Al-Qalam 68:47

Al-Qalam · from ayah 47

68:47

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَ ۟اَمۡ عِنۡدَهُمُ الۡغَيۡبُ فَهُمۡ يَكۡتُبُوۡنَ

یا ان کے پاس غیب کی خبر ہے کہ (اسے) لکھتے جاتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or have they [knowledge of] the unseen, so they write [it] down?

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qalam

All translations of 68:47

کیا اِن کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یا ان کے پاس غیب کی خبر ہے کہ (اسے) لکھتے جاتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

یا کیا ان کے پاس علم غیب ہے جسے وه لکھتے ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یا ان کے پاس غیب کا علم ہے جسے وہ لکھ رہے ہوں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یا ان کے پاس غیب ہے کہ وہ لکھ رہے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا ان کے پاس علمِ غیب ہے کہ وہ (اس کی بنیاد پر اپنے فیصلے) لکھتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یا ان کے پاس غیب کا علم ہے، تو وہ لکھتے جاتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یا ان کے پاس غیب ہے جسے وہ لکھ لیتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یا ان کے پاس غیب کا علم ہے پس وہ اس کو لکھ رہے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ خود لکھ لیتے ہیں ؟

— مولانا اسحاق مدنی

کیا ان کے پاس (علم) غیب ہے کہ یہ (اسے) لکھ لیا کرتے ہیں ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یا ان کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ لکھ رہے ہیں ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یا ان کے پاس غیب کی خبر ہے کہ اسے لکھتے جاتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

Or do they have any knowledge of the Unseen which they are now writing down?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Or do they have the (knowledge of the) Unseen, and they write it down?

— Muhammad Taqi Usmani

Or do they have the (knowledge of the) Unseen, and they write it down?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Or that the Unseen is in their hands, so that they can write it down

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Or is the Unseen theirs that they can write (thereof)?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Or have they [knowledge of] the unseen, so they write [it] down?

— Saheeh International

Do they possess the knowledge of the unseen which confirms the truthfulness of their belief?

— Muhammad Sarwar

Or have they (the knowledge of) the unseen, so that they write (it) down?

— Muhammad Habib Shakir

Is with them the unseen, so that they write down?

— Abdul Majid Daryabadi

Or that the Unseen is in their hands, so that they can write it down?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 68:47

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 42–47

سجدہ اس وقت منافقوں کے بس میں نہیں ہوگا اوپر چونکہ بیان ہوا تھا کہ پرہیزگار لوگوں کے لئے نعمتوں والی جنتیں ہیں اسلئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ یہ جنتیں انہیں کب ملیں گی ؟ تو فرمایا کہ اس دن جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی۔ یعنی قیامت کے دن جو دن بڑی ہولناکیوں والا زلزلوں والا امتحان والا اور آزمائش والا اور بڑے بڑے اہم امور کے ظاہر ہونے کا دن ہوگا۔ صحیح بخاری شریف میں اس جگہ حضرت ابو سعید خدری ؓ کی یہ حدیث ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا فرماتے تھے ہمارا رب اپنی پنڈلی کھول دے گا پس ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت سجدے میں گرپڑے گی ہاں دنیا میں جو لوگ دکھاوے سناوے کے لئے سجدہ کرتے تھے وہ بھی سجدہ کرنا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْقَلَم 30 یہ دوسرا سوال بھی بظاہر رسول اللہ ﷺ سے ہے مگر دراصل آپ کے مخالفین اس کے مخاطب ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کیا تم لوگوں نے پردہ غیب کے پیچھے جھانک کر دیکھ لیا ہے کہ یہ رسول فی الواقع خدا کا بھیجا ہوا رسول نہیں ہے اور جو حقیقتیں یہ تم سے بیان کر رہا ہے وہ بھی غلط ہیں، اس لیے تم اس کو جھٹلانے میں اتنی شدت برت رہے ہو ؟ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفسیر سورة طور، حاشیہ 32)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 44–47

