Al-Qalam 68:48

Al-Qalam · from ayah 48

68:48

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ ۘ— اِذْ نَادٰی وَهُوَ مَكْظُوْمٌ ۟ؕفَاصۡبِرۡ لِحُكۡمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُنۡ كَصَاحِبِ الۡحُوۡتِ‌ۘ اِذۡ نَادٰى وَهُوَ مَكۡظُوۡمٌؕ‏

تو اپنے پروردگار کے حکم کے انتظار میں صبر کئے رہو اور مچھلی (کا لقمہ ہونے) والے یونس کی طرح رہو نا کہ انہوں نے (خدا) کو پکارا اور وہ (غم و) غصے میں بھرے ہوئے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then be patient for the decision of your Lord, [O Muhammad], and be not like the companion of the fish when he called out while he was distressed.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qalam

All translations of 68:48

پس اپنے رب کا فیصلہ صادر ہونے تک صبر کرو اور مچھلی والے (یونس علیہ اسلام) کی طرح نہ ہو جاؤ، جب اُس نے پکارا تھا اور وہ غم سے بھرا ہوا تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو اپنے پروردگار کے حکم کے انتظار میں صبر کئے رہو اور مچھلی (کا لقمہ ہونے) والے یونس کی طرح رہو نا کہ انہوں نے (خدا) کو پکارا اور وہ (غم و) غصے میں بھرے ہوئے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس تو اپنے رب کے حکم کا صبر سے (انتظار کر) اور مچھلی والے کی طرح نہ ہو جا جب کہ اس نے غم کی حالت میں دعا کی

— مولانا محمد جوناگڑہی

غرض تم اپنے پروردگار کا حکم آنے تک صبر کیے جاؤ، اور مچھلی والے کی طرح مت ہوجانا۔ جب انہوں نے غم سے گھٹ گھٹ کر (ہمیں) پکارا تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر و اور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس آپ اپنے رب کے حکم کے انتظار میں صبر فرمائیے اور مچھلی والے (پیغمبر یونس علیہ السلام) کی طرح (دل گرفتہ) نہ ہوں، جب انہوں نے (اللہ کو) پکارا اس حال میں کہ وہ (اپنی قوم پر) غم و غصہ سے بھرے ہوئے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس اپنے رب کے فیصلے تک صبر کر اور مچھلی والے کی طرح نہ ہو، جب اس نے پکارا، اس حال میں کہ وہ غم سے بھرا ہوا تھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پس آپ اپنے پروردگار کے حکم کے انتظار میں صبر کیجئے اور مچھلی والے (یونس) کی طرح نہ ہونا جب انہوں نے پکارا اور وہ غم سے بھرے ہوئے تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو اپنے رب کے فیصلہ تک صبر کرو اور مچھلی والے کی طرح نہبن جائیو ! جب اس نے اپنے رب کو پکارا اور وہ غم سے گھٹا ہوا تھا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس آپ صبر (و برداشت) ہی سے کام لیتے رہیں اپنے رب کے حکم (و فیصلہ) تک اور نہیں ہوجانا مچھلی والے کی طرح (جس کا وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے) کہ جب اس نے پکارا (اپنے رب کو) اس حال میں کہ وہ غم سے بھرا ہوا تھا

— مولانا اسحاق مدنی

تو آپ اپنے پروردگار کی تجویز پر صبر سے بیٹھے رہئے اور مچھلی والے (پیغمبر) کی طرح نہ ہوجائیے جب کہ انہوں نے (اپنے پروردگار کو) پکارا اس حال میں وہ غم میں گھٹ رہے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو (اے نبی ﷺ !) آپ انتظار کیجیے اپنے رب کے حکم کا اور دیکھئے آپ ﷺ اس مچھلی والے کی طرح نہ ہوجایئے گا !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو اپنے رب کے حکم کے انتظار میں صبر کئے رہو اور مچھلی کا لقمہ ہونے والے یونس ؑ کی طرح نہ ہونا کہ انہوں نے اللہ کو پکارا اور وہ غم و غصے میں بھرے ہوئے تھے

— محترمہ رفعت اعجاز

So bear with patience until the Judgement of your Lord comes, and do not belike the man in the fish (i.e., Jonah) who called out, choking with grief:

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, remain patient with your Lord‘s judgment, and be not like the Man of the Fish, he cried out while he was in anguish.

— Muhammad Taqi Usmani

So, remain patient with your Lord‘s judgment, and be not like the Man of the Fish, he cried out while he was in anguish.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So, wait with patience for the decision of your Lord, and be not like the Companion of the Fish when he cried out (to Us) while he was Makzum.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But wait thou for thy Lord's decree, and be not like him of the fish, who cried out in despair.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then be patient for the decision of your Lord, [O Muhammad], and be not like the companion of the fish when he called out while he was distressed.

— Saheeh International

Exercise patience until the promise of your Lord (to punish the unbelievers) comes true. Do not be like Jonah (who left his people without the permission of God; he wanted them to be punished immediately),

— Muhammad Sarwar

So wait patiently for the judgment of your Lord, and be not like the companion of the fish, when he cried while he was in distress.

— Muhammad Habib Shakir

Be patient thou, then, with thy Lord's judgment, and be thou not like him of the fish, when he cried out while he was in anguish.

