Explained with ayahs 42–47
سجدہ اس وقت منافقوں کے بس میں نہیں ہوگا
اوپر چونکہ بیان ہوا تھا کہ پرہیزگار لوگوں کے لئے نعمتوں والی جنتیں ہیں اسلئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ یہ جنتیں انہیں کب ملیں گی ؟ تو فرمایا کہ اس دن جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی۔ یعنی قیامت کے دن جو دن بڑی ہولناکیوں والا زلزلوں والا امتحان والا اور آزمائش والا اور بڑے بڑے اہم امور کے ظاہر ہونے کا دن ہوگا۔ صحیح بخاری شریف میں اس جگہ حضرت ابو سعید خدری ؓ کی یہ حدیث ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا فرماتے تھے ہمارا رب اپنی پنڈلی کھول دے گا پس ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت سجدے میں گرپڑے گی ہاں دنیا میں جو لوگ دکھاوے سناوے کے لئے سجدہ کرتے تھے وہ بھی سجدہ کرنا…
Read the full tafseer →سورة الْقَلَم 29
سوال بظاہر رسول اللہ ﷺ سے کیا جا رہا ہے، مگر اصل مخاطب وہ لوگ ہیں جو آپ کی مخالفت میں حد سے گزرے جا رہے تھے۔ ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ کیا ہمارا رسول تم سے کچھ مانگ رہا ہے کہ تم اس پر اتنا بگڑ رہے ہو ؟ تم خود جانتے ہو کہ وہ ایک بےغرض آدمی ہے اور جو کچھ تمہارے سامنے پیش کر رہا ہے صرف اس لیے کر رہا ہے کہ اس کے نزدیک اسی میں تمہاری بھلائی ہے۔ تم نہیں ماننا چاہتے تو نہ مانو، مگر اس تبلیغ پر آخر اتنے چراغ پا کیوں ہوئے جا رہے ہو ؟ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، تفسیر سورة طور، حاشیہ 31)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
(آیت) فَذَرْنِيْ وَمَنْ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ۔ یعنی آپ اس قیامت کی بات جھٹلانے والوں کو اور مجھے چھوڑ دیں پھر دیکھیں کہ ہم کیا کرتے ہیں۔ یہاں چھوڑ دینا ایک محاورہ کے طور پر فرمایا گیا ہے مراد اس سے اللہ پر بھروسہ اور توکل کرنا ہے اور حاصل اس کلام کا یہ ہے کہ کفار کی طرف سے یہ مطالبہ بھی بار بار پیش ہوا کرتا تھا کہ اگر ہم واقعی اللہ کے نزدیک مجرم ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمیں عذاب دینے پر قادر ہے تو پھر ہمیں عذاب ابھی کیوں نہیں دے ڈالتا ان کے ایسے دل آزار مطالبوں کی وجہ سے کبھی کبھی خود رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک میں بھی یہ خیال پیدا ہوتا ہوگا اور ممکن ہے کسی وقت دعا بھی کی ہو کہ ان لوگوں پر…
Read the full tafseer →مکذبین کو ان کی محرومی پر ملامت:
یہ قرآن سے ان لوگوں کے فرار پر تعجب کا اظہار بھی ہے اور ان کو ملامت بھی۔ مطلب یہ ہے کہ آخر یہ لوگ تمہاری بات سنتے کیوں نہیں؟ سننے میں ان کا کیا حرج ہوتا ہے؟ تم ان سے سنانے کا کوئی معاوضہ تو مانگ نہیں رہے ہو کہ یہ اس کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہوں؟ ان میں ضمناً نبی ﷺ کے لیے تسلی بھی ہے کہ اگر یہ نہیں سن رہے ہیں تو اس کا غم نہ کرو۔ اگر یہ اس نعمت سے بھاگ رہے ہیں تو اس میں انہی کی محرومی ہے۔ تم اپنے رب کے ہاں سرخ رو ہو کر یہ دولت آسمانی مفت لٹا رہے ہو۔
Read the full tafseer →46۔ 1 یہ خطاب نبی ﷺ کو ہے لیکن سرزنش ان کو کی جا رہی ہے جو آپ پر ایمان نہیں لا رہے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–47
