں کی تفصیل ذکر فرمائی، ارشاد فرمایا ﴿ فَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ 1ۙ فَيَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِيَهْۚ0019﴾ (سو جس کے دائیں ہاتھ میں اعمالنامہ دیا جائے گا وہ خوشی خوشی لوگوں سے کہے گا آؤمیری کتاب پڑھ لو) داہنے ہاتھ میں کتاب کا دیا جانا ہی دلیل اس بات کی ہوگی کہ یہ شخص کامیاب ہوگیا ﴿ اِنِّيْ ظَنَنْتُ اَنِّيْ مُلٰقٍ حِسَابِيَهْۚ0020﴾ (مجھے پتہ تھا کہ بلاشبہ میں اپنے حساب سے ملاقات کرنے والا ہوں) مجھے دنیا میں پیشی کا اور اعمالنامے دیئے جانے کا یقین تھا، اسی لیے دنیا میں سنبھل کر اور سوچ سمجھ کر گناہوں سے بچا اور نیک کام کیے۔
Ayahs 69:21–23﴿فَهُوَ فِيْ عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍۙ0021﴾ (سو یہ شخص ایسی زندگی میں ہوگا جس سے راضی ہوگا اور خوش ہوگا) ۔ ﴿ فِيْ جَنَّةٍ عَالِيَةٍۙ0022﴾ (بہشت بریں یعنی اونچی جنت میں ہوگا) ۔
﴿قُطُوْفُهَا دَانِيَةٌ0023﴾ (اس کے پھل قریب ہوں گے) ۔
جیسا کہ سورة ٴ رحمٰن میں فرمایا ﴿ وَ جَنَا الْجَنَّتَيْنِ دَانٍۚ0054﴾ (اور دونوں جنتوں کے پھل قریب ہوں گے یعنی ہر شخص جو پھل بھی چاہے گا بآسانی کھڑے ہوئے لیٹے بیٹھے توڑ سکے گا۔
Ayah 69:24﴿كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِيْٓـًٔۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ 0024﴾ (ان سے کہا جائے گا کہ کھاؤ پیو تمہارا کھانا پینا مبارک ہے اس وجہ سے کہ تم نے گزشتہ دنوں میں یعنی دنیا میں اچھی زندگی گزاری تھی اور اعمال صالحہ اختیار کیے تھے) ۔
Ayahs 69:25–27بائیں ہاتھ میں اعمالنامے ملنے والوں کی بدحالی :
اس کے بعد ان لوگوں کا تذکرہ فرمایا جن کے بائیں ہاتھ میں کتاب دی جائے گی فرمایا ﴿ وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ 1ۙ۬ فَيَقُوْلُ يٰلَيْتَنِيْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِيَهْۚ0025 وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِيَهْۚ0026﴾ (اور جس کے بائیں ہاتھ میں اعمالنامہ دیا جائے گا تو وہ کہے گا کیا اچھا ہوتا کہ میری کتاب مجھے نہ دی جاتی اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے)
جس شخص کے حساب میں گڑبڑ ہو وہ یہی چاہتا ہے کہ میرا حساب مجھے نہ دکھایا جاتا اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے تو اچھا ہوتا۔ ﴿يٰلَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَۚ0027﴾ (ہائے كاش دنیا میں جو مجھے موت آتی تھی وہی فیصلہ کردینے والی ہوتی اور دوبارہ زندہ ہو کر حساب کتاب کے لیے حاضر نہ کیا جاتا)
Ayahs 69:28–29﴿ مَاۤ اَغْنٰى عَنِّيْ مَالِيَهْۚ0028﴾ (میرے مال نے مجھے فائدہ نہ دیا) ﴿ هَلَكَ عَنِّيْ سُلْطٰنِيَهْۚ0029﴾ (دنیا میں جو اقتدار اور اختیار اور عہدہ اور منصب تھا وہ سب ختم ہوگیا اس نے بھی کوئی فائدہ نہیں دیا۔
Ayahs 69:30–34کافروں کی ذلت :
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا ﴿ خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُۙ0030 ثُمَّ الْجَحِيْمَ صَلُّوْهُۙ0031 ثُمَّ فِيْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُؕ0032﴾ (اس کو پکڑ لو پھر اس کو طوق پہنا دو پھر اس کو دوزخ میں داخل کرو پھر ایک ایسی زنجیر میں اس کو جکڑ دو جس کی پیمائش ستر ہاتھ ہے) ۔
﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤْمِنُ باللّٰهِ الْعَظِيْمِۙ0033﴾ (بلاشبہ یہ اللہ پر ایمان نہیں لاتا تھا جو عظیم ہے) ۔