— Abdul Majid Daryabadi

So wait with patience for the Command of thy Lord, and be not like the Companion of the Fish,- when he cried out in agony.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 68:48

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 48–52

مصائب سے نجات دلانے والی دعا ، نظر، فال اور شگون اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ اپنی قوم کی ایذاء پر اور ان کے جھٹلانے پر صبر و ضبط کرو عنقریب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہونے والا ہے، انجام کار آپ کا اور آپ کے ماتحتوں کا ہی غلبہ ہوگا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دیکھو تم مچھلی والے نبی کی طرح نہ ہونا اس سے مراد حضرت یونس بن متی ؑ ہیں جبکہ وہ اپنی قوم پر غضب ناک ہو کر نکل کھڑے ہوئے پھر جو ہوا سو ہوا، یعنی آپ کا جہاز میں سوار ہونا مچھلی کا آپ کو نگل جانا اور سمندر کی تہہ میں بیٹھ جانا اور ان تہ بہ تہ اندھیروں میں اس قدر نیچے آپ کا سمندر کو اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کرتے ہوئے سننا اور خود آپ کا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْقَلَم 31 یعنی وہ وقت ابھی دور ہے جب اللہ تعالیٰ تمہاری فتح و نصرت اور تمہارے ان مخالفین کی شکست کا فیصلہ فرما دے گا۔ اس وقت کے آنے تک جو تکلیفیں اور مصیبتیں بھی اس دین کی تبلیغ میں پیش آئیں انہیں صبر کے ساتھ برداشت کرتے چلے جاؤ۔ سورة الْقَلَم 32 یعنی یونس ؑ کی طرح بےصبری سے کام نہ لو جو اپنی بےصبری کی وجہ سے مچھلی کے پیٹ میں پہنچا دیے گئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کو اللہ کا فیصلہ آنے تک صبر کی تلقین کرنے کے بعد فوراً ہی یہ فرمانا کہ یونس ؑ کی طرح نہ ہوجاؤ، خود بخود اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ انہوں نے اللہ کا فیصلہ آنے سے پہلے بےصبری سے کوئی کام کیا تھا جس کی بنا پر وہ عتاب کے مستحق ہوگئے تھے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–50

(آیت) وَلَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ یہاں حضرت یونین ؑ کو صاحب حوت اسی مناسبت سے کہا گیا کہ وہ کچھ عرصہ مچھلی کے پیٹ میں رہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

نبی صلعم کو اپنی دعوت پر جمے رہنے کی تلقین: ’فَاصْبِرْ‘ یہاں ’اِنْتَظِرْ‘ کے مفہوم پر متضمن ہے اس وجہ سے اس کے بعد ’ل‘ کا صلہ آیا ہے۔ یہ آخر میں نبی ﷺ کو صبر و ثبات کی تلقین کے ساتھ تسلی دی جا رہی ہے کہ تم ثابت قدم رہو اور اپنے رب کے فیصلہ کا انتظار کرو اور اس طرح کی جلد بازی سے بچو جو مچھلی والے (حضرت یونسؑ) سے صادر ہو گئی۔ ’مچھلی والے‘ سے اشارہ ظاہر ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کی طرف ہے۔ اس لقب سے ان کو ملقب کرنے میں ایک قسم کا پیار بھی ہے اور اس آزمائش کی طرف اشارہ بھی جو آنجنابؑ کو پیش آئی۔ حضرت یونس علیہ السلام کے واقعہ کی پوری تفصیل اس کے محل میں ہم پیش کر چکے ہیں کہ ان کی قوم نے ان کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

48۔ 1 جنہوں نے اپنی قوم کی روش تکذیب کو دیکھتے ہوئے عجلت سے کام لیا اور رب کے فیصلے کے بغیر ہی از خود اپنی قوم کو چھوڑ کر چلے گئے۔ جس کے نتیجے میں انہیں مچھلی کے پیٹ میں، جب کہ وہ غم واندوہ سے بھرے ہوئے تھے اپنے رب کو مدد کے لئے پکارنا پڑا۔ جیسے کہ تفصیل پہلے گزر چکی ہے،

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

15: اس سے مراد حضرت یونس ؑ ہیں جن کا واقعہ سورة یونس : 98 اور سورة انبیاء : 87 اور سورة صافات : 140 میں گذر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 48–49