(آیت) فَذَرْنِيْ وَمَنْ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ۔ یعنی آپ اس قیامت کی بات جھٹلانے والوں کو اور مجھے چھوڑ دیں پھر دیکھیں کہ ہم کیا کرتے ہیں۔ یہاں چھوڑ دینا ایک محاورہ کے طور پر فرمایا گیا ہے مراد اس سے اللہ پر بھروسہ اور توکل کرنا ہے اور حاصل اس کلام کا یہ ہے کہ کفار کی طرف سے یہ مطالبہ بھی بار بار پیش ہوا کرتا تھا کہ اگر ہم واقعی اللہ کے نزدیک مجرم ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمیں عذاب دینے پر قادر ہے تو پھر ہمیں عذاب ابھی کیوں نہیں دے ڈالتا ان کے ایسے دل آزار مطالبوں کی وجہ سے کبھی کبھی خود رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک میں بھی یہ خیال پیدا ہوتا ہوگا اور ممکن ہے کسی وقت دعا بھی کی ہو کہ ان لوگوں پر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ بھی ان لوگوں کی اس بے پروائی اور بے نیازی پر اظہار تعجب ہے کہ آخر یہ کس بل بوتے پر اس انذار کو اس بے نیازی سے نظرانداز کر رہے ہیں! کیا ان کے پاس علم غیب ہے جو وہ لکھ رہے ہیں کہ آخرت میں (اگر وہ ہوئی) ان کے لیے نہایت اعلیٰ مدارج ہیں؟ مطلب یہ ہے کہ بغیر کسی دلیل اور سند کے محض خواہشوں کی مدد سے اپنے لیے خیالی جنت آراستہ کر لینا اور زندگی کے حقائق سے آنکھیں موند لینا دانش مندی نہیں بلکہ اپنے لیے ابدی ہلاکت کا سامان کرنا ہے۔ یہ آیت سورۂ طور میں بھی گزر چکی ہے۔ وہاں اس کے سیاق و سباق کی روشنی میں ہم نے اس کی وضاحت کی ہے۔ سورۂ نجم میں یہ جس سیاق و سباق کے ساتھ آئی ہے اس سے اس کا پورا مفہوم واضح…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

47۔ 1 یعنی کیا غیب کا علم ان کے پاس ہے لوح محفوظ ان کے تصرف میں ہے کہ اس میں سے جو بات چاہتے ہیں نقل کرلیتے ہیں اس لیے یہ تیری اطاعت اختیار کرنے اور تجھ پر ایمان لانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے اس کا جواب یہ ہے کہ نہیں ایسا نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 42–47

14: ساق پنڈلی کو کہتے ہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں بعض حضرات نے تو یہ فرمایا ہے کہ پنڈلی کا کھل جانا عربی میں ایک محاورہ ہے جو بہت سخت مصیبت پیش آجانے کے لیے بولا جاتا ہے، لہذا مطلب یہ ہے کہ جب قیامت کی سخت مصیبت پیش آجائے گی تو ان کافروں کا یہ حال ہوگا۔ اور بہت سے مفسرین نے اس کا مطلب یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھول دیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی پنڈلی انسانوں کی پنڈلی کی طرح نہیں ہے، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ایک خاص صفت ہے جس کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ بہر حال ! مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی وہ صفت ظاہر فرمائیں گے، اور لوگوں کو سجدے کے لیے بلایا جائے گا، مگر یہ کافر لوگ اس وقت سجدے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ام عندھم .................... یکتبون (86 : 74) ” یا ان کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں ؟ “ ان کو یقین ہے کہ وہ سچی راہ پر ہیں۔ اور وہ ڈرتے نہیں۔ ان کو یہ غیبی تائید حاصل ہے اور یہ علم انہوں نے لکھ رکھا ہے اور ان کو یقین ہے یا انہوں نے خودا سے لکھ لیا ہے اور ان کو یقین ہے کہ یہ درست ہے۔ کچھ بھی ان کے پاس نہیں ہے۔ اور نہ ہی ان کو کوئی یقین حاصل ہے اور نہ ہی آپ کوئی فیس طلب کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 46–47

9 یعنی افسوس اور تعجب کا مقام ہے کہ یہ لوگ اس طرح تباہی کی طرف چلے جا رہے ہیں لیکن آپ کی بات نہیں مانتے۔ آخر نہ ماننے کی وجہ کیا ہے ؟ کیا آپ ان سے کچھ معاوضہ (تنخواہ یا کمیشن وغیرہ) طلب کرتے ہیں ؟ جس کے بوجھ میں وہ دبے جا رہے ہیں۔ یا خود ان کے پاس غیب کی خبریں اور اللہ کی وحی آتی ہے ؟ جسے وہ حفاظت کے لیے قرآن کی طرح لکھ لیتے ہیں۔ اس لیے آپ کی اتباع کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ آخر کچھ سبب تو ہونا چاہیے۔ جب ان پر کچھ بار بھی ڈالا نہیں جاتا اس چیز سے استغنا بھی نہیں تو نہ ماننے کا سبب بجزعناد اور ہٹ دھرمی کے اور کیا ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 47{ اَمْ عِنْدَہُمُ الْغَیْبُ فَہُمْ یَکْتُبُوْنَ۔ } ”یا ان کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ لکھ رہے ہیں ؟“ یہ دونوں آیات 46 ‘ 47 جوں کی توں سورة الطور میں آیات 40 اور 41 کے طور پر بھی آچکی ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

