Al-Qalam 68:49

Al-Qalam · from ayah 49

68:49

لَوْلَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَهُوَ مَذْمُوْمٌ ۟لَوۡلَاۤ اَنۡ تَدٰرَكَهٗ نِعۡمَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالۡعَرَآءِ وَهُوَ مَذۡمُوۡمٌ‏

اگر تمہارے پروردگار کی مہربانی ان کی یاوری نہ کرتی تو وہ چٹیل میدان میں ڈال دیئے جاتے اور ان کا حال ابتر ہوجاتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

If not that a favor from his Lord overtook him, he would have been thrown onto the naked shore while he was censured.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qalam

All translations of 68:49

اگر اس کے رب کی مہربانی اُس کے شامل حال نہ ہو جاتی تو وہ مذموم ہو کر چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اگر تمہارے پروردگار کی مہربانی ان کی یاوری نہ کرتی تو وہ چٹیل میدان میں ڈال دیئے جاتے اور ان کا حال ابتر ہوجاتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اگر اسے اس کے رب کی نعمت نہ پالیتی تو یقیناً وه برے حالوں میں چٹیل میدان میں ڈال دیا جاتا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اگر ان کے پروردگار کے فضل نے انہیں سنبھال نہ لیا ہوتا تو انہیں بری حالت کے ساتھ اسی کھلے میدان میں پھینک دیا جاتا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی تو ضرور میدان پر پھینک دیا جاتا الزام دیا ہوا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اگر ان کے رب کی رحمت و نعمت ان کی دستگیری نہ کرتی تو وہ ضرور چٹیل میدان میں پھینک دئیے جاتے اور وہ ملامت زدہ ہوتے (مگر اللہ نے انہیں ا س سے محفوط رکھا)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اگر یہ نہ ہوتا کہ اسے اس کے رب کی نعمت نے سنبھال لیا تو یقینا وہ چٹیل زمین پر اس حال میں پھینکا جاتا کہ وہ مذمت کیا ہوا ہوتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اگر انہیں ان کے پروردگار کا فضل سنبھالا نہ دیتا تو وہ تو برے حالوں ایک چٹیل میدان میں پھینک دیئے گئے تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اگر اس کے رب کا فضل اس کی دست گیری نہ کرتا تو وہ مذمت کیا ہوا چٹیل میدان ہی میں پڑا رہ جاتا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اور) اگر دستگیری نہ کی ہوتی اس کی اس کے رب کی (عنایت و) مہربانی نے تو یقینا اس کو پھینک دیا جاتا چٹیل میدان میں بڑی بدحالی کے ساتھ

— مولانا اسحاق مدنی

اگر ان کے پرور دگا رکا فضل ان کی دستگیری نہ کرتا تو وہ میدان میں ڈال دیئے جاتے بدحالی کے ساتھ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اگر اس کی دست گیری نہ کرتا اس کے رب کا ایک انعام (اور احسان) تو وہ ملامت زدہ ہو کر پھینک دیاجاتا کسی چٹیل زمین پر۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اگر تمہارے رب کی مہربانی ان کی یاوری نہ کرتی تو وہ چٹیل میدان میں ڈال دئیے جاتے اور ان کا حال ابتر ہوجاتا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

had his Lord not bestowed His favour upon him, he would have been cast upon that barren shore (and would have remained there) in disgrace.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Had not a favour from His Lord come to his help, he would have been cast in the wilderness in a reproachable state.

— Muhammad Taqi Usmani

Had not a favour from His Lord come to his help, he would have been cast in the wilderness in a reproachable state.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Had not a grace from his Lord reached him, he would indeed have been (left in the stomach of the fish, but We forgave him), so he was cast off on the naked shore, while he was to be blamed.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Had it not been that favour from his Lord had reached him he surely had been cast into the wilderness while he was reprobate.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

If not that a favor from his Lord overtook him, he would have been thrown onto the naked shore while he was censured.

— Saheeh International

and who cried (for help) to his Lord, while imprisoned and helpless inside the fish. Had it not been for a favor from his Lord, he would have been left out in the open, deserving blame for his shortcomings.

— Muhammad Sarwar

Were it not that favor from his Lord had overtaken him, he would certainly have been cast down upon the naked Found while he was blamed.

— Muhammad Habib Shakir

Had not grace from his Lord reached him, he had surely been cast into the wilderness in a plight.

— Abdul Majid Daryabadi

Had not Grace from his Lord reached him, he would indeed have been cast off on the naked shore, in disgrace.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 68:49

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 48–52

مصائب سے نجات دلانے والی دعا ، نظر، فال اور شگون اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ اپنی قوم کی ایذاء پر اور ان کے جھٹلانے پر صبر و ضبط کرو عنقریب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہونے والا ہے، انجام کار آپ کا اور آپ کے ماتحتوں کا ہی غلبہ ہوگا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دیکھو تم مچھلی والے نبی کی طرح نہ ہونا اس سے مراد حضرت یونس بن متی ؑ ہیں جبکہ وہ اپنی قوم پر غضب ناک ہو کر نکل کھڑے ہوئے پھر جو ہوا سو ہوا، یعنی آپ کا جہاز میں سوار ہونا مچھلی کا آپ کو نگل جانا اور سمندر کی تہہ میں بیٹھ جانا اور ان تہ بہ تہ اندھیروں میں اس قدر نیچے آپ کا سمندر کو اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کرتے ہوئے سننا اور خود آپ کا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 49–50