فاصبر ........................ من الصلحین مچھلی والے حضرت یونس (علیہ السلام) ہیں۔ ان کے واقعہ کی تفصیلات سورة صافات میں گزر گئی ہیں ۔ ان کے تجربہ کا خلاصہ یہ ہے جو حضرت محمد ﷺ کے بطور نمونہ پیش کیا جاتا ہے ، کہ حضرت یونس (علیہ السلام) کو اللہ نے ایک گاﺅں کی طرف بھیجا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ موصل کے قریب نینویٰ نامی گاﺅں تھا۔ ان لوگوں نے ایمان لانے میں دیر کردی۔ آپ کو ان کی یہ حرکت ناگوار گزری۔ غصے میں آپ نے ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا۔ اپنے دل میں کہا کہ اللہ نے مجھ پر یہ لازم نہیں کیا کہ ان ہٹ دھرموں اور معاندین کے درمیان بیٹھا رہوں جبکہ یہ نہیں مان رہے ہیں ، تو میں کسی دوسری قوم میں کام کرسکتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی مچھلی کے پیٹ میں جانے والے پیغمبر (حضرت یونس علیہ السلام) کی طرح مکذبین کے معاملہ میں تنگ دلی اور گھبراہٹ کا اظہار نہ کیجیے۔ ان کا قصہ پہلے کئی جگہ تھوڑا تھوڑا گزر چکا ہے۔11 یعنی قوم کی طرف سے غصہ میں بھرے ہوئے تھے جھنجھلا کر شتابی عذاب کی دعا بلکہ پیشن گوئی کر بیٹھے (تنبیہ) " مکظوم " کے معنی بعض مفسرین نے یہ کیے ہیں کہ وہ غم سے گھٹ رہے تھے اور یہ غم مجموعہ تھا کئی غموں کا۔ قوم کے ایمان نہ لانے کا، ایک عذاب کے ٹل جانے کا، ایک بلا اذن صریح شہر چھوڑ کر چلے آنے کا، ایک مچھلی کے پیٹ میں محبوس رہنے کا۔ اس وقت اللہ کو پکارا اور یہ دعاء کی ( لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 48{ فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ انتظار کیجیے اپنے رب کے حکم کا“ { وَلَا تَکُنْ کَصَاحِبِ الْحُوْتِ 7 } ”اور دیکھئے ‘ آپ ﷺ اس مچھلی والے کی طرح نہ ہوجایئے گا !“ ”مچھلی والے“ سے یہاں حضرت یونس علیہ السلام مراد ہیں۔ آپ علیہ السلام کی قوم پر جب عذاب کا فیصلہ ہوگیا تو آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیے بغیر ہی اپنی قوم کا علاقہ چھوڑ کر چلے گئے۔ اس کا ذکر سورة الانبیاء کی آیت 87 میں اس طرح آیا ہے : { اِذْ ذَّہَبَ مُغَاضِبًا } ”جب وہ چل دیا غصے میں بھرا ہوا“۔ آپ علیہ السلام کا یہ غصہ حمیت حق میں تھا اور قوم کی طرف سے مسلسل ہٹ دھرمی اور کفر کی وجہ سے تھا۔ لیکن اس…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

24 یعنی جس طرح سیدنا یونس (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی مخالفت سے تنگ آکر بےصبری کا مظاہرہ کیا تھا۔ انہیں وحی الٰہی کا انتظار کیے بغیر خود ہی عذاب کی دھمکی دے دی تھی اور پھر وہاں سے چل دیئے تھے۔ آپ کو ایسا نہ کرنا چاہیے بلکہ قوم کی ایذاؤں، مذاق و تمسخر اور مخالفت کو صبر کے ساتھ برداشت کیجئے۔ اور اس وقت تک صبر کیجئے جب تک کہ آپ کو یہاں سے ہجرت کا حکم نہ مل جائے۔ 25 سیدنا یونس کو کون کون سی پریشانیاں لاحق تھیں جن سے وہ گلے تک بھرے ہوئے تھے :۔ مَکْظُوْمٍ ۔ کظم سانس کی نالی کو کہتے ہیں اور کظم السقاء بمعنی مشک کو پانی سے لبالب بھر کر اس کا منہ بند کردینا۔ اور کظیم اور مکظوم اس شخص کو کہتے ہیں جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

29۔ (آیت) ” کصاحب الحوت “۔ سے مراد ارض نینوا کے پیغمبر حضرت یونس بن متی (علیہ السلام) ہیں جن پر حاشیے سورة یونس، سورة ہود وغیرہ میں مفصل گزر چکے۔ (آیت) ” فاصبر “ آپ صبر سے کام لیتے رہئے۔ اور ان لوگوں پر فوری عذاب نہ آنے سے بددل نہ ہوجائیے۔ (آیت) ” اذ نادی “۔ ندا سے یہاں مراد اپنے پروردگار کو توبہ و استغفار کی راہ سے پکارنا ہے۔ (آیت) ” ولا تکن کصاحب الحوت “۔ یعنی ان پیغمبر کی طرح کہیں نہ ہوجائیے گا، جو وقت پر عذاب موعود کے ٹل جانے سے بدل وملول کی خاطر ہو کر بلااجازت صریح کہیں اور چلے گئے تھے۔ (آیت) ” وھو مکظوم “۔ آپ (علیہ السلام) کو غم اور صدمے کئی کئی طرح کے تھے، اور وہ سب اکھٹے ہوگئے تھے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 48–50

ولاتکن کصاحب الحوت اس کے بعد حضرت یونس (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر فرما کر آپ ﷺ کو نصیحت فرمائی گئی ہے کہ جس طرح یونس (علیہ السلام) نے ان لوگوں کے مطالبہ سے تنگ آ کر جلد بازی میں اپنی قوم کے لئے عذاب کی دعاء کردی اور عذاب کے آثار سامے آ بھی گئے، اور یونس (علیہ السلام) اس جائے عذاب سے دوسری جگہ منتقل ہو بھی گئے، مگر پھر پوری قوم نے الحاح وزاری اور اخلاص کے ساتھ توبہ کرلی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو معافی دیدی اور عذاب ہٹا لیا تو اب یونس (علیہ السلام) نے یہ شرمندگی محسوس کی کہ میں ان لوگوں میں جھوٹا قرار پائوں گا، اس بدنامی کے خوف سے اللہ تعالیٰ کے اذن صریح کے بغیر اپنے اجتہاد سے یہ راہ اختیار کرلی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاصبر . اے محمد ﷺ آپ ﷺ انکی ایذارسانی پر صبر کیجئے کیونکہ جو کچھ یہ کہتے ہیں ‘ بےدلیل کہتے ہیں۔ لحکم ربک . یعنی آپ ﷺ تنگ دل نہ ہوں ‘ جلدی نہ کریں۔ اللہ نے جو ڈھیل ان کو دی ہے اور ڈھیل دینے کے بعد ان کی گرفت کرے گا۔ اس فیصلۂ خداوندی پر صبر کریں۔ ولا تکن کصا حب الحوت . تنگ دلی اور عجلت پسندی میں یونس کی طرح نہ ہوجائیں۔ وہب (بن منبہ) نے بیان کیا ہے کہ حضرت یونس بن متی ایک نیک بندے تھے مگر طبیعت میں کچھ تنگی (عجلت پسندی) تھی ‘ جب ان پر نبوت کا بار ڈالا گیا تو ثقل محسوس کیا اور بار اٹھانے سے کسمسائے جیسے اونٹ کے بچہ پر جب بھاری بوجھ لادا جاتا ہے تو وہ پھینک کر بھاگ نکلتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اللہ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

