Explained with ayahs 48–52
مصائب سے نجات دلانے والی دعا ، نظر، فال اور شگون
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ اپنی قوم کی ایذاء پر اور ان کے جھٹلانے پر صبر و ضبط کرو عنقریب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہونے والا ہے، انجام کار آپ کا اور آپ کے ماتحتوں کا ہی غلبہ ہوگا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دیکھو تم مچھلی والے نبی کی طرح نہ ہونا اس سے مراد حضرت یونس بن متی ؑ ہیں جبکہ وہ اپنی قوم پر غضب ناک ہو کر نکل کھڑے ہوئے پھر جو ہوا سو ہوا، یعنی آپ کا جہاز میں سوار ہونا مچھلی کا آپ کو نگل جانا اور سمندر کی تہہ میں بیٹھ جانا اور ان تہ بہ تہ اندھیروں میں اس قدر نیچے آپ کا سمندر کو اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کرتے ہوئے سننا اور خود آپ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
سورة الْقَلَم 34
اس آیت کو سورة صافات کی آیات 142 تا 146 کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت حضرت یونس مچھلی کے پیٹ میں ڈالے گئے تھے اس وقت تو وہ ملامت میں مبتلا تھے، لیکن جب انہوں نے اللہ کی تسبیح کی اور اپنے قصور کا اعتراف کرلیا تو اگرچہ وہ مچھلی کے پیٹ سے نکال کر بڑی سقیم حالت میں ایک چٹیل زمین پر پھینکے گئے، مگر وہ اس وقت مذمت میں مبتلا نہ تھے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اس جگہ ایک بیلدار درخت اگا دیا، تاکہ اس کے پتے ان پر سایہ بھی کریں اور وہ اس کے پھل سے بھوک اور تشنگی بھی دور کرسکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
(آیت) وَلَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ یہاں حضرت یونین ؑ کو صاحب حوت اسی مناسبت سے کہا گیا کہ وہ کچھ عرصہ مچھلی کے پیٹ میں رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
’نِعْمَۃٌ‘ سے یہاں مراد اللہ تعالیٰ کا وہ فضل ہے جو توبہ کے بعد ان کو قبولیت توبہ اور ازسرنو فریضۂ رسالت پر ماموریت کی شکل میں حاصل ہوا۔ فرمایا کہ اگر ان پر اللہ کا یہ فضل نہ ہوا ہوتا تو جس ریت پر مچھلی نے ان کو ڈالا تھا اسی پر نہایت مذموم حالت میں وہ پڑے ہی رہ جاتے لیکن اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، ان کو اپنی رحمت سے نوازا، ان کو ان کے مقدس مشن کی تکمیل کے لیے ازسرنو برگزیدہ کیا اور زمرۂ صالحین میں شامل فرمایا۔ یعنی اس دنیا سے وہ ناکام و نامراد نہیں گئے بلکہ بامرادوں کے زمرہ۔۔۔ صالحین۔۔۔ میں وہ شامل ہوئے۔
Read the full tafseer →50۔ 1 اس کا مطلب ہے کہ انہیں توانا اور تندرست کرنے کے بعد دوبارہ رسالت سے نواز کر انہیں اپنی قوم کی طرف بھیجا گیا، جیسا کہ (وَاَنْۢبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِّنْ يَّقْطِيْنٍ 146ۚ) 37۔ الصافات :146) سے بھی واضح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
16: اس سے مراد وہ میدان ہے جہاں مچھلی حضرت یونس ؑ کو اگل کر چلی گئی تھی۔ مطلب یہ ہے کہ مچھلی کے پیٹ سے نکلنے کے باوجود وہ اتنے کمزور ہوچکے تھے کہ ان کا زندہ رہنا بہت مشکل تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے انہیں سنبھالا، اور وہ دوبارہ تندرست ہوگئے۔
Read the full tafseer →فاجتبہ ........................ الصلحین (86 : 05) ” آخر کار اس کے رب نے اسے برگزیدہ فرما لیا اور اسے صالح بندوں میں شامل کردیا “۔