14: ساق پنڈلی کو کہتے ہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں بعض حضرات نے تو یہ فرمایا ہے کہ پنڈلی کا کھل جانا عربی میں ایک محاورہ ہے جو بہت سخت مصیبت پیش آجانے کے لیے بولا جاتا ہے، لہذا مطلب یہ ہے کہ جب قیامت کی سخت مصیبت پیش آجائے گی تو ان کافروں کا یہ حال ہوگا۔ اور بہت سے مفسرین نے اس کا مطلب یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھول دیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی پنڈلی انسانوں کی پنڈلی کی طرح نہیں ہے، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ایک خاص صفت ہے جس کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ بہر حال ! مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی وہ صفت ظاہر فرمائیں گے، اور لوگوں کو سجدے کے لیے بلایا جائے گا، مگر یہ کافر لوگ اس وقت سجدے…
Read the full tafseer →اس خوفناک منظر اور اس خوفناک تہدید کی فضا میں یہ مکالمہ یوں اختتام پذیر ہوتا ہے ، ان کے موقف پر تعجب کیا جاتا ہے اور چیلنج دیا جاتا ہے۔
ام تسئلھم ................ مثقلون (86 : 64) ” کیا تم ان سے کوئی اجر طلب کررہے ہو کہ یہ اس چٹی کے بوجھ تلے دبے جارہے ہوں ؟ “ کیا اسلام میں داخل کرنے کی کوئی بڑی فیس ہے جس سے یہ لوگ ڈر رہے ہیں اور بوجھ کو برداشت نہیں کرسکتے۔ اور منہ موڑ رہے ہیں۔ اور اس لئے مجبور ہیں کہ یہ برا انجام ہی اختیار کریں۔ محض اس لئے کہ ادائیگی مشکل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
9 یعنی افسوس اور تعجب کا مقام ہے کہ یہ لوگ اس طرح تباہی کی طرف چلے جا رہے ہیں لیکن آپ کی بات نہیں مانتے۔ آخر نہ ماننے کی وجہ کیا ہے ؟ کیا آپ ان سے کچھ معاوضہ (تنخواہ یا کمیشن وغیرہ) طلب کرتے ہیں ؟ جس کے بوجھ میں وہ دبے جا رہے ہیں۔ یا خود ان کے پاس غیب کی خبریں اور اللہ کی وحی آتی ہے ؟ جسے وہ حفاظت کے لیے قرآن کی طرح لکھ لیتے ہیں۔ اس لیے آپ کی اتباع کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ آخر کچھ سبب تو ہونا چاہیے۔ جب ان پر کچھ بار بھی ڈالا نہیں جاتا اس چیز سے استغنا بھی نہیں تو نہ ماننے کا سبب بجزعناد اور ہٹ دھرمی کے اور کیا ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 46{ اَمْ تَسْئَلُہُمْ اَجْرًا فَہُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَ۔ } ”اے نبی ﷺ ! کیا آپ ان سے کوئی اجرت مانگتے ہیں جس کے تاوان کے بوجھ تلے یہ دبے جا رہے ہیں ؟“
ان لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچانے کے لیے آپ ﷺ سالہا سال سے دن رات محنت کر رہے ہیں۔ اپنی اس محنت کے عوض جب آپ ﷺ ان سے کسی معاوضے یا اجرت کے طلب گار بھی نہیں ہیں تو یہ لوگ آخر کس لیے پریشان ہیں ؟
Read the full tafseer →22 آپ تو سب لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دیتے اور اس کا پیغام پہنچاتے ہیں اور جو کچھ کر رہے ہیں بےلوث اور بےغرض ہو کر کر رہے ہیں۔ اب اگر یہ قریشی سردار اس دعوت کو قبول کرتے ہیں تو کریں، نہیں کرتے تو نہ کریں، پھر اگر دوسرے لوگ اس دعوت کو قبول کرتے ہیں تو یہ کیوں سیخ پا ہوجاتے ہیں ؟