23 یعنی انہوں نے غیب کے پردہ کو ہٹا کر دیکھ لیا ہے کہ یہ اللہ کا بھیجا ہوا رسول نہیں ہے۔ یا ان کی طرف اللہ کے ہاں سے وحی آتی ہے کہ جو کچھ ان کا دین ہے وہی درست اور برحق ہے۔ آخر ان کی اس شدید مخالفت کی کوئی تو معقول وجہ ہونی چاہئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

28۔ (اور اس طرح غیب سے براہ راست تعلق پیدا کرکے آپ ﷺ کی اطاعت سے بےنیاز رہ گئے ہیں) ملاحظہ ہو حاشیہ 26۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 44–47

فذرنی ومن یکذب بھذا الحدیث مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ ان سے نمٹنے کی فکر میں نہ پڑیں، ان سے نمٹنا میرا کام ہے یعنی آپ ﷺ قیامت کو جھٹلانے والوں کو اور مجھے چھوڑ دیں، پھر دیکھیں کہ ہم کیا کرتے ہیں، یہاں چھوڑ دینا ایک محاورہ کے طور پر استعمال ہوا ہے، مراد اس سے اللہ پر بھروسہ اور توکل کرنا ہے، یعنی کفار کی جانب سے جو یہ مطالبہ بار بار پیش ہوتا رہتا ہے کہ ہم اگر واقعی اللہ کے نزدیک مجرم ہیں اور اللہ ہمیں عذاب دینے پر قادر ہے تو پھر ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا ؟ ایسے دل آزار مطالبوں کی وجہ سے کبھی کبھی خود رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک میں بھی یہ خیال پیدا ہوتا ہوگا کہ ان لوگوں پر اسی وقت عذاب آجائے تو باقی ماندہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ام عندھم الغیب . یعنی لوح محفوظ یا امور غیبیہ۔ فھو یکتبون . یعنی کیا آپ ان سے اجرت مانگتے ہیں کہ وہ تاوان برداشت نہیں کرسکتے اور بےوجہ تم سے کتراتے ہیں یا ان کے پاس لوح محفوظ یا غیبی اطلاعات ہیں کہ وہاں سے اپنی منشاء کے احکام لکھ لیتے ہیں گزشتہ آیات میں اللہ نے دلیل عقلی اور نقلی اور تقلید کی نفی کی تھی۔ تقلید عوام کے لیے باعث استدلال ہوتی ہے اس جگہ امور غیبیہ کے کشف اور الہام کی نفی کردی۔ کشف غیب اور الہام سے انبیاء اور ملائکہ کو علم حاصل ہوتا ہے بلکہ بعض اولیاء کو بھی لوح محفوظ اور امور غیبیہ کا کشف ہوجاتا ہے اور یہی ان کے علم کا ذریعہ ہوتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ امور مذکورہ میں سے جب ان کے پاس…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 46–47

(46۔ 47) کیا آپ مکہ والوں سے اس دعوت ایمانی پر کچھ بدلہ مانگتے ہیں کہ وہ اس کے قبول کرنے پر اس کے تاوان سے دبے جاتے ہیں یا جس پر یہ آپ سے جھگڑتے ہیں کیا انہوں نے اس کے بارے میں لوح محفوظ میں سے کچھ لکھ لیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ام عندھم الغیب …: یا یہ عذر ہوسکتا ہے کہ ان کے پاس غیب کا علم ہے اور وہ خود کتاب الٰہی لکھ سکتے ہیں تو انہیں آپ پر ایمان لانے کی کیا ضرورت ہے ؟ یا انہوں نے غیب سے معلوم کر کے لکھ دیا ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول نہیں ہیں، یا انہوں نے اپنے متعلق غیب سے معلوم کر کے لکھ رکھا ہے کہ انہیں آخرت میں بھی دنیا جیسی نعمتیں ملتی رہیں گی، ظاہر ہے کہ ایسا بھی ہرگز نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ام عندھم الغیب جو چیز ان سے غائب ہے اس کا علم اس کا علم ان کے پاس ہے فھم یکتبون۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو وہ کہتے ہیں کیا اس کے باعث ان پر وحی نازل کی جائے گی۔ حضرت ابن عباس نے کہا، یہاں غیب سے مراد لوح محفوظ ہے کیا وہ لوح محفوظ سے لکھتے ہیں جس کے بارے وہ آپ سے مخاصمت کرتے ہیں اور وہ لکھتے ہیں کہ وہ آپ سے افضل ہیں اور انہیں سزا نہ دی جائے گی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یکتبون کا معنی ہے وہ اپنے بارے میں وہ فیصلہ کرتے ہیں جس کا وہ ارادہ کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 43–47

