69. Surah Al-Haaqqa

الحاقةThe Reality · 52 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 69:1–37

اَلْحَآقَّةُۙ Open ayah 69:1 in the Quran reader

سچ مچ ہونے والی

مَا الْحَآقَّةُۚ Open ayah 69:2 in the Quran reader

وہ سچ مچ ہونے والی کیا چیز ہے ؟

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحَآقَّةُؕ Open ayah 69:3 in the Quran reader

اور آپ کو کیا معلوم کہ وہ سچ مچ ہونے والی کیا

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ Open ayah 69:4 in the Quran reader

ثمود اور عاد نے کھڑ کھڑانے والی چیز (قیامت) کا انکار کیا

فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِیَةِ Open ayah 69:5 in the Quran reader

پس ثمود تو ایک زبردست آواز سے ہلاک کردیئے تھے

وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَةٍۙ Open ayah 69:6 in the Quran reader

اور عاد ایک تیزوتند آندھی سے تباہ کردیئے گئے

سَخَّرَهَا عَلَیْهِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَةَ اَیَّامٍ١ۙ حُسُوْمًا١ۙ فَتَرَى الْقَوْمَ فِیْهَا صَرْعٰى١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَةٍۚ Open ayah 69:7 in the Quran reader

اس (اللہ) نے اس کو سات رات اور آٹھ دن لگاتار ان پر چلائے رکھا تو (اے مخاطب ! ) تو ان لوگوں کو اس میں اس طرح گرے پڑے دیکھے گا جیسے کھجور کے کھوکھلے تھے

فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِیَةٍ Open ayah 69:8 in the Quran reader

تو بھلا تو ان میں سے کسی کو بھی باقی دیکھتا ہے ؟

وَ جَآءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَهٗ وَ الْمُؤْتَفِكٰتُ بِالْخَاطِئَةِۚ Open ayah 69:9 in the Quran reader

اور فرعون اور اس کے پہلے لوگو نے اور (قوم لوط کی) الٹی ہوئی بستیوں کے لوگوں نے بڑے بڑے قصور کیے

فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ فَاَخَذَهُمْ اَخْذَةً رَّابِیَةً Open ayah 69:10 in the Quran reader

پس انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغمبر کا کہنا نہ مانا تو اس نے ان کو بہت سخت پکڑا

اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِی الْجَارِیَةِۙ Open ayah 69:11 in the Quran reader

جب پانی طغیانی پر آیا (نوح (علیہ السلام) کے وقت) تو ہم نے تم لوگوں کو کشتی میں سوار کرلیا

لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّ تَعِیَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِیَةٌ Open ayah 69:12 in the Quran reader

تاکہ اس کو تمہارے لئے یادگار بنائیں اور یاد رکھنے والے کان اس کو یاد رکھیں

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 69:13 in the Quran reader

پھر جب یکبارگی صور میں پھونکا جائے گا

وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةًۙ Open ayah 69:14 in the Quran reader

اور زمین اور پہاڑ (اپنی جگہ سے) اٹھالئے جائیں گے پھر دونوں ایک ہی بار ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے

فَیَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 69:15 in the Quran reader

تو اس روز ہونے والی چیز ہو پڑے گی

وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِیَ یَوْمَئِذٍ وَّاهِیَةٌۙ Open ayah 69:16 in the Quran reader

اور آسمان پھٹ جائے گا تو وہ اس دن کمزور ہوگا

وَّ الْمَلَكُ عَلٰۤى اَرْجَآئِهَا١ؕ وَ یَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمٰنِیَةٌؕ Open ayah 69:17 in the Quran reader

اور فرشتے اس کے کنارے پر آجائیں گے۔ اور جب آپ کے پروردگار کے عرش کو اس روز آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے

یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِیَةٌ Open ayah 69:18 in the Quran reader

اس روز تم پیش کیے جاؤ گے (اور) تمہاری کوئی بات چھپی نہ رہے گی

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ١ۙ فَیَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِیَهْۚ Open ayah 69:19 in the Quran reader

تو جس کا اعمال نامہ اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ (دوسروں سے) کہے گا لیجئے میرا اعمال نامہ پڑھیئے

اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَهْۚ Open ayah 69:20 in the Quran reader

مجھے یقین تھا کہ مجھ کو میرا حساب ضرور ملے گا

فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍۙ Open ayah 69:21 in the Quran reader

پس وہ شخص من مانے عیش میں ہوگا

فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ Open ayah 69:22 in the Quran reader

(یعنی) اونچے (محلوں والے) باغ میں

قُطُوْفُهَا دَانِیَةٌ Open ayah 69:23 in the Quran reader

جس کے پھل جھکے پڑے ہوں گے

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَةِ Open ayah 69:24 in the Quran reader