Read the full tafseer →27۔ اور اس لئے آپ ﷺ کی اطاعت اور قبول دعوت سے بھی گریز کررہے ہیں۔ قرآن مجید کا جتنا حصہ مدنی سورتوں پر شامل ہے ان میں زیادہ تراحکام وقوانین، مسائل وقصص کا سادہ بیان ہے، اس حصہ میں قدرۃ سوال و جواب کی گنجائش کم تھی لیکن قرآن مجید کا یہ آخری حصہ جو زیادہ ترم کی سورتوں پر شامل ہے، اس میں عموما دعوت اصلاح عقائد کی ملتی ہے اور منکرین کو توحید، رسالت وآخرت کی طرف بلایا جارہا ہے اس لئے قدرۃ ان سورتوں کا اسلوب بیان زیادہ خطیبانہ ہے اور اس میں خطبات عرب (اور عرب کیا معنی ساری دنیا کے خطبات) کے دستور کے مطابق مؤثر انداز میں سوالات واستفہامات بھی زائد ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
فذرنی ومن یکذب بھذا الحدیث مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ ان سے نمٹنے کی فکر میں نہ پڑیں، ان سے نمٹنا میرا کام ہے یعنی آپ ﷺ قیامت کو جھٹلانے والوں کو اور مجھے چھوڑ دیں، پھر دیکھیں کہ ہم کیا کرتے ہیں، یہاں چھوڑ دینا ایک محاورہ کے طور پر استعمال ہوا ہے، مراد اس سے اللہ پر بھروسہ اور توکل کرنا ہے، یعنی کفار کی جانب سے جو یہ مطالبہ بار بار پیش ہوتا رہتا ہے کہ ہم اگر واقعی اللہ کے نزدیک مجرم ہیں اور اللہ ہمیں عذاب دینے پر قادر ہے تو پھر ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا ؟ ایسے دل آزار مطالبوں کی وجہ سے کبھی کبھی خود رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک میں بھی یہ خیال پیدا ہوتا ہوگا کہ ان لوگوں پر اسی وقت عذاب آجائے تو باقی ماندہ…
Read the full tafseer →ام تسئلھم اجرا . کیا آپ ان سے تبلیغ احکام الٰہی کی کوئی اجرت مانگتے ہیں۔ م منقطعہ بمعنی بل ہے۔
فھم من مغرم مثقلون . کہ وہ تاوان کے بوجھ کے نیچے دبے جا رہے ہوں اور ڈانڈ کو دفع کرنے کے لیے بے
بے دلیل تمہاری طرف سے اعراض کر رہے ہوں۔ اس جملہ میں فاء سببی عاطفہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
(46۔ 47) کیا آپ مکہ والوں سے اس دعوت ایمانی پر کچھ بدلہ مانگتے ہیں کہ وہ اس کے قبول کرنے پر اس کے تاوان سے دبے جاتے ہیں یا جس پر یہ آپ سے جھگڑتے ہیں کیا انہوں نے اس کے بارے میں لوح محفوظ میں سے کچھ لکھ لیا ہے۔
Read the full tafseer →(ام تسلھم اجراً …:) ان کے اسلام قبول نہ کرنے کا ایک عذر یہ ہوسکتا ہے کہ آپ ان سے کوئی اجرت مانگتے ہوں جو ان کے لئے خواہ مخواہ کی چٹی اور بوجھ ہو، ظاہر ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
کلام اسی طرف راجع ہے جس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے ام لھم شرکآء کیا تم ان سے ثواب کے طالب ہو اس بات پر جو آپ انہیں اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان لانے کی دعوت دیتے ہو۔ وہ اس چٹی میں پڑے ہوئے ہیں وہ اس بوجھ کے نیچے دبے چلے جا رہے ہیں جو انہیں مال خرچ کرنا پڑتا ہے یعنی ان پر کوئی مشقت نہیں بلکہ وہ آپ کی متابعت کے ذریعے زمین کے خزانوں کے مالک بن جائیں گے اور جنات نعیم تک پہنچ جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–47
