Explained with ayahs 48–52
مصائب سے نجات دلانے والی دعا ، نظر، فال اور شگون
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ اپنی قوم کی ایذاء پر اور ان کے جھٹلانے پر صبر و ضبط کرو عنقریب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہونے والا ہے، انجام کار آپ کا اور آپ کے ماتحتوں کا ہی غلبہ ہوگا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دیکھو تم مچھلی والے نبی کی طرح نہ ہونا اس سے مراد حضرت یونس بن متی ؑ ہیں جبکہ وہ اپنی قوم پر غضب ناک ہو کر نکل کھڑے ہوئے پھر جو ہوا سو ہوا، یعنی آپ کا جہاز میں سوار ہونا مچھلی کا آپ کو نگل جانا اور سمندر کی تہہ میں بیٹھ جانا اور ان تہ بہ تہ اندھیروں میں اس قدر نیچے آپ کا سمندر کو اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کرتے ہوئے سننا اور خود آپ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
سورة الْقَلَم 35
یہ ایسا ہی ہے جیسے ہم اردو میں کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے اسے ایسی نظروں سے دیکھا جیسے اس کو کھا جائے گا۔ کفار مکہ کے اس جذبہ غیظ و غضب کی کیفیت سورة بنی اسرائیل، آیات 73 تا 77 میں بھی بیان ہوئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
وَاِنْ يَّكَادُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَيُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ۔ لیزلقونک ازلاق سے مشتق ہے جس کے معنی لغزش دینے اور گرا دینے کے ہیں (راغب) مطلب یہ ہے کہ کفار مکہ آپ کو غضبناک اور ترچھی نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ کو اپنی جگہ اور مقام سے لغزش دیدیں جبکہ وہ اللہ کا کلام سنتے ہیں اور کہنے لگتے ہیں کہ یہ تو مجنون ہے ۘوَمَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ حالانکہ یہ کلام تو تمام جہان والوں کے لئے ذکر و نصیحت اور ان کی صلاح و فلاح کا ضامن ہے ایسے کلام والا کہیں مجنوں کہا جاسکتا ہے۔ کفار کے جس طعنہ کا اس سورة کے شروع میں جواب دیا گیا تھا ختم سورة پر اسی کا ایک دوسرے انداز سے…
Read the full tafseer →اس آیت کا تعلق بھی تلقین صبر و ثبات کے اس مضمون ہی سے ہے جو ’فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ‘ میں بیان ہوا ہے۔ یعنی اگرچہ حالات نہایت سخت ہیں۔ کفار جب قرآن سنتے ہیں تو تمہیں اس طرح گھورتے اور ایسی تیز نگاہوں سے دیکھتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی نگاہوں کے زور سے تمہیں دھکیل کر تمہارے مقام سے تمہیں پھسلا دیں گے اور جوش غضب میں تمہیں خبطی اور مجنوں بتاتے ہیں لیکن ان کے اس رویہ کے باوجود تم اپنے موقف پر ڈٹے رہو۔ یہاں ابتدائے سورہ کی آیت ’مَا أَنتَ بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ بِمَجْنُوۡنٍ‘ ذہن میں تازہ کر لیجیے۔ سورہ جس مضمون سے شروع ہوئی تھی اسی پر ختم ہو رہی ہے۔
Read the full tafseer →51۔ 1 یعنی اگر تجھے اللہ کی حمائت و حفاظت نہ ہوتی تو کفار کی حاسدانہ نظروں سے نظر بد کا شکار ہوجانا یعنی ان کی نظر تمہیں لگ جاتی۔ چناچہ امام ابن کثیر نے یہ مفہوم بیان کیا، مذید لکھتے ہیں ' یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نظر کا لگ جانا اور اس کا دوسروں پر، اللہ کے حکم سے، اثر انداز ہونا، حق ہے۔ جیسا کہ متعدد احادیث سے بھی ثابت ہے۔ چناچہ حدیث میں اس سے بچنے کے لیے دعائیں بھی بیان کی گئی ہیں اور یہ بھی تاکید کی گئی ہے کہ جب تمہیں کوئی چیز اچھی لگے تو ماشاء اللہ یا بارک اللہ کہا کرو تاکہ اسے نظر نہ لگے۔ یعنی حسد کے طور پر بھی اور اس غرض سے بھی کہ لوگ اس قرآن سے متاثر نہ ہوں بلکہ اس سے دور ہی رہیں آنکھوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
16: اس سے مراد وہ میدان ہے جہاں مچھلی حضرت یونس ؑ کو اگل کر چلی گئی تھی۔ مطلب یہ ہے کہ مچھلی کے پیٹ سے نکلنے کے باوجود وہ اتنے کمزور ہوچکے تھے کہ ان کا زندہ رہنا بہت مشکل تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے انہیں سنبھالا، اور وہ دوبارہ تندرست ہوگئے۔