تو آپ تبلیغ رسالت پر ثابت قدم رہیے، یا یہ کہ آپ اپنے رب کی اس تجویز پر صبر سے بیٹھے رہیے، یا یہ کہ آپ اور حکم اللہ پر تنگ دلی میں حضرت یونس کی طرح نہ ہوئے جبکہ یونس نے مچھلی کے پیٹ میں اپنے پروردگار سے دعا کی اور وہ غم سے گھٹ رہے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فاصبر لحکم ربک …: مچھلی والے سے مراد یونس ؑ ہیں۔ آپ ﷺ کو تلقین کی جا رہی ہے کہ آپ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا انتظار صبر سے کریں، عذاب آنے میں دیر سے پریشان نہ ہوں اور انہیں دی ہوئی مہلت کو لمبا سمجھ کر جلد بازی اور اکتاہٹ میں کوئی ایسا کام نہ کر بیٹھیں جیسا مچھلی والے (یونس علیہ السلام) سے سر زد ہوا کہ وہ اجازت کے بغیر قوم کو چھوڑ کر چلے گئے۔ یونس ؑ کے واقعہ کے لئے دیکھیے سورة یونس (98) ، انبیاء (87، 88) اور صافات (139 تا 148)۔ یونس ؑ کی ندا یہ تھی :(لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین) (الانبیائ : 88)”تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، تو پاک ہے، یقینا میں ظلم کرنے والوں میں سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فاصبر لحکم ربک اپنے رب کے فیصلہ پر صبر کیجیے (1) یہاں حکم، قضا کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا یا ہے : اس کا معنی ہے آپ ﷺ کے رب نے آپ ﷺ کو جو رسالت کی تبلیغ کا حکم دیا ہے اس پر صبر کیجیے۔ ابن بحر نے کہا، اپنے رب کی نصرت (میں تاخیر) پر صبر کیجیے۔ قتادہ نے کہا، جلدی نہ کیجیے اور ناراض نہ ہوں آپ ﷺ کی مدد ضرور کی جائے گی۔ ایک ضول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت، آیت سیف سے منسوخ ہے۔ ولاتکن کصاحب الحوت مراد حضرت یونس (علیہ السلام) ہیں یعنی غضب، اندرونی پریشانی اور جلد بازی میں حضرت یونس (علیہ السلام) کی طرح نہ ہوجائیے۔ قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم ﷺ کو صبر کی تلقین کرتا ہے اور صبر کا حکم دیتا ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

دجال سے لڑائی کا ذکر 28۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن ابی حاتم والطبرانی والحاکم وصححہ اور بیہقی نے البعث میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ان کے پاس دجال کا ذکر کیا گیا۔ تو فرمایا تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ ایک گروہ اس کی پیروی کرے گا اور ایک گروہ اپنے آباء کی زمین منابت الشیخ چلا جائے گا اور ایک گروہ فرات کے کنارے پر آجائے گا۔ اور دجال اس سے قتل کرے گا۔ اور وہ اس سے لڑیں گے یہاں تک کہ شام کے شہروں کے اہل ایمان جمع ہوجائیں گے پھر وہ ان کی طرف فوج کا ہر اول دستہ بھیجیں گے۔ ان میں گھوڑ سوار ہوں گے جو سرخ اور ابلق گھوڑوں پر سوار ہوں گے۔ وہ قتال کریں گے اور کوئی چیز ان کی طرف واپس لوٹ کر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَاصْبِرْ : تو آپ ثابت قدم (منتظر) رہیں ][ لِحُكْمِ رَبِكَ : اپنے رب کے حکم کے ][ وَلَا تَكُنْ : اور آپ مت ہوں ][ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ ۘ : مچھلی والے (یونس) کی طرح ][ اِذْ نَادٰى: جب انھوں نے پکارا (رب کو)][ وَهُوَ مَكْظُوْمٌ: اس حال میں کہ وہ غم زدہ تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

آپ صبر کیجئے اور مچھلی والے کی طرح نہ ہو جائیں ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کو صبر فرمانے کا حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو آپ کے مخاطبین منکرین کو مہلت دی ہے ان پر جلد عذاب نہیں آیا اور آپ کو صبر کی تلقین فرمائی ہے اس پر عمل کیجئے اور مچھلی والے کی طرح نہ ہوجائے۔ مچھلی والے سے حضرت یونس (علیہ السلام) مراد ہیں جب وہ اپنی قوم سے ناراض ہو کر چلے گئے تھے (جس کا ذکر سوہٴ یونس اور سورة ٴ الانبیاء اور سورة ٴ الصافات میں گزر چکا ہے) تو انہیں مچھلی نے نگل لیا۔ مچھلی کے پیٹ میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرتے رہے، اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں انہوں نے دعا کی کہ وہ غم سے گھٹ رہے تھے، یہ غم مجموعہ تھا کئی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–52