23۔ ابن مردویہ نے کعب الحبر (رح) سے روایت کیا کہ اس ذات کی قسم ! جس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات اتاری اور انجیل عیسیٰ (علیہ السلام) پر اور زبور داوٗد (علیہ السلام) اور فرقان محمد ﷺ پر اتاری۔ کہ یہ آیات فرض نمازوں کے بارے میں اتاری گئیں۔ جب ان کے ساتھ آواز لگائی جاتی ہے۔ اور آیت یوم یکشف عن ساق۔ سے لے کر آیت وقد کانوا یدعون الی السجود وہم سلمون تک سے مراد ہے پانچوں نمازیں ہیں جب ان کے ساتھ اذان دی جاتی ہے۔
24۔ بیہقی نے شعب الایمان میں سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقد کانوا یدعون الی السجود سے مراد ہے وہ نمازیں جو جماعت کے ساتھ پڑھی جائیں۔
25۔ بیہقی نے ابن عباس ؓ سے آیت وقدکانوا…
Read the full tafseer →[اَمْ تَسْــَٔــلُهُمْ اَجْرًا : یا آپ مانگتے ہیں ان سے کوئی اجرت ][ فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ : تو وہ تاوان سے ][ مُّثْقَلُوْنَ : لائے ہوئے ہیں ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا کیا آپ ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتے ہیں جس کے تاوان سے وہ دبے جاتے ہیں ؟ یہ بطور استفہام انکاری کے ہے مطلب یہ ہے کہ آپ کا تبلیغ فرمانا اور ایمان کی دعوت دینا یہ سب اللہ کی رضا کے لیے ہے آپ اللہ تعالیٰ ہی سے ثواب کی امید رکھتے ہیں ان سے تو آپ کسی طرح کی اجرت یا معاوضہ کا مطالبہ نہیں کرتے اگر ان سے کچھ طلب فرماتے ہوتے تو ان کو اس کی ادائیگی مشکل پڑجاتی جب آپ ان سے کوئی چیز طلب کرتے ہی نہیں تو انہیں خود سمجھ لینا چاہیے کہ دعوت کے کام میں اتنی محنت کوشش کیوں کر رہے ہیں (لیکن وہ تو دنیا داری کے نشہ میں سمجھداری کو پاس آنے ہی نہیں دیتے اور برابر اعراض کیے جا رہے ہیں) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–52
بشارت اہل ایمان وتقوی بنعماء جنت وتذلیل وتوہین کفار ومشرکین درروز آخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان للمتقین عندربھم .......... الی ........ الاذکر للعلمین “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں ان منکرین ومکذبین کا ذکر تھا جو دولت کے نشہ میں مست ہو کر اللہ کی نافرمانی پر کمر بستہ ہوئے رسول خدا ﷺ کی توہین وتذلیل کی تو انکی نافرمانی اور غرور کا انجام ہلاکت ایک تاریخی واقعہ کی شکل میں بیان فرمایا گیا اب ان آیات میں اہل تقوی و ایمان کا اعزاز واکرام اور جنت میں حق تعالیٰ شانہ ان کو کیسی کیسی نعمتوں سے نوازے گا بیان فرمایا جارہا ہے پھر اسی کے ساتھ تنبیہ کے طور پر مجرمین ومنکرین کا قیامت کے روز کیسا برا انجام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
22:۔” ام تسئلہم “ یہ معاندین کیوں نہیں مانتے، کیا آپ تبلیغ و ارشاد پر ان سے کوئی معاوضہ طلب کرتے اور وہ اس تاوان کو بوجھ سمجھ کر آپ سے اعراض کرتے ہیں ؟ استفہام انکاری ہے یعنی ایسا نہیں ہے۔ آپ ان سے کسی معاوضہ یا مالی تعاون کا مطالبہ نہیں کرتے، تو پھر ان کے انکار وجحود کی کیا وجہ ہے ؟ ” ام عندھم الغیب “ یا ان کے پاس غیب سے علم آتا ہے جس میں یہ لکھا ہے کہ ان کے معبود برکات دہندہ ہیں جسے وہ لکھ لیتے ہیں اور پھر اس کے مطابق من مانی باتیں کرتے رہتے ہیں اور اس کی وجہ سے آپ کے علم سے بےنیاز ہیں اور اسی لیے آپ کو نہیں مانتے ؟ استفہام انکاری ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہے۔ (ام عندھم الغیب فھم یکتبون) مایحکمون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–47