یہ تجربہ خاتم النبین کے لئے پیش کیا گیا تاکہ آپ اپنے فرائض رسالت کی ادائیگی میں اس سے استفادہ کریں۔ کیونکہ آپ نے آخری رسالت کا کام تمام سابقہ تجربات کی روشنی میں کرنا تھا۔ تمام نصیحتیں ، تمام عبرتیں اور تمام تجربات کی فصل آپ نے کاٹنی تھی تاکہ آپ کے لئے اپنے کام میں فیصلے کرنے میں آسانی ہو۔ اور آپ یہ بوجھ اچھی طرح اٹھاسکیں۔ تاکہ آنے والے زمانے میں ، جدید سے جدید تر حالات میں بھی زندگی کی گاڑی ان اصولوں کے مطابق چلائی جاسکے اور جب مستقبل کوئی نیا مسئلہ لے کر آئے تو…
Read the full tafseer →2 یعنی پھر ان کا اور زیادہ رتبہ بڑھایا۔ اور اعلیٰ درجہ کے نیک و شائستہ لوگوں میں داخل رکھا۔ حدیث میں حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص نہ کہے کہ میں (محمد ﷺ یونس بن متّٰی سے بہتر ہوں۔
Read the full tafseer →آیت 50{ فَاجْتَبٰـٹـہُ رَبُّہٗ فَجَعَلَہٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ۔ } ”تو اس کے ربّ نے اس کو ُ چن لیا اور اسے پھر صالحین میں سے کردیا۔“
حضرت یونس علیہ السلام کے ذکر کے حوالے سے یہاں حضور ﷺ کا ایک فرمان بھی سن لیجیے۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے : لَا تُفَضِّلُوْنِیْ عَلٰی یُوْنُسَ بْنِ مَتّٰی 1 ”کہ مجھے یونس علیہ السلام ابن متیٰ پر بھی فضیلت نہ دو“۔ اس میں ان لوگوں کے لیے تنبیہہ ہے جو اپنا جوشِ خطابت اور زور قلم دوسرے انبیاء کرام پر حضور ﷺ کی فضیلت ثابت کرنے میں صرف کرتے ہیں۔ آپ ﷺ بلاشبہ پوری نوع انسانی سے افضل اور سید الانبیاء والمرسلن ہیں۔ لیکن ع ”حاجت ِ مشاطہ ّنیست صورت دل آرام را“۔ آج پوری دنیا آپ ﷺ کی…
Read the full tafseer →27 یعنی ان کی نبوت کو بھی بحال کردیا گیا اور انہیں اسی قوم کی طرف دوبارہ بھیجا گیا جہاں سے وہ بھاگ کر چلے گئے تھے۔ آپ کا قصہ پہلے سورة یونس کی آیت نمبر 98، سورة انبیاء کی آیت نمبر 87، 88 اور سورة صافات کی آیت نمبر 143 کے تحت گزر چکا ہے۔ وہ حواشی ملاحظہ کرلیے جائیں۔
Read the full tafseer →31۔ مقام اجتباء وصالحیت پر تو آپ پہلے سے ہی تھے۔ اب ان مقامات میں اور زیادہ ترقی ہوگئی، مفسر تھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ شاید اس تمیم قصہ سے مقصود یہ ہو کہ اپنے اجتہاد پر عمل کرنا ان پیغمبر کو کیسا مضر ہوا اور توکل کیسا نافع، اس طرح عذاب کے بارے میں آپ ﷺ بھی اپنی رائے سے عجت نہ کیجئے، بلکہ اللہ ہی پر توکل رکھئے تو انجام بہتر ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
ولاتکن کصاحب الحوت اس کے بعد حضرت یونس (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر فرما کر آپ ﷺ کو نصیحت فرمائی گئی ہے کہ جس طرح یونس (علیہ السلام) نے ان لوگوں کے مطالبہ سے تنگ آ کر جلد بازی میں اپنی قوم کے لئے عذاب کی دعاء کردی اور عذاب کے آثار سامے آ بھی گئے، اور یونس (علیہ السلام) اس جائے عذاب سے دوسری جگہ منتقل ہو بھی گئے، مگر پھر پوری قوم نے الحاح وزاری اور اخلاص کے ساتھ توبہ کرلی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو معافی دیدی اور عذاب ہٹا لیا تو اب یونس (علیہ السلام) نے یہ شرمندگی محسوس کی کہ میں ان لوگوں میں جھوٹا قرار پائوں گا، اس بدنامی کے خوف سے اللہ تعالیٰ کے اذن صریح کے بغیر اپنے اجتہاد سے یہ راہ اختیار کرلی…
Read the full tafseer →فاجتبہ ربہ . اللہ نے پھر اس کو بزرگی عطا فرمائی اور دوبارہ اس کے پاس وحی بھیجی۔
فجعلہ من الصالحین . اور اس کو کامل اہل صلاح میں سے کردیا۔ یعنی غیر اولیٰ بات کہنے سے بھی محفوظ کردیا۔