سورة الْقَلَم 34 اس آیت کو سورة صافات کی آیات 142 تا 146 کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت حضرت یونس مچھلی کے پیٹ میں ڈالے گئے تھے اس وقت تو وہ ملامت میں مبتلا تھے، لیکن جب انہوں نے اللہ کی تسبیح کی اور اپنے قصور کا اعتراف کرلیا تو اگرچہ وہ مچھلی کے پیٹ سے نکال کر بڑی سقیم حالت میں ایک چٹیل زمین پر پھینکے گئے، مگر وہ اس وقت مذمت میں مبتلا نہ تھے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اس جگہ ایک بیلدار درخت اگا دیا، تاکہ اس کے پتے ان پر سایہ بھی کریں اور وہ اس کے پھل سے بھوک اور تشنگی بھی دور کرسکیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–50

(آیت) وَلَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ یہاں حضرت یونین ؑ کو صاحب حوت اسی مناسبت سے کہا گیا کہ وہ کچھ عرصہ مچھلی کے پیٹ میں رہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 49–50

’نِعْمَۃٌ‘ سے یہاں مراد اللہ تعالیٰ کا وہ فضل ہے جو توبہ کے بعد ان کو قبولیت توبہ اور ازسرنو فریضۂ رسالت پر ماموریت کی شکل میں حاصل ہوا۔ فرمایا کہ اگر ان پر اللہ کا یہ فضل نہ ہوا ہوتا تو جس ریت پر مچھلی نے ان کو ڈالا تھا اسی پر نہایت مذموم حالت میں وہ پڑے ہی رہ جاتے لیکن اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، ان کو اپنی رحمت سے نوازا، ان کو ان کے مقدس مشن کی تکمیل کے لیے ازسرنو برگزیدہ کیا اور زمرۂ صالحین میں شامل فرمایا۔ یعنی اس دنیا سے وہ ناکام و نامراد نہیں گئے بلکہ بامرادوں کے زمرہ۔۔۔ صالحین۔۔۔ میں وہ شامل ہوئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

49۔ 1 یعنی اگر اللہ تعالیٰ انہیں توبہ و مناجات کی توفیق نہ دیتا اور ان کی دعا قبول نہ فرماتا تو ساحل سمندر کے بجائے جہاں ان کے سائے اور خوراک کے لئے بیلدار درخت اگا دیا گیا، کسی بنجر زمین میں پھینک دیا جاتا اور عند اللہ ان کی حیثیت بھی مذموم رہتی، جب کہ قبولیت دعا کے بعد وہ محمود ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 49–52

16: اس سے مراد وہ میدان ہے جہاں مچھلی حضرت یونس ؑ کو اگل کر چلی گئی تھی۔ مطلب یہ ہے کہ مچھلی کے پیٹ سے نکلنے کے باوجود وہ اتنے کمزور ہوچکے تھے کہ ان کا زندہ رہنا بہت مشکل تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے انہیں سنبھالا، اور وہ دوبارہ تندرست ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 48–49

فاصبر ........................ من الصلحین مچھلی والے حضرت یونس (علیہ السلام) ہیں۔ ان کے واقعہ کی تفصیلات سورة صافات میں گزر گئی ہیں ۔ ان کے تجربہ کا خلاصہ یہ ہے جو حضرت محمد ﷺ کے بطور نمونہ پیش کیا جاتا ہے ، کہ حضرت یونس (علیہ السلام) کو اللہ نے ایک گاﺅں کی طرف بھیجا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ موصل کے قریب نینویٰ نامی گاﺅں تھا۔ ان لوگوں نے ایمان لانے میں دیر کردی۔ آپ کو ان کی یہ حرکت ناگوار گزری۔ غصے میں آپ نے ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا۔ اپنے دل میں کہا کہ اللہ نے مجھ پر یہ لازم نہیں کیا کہ ان ہٹ دھرموں اور معاندین کے درمیان بیٹھا رہوں جبکہ یہ نہیں مان رہے ہیں ، تو میں کسی دوسری قوم میں کام کرسکتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی اگر قبول توبہ کے بعد اللہ کا مزید فضل و احسان دستگیری نہ کرتا تو اسی چٹیل میدان میں جہاں مچھلی کے پیٹ سے نکال کر ڈالے گئے تھے الزام کھائے ہوئے پڑے رہتے اور وہ کمالات و کرامات باقی نہ رہنے دیے جاتے جو محض خدا کی مہربانی سے اس ابتلاء کے وقت بھی باقی رہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 49{ لَوْلَآ اَنْ تَدٰرَکَہٗ نِعْمَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآئِ وَہُوَ مَذْمُوْمٌ۔ } ”اگر اس کی دست گیری نہ کرتا اس کے رب کا ایک انعام اور احسان تو وہ ملامت زدہ ہو کر پھینک دیاجاتا کسی چٹیل زمین پر۔“ حضرت یونس علیہ السلام قدیم عراق کے شہر نینوا میں مبعوث ہوئے تھے۔ یہ شہر بعلبک کے شمال میں واقع تھا۔ دریائے فرات اور دریائے درجلہ اس علاقہ سے گزرتے ہوئے خلیج فارس میں آکر گرتے ہیں۔ آج کل تو یہ دونوں دریا سکڑ کر چھوٹی چھوٹی ندیوں میں تبدیل ہوگئے ہیں ‘ لیکن پرانے زمانے میں تو ظاہر ہے یہ بہت بڑے بڑے دریا ہوں گے۔ حضرت یونس علیہ السلام نینوا شہر سے نکل کر ان میں سے کسی دریا کو پار کرنے کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