Read the full tafseer →وان یکاد .................................... للعلمین
یہ ممکن تھا کہ یہ خشمگیں نظریں حضور اکرم ﷺ کے قدم ہلادیں اور آپ پھسل جائیں۔ اور آپ ڈگمگانے لگیں۔ ان کی نظروں میں جس قدر قہر ، غضب ، شرارت ، جوش انتقام اور حسد اور گرمی تھی ، قرآن کریم نے اسے بہت ہی خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔ اور ان نظروں کے ساتھ وہ سب وشتم اور اتہام والزام بھی لگاتے اور کہتے۔
انہ لمجنون (86 : 15) ” یہ تو ایک مجنون ہے “۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جسے دست قدرت کا قلم ہی رقم کرسکتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دعوت اسلامی اس ابتدائی دور میں کس قدر مشکل حالات سے گزر رہی تھی۔ اس وقت مکہ کے مخالفین کا حلقہ بااثر مجرمین کا ایک وسیع…
Read the full tafseer →3 یعنی قرآن سن کر غیظ و غضب میں بھر جاتے ہیں اور اس قدر تیز نظروں سے تیری طرف گھورتے ہیں جانے تجھ کو اپنی جگہ سے ہٹا دیں گے۔ زبان سے بھی آوازے کستے ہیں کہ یہ شخص تو مجنون ہوگیا ہے۔ اس کی کوئی بات قابل التفات نہیں ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اس طرح آپ کو گھبرا کر مقام صبرو استقلال سے ڈگمگا دیں۔ مگر آپ برابر اپنے مسلک پر جمے رہیے۔ اور تنگدل ہو کر کسی معاملہ میں گھبراہٹ یا جلدی یا مداہنت اختیار نہ کیجیے۔ (تنبیہ) بعض نے " لَيُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ " سے یہ مطلب لیا ہے کہ کفار نے بعض لوگوں کو جو نظر لگانے میں مشہور تھے اس پر آمادہ کیا تھا کہ وہ آپ کو نظر لگائیں۔ چناچہ جس وقت حضور ﷺ قرآن تلاوت فرما رہے…
Read the full tafseer →آیت 51{ وَاِنْ یَّـکَادُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَـیُزْلِقُوْنَکَ بِاَبْصَارِہِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّکْرَ } ”اور یہ کافر تو ُ تلے ہوئے ہیں اس پر کہ اپنی نگاہوں کے زور سے آپ ﷺ کو پھسلا دیں گے جب وہ قرآن سنتے ہیں“
مشرکین ِمکہ نے حضور ﷺ کی قوت ارادی کو توڑنے کے لیے ہر ممکن طریقہ آزمایا اور اس مقصد کے لیے آپ ﷺ کے خلاف ہر حربہ استعمال کیا۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ ایک مرحلے پر انہوں نے اس مقصد کے لیے ایسے عاملوں کی خدمات بھی حاصل کیں جو اپنی نگاہوں کی خصوصی طاقت کے ذریعے کسی کو نقصان پہنچانے کی اہلیت رکھتے تھے۔ شاید طبعی طور پر ایسا ممکن ہو۔ ہوسکتا ہے کوئی شخص خصوصی مشقوں exercises کے ذریعے اپنی…
Read the full tafseer →28 یعنی جب آپ لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناتے ہیں تو وہ آپ کو یوں گھورنے لگتے ہیں اور آپ پر اپنی نظریں گاڑ کر ایسا مقناطیسی اثر ڈالنا چاہتے ہیں۔ جس سے آپ مرعوب ہو کر یہ کام چھوڑ دیں۔ پھر بڑی حقارت کے ساتھ دوسروں کو بتاتے ہیں کہ یہ تو دیوانہ آدمی ہے۔ وہ آپ کو دیوانہ اس لیے کہتے تھے کہ آپ ان کی عقل اور ان کے عقیدہ کے خلاف باتیں کرتے تھے۔ پھر صرف آپ کی قوم نے ہی آپ کو مجنون نہیں کہا بلکہ ہر رسول کو دیوانہ کہا جاتا رہا ہے۔ اور یہ دراصل قوم کے اپنے رسولوں کے خلاف معاندانہ رویہ کے اظہار کی وجہ سے ہوتا ہے۔ کیونکہ ایک نبی اور ایک مجنون میں بنیادی فرق یہ ہے کہ نبی کی دعوت گو معاشرہ کی عقل اور دستور کے خلاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
32۔ یہ کافروں اور منکروں کے انتہائی سفاہت وحمق کا بیان ہے کہ اللہ اللہ جو کلام ایک ہی ملک وقوم کے نہیں، ساری دنیا کی ہدایت واصلاح کے دستور العمل کی حیثیت رکھتا ہے اور جس کے قانون اور ضابطے اور ہدایتیں دنیا کی کیا انفرادی اور کیا اجتماعی، کیا اخلاقی اور کیا سیاسی، کیا معاشری اور کیا خانگی، ہر قسم کی صلاح و فلاح کی ضامن تھیں، اسی کو یہ لوگ مجنون کا کلام بتا رہے ہیں۔ ! یہ خود ان کا جنون نہیں تو اور کیا ہے۔ (آیت) ” وما ھو “۔ ضمیر ھو سے مراد پیغمبر (علیہ السلام) کا لایا ہوا کلام یا قرآن ہے۔ (آیت) ” لیزلقونک بابصارھم “۔ زلق بالابصار محاورۂ عرب میں کنایہ شدت عداوت سے ہے، جیسے اردو میں کہتے ہیں کہ تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