یادداشت صوفی پر لازم ہے کہ مخلوق کی طرف سے جو دکھ پہنچے اس پر صبر کرے۔ منکروں کے حق میں بددعا کرنی جائز نہیں۔ منکرین نبی کے خلاف بددعا کرنے کی اللہ نے اجازت نہیں دی بلکہ صبر کرنے کا حکم دیا تو منکرین ولی کے خلاف بددعا کیسے ہوسکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
(49۔ 50) اگر احسان خداوندی ان کی مدد نہ کرتا تو وہ اس میدان میں بدحالی کے ساتھ ڈرے جاتے تو پھر ان کے پروردگار نے توبہ کی وجہ سے ان کو برگزیدہ کرلیا اور رسولوں کا سا بلند مرتبہ عطا کردیا۔
Read the full tafseer →فاجتبہ ربہ فجعلہ من الصلحین : چنے ہوئے تو پہلے بھی تھے، اب ان کا مرتبہ اور بڑھا دیا اور انہیں اعلیٰ درجے کے نیک اور صالح بندوں میں داخل کردیا۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ماینبغی لعبد ان یقول انی خیر من یونس بن متی) (بخاری، الانبیاء ، باب قول اللہ تعالیٰ :(وان یونس …): 3313)”کسی بندے کو لائق نہیں کہ وہ کہے میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔“
Read the full tafseer →فاجتبہ ربہ اسے پسند کیا اور اسے اختیار کیا۔ فجعلہ من الصلحین۔ حضرت ابن عباس نے کہا، اللہ نے ان کی طرف وحی لوٹا دی آپ کی ذات اور ان کی قوم کے بارے میں آپ کی سفارش کو قبول فرمایا اور ان کی توبہ کو قبول کیا فجعلہ من اصلحین۔ سے مراد ہے آپ کو ایک لوگوں سے زائد افراد کی طرف نبی بنا کر مبعوث کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
31۔ الحاکم نے وہب (رح) سے روایت کیا کہ یونس (علیہ السلام) کے اخلاق میں کچھ تنگی تھی۔ جب ان پر نبوت کا بوجھ ڈالا گیا۔ تو اس کے سبب آپ پہلونٹے او ونٹ کی طرح پھٹ گئے۔ چناچہ اسے ہاتھ سے پھینک دیا اور بھاگ گئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم ﷺ سے فرمایا آیت ولاتکن کصاحب الحوت اذا نادیٰ وہو مکظوم اور مچھلی والے کی طرح نہ ہوجائیے جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا اور وہ بہت ہی غمگین تھا۔
32۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وہو مکظوم یعنی وہ مغموم تھا آیت وہو مذموم اور وہ ملامت کیے گئے تھے۔
33۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وہو مکظوم یعنی وہ مغموم تھا۔
Read the full tafseer →[فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ : پھر نوازا ان کو ان کے رب نے ][ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ : تو اس نے کردیا ان کو نیک لوگوں میں سے ]
Read the full tafseer →﴿فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ 0050﴾ (پھر ان کے رب نے ان کو چن لیا اور برگزیدہ بنا لیا اور انہیں صالحین میں شامل فرما دیا) بلا اذن خداوندی قوم کو چھوڑ کر چلے جانے کی خطا اجتہادی کا جو صدور ہوا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کو معاف فرما دیا اور صالحین کاملین ہی میں ان کا درجہ رکھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–52
بشارت اہل ایمان وتقوی بنعماء جنت وتذلیل وتوہین کفار ومشرکین درروز آخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان للمتقین عندربھم .......... الی ........ الاذکر للعلمین “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں ان منکرین ومکذبین کا ذکر تھا جو دولت کے نشہ میں مست ہو کر اللہ کی نافرمانی پر کمر بستہ ہوئے رسول خدا ﷺ کی توہین وتذلیل کی تو انکی نافرمانی اور غرور کا انجام ہلاکت ایک تاریخی واقعہ کی شکل میں بیان فرمایا گیا اب ان آیات میں اہل تقوی و ایمان کا اعزاز واکرام اور جنت میں حق تعالیٰ شانہ ان کو کیسی کیسی نعمتوں سے نوازے گا بیان فرمایا جارہا ہے پھر اسی کے ساتھ تنبیہ کے طور پر مجرمین ومنکرین کا قیامت کے روز کیسا برا انجام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