26 مچھلی نے آپ کو اپنی غذا نہیں بنایا۔ بلکہ بالکل صحیح وسالم برلب ساحل ایک چٹیل میدان میں اگل دیا۔ یہ نتیجہ تھا آپ کی اس دعا کا جو وہ مچھلی کے پیٹ میں کرتے رہے۔ گویا آپ کی وہ دعا مستجاب ہوگئی اور آپ کو دوبارہ زندگی مل گئی۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب بھی مہیا فرما دیئے کہ چند ہی دنوں میں آپ کی کمزوری دور ہوگئی اور صحت بحال ہوگئی۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی مزید مہربانی اور اس کا فضل تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

30۔ یعنی اگر ان کی توبہ قبول نہ ہوجاتی اور ملامت خطائے اجتہادی پر برابر قائم رہتی تو وہ دریا سے نکال کر میدان میں حالت مذموم کے ساتھ ڈال دیئے جاتے۔ لیکن توبہ قبول ہوگئی، ملامت کا شائبہ نہ رہا اور حالت مذموم ہونے کے ممدوح ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 48–50

ولاتکن کصاحب الحوت اس کے بعد حضرت یونس (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر فرما کر آپ ﷺ کو نصیحت فرمائی گئی ہے کہ جس طرح یونس (علیہ السلام) نے ان لوگوں کے مطالبہ سے تنگ آ کر جلد بازی میں اپنی قوم کے لئے عذاب کی دعاء کردی اور عذاب کے آثار سامے آ بھی گئے، اور یونس (علیہ السلام) اس جائے عذاب سے دوسری جگہ منتقل ہو بھی گئے، مگر پھر پوری قوم نے الحاح وزاری اور اخلاص کے ساتھ توبہ کرلی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو معافی دیدی اور عذاب ہٹا لیا تو اب یونس (علیہ السلام) نے یہ شرمندگی محسوس کی کہ میں ان لوگوں میں جھوٹا قرار پائوں گا، اس بدنامی کے خوف سے اللہ تعالیٰ کے اذن صریح کے بغیر اپنے اجتہاد سے یہ راہ اختیار کرلی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لولا ان تدار کہ . لَوْلَآ امتناعیہ ہے اور تدارک ماضی کا صیغہ ادراک کا ہم معنی ہے . (نِعْمَۃٌ) اس کا فاعل ہے (اور نعمت اگرچہ مؤنث ہے اور تدارک مذکر ہے مگر) فعل اور فاعل میں ہٗ کی وجہ سے فصل ہوگیا ہے۔ اس لیے اس فعل کو مذکر لایا گیا یا ” تدارک “ فعل مضارع منصوب ہے۔ اصل میں تتدارک تھا۔ تفاعل کی تاء کو حذف کردیا گیا۔ اس وقت حال ماضی کی حکایت ہوگی اور اَنْ کی وجہ سے مضارع بمعنی مصدر ہوجائے گا (اوّل صورت میں ترجمہ ہوگا اگر نہ پہنچ گئی ہوتی ‘ اس کو رب کی طرف سے نعمت اور دوسری صورت میں ترجمہ یوں ہوگا اگر نہ ہوتا نعمت رب کا پہنچنا) ۔ نعمۃ . یعنی رحمت۔ من ربہ . صفت رحمت ہے یعنی اگر اس پر اللہ کی طرف سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 49–50

(49۔ 50) اگر احسان خداوندی ان کی مدد نہ کرتا تو وہ اس میدان میں بدحالی کے ساتھ ڈرے جاتے تو پھر ان کے پروردگار نے توبہ کی وجہ سے ان کو برگزیدہ کرلیا اور رسولوں کا سا بلند مرتبہ عطا کردیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لولا ان تدرکہ نعمۃ من ربہ…: اگر یونس ؑ تسبیح و استغفار نہ کرتے تو قیامت کے دن تک مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔ (دیکھیے صافات : 143، 144) تسبیح کیب عد ائمی قید کا فیصلہ ختم ہوگیا ، مگر متر بے میں جو کمی ہوئی اور اپنی خطا کی وجہ سے جس ملامت کے سزا وار ٹھہرے، اگر ان کے رب کی نعمت انہیں نہ سنبھالتی اور ان کی خطا معاف نہ کردی جاتی اور اسی حالت میں عراء (چٹیل زمین) میں پھینک دیئے جاتے تو اس حالت میں وہ مذموم ہوتے، مگر نعمت الٰہی سے تمام کوتاہیوں کی تلافی کے بعد عراء میں پھینکنے گئے تو وہ مذموم نہ تھے بلکہ محمود تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