بشارت اہل ایمان وتقوی بنعماء جنت وتذلیل وتوہین کفار ومشرکین درروز آخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان للمتقین عندربھم .......... الی ........ الاذکر للعلمین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں ان منکرین ومکذبین کا ذکر تھا جو دولت کے نشہ میں مست ہو کر اللہ کی نافرمانی پر کمر بستہ ہوئے رسول خدا ﷺ کی توہین وتذلیل کی تو انکی نافرمانی اور غرور کا انجام ہلاکت ایک تاریخی واقعہ کی شکل میں بیان فرمایا گیا اب ان آیات میں اہل تقوی و ایمان کا اعزاز واکرام اور جنت میں حق تعالیٰ شانہ ان کو کیسی کیسی نعمتوں سے نوازے گا بیان فرمایا جارہا ہے پھر اسی کے ساتھ تنبیہ کے طور پر مجرمین ومنکرین کا قیامت کے روز کیسا برا انجام…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

23:۔ ” فاصبر “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلیہ ہے۔ آپ مشرکین کی تکذیب اور ایذاء سے تنگ آ کر کوئی اقدام نہ کریں بلکہ صبر و تحمل سے سب کچھ برداشت کریں اور اللہ کے حکم کا انتظار کریں اور مچھلی والے (حضرت یونس علیہ السلام) کی مانند نہ ہوں، ورنہ کسی اور مصیبت میں گرفتار ہوجائیں گے۔ جس طرح یونس (علیہ السلام) نے عجلت سے کام لیا اور احوال و قرائن سے ہجرت کا جواز سمجھ کر اللہ کے حکم کا انتظار کیے بغیر ہی شہر سے نکل کھڑے ہوئے تو ہم نے بطور تنبیہ ان کو مچھلی کے پیٹ میں قید کردیا، جہاں انہوں نے کرب والم کی حالت میں ہم سے فریاد کی اور اپنی لغزش کا اعتراف کیا تو ہم نے محض اپنی رحمت سے ان کو رنج والم سے نجات دی ”…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 48–52

گذشتہ سے پیوستہ (ربط) : پہلی آیتوں میں توحید و رسالت کے منکرین کا بیان تھا ۔ قیامت میں پیش آنے والے حالات کا ذکر تھا۔ ابتدائی آیات میں کفر کرنے والوں کی بدگوئی کا حال تھا کہ حضور ﷺ کی رسالت سے انکار کرتے تھے اور العیاذباللہ آپ کو دیوانہ اور پاگل قرار دیتے تھے۔ اس کے بعد مشرکین کے اس رویہ کا ذکر تھا۔ کہ وہ چاہتے ہیں کہ آپ ﷺ مداہنت کریں توا س طرح ایک دوسرے سے اتفاق ہو سکے گا مگر اللہ تعالیٰ نے اس سے منع کردیا۔ اس کے بعد بیان ہوا کہ اللہ نے جو مال و دولت دے رکھا ہے۔ وہ محض آزمائش کے لیے ہے۔ باغ والوں کا ھال بیان ہوا ان کو اللہ تعالیٰ نے آزمایا پھر ان کا مال و دولت بلاک کردیا۔ اسی طرح فرمایا کہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ۝ 0 ۘ اِذْ نَادٰى وَہُوَمَكْظُوْمٌ۝ 48 ۭ صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 48–52

ترکیب : اذا العامل فیھا معنی قولہ کصاحب الحوت یرید لاتکن کصاحب الحوت حال ندائہ وذلک لانہ فی ذلک الوقت کان مکظومافکانہ قیل لاتکن مکظوماً ۔ وھومکظوم الجملۃ حال من ضمیر نادٰی وعلیھا یدور النھی لاعلی النداء لانہ امرمستحسن۔ تدارک فعل ماض مذکر حمل علی معنی النعمۃ لان تانیث النعمۃ غیرحقیقی موصوف من ربہ صفۃ والمجموع فاعل تدارک والضمیر فی تدار کہ مفعولہ۔ ھذاقراۃ الجمہور وقریٔ بتشدید الدال تدار کہ وھو مضارع ادغمت التاء فی الدال والاصل تتدارک بتائین وقریٔ تدارکۃً بتاء التانیث لنبذ جواب لولا تقدیر الآیۃ لولاھذہ النعمۃ لنبذبالعرا مع وصف المذمومیۃ فلما حصلت ھذہ لنعمۃ لم یوجد النبذ بالعراء مع ھذا الوصف لانہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ وَلاَ تَـکُنْ کَصَاحِبِ الْحُوْتِ م اِذْنَادٰی وَھُوَ مَکْظُوْمٌ۔ (القلم : 48) (پس اپنے رب کا فیصلہ صادر ہونے تک صبر کیجیے اور مچھلی والے کی طرح نہ ہوجائیے جب انھوں نے اپنے رب کو پکارا اور وہ غم سے گھٹے ہوئے تھے۔ ) آنحضرت ﷺ کو دعوت پر جمے رہنے کی تلقین مشرکینِ مکہ کی روز بروز بڑھتی ہوئی اذیت رسانیوں سے یقینا مسلمان متأثر ہوتے تھے اور بعض دفعہ جب تکلیفیں ناقابلِ برداشت ہونے لگتیں تو آنحضرت ﷺ سے التجا کرتے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان پر عذاب نازل کرے۔ ممکن ہے کبھی نبی کریم ﷺ کے قلب مبارک میں بھی یہ خیال پیدا ہوتا ہے تو اس پر آنحضرت ﷺ کو ضبط، برداشت اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 46–50