﴿ وَ لَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِيْنِؕ0034﴾ (اور وہ مسکین کے کھانے کی ترغیب نہیں دیتا تھا) داہنے ہاتھ اعمال دیئے جانے والوں کی خوشی اور خوش بختی اور بائیں ہاتھ میں اعمال نامے دیئے جانے والوں کی بدحالی اور بدبختی آیت بالا میں علی الترتیب بیان فرمائی ہے۔
اہل جنت کے تذکرہ میں یہ فرمایا کہ وہ یوں کہیں گے کہ دنیا میں جو ہم سوچ سمجھ کر زندگی گزارتے رہے کہ ہمارے سامنے ہمارا حساب پیش ہوگا آج ہمیں یہ اس کا انعام ملا ہے اور اہل جہنم کے تذکرہ میں فرمایا کہ وہ یوں کہیں گے ہمارا دوبارہ زندہ ہونا ہمارے لیے وبال ہوگیا پہلی بار جو زندگی گزار کر موت آگئی تھی وہی سب کچھ ہوتی اور ہمیں دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا تو اچھا ہوتا، یہ جو ہم دنیا کے اموال اور اقتدار اور عہدوں اور منصبوں کی فکر میں لگے رہے یہ تو بیکار ہی گیا یہاں نہ کوئی مال کام آیا اور نہ کسی عہدہ نے فائدہ پہنچایا وہاں پچھتانے سے کچھ فائدہ حاصل نہ ہوگا، بس خیر اسی میں ہے کہ اسی دنیا میں ایمان قبول کرلیں اور نیک بن جائیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے طالب ہوجائیں عہدوں کے طالب نہ ہوں اور مال کو مطلوب نہ بنائیں۔
دنیاوی حکومتیں :
دنیا میں جو عہدے ہیں وہ تو بڑی مصیبتوں سے ملتے ہیں اور ان میں بڑے بڑے مظالم کرنے پڑتے ہیں جب دنیا میں بادشاہت کا رواج تھا تو بادشاہت حاصل کرتے تھے اور اب جب سے دنیا میں جھوٹی جمہوریت آگئی ہے اس کی وجہ سے الیکشن لڑتے ہیں اور الیکشن کے بعد عہدہ مل جانے کی صورت میں پھر عہدہ کو باقی رکھنے کے لیے پھر الیکشن میں جو رقمیں خرچ کی گئیں ان کی جگہ مال جمع کرنے کے لیے جو جو مظالم ہوتے ہیں قتل و خون کی نوبت آتی ہے رشوتیں دی جاتی ہیں اور رشوتیں وصول کی جاتی ہیں اور طرح طرح سے انسانوں کو ووٹ دینے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے اور ووٹوں کی خریداری ہوتی ہے ان سب باتوں کو الیکشن لڑنے لڑانے والے جانتے ہیں اتنی معصیتوں اور گناہوں کے ارتکاب کے بعد جو عہدہ ملا وہ لا محالہ وبال جان ہوگا پھر شریعت کا یہ مسئلہ بھی ہے کہ جو شخص عہدہ کا طالب ہو اسے عہدہ نہ دیاجائے۔ (کیونکہ وہ اسی لیے عہدہ طلب کرتا ہے کہ وہ اپنی دنیا سیدھی کرلے اور جائیداد جمع کرلے) یہ عہدے آخرت میں وبال جان بنیں گے، یہاں دنیا میں بڑے خوش ہوتے ہیں کہ کوئی عہدہ مل گیا، وزیر بن گئے وہاں زنجیر میں جکڑے جائیں گے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر رانگ کا ایک حصہ چھوٹے سے پیالہ کے برابر زمین کی طرف آسمان سے چھوڑ دیا جائے تو رات کے آنے سے پہلے زمین تک پہنچ جائے جو پانچ سو سال کی مسافت ہے اور اگر رانگ کا وہ حصہ دوزخی کی زنجیر کے ایک سرے سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچنے سے پہلے چالیس سال تک چلتا رہے گا۔
فائدہ : دوزخی کی سزا کا سبب بتاتے ہوئے ایک یہ فرمایا کہ وہ مومن نہیں تھا دوسرے یہ فرمایا کہ وہ مسکین کے کھانے کی ترغیب نہیں دیتا تھا، مسکین کو نہ کھلانا اور اس کے کھلانے کی ترغیب نہ دینا اتنی اہم بات ہے کہ اسے کفر کے ساتھ ذکر کیا گیا تو مسکین پر ظلم کرنا اور اسے کسی نے کچھ دیا ہو تو اسے چھین کر کھا جانا یا خود قابض ہو کر اپنا بنا لینا کتنا بڑا گناہ ہوگا۔ خوب سمجھ لیا جائے۔
Ayahs 69:35–37مجرمین غِسْلِيْنٍ كھائیں گے :
﴿فَلَيْسَ لَهُ الْيَوْمَ هٰهُنَا حَمِيْمٌۙ0035 وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِيْنٍۙ0036 لَّا يَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِـُٔوْنَ (رح) 0037﴾ (سو آج اس کے لیے یہاں کوئی دوست نہیں اور نہ غِسْلِيْنٍ کے علاوہ اس کے لیے کوئی کھانا ہے جسے صرف خطاکار ہی کھائیں گے) ۔