لولا ان تدر کہ نعمۃ من ربہ عام قرأت تدرکہ ہے۔ ابن ہر مز اور حضرت حسن بصری نے تدار کہ پڑھا ہے۔ یہ مضارع کا صیغہ ہے اس کی تاء کو دال میں ادغام کیا گیا ہے یہ حال کی حکایت کی تقدیر پر ہے۔ گویا فرمایا، لولا ان کان یقال فیہ تتدار کہ نعمۃ حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعود نے تدارکتہ پڑھا ہے یہ متن کی کتابت کے خلفا ہے تدار کہ فعل ماضی ہے مذکر ہے نعمۃ کے معنی پر محمول ہے کیونکہ نعمۃ کی تانیث غیر حقیقی ہے تدار کہ نعمۃ کے لفظ کا اعتبار کرتے ہئے پڑھا ہے۔ نعمۃ کے معنی میں یہاں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی نبوت ہے، یہ ضحاک کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، مراد وہ عبارت ہے جو پہلے گزر چکی،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 49–50

31۔ الحاکم نے وہب (رح) سے روایت کیا کہ یونس (علیہ السلام) کے اخلاق میں کچھ تنگی تھی۔ جب ان پر نبوت کا بوجھ ڈالا گیا۔ تو اس کے سبب آپ پہلونٹے او ونٹ کی طرح پھٹ گئے۔ چناچہ اسے ہاتھ سے پھینک دیا اور بھاگ گئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم ﷺ سے فرمایا آیت ولاتکن کصاحب الحوت اذا نادیٰ وہو مکظوم اور مچھلی والے کی طرح نہ ہوجائیے جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا اور وہ بہت ہی غمگین تھا۔ 32۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وہو مکظوم یعنی وہ مغموم تھا آیت وہو مذموم اور وہ ملامت کیے گئے تھے۔ 33۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وہو مکظوم یعنی وہ مغموم تھا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لَوْلَآ اَنْ تَدٰرَكَهٗ : اگر نہ ہوتا کہ آلیا ان کو ][ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ : ایک نعمت نے ان کے رب (کے پاس) سے ][ لَنُبِذَ : تو ضرور وہ پھینکے گئے رہتے ][ بِالْعَرَاۗءِ : اس چٹیل میدان میں ][ وَهُوَ مَذْمُوْمٌ: اس حال میں کہ وہ مذمت کیے ہوئے ہوتے ] نوٹ۔ 2: آیت۔ 49 ۔ کو سورة القافات کی آیت۔ 142 تا 146 کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت حضرت یونس مچھلی کے پیٹ میں ڈالے گئے تھے اس وقت تو وہ ملامت میں مبتلا تھے، لیکن جب انہوں نے اللہ کی تسبیح کی اور اپنے قصور کا اعتراف کرلیا تو اگرچہ وہ مچھلی کے پیٹ سے نکال کر بڑی سقیم حالت میں ایک چٹیل زمین پر پھینکے گئے تھے، مگر وہ اس وقت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ ﴾ (الآیۃ) اگر اللہ تعالیٰ کا انعام ان کی دستگیری نہ کرتا تو وہ بدحالی کے ساتھ میدان میں ڈال دیئے جاتے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان پر فضل فرما دیا مچھلی کے پیٹ سے باہر لایا خشکی میں پہنچے ضعیف اور کمزور تھے اور ان پر ایک بیلدار درخت اگا دیا جس سے سایہ ہوگیا جیسا کہ سورة ٴ صافات میں مذکور ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–52

بشارت اہل ایمان وتقوی بنعماء جنت وتذلیل وتوہین کفار ومشرکین درروز آخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان للمتقین عندربھم .......... الی ........ الاذکر للعلمین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں ان منکرین ومکذبین کا ذکر تھا جو دولت کے نشہ میں مست ہو کر اللہ کی نافرمانی پر کمر بستہ ہوئے رسول خدا ﷺ کی توہین وتذلیل کی تو انکی نافرمانی اور غرور کا انجام ہلاکت ایک تاریخی واقعہ کی شکل میں بیان فرمایا گیا اب ان آیات میں اہل تقوی و ایمان کا اعزاز واکرام اور جنت میں حق تعالیٰ شانہ ان کو کیسی کیسی نعمتوں سے نوازے گا بیان فرمایا جارہا ہے پھر اسی کے ساتھ تنبیہ کے طور پر مجرمین ومنکرین کا قیامت کے روز کیسا برا انجام…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 49–50

