Ayahs 69:1–2الحآقۃ۔ مالحآقۃ۔ مراد قیامت ہے۔ اسے یہ نام اس لئے دیا کیونکہ اس میں امرو کو واقع کیا جائے گا، یہ طبری کا قول ہے گویا اسے لیل نائم کے باب سے بنایا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسے حاقہ نام اس لئے دیا کیونکہ یہ بغیر کسی شک و شبہ کے واقع ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کو یہ نام اس لئے دیا گیا کیونکہ اس نے بعض اقوام کے لئے جنت کو ثابت کیا اور کچھ اقوام کے لئے جہنم کو ثابت کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسے یہ نام اس لئے دیا گیا ہے کیونکہ اس میں ہر انسان اپنے عمل کی جزا کا حقدار ہوجائے گا۔ ازہری نے کہا : حافقتہ فحققتہ احقہ میں نے اس پر غلبہ پانے کی کوشش کی تو میں اس پر غالب آگیا۔ قیامت غالب آنے والی ہے کیونکہ یہ ہر اس فرد پر غالب آنے والی ہے جو باطل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے دین میں جھگڑا کرتا ہے۔ صحاح میں ہے : حاقہ اس سے جھگڑا کیا اور ان میں سے ہر ایک نے حق کا دعویٰ کیا جب اس پر غالب آگیا تو کہا گیا۔ حقہ وہ آدمی جو حقیر چیزوں کے بارے میں جھگڑا کرتا ہے تو اسے کہا اجتا ہے : انہ لنزق الحقاق اور یہ کہا اجتا ہے : ما لہ فیہ حق و حقاق اس کا اس میں نہ کوئی حق ہے اور نہ ہی کوئی جھگڑا ہے۔ تحاق کا معنی باہم جھگڑا کرنا ہے۔ احتقاق کا معنی جھگڑنا ہے۔ حاقہ، حقہ اور حق تینوں لغتیں ایک معنی میں ہیں۔ کسائی اور مورج نے کہا : حاقہ سے مراد یوم حق ہے (1) عرب کہتے ہیں، لما عرف الحقۃ منی ھرب جب اس نے میرا حق پہچانا تو بھاگ گیا۔ پہلے الحاقۃ کو مبتدا ہونے کی حیثیت سے رفع دیا اور خبر دوسرا الحاقہ اور اس کی خبر ہے وہ ما الحآقۃ ہے کیونکہ اس کا معنی ماھی ہے لفظ استفہام کا ہے اس کا معنی تعظیم اور تفخیم شان ہے جس طرح تو کہتا ہے : زید مازید یہاں بھی مقصود عظمت شان کا اظہار ہے۔
Ayah 69:3وما ادرک ما الحآقۃ۔ یہ بھی جملہ استفہامیہ ہے یعنی کس چیز نے مجھے بتایا کہ وہ دن کیا چیز ہے نبی کریم ﷺ قیامت کے بارے میں آگاہ تھے مگر صفت کے اعتبار سے، اس کی تفخیم شان کے لئے کہا گیا۔ وما ادراک ماھی گویا جب آپ ﷺ نے اس کا معائنہ کیا تو تو اس کو جانتا ہی نہیں۔ یحییٰ بن سلام نے کہا، مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ قرآن حکیم میں جہاں بھی وما آدرک ہے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس سے آگاہ کردیا اور علم عطا فرما دیا اور جہاں بھی وما یدریک ہے اس کے بارے میں علم عطا نہیں فرمایا (1) سفیان بن عینیہ نے کہا، ہر وہ چیز جس کے بارے میں فرمایا، وما آدرک اس کے بارے میں خبر دی اور ہر وہ چیز جس کے بارے میں فرمایا : وما یدریک اس کے بارے میں خبر نہیں دی گئی۔
Ayah 69:4کذبت ثمود و عاد بالقارعۃ۔
” ثمود اور عاد نے ٹکرا کر پاش پاش کرنے والی کو۔ “
جنہوں نے قیامت کو جھٹلایا اس کا ذکر فرمایا۔ قارعہ سے مراد قیامت ہے (2) اسے یہ نام اس لئے دیا کیونکہ یہ لوگ کو اپنی ہولناکیوں سے کھٹکھٹاتی ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : اصابتھم قوارع الدھر انہیں حادثات زمانہ پہنچے۔ نعوذ باللہ من قوارع فلان ولواذعہ وقوارص لسانہ ہم فلاں کی طرف سے دی جانے والی مصیبتوں، آفتوں اور بدکلامیوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ ماگنتے ہیں۔ قوارص یہ قارضہ کی جمع ہے جس کا معنی تکلیف دہ حکم ہے۔ قوارع القرآن، اس سے مراد وہ آیات ہیں جو انسان، جنوں یا انسانوں سے خوفزدہ ہو کر پڑھتا ہے جس طرح آیت الکرسی، گویا یہ شیطان کو کھٹکھٹاتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے قارعہ یر قعہ سے ماخوذ ہے (3) یعنی وہ بعض لوگوں کو بلند اور بعض کو پست کردیتی ہے، یہ مبرد کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : قارعہ سے مراد ایسا عذاب ہے جو دنیا میں ان پر نازل ہوا۔ ان کا نبی انہیں اس بارے میں خبر دار کرتا تھا تو وہ اس نبی کی تکذیب کرتے تھے۔ قوم ثمود جو حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم تھی (4) ان کی بستیاں شام اور حجاز کے درمیان حجر کے مقام پر تھیں۔ محمد بن اسحاق نے کہا، یہ وادی قری ہے۔ یہ عبر تھے جہاں تک عاد کا تعلق ہے وہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم تھی۔ ان کی بستیاں احقاف کے علاقہ میں تھیں۔ احقاف سے مراد عمان سے لے کر حضرت موت تک کار یتلا علاقہ ہے اور پورا یمن مراد ہے۔ یہ عربی تھے، بڑے مضبوط جسم والے تھے، محمد بن اسحاق نے اس کا ذکر کیا۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔
Ayah 69:5اس میں اضمار ہے، تقدیر کلام یہ ہے بالفعلۃ الطاغیۃ قتادہ نے کہا، تقدیر کلام یہ ہے بالصیحۃ الطاغیۃ جو حد سے تجاوز کرنے والی تھی یعنی ہولناکی میں چیخوں کی حد سے تجاوز کرنے والی تھی جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : انا ارسلنا علیھم صیحۃ واحدۃ فکانوا کھشیم المختظر۔ (القمر) طیغان سے مراد حد سے تجاوز کرنا ہے اسی سے یہ ہے انا لما طغا المآء (الحاقہ : 11) یعنی اس نے حد سے تجاوز کیا۔ کلبی نے کہا، الطاغیۃ سے مراد الطاعقہ ہے (5) ۔ مجاہد نے کہا : گناہوں کے بدلے میں۔ حضرت حسن بصری نے کہا، سری کے باعث۔ یہ مصدر ہے جس طرح کا ذبہ، عاقبہ اور عافیہ مصدر ہے یعنی انہیں طغیان اور کفر کے باعث ہلاک کردیا گیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : طاغیۃ سے مراد اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والا ہے (1) یہ ابن زید کا قول ہے یعنی انہیں ہلاک کیا گیا اس کے باعث جو ان کے طاغیہ نے کہا کہ اونٹنی کی کونچیں کاٹیں۔ وہ ایک تھا۔ ان سب کو ہلاک کیا گیا کیونکہ وہ اس کے فعل پر راضی تھے اور انہوں نے اس کے ساتھ تعاون کیا۔ اسے طاغیہ کا نام دیا جس طرح کہا اجتا ہے : فلان راویۃ الشعر فلاں شعر روایت کرنے اولا ہے اس طرح داھیۃ علامہ اور نسابہ ہے۔
Ayahs 69:6–7واما عادفا ھلکوا بریح صر صر، صر صر یعنی ٹھنڈی جو اپنی ٹھنڈک کے ساتھ جلا دیتی ہے جس طرح آگ جلابی ہے، یہ صر سے ماخوذ ہے، یہ ضحاک کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد سخت آواز ہے۔ مجاہد نے کہا، سخت زہریلی، عاتیۃ۔ وہ اپنے خازنوں پر سرکش ہوگئی اور اس نے ان کی اطاعت نہ کی اور اس ہوا کے تیز چلنے کی وجہ سے اس پر قابو نہ رکھ سکے۔ وہ ہود اللہ تعالیٰ کے غضب کی وجہ سے غضب ناک ہوئی۔