فہم القرآن ربط کلام : کفار اور مشرکین کو انتباہ کرنے کے بعد نبی ﷺ کو تسلی رکھنے کی تلقین کی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ شب وروز اس فکر اور کوشش میں تھے کہ کفار اور مشرکین اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئیں اور اپنے آپ کو سیدھے راستے پر گامزن کرلیں لیکن وہ لوگ دن بدن مخالفت اور گمراہی میں آگے ہی بڑھتے جارہے تھے۔ انہیں سمجھانے اور نبی کریم ﷺ کو تسلی دینے کے لیے ارشاد ہوا کہ کیا آپ ان سے کوئی صلہ مانگتے ہیں جس وجہ سے وہ آپ کی ذات اور دعوت کو اپنے لیے بوجھ سمجھتے ہیں یا پھر ان کے پاس غیب کا علم ہے جس سے یہ اپنے مستقبل کے بارے میں آگاہ ہیں ؟ ان سے الجھنے کی بجائے آپ اپنے رب کے حکم کا انتظار کریں اور مچھلی والے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

48 : فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ (آپ اپنے رب کی تجویز پر صبر سے بیٹھے رہیں) اس میں کفار کو مہلت دیے جانے کو بیان فرمایا اور آپ کی نصرت میں تاخیر کا ذکر فرمایا۔ کیونکہ اگرچہ وقتی طور پر ان کو مہلت دے دی گئی مگر ان کو اسی طرح نہ چھوڑا جائے گا۔ وَ لَا تَکُنْ کَصَاحِبِ الْحُوْتِ (اور مچھلی والے کی طرح نہ ہوجایئے) مراد یونس (علیہ السلام) ہیں۔ جلدی کرنے اور قوم پر ناراضی میں ان کی طرح نہ ہوں تاکہ تم کسی ابتلاء میں نہ پڑو۔ نحو و قراءت : الحوتؔ پر وقف ہے کیونکہ اذؔ یہ ماقبل کا ظرف نہیں بن سکتا۔ اس لے کہ نداء عبادت وطاعت ہے پس اس سے روکا نہیں جاسکتا۔ بلکہ اذ یہ فعل محذوف اذکر کا مفعول ہے۔ اِذْ نَادٰی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 48–52

48۔ 52۔ اوپر ذکر تھا کہ قرآن کی آیتوں کو جو لوگ جھٹلاتے ہیں انہیں اللہ نے کچھ دنوں ڈھیل دے رکھی ہے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے اس ڈھیل کی مدت میں تم کو صبر اور اللہ کے حکم کا انتظار ضرور ہے ایسا نہ ہو کہ بلا انتظار اللہ کے حکم کے یونس (علیہ السلام) کا سا تم کوئی جلدی کا کام کر بیٹھو۔ یونس (علیہ السلام) کا قصہ سورة یونس انبیاء اور الصافات میں گزر چکا ہے انہوں نے بلا انتظار اللہ کے حکم کے جلدی کا کام کیا وہ یہ تھا کہ جب ان کی قوم یونس پر عذاب کے آنے کا حال معلوم ہوگیا تو وہ بستی کو چھوڑ کر جنگل میں چلے گئے اور ادھر قوم یونس کے رونے گڑگڑانے اور راہ راست پر آجانے سے وہ عذاب ٹل گیا غرض وقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 47–49

(ام عندھم الغیب فھم یکتبون) ۔ ان کے پاس غیب کا علم نہیں کہ وہ اس بات کو پاچکے ہوں کہ وہ حق پر ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ ثواب سے بہرور ہوں گے یہ معاملہ جیسا بھی ہے ان کا حال تو ایک معاند اور ظالم کا سا ہے پس اس کے سوا کچھ باقی نہیں کہ ان کی ایذا رسانیوں پر صبر کیا جائے اور جو کچھ ان سے صادر ہو رہا ہے اس پر تحمل کا مظاہرہ کیا جائے اور ان کو بار بار دعوت دی جائے۔ اس لیے فرمایا (فاصبر لحکم ربک) یعنی اللہ تعالیٰ نے شرعا اور قدرا جو فیصلہ کیا ہے اس پر صبر کیجئے حکم قدری یہ ہے کہ ایذا پر صبر کیا جائے اور ناراضی اور بےصبری کے ساتھ ان کا سامنا نہ کیا جائے حکم شرعی کو قبول کیا جائے اس کے سامنے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–52

قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

42 پیغمبر کو صبر و ثبات کی تعلیم و تلقین کا ذکر وبیان : سو پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ پس آپ ﷺ صبر ہی سے کام لیں اپنے رب کے حکم و فیصلہ تک کہ نہ ان کی نصح و خیر خواہی اور وعظ و تبلیغ سے ہاتھ کھینچیں ‘ اور نہ ان کیلئے کوئی بددعا کریں ‘ جیسا کہ روایات میں وارد ہے کہ آپ نے باوجود اپنی عظیم الشان رحمۃ اللعالمینی کے بعض قبائل پر ان کی مسلسل شرانگیزی کی وجہ سے بددعا کرنے کا ارادہ فرما لیا تھا ‘ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور آپ ﷺ کو اس سے منع فرما دیا گیا (جامع البیان ‘ المراغی وغیرہ) بہرکیف اس میں آپ ﷺ کو یہ تعلیم ارشاد فرمائی گئی کہ آپ ﷺ کفار و مشرکین کی ایذا رسانیوں اور ان کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 36–52