24:۔ ” لولا ان تدار کہ “ اگر اللہ کی نعمت و رحمت اس کی دستگیری نہ کرتی تو اسے کرامت و حرمت سے محروم کر کے چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتا، لیکن اللہ کی رحمت نے اس کی دستگیری کی، تو اللہ نے ان کے اعتراف اور تسبیح کی بدولت ان کے درجات میں مزید ترقی عطا فرمائی اور ان کو کاملین میں داخل فمایا۔ یہاں تک کہ اس کے بعد کوئی ان سے خلاف اولی کام سرزد نہ ہوا (من الصالحین) من الکاملین فی الصلاح بان عصمہ من ان یفعل ما ترکہ اولی (بیضاوی ج 2 ص 393) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 48–52

گذشتہ سے پیوستہ (ربط) : پہلی آیتوں میں توحید و رسالت کے منکرین کا بیان تھا ۔ قیامت میں پیش آنے والے حالات کا ذکر تھا۔ ابتدائی آیات میں کفر کرنے والوں کی بدگوئی کا حال تھا کہ حضور ﷺ کی رسالت سے انکار کرتے تھے اور العیاذباللہ آپ کو دیوانہ اور پاگل قرار دیتے تھے۔ اس کے بعد مشرکین کے اس رویہ کا ذکر تھا۔ کہ وہ چاہتے ہیں کہ آپ ﷺ مداہنت کریں توا س طرح ایک دوسرے سے اتفاق ہو سکے گا مگر اللہ تعالیٰ نے اس سے منع کردیا۔ اس کے بعد بیان ہوا کہ اللہ نے جو مال و دولت دے رکھا ہے۔ وہ محض آزمائش کے لیے ہے۔ باغ والوں کا ھال بیان ہوا ان کو اللہ تعالیٰ نے آزمایا پھر ان کا مال و دولت بلاک کردیا۔ اسی طرح فرمایا کہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَوْلَآ اَنْ تَدٰرَكَہٗ نِعْمَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَاۗءِ وَہُوَمَذْمُوْمٌ۝ 49 «لَوْلَا» يجيء علی وجهين : أحدهما : بمعنی امتناع الشیء لوقوع غيره، ويلزم خبره الحذف، ويستغنی بجوابه عن الخبر . نحو : لَوْلا أَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ [ سبأ/ 31] . والثاني : بمعنی هلّا، ويتعقّبه الفعل نحو : لَوْلا أَرْسَلْتَ إِلَيْنا رَسُولًا[ طه/ 134] أي : هلّا . وأمثلتهما تکثر في القرآن . ( لولا ) لو لا ( حرف ) اس کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے ایک شے کے پائے جانے سے دوسری شے کا ممتنع ہونا اس کی خبر ہمیشہ محذوف رہتی ہے ۔ اور لولا کا جواب قائم مقام خبر کے ہوتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ لَوْلا أَنْتُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 48–52

ترکیب : اذا العامل فیھا معنی قولہ کصاحب الحوت یرید لاتکن کصاحب الحوت حال ندائہ وذلک لانہ فی ذلک الوقت کان مکظومافکانہ قیل لاتکن مکظوماً ۔ وھومکظوم الجملۃ حال من ضمیر نادٰی وعلیھا یدور النھی لاعلی النداء لانہ امرمستحسن۔ تدارک فعل ماض مذکر حمل علی معنی النعمۃ لان تانیث النعمۃ غیرحقیقی موصوف من ربہ صفۃ والمجموع فاعل تدارک والضمیر فی تدار کہ مفعولہ۔ ھذاقراۃ الجمہور وقریٔ بتشدید الدال تدار کہ وھو مضارع ادغمت التاء فی الدال والاصل تتدارک بتائین وقریٔ تدارکۃً بتاء التانیث لنبذ جواب لولا تقدیر الآیۃ لولاھذہ النعمۃ لنبذبالعرا مع وصف المذمومیۃ فلما حصلت ھذہ لنعمۃ لم یوجد النبذ بالعراء مع ھذا الوصف لانہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَوْلَآ اَنْ تَدٰرَکَـہٗ نِعْمَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ لَـنُبِذَ بِالْعَرَآئِ وَھُوَ مَذْمُوْمٌ۔ (القلم : 49) (اگر ان کے رب کی مہربانی ان کے شامل حال نہ ہوتی تو وہ مذمت کیے ہوئے چٹیل میدان ہی میں پڑے رہتے۔ ) نعمت سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ فضل اور اس کی مہربانی ہے جو حضرت یونس (علیہ السلام) کو نصیب ہوئی کہ جب انھوں نے مچھلی کے پیٹ میں اللہ تعالیٰ کو پکارا، اپنی فروگزاشت کا اعتراف کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا، تو اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان کی توبہ قبول فرمائی بلکہ فریضہ رسالت پر ازسرنو مامور فرمایا۔ اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا یہ فضل و احسان نہ ہوتا تو جس طرح ریت پر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 46–50