غاتیۃ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ قوم عاد پر سرکش ہوگئی اور ان پر غالب آگئی۔ سفیان ثوری نے موسیٰ بن مسیب سے وہ شہر بن حو شب وہ حضرت ابن عباس سے روایت نقل کرتے ہیں (2) کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اللہ تعالیٰ ہوا کا جھونکا نہیں بھیجتا مگر ایک پیمانہ سے اور پانی کا قطرہ نہیں بھیجتا مگر اندازہ سے مگر قوم عاد اور قوم نوح کے دن کیونکہ پانی حضرت نوح (علیہ السلام) کے دن خازنوں پر سرکش ہوگیا خازنوں کو اس پر گرفت کی کوئی صورت نہ رہی ‘ پھر اس آیت کی تلاوت کی انا لما طغا المآء حملنکم فی الجاریۃ۔ (الحاقتہ) اور ہوا جب قوم عاد کا دن آیا تو وہ اپنے خازنوں پر سرکش ہوگئی تو ان خازنوں کو ہوا پر کوئی غلبہ نہ رہا “ پھر اس آیت بریح صر صرعاتیۃ کی تلاوت کی سخرھا علیھم اللہ تعالیٰ نے اسے بھیجا اور اسے ان پر مسلط کیا (3) تسخیر کا معنی ہے کسی شی سے قدرت کے ساتھ کام لینا۔
سبع لیال وثمنیۃ ایام حسوماً پے در پے ان میں کوئی اقنطاع نہیں، یہ حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعود وغیرہ سے مروی ہے۔ فراء نے کہا، حسوم سے مراد پے در پے کسی عمل کو کرنا ہے (4) یہ حسم الداء سے مشتق ہے جب مریض کو کا ویہ سے پے در پے داغا جائے۔ عبدالعزیز بن زرارہ نے کہا :
ففرق بینھم زمان تتابع فیہ اعوام حسوم (٭)
مبرد نے کہا : یہ تیرے قول حسمت الشیئی سے ماخوذ ہے جب تو اسے کاٹے اور دوسرے حصے سے جدا کرے۔ اور ایک قول یہ ہے : حسم سے مراد استصال ہے اور تلوار کو حسام کا جاتا ہے کیونکہ یہ دشمنی کو دشمنی کی شدت کی وجہ سے وہاں سے کاٹ دیتی ہے جہاں سے دشمن چاہے۔ شاعر نے کہا :
حسام اذا قمت معتضدا بہ کفی العود منہ البدء لیس بمعضد
وہ ایسی تلوار ہے جو میں اسے بغل میں لے کر کھڑا ہوتا ہوں تو اسی کا پہلا وار دوسرے کو کافی ہوجاتا ہے یہ درانتی نہیں۔
اس کا معنی ہے ہوا نے انہیں کاٹ کر رکھ دیا اور انہیں تباہ و برباد کردیا۔ یہ جڑ سے اکھاڑ دینے والے عذاب کے ساتھ قطع کرنے والی ہے۔ ابن زید نے کہا، ہوا نے انہیں ہلاک کردیا ان میں سے کسی کو باقی نہیں چھوڑا (1) ان سے یہ بھی مروی ہے : ہوا راتوں اور دنوں میں پے در پے آئی یہاں تک کہ انہیں ہر طرف سے گھیر لیا (2) کیونکہ پہلے دن یہ ہوا سورج کے طلوع ہونے کے قوت شروع ہوئی اور آخری دن سورج کے غروب ہونے کے وقت ختم ہوئی۔ لیث نے کہا : حسوم سے مراد نحوست ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : یہ نحوست کی راتیں ہیں، یعنی بھلائی کو ان کے اہل سے ختم کرنے والیاں ہیں، صحاح میں یہ قول کیا ہے۔ عکرمہ اور ربیع بن انس نے کہا، مراد ناحواست والے (3) ، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، فی ایام نحسات (فصلت : 16) عطیہ عوفی نے کہا : خسوماً سے مراد ہے جنہوں نے بھلائی کو ان کے اہل سے ختم کردیا (4) اس کے پہلے دن کے بارے میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اتوار کی صبح یہ سدی کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جمعہ کے دن کی صبح، یہ ربیع بن انس کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : بدھ کی صبح، یہی یحییٰ بن سلام اور وہب بن مبنہ نے کہا : وہب نے کہا : وہ دن جنہیں عرب ایام عجوز کہتے ہیں وہ ٹھنڈے اور شدید ہوا والے تھے۔ اس کا پہلا دن بدھ تھا اور آخری دن بھی بدھ تھا۔ انہیں ایک بوڑھی کی طرف منسوب کیا گیا کیونکہ قوم عاد کی ایک بوڑھی درندے کی ایک بل میں داخل ہوئی، ہوا نے اس کا پیچھا کیا اور آٹھویں دن اس کو قتل کردیا۔ ایک قول یہ کیا یا ہے : انہیں ایام عجوز اس لئے کہتے ہیں کیو کہ یہ موسم سرما کے آخر میں واقع ہوئے۔ سریانیوں کے زبان میں یہ آزار (مارچ) کے مہینہ میں ہوا ہے۔
حسوماً حال میں ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مفعول مطلق ہونے کی حیثیت سے مصنوب ہے۔ زجاج نے کہا : تحسسمھم حسوما انہیں فنا کر دے گی۔ یہ معفول مطلق ہے تاکید کے لئے ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ مفعول لہ ہو یعنی ان کی جڑ ختم کرنے کے لئے ہوا کو اتنی مدت ان پر مسلط کیا۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ حاسم کی جمع ہو۔ سدی نے حصوماً پڑھا ہے۔ یہ ریح سے حال ہے یعنی ہوا کو ان پر مسلط کیا۔ اس حال میں کہ وہ ان کی جڑ ختم کرنے والی تھی۔
فتری القوم فیھا ما ضمیر سے مراد راتیں اور دن ہیں (1) صرعیٰ یہ صریع کی جمع ہے یعنی مردہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ھا ضمیر سے مراد ہوا ہے کا نھم اعجاز نخل خاویۃ۔ اعجاز کا معنی تنے ہیں۔ خاویۃ بوسیدہ، یہ ابو طفیل کا قول ہے (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اندر سے خالی، ان میں کچھ بھی نہ تھا۔ نخل مذکر اور مونث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک اور موقع پر فرمایا : کا نھم اعجاز نخل منقعر۔ (القمر) یہ احتمال موجود ہے کہ انہیں ایسی کھجوروں سے تشبیہ دی گئی جو اپنی جڑ سے اکھیڑ کر پھینک دی گئیں۔ یہ اس امر کی خبر ہے کہ ان کو ختم کرنا بڑا عظمی امر تھا۔ یہ بھی احتمال ہو سکتا ہے کہ اس سے مراد جڑیں ہوں تنے نہ ہوں یعنی ہوا نے انہیں کاٹ کر رکھ دیا یہاں تک کہ وہ یوں ہوگئے جس طرح کھجور کی ایسی جڑیں ہوں جو اندر سے کھوکھلی ہوچکی تھیں۔ ہوا ان کے مونہوں میں داخل ہوتی اور ان کے پیٹوں میں جو انتڑیاں وغیرہ تھیں، ان کو باہر نکال دیتی تو وہ اس کھجور کی طرح ہوگئے جو اندر سے کھوکھلی تھی (3) یحییٰ بن سلام نے کہا، خاویہ کہا کیوں کہ ان کے بدن روحوں سے خالی ہوگئے تھے جس طرح کھوکھلا تنا ہوتا ہے (4) یہ بھی احتمال ہے کہ معنی ہو گویا کھجور کے ایسے تنے ہیں جو اپنی جڑوں سے خالی ہوچکے تھے جو زمین میں گڑھی ہوتی ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ نے کا فرمان ہے، فتلک بیوتھم خاویۃ (النمل : 52) یعنی وہ کھنڈر ہے ان میں کوئی رہائشی نہیں۔ خاویہ کا معنی بوسیدہ بھی ہو سکتا ہے جس طرح ہم نے ذکر کیا کیونکہ جب وہ بوسیدہ ہوجاتا ہے تو اس کا پیٹ خالی ہوجاتا ہے۔ جب وہ ہلاک کئے جا چکے تو انہیں کھجور کے کھوکھلے تنوں کے ساتھ تشبیہ دی۔