23۔ ابن مردویہ نے کعب الحبر (رح) سے روایت کیا کہ اس ذات کی قسم ! جس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات اتاری اور انجیل عیسیٰ (علیہ السلام) پر اور زبور داوٗد (علیہ السلام) اور فرقان محمد ﷺ پر اتاری۔ کہ یہ آیات فرض نمازوں کے بارے میں اتاری گئیں۔ جب ان کے ساتھ آواز لگائی جاتی ہے۔ اور آیت یوم یکشف عن ساق۔ سے لے کر آیت وقد کانوا یدعون الی السجود وہم سلمون تک سے مراد ہے پانچوں نمازیں ہیں جب ان کے ساتھ اذان دی جاتی ہے۔ 24۔ بیہقی نے شعب الایمان میں سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقد کانوا یدعون الی السجود سے مراد ہے وہ نمازیں جو جماعت کے ساتھ پڑھی جائیں۔ 25۔ بیہقی نے ابن عباس ؓ سے آیت وقدکانوا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَيْبُ : یا ان کے پاس غیب (کی خبر) ہے ][ فَهُمْ يَكْتُبُوْنَ : تو وہ لوگ لکھتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا ﴿ اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُوْنَ 0047﴾ کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے جسے وہ لکھ لیا کرتے ہیں۔ یہ بھی استفہام انکاری کے طور پر ہے مطلب یہ ہے کہ ان کو کسی طریقے سے خود احکام خداوندی معلوم ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ صاحب وحی یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کے اتباع سے بےنیاز ہیں ؟ خلاصہ یہ ہے کہ ان کے پاس ایسا کوئی طریقہ نہیں ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے احکام خود ہی معلوم کرلیا کریں حالانکہ اپنے خالق کے احکام جاننا ضروری ہے جب اور کوئی ذریعہ اللہ کے احکام معلوم کرنے کا نہیں ہے اور آپ کی نبوت کا انکار کرنے کی بھی کوئی وجہ نہیں ہے تو اس کا انکار کرنا ان کی ناسمجھی، بیوقوفی اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–52

بشارت اہل ایمان وتقوی بنعماء جنت وتذلیل وتوہین کفار ومشرکین درروز آخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان للمتقین عندربھم .......... الی ........ الاذکر للعلمین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں ان منکرین ومکذبین کا ذکر تھا جو دولت کے نشہ میں مست ہو کر اللہ کی نافرمانی پر کمر بستہ ہوئے رسول خدا ﷺ کی توہین وتذلیل کی تو انکی نافرمانی اور غرور کا انجام ہلاکت ایک تاریخی واقعہ کی شکل میں بیان فرمایا گیا اب ان آیات میں اہل تقوی و ایمان کا اعزاز واکرام اور جنت میں حق تعالیٰ شانہ ان کو کیسی کیسی نعمتوں سے نوازے گا بیان فرمایا جارہا ہے پھر اسی کے ساتھ تنبیہ کے طور پر مجرمین ومنکرین کا قیامت کے روز کیسا برا انجام…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 46–47

22:۔” ام تسئلہم “ یہ معاندین کیوں نہیں مانتے، کیا آپ تبلیغ و ارشاد پر ان سے کوئی معاوضہ طلب کرتے اور وہ اس تاوان کو بوجھ سمجھ کر آپ سے اعراض کرتے ہیں ؟ استفہام انکاری ہے یعنی ایسا نہیں ہے۔ آپ ان سے کسی معاوضہ یا مالی تعاون کا مطالبہ نہیں کرتے، تو پھر ان کے انکار وجحود کی کیا وجہ ہے ؟ ” ام عندھم الغیب “ یا ان کے پاس غیب سے علم آتا ہے جس میں یہ لکھا ہے کہ ان کے معبود برکات دہندہ ہیں جسے وہ لکھ لیتے ہیں اور پھر اس کے مطابق من مانی باتیں کرتے رہتے ہیں اور اس کی وجہ سے آپ کے علم سے بےنیاز ہیں اور اسی لیے آپ کو نہیں مانتے ؟ استفہام انکاری ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہے۔ (ام عندھم الغیب فھم یکتبون) مایحکمون…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 42–47