کفار کی خوش فہمیاں، نبی ﷺ کو صبر کی تلقین تشریح : پچھلی آیات میں مسلمان اور کافر کی سزا و جزا کو علیحدہ علیحدہ کر کے بتا دیا گیا ہے کہ یہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ کیونکہ ہم یعنی کفار مکہ کے سردار دنیا میں امیر کبیر ہیں تو اس لیے ہیں کہ ہم سے اللہ خوش ہے تو اس نے ہمیں یہ تمام نعمتیں دے رکھی ہیں اس لیے آخرت اگر آئی تو وہاں بھی ہمیں کسی تحریر میں رب العزت نے ان سے اس بات کا وعدہ کر رکھا ہے کہ ان کو تو انعام و اکرام دئیے جائیں گے اور مسلمان کیونکہ یہاں اس دنیا میں کچھ کم حیثیت ہیں اس لیے آخرت میں بھی ان کو کچھ نہیں ملے گا۔ کچھ ہی دیر کی بات ہے بہت جلد سب کچھ سامنے آنے والا ہے (جب ساق کھول دی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 34–52

آیات 34 تا 52۔ اسرار ومعارف۔ اور جو لوگ عظمت الٰہی کا اقرار کرلیتے ہیں ان کی خاطر تو ان کے پروردگار نے جنت کی نعمتیں سجارکھی ہیں جو لوگ اطاعت گزار اور حکم بجالانے والے ہیں بھلامجرم ان کی برابری کس طرح کرسکتے ہیں کہ تم اے کفار برائی پہ اچھے نتیجے کی امید رکھتے ہو تمہاری یہ رائے قطعی غلط ہے کیا اس کے لیے تمہارے پاس کوئی نقلی دلیل ہے عقلا تو ویسے محال ہے تو کیا کسی آسمانی کتاب میں تمہیں یہ حق دیا گیا ہے کہ اپنے لیے بہتری چن لو یا اللہ نے قیامت تک کوئی قسم کھارکھی ہے کہ تم جو مانگو ملے گا بھلا تمہارے پاس ایسی باتوں کی کیا ضمانعت ہے ؟ یا کوئی اور ہستی ایسی ہے جو اللہ کی شریک ہے اس نے تمہیں وعدہ دے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی استقلال اور تن دہی سے دعوت و تبلیغ کے کام میں لگے رہئے عنقریب اللہ تعالیٰ خود حکم نازل فرمائے گا کہ ان کفار سے کیا معاملہ کرنا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(68:48) فاصبر لحکم ربک۔ یعنی اے محمد ﷺ آپ ان مشرکین کی ایذاء رسانی پر صبر کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ابھی ڈھیل دے رکھی ہے۔ ان کے لئے اس تکلیف دہی کے بدلے جو سزا مقدر ہوچکی ہے اس کے لئے جلدی نہ کریں ڈھیل کے بعد ان کی ضرور گرفت ہوگی۔ اور ان کو اپنے کئے کی سزا پوری پوری ملے گی۔ آپ اس فیصلہ خداوندی پر صبر کریں اور انتظار کریں۔ ولاتکن کصاحب الحوت واؤ عاطفہ ہے لاتکن فعل نہی واحد مذکر حاضر کون (باب نصر) مصدر سے۔ تو مت ہو۔ آپ مت ہو ویں۔ ک تشبیہ صاحب الحوت مضاف مضاف الیہ۔ مچھلی والا۔ مراد حضرت یونس (علیہ السلام) ہیں۔ مطلب یہ کہ آپ حضرت یونس (علیہ السلام) کی طرح تنگ دلی اور عجلت پسندی کا اظہار مت…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 42–52

لغات القرآن۔ یکشف۔ کھول دیا جائے گا۔ ساق۔ پنڈلی۔ یدعون۔ وہ بلائے جائیں گے۔ خاشعۃ۔ جھکنے والی۔ ترھق۔ وہ ڈھانپ لیتی ہے۔ سالمون۔ صحیح سالم۔ ہٹے کٹے۔ ذرنی۔ مجھے چھوڑو۔ نستدرج۔ ہم آہستہ آہستہ لئے جاتے ہیں۔ املی۔ میں نے مہلت دی۔ کیدی۔ میری تدبیر۔ مغرم۔ تاوان۔ مثقلون۔ بوجھ کے نیچے دبے ہوئے۔ صاحب الحوت۔ مچھلی والا (حضرت یونس (علیہ السلام) ) ۔ مکظوم۔ غم میں گھونٹ دیا گیا۔ العرائ۔ چٹیل میدان۔ یزلقون۔ وہ جگہ سے ہٹے ہیں۔ پھسل جاتے ہیں۔ تشریح : جب کفار و مشرکین اور منافقین کے سامنے رسول اللہ ﷺ کلام اللہ کو پیش کرتے تو وہی مکہ کے لوگ جو ان کو صادق و امین کہتے اور ان کی فہم و فراست کے گن گایا کرتے تھے آپ پر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 48–50