24:۔ ” لولا ان تدار کہ “ اگر اللہ کی نعمت و رحمت اس کی دستگیری نہ کرتی تو اسے کرامت و حرمت سے محروم کر کے چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتا، لیکن اللہ کی رحمت نے اس کی دستگیری کی، تو اللہ نے ان کے اعتراف اور تسبیح کی بدولت ان کے درجات میں مزید ترقی عطا فرمائی اور ان کو کاملین میں داخل فمایا۔ یہاں تک کہ اس کے بعد کوئی ان سے خلاف اولی کام سرزد نہ ہوا (من الصالحین) من الکاملین فی الصلاح بان عصمہ من ان یفعل ما ترکہ اولی (بیضاوی ج 2 ص 393) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
گذشتہ سے پیوستہ (ربط) :
پہلی آیتوں میں توحید و رسالت کے منکرین کا بیان تھا ۔ قیامت میں پیش آنے والے حالات کا ذکر تھا۔ ابتدائی آیات میں کفر کرنے والوں کی بدگوئی کا حال تھا کہ حضور ﷺ کی رسالت سے انکار کرتے تھے اور العیاذباللہ آپ کو دیوانہ اور پاگل قرار دیتے تھے۔ اس کے بعد مشرکین کے اس رویہ کا ذکر تھا۔ کہ وہ چاہتے ہیں کہ آپ ﷺ مداہنت کریں توا س طرح ایک دوسرے سے اتفاق ہو سکے گا مگر اللہ تعالیٰ نے اس سے منع کردیا۔ اس کے بعد بیان ہوا کہ اللہ نے جو مال و دولت دے رکھا ہے۔ وہ محض آزمائش کے لیے ہے۔ باغ والوں کا ھال بیان ہوا ان کو اللہ تعالیٰ نے آزمایا پھر ان کا مال و دولت بلاک کردیا۔ اسی طرح فرمایا کہ…
Read the full tafseer →فَاجْتَبٰىہُ رَبُّہٗ فَجَــعَلَہٗ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ 50
اجتباء
: الجمع علی طریق الاصطفاء . قال عزّ وجل : فَاجْتَباهُ رَبُّهُ [ القلم/ 50] ، وقال تعالی: وَإِذا لَمْ تَأْتِهِمْ بِآيَةٍ قالُوا : لَوْلا اجْتَبَيْتَها [ الأعراف/ 203] ، أي : يقولون : هلّا جمعتها، تعریضا منهم بأنک تخترع هذه الآیات ولیست من اللہ . واجتباء اللہ العبد : تخصیصه إياه بفیض إلهيّ يتحصل له منه أنواع من النعم بلا سعي من العبد، وذلک للأنبیاء وبعض من يقاربهم من الصدیقین والشهداء، كما قال تعالی: وَكَذلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ [يوسف/ 6] ، فَاجْتَباهُ رَبُّهُ فَجَعَلَهُ مِنَ الصَّالِحِينَ [ القلم/ 50] ، وَاجْتَبَيْناهُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
ترکیب : اذا العامل فیھا معنی قولہ کصاحب الحوت یرید لاتکن کصاحب الحوت حال ندائہ وذلک لانہ فی ذلک الوقت کان مکظومافکانہ قیل لاتکن مکظوماً ۔ وھومکظوم الجملۃ حال من ضمیر نادٰی وعلیھا یدور النھی لاعلی النداء لانہ امرمستحسن۔ تدارک فعل ماض مذکر حمل علی معنی النعمۃ لان تانیث النعمۃ غیرحقیقی موصوف من ربہ صفۃ والمجموع فاعل تدارک والضمیر فی تدار کہ مفعولہ۔ ھذاقراۃ الجمہور وقریٔ بتشدید الدال تدار کہ وھو مضارع ادغمت التاء فی الدال والاصل تتدارک بتائین وقریٔ تدارکۃً بتاء التانیث لنبذ جواب لولا تقدیر الآیۃ لولاھذہ النعمۃ لنبذبالعرا مع وصف المذمومیۃ فلما حصلت ھذہ لنعمۃ لم یوجد النبذ بالعراء مع ھذا الوصف لانہ…
Read the full tafseer →فَاجْتَبٰـہُ رَبُّـہٗ فَجَعَلَہٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔ (القلم : 50)
(پس ان کے رب نے ان کو برگزیدہ کیا اور صالح بندوں میں شامل کرلیا۔ )
حضرت یونس (علیہ السلام) کے مقام کی وضاحت
