69. Surah Al-Haaqqa

الحاقةThe Reality · 52 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 69:41–42

وَّ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 69:41 in the Quran reader

اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں مگر تم لوگ بہت ہی کم ایمان لاتے ہو

وَ لَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 69:42 in the Quran reader

اور نہ کسی کاہن کے مزخرفات ہیں لیکن تم لوگ بہت کم فکر کرتے ہو

وما ھو بقول شاعر یہ شعر کی تمام اقسام سے جدا ہے ولابقول کا ھن یہ قرآن شیاطین کو سب و شتم کرتا ہے تو جو انہیں سب وشتم کرے اس پر وہ کوئی چیز کیا نازل کریں گے۔ قلیلاً ماتومنون۔ اور قلیلاً ماتذکرون۔ میں مازائدہ ہے معنی ہے تم بہت کم ایمان لاتے ہو اور بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو۔ ان کے قلیل ایمان سے مراد یہ ہے کہ جب ان سے پوچھا جاتا ہے، انہیں کس نے پیدا کیا ؟ وہ کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے یہ جائز نہیں کہ مافعل کے ساتھ مل کر مصدر کے حکم میں ہوا اور ما کا مابعد قلیلاً کو صنب دے کیونکہ اس صورت میں صلہ کا موصول پر مقدم ہونا لازم آتا ہے کیونکہ مصدر جس میں عمل کرتا ہے وہ اس کا صلہ ہوتا ہے۔ ابن محیصن، ابن کثیر، ابن عامر اور یعقوب نے مایومنون اور یذکرون پڑھا ہے (1) باقی قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ اس سے قبل اور اس سے بعد خطاب کے صیغے ہیں جہاں تک ماقبل کا تعلق ہے وہ تبصرون ہے۔
Ayah 69:43

تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 69:43 in the Quran reader

(یہ تو) پروردگار عالم کا اتارا ہوا ہے

تنزیل یہ اصل میں ھوتنزیل ہے مبتدا محذوف ہے من رب العلمین۔ اس کا عطف انہ لقول رسول کریم پر ہے یعنی رسول کریم کا قول ہے اور یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے۔
Ayahs 69:44–45

وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِۙ Open ayah 69:44 in the Quran reader

اگر یہ پیغمبر ہماری نسبت کوئی بات جھوٹ بنا لائے

لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْیَمِیْنِۙ Open ayah 69:45 in the Quran reader

تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے

ولوتقول علینا بعض الاقاویل۔ تقول کا منی ہے اس نے تکلف سے کام لیا اور اس نے اپنے جابن سے قول کیا۔ اسے مجہول کا صیغہ تقول بھی پڑھا یا ہے لاخذنا منہ بالیمین۔ یمین سے مراد قوت اور قدرت ہے یعنی ہم اسے قوت سے پکڑ لیتے۔ من زائدہ ہے۔ قوت اور قدرت کو یمین سے تعبیر کیا کیونکہ ہر شی کی قوت اس کی دائیں جابن میں ہوتی ہے، یہ قتبی کا قول ہے، یہی حضرت ابن عباس اور مجاہد کا قول ہے، اس معنی میں شماخ کا قول ہے : اذا ما رایۃ رفعت لمجد تلقاما عرابۃ بالیمین) (2) جب کبھی بزرگی کے لئے جھنڈا بلند کیا جائے تو عرابہ اسے قوت کے ساتھ لے لیتا ہے۔ عرابہ انصار میں قبیلہ اوس کا ایک فرد تھا۔ ایک اور شاعر نے کہا : ولما رایت الشمس اشرق نورھا تناولت منھا حاجتی پیمینی جب میں نے سورج کو دیکھا اس کا نور روشن تھا میں نے اس سے اپنی حاجت اپنی قوت سے لی۔ سدی اور حمک نے کہا : یمین کا معین حق ہے، دلیل کے طور پر یہ مصرعہ ذکر کیا ہے : تلقا ھا عرابۃ بالیمین عرابہ نے اسے استحقاق رکھتے ہوئے لیا۔ حضرت حسن بصری نے ہا، اس کا معنی ہے ہم اس کا دائیاں ہاتھ کاٹ دیتے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم اس کے دائیں ہاتھ کو تصرف سے روک لیتے۔ یہ نفطویہ کا قول ہے۔ ابو جعفر نے کہا، یہ کلام اس طریقہ پر آیا ہے جس طرح لوگوں کی عادت ہے جس کو ذلیل کرنے کا پروگرام ہو اور اس کو سزا دینی ہو تو اس کا دایاں ہاتھ پکڑا جاتا ہے جس طرح سلطان جس کو ذلیل کرنا چاہتا ہے اس کے بارے میں حکم دیتا ہے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ لو، یعنی ہم نے اس کے ہاتھ کو پکڑ نے کا حکم دیا اور اس کے سزا دینے میں مبالغہ سے کام لیا۔
Ayah 69:46

ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِیْنَ٘ۖ Open ayah 69:46 in the Quran reader