وان یکاد الذین کفروا لیزلقونک بابصارھم، لیزلقونک، ازلاق سے مشتق ہے جس کے معنی پھسلانے اور گرا دینے کے ہیں، مطلب یہ کہ کفار مکہ آپ ﷺ کو غضبناک اور ترچھی نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ ﷺ کو اپنی جگہ اور مقام سے لغزش دیدیں یعنی کار رسالت سے روک دیں، چناچہ جب وہ اللہ کا کلام سنتے ہیں تو کہنے لگتے ہیں کہ ” یہ تو مجنون ہے “۔ (معارف)
اس کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا ہے کہ، یعنی اگر تجھے اللہ کی حمایت اور حفاظت حاصل نہ ہوتی تو ان کفار کی حاسدانہ نظروں سے تو نظر بد کا شکار ہوجاتا یعنی ان کی نظر تجھے لگ جاتی امام ابن کثیر نے اس کا یہی مطلب لیا ہے، مزید لکھتے ہیں کہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نظر…
Read the full tafseer →وان یکاد الذین کفروا . بغوی نے بیان کیا ہے کہ کافروں نے رسول اللہ ﷺ کو نظر لگانی چاہی اور
قریشیوں کی ایک جماعت نے آپ کی طرف دیکھ کر کہا ہم نے تو نہ ایسا شخص دیکھا ‘ نہ ایسی پختہ دلیلیں سنیں۔ منقول ہے کہ قبیلۂ بنی اسد کی نظر کی یہ کیفیت تھی کہ اگر ان میں سے کسی کے سامنے کوئی موٹی اونٹنی یا گائے گزر جاتی اور وہ اس کو دیکھ کر باندی سے کہتا : اری جاریہ ! ذرا ٹوکری اور درہم لے کر جانا اور اس کا گوشت لے آنا تو وہ جانور اسی جگہ گر کر فوراً مرجاتا تھا۔
کلبی نے بیان کیا ہے کہ عرب میں ایک آدمی تھا۔ جب دو تین روز تک بھوکا رہ کر اپنے خیمہ میں لوٹ کر آتا اور ادھر سے اونٹ یا بکریاں گزرتیں اور وہ کہہ دیتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
(51۔ 52) اور یہ کفار مکہ جب آپ سے قرآن کریم سنتے ہیں تو ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ گویا آپ کو اپنی نگاہوں سے پھسلا کر گرادیں گے نیز معاذ اللہ دشمنی میں آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ مجنون ہیں حالانکہ یہ قرآن کریم جن و انس کے لیے نصیحت ہے۔
Read the full tafseer →وان یکاد الذین کفروا لیزلقونک …: اس آیت میں ”ان“ اصل میں ”ان“ (نون مشدد کے ساتھ) تھا، کیونکہ بعد میں ”لیزلقونک“ پر لام آرہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ جب کفار کو اللہ تعالیٰ کی آیات سناتے اور بت پرستی کی مذمت کرتے تو وہ سخت غصے میں آکر آپ کو قہر کی نظر سے گھور گھور کر دیکھتے اور آپ کو دیوانہ قرار دیتے۔ سورة حج (72) میں ہے کہ قریب ہے کہ وہ ہماری آیات پڑھنے والوں پر حملہ ہی کردیں۔”لیزلقونک“ ”ازلق یزلق“ (افعال) پھسلانا۔ اس کا معنی ”ہلاک کرنا“ بھی آتا ہے، کیونکہ پھسل کر گرنے سے آدمی ہلاک بھی ہوجاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کافر لوگ جب ذکر سنتے ہیں تو آپ کو اتنے غصے اور اتنی تیز نظروں سے گھور گھور کر دیکھتے ہیں…
Read the full tafseer →وان یکاد الذین کفروا ان یہ مشقلہ سے مخففہ ہے لیزلقونک یعنی وہ آپ کو نظر لگائیں۔ بابصارھم اس امر کی خبر دی کہ وہ نیب کریم ﷺ سے شدید عداوت رکھتے ہیں۔ انہوں نے ارادہ کیا کہ آپ کو نظر لگائیں (4) تو قریش میں سے چند لوگوں نے آپ کو دیکھا اور انہوں نے کہا، ہم نے آپ کی مثل نہیں دیکھا اور ان کے جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : بنی اسد میں نظر لگانے کا عام رواج تھا یہاں تک کوئی موٹی گائے یا موٹی اونٹنی ان میں سے کسی کے پاس سے گزرتی تو وہ اس کو نظر لگاتے پھر وہ کہتے : اے لونڈی ٹوکرا اور درہم لو اور اس اونٹنی کا گوشت لے آئو۔ وہی اسی حال میں ہوتی کہ موت کے لئے گر پڑتی تو اسے نحر کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
34۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لیزلقونک بابصارہم۔ آپ کو پھسلادیں اپنی تیز نگاہوں سے۔ یعنی وہ اپنی نگاہوں سے آپ کو پچھاڑدیں گے۔
35۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لیزلقونک بابصارہم سے مراد ہے کہ وہ اپنی نگاہوں سے آپ کو گرادیں۔
36۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لیزلقونک بابصارہم کہ وہ آپ کو اپنی نگاہوں سے گرادینا چاہتے ہیں۔ اللہ کی کتاب اور اس کے ذکر سے عداوت کی وجہ سے۔
37۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر وابن مردویہ نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ یہ پڑھتے تھے آیت ون یکاد الذین کفروا لیزلقونک بابصارہم اور…
Read the full tafseer →[وَاِنْ يَّكَادُ الَّذِينَ كَفَرُوْا : اور بیشک ایسے لگتا ہے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ][ لَيُزْلِقُوْنَكَ : کہ وہ ضرور پھسلا دیں آپ کو ][ بِاَبْصَارِهِمْ : اپنی (غضبناک) نظروں سے ][ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ : جب وہ سنتے ہیں اس یاد دہانی (قرآن) کو ][ وَيَقُوْلُوْنَ : اور وہ لوگ کہتے ہیں ][ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌ: بیشک یہ ضرور مجنون ہے ]
نوٹ۔ 3: آیت۔ 15 ۔ کا تعلق بھی صبر و ثبات کی تلقین کے اس مضمون ہی سے ہے جو فاصبر لحکم ربک میں بیان ہوا ہے۔ یعنی اگرچہ حالات نہایت سخت ہیں کہ کفار جب قرآن سنتے ہیں تو تمہیں اس طرح گھورتے ہیں جیسے وہ اپنی نگاہوں کے زور سے تمہیں دھکیل کر تمہارے مقام سے تم کو پھسلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
کافر لوگ چاہتے ہیں کہ آپ کو اپنی نظروں سے پھسلا کر گرا دیں
مشرکین عرب کی دشمنی انتہا کو پہنچ گئی تھی رسول اللہ ﷺ پر ہر طرح کا وار کرنے کو تیار رہتے تھے اور جو بھی موقعہ لگتا تھا اس سے نہیں چوکتے تھے آپ کو تکلیف پہنچانے کی جو طرح طرح کی تدبیریں کرتے تھے انہوں نے آپ کو نظر بد لگوانے کی تدبیر بھی سوچی بعض لوگ جن کی آنکھوں میں فطری طور پر نظر لگانے کی خاصیت ہوتی ہے اس وقت اس طرح کا ایک شخص تھا اسے قریش مکہ نے آمادہ کیا کہ محمد رسول اللہ ﷺ پر ایسی نظر ڈال جس سے آپ مریض ہوجائیں اور آپ کو تکلیف پہنچ جائے۔ صاحب معالم التنزیل اور صاحب روح المعانی نے یہ بات لکھی ہے کہ ان لوگوں نے آپ پر نظر لگوانے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–52
بشارت اہل ایمان وتقوی بنعماء جنت وتذلیل وتوہین کفار ومشرکین درروز آخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان للمتقین عندربھم .......... الی ........ الاذکر للعلمین “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں ان منکرین ومکذبین کا ذکر تھا جو دولت کے نشہ میں مست ہو کر اللہ کی نافرمانی پر کمر بستہ ہوئے رسول خدا ﷺ کی توہین وتذلیل کی تو انکی نافرمانی اور غرور کا انجام ہلاکت ایک تاریخی واقعہ کی شکل میں بیان فرمایا گیا اب ان آیات میں اہل تقوی و ایمان کا اعزاز واکرام اور جنت میں حق تعالیٰ شانہ ان کو کیسی کیسی نعمتوں سے نوازے گا بیان فرمایا جارہا ہے پھر اسی کے ساتھ تنبیہ کے طور پر مجرمین ومنکرین کا قیامت کے روز کیسا برا انجام…
Read the full tafseer →25:۔ ” وان یکادوا “ یہ سورت کی ابتداء سے متعلق ہے۔ جب آپ قرآن کی تلاوت فرماتے اور توحید کی تبلیغ اور صرف اللہ کے برکات دہندہ ہونے کا اعلان کرتے ہیں، تو مشرکین قہر آلود نگاہوں سے آپ کو گھورتے ہیں تاکہ آپ مرعوب ہو کر تبلیغ کا کام چھوڑ دیں اور آپ کو مجنون بھی کہتے ہیں، مگر آپ ثابت قدم رہیں اور تبلیغ کا کام کیے جائیں۔ اللہ آپ کا حافظ و ناصر ہے۔ السدی و سعید بن جبیر : یصرفونک عنا انت علیہ من تبلیغ الرسالۃ (قرطبی ج 18 ص 256) ۔ یصرفونک عما انت علیہ من تبلیغ الرسالۃ وانما اراد انہم ینظرون الیک اذا قرات القران نظرا شدیدا بالعداوۃ والبغضاء یکاد یسقطک (خازن ج 7 ص 141) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