حضرت یونس (علیہ السلام) اور ان کے مقام و مرتبہ کے بارے میں ہر طرح کی غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے فرمایا کہ اگرچہ شدت تأثر سے مغلوب ہو کر آپ ( علیہ السلام) سے ایک فروگزاشت ہوگئی، لیکن فوراً ہی توبہ سے انھوں نے اس کی اصلاح کرلی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف توبہ قبول فرمائی بلکہ انھیں برگزیدہ فرمایا اور اس مقام و مرتبہ پر فائز کردیا جو انبیائے کرام میں صالحین کا مقام ہے۔ صالح کا لفظ قرآن کریم نے عام نیک بندوں کے لیے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
فہم القرآن
ربط کلام : کفار اور مشرکین کو انتباہ کرنے کے بعد نبی ﷺ کو تسلی رکھنے کی تلقین کی گئی ہے۔
نبی کریم ﷺ شب وروز اس فکر اور کوشش میں تھے کہ کفار اور مشرکین اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئیں اور اپنے آپ کو سیدھے راستے پر گامزن کرلیں لیکن وہ لوگ دن بدن مخالفت اور گمراہی میں آگے ہی بڑھتے جارہے تھے۔ انہیں سمجھانے اور نبی کریم ﷺ کو تسلی دینے کے لیے ارشاد ہوا کہ کیا آپ ان سے کوئی صلہ مانگتے ہیں جس وجہ سے وہ آپ کی ذات اور دعوت کو اپنے لیے بوجھ سمجھتے ہیں یا پھر ان کے پاس غیب کا علم ہے جس سے یہ اپنے مستقبل کے بارے میں آگاہ ہیں ؟ ان سے الجھنے کی بجائے آپ اپنے رب کے حکم کا انتظار کریں اور مچھلی والے…
Read the full tafseer →50 : فَاجْتَبٰہُ رَبُّہٗ (پھر ان کے رب نے ان کو برگزیدہ کرلیا) ان کے عذر اور دعا کی وجہ سے ان کو برگزیدہ کرلیا۔ فَجَعَلَہٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ (اور ان کو صالحین میں سے کردیا) جو صلاح کی صفات میں کمال کو پہنچنے والے ہوتے ہیں۔ اور ان کی کوئی لغزش باقی نہ رہنے دی۔ ایک قول یہ ہے الصالحین سے مراد انبیاء (علیہم السلام) میں سے۔ ایک اور قول یہ ہے کہ رسولوں میں سے۔
فیصلہ کن قول :
مطلب درست وہی ہے جو اولاً ہم نے ذکر کیا کیونکہ وہ نبی و رسول تو پہلے ہی تھے جیسا ارشاد الٰہی ہے۔ ان یونس لمن المرسلین۔ اذابق الی الفلک المشحون ] الصافات : 139 : 140[
Read the full tafseer →49 ۔” لو لا ان تدار کہ “ اس کو پایا۔ ” نعمۃ من ربہ “ جب ان پر رحم کیا اور ان کی توبہ قبول کی۔ ” لنبذبالعرائ “ مچھلی کے پیٹ سے کھلی فضا میں پھینکے گئے۔ ” وھو مذموم “ مذمت کیے گئے اور گناہ پر ملامت کیے گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
48۔ 52۔ اوپر ذکر تھا کہ قرآن کی آیتوں کو جو لوگ جھٹلاتے ہیں انہیں اللہ نے کچھ دنوں ڈھیل دے رکھی ہے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے اس ڈھیل کی مدت میں تم کو صبر اور اللہ کے حکم کا انتظار ضرور ہے ایسا نہ ہو کہ بلا انتظار اللہ کے حکم کے یونس (علیہ السلام) کا سا تم کوئی جلدی کا کام کر بیٹھو۔ یونس (علیہ السلام) کا قصہ سورة یونس انبیاء اور الصافات میں گزر چکا ہے انہوں نے بلا انتظار اللہ کے حکم کے جلدی کا کام کیا وہ یہ تھا کہ جب ان کی قوم یونس پر عذاب کے آنے کا حال معلوم ہوگیا تو وہ بستی کو چھوڑ کر جنگل میں چلے گئے اور ادھر قوم یونس کے رونے گڑگڑانے اور راہ راست پر آجانے سے وہ عذاب ٹل گیا غرض وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