Ayah 69:8یہاں باقیہ سے پہلے فرقۃ یا نفس محذوف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں باقیۃ بقیہ کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ بقاء کے معنی میں ہے، یہ فاعلۃ کا وزن ہے۔ مصدر کے منی میں ہے جس طرح عافبہ اور عافیہ ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ اسم ہو کیا تم ان میں سے کسی کو باقی پاتے ہو۔ ابن جریج نے کہا : وہ سات راتیں اور آٹھ دن تھے۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوا کی صورت میں جو عذاب آیا اس میں وہ زندہ رہے جب آٹھویں دن کی صبح کی تو وہ مر گئے۔ ہوا نے انہیں اٹھایا اور سمندر میں پھینک دیا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان، فھل تری لھم من باقیۃ۔ اور فاصبحوا لایری الا مسکنھم (الاحقاف : 25 )
Ayah 69:9وجآء فرعون ومن قبلہ ابو عمرو اور کسائی نے ومن قبلہ پڑھا ہے، یعنی قاف کے نیچے کسرہ اور رباء پر زبر۔ معنی ہوگا جو اس کے ساتھ تھے اور لشکروں میں سے جو اس کے پیرو کار تھے۔ ابوعبید اور ابو حاتم نے حضرت عبداللہ اور حضرت ابی کی قرأت و من معہ پر اعتبار کرتے ہوئے اسے پسند کیا ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے اسے ومن تلقاء قرأت کی باقی قراء نے قبلہ قرأت کی مراد ہے جو سابقہ قومیں گزر چکی تھیں (1)
والموتفکت اس سے مراد حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کے لوگ ہیں۔ عام قرأت الف کے ساتھ ہے۔ حضرت حسن بصری اور حجدری نے والمئوتفکۃ قرأت کی ہے۔ قتادہ نے کہا، حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیوں کو موتفکات کا نام دیا کیونکہ انہیں ان لوگوں کے ساتھ الٹایا گیا تھا۔ طبری نے محمد بن کعب قرظی سے یہ کر کیا ہے : وہ پانچ بستیاں تھیں صبعہ، صعر، عمرہ، دوما اور سدوم۔ یہ بڑی بستی تھی۔ بالخاطئۃ۔ اس سے پہلے الفعلۃ کا لفظ محذوف ہے۔ اس سے مراد معصیت اور کفر ہے۔ مجاہد نے کہا : مراد وہ خطائیں ہیں جو وہ کیا کرتے تھے۔ جرجانی نے کہا : مراد بڑی خطا ہے خاطئہ مصدر ہے۔
Ayah 69:10فعصوا رسول ربھم کلبی نے کہا، اس سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : رسول سے مراد حضرت لوط (علیہ السلام) ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : مراد حضرت موسیٰ اور حضرت لوط علیہ ال سلام ہیں جس طرح فرمایا : فقولا انا رسول رب العلمین۔ (الشعرائ) ایک قول یہ کیا گیا ہے، رسول سے مراد رسالت ہے، بعض اوقات رسالتک و رسول سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس قول فاخذھم اخذۃ رابیۃ۔ رابیہ ایسی پکڑ جو پکڑوں پر بلند اور زائد ہو اور امتوں کے عذاب پر بلند ہو، اسی سے ربا کا لفظ ہے جب سونے اور چاندی میں اس سے زیادہ چیز لی گئی جو دی گئی تھی۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : ربا الثی یریو جب وہ زائد ہوجائے اور کئی گنا ہوجائے۔ مجاہد نے کہا : اس کا معنی سخت ہے گویا ارادہ کیا وہ شدت میں بڑھ کر ہے۔
Ayahs 69:11–12ان لما طغا المآء جب پانی بلند ہوگیا۔ حضرت علی شیرخ دا نے کہا، پانی سے اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کی وجہ سے فرشتوں میں سے خازنوں پر سرکش ہوگیا (2) وہ خزان اسے قابو رکھنے پر قادر نہ ہوئے۔ قتادہ نے کہا، ہر چیز پر پندرہ ہاتھ بلند ہوگیا۔ حضرت ابن عباس نے کہا : حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں پانی اپنے خازنوں پر سرکش ہوگیا، وہ ان پر بہت زیادہ ہوگیا۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ کتنا پانی نکلا۔ اس سے قبل اور اس کے بعد کوئی قطرہ نازل نہیں ہوتا مگر معلوم پیمانہ کے ساتھ نازل ہوتا صرف اس دن ایسی صورت نہ تھی۔ سورت کے آغاز میں مرفوع حدیث گزر چکی ہے۔ ان امتوں کے واقعات کے ذکر کرنے کا مقصود اور جو عذاب ان پر آئے، ان کے ذکر کا مقصود یہ ہے کہ اس امت کو رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی میں ان کفار کی اقتدا سے روکا جائے۔ پھر ان پر یہ احسان جتلایا کہ انہیں ان لوگوں میں سے بنایا جو اس غرق ہونے سے نجات پانے والے تھے۔ فرمایا : حملنکم فی الجاریۃ۔ یعنی ہم نے تمہارے آباء کو کشتی میں اٹھا لیا جبکہ تم ان کی پشتوں میں تھے۔ اس کشتی میں جن کو اٹھایا گیا تھا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی اولاد تھی۔ روئے زمین پر جو بھی انسان ہیں انہیں کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔
لبجعلھالکم تذکرۃ ماضمیر سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی ہے (1) اللہ تعالیٰ نے اسے اس امت کے لئے نصیحت بنا لیا یہاں تک کہ اس کے اوئال نے اس کشتی کو پایا، یہ قتادہ کا قول ہے۔ ابن جریج نے کہا، اس کے تختے جودی پہاڑ پر تھے (2) معنی یہ ہے میں نے تمہارے لئے ان لکڑیوں کو ب اقی رکھا تاکہ تم اس کو یاد کرو جو قوم نوح پر واقع ہوا اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے آباء کو جو نجات دی اسے یاد کرو۔ کتنی کشتیاں ہیں جو ہلاک ہوئیں اور ٹمی ہوگئیں اور ان میں سے کوئی چیز باقی نہ رہی۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : تاکہ ہم اس فعل ” یعنی قوم نوح کو غرق کرنا اور جو ایمانل ایا تھا اسے نجات دینا “ کو تمہارے لئے نصیحت بنا دیں اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : وتعیھآ اذن واعیۃ۔ یعنی اسے یاد رکھیں اور اسے کان سنیں اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے جو کچھ آیا ہے اسے یاد رکھیں۔ سفینہ کی صفت اس کے ساتھ نہیں نکالی جاسکتی۔ زجاج نے کہا : یہ جملہ بولا جاتا ہے وعیت کذا اعیہ وعیاً اسے میں نے اپنے دل میں یاد کیا۔ وعیت العلم، وعیت ماقلت، سب کا ایک ہی معنی ہے۔ اوعیت المتاع الوعا میں نے برتن میں سامان کو محفوظ کیا۔ زجاج نے کہا، ہر وہ چیز جس کو تو اپنی ذات کے علاوہ کسی اور چیز میں محفوظ رکھے، اس کے لئے ادعیتہ کا لفظ جو بولا جاتا ہے جسے تو اپنی ذات میں محفوظ رکھے اس کے لئے وعیتہ کا لفظ بولا جاتا ہے (3) طلحہ، حمید اور اعرج نے وتعیھا عین کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے اسے ارنا کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ عاصم اور ابن کثیر سے اس بارے میں اختلاف مروی ہے اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : وتعیھآ اجن واعیہ۔ ان فی ذلک لذکری لمن کان لہ قلب ( ق : 37) قتادہ نے کہا : اذن واعیۃ سے مراد ایسے کان ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ سے سجھ بوجھ نصیب ہوئی اور اللہ تعالیٰ کی کتاب سے جو کچھ سنا اس سے فائدہ اٹھایا (4) مکحول نے کہا، حضرت علی ششیر خدا کہا کرتے تھے میں نے رسول اللہ ﷺ سے کبھی بھی کوئی چیز نہیں سنی جسے میں بھول گیا ہوں بلکہ میں نے اسے یاد رکھنا، پادری نے اسے ذکر کیا ہے۔ حضرت حسن بصری سے بھی اسی طرح مروی ہے، ثعلبی نے اسے ذکر کیا ہے۔ کہا : جب وتعیھاً اذن واعیۃ آیت نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” اے علی ! میں نے اپنے رب سے سوال کیا ہے کہ اسے تیرے کان بنا دے۔ “ (5) حضرت علی شیر خدا نے کہا، اللہ کی قسم ! میں اس کے بعد کوئی چیز نہیں بھولا اور میرے لئے زیبا نہیں کہ میں کسی چیز کو بھولوں۔ ابو برزہ اسلمی نے کہا : نبیک ریم ﷺ نے حضرت علی شیر خدا سے فرمایا :” اے علی ! اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں تھے قریب کروں اور تجھے دو نہ کروں، میں تھجے تعلیم دوں اور تو اسے یاد رکھے۔ “ (6) درمنشور میں الفاظ اس طرح ہیں ” تجھ پر لازم ہے تو اسے یاد رکھے، اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ تجھے یاد رکھے۔ “
Ayah 69:13حضرت ابن عباس نے کہا، یہ قیامت کے برپا ہونے کے وقت پہلا نفخہ ہے (1) اس وقت ہر کوئی مر جائے گا۔ نفخ کو مذکر لانا بھی جائز ہے کیونکہ نفخہ کی تانیث غیر حقیقی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس نفخہ سے مراد دوسرا نفخہ ہے۔ فرمایا : نفخۃ واحدۃ یعنی اس کو دوبارہ نہیں پھونکا جائے گا۔ اخفش نے کہا، فعل، نفخہ پر واقع ہوا کیونکہ اس سے پہلے کوئی اسم مرفوع نہیں تو اسے نفخۃ کہا۔ یہ بھی جائز ہے کہ مفعول مطلق ہونے کی حیثیت سے منصوب ہو۔ ابو سمال نے اسے یوں ہی پڑھا ہے یا کہا جاتا ہے، صرف فعل کے ساتھ خبر دینے پر اقتصار کیا گیا ہے جس طرح تو کہتا ہے : ضرب ضربا زجاج نے کہا، فی الصور نائب فاعل کے قائم مقام ہے۔
Ayah 69:14وحملت الارض والجبال عام قرات میم کی تخفیف کے ساتھ ہے یعنی انہیں اپنی جگہوں سے اٹھا لیا جائے گا۔ (2) فدکتا انہیں ریزہ ریزہ کردیا جائے گا دکۃ واحدۃ۔ دکۃ میں نصب ہی جائز ہے کیونکہ فدکتا میں ضمیر مرفوع ہے فراء نے کہا : فدککن نہیں کہا کیونکہ تمام پہاڑوں کو ایک پہاڑ کی طرح بنا دیا گیا اور زمین کو ایک بنا دیا گیا (3) اسی کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان السموت والارض کا نتا رتقاً (الانبیائ : 30) یہاں بھی کن نہیں فرمایا یہ دلزلزلہ کی طرح ہوگا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے اذا زلزلت الارض زلزالھا۔ (الزلزلہ) ایک قول یہ کیا گیا ہے دکتا کا معنی ہے دونوں کو ایک ہی دفعہ پھیلا دیا جائے گا اسی سے اندک سنام البعیر ہے جب اس کی کہ ان اس کی پشت میں پھیلج ائے۔ سورة الاعراف میں اس بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ عبدالحمید نے ابن عامر سے یہ قرات نقل کی ہے وحملت الارض والجبال یعنی تشدید کے ساتھ اسے پڑھا ہے کیونکہ فعل دوسرے فعلوں کی طرف متعدی ہے گویا اصل کلام یوں وے رحملت قدرتنا او ملکا من ملائکتنا الارض ولاجبال پھر فعل کو دوسرے فعلوں کی طرف منسوب کیا گیا تو اس کے لئے یہ صیغہ بنایا گیا۔ اگر پہلا مفعول لایا جائے تو فعل کو اس کی طرف منسوب کیا جائے گا۔ گویا فرمایا : وحملت قدرتنا الارض کبھی قلب کے طریقہ پر دوسرے مفعول کے لئے اسے مجہول کا ذکر کرنا بھی جائز ہے تو کہا جائے گا : حملت الارض الملک جس طرح تیرا قول ہے : البس زید الجبۃ اور البست الجبۃ زیدا۔
Ayahs 69:15–17فیومئذ وقعت الواقعۃ۔ جس روز قیامت قائم ہوگی (1) وانشقت السمآء آسمان پھٹ جائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، وہ پھٹ جائے گا کہ جو فرشتے اس میں ہیں وہ نیچے اتر آئیں گے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ویوم تشق السمآء بالغمام ونزل الملٓئکۃ تنزیلاً ۔ (الفرقان) یہ بحث پہلے گزر چکی ہے فھی یومئذ واھیۃ وہ اس دن کمزور ہوگا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : وھی البناء یھی وھیافھو واہ جب وہ بہت کمزور ہوجائے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : کلام واہ ضعیف کلام۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنی سختی کے بعد کمزوری میں اون کی طرح ہوجائیں گے۔ یہ فرشتوں کے نازل ہونے کے لئے ہوگا جس طرح ہم نے ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : قیامت کی ہولناکی کی وجہ سے ایسا ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : واھیۃ کا معنی ہے اس میں سوراخ ہوجائیں گے، یہ ابن شجرہ نے کہا ہے (2) یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے : وھی السقاء جب اس میں سوراخ ہوجائیں۔ ان کی امثال میں سے ہے :
خل سبیل من وھی سقاءہ ومن ھریق بالفلاۃ ماء ہ