گذشتہ سے پیوستہ (ربط) :
پہلی آیتوں میں توحید و رسالت کے منکرین کا بیان تھا ۔ قیامت میں پیش آنے والے حالات کا ذکر تھا۔ ابتدائی آیات میں کفر کرنے والوں کی بدگوئی کا حال تھا کہ حضور ﷺ کی رسالت سے انکار کرتے تھے اور العیاذباللہ آپ کو دیوانہ اور پاگل قرار دیتے تھے۔ اس کے بعد مشرکین کے اس رویہ کا ذکر تھا۔ کہ وہ چاہتے ہیں کہ آپ ﷺ مداہنت کریں توا س طرح ایک دوسرے سے اتفاق ہو سکے گا مگر اللہ تعالیٰ نے اس سے منع کردیا۔ اس کے بعد بیان ہوا کہ اللہ نے جو مال و دولت دے رکھا ہے۔ وہ محض آزمائش کے لیے ہے۔ باغ والوں کا ھال بیان ہوا ان کو اللہ تعالیٰ نے آزمایا پھر ان کا مال و دولت بلاک کردیا۔ اسی طرح فرمایا کہ…
Read the full tafseer →وَاِنْ يَّكَادُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَيُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِہِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَيَقُوْلُوْنَ اِنَّہٗ لَمَجْنُوْنٌ 51 ۘ
كَادَ
ووُضِعَ «كَادَ» لمقاربة الفعل، يقال : كَادَ يفعل : إذا لم يكن قد فعل، وإذا کان معه حرف نفي يكون لما قد وقع، ويكون قریبا من أن لا يكون . نحو قوله تعالی: لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئاً قَلِيلًا[ الإسراء/ 74] ، وَإِنْ كادُوا[ الإسراء/ 73] ، تَكادُ السَّماواتُ
[ مریم/ 90] ، يَكادُ الْبَرْقُ [ البقرة/ 20] ، يَكادُونَ يَسْطُونَ [ الحج/ 72] ، إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ [ الصافات/ 56] ولا فرق بين أن يكون حرف النّفي متقدما عليه أو متأخّرا عنه . نحو :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
ترکیب : اذا العامل فیھا معنی قولہ کصاحب الحوت یرید لاتکن کصاحب الحوت حال ندائہ وذلک لانہ فی ذلک الوقت کان مکظومافکانہ قیل لاتکن مکظوماً ۔ وھومکظوم الجملۃ حال من ضمیر نادٰی وعلیھا یدور النھی لاعلی النداء لانہ امرمستحسن۔ تدارک فعل ماض مذکر حمل علی معنی النعمۃ لان تانیث النعمۃ غیرحقیقی موصوف من ربہ صفۃ والمجموع فاعل تدارک والضمیر فی تدار کہ مفعولہ۔ ھذاقراۃ الجمہور وقریٔ بتشدید الدال تدار کہ وھو مضارع ادغمت التاء فی الدال والاصل تتدارک بتائین وقریٔ تدارکۃً بتاء التانیث لنبذ جواب لولا تقدیر الآیۃ لولاھذہ النعمۃ لنبذبالعرا مع وصف المذمومیۃ فلما حصلت ھذہ لنعمۃ لم یوجد النبذ بالعراء مع ھذا الوصف لانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
وَاِنْ یَّکَادُالَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَـیُزْلِقُوْنَـکَ بِاَبْصَارِھِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّکْرَ وَیَقُوْلُوْنَ اِنَّـہٗ لَمَجْنُوْنٌ۔ وَمَا ھُوَ اِلاَّ ذِکْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ ۔ (القلم : 51، 52)
(اور جب کافر لوگ کلام نصیحت ( قرآن کریم) سنتے ہیں تو اس طرح آپ کو دیکھتے ہیں گویا اپنی نگاہوں کے زور سے آپ کے قدم اکھاڑ دیں گے اور کہتے ہیں کہ یہ ضرور دیوانہ ہے۔ حالانکہ یہ تو سارے جہان والوں کے لیے ایک نصیحت ہے۔ )
لَیـُزْلِقُوْنَکَ … ازلاق سے مشتق ہے جس کے معنی لغزش دینے اور گرا دینے کے ہیں۔ (راغب)
کفار کی طرف سے نفسیاتی حربہ
یہ ایسے ہی ہے جیسے ہم اردو میں کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے اسے ایسی نظروں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
فہم القرآن
ربط کلام : اس آیت سے چند آیات پہلے یہ ارشاد ہوا کہ اے پیغمبر ﷺ ! ان لوگوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیں جو ہمارے ارشادات کی تکذیب کرتے ہیں ان کی حالت یہ ہے جب آپ ان کو نصیحت کرتے ہیں تو آپ کو ڈراؤنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور آپ کو مجنون کہتے ہیں حالانکہ آپ انہیں قرآن مجید کے ساتھ نصیحت کرتے ہیں جو ان کے لیے نازل کیا گیا ہے۔