فہم القرآن ربط کلام : کفار اور مشرکین کو انتباہ کرنے کے بعد نبی ﷺ کو تسلی رکھنے کی تلقین کی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ شب وروز اس فکر اور کوشش میں تھے کہ کفار اور مشرکین اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئیں اور اپنے آپ کو سیدھے راستے پر گامزن کرلیں لیکن وہ لوگ دن بدن مخالفت اور گمراہی میں آگے ہی بڑھتے جارہے تھے۔ انہیں سمجھانے اور نبی کریم ﷺ کو تسلی دینے کے لیے ارشاد ہوا کہ کیا آپ ان سے کوئی صلہ مانگتے ہیں جس وجہ سے وہ آپ کی ذات اور دعوت کو اپنے لیے بوجھ سمجھتے ہیں یا پھر ان کے پاس غیب کا علم ہے جس سے یہ اپنے مستقبل کے بارے میں آگاہ ہیں ؟ ان سے الجھنے کی بجائے آپ اپنے رب کے حکم کا انتظار کریں اور مچھلی والے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

49 : لَوْلَآ اَنْ تَدٰرَکَہٗ نِعْمَۃٌ(اگر اللہ تعالیٰ کا احسان و رحمت ان کی دستگیری نہ کرتی) مِّنْ رَّبِّہٖ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ان پر انعام نہ فرماتا اور ان کی دعا کو قبولیت اور عذر کو منظور نہ فرماتا۔ لَنُبِذَ (تو وہ ڈالے جاتے) مچھلی کے پیٹ سے بِالْعَرَآ ئِ (میدان و فضا میں) وَھُوَ مَذْ مُوْمٌ (بدحالی کے ساتھ) اس حال میں لغزش کی وجہ سے عتاب شدہ ہوتے۔ لیکن اس نے رحم فرمایا اور بدحالی کے بغیر ان کو ڈالا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

48 ۔” فاصبر لحکم ربک “ ان کی تکلیف پر صبر کریں، اپنے رب کی قضاء کے لئے۔ ” ولا تکن “ تنگی اور جلدی میں۔” کصاحب الحوت “ اور وہ یونس بن متی ہیں۔ ” اذنادی “ اپنے رب کو اور مچھلی کے پیٹ میں تھے۔ ” وھومکظوم “ غم سے بھرے ہوئے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 48–52

48۔ 52۔ اوپر ذکر تھا کہ قرآن کی آیتوں کو جو لوگ جھٹلاتے ہیں انہیں اللہ نے کچھ دنوں ڈھیل دے رکھی ہے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے اس ڈھیل کی مدت میں تم کو صبر اور اللہ کے حکم کا انتظار ضرور ہے ایسا نہ ہو کہ بلا انتظار اللہ کے حکم کے یونس (علیہ السلام) کا سا تم کوئی جلدی کا کام کر بیٹھو۔ یونس (علیہ السلام) کا قصہ سورة یونس انبیاء اور الصافات میں گزر چکا ہے انہوں نے بلا انتظار اللہ کے حکم کے جلدی کا کام کیا وہ یہ تھا کہ جب ان کی قوم یونس پر عذاب کے آنے کا حال معلوم ہوگیا تو وہ بستی کو چھوڑ کر جنگل میں چلے گئے اور ادھر قوم یونس کے رونے گڑگڑانے اور راہ راست پر آجانے سے وہ عذاب ٹل گیا غرض وقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 47–49

(ام عندھم الغیب فھم یکتبون) ۔ ان کے پاس غیب کا علم نہیں کہ وہ اس بات کو پاچکے ہوں کہ وہ حق پر ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ ثواب سے بہرور ہوں گے یہ معاملہ جیسا بھی ہے ان کا حال تو ایک معاند اور ظالم کا سا ہے پس اس کے سوا کچھ باقی نہیں کہ ان کی ایذا رسانیوں پر صبر کیا جائے اور جو کچھ ان سے صادر ہو رہا ہے اس پر تحمل کا مظاہرہ کیا جائے اور ان کو بار بار دعوت دی جائے۔ اس لیے فرمایا (فاصبر لحکم ربک) یعنی اللہ تعالیٰ نے شرعا اور قدرا جو فیصلہ کیا ہے اس پر صبر کیجئے حکم قدری یہ ہے کہ ایذا پر صبر کیا جائے اور ناراضی اور بےصبری کے ساتھ ان کا سامنا نہ کیا جائے حکم شرعی کو قبول کیا جائے اس کے سامنے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–52

قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 49–50

44 توبہ کے بعد حضرت یونس (علیہ السلام) پر نئی عنایات کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ان پر انکے رب کا فضل نہ ہوتا تو ان کو نہایت بدحالی میں کھلے میدان میں ڈال دیا جاتا لیکن ان کو چن لیا ان کے رب نے اور ان کو شامل فرما دیا زمرئہ صالحین میں۔ اول ان کو توبہ کی توفیق دے کر ‘ اور پھر ان سے اس توبہ کو قبول فرما کر ‘ سو نعمت سے یہاں پر مراد اللہ تعالیٰ کا وہ فضل و کریم ہے جو ان کو قبولیت توبہ اور ازسرنو فریضہ رسالت کی ادائیگی پر ماموریت کی شکل میں آنجناب کو حاصل ہوا ‘ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ان پر اللہ تعالیٰ کا یہ فضل نہ ہوا ہوتا تو جس ریت پر مچھلی نے ان کو ڈالا تھا ‘ وہ اسی پر نہایت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 36–52