اس آدمی کا راستہ چھوڑ دے جس کا مشکیزہ پھٹ گیا ہو اور جس کا پانی جنگل میں بہہ گیا ہو۔ یعنی جو کمزور عقل والا ہو وہ اپنا دفاع نہیں کرسکتا۔ والملک اس سے مراد فرشتے ہیں یہ اہم جنس ہے علی ارجآء ئھا جب آسمان پھٹ جائے گا تو فرشتے اس کی اطراف میں ہوں گے کیونکہ آسمان میں ان کا امکان تھا یہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ مادری نے کہا، شاید یہ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے۔ ثعلبی نے اسے ضحاک سے روایت کیا ہے۔ کہا : اس کے ان اطرفا پر جو پھٹی نہیں۔ یہ ارادہ کیا کہ آسمان فرشتوں کا مکان ہے جب وہ پھٹ گیا تو وہ اس کی اطراف میں چلے گئے۔ سعید بن جبیر نے کہا، معنی ہے فرشتے دنیا کی اطراف میں ہونگے یعنی زمین کی طرفا تریں گے اور اس کی اطرفا کی نگہبانی کریں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب آسمانٹ کڑیٹ کڑے ہوجائے گا تو فرشتے ان ٹکڑوں پر کھڑے ہوجائیں گے جو خود نہیں پھٹے ہونگے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لوگ جب جہنم دیکھیں گے تو جہنم ان کو خوفزدہ کر دے گی تو وہ یوں بھاگ کھڑے ہونگے جس طرح اونٹ بھاگتا ہے وہ زمین کے کسی کونے میں نہیں آئیں گے مگر وہ فرشتوں کو دیکھیں گے تو جہاں سے آئے تھے واپس چلے جائیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اس کی اطراف میں انتظار کر رہے ہونگے کہ جہنمیوں کے بارے میں انہیں جو حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں جہنم میں ہانک دیا جائے اور اہل جنت کے بارے میں سلام اور کرامت کا حکم دیا جائے۔ یہ سب ابن جبیر کے قول کے معنی کی طرف راجع ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : ونزل الملئکۃ تنزیلاً ۔ (الفرقان) اور یمعشر الجن والارنس ان استطعتم ان تنفذوا من اقطار السموت والارض (الرحمٰن : 33) اس پر دلالت کرتا ہے جس طرح ہم نے وہاں بیان کیا ہے۔ ارجاء کا معنی اطراف ہے، یہ بذیل کی لغت ہے اس کا واحد رجا ہے اس کی تثنیہ رجوان ہے جس طرح عصا اور عصوان ہے۔ شاعر نے کہا :
فلا یرمی بی الرجوان ان اقتل القفوم من یغنی مکان
مجھے دونوں طرفوں میں نہیں پھینکا جاسکتا میں قوم میں سب سے قلیل ہوں میرے مکان سے کون بےنیاز ہو سکتا ہے۔ یہ لفظ کنوئیں اورق بر کے کنارے کے لئے بھی بولا جاتا ہے۔
ویحمل عرش ربک فوقھم یومئذ ثمنیۃ۔ حضرت ابن عباس نے کہا : فرشتوں کی آٹھ صفیں ہوں گی (1) جن کی تعداد کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ ابن زید نے کہا، یہ آٹھ فرشتے ہیں (2) حضرت حسن بصری سے مروی ہے : اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ آٹھ ہیں یا آٹھ ہزار ہیں (3) نبی کریم ﷺ سے مروی ہے :” آج عرش کو اٹھانے والے چار ہیں جب قیامت کا روز ہوگا تو اللہ تعالیٰ چار اور سے ان کی مدد کرے گا وہ آٹھ ہوجائیں گے۔ “ ثعلبی نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ماوردی نے اسے حضرت ابوہریرہ سے نقل کیا ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، یحملہ الیوم اربعۃ وھم یوم القیامۃ ثمانیہ آج چار اسے اٹھائے ہوئے ہیں قیامت کے روز وہ آٹھ ہونگے۔ عباس بن عبدالملک نے کہا، وہ پہاڑی بکروں کی شکل میں آٹھ فرشتے ہیں، اسے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ حدیث طیبہ میں ہے : ” ان فرشتوں میں سے ہر ایک کے چار منہ ہیں انس ان کا چرہ، شیر کا چہرہ، بیل کا چہرہ اور گدھ کا چہرہ۔ ہر چہرہ اپنی جنس کے لئے رزق طلب کرتا ہے۔ “ (4) جب امیہ بن بی صلت کے اشعار نبی کریم ﷺ کے سامنے پڑھے گئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” اس نے سچ کا۔ “
رجل و ثور تحت رجل یمینہ والنسر للاخری و لیث مرصد
والشمس تطلع کل آخر لیلۃ حمراء یصبح لونھا یتورد
لیست بطلالعۃ لھم فی رسلھا الا معذبۃ و الا تجلد
حدیث طیبہ میں ہے : ” استویں آسمان کے اوپر آٹھ پہاڑی بکرے ہیں ان کے کھروں کے گھنٹوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا فاصلہ ایک آسمان سے دوسرے آسمان کے درمیان ہے ان کی پشتوں پر عرش ہے۔ “ (5) قشیری نے یہ ذکر کیا ہے۔ امام ترمذی نے حضرت عباس بن عبدالمطلب کی حیدث تخریج کی ہے : سورة بقرہ میں وہ مکمل گزر چکی ہے۔ ثعلبی نے اسی کی مثل اور اس کے الفاظ ذکر کئے ہیں۔ حدیث مرفوع میں ہے : ” عرش کو اٹھانے والے آٹھ فرشتے ہیں جو پہاڑی بکروں کی شکل پر ہیں ان کے کھروں اور گھٹنوں کے درمیان تیز رفتار پرندے کے لئے ستر سال کی مسافت ہے۔ “ کلبی کی تفسیر میں یہ الفاظ ہیں ثمانیۃ اجزا من تسعۃ اجزاء من الملائکۃ ان سے یہ بھی مروی ہے ثمانیۃ اجزاء من عشرۃ اجزاء من الملائکۃ کی تعداد کا ذکر کیا جس کا ذکر طویل ہے۔ پہلا قول ثعلبی نے ان سے نقل کیا اور دوسرا قول قشیری نے نقل کیا ہے۔ ماوردی نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے : ثمانیۃ اجزاء من تسعۃ یہی مقرب فرشتے ہیں (6) ۔ عرش کی اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت اسی طرح ہے جس طرح بیت کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے، بیت رہائش کے لئے نہیں یہی کیفیت عرش کی ہے۔ فوقھم کا معنی ہے ان کے سروں کے اوپر۔ سدی نے کہا، عرش کو حاملین عرش اپنے اوٹر اٹھائے ہوئے ہونگے جبکہ عرش کو اٹھانے والوں پر رکھنے والا صرف اللہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، فوقھم سے مراد ہے عرش کو اٹھانے والے فرشتے ان فرشتوں کے اوپر ہوں گے (1) جو آسمان میں اس کی اطراف میں ہوں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فوقھم سے مراد فوق اھل القیامۃ ہے۔
یومئذ تعرضون لاتخفی منکم خافیۃ
” وہ دن جب تم پیش کئے جائو گے تمہارا کوئی راز پوشیدہ نہ رہے گا۔ “
یومئذ تعرضون جس روز تمہیں اللہ تعالیٰ پر پیش کیا جائے گا۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے : وعرضوا علی ربک صفا (الہکف : 48) یہ وہ پیشی نہیں جس کے ذریعے اس چیز کو جانا جائے جس سے پہلے آگاہ نہ ہ، بلکہ اس کا معنی حساب ہے اور جزا کے لئے ان پر اعمال واضح کرتا ہے۔ حضرت حسن بصری نے حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ؓ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” قیامت کے روز لوگوں کی تین پیشیاں ہونگی جہاں تک دو پیشیوں کا تعلق ہے وہ جھگڑا اور معذرت ہے، جہاں تک تیسری پیشی کا تعلق ہے اس موقع پر صحیفے ہاتھوں میں اڑ کر پہنچیں گے کوئی اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑے گا اور کوئی اپنے بائیں ہاتھ میں پکڑے گا۔ “ (2) اسے امام ترمذی نے نقل کیا ہے۔ یہ روایت صحیح نہیں کیونکہ حضرت حسن بصری نے حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل نہیں کی۔