نبی (علیہ السلام) کسی پر کسی اعتبار سے بھی بوجھ نہ تھے لیکن اس کے باوجود کفار اور مشرکین آپ کی مخالفت کرتے اور آپ پر الزامات لگاتے تھے۔ حالانکہ نبی کریم ﷺ نبوت سے پہلے بھی کفار میں انتہائی سمجھدار اور محترم جانے جاتے تھے۔ کفار مشکل وقت میں آپ ﷺ سے فیصلے کرواتے اور…
Read the full tafseer →کفار کا نگاہوں سے پھسلانے کی کوشش کرنا :
51 : وَاِنْ یَّکَادُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنِکَ بِاَبْصَارِ ھِمْ (اور جب یہ کافر قرآن سنتے ہیں تو ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ گویا آپ کو اپنی نگاہوں سے پھسلا کر گرا دیں گے)
قراءت : مدنی نے یَزْلِقُوْنَکَ یاء کے فتحہ سے پڑھا ہے۔ ان مخففہ من المثقلہ ہے اور اس کی علامت لام ہے۔ زلقہ، ازلقہ : جگہ سے زائل کرنا۔ مطلب یہ ہے نمبر 1۔ قریب ہے کہ کفار آپ کی طرف بہت زیادہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے دشمنی کے ساتھ دیکھنے سے آپ کو اپنی جگہ سے زائل کردیں۔ نمبر 2۔ آپ پر شدید غصہ کی وجہ سے قریب ہے کہ وہ آپ کو ہلاک کردیں۔ بنی اسد کے لوگوں کی نظر کی یہی کیفیت تھی ان میں سے…
Read the full tafseer →50 ۔” فاجتباہ ربہ “ ان کو چن لیا۔ ” فجعلہ من الصالحین
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
48۔ 52۔ اوپر ذکر تھا کہ قرآن کی آیتوں کو جو لوگ جھٹلاتے ہیں انہیں اللہ نے کچھ دنوں ڈھیل دے رکھی ہے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے اس ڈھیل کی مدت میں تم کو صبر اور اللہ کے حکم کا انتظار ضرور ہے ایسا نہ ہو کہ بلا انتظار اللہ کے حکم کے یونس (علیہ السلام) کا سا تم کوئی جلدی کا کام کر بیٹھو۔ یونس (علیہ السلام) کا قصہ سورة یونس انبیاء اور الصافات میں گزر چکا ہے انہوں نے بلا انتظار اللہ کے حکم کے جلدی کا کام کیا وہ یہ تھا کہ جب ان کی قوم یونس پر عذاب کے آنے کا حال معلوم ہوگیا تو وہ بستی کو چھوڑ کر جنگل میں چلے گئے اور ادھر قوم یونس کے رونے گڑگڑانے اور راہ راست پر آجانے سے وہ عذاب ٹل گیا غرض وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
(فاجتبہ ربہ) ۔ پس اللہ نے ان کو منتخب کرلیا اور ان کو ہر کدورت سے پاک کردیا (فجعلہ من الصالحین) اور ان کو نیکوکاروں میں سے کردیا۔ یعنی وہ لوگ جن کے اعمال واقوال اور نیت واحوال درست ہیں۔ ہمارے نبی کریم حضرت محمد ﷺ نے اللہ کے حکم کی اطاعت کی، پس اپنے رب کے فیصلے پر ایسا صبر کیا کہ کائنات میں کوئی شخص صبر کے اس درجے کو نہیں پاسکتا۔ اللہ نے انجام کار آپ کے لیے متعین کردیا (والعاقبۃ للمتقین۔ الاعراف 128) ۔ اور بہتر انجام متقین کے لیے ہے۔ آپ کے دشمنوں کو اس میں اس چیز کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا جو ان کو بری لگتی تھی حتی کہ ان کی بڑی خواہش تھی کہ وہ آپ کو غصے کی نظر سے گھور کر دیکھیں، حسد، کینہ اور غیظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–52
قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔
ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…
Read the full tafseer →45 منکرین کے ‘ پیغام حق سے نفرت اور بغض وعناد کی تصویر کا ذکر وبیان : سو اس ارشاد سے منکرین کے پیغام حق و ہدایت سے نفرت اور ان کے بغض وعناد کی تصویر پیش فرمائی گئی ہے کہ یہ لوگ پیغمبر کو اس طرح کی ٹیڑھی ترچھی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ ان کے شدت بغض وعناد کی وجہ سے ‘ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو یہ لوگ جب قرآن سنتے ہیں تو آپ کی طرف اس طرح گھورتے اور ایسی تیزی نگاہوں سے دیکھتے ہیں ‘ جس سے یوں لگتا ہے کہ یہ اپنی ان تیز نگاہوں کے زور سے آپ ﷺ کو دھکیل کر آپ کے مقام سے پھسلا دیں گے ‘ سو اس آیت کریمہ کا تعلق بھی صبر و ثبات کے اسی مضمون سے ہے ‘ جو اوپر فاصبر لحکم ربک میں بیان ہوا ہے ‘ یعنی حالات اگرچہ نہایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–52