مزے سے کھاؤ اور پیو ، اس کے صلے میں جو (عمل) تم گزشتہ ایام میں آگے بھی چکے ہو

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ Open ayah 69:25 in the Quran reader

اور جس کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا اے کاش ! مجھے میرا اعمال نامہ نہ دیا جاتا

وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَهْۚ Open ayah 69:26 in the Quran reader

اور مجھے معلوم نہ ہوتا کہ میرا حساب کیا ہے

یٰلَیْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِیَةَۚ Open ayah 69:27 in the Quran reader

اے کاش ! موت (ہمیشہ کے لئے مجھے) مٹا دیتی

مَاۤ اَغْنٰى عَنِّیْ مَالِیَهْۚ Open ayah 69:28 in the Quran reader

میرا مال میرے کچھ بھی کام نہ آیا

هَلَكَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَهْۚ Open ayah 69:29 in the Quran reader

میری بادشاہت بھی برباد ہوگئی (ہر شخص کو گمان ہوتا ہے کہ وہ بااختیار ہے)

خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُۙ Open ayah 69:30 in the Quran reader

اس کو پکڑ لو پھر طوق پہنادو

ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْهُۙ Open ayah 69:31 in the Quran reader

پھر اس کو دوزخ میں ڈال دو

ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُؕ Open ayah 69:32 in the Quran reader

پھر ایک ایسی زنجیر میں جس کی پیمائش ستر گز ہے تو اس کو جکڑ دو

اِنَّهٗ كَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 69:33 in the Quran reader

بلا شبہ یہ اللہ بزرگ و برتر پر ایمان نہ لاتا تھا

وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ Open ayah 69:34 in the Quran reader

اور (خود تو کیا دیتا) کسی غریب کو کھلانے کی ترغیب (بھی) نہ دیتا تھا

فَلَیْسَ لَهُ الْیَوْمَ هٰهُنَا حَمِیْمٌۙ Open ayah 69:35 in the Quran reader

سو آج اس کا بھی یہاں کوئی حمایتی نہیں ہے

وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍۙ Open ayah 69:36 in the Quran reader

اور نہ پیپ کے علاوہ کوئی کھانا ہے

لَّا یَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِئُوْنَ۠ Open ayah 69:37 in the Quran reader