Ayah 69:18لاتخفی منکم خافیۃ۔ وہ تمہارے اعمال میں سے ہر عمل کو جانتا ہے اس تعبیر کی بنا پر خافیۃ خفیہ کے معین میں ہے وہ اپنے اعمال چھپایا کرتے تھے، یہ ابن شجرہ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کوئی انسان اس پر مخفی نہیں رہے گا یعنی کوئی انسان باقی نہیں رہے گا جس کا محاسبہ نہ ہو۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص نے کہا، مومن کافر سے اور نیک فاجر سے مخفی نہیں رہے گا (3) ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمہاری شرمگاہیں پردہ میں نہ ہوں گی۔ جس طرح نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” لوگ ننگے پائوں اور ننگے بدن اٹھائے جائیں گے۔ “ (4) عاصم کے علاوہ کو فیوں نے لایخفی پڑھا ہے کیونکہ خافیۃ کی تانیث غیر حقیقی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : واخذ الدین ظلموا الصیحۃ (ہود : 67) ابوعبیدہ نے اسے پسند کیا ہے کیونکہ فعل اور اسم مونث کے درمیان جار اور مجور حائل ہے۔ باقی قراء نے تاء کے ساتھ اسے پڑھا ہے۔ ابو حاتم نے اسے خافیۃ کی تانیث کی وجہ سے اسے اختیار کیا ہے۔
Ayah 69:19فاما من اوتی کتبہ بیمینہ دائیں ہاتھ میں کتاب دینا یہ نجات کی دلیل ہے (1) حضرت ابن عباس نے کہا : اس امت میں سب سے پہلے جسے دائیں ہاتھ میں کتاب دی جائے گی وہ حضرت عمر بن خطاب ہونگے، اس کی شعاع یوں ہوگی جس طرح سورج کی شعاع ہوتی ہے۔ ان سے پوچھا جائے گا : ابوبکر کہاں ہیں ڈ حضرت عمر کہیں گے : بہت دور بہت دورچ فرشتے اسے گھیرے میں لے کر جنت کی طرف لے گئے ہیں، ثعلبی نے اس کا ذکر کیا ہے ہم نے ” تذکرہ ‘ کتاب میں حضرت زید بن ثابت سے مرفوع حدیث انہیں الفاظ اور معین کے ساتھ نقل کی ہے۔ الحمد للہ
فیقول ھآوم اقرء وا کتبید۔ وہ اسلام پر اعتماد کترے ہوئے اور اپنی نجات پر خوش ہوتے ہوئے یہ کہے گا کیونکہ یمین عربوں کے اسی خوشی کے دلائل اور شمال غم کی نشانیوں میں سے ہے (2) شاعر نے کہا :
ابینی افی یمنی یدیک جعلتنی فافرح ام صیرتنی فی شمالک (3)
مجھ پر واضح کرو کیا تو نے مجھے اپنے دائیں ہاتھ میں رکھا ہے تو خوش ہوں یا تو نے مجھے بائیں ہاتھ میں رکھا ہے۔
ھآوم کا معنی ہے آو یہ ابن زید کا قول ہے۔ مقاتل نے کہا، اس کا معنی ہے لو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یعنی پکڑو۔ اس معنی میں ربا کے بارے میں ایک روایت ہے اور ھاء و ھاء ہر ایک اپنے ساتھی کے بارے میں کہے گا پکڑ لو۔ ابن کسیت اور کسائی نے کہا : عرب کہتے ہیں ھاء یا رجل اقرا دو کو کہتے ہیں : ھاء مایا رجلان۔ ھائوم یا رجالا۔ عورت کے لئے کہتے ہیں : ھاء ھائو ما، ھائون اصل میں یہ ھاکم تھا۔ کاف کو ہمزہ کی صورت میں بدل دیا ہے : یہ قتیبی کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ھاءم ایسا کلمہ ہے جو نشاط اور فرحت کے وقت بلانے والے کو جواب دینے کے بولا جاتا ہے (1) روایت بیان کی جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک بدو نے بلند آواز سے بلایا تو نبی کریم ﷺ نے اسے ھاءم کے ساتھ جواب دیا اور آواز کو لمبا کیا (2) اور کتابیہ یہ کو فیوں کے نزدیک یہ ھائوم سے منصوب ہے بصریوں کے نزدیک اقرا ئوا کے ساتھ منصوب ہے کیونکہ دونوں عاملوں میں سے یہ قریبی عامل ہے اصل کتابی ہے ھاء کو داخل کیا گیا ہے تاکہ یاء کے فتحہ کو واضح کیا جائے۔
ھاء وقف کے لئے ہے اسی طرح اس کے اخوات حسابیہ، ملایہ اور سلفانیہ میں ہے سورة قارعہ میں ماھیہ ہے عام قرات وقف اور وصل دونوں صورتوں میں ھاء کے ساتھ ہے کیونکہ مصحف میں یہ ھاء کے ساتھ ہے اسے ترک نہ کیا جائے گا۔ ابوعبید نے یہ پسند کیا ہے کہ ان پر وقف کیا جائے تاکہ سکتہ میں ھائ کے لاحق کرنے میں لغت کے موافق ہوجائے اور خط کے بھی موافق ہوجائے۔ ابن محصین، مجاہد، حمید اور یعقوب نے وصل میں ھاء کے حذف اور وقف میں ھاء کو سب میں ثابت رکھا ہے حمزہ نے مالیہ اور سلطانیہ میں اور سورة قارعہ میں ماھیۃ ان کیم وافقت کی ہے مجموعی طور پر یہ سات حروف ہیں۔ ابو حاتم نے یعقوب اور اس کے ساتھیوں کی قرات کو اختیار کیا ہے کیو کہ وہ لغت کی اتباع کرتے ہیں۔ جنہوں نے وصل میں ھاء کے ساتھ پڑھا ہے تو وہ بھی وقف کی نیت پر ہوگا۔
Ayah 69:20انی ظنت مجھے یقین اور علم ہے (3) حضرت ابن عبسا اور دوسرے علماء سے یہ مروی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، مجھے یہ یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ میرا میرے گناہوں کی وجہ سے مواخذہ کرے گا۔ اس نے مجھے معاف کرنے کے ساتھ مجھ پر فضل و احسان فرمایا اور میرا مواخذہ نہ کیا۔ ضحاک نے کہا، قرآن حکیم میں جہاں بھی لفظ ظن استعمال ہوا ہے اس کی نسبت مومن کی طرف ہے (4) تو وہ یقین کے معنی میں ہے اور کافر کی طرف نسبت ہو تو وہ شک کے معنی میں ہے۔ مجاہد نے کہا، آخرت کا ظن یقین ہے اور دنیا کا ظن شک ہے۔ حضرت حسن بصری نے اس آیت کے بارے میں فرمایا : مومن اپنے رب کے بارے میں حسن ظن رکھتا ہے تو وہ اچھا عمل کرتا ہے اور منافق اپنے رب کے بارے میں برا گمان رک تھا ہے تو وہ برا عمل کرتا ہے۔ (5)
انی ملق حسابیہ۔ میں آخرت میں اپنے حساب کو پانے والا ہوں میں بعث کا انکار نہیں کرتا یعنی اس نے نجات نہیں پائی مگر اس وجہ سے کہ اسے یوم حساب کا خوف تھا کیونکہ اسے یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کا محاسبہ کرے گا تو اس نے آخرت کے لئے عمل کیا۔
Ayah 69:21فھو فی عیشۃ راضیۃ۔ وہ ایسی زندگی میں ہوگا جس پر وہ راضی ہوگا اس میں کوئی نپاسندیدہ چیز نہ ہوگ ی۔ ابو عبیدہ اور فراء نے کہا، راضیۃ سے مراد مرضیۃ ہے جس طرح تیرا قول ہے : ماء دافق یہ مدفوق کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ذات رضا کے معنی میں ہے یعنی اس سے اس کا صاحب راضی ہوگا، جس طرح لابن اور تامر سے مراد دودھ والا کھجور والا ہے۔ صحیح میں نبی کریم ﷺ سے مروی ہے : ” وہ زندہ رہیں گے کبھی بھی نہیں مریں گے، وہ صحت مند رہیں گے وہ کبھی بھی بیمار نہیں ہونگے وہ نعمتوں میں ہونگے کبھی تکلیف نہ دیکھیں گے، وہ جوان رہیں گے کبھی بھی بوڑھے نہ ہوں گے۔ “ (1)
Ayahs 69:22–23فی جنۃ عالیۃ۔ ایسی جنت جو نفوس میں عظیم شان والی ہے۔ قطوفھا دانیۃ۔ اس کے گچھے قریب ہونگے آسانی سے انہیں حاصل کیا جاسکے گا، کھڑا ہوا، بیٹھا وہا اور لیٹا وہا اسے توڑ لے گا۔ اس کی وضاحت سورة الدخان میں آئے گی۔ قطوف یہ قطف کی جمع ہے اس سے مراد وہ پھل ہیں جنہیں توڑا جاتا ہے۔ قطف یہ مصدر ہے قطاف یہ توڑنے کا وقت ہے۔