کفار کی خوش فہمیاں، نبی ﷺ کو صبر کی تلقین
تشریح : پچھلی آیات میں مسلمان اور کافر کی سزا و جزا کو علیحدہ علیحدہ کر کے بتا دیا گیا ہے کہ یہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ کیونکہ ہم یعنی کفار مکہ کے سردار دنیا میں امیر کبیر ہیں تو اس لیے ہیں کہ ہم سے اللہ خوش ہے تو اس نے ہمیں یہ تمام نعمتیں دے رکھی ہیں اس لیے آخرت اگر آئی تو وہاں بھی ہمیں کسی تحریر میں رب العزت نے ان سے اس بات کا وعدہ کر رکھا ہے کہ ان کو تو انعام و اکرام دئیے جائیں گے اور مسلمان کیونکہ یہاں اس دنیا میں کچھ کم حیثیت ہیں اس لیے آخرت میں بھی ان کو کچھ نہیں ملے گا۔ کچھ ہی دیر کی بات ہے بہت جلد سب کچھ سامنے آنے والا ہے (جب ساق کھول دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–52
آیات 34 تا 52۔
اسرار ومعارف۔
اور جو لوگ عظمت الٰہی کا اقرار کرلیتے ہیں ان کی خاطر تو ان کے پروردگار نے جنت کی نعمتیں سجارکھی ہیں جو لوگ اطاعت گزار اور حکم بجالانے والے ہیں بھلامجرم ان کی برابری کس طرح کرسکتے ہیں کہ تم اے کفار برائی پہ اچھے نتیجے کی امید رکھتے ہو تمہاری یہ رائے قطعی غلط ہے کیا اس کے لیے تمہارے پاس کوئی نقلی دلیل ہے عقلا تو ویسے محال ہے تو کیا کسی آسمانی کتاب میں تمہیں یہ حق دیا گیا ہے کہ اپنے لیے بہتری چن لو یا اللہ نے قیامت تک کوئی قسم کھارکھی ہے کہ تم جو مانگو ملے گا بھلا تمہارے پاس ایسی باتوں کی کیا ضمانعت ہے ؟ یا کوئی اور ہستی ایسی ہے جو اللہ کی شریک ہے اس نے تمہیں وعدہ دے…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی آپ کی طرف انتہائی غصہ سے بھری ہوئی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →(68:51) وان یکاد الذین کفروا : واؤ عاطفہ، ان مخفف ہے ان سے بمعنی تحقیق۔ یکاد مضارع واحد مذکر غائب کود (باب سمع) مصدر۔ قریب ہے۔ کاد یکاد اگرچہ افعال تامہ ہیں۔ لیکن استعمال میں ان کے بعد کوئی دوسرا فعل ضرور ہوتا ہے جس کے واقع ہونے کے قرب کو کاد سے ظاہر کیا جاتا ہے مثلاً کاد ان یقوم۔ قریب تھا کہ وہ کھڑا ہوجائے الذین کفروا صلہ موصول مل کر فاعل فعل یکاد کا
لیزلقونک لام تاکید کا ہے۔ یزلقون مضارع معروف ازلاق (افعال) مصدر بمعنی پھسلا دینا۔ گرا دینا۔ ازلاق بالبصر غضب ناک نظر سے گھور کر دیکھنا ۔ زلق صاف چکنی زمین۔ زلق مجرد (باب نصر) بھی ازلاق کے معنی میں آتا ہے ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ لما ظرفیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
لغات القرآن۔
یکشف۔ کھول دیا جائے گا۔ ساق۔ پنڈلی۔ یدعون۔ وہ بلائے جائیں گے۔ خاشعۃ۔ جھکنے والی۔ ترھق۔ وہ ڈھانپ لیتی ہے۔ سالمون۔ صحیح سالم۔ ہٹے کٹے۔ ذرنی۔ مجھے چھوڑو۔ نستدرج۔ ہم آہستہ آہستہ لئے جاتے ہیں۔ املی۔ میں نے مہلت دی۔ کیدی۔ میری تدبیر۔ مغرم۔ تاوان۔ مثقلون۔ بوجھ کے نیچے دبے ہوئے۔ صاحب الحوت۔ مچھلی والا (حضرت یونس (علیہ السلام) ) ۔ مکظوم۔ غم میں گھونٹ دیا گیا۔ العرائ۔ چٹیل میدان۔ یزلقون۔ وہ جگہ سے ہٹے ہیں۔ پھسل جاتے ہیں۔
تشریح : جب کفار و مشرکین اور منافقین کے سامنے رسول اللہ ﷺ کلام اللہ کو پیش کرتے تو وہی مکہ کے لوگ جو ان کو صادق و امین کہتے اور ان کی فہم و فراست کے گن گایا کرتے تھے آپ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
نظر لگنے کا ذکر۔
(ف 1) شان نزول : منقول ہے کہ عرب میں بعض لوگ نظر لگانے میں شہرہ آفاق تھے اور ان کی یہ حالت تھی کہ دعوی کرکے نظر لگاتے تھے اور جس چیز کو انہوں نے ایذاپہنچانے کے ارادہ سے دیکھا دیکھتے ہی ہلاک ہوگئی۔ ایسے بہت واقعات ان کے تجربہ میں آچکے تھے کفار نے ان سے کہا کہ رسول کریم کو نظر لگائیں تو ان لوگوں نے حضور کو بڑی تیز نگاہوں سے دیکھا اور کہا کہ ہم نے اب تک نہ ایسا آدمی دیکھا ہے نہ ایسی دلیلیں دیکھیں اور ان کا کسی چیز کو دیکھ کر حیرت کرنا ہی ستم ہوتا تھا لیکن ان کی یہ تمام جدوجہد بھی مثل ان کے اور مکائد کے جو رات دن وہ کرتے رہتے تھے بیکار گئی۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