جس کو گنہگاروں کے سوا کوئی نہیں کھائے گا

سورة الحاقہ۔ آیات 1 تا 37۔ اسرار ومعارف۔ دنیا کا عذاب آخرت کا پرتو ہے۔ کیاخبر بھی ہے کہ وہ ہونے والی چیز یعنی قیامت کس قدر ہولناک ہے اور اس میں کفار کے ساتھ کیا سلوک ہوگاجب کہ انکار وکفر کے سبب ثمود اور عاد جیسی مضبوط اور طاقتور قوموں پر دنیا میں ایسے سخت عذاب آئے۔ ثمود پر ایسی ہولناک آواز مسلط کی گئی جس نے انہیں تباہ کردیا اور عاد پر تند ہوا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی اور سخت ٹھنڈی بھی تھی اس نے انہیں پٹک پٹک کر ہلاک کردیا پس ان کی لاشیں بکھری پڑی تھی جیسے کھجوروں کے تناور تنے گرے پڑے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی بھی باقی نہ بچا۔ دنیاکا عذاب دراصل آخرت کے عذاب کا پر توہوتا ہے اگر وہ اس قدر شدید ہے تو اصل عذاب جو آخرت میں واقع ہوگا کیسا ہوگا۔ اسی طرح فرعون نے اور اس سے پہلے لوط (علیہ السلام) کی بستیوں میں رہنے والوں اور دیگراقوام نے غلط راستہ اختیار کیا کہ جب ان کے پاس اللہ کے رسول آئے تو ان کی اطاعت سے انکار کردیا لہذا اللہ نے ان پر بہت سخت عذاب نازل فرمایا اور وہ تباہ وبرباد ہوگئے مگر ایمان کی برکات اور اطاعت رسول کا اثر ہر مقام پر نظر آیا کہ یہ لوگ محفوظ رہے حتی کہ نوح (علیہ السلام) کا طوفان آیاساری دنیاغرق ہوگئی مگر اللہ کے رسول (علیہ السلام) کے اطاعت گزاروں کو ہی نے کشتی میں ہم نے سوار کردیا کہ بعد والوں کے لی عبرت اور نصیحت کا سبب ہو اور اسے یادرکھاجائے۔ صورپھونکنا۔ جب قیامت کے قیام کے لیے صور پھونکاجائیگا تو اس کی شدت کا یہ حال ہوگا کہ زمین اپنی جگہ سے اٹھ اٹھ جائے گی اور پہاڑ الگ ہوہوکر زمین سے ٹکرائیں گے اور یوں ہر شے ریزہ ریزہ ہوجائے گی ۔ احادیث مبارکہ کے مطابق یہ دوبارہوگانفخہ اولی جس سے اول ہر ذی روح مرجائے گا ، پھر زمین آسمان پھٹ جائیں گے اور دوبارہ نفخہ ثانی جس سے ہر کوئی زندہ ہوکرمیدان حشر میں جمع ہوگا۔ تب یہ روز قیامت کا ہوگا اور اس کے واقع ہونے کا کہ آسمان پھٹ پڑیں گے اور زمین آسمان کی ہر شے تباہ ہوجائے گی اب آسمان جس قدر مضبوط ہیں اس روز اتنے ہی کمزور نظر آئیں گے کہ پھٹ کر تباہ ہوجائیں گے اور فرشتے کناروں تک بڑھتے چلے جائیں گے کہ جیسے جیسے پھٹتا جائے گا اور بالآخر سب تباہ ہو کر فرشتوں پر بھی موت آجائے گی۔ عرش کیا ہے اور کیا کیفیت ہوگی۔ اور پھر نفخہ ثانیہ کی بات ہے کہ عرش الٰہی کو آٹھ فرشتے اٹھائیں ہوئے ہوں گے مخلوق زندہ ہوکر پیش ہوگی عرش الٰہی کیسا ہوگا اور کس طرح فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس کی کیفیات میدان حشر میں پتہ چلیں گے یہاں مادی دنیا میں عقل کی رسائی سے بالاتر ہے لہذا سلف صالحین کا طریقہ یہ ہے ایمان لایاجائے کہ جو اس سے مراد ہے وہ حق ہے۔ اطاعت کی برکات۔ اور پھر سب کے اعمال کو جانچاجائے گا کوئی بھی کچھ چھپانہ سکے گا ہاں جس کو اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں پکڑا گیا کہ اطاعت گزاروں کو دائیں ہاتھ میں دیاجائے گا ، تو وہ بہت خوش ہوں گے یعنی اطاعت رسول کی برکت کا کمال کہ قیامت کی ہولناکی میں بھی اسے پر مسرت لمحات نصیب ہوں گے اور وہ خوشی سے دوسروں کو دکھاتاپھرے گا کہ لوپڑھو یہ میرا اعمال نامہ ہے مجھے تو امید تھی کہ مجھے بہت کچھ ملنے والا ہے یعنی اسی امید پر تو دنیا میں دین قائم رہا اور اس شخص کو من پسند عیش جنت میں حاصل ہوں گے جہاں ہمیشہ شاخیں پھلوں سے جھکی رہتی ہیں کہ ہمیشہ ہمیشہ بہار ہے اور کہاجائے گا کہ جس قدر دنیا میں مجاہدہ کیا اور اطاعت کی اب یہاں موج سے رہو اور کھاؤ پیو یہ سب تمہاری خاطر ہے دوسری طرف جس کو اس کا اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں دیا گیا کہ نافرمانوں کو بائیں ہاتھ میں تھمادیاجائے گا تو وہ حسرت سے کہے گا کہ اے کاش کبھی یوم حساب نہ آتا اور مجھے اعمال نامہ نہ ملتا اور مجھے میرے انجام کا پتہ ہی نہ ملتا اے کاش موت عدم کا نام ہوتا کہ مر کرہرشے ختم ہوجاتی ، آج میرا مال وزر جس کی خاطر اطاعت سے محروم رہا یا میرے کام نہ آیا اور میری طاقت اور شان و شوکت سب برباد ہوگئی۔ باطل نظام معیشت کا اثر۔ حکم ہوگا کہ اسے پکڑ کر اس کی گردن میں طوق ڈال دو اور اسے دوزخ میں پھینک کر دوزخ کی زنجیروں میں پرو دو کہ یہ اللہ کی عظمت پہ ایمان نہ لاتا تھا اور اس کی دنیا میں اپنی پسند نافذ کیے ہوئے تھا ، اسے ان غرباکاخیال تک نہ تھا جو اس کے ماتحت آگئے تھے لہذا آج یہاں کسی کو اس کی پرواہ نہیں نہ کوئی اس کادوست ہے اور آج اس کے دوزخیوں کے زخموں سے بہنے والی پیپ کھانے کو ملے گی دنیا میں غرباء کا حق کھاتا تھا لہذا خطاکاروں اور ایسے مالی نظام کے چلانے والوں کو جس سے غریب کے حق پہ عیش کرتے ہیں دوزخ میں یہی غذا ملے گی۔