Ayahs 69:24–28کلووا شربوا انہیں یہ کہا جائے گا : کھائو اور پیو۔ ھنیا مبارک ہو اس میں کوئی تکرار اور بدمزگی نہ ہوگ ی۔ بما اسلفتم کے بعد کلوا فرمایا کیونکہ پہلے فرمایا، فاما من اوتی من اپنے ضمن میں جمع کا معنی لئے ہوئے ہے۔ ضحاک نے یہ ذکر کیا ہے کہ یہ آیت ابو سلمہ عبداللہ بن عبدالسلاد مخزوی کے حق میں نازل ہوئی، یہ مقاتل کا قول ہے۔ وہ آیت جو اس کے بعد آرہی ہے وہ اس کے بھائی اسود بن عبدالاسد کے حق میں نازل ہوئی، یہ حضرت ابن عباس اور ضحاک کا قول ہے۔ یہ ثعلبی نے کہا ہے : یہ اور اس کا بھائی ان آیات کے نزول کا سبب ہوگا معنی تمام اہل شقاوت اور اہل سعادت کو عام ہوگا جس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان کلوا واشربوا دلالت کرتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد ہے ہر وہ آدمی، خیر اور شر میں جس کی پیروی کی جاتی ہے۔ جب کوئی آدمی بھلائی میں سردار ہو، اس کی طرف دعوت دیتا ہو، اس کا حکم دیتا ہو اور اس کے پیرو کار زیادہ ہوجائیں اسے اس کے نام اور ان کے باپ کے نام سیب لایا جاتا ہے تو وہ آگے بڑھ جاتا ہے یہاں تک کہ جب وہ قریب ہوتا ہے اس کے لئے سفید کتاب سید خط سے لکھی ہوئی نکالی جاتی ہے اس کے اندر برائیاں ہوتی ہیں اور اس کے ظاہر میں نیکیاں ہوتی ہیں، وہ برائیوں سے شرع کرتا ہے وہ انہیں پڑھتا ہے وہ ڈرتا ہے، اس کا چہرہ زرد پڑجاتا ہے اور اس کا رنگ متغیر ہوجاتا ہے، جب کتاب کے آخر میں پہنچتا ہے اس میں پاتا ہے : ” یہ تیری برائیاں تھیں میں نے تجھے بخش دیا ہے “ وہ اس پر بہت خوش ہوتا ہے پھر وہ کتاب کو اٹھاتا ہے تو اپنی نیکیوں کو پڑھتا ہے تو اس کی خوشی کے علاوہ کسی چیز میں اضافہ نہیں ہوتا یہاں تک کہ جب کتاب کے آخر میں پہنچتا ہے تو اس میں پاتا ہے :” یہ تیری نیکیاں تھیں تیرے لئے ان میں کئی گنا اضافہ کردیا گیا ہے “ اس کا چہرہ روشن ہوجاتا ہے۔ ایک تاج لایا جاتا ہے جو اس کے سر پر رکھا جاتا ہے، اسے دو حلے پہنائے جاتے ہیں ہر جوڑ میں زیورات ڈالے جاتے ہیں، اس کا قد ساٹھ ذرائع ہوجاتا ہے۔ یہ حضرت آدم (علیہ السلام) کا قد تھا۔ اسے کہا اجتا : اپنے ساتھیوں یک طرف جائو انہیں خبر دو اور بشارت دو کہ ان میں سے ہر انسان کے لئے اس کی مثل ہے۔ جب وہ پیٹھ پھیرتا ہے تو کہتا ہے : ھآءم اقرء وا کتبیہ۔ انی ظننت انی ملق حسابیہ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : فھو فی عیشۃ راضیۃ یہاں راضیۃ مرضیۃ کے معنی میں ہے جس پر وہ راضی ہوگا فی جنۃ عالیۃ یعنی باغ آسمان میں ہے قطوفھا اس کے پھل اور انگور دانیۃ ان کے قریب ہیں۔ وہ اپنے ساتھیوں سے کہے گا : کیا تم مجھے پہچانتے ہوڈ وہ کہیں گے کہا مت نے تجھے ڈھانپ رکھا ہے تو کون ہے ؟ وہ کہے گا : میں فلاں بن فلاں ہوں تو میں سے جو بھی ہے اسے اس کی مثل کی بشارت دے دو کلو واشربوا ھنیاء بما اسلفتم فی الایم الالیۃ تم نے دنیا کے ایام میں آگے بھیجا ہے۔
جب ایک آدمی شر میں سردار تھا، اس کی طرف دعوت دیتا تھا، اس کا حکم دیتا تھا اس پر اس کے پیروکار زیادہ ہوگئے اسے اس کے نام اور اس کے باپ کے نام کے ساتھ ندا کی جائے گی وہ اپنے حساب کے لئے آگے بڑھے گا، اس کے لئے ایک سیاہ کتاب سیاہ نزول میں نکالی جائیگی اس کے اندر نیکیاں ہونگی اور اس کے باہر برائیاں ہوگنی وہ نیکیوں سے شروع کرے گا انہیں پڑے گا اور وہ گمان کرے گا کہ وہ نجات پا جائے گا جب کتاب کے آخر تک پہنچے گا تو اس میں یہ پائے گا :” یہ تیری نیکیاں تھیں جو تجھ پر رد کردی گئی ہیں “ اس کا چہرہ سیاہ ہوجائے گا، حزن غالب آجائے گا اور بھلائی سے مایوس ہوجائے گا۔ وہ اپنی کتاب ال ٹے گا تو اپنی برائیاں پڑھے گا تو اس کے حزن میں اضافہ ہوگا اس کے چہرہ کی سیاہی میں اضافہ ہی ہوتا ہے جائے گا جب کتاب کے آخر تک پہنچے گا تو اس کے آخر میں پائے گا : ” یہ تیری برائیاں تھیں یہ تجھ پر کئی گنا کردی جائیں گی۔ “ یعنی عذاب ان پر کئی گنا کردیا جائے گا۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ اس نے جو عمل نہیں کیا وہ اس پر زائد کردیا جائے گا۔ کہا : اسے آگ کے لئے بڑا کردیا جائے گا، اس کی آنکھیں نیلی ہوجائیں گی اور اس کا چہرہ سیاہ ہوجائے گا اسے تارکول کے پاجامے پہنائے جائیں گے اور اسے کہا جائے گا، اپنے ساتھیوں کی طرف جائو اور انہیں بتائو کہ ان میں سے ہر انسان کے لئے اسی کی مثل ہے۔ وہ جائے گا : اور کہے گا ہائے کاش ! مجھے کتاب نہ دی جائے اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے : ہائے کا شچ یہ موت میرا معاملہ تمام کردیتی وہ موت کی تمنا کرے گا۔
Ayahs 69:29–34ھلک عنی سلطنیہ۔ حضرت ابن عباس نے یہ تفسیر بیان کی ہے : مجھ سے میری محبت ہلاک ہوگئی (1) ، یہ مجاہد، عکرمہ، سعدی اور ضحاک کا قول ہے۔ ابن زید نے کہا : یہاں سلطان سے مراد دنیا میں جو حکومت و بادشاہت تھی۔ یہ آدمی ایسا تھا جس کے ساتھی اطاعت کیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : خذوہ فغلوہ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ایک لاکھ فرشتے اس کی طرف جلدی کریں گے پھر اس کے ہاتھ کو اس کی گردن کے ساتھ جمع کردیا جائے گا اللہ تعالیٰ کے فرمان فغلوہ کا یہی مفوہم ہے اسے طوق کے ساتھ جکڑ دو ثم الجحیم صلوۃ۔ اسے یوں بنا دو کہ وہ جہنم کی آگ کو تاپتا رہے۔ ثم فی سلسلۃ ذرعھا سبعون ذراعاً اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ یہاں کون سا ذراع ہے یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : فرشتوں کے ہاتھ کے برابر ستر ہاتھ (2) نوف نے کہا : ہر ہاتھ ستر باغ کا ہوگا اور ہر باغ تیرے اور مکہ کے درمیان کا فاصلہ ہے (3) اس وقت وہ کوفہ کے علاقہ میں تھا۔ مقاتل نے کہا، اگر اس کا ایک حلقہ پہاڑ کی چٹوی پر رکھا جائے تو وہ یوں پھگل جائے جس طرح سیسہ پگھل جاتا ہے۔ کعب نے کہا، اس زنجیر کا ایک حلقہ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے یوں کیا ذرعھا سبعن ذراعاً دنیا کے تمام لوہے کی طرح ہے فاسلکوہ۔ سفیان نے کہا، ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ اسے اس کی دبر میں داخل کیا جائے گا یہاں تک کہ اس کے منہ سے نکالا جائے گا، یہ مقاتل کا قول ہے معنی ہے پھر اس میں زندیر داخل کرو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کیی گردن میں وہ زنجیر ڈلای جائے گی پھر اس کے ساتھ اسے کھینچا جائے گا۔ حدیث میں آیا ہے :” وہ اس کی دبر سے داخل کی جائے گی اور اس کے نتھنوں سے نکالی جائے گی۔ “ (4) ایک اور روایت میں ہے :” اس کے منہ سے داخل کی جائے گی اور اس کی دبر سے نکالی جائے گی “ وہ اپنے ساتھیوں کو ندا کرے گا : کیا تم مجھے پہنچانتے ہو ؟ وہ کہیں گے : نہیں مگر جس ذلت و رسوائی میں تو مبتلا ہے اس کو ہم دیکھ رہے ہیں تو کون ہے وہ اپنے ساتھیوں کو ندا کرے گا : میں فلاں بن فلاں ہوں تم میں سے ہر انسان کے لئے ایسا ہی عذاب ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ تفسیر ترین ہے جو اس آیت کے بارے میں کہی گئی ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے : یوم ندعوا کل اناس باماھم (الاسرائ : 71) اس باب میں حضرت ابوہریرہ کی حدیث ہے جسے امام ترمذی نے نقل کیا ہے ہم نے اسے سورة الاسراء میں بیان کیا عے، وہاں سے اس میں غور و فکر کرلے۔
انہ کان لایومن باللہ العظیم۔ ولا یحض علی طعام الم کسی ن۔ یہاں طعام، اطعام کے معنی میں ہے جس طرح عطاء کو اعطاء کی جگہ رکھا جاتا ہے۔ شاعر نے کہا :
اکفرا بعد رد الموت عنی و بعد عطائک المائۃ الرتاعا
کیا اس کے بعد بھی ناشکیر ہو سکتی ہے کہ تو نے موت کو مجھ سے دور کیا اور تو نے سو اونٹ دیئے جو چرانے والے تھے۔
اس شعر میں بھی عطاء، اعطاء کے معین میں ہے۔ اس امر کو واضح کیا انہیں کھانا کھلانے کے ترک اور بخل کا حکم دینے پر عذاب دیا گیا جس طرح کفر کے سبب سے عذاب دیا گیا۔ حض سے مراد برانگیختہ کرنا ہے۔ لفظ طعام میں صال تو یہ ہے کہ وہ مصدر مقدر کے ساتھ منصوب ہو طعام سے مراد عینی چیز ہے اسے مسکین کی طرف مضاف کیا گیا کیونکہ مسکین اور طعام میں گہرا تعلق ہے جس طرح اطعام عمل کرتا ہے اسی طرح طعام بھی عمل کرتا ہے پس لفظ مسکین کا محل نصب ہے تقدیر کلام یہ ہوگی علی اطعام المطعم المسکین عامل کو حذف کیا اور مصدر کو مفعول کی طرف مضاف کیا گیا۔
Ayahs 69:35–37فلیس لہ الیوم ھھنا حمیم۔ لہ، لیس کی خبر ہے ھاھنا اس کی خبر نہیں کیونکہ اسے خبر بنایا جائے تو معنی یہ بنتا ہے وہاں کھانا نہیں مگر غسلین۔ یہ صحیح نہیں کیونکہ وہاں غسلین کے علاوہ بھی کھانا ہے ھاھنا اس فعل کے متعلق ہے جو لہ کے معنی میں پایا جاتا ہے۔ یہاں حمیم سے مراد قریبی ہے یعنی اس کا کوئی قریبی نہیں جو اس کے لئے نرمی کرے اور اس کا دفاع کرے۔ یہ حمیم سے ماخوذ ہے جس کا معین گرم پانی ہے کیونکہ دوست وہ ہوتا ہے جو اس کے لئے نرمی کرتا ہے اور اس کا دل اس کے لئے جلتا ہے۔
غسلین، یہ غسل سے فعلین کا وزن ہے گویا یہ ان کے بدنوں سے نچڑتا ہے، یہ جہنمیوں کی پیپ ہے جو ان کے زخموں اور شرمگاہوں سے بہتی ہے، حضرت ابن عباس سے مروی ہے ضحاک اور ربیع بن انس نے کہا، اس سے مراد ایسا درخت ہے جسے جہنمی کھاتے ہیں غسل سے مراد وہ چیز ہے جس کے ساتھ سر کو دھویا جاتا ہے جس طرح خطمی مٹی وغیرہ (1) اخفش نے کہا : اسی سے غسلین ہے اس سے مراد وہ چیز ہے جو جہنمی کے گوشت اور خون سے بہتی ہے اس میں یاء نون کا اضافہ کیا گیا ہے جس طرح عفرین میں اضافہ کیا گیا ہے۔ قتادہ نے کہا : اس سیم راد سب سے برا کھانا ہے۔ ابن زید نے کہا، نہ اس کا پتہ ہے اور نہ ہی زقوم کا پ تہ ہے کہ وہ کیا ہے ایک اور موقع پر کہا، لیس لھم طعام الا من ضریع۔ (الغاشیہ) ۔ یہ بھی جائز ہے کہ ضریع کی غسلین ہی ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کلام میں تقدیم و تاخیر ہے معنی ہے آج ان کے لئے وہاں کوئی کھانا نہیں مگر غسلین۔ وہ گرم پانی ہوگا۔
انطعام ان کے لئے ایسا کھانا نہیں ہوگا جس سے وہ نفع اٹھا سکیں۔ لایاکلۃ الا الخاطون۔ خاصون سے مراد گناہگار ہیں۔ حضرت ابن عباس نے کہا، مراد مشرکین ہیں۔ اسے الخاطیون بھی پڑھا گیا ہے ہمزہ کو یاء سے بدلا گیا ہے اسے حذف کر کے الخاطون بھی پڑھا گیا ہے۔ حضتر ابن عباس سے مروی ہے : یہ خاطون کیا ہے۔ “ ہم میں سے ہر کوئی قدم اٹھاتا ہے۔ ابوالاسود نے ان سے روایت نقل کی ہے : یہ خاصون کیا ہے صابون کیا ہے یہ اصل میں صابون ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ مراد وہ لوگ ہوں جو حق سے باطل کی طرف قدم پڑھاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرتے ہیں۔
Ayahs 69:38–40فلا اقسم بما تبصرون۔ ومالا تبصرون۔ معنی ہے میں تمام اشیاء کی قسم اٹھاتا ہوں جنہیں تم دیکھتے ہو اور جنہیں تم نہیں دیکھتے اور زائد ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کے ساتھ سابقہ کلام کا رد کیا یا ہے (1) یعنی معاملہ اس طرح نہیں جس طرح مشرک کہتے ہیں : مقاتل نے کہا : اس کا سبب یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ نے کہا، بیشک حضرت محمد ﷺ جادوگر ہیں (2) ابوجہل نے کہا : وہ شاعر ہیں۔ عقب نے کہا : وہ کا ہغن ہیں۔ نعوذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فلا اقسم یعنی میں قسم اٹھاتا ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہاں لا قسم کی نفی کے لئے ہے کیونکہ حق واضح ہے اس لئے قسم اٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس تعبیر کی بنا پر اس کا جواب جواب قسم کی طرح ہے انہ لقول رسول کریم ضمیر سے مراد قرآن ہے (3) رسول کریم ﷺ سے مراد حضر جبریل امین ہیں (4) یہ حضرت حسن بصری کلبی اور مقاتل کا قول ہے اس کی دلیل انہ لقول رسول کریم۔ ذی قوۃ عند ذی العرش (الکتویر) ہے کلبی اور قتبی نے کہا : یہاں رسول سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے۔ (5) کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وما ھو بقول شاعر قرآن رسول اللہ ﷺ کا قول نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (6) قول کی نسبت رسول کی طرف اس لئے کہ آپ اس کی تلاوت کرنے والے، اس کی تبلیغ کرنے والے اور اس پر عمل کرنے والے ہیں جس طرح ہمارا قول ہے، یہ امام مالک کا قول ہے۔