کفار کی خوش فہمیاں، نبی ﷺ کو صبر کی تلقین تشریح : پچھلی آیات میں مسلمان اور کافر کی سزا و جزا کو علیحدہ علیحدہ کر کے بتا دیا گیا ہے کہ یہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ کیونکہ ہم یعنی کفار مکہ کے سردار دنیا میں امیر کبیر ہیں تو اس لیے ہیں کہ ہم سے اللہ خوش ہے تو اس نے ہمیں یہ تمام نعمتیں دے رکھی ہیں اس لیے آخرت اگر آئی تو وہاں بھی ہمیں کسی تحریر میں رب العزت نے ان سے اس بات کا وعدہ کر رکھا ہے کہ ان کو تو انعام و اکرام دئیے جائیں گے اور مسلمان کیونکہ یہاں اس دنیا میں کچھ کم حیثیت ہیں اس لیے آخرت میں بھی ان کو کچھ نہیں ملے گا۔ کچھ ہی دیر کی بات ہے بہت جلد سب کچھ سامنے آنے والا ہے (جب ساق کھول دی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 34–52

آیات 34 تا 52۔ اسرار ومعارف۔ اور جو لوگ عظمت الٰہی کا اقرار کرلیتے ہیں ان کی خاطر تو ان کے پروردگار نے جنت کی نعمتیں سجارکھی ہیں جو لوگ اطاعت گزار اور حکم بجالانے والے ہیں بھلامجرم ان کی برابری کس طرح کرسکتے ہیں کہ تم اے کفار برائی پہ اچھے نتیجے کی امید رکھتے ہو تمہاری یہ رائے قطعی غلط ہے کیا اس کے لیے تمہارے پاس کوئی نقلی دلیل ہے عقلا تو ویسے محال ہے تو کیا کسی آسمانی کتاب میں تمہیں یہ حق دیا گیا ہے کہ اپنے لیے بہتری چن لو یا اللہ نے قیامت تک کوئی قسم کھارکھی ہے کہ تم جو مانگو ملے گا بھلا تمہارے پاس ایسی باتوں کی کیا ضمانعت ہے ؟ یا کوئی اور ہستی ایسی ہے جو اللہ کی شریک ہے اس نے تمہیں وعدہ دے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 فضل سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں توبہ کی توفیق دی اور تسبیح و استغفار پڑھنا شروع کیا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(68:49) لولا۔ امتناعیہ ہے بمعنی اگر نہ ہوتا۔ لو شرطیہ اور لا نافیہ سے مرکب ہے۔ نیز ملاحظہ ہو 2:118 و 11-12 ۔ لولا ان تدار کہ نعمۃ کے متعلق صاحب تفسیر مظہری رقمطراز ہیں : لولا امتناعیہ ہے اور تدارک ماضی کا صیغہ ادراک کا ہم معنی ہے نعمۃ اس کا فاعل ہے اور نعمۃ اگرچہ مؤنث ہے۔ اور تدارک مذکر ہے مگر فعل اور فاعل میں ہ ضمیر کی وجہ سے فصل ہوگیا ہے اس لئے اس فعل کو مذکر لایا گیا ہے۔ یا تدارک فعل مضارع منصوب ہے، اصل میں تتدارک تھا۔ تفاعل کی تاء کو حذف کردیا گیا۔ اس وقت حال ماضی حکایت ہوگئی اور ان کی وجہ سے مضارع بمعنی مصدر ہوجائے گا۔ اول صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ اگر نہ پہنچ گئی ہوتی اس کو رب کی طرف سے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 42–52

لغات القرآن۔ یکشف۔ کھول دیا جائے گا۔ ساق۔ پنڈلی۔ یدعون۔ وہ بلائے جائیں گے۔ خاشعۃ۔ جھکنے والی۔ ترھق۔ وہ ڈھانپ لیتی ہے۔ سالمون۔ صحیح سالم۔ ہٹے کٹے۔ ذرنی۔ مجھے چھوڑو۔ نستدرج۔ ہم آہستہ آہستہ لئے جاتے ہیں۔ املی۔ میں نے مہلت دی۔ کیدی۔ میری تدبیر۔ مغرم۔ تاوان۔ مثقلون۔ بوجھ کے نیچے دبے ہوئے۔ صاحب الحوت۔ مچھلی والا (حضرت یونس (علیہ السلام) ) ۔ مکظوم۔ غم میں گھونٹ دیا گیا۔ العرائ۔ چٹیل میدان۔ یزلقون۔ وہ جگہ سے ہٹے ہیں۔ پھسل جاتے ہیں۔ تشریح : جب کفار و مشرکین اور منافقین کے سامنے رسول اللہ ﷺ کلام اللہ کو پیش کرتے تو وہی مکہ کے لوگ جو ان کو صادق و امین کہتے اور ان کی فہم و فراست کے گن گایا کرتے تھے آپ پر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 48–50