گذشتہ سے پیوستہ (ربطہ) :
پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفر و شرک کرنے والوں کا رد فرمایا ۔ کافروں کے اس خیال کی تردید فرمائی جس کے مطابق وہ کہتے تھے کہ چونکہ ہم دنیا میں برتر ہیں لہٰذا آگے بھی ہم ہی برتر ہونگے فرمایا کہ فرمانبردار اور مجرم کیسے ہو سکتے ہیں ۔ یہ بات عقل اور نقل دونوں کے خلاف ہے۔ پھر مطالبہ کیا کہ تمہارے پا س کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہے تو پیش کرو۔ دنیا کا کوئی عقلمند اس بات کو تسلیم نہیں کرے گا کہ مجرم اور فرمانبردار ایک جیسے ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے متقیوں کے لیے مقرر کردہ نعمتوں اور ان کی کامیابی کا حال بیان کیا ۔
عبادت کا اثر اسکی صحت پر منحصر ہے :
ان آیتوں میں شرک اور…
Read the full tafseer →اَمْ تَسْــَٔــلُہُمْ اَجْرًا فَہُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَ 46 ۚ
أَمْ»حرف
إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه :
أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ } ( سورة ص 63) ( یا) ہماری آنکھیں ان ( کی طرف ) سے پھر گئی ہیں ۔
سأل
السُّؤَالُ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–47
ترکیب : یوم منصوب امابقولہ فلیاتوا واما باذکر ویدعون معطوف علی یکشف۔ فلایستطیعون جواب یوم یکشف خاشعۃ بالنصب علی انھا حال من ضمیر یدعون ابصارھم مرفوع علی انہ فاعل خاشعۃ ونسبۃ الخشوع الی الابصار بظھور اثرہ فیھا وھم سالمون الجملۃ حال من فی یدعون ومن منصوب محلا عطفا علی الضمیر المنصوب فی ذرنی۔
تفسیر : اس کے بعد قیامت کا ہولناک واقعہ بیان فرماتا ہے کہ اس روز ان کے افتراء اور خیالی ڈھکوسلوں کا یہ نتیجہ ہوگا۔ فقال یوم یکشف عن ساق ویدعون الی السجود فلایستطیعون کہ جس دن پردہ کھل جائے گا اور وہ سجدے کے لیے بلائے جائیں گے تو سجدہ نہ کرسکیں گے۔
ساق کیا ہے : ساق کے لغوی معنی پنڈلی کے ہیں پھر کیا یہ حقیقت…
Read the full tafseer →اَمْ تَسْئَلُھُمْ اَجْرًا فَھُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْـقَلُوْنَ ۔ (القلم : 46)
(کیا آپ ان سے کوئی معاوضہ طلب کررہے ہیں کہ وہ اس چٹّی کے بوجھ تلے دبے جارہے ہیں۔ )
مخالفین کی بےحسی پر اظہارِتعجب
جس شخص کے دل میں احساس کی کوئی رمق بھی باقی ہو وہ جب یہ دیکھتا ہے کہ کوئی شخص نہایت غمگساری اور ہمدردی کے ساتھ مجھے خاص بات کی طرف دعوت دے رہا ہے اور میری زندگی کے چلن پر وہ نہایت محکم اور معقول تنقید کررہا ہے جس کا میرے پاس کوئی جواب نہیں۔ اور وہ شب و روز اس کام میں مصروف ہے اور اس کا مجھ سے یا دوسرے لوگوں سے کسی معاوضے کا طلبگار نہیں تو وہ کبھی نہ کبھی ضرور سوچتا ہے کہ آخر اس شخص کی جان ماری و سخت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
فہم القرآن
ربط کلام : کفار اور مشرکین کو انتباہ کرنے کے بعد نبی ﷺ کو تسلی رکھنے کی تلقین کی گئی ہے۔