گذشتہ سے پیوستہ (ربطہ) : پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفر و شرک کرنے والوں کا رد فرمایا ۔ کافروں کے اس خیال کی تردید فرمائی جس کے مطابق وہ کہتے تھے کہ چونکہ ہم دنیا میں برتر ہیں لہٰذا آگے بھی ہم ہی برتر ہونگے فرمایا کہ فرمانبردار اور مجرم کیسے ہو سکتے ہیں ۔ یہ بات عقل اور نقل دونوں کے خلاف ہے۔ پھر مطالبہ کیا کہ تمہارے پا س کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہے تو پیش کرو۔ دنیا کا کوئی عقلمند اس بات کو تسلیم نہیں کرے گا کہ مجرم اور فرمانبردار ایک جیسے ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے متقیوں کے لیے مقرر کردہ نعمتوں اور ان کی کامیابی کا حال بیان کیا ۔ عبادت کا اثر اسکی صحت پر منحصر ہے : ان آیتوں میں شرک اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَمْ عِنْدَہُمُ الْغَيْبُ فَہُمْ يَكْتُبُوْنَ۝ 47 أَمْ»حرف إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه : أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ } ( سورة ص 63) ( یا) ہماری آنکھیں ان ( کی طرف ) سے پھر گئی ہیں ۔ عند عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 42–47

ترکیب : یوم منصوب امابقولہ فلیاتوا واما باذکر ویدعون معطوف علی یکشف۔ فلایستطیعون جواب یوم یکشف خاشعۃ بالنصب علی انھا حال من ضمیر یدعون ابصارھم مرفوع علی انہ فاعل خاشعۃ ونسبۃ الخشوع الی الابصار بظھور اثرہ فیھا وھم سالمون الجملۃ حال من فی یدعون ومن منصوب محلا عطفا علی الضمیر المنصوب فی ذرنی۔ تفسیر : اس کے بعد قیامت کا ہولناک واقعہ بیان فرماتا ہے کہ اس روز ان کے افتراء اور خیالی ڈھکوسلوں کا یہ نتیجہ ہوگا۔ فقال یوم یکشف عن ساق ویدعون الی السجود فلایستطیعون کہ جس دن پردہ کھل جائے گا اور وہ سجدے کے لیے بلائے جائیں گے تو سجدہ نہ کرسکیں گے۔ ساق کیا ہے : ساق کے لغوی معنی پنڈلی کے ہیں پھر کیا یہ حقیقت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَمْ عِنْدَھُمُ الْغَیْبُ فَھُمْ یَکْتُبُوْنَ ۔ (القلم : 47) (کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے، پس وہ اس کو لکھ رہے ہیں۔ ) گزشتہ مضمون کا تسلسل اس آیت میں بھی خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن اصل مخاطب مخالفین ہی ہیں۔ ان کی بےپروائی اور بےنیازی پر اظہارِ تعجب کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ کیا ان کے پاس علم غیب ہے جس کو وہ لکھ رہے ہیں کہ قیامت میں اعلیٰ مدارج انھیں کے لیے ہیں اور نبی کریم ﷺ جو کچھ فرما رہے ہیں، ان کے اس علم کے مطابق بالکل غلط ہے۔ نہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور نہ وہ حقائق صحیح ہیں جنھیں وہ بیان کررہے ہیں۔ اور اگر ان کے پاس علم غیب نہیں (اور فی الواقع نہیں) تو پھر زندگی کے حقائق سے آنکھیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 46–50

فہم القرآن ربط کلام : کفار اور مشرکین کو انتباہ کرنے کے بعد نبی ﷺ کو تسلی رکھنے کی تلقین کی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ شب وروز اس فکر اور کوشش میں تھے کہ کفار اور مشرکین اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئیں اور اپنے آپ کو سیدھے راستے پر گامزن کرلیں لیکن وہ لوگ دن بدن مخالفت اور گمراہی میں آگے ہی بڑھتے جارہے تھے۔ انہیں سمجھانے اور نبی کریم ﷺ کو تسلی دینے کے لیے ارشاد ہوا کہ کیا آپ ان سے کوئی صلہ مانگتے ہیں جس وجہ سے وہ آپ کی ذات اور دعوت کو اپنے لیے بوجھ سمجھتے ہیں یا پھر ان کے پاس غیب کا علم ہے جس سے یہ اپنے مستقبل کے بارے میں آگاہ ہیں ؟ ان سے الجھنے کی بجائے آپ اپنے رب کے حکم کا انتظار کریں اور مچھلی والے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