حضرت یونس (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 3) اوپرذکر تھا کہ قرآن کی آیتوں کو جو لوگ جھٹلاتے ہیں انہیں اللہ نے کچھ دنوں کی ڈھیل دے رکھی ہے ان آیتوں میں فرمایا اے محبوب ﷺ اس ڈھیل کی مدت میں تم کو صبر اور اللہ کے حکم کا انتظار ضرور ہے ، ایسا نہ ہو کہ بلاانتظار اللہ کے حکم حضرت (علیہ السلام) کا ساتم کوئی جلدی کام کربیٹھو۔ حضرت یونس کا قصہ سورة یونس ، انبیاء اور صافات میں گذرچکا ہے انہوں نے بلاانتظار اللہ کے حکم کے جلدی کا کام کیا۔ وہ یہ تھا کہ جب انکوقوم یونس پر عذاب کے آنے کا حال معلوم ہوگیا تو وہ بستی چھوڑ کر جنگ میں چلے گئے اورادھر قوم یونس کے رونے گڑگڑانے اور راہ راست پر آنے سے وہ عذاب ٹل گیا غرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 48–50

[41] یعنی یونس (علیہ السلام) کی طرح بےصبرے نہ بنو جو اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر اپنی نافرمان قوم کو چھوڑ کر چلے گئے تھے جس کی وجہ سے ان پر عتاب ہوا اور وہ مچھلی کے پیٹ میں پہنچا دئیے گئے۔ [15] اس کی تفصیل سورة انبیاء آیت 87 تا 89 صفحہ 754 میں گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 48–52

ف 2: یعنی ان لوگوں کے انکار وکفر پر آپ غمگین ہوکر حضرت یونس (علیہ السلام) کی طرح دبدعا میں اور ترک شفقت میں جلدی نہ کریں ۔ اور پورے صبروسکون کے ساتھ ان کی ان حرکتوں کو برداشت کریں ۔ اللہ نے چاہا ۔ تو آپ کی آواز صدابحر ثابت نہیں ہوگی ۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کا قصہ یہ ہے ۔ کہ آپ کی نافرمانی سے رنجیدہ ہو کر اللہ کے عذاب کے طالب ہوئے اور اصلاح سے مایوس ہوکر قوم کو چھوڑ کر ہجرت پر آمادہ ہوگئے ۔ یہ ادا اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آئی ۔ اور سزا یہ ملی ۔ کہ دب دریا پار کرنے لگے ۔ تو ایک بڑی مچھلی کا لقمہ بن گئے ۔ اور اگر پھر اللہ کی طرف سے توبہ وانابت کی توفیق مرحمت نہ ہوتی ۔ تو مچھلی کے پیٹ سے نہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(48) پس اے پیغمبر آپ اپنے پروردگار کے حکم اور اس کی تجویز پر صبر سے بیٹھے رہیے اور مچھلی والے یعنی حضرت یونس (علیہ السلام) کی طرح نہ ہوجائیے جبکہ اس نے اللہ تعالیٰ کو پکارا اور وہ غم وغصہ میں بھرا ہوا تھا اور غم کے مارے گھٹ رہا تھا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 48–52

ف 5۔ یہ غم مجموعہ تھا کئی غموں کا ایک قوم کے ایمان نہ لانے کا، ایک عذاب کے ٹل جانے کا، ایک بلا اذن صریح حق تعالیٰ کے وہاں سے چلے آنے کا، ایک مچھلی کے پیٹ میں محبوس ہوجانے کا، اور وہ دعا یہ ہے : لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظلمین، جس سے مقصود استغفار اور طلب نجات عن الحبس ہے، چناچہ اس پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا، اور مچھلی کے پیٹ سے نجات ہوئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ ﷺ اپنے رب کے حکم کا انتظار کیجئے اور صاحب حوت کی طرح نہ ہوں 48 ؎ نبی نبی ہوتا ہے اگرچہ اس کو خود ہی اس بات کا علم نہ ہو کہ میں نبی ہونے والا ہوں۔ ہم پیچھے عرض کرچکے ہیں کہ ہم جب بھی کسی گزشتہ نبی و رسول کا ذکر کرتے ہیں تو اس کے بچپنے کے حالات حریر کرتے ہوئے بھی اس کو نبی ہی لکھتے اور کہتے ہیں حالانکہ ایک دو کے سوا کسی کو بھی یہ معلوم نہیں تھا کہ ہم ہونے والے نبی ہیں۔ اس لئے اس سے کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ کسی نبی کے نبوت کے پہلے کی زندگی کی کوئی بات کی جا رہی ہو تو وہ اس کی نبوت کے زمرہ میں نہیں آتی۔ یہ بات ہم نے اس لئے کہی ہے کہ صاحب حوت یعنی یونس (علیہ السلام) ابھی مبعوث نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَلَا تَكُن كَصَاحِبِ الْحُوتِ (So, remain patient with your Lord's judgment, and be not like the Man of the Fish...68:48). It refers to Sayyidna Yunus (علیہ السلام) . He is named here as 'Man of Fish' because he was devoured by a fish and remained in its belly for some time.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

31 That is, "The time when Allah will issue His decree about your success and victory and your opponents' defeat, is yet far off. Till then you should go on enduring with patience whatever hardships and afflictions you may have to face in the way of preaching the Faith. " 32 That is, "Do not behave impatiently as did the Prophet Jonah (peace be on him) , who an account of his impatience was driven into the fish's belly." Immediately after exhorting the Holy Prophet (upon whom be peace) to have patience until Allah issued forth His decree, to tell him not to behave like the Prophet Jonah by…

Read the full tafseer →