(فاجتبہ ربہ) ۔ پس اللہ نے ان کو منتخب کرلیا اور ان کو ہر کدورت سے پاک کردیا (فجعلہ من الصالحین) اور ان کو نیکوکاروں میں سے کردیا۔ یعنی وہ لوگ جن کے اعمال واقوال اور نیت واحوال درست ہیں۔ ہمارے نبی کریم حضرت محمد ﷺ نے اللہ کے حکم کی اطاعت کی، پس اپنے رب کے فیصلے پر ایسا صبر کیا کہ کائنات میں کوئی شخص صبر کے اس درجے کو نہیں پاسکتا۔ اللہ نے انجام کار آپ کے لیے متعین کردیا (والعاقبۃ للمتقین۔ الاعراف 128) ۔ اور بہتر انجام متقین کے لیے ہے۔ آپ کے دشمنوں کو اس میں اس چیز کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا جو ان کو بری لگتی تھی حتی کہ ان کی بڑی خواہش تھی کہ وہ آپ کو غصے کی نظر سے گھور کر دیکھیں، حسد، کینہ اور غیظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–52
قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔
ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
44 توبہ کے بعد حضرت یونس (علیہ السلام) پر نئی عنایات کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ان پر انکے رب کا فضل نہ ہوتا تو ان کو نہایت بدحالی میں کھلے میدان میں ڈال دیا جاتا لیکن ان کو چن لیا ان کے رب نے اور ان کو شامل فرما دیا زمرئہ صالحین میں۔ اول ان کو توبہ کی توفیق دے کر ‘ اور پھر ان سے اس توبہ کو قبول فرما کر ‘ سو نعمت سے یہاں پر مراد اللہ تعالیٰ کا وہ فضل و کریم ہے جو ان کو قبولیت توبہ اور ازسرنو فریضہ رسالت کی ادائیگی پر ماموریت کی شکل میں آنجناب کو حاصل ہوا ‘ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ان پر اللہ تعالیٰ کا یہ فضل نہ ہوا ہوتا تو جس ریت پر مچھلی نے ان کو ڈالا تھا ‘ وہ اسی پر نہایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–52
کفار کی خوش فہمیاں، نبی ﷺ کو صبر کی تلقین
تشریح : پچھلی آیات میں مسلمان اور کافر کی سزا و جزا کو علیحدہ علیحدہ کر کے بتا دیا گیا ہے کہ یہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ کیونکہ ہم یعنی کفار مکہ کے سردار دنیا میں امیر کبیر ہیں تو اس لیے ہیں کہ ہم سے اللہ خوش ہے تو اس نے ہمیں یہ تمام نعمتیں دے رکھی ہیں اس لیے آخرت اگر آئی تو وہاں بھی ہمیں کسی تحریر میں رب العزت نے ان سے اس بات کا وعدہ کر رکھا ہے کہ ان کو تو انعام و اکرام دئیے جائیں گے اور مسلمان کیونکہ یہاں اس دنیا میں کچھ کم حیثیت ہیں اس لیے آخرت میں بھی ان کو کچھ نہیں ملے گا۔ کچھ ہی دیر کی بات ہے بہت جلد سب کچھ سامنے آنے والا ہے (جب ساق کھول دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–52
آیات 34 تا 52۔
اسرار ومعارف۔
اور جو لوگ عظمت الٰہی کا اقرار کرلیتے ہیں ان کی خاطر تو ان کے پروردگار نے جنت کی نعمتیں سجارکھی ہیں جو لوگ اطاعت گزار اور حکم بجالانے والے ہیں بھلامجرم ان کی برابری کس طرح کرسکتے ہیں کہ تم اے کفار برائی پہ اچھے نتیجے کی امید رکھتے ہو تمہاری یہ رائے قطعی غلط ہے کیا اس کے لیے تمہارے پاس کوئی نقلی دلیل ہے عقلا تو ویسے محال ہے تو کیا کسی آسمانی کتاب میں تمہیں یہ حق دیا گیا ہے کہ اپنے لیے بہتری چن لو یا اللہ نے قیامت تک کوئی قسم کھارکھی ہے کہ تم جو مانگو ملے گا بھلا تمہارے پاس ایسی باتوں کی کیا ضمانعت ہے ؟ یا کوئی اور ہستی ایسی ہے جو اللہ کی شریک ہے اس نے تمہیں وعدہ دے…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی ان کا متربہ اور بڑھایا اور انہیں اعلیٰ درجہ کے نیک اور شائستہ بندوں میں داخل رکھا۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : کسی شخص کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ میں (حضرت) یونس بن متی سے بہتر ہوں۔ (ابن کثیر) حضرت یونس کا قصہ سورة یونس آیت 98 اور سورة انبیاء آیت 88-87 میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →(68:50) فاجتہ ربہ جملہ معطوف ہے جس کا عطف جملہ مقدرہ پر ہے ای فتدارکتہ نعمۃ من ربہ (لیکن) اللہ کی طرف سے اس کی رحمت اس تک آپہنچی اور اسے توفیق توبہ نصیب ہوئی اور وہ (توبہ) مشرف بقبولیت ہوئی پس اس کے پروردگار نے اسے منتخب فرما لیا۔