47 : اَمْ عِنْدَھُمُ الْغَیْبُ (کیا ان کے پاس غیب ہے) الغیب سے یہاں جمہور کے نزدیک لوح محفوظ مراد ہے۔ فَھُمْ یَکْتُبُوْنَ (کہ یہ لکھ لیا کرتے ہیں) اس سے اس بات کو جو یہ فیصلہ کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 42–47

42۔ 46۔ مشرکین مکہ کی اس بات کا اوپر ذکر تھا جو وہ مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ اگر مرنے کے بعد پھر جینا اور میوے کھانے کے لئے باغوں کا ملنا سچ ہے تو دنیا میں جس طرح ہم لوگ بہ نسبت ان غریب مسلمانوں کے خوشحالی سے گزران کرتے ہیں اسی طرح آخرت میں بھی ہم اچھی طرح رہیں گے ان مشرکوں کی اس بات کا جواب اللہ تعالیٰ نے اوپر کی آیتوں میں دیا تھا دوسرا جواب ان آیتوں میں یہ دیا ہے کہ اصلی کافروں کو تو آخرت میں خوشحالی کا ملنا درکنار جو لوگ ظاہر میں اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دین کا پورا یقین نہیں ہے اور اس ادھورے یقین کے سبب سے وہ جو کچھ کرتے ہیں وہ محض دنیا کے دکھاوے کے لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 47–49

(ام عندھم الغیب فھم یکتبون) ۔ ان کے پاس غیب کا علم نہیں کہ وہ اس بات کو پاچکے ہوں کہ وہ حق پر ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ ثواب سے بہرور ہوں گے یہ معاملہ جیسا بھی ہے ان کا حال تو ایک معاند اور ظالم کا سا ہے پس اس کے سوا کچھ باقی نہیں کہ ان کی ایذا رسانیوں پر صبر کیا جائے اور جو کچھ ان سے صادر ہو رہا ہے اس پر تحمل کا مظاہرہ کیا جائے اور ان کو بار بار دعوت دی جائے۔ اس لیے فرمایا (فاصبر لحکم ربک) یعنی اللہ تعالیٰ نے شرعا اور قدرا جو فیصلہ کیا ہے اس پر صبر کیجئے حکم قدری یہ ہے کہ ایذا پر صبر کیا جائے اور ناراضی اور بےصبری کے ساتھ ان کا سامنا نہ کیا جائے حکم شرعی کو قبول کیا جائے اس کے سامنے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–52

قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 46–47

41 منکرین کی بےفکری اور لاپرواہی پر اظہار تعجب : سو منکرین و مکذبین کی بےفکری اور لاپرواہی پر اظہار تعجب کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے جس کو یہ لکھ لیتے ہوں ؟ اور اس کی بناء پر یہ آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کی پیش کردہ فرمودہ وحی پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں سمجھتے ‘ اور آپ ﷺ سے اور اس قرآن حکیم سے یہ اعراض اور لاپرواہی برتتے ہیں ‘ ظاہر ہے کہ اس کا بھی کوئی امکان نہیں تو کوئی بھی ایسی وجہ موجود نہیں جو ان کے اس کفر و انکار اور اعراض و استکبار کیلئے وجہ جواز بن سکے ‘ بجز ان کی غفلت و لاپرواہی اور عناد و ہٹ دھرمی کے والعیاذ باللہ العظیم۔ اس میں ابھی ان کے اعراض و روگردانی پر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 36–52

کفار کی خوش فہمیاں، نبی ﷺ کو صبر کی تلقین تشریح : پچھلی آیات میں مسلمان اور کافر کی سزا و جزا کو علیحدہ علیحدہ کر کے بتا دیا گیا ہے کہ یہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ کیونکہ ہم یعنی کفار مکہ کے سردار دنیا میں امیر کبیر ہیں تو اس لیے ہیں کہ ہم سے اللہ خوش ہے تو اس نے ہمیں یہ تمام نعمتیں دے رکھی ہیں اس لیے آخرت اگر آئی تو وہاں بھی ہمیں کسی تحریر میں رب العزت نے ان سے اس بات کا وعدہ کر رکھا ہے کہ ان کو تو انعام و اکرام دئیے جائیں گے اور مسلمان کیونکہ یہاں اس دنیا میں کچھ کم حیثیت ہیں اس لیے آخرت میں بھی ان کو کچھ نہیں ملے گا۔ کچھ ہی دیر کی بات ہے بہت جلد سب کچھ سامنے آنے والا ہے (جب ساق کھول دی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 34–52