لفظ غِسْلِيْنٍ فعلین کے وزن پر ہے جو لفظ غسل سے ماخوذ ہے غسل دھونے کو کہتے ہیں۔ علماء تفسیر نے اس کا ترجمہ زخموں کے دھو ون سے کیا ہے غِسْلِيْنٍ کا معنی اگرچہ زخموں کا دھو ون ہے اور زخموں کو اس وقت دھویا جاتا ہے جب مرہم پٹی کی جائے اور صاف کر کے مرہم لگایا جائے لیکن دوزخیوں کے زخموں کا دھو ون خود ان کے جسموں کی پیپ ہی ہوگی جو اوپر سے نیچے تک بہتی رہے گی علاج اور شفا کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اسی لیے حضرت ابن عباس ؓ غِسْلِيْنٍ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا : انہ الدم والماء الذی یسیل من لحوم اھل النار (یعنی غسلین سے وہ خون اور پانی مراد ہے جو دوزخیوں کے گوشتوں سے بہتا رہے گا) ۔ (ذكرہ صاحب الروح صفحہ 58: ج 29)
Ayahs 69:38–39قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے متقیوں کے لیے نصیحت ہے
ان آیات میں قرآن کریم اور صاحب قرآن کریم کی صفات جلیلہ بیان فرمائی ہیں اور دشمنوں کی باتوں کی تردید فرمائی ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کا کلام ماننے کو تیار نہ تھے۔
اولاً ارشاد فرمایا کہ تم جن چیزوں کو دیکھتے ہو اور جن چیزوں کو نہیں دیکھتے میں ان کی قسم کھاتا ہوں کہ یہ قرآن ایک معزز فرشتہ کا لایا ہوا کلام ہے اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں اور نہ ہی یہ کسی کاہن کا کلام ہے۔ شاعر لوگ شاعرانہ باتیں کرتے تھے وہ عام لوگوں کی باتوں سے مختلف ہوتی تھیں اور کاہن لوگ شیاطین سے سن کر آئندہ ہونے والی کوئی بات بتا دیتے تھے۔ (جس کا ذکر سورة ٴ جن میں آ رہا ہے اور سورة ٴ حجر اور سورة ٴ سباء اور سورة ٴ صافات میں گزر چکا ہے) اور ان میں اپنے پاس سے اور بہت سی باتیں ملا کر بیان کردیتے تھے اور تک بندی کی طرح کچھ باتیں کہہ جاتے تھے اہل مکہ نے قرآن کریم کو شاعروں کاہنوں کا کلام بتادیا حالانکہ وہ جانتے تھے کہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نہ شاعر ہیں نہ کاہن ہیں نہ ان لوگوں کے پاس آپ کا اٹھنا بیٹھنا ہے مگر انسان کی ضد وعناد ایسی چیز ہے کہ جب انسان اس پر کمر باندھ لے اور حق سے بالکل ہی منہ موڑ لے تو قبول حق کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے ان میں بہت کم کوئی ایسا شخص ہوتا ہے جو ضد اور عناد کو چھوڑ کر حق کو قبول کرے اور اپنی سمجھ سے کام لے اس لیے ان لوگوں کا حال بیان فرمایا :
﴿ قَلِيْلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَۙ0041﴾ (تم بہت کم ایمان لاتے ہو) اور ﴿ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ0042 ﴾ (تم بہت کم سمجھتے ہو) بھی فرمایا۔
﴿ فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَۙ0038 وَ مَا لَا تُبْصِرُوْنَۙ0039﴾ جو فرمایا اس میں ان چیزوں کی قسم کھائی جنہیں بندے دیکھتے ہیں اور جنہیں نہیں دیکھتے صاحب روح المعانی اس بارے میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی جو بندوں کے مشاہدات اور مغیبات ہیں اس لیے حضرت قتادہ ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ساری مخلوق کی قسم کھا کر بتاکید یہ فرمایا کہ قرآن رسول کریم ﷺ کا لایا ہوا کلام ہے حضرت عطا نے فرمایا کہ تبصرون سے آثار قدرت اور ما لا تبصرون سے اسرار قدرت مراد ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ اجسام اور ارواح مراد ہیں اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ انسان اور جن اور ملائكہ مراد ہیں۔ وقیل غیر ذلک (روح المعانی صفحہ 60: ج 29)