[16] اصل الفاظ ہیں ( وَاِنْ يَّكَادُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَيُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَيَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌ 51ۘ) 68 ۔ القلم :51) جس کا لفظی ترجمہ ہے وہ اپنی نظروں سے تمہیں پھسلا دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
ف 2: یعنی ان لوگوں کے انکار وکفر پر آپ غمگین ہوکر حضرت یونس (علیہ السلام) کی طرح دبدعا میں اور ترک شفقت میں جلدی نہ کریں ۔ اور پورے صبروسکون کے ساتھ ان کی ان حرکتوں کو برداشت کریں ۔ اللہ نے چاہا ۔ تو آپ کی آواز صدابحر ثابت نہیں ہوگی ۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کا قصہ یہ ہے ۔ کہ آپ کی نافرمانی سے رنجیدہ ہو کر اللہ کے عذاب کے طالب ہوئے اور اصلاح سے مایوس ہوکر قوم کو چھوڑ کر ہجرت پر آمادہ ہوگئے ۔ یہ ادا اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آئی ۔ اور سزا یہ ملی ۔ کہ دب دریا پار کرنے لگے ۔ تو ایک بڑی مچھلی کا لقمہ بن گئے ۔ اور اگر پھر اللہ کی طرف سے توبہ وانابت کی توفیق مرحمت نہ ہوتی ۔ تو مچھلی کے پیٹ سے نہ…
Read the full tafseer →(51) اور بلا شبہ نزدیک ہے کہ یہ کافر اپنی تیز نگاہی اور گھور گھور کر دیکھنے سے آپ کو پھسلا دیں جب کہ وہ سنتے ہیں قرآن کو اور یوں کہتے ہیں کہ دیوانہ اور مجنون ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
ف 5۔ یہ غم مجموعہ تھا کئی غموں کا ایک قوم کے ایمان نہ لانے کا، ایک عذاب کے ٹل جانے کا، ایک بلا اذن صریح حق تعالیٰ کے وہاں سے چلے آنے کا، ایک مچھلی کے پیٹ میں محبوس ہوجانے کا، اور وہ دعا یہ ہے : لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظلمین، جس سے مقصود استغفار اور طلب نجات عن الحبس ہے، چناچہ اس پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا، اور مچھلی کے پیٹ سے نجات ہوئی۔
Read the full tafseer →کافر جب قرآن کریم کو سنتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ وہ آپ کو پھسلا دینا چاہتے ہیں
51 ؎ کفر و اسلام کا جب مقابلہ شروع ہے اور باوجود اس کے کہ کافروں کے پاس کوئی دلیل عقلی اور نقلی نہیں ہے وہ محض غصہ میں ہیں جو ان کے دلوں کے اندر بھڑک رہا ہے اور خصوصاً اس وقت ان کی حالت غیر ہوجاتی ہے اور ان کے تیور بدل جاتے ہیں جب آپ ﷺ ان کو قرآن کریم کی تلاوت کرتے اور وہ سنتے ہیں کیونکہ ایسا کلام تو وہ لا نہیں سکتے نہ ان کے بس اور اختیار کی بات ہے اور باوجود مخالفت کے وہ آپ ﷺ کے اس کلام کو رد بھی نہیں کرسکتے اور آپ ﷺ کا پڑھا ہوا سن بھی نہیں سکتے اور اس طرح جو وہ اپنے غصے کے اندر ہونٹ کاٹ کر رہ جاتے ہیں اور ہاتھوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
وَإِن يَكَادُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَارِهِمْ (And indeed the disbelievers seem to trip you up with their glances when they hear the Reminder, and say, "He is a madman indeed 68:51). The verb 'layuzliqunaka' is derived from izlaq which means 'to trip up or to cause someone to fall or make a mistake' [ Raghib ]. The verse says to the Holy Prophet that disbelievers cast angry looks at him that they might frighten him into giving up his mission or intimidate him into yielding to their pressure tactics. When they listen to Divine words, they call him a madman. But far from…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
35 "Would trip you up": "Would eat you up with their eyes". For a similar expression of the Makkan disbelievers' rage and fury against the Holy Prophet, see also Bani Isra'il: 73-77.
Read the full tafseer →