آیات 34 تا 52۔ اسرار ومعارف۔ اور جو لوگ عظمت الٰہی کا اقرار کرلیتے ہیں ان کی خاطر تو ان کے پروردگار نے جنت کی نعمتیں سجارکھی ہیں جو لوگ اطاعت گزار اور حکم بجالانے والے ہیں بھلامجرم ان کی برابری کس طرح کرسکتے ہیں کہ تم اے کفار برائی پہ اچھے نتیجے کی امید رکھتے ہو تمہاری یہ رائے قطعی غلط ہے کیا اس کے لیے تمہارے پاس کوئی نقلی دلیل ہے عقلا تو ویسے محال ہے تو کیا کسی آسمانی کتاب میں تمہیں یہ حق دیا گیا ہے کہ اپنے لیے بہتری چن لو یا اللہ نے قیامت تک کوئی قسم کھارکھی ہے کہ تم جو مانگو ملے گا بھلا تمہارے پاس ایسی باتوں کی کیا ضمانعت ہے ؟ یا کوئی اور ہستی ایسی ہے جو اللہ کی شریک ہے اس نے تمہیں وعدہ دے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(68:47) ام عندھم الغیب : ام حرف عطف۔ یا۔ کیا۔ (استفہام کے لئے آتا ہے) الغیب سے یہاں مراد لوح محفوظ امور غیبیہ ہیں۔ مطلب یہ کہ :۔ کیا ان کے پاس لوح محفوظ یا امور غیبیہ کا علم ہے۔ فھم :عاطفہ ہے۔ یکتبون مضارع جمع مذکر غائب کتابۃ (باب نصر) مصدر وہ لکھتے ہیں۔ یکتبون ای ینقلون منہ ویحکمون، اور وہ اس سے نقل کرتے ہیں اور فیصلہ کرتے ہیں۔ جملہ استفہامیہ انکاریہ ہے یعنی ان کے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 42–52

لغات القرآن۔ یکشف۔ کھول دیا جائے گا۔ ساق۔ پنڈلی۔ یدعون۔ وہ بلائے جائیں گے۔ خاشعۃ۔ جھکنے والی۔ ترھق۔ وہ ڈھانپ لیتی ہے۔ سالمون۔ صحیح سالم۔ ہٹے کٹے۔ ذرنی۔ مجھے چھوڑو۔ نستدرج۔ ہم آہستہ آہستہ لئے جاتے ہیں۔ املی۔ میں نے مہلت دی۔ کیدی۔ میری تدبیر۔ مغرم۔ تاوان۔ مثقلون۔ بوجھ کے نیچے دبے ہوئے۔ صاحب الحوت۔ مچھلی والا (حضرت یونس (علیہ السلام) ) ۔ مکظوم۔ غم میں گھونٹ دیا گیا۔ العرائ۔ چٹیل میدان۔ یزلقون۔ وہ جگہ سے ہٹے ہیں۔ پھسل جاتے ہیں۔ تشریح : جب کفار و مشرکین اور منافقین کے سامنے رسول اللہ ﷺ کلام اللہ کو پیش کرتے تو وہی مکہ کے لوگ جو ان کو صادق و امین کہتے اور ان کی فہم و فراست کے گن گایا کرتے تھے آپ پر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 46–47

(ف 2) یعنی افسوس اور تعجب کا مقام ہے کہ یہ لوگ اسی طرح تباہی کی طرف چلے جارہے ہیں لیکن آپ کی بات نہیں مانتے آخرنہ ماننے کی وجہ کیا ہے کہ آپ ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتے ہیں جس کے بوجھ میں وہ دبے جارہے ہیں یا خود ان کے پاس غیب کی خبریں اور اللہ کی وحی آتی ہے جسے وہ حفاظت کے لیے قران کی طرح لکھ لیتے ہیں اس لیے آپ کے اتباع کی ضرورت نہیں سمجھتے آخر کچھ سبب تو ہونا چاہیے جب ان پر کچھ بار بھی ڈالا نہیں جاتا، اور اس چیز سے استغناء بھی نہیں تو نہ ماننے کا سبب بجز عناد اور ہٹ دھرمی کے اور کیا ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[13] یعنی کیا ان کے پاس غیب کی خبریں آتی ہیں جس کی بناء پر آپ ﷺ کے اتباع کی ضرورت نہیں سمجھتے ؟