نبی کریم ﷺ شب وروز اس فکر اور کوشش میں تھے کہ کفار اور مشرکین اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئیں اور اپنے آپ کو سیدھے راستے پر گامزن کرلیں لیکن وہ لوگ دن بدن مخالفت اور گمراہی میں آگے ہی بڑھتے جارہے تھے۔ انہیں سمجھانے اور نبی کریم ﷺ کو تسلی دینے کے لیے ارشاد ہوا کہ کیا آپ ان سے کوئی صلہ مانگتے ہیں جس وجہ سے وہ آپ کی ذات اور دعوت کو اپنے لیے بوجھ سمجھتے ہیں یا پھر ان کے پاس غیب کا علم ہے جس سے یہ اپنے مستقبل کے بارے میں آگاہ ہیں ؟ ان سے الجھنے کی بجائے آپ اپنے رب کے حکم کا انتظار کریں اور مچھلی والے…
Read the full tafseer →46 : امْ تَسْئَلُھُمْ ( کیا آپ ان سے مانگتے ہیں) تبلیغ رسالت پر اَجْرًا فَہُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ (کوئی معاوضہ کہ وہ اس تاوان سے) مُّثْقَلُوْنَ (بوجھل ہوئے جاتے ہیں) پس اس وجہ سے ایمان قبول نہیں کرتے یہ استفہام نفی کے معنی میں ہے۔ آپ وحی کی تبلیغ پر ان سے اجر کی ذرہ بھر طمع نہیں رکھتے کہ جس کی وجہ سے ان کو گرانی ہوئی ہو اور وہ اس وجہ سے ایمان سے رکتے ہیں۔ )
Read the full tafseer →45 ۔” واملی لھم ان کیدی متین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–47
42۔ 46۔ مشرکین مکہ کی اس بات کا اوپر ذکر تھا جو وہ مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ اگر مرنے کے بعد پھر جینا اور میوے کھانے کے لئے باغوں کا ملنا سچ ہے تو دنیا میں جس طرح ہم لوگ بہ نسبت ان غریب مسلمانوں کے خوشحالی سے گزران کرتے ہیں اسی طرح آخرت میں بھی ہم اچھی طرح رہیں گے ان مشرکوں کی اس بات کا جواب اللہ تعالیٰ نے اوپر کی آیتوں میں دیا تھا دوسرا جواب ان آیتوں میں یہ دیا ہے کہ اصلی کافروں کو تو آخرت میں خوشحالی کا ملنا درکنار جو لوگ ظاہر میں اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دین کا پورا یقین نہیں ہے اور اس ادھورے یقین کے سبب سے وہ جو کچھ کرتے ہیں وہ محض دنیا کے دکھاوے کے لئے…
Read the full tafseer →(ام تسئلھم اجرا فھم من مغرم مثقلون) ۔ ان کے آپ سے دوربھاگنے اور آپ کی تصدیق نہ کرنے کا کوئی سبب نہیں جو اس کا موجب ہو کیونکہ آپ تو ان کے مال میں سے کوئی تاوان لیے بغیر، جو ان پر بوجھ ہو، محض ان کے مصالح کی خاطر ان کو تعلیم دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–52
قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔
ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
41 منکرین کی بےفکری اور لاپرواہی پر اظہار تعجب : سو منکرین و مکذبین کی بےفکری اور لاپرواہی پر اظہار تعجب کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے جس کو یہ لکھ لیتے ہوں ؟ اور اس کی بناء پر یہ آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کی پیش کردہ فرمودہ وحی پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں سمجھتے ‘ اور آپ ﷺ سے اور اس قرآن حکیم سے یہ اعراض اور لاپرواہی برتتے ہیں ‘ ظاہر ہے کہ اس کا بھی کوئی امکان نہیں تو کوئی بھی ایسی وجہ موجود نہیں جو ان کے اس کفر و انکار اور اعراض و استکبار کیلئے وجہ جواز بن سکے ‘ بجز ان کی غفلت و لاپرواہی اور عناد و ہٹ دھرمی کے والعیاذ باللہ العظیم۔ اس میں ابھی ان کے اعراض و روگردانی پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–52