فاجتبہ میںعاطفہ ہے اور تعقیب کا ہے اجتبی ماضی واحد مذکر غائب اجتباء (افتعال) مصدر بمعنی چن لینا۔ انتخاب کرلینا۔ پسند کرلینا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع یونس (علیہ السلام) ہیں۔
ربہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کا پروردگار۔
الصلحین۔ نیک مرد، نیک لوگ، کاملین، صلاح سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے سو اس نے اس کو نیک اور صالحین ، کاملین میں شامل کرلیا۔ مراد یہ کہ نبیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
لغات القرآن۔
یکشف۔ کھول دیا جائے گا۔ ساق۔ پنڈلی۔ یدعون۔ وہ بلائے جائیں گے۔ خاشعۃ۔ جھکنے والی۔ ترھق۔ وہ ڈھانپ لیتی ہے۔ سالمون۔ صحیح سالم۔ ہٹے کٹے۔ ذرنی۔ مجھے چھوڑو۔ نستدرج۔ ہم آہستہ آہستہ لئے جاتے ہیں۔ املی۔ میں نے مہلت دی۔ کیدی۔ میری تدبیر۔ مغرم۔ تاوان۔ مثقلون۔ بوجھ کے نیچے دبے ہوئے۔ صاحب الحوت۔ مچھلی والا (حضرت یونس (علیہ السلام) ) ۔ مکظوم۔ غم میں گھونٹ دیا گیا۔ العرائ۔ چٹیل میدان۔ یزلقون۔ وہ جگہ سے ہٹے ہیں۔ پھسل جاتے ہیں۔
تشریح : جب کفار و مشرکین اور منافقین کے سامنے رسول اللہ ﷺ کلام اللہ کو پیش کرتے تو وہی مکہ کے لوگ جو ان کو صادق و امین کہتے اور ان کی فہم و فراست کے گن گایا کرتے تھے آپ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
حضرت یونس (علیہ السلام) کا واقعہ۔
(ف 3) اوپرذکر تھا کہ قرآن کی آیتوں کو جو لوگ جھٹلاتے ہیں انہیں اللہ نے کچھ دنوں کی ڈھیل دے رکھی ہے ان آیتوں میں فرمایا اے محبوب ﷺ اس ڈھیل کی مدت میں تم کو صبر اور اللہ کے حکم کا انتظار ضرور ہے ، ایسا نہ ہو کہ بلاانتظار اللہ کے حکم حضرت (علیہ السلام) کا ساتم کوئی جلدی کام کربیٹھو۔ حضرت یونس کا قصہ سورة یونس ، انبیاء اور صافات میں گذرچکا ہے انہوں نے بلاانتظار اللہ کے حکم کے جلدی کا کام کیا۔ وہ یہ تھا کہ جب انکوقوم یونس پر عذاب کے آنے کا حال معلوم ہوگیا تو وہ بستی چھوڑ کر جنگ میں چلے گئے اورادھر قوم یونس کے رونے گڑگڑانے اور راہ راست پر آنے سے وہ عذاب ٹل گیا غرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
[41] یعنی یونس (علیہ السلام) کی طرح بےصبرے نہ بنو جو اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر اپنی نافرمان قوم کو چھوڑ کر چلے گئے تھے جس کی وجہ سے ان پر عتاب ہوا اور وہ مچھلی کے پیٹ میں پہنچا دئیے گئے۔
[15] اس کی تفصیل سورة انبیاء آیت 87 تا 89 صفحہ 754 میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
ف 2: یعنی ان لوگوں کے انکار وکفر پر آپ غمگین ہوکر حضرت یونس (علیہ السلام) کی طرح دبدعا میں اور ترک شفقت میں جلدی نہ کریں ۔ اور پورے صبروسکون کے ساتھ ان کی ان حرکتوں کو برداشت کریں ۔ اللہ نے چاہا ۔ تو آپ کی آواز صدابحر ثابت نہیں ہوگی ۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کا قصہ یہ ہے ۔ کہ آپ کی نافرمانی سے رنجیدہ ہو کر اللہ کے عذاب کے طالب ہوئے اور اصلاح سے مایوس ہوکر قوم کو چھوڑ کر ہجرت پر آمادہ ہوگئے ۔ یہ ادا اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آئی ۔ اور سزا یہ ملی ۔ کہ دب دریا پار کرنے لگے ۔ تو ایک بڑی مچھلی کا لقمہ بن گئے ۔ اور اگر پھر اللہ کی طرف سے توبہ وانابت کی توفیق مرحمت نہ ہوتی ۔ تو مچھلی کے پیٹ سے نہ…