پھر ان کی رگ گردن کاٹ ڈالتے

ثم لقطعنا منہ الوتین۔ ہم نے اس کی شاہ رگ کاٹ دی یعنی ہم نے اسے ہلاک کردیا۔ (1) یہ ایسی رگ ہے جس کے ساتھ دل متعلق ہوتا ہے جب وہ رگ کٹ جائے تو وہ آدمی مر جاتا ہے، یہ حضر ابن عباس اور اکثر لوگوں کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا، یہ دل کی وہ ڈوری ہے جو پشت میں ہوتی ہے جو حرام مغز ہے جب یہ ٹوٹ جائے تو قوتیں باطل ہوجاتی ہیں (2) اور وہ آدمی مر جاتا ہے موتون اسے کہتے ہیں جس کی وتیں کاٹ دی جائے۔ محمد بن کعب نے کہا، اس سے مراد دل اور اس کے ساتھ والی چیزیں ہیں (3) کلبی نے کہا، اس سے مراد علباء اور حلقوم کے درمیان رگ ہے۔ علباء سے مراد گردن کا پٹھا ہے، وہاں دو پٹھے ہیں جن دونوں کے درمیان رگ پیدا ہوتی ہے۔ عکرمہ نے کہا، وتین کو جب کاٹا جائے تو اس کے بھوکے ہنے کا پتہ چلتا ہے اور نہ اس کے سیر ہونے کا پتہ چلتا ہے۔ (4)
Ayahs 69:47–48

فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِزِیْنَ Open ayah 69:47 in the Quran reader

پھر تم میں سے کوئی ہمیں اس سے روکنے والا نہ ہوتا

وَ اِنَّهٗ لَتَذْكِرَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 69:48 in the Quran reader

اور یہ (کتا ب) تو پرہیزگاروں کے لیے نصحیت ہے

فما منکم من احدعنہ حجزین۔ مانا فیہ ہے احد جمع کے منی میں ہے اس وجہ سے اس کی صفت جمع سے لگائی گئی ہے یعنی تم میں سے کوئی ایسی قوم نہیں جو اس سے روکنے والی ہو جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، لانفرق بین احد من رسلہ (البقرۃ : 285) یہاں بھی احد جمع پر دال ہے کیونکہ بین کا لفظ دو یا زیادہ افراد پر ہی داخل ہوتا ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، لم تحل الغنائم لاحد سود الرئوس قبلکم تم میں سے کسی سردار کے لئے غنیمت حلال نہیں تھی۔ یہاں بھی لفظ احد ہے اس کا معنی جمع کا ہے اور بین زائد ہے حجز کا معین روکنا ہے حجزین کے بارے میں جائز ہے کہ یہ احد کی صفت ہو معنی مع تبار سے جس طرح ہم نے ذکر کیا ہے تو یہ محل جر میں ہوگا۔ خبر منکم ہوگی۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ منصوب ہو اور خبر ہو اور منکم ملفا ہو اور حجزین کے متعلق ہو اس میں خبر کے منصوب ہونے میں یہ مانع نہیں جس طرح ان قیک زیذا راغب میں فصل مانع نہیں وانہ لتذکرۃ للمتقین ضمیر سے مراد قرآن ہے قرآن ان لوگوں کے لئے نصیحت ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اس کی مثل فیہ ھدی للمتقین۔ (بقرہ) ہے جس طرح ہم نے سورة بقرۃ کے آغاز میں بیان کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے یعنی حضور ﷺ نصیحت، رحمت اور نجات ہیں (5) ۔
Ayahs 69:49–50

وَ اِنَّا لَنَعْلَمُ اَنَّ مِنْكُمْ مُّكَذِّبِیْنَ Open ayah 69:49 in the Quran reader

اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اس کو جھٹلاتے ہیں

وَ اِنَّهٗ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 69:50 in the Quran reader

نیز یہ کافروں کے لئے (موجب) حسرت ہے

وانا لنعلم ان منکم مکذبین۔ ربیع نے کہا، قرآن کو جھٹلانے اولے ہیں (1) وانہ لحسرۃ ضمیر سے مراد تکذیب ہے، حسرت سے مراد ندامت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : قیامت کے روز قرآن کافروں کے لئے حسرت ہوگا جب وہ مومنوں کا ثواب دیکھیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ دنیا میں ان کے لئے حسرت ہوگی جب وہ معاوضہ پر قادر نہ ہونگے جب انہیں چیلنج کیا گیا کہ وہ قرآن کی مثل کوئی سورت لے آئیں۔
Ayahs 69:51–52

وَ اِنَّهٗ لَحَقُّ الْیَقِیْنِ Open ayah 69:51 in the Quran reader

اور کچھ نہیں کہ یہ برحق قابل یقین ہے۔

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 69:52 in the Quran reader

سو تم اپنے پروردگار عزوجل کے نام کی تنزیہہ (تسبیح) کرتے رہو۔

وانہ لحق الیقین۔ قرآن عظیم اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل شدہ ہے وہ حق یقین ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ امر یقینی اور قح ہے کہ یہ قیامت کے روز ان کے لئے حسرت ہوگی۔ اس تعبیر کی بنا پر حسرۃ تحسر کے معنی میں ہوگا۔ یہ مصدر ہے جو تحسر کے معنی میں ہے اس کے لئے ضمیر کا مذکر ذکر کرنا جائز ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، بیشک یہ تیرے اس قول کی طرح لعین الیقین، محض الیقین اگر یقین صفت ہو تو اس کی طرف مضاف کرنا جائز نہ ہو جس طرح تو کہتا ہے : ھذا رجل الظریف۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے (2) لفظوں کے اختلاف کی وجہ سے پاین ذات کی طرف مضاف کیا۔ فسبح باسم رب العظیم۔ اپنے رب کے لئے نماز پڑھیے، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ کی سوء اور نقائص سے پاکی بیان کرو۔