کفار کی خوش فہمیاں، نبی ﷺ کو صبر کی تلقین
تشریح : پچھلی آیات میں مسلمان اور کافر کی سزا و جزا کو علیحدہ علیحدہ کر کے بتا دیا گیا ہے کہ یہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ کیونکہ ہم یعنی کفار مکہ کے سردار دنیا میں امیر کبیر ہیں تو اس لیے ہیں کہ ہم سے اللہ خوش ہے تو اس نے ہمیں یہ تمام نعمتیں دے رکھی ہیں اس لیے آخرت اگر آئی تو وہاں بھی ہمیں کسی تحریر میں رب العزت نے ان سے اس بات کا وعدہ کر رکھا ہے کہ ان کو تو انعام و اکرام دئیے جائیں گے اور مسلمان کیونکہ یہاں اس دنیا میں کچھ کم حیثیت ہیں اس لیے آخرت میں بھی ان کو کچھ نہیں ملے گا۔ کچھ ہی دیر کی بات ہے بہت جلد سب کچھ سامنے آنے والا ہے (جب ساق کھول دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–52
آیات 34 تا 52۔
اسرار ومعارف۔
اور جو لوگ عظمت الٰہی کا اقرار کرلیتے ہیں ان کی خاطر تو ان کے پروردگار نے جنت کی نعمتیں سجارکھی ہیں جو لوگ اطاعت گزار اور حکم بجالانے والے ہیں بھلامجرم ان کی برابری کس طرح کرسکتے ہیں کہ تم اے کفار برائی پہ اچھے نتیجے کی امید رکھتے ہو تمہاری یہ رائے قطعی غلط ہے کیا اس کے لیے تمہارے پاس کوئی نقلی دلیل ہے عقلا تو ویسے محال ہے تو کیا کسی آسمانی کتاب میں تمہیں یہ حق دیا گیا ہے کہ اپنے لیے بہتری چن لو یا اللہ نے قیامت تک کوئی قسم کھارکھی ہے کہ تم جو مانگو ملے گا بھلا تمہارے پاس ایسی باتوں کی کیا ضمانعت ہے ؟ یا کوئی اور ہستی ایسی ہے جو اللہ کی شریک ہے اس نے تمہیں وعدہ دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
ف 2 یعنی ایسا ہرگز نہیں ہے۔
Read the full tafseer →(68:46) ام تسئلہم اجرا : ام حرف عطف ، کیا۔ یا ام منقطعۃ بمعنی بل : ای بل تسئلہم : تسئل مضارع واحد مذکر ، سئوال (باب فتح) مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ تو ان سے سوال کرتا ہے۔ تو ان سے مانگتا ہے۔ اجرا : اجرت، معاوضہ (تبلیغ احکام الٰہی کے لئے) ۔
فھم من مغرم مثقلون :عاطفہ سببیہ۔ مغرم اسم مصدر مجرور ، تاوان۔ الغرم مفت کا تاوان یا جرمانہ، وہ مالی نقصان جو کسی قسم کی خیانت یا جرم کا ارتکاب کئے بغیر انسان کو اٹھانا پڑے۔ مثقلون : اثقال (افعال) مصدر سے اسم مفعول جمع مذکر۔
کہ بدیں سبب وہ تاوان کے بوجھ کے نیچے دبے جا رہے ہیں۔ نیز ملاحظہ ہو 52:40 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
لغات القرآن۔
یکشف۔ کھول دیا جائے گا۔ ساق۔ پنڈلی۔ یدعون۔ وہ بلائے جائیں گے۔ خاشعۃ۔ جھکنے والی۔ ترھق۔ وہ ڈھانپ لیتی ہے۔ سالمون۔ صحیح سالم۔ ہٹے کٹے۔ ذرنی۔ مجھے چھوڑو۔ نستدرج۔ ہم آہستہ آہستہ لئے جاتے ہیں۔ املی۔ میں نے مہلت دی۔ کیدی۔ میری تدبیر۔ مغرم۔ تاوان۔ مثقلون۔ بوجھ کے نیچے دبے ہوئے۔ صاحب الحوت۔ مچھلی والا (حضرت یونس (علیہ السلام) ) ۔ مکظوم۔ غم میں گھونٹ دیا گیا۔ العرائ۔ چٹیل میدان۔ یزلقون۔ وہ جگہ سے ہٹے ہیں۔ پھسل جاتے ہیں۔
تشریح : جب کفار و مشرکین اور منافقین کے سامنے رسول اللہ ﷺ کلام اللہ کو پیش کرتے تو وہی مکہ کے لوگ جو ان کو