Read the full tafseer →(50) پھر اس کے رب نے اس کو نواز دیا اور اس کو نیک اور شائستہ لوگوں میں شامل رکھا۔ مچھلی کی مناسبت سے حضرت یونس (علیہ السلام) کو صاحب الحوت فرمایا ۔ حضرت یونس (علیہ السلام) نے قوم کی اذیت سے گھبرا کر قوم کے لئے بدعا کی پھر بلا اذن الٰہی عذاب کی تاریخ مقرر کردی پھر بستی سے نکل کر چلے گئے اور آخر مچھلی کے پیٹ میں محبوس کردیئے گئے بعض مفسرین نے ولا تکن کصاحب الحوت پر نہی کو ختم کردیا ہے جیسا کہ وقف لازم سے ظاہر ہے اس تقدیر پر مطلب یہ ہے کہ اے محمد تم جلدبازی میں یونس کی طرح نہ ہوجانا اگر حضرت یونس کا قصہ بطور اتمام چند آیتوں میں بیان کردیا۔
یعنی وہ وقت قابل ذکر ہے جب اس نے پکارا ایسی حالت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–52
ف 5۔ یہ غم مجموعہ تھا کئی غموں کا ایک قوم کے ایمان نہ لانے کا، ایک عذاب کے ٹل جانے کا، ایک بلا اذن صریح حق تعالیٰ کے وہاں سے چلے آنے کا، ایک مچھلی کے پیٹ میں محبوس ہوجانے کا، اور وہ دعا یہ ہے : لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظلمین، جس سے مقصود استغفار اور طلب نجات عن الحبس ہے، چناچہ اس پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا، اور مچھلی کے پیٹ سے نجات ہوئی۔
Read the full tafseer →پھر اس کو اس کے رب نے منتخب فرمایا اور اپنے نیک بندوں میں شامل کیا
50 ؎ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے یونس (علیہ السلام) کو ہمت فرمائی اور اس وعظ کے باعث اس کو کتنی ہی عزت و احترام کے ساتھ رکھا اور جب کشتی سے اتر کر لوگ اپنے اپنے گھروں کو چل دیئے اور وہ حیران و ششدر میدان لق و دق میں اکیلا رہ گیا تو اس پر مزید احسان کرتے ہوئے اس کا انتخاب نبوت کے لئے کرلیا اس کو اطلاع کردی کہ آج سے تم ہمارے نبی و رسول ہو اور اللہ تعالیٰ کے پیغام کے لئے تم کو پسند کرلیا گیا ہے اب تم اللہ کا پیغام نینویٰ میں جا کر لوگوں کو پہنچائو۔ اس جگہ ہم نے بالکل اختصار سے کام لیا ہے اور آپ کے قصہ کی تفصیلات کو بیان نہیں کیا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
1-This is the literal translation of the Qur'anic phrase used here. The exegetes have explained it in two different ways. Some of them are of the view that, according to the Arabic usage, 'exposure of the shin' is an idiomatic expression for a severe state of distress. When a person is confronted with such a distress, he normally lays his shins bare. Therefore, exposure of the shin has been taken as indicative of such a state. Given this interpretation, the verse means that on the day when the disbelievers will face the severe distress, they will be called upon to prostrate themselves, but…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
34 When this verse is read with As-Saaffat: 142-146, one learns that at the tune the Prophet Jonah was caused to be swallowed by the fish, he was blameworthy. But when he glorified Allah and confessed his fault, although he was spat up by the fish on a bare beach in a state of sickness, he was.not blameworthy at that time. Allah by His mercy caused a creeper to grow over him so that its leaves should provide him shade and its fruit food and drink.
Read the full tafseer →