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 46–47

ف 2: امرتسئلھم کا تعلق آیات ماسبق سے ہے ۔ مقصود یہ دریافت کرتا ہے کہ یہ لوگ ایمان کی نعمت سے آخر محروم کیوں ہیں ۔ آخر جب یہ بات طے ہے ۔ کہ اسلام انسانیت کے لئے آخری پیغام ہے ۔ اس میں تمام روحانی اور مادی مشکلات کا حل ہے ۔ اس میں نجات وسعادت ہے ۔ فلاں دارین ہے ۔ بالیدگی اور ارتقاء ہے ۔ اور جب یہ مسلم ہے ۔ کہ اس نے محض اپنی تعلیمات کی صداقت کی وجہ سے اتنی بڑی کامیابی حاصل کی ہے ۔ کہ انسانوں کو پشتی اور فیض سے اٹھایا ہے ۔ اور انتہائی بلندیوں تک اچھال دیا ہے ۔ عربوں کو جو جرائم پیش اقوام میں سے تھے تعلیم روحانیت واخلاق کا ناپیدار بنادیا ہے ۔ اور دیکھتے دیکھتے علم وصنعت کے ایک عالم نو کی بنیاد…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(47) یا ان کے پاس مغیبات الٰہیہ کا علم ہے جسے لکھ لیتے ہیں۔ یعنی لوح محفوظ یا مغیبات الٰہیہ کا ان کو علم ہے جس کو یہ محفوظ رکھنے کی غرض سے لکھ لیا کرتے ہیں اور ان کو اس علم سے معلم ہوجاتا ہے کہ مسلمان اور دین حق کے منکروں کے ساتھ مساوی سلوک ہوگا جس سے یہ آپ سے مستغنی ہوگئے اور صاحب وحی کی اتباع اور پیروی کو ضروری نہیں سمجھتے۔ آگے آپ کو تسلی دی جاتی ہے اور صبر وسہار کی تلقی کی جاتی ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 43–47

ف 4۔ دنیا میں امتثال امر نہ کرنے سے آج ان کو یہ رسوائی و ذلت ہوئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا ان کے پاس کوئی غیب کی خبر ہے کہ وہ اس کو لکھ لیتے ہیں 47 ؎ گزشتہ آیت کے مضمون کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے کہ یہ لوگ کس کردار کے لوگ ہیں کہ جو بات ان کے منہ میں آتی ہے کہہ دیتے ہیں ذرا پر دا نہیں کرتے اور نہ ہی عقل و فکر سے سمجھ سوچ کر بات کرنے کی ان کو عادت ہے اور جو کچھ کرتے ہیں محض اس لئے کرتے ہیں کہ زبان ان کے پاس ہے اور جو کچھ یہ بک سکتے ہیں وقتی طور پر بک دیتے ہیں اور جب وقت نکل جاتا ہے تو ان کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ہم نے کس سے کیا کہا ہے اور کیا نہیں۔ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ اس لئے کہ ان کو معلوم ہے کہ ہم کو کوئی پوچھ نہیں سکتا اور نہ ہی کوئی کہہ سکتا ہے کہ تم نے یہ وعدہ کیا تھا جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 44–47

فَذَرْ‌نِي وَمَن يُكَذِّبُ بِهَـٰذَا الْحَدِيثِ (So, leave Me alone with those who reject this discourse. We will draw them on little by little (towards Hell) from a way they do not know.... 68:44). Here the phrase 'So, leave me alone' in the original Arabic is an idiomatic expression which signifies 'Rely on Allah'. The disbelievers often demanded Divine punishment arguing that if they are really guilty in the sight of Allah, and if He has the power to punish, then why the punishment does not befall them forthwith. These were heart-rending demands on account of which the thought probably…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

30 This second question also appears to be directed to the Holy Prophet, but, in fact, its audience are his opponents. It means: "Have you, O people, peered behind the unseen and found that the Messenger, in fact, is not a Messenger sent by God, and the truths that he is presenting before you are also false; that is why you are being so stubborn in belying what he says?" (For explanation, see E.N. 32 of At-Tur) .

Read the full tafseer →