حضرت یونس (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 3) اوپرذکر تھا کہ قرآن کی آیتوں کو جو لوگ جھٹلاتے ہیں انہیں اللہ نے کچھ دنوں کی ڈھیل دے رکھی ہے ان آیتوں میں فرمایا اے محبوب ﷺ اس ڈھیل کی مدت میں تم کو صبر اور اللہ کے حکم کا انتظار ضرور ہے ، ایسا نہ ہو کہ بلاانتظار اللہ کے حکم حضرت (علیہ السلام) کا ساتم کوئی جلدی کام کربیٹھو۔ حضرت یونس کا قصہ سورة یونس ، انبیاء اور صافات میں گذرچکا ہے انہوں نے بلاانتظار اللہ کے حکم کے جلدی کا کام کیا۔ وہ یہ تھا کہ جب انکوقوم یونس پر عذاب کے آنے کا حال معلوم ہوگیا تو وہ بستی چھوڑ کر جنگ میں چلے گئے اورادھر قوم یونس کے رونے گڑگڑانے اور راہ راست پر آنے سے وہ عذاب ٹل گیا غرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 48–50

[41] یعنی یونس (علیہ السلام) کی طرح بےصبرے نہ بنو جو اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر اپنی نافرمان قوم کو چھوڑ کر چلے گئے تھے جس کی وجہ سے ان پر عتاب ہوا اور وہ مچھلی کے پیٹ میں پہنچا دئیے گئے۔ [15] اس کی تفصیل سورة انبیاء آیت 87 تا 89 صفحہ 754 میں گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 48–52

ف 2: یعنی ان لوگوں کے انکار وکفر پر آپ غمگین ہوکر حضرت یونس (علیہ السلام) کی طرح دبدعا میں اور ترک شفقت میں جلدی نہ کریں ۔ اور پورے صبروسکون کے ساتھ ان کی ان حرکتوں کو برداشت کریں ۔ اللہ نے چاہا ۔ تو آپ کی آواز صدابحر ثابت نہیں ہوگی ۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کا قصہ یہ ہے ۔ کہ آپ کی نافرمانی سے رنجیدہ ہو کر اللہ کے عذاب کے طالب ہوئے اور اصلاح سے مایوس ہوکر قوم کو چھوڑ کر ہجرت پر آمادہ ہوگئے ۔ یہ ادا اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آئی ۔ اور سزا یہ ملی ۔ کہ دب دریا پار کرنے لگے ۔ تو ایک بڑی مچھلی کا لقمہ بن گئے ۔ اور اگر پھر اللہ کی طرف سے توبہ وانابت کی توفیق مرحمت نہ ہوتی ۔ تو مچھلی کے پیٹ سے نہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(49) اگر اس کے پروردگار کا فضل اس کی دستگیری نہ کرتا اور اس کو نہ سنبھالتا تو وہ چٹیل میدان میں برے حالوں پھینک دیا جاتا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 48–52

ف 5۔ یہ غم مجموعہ تھا کئی غموں کا ایک قوم کے ایمان نہ لانے کا، ایک عذاب کے ٹل جانے کا، ایک بلا اذن صریح حق تعالیٰ کے وہاں سے چلے آنے کا، ایک مچھلی کے پیٹ میں محبوس ہوجانے کا، اور وہ دعا یہ ہے : لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظلمین، جس سے مقصود استغفار اور طلب نجات عن الحبس ہے، چناچہ اس پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا، اور مچھلی کے پیٹ سے نجات ہوئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر اس کے رب کی رحمت اس کی دستگیری نہ کرتی تو وہ چٹیل میدان میں ڈال دیا جاتا 49 ؎ فرمایا یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل تھا جو اس کے شامل حال ہوا اور اس کی اتنی جلدی کے باوجود اس کی رحمت نے اس کو سہارا دیا اور اس پر مواخذہ نہ ڈالا ورنہ جس طرح یونس (علیہ السلام) اپنے گھر بار کو چھوڑ کر نکل گیا تھا اگر اللہ کی رحمت اس کا ساتھ نہ دیتی تو وہ اکیلا ہی کسی چٹیل میدان میں پڑا رہتا اور اس کا کوئی شخص بھی پرسان حال نہ ہوتا کیونکہ اس کی اجنبیت کے باعث اس پورے علاقہ میں اس کا کوئی جاننے والا نہیں تھا اور وہ لوگ اس کو اس نام سے یاد کرتے کہ آدمی تو نیک تھا لیکن کسی طرح دل تنگ آیا کہ اپنی زندگی کو خواہ مخواہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 49–50

1-This is the literal translation of the Qur'anic phrase used here. The exegetes have explained it in two different ways. Some of them are of the view that, according to the Arabic usage, 'exposure of the shin' is an idiomatic expression for a severe state of distress. When a person is confronted with such a distress, he normally lays his shins bare. Therefore, exposure of the shin has been taken as indicative of such a state. Given this interpretation, the verse means that on the day when the disbelievers will face the severe distress, they will be called upon to prostrate themselves, but…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 49–50

34 When this verse is read with As-Saaffat: 142-146, one learns that at the tune the Prophet Jonah was caused to be swallowed by the fish, he was blameworthy. But when he glorified Allah and confessed his fault, although he was spat up by the fish on a bare beach in a state of sickness, he was.not blameworthy at that time. Allah by His mercy caused a creeper to grow over him so that its leaves should provide him shade and its fruit food and drink.

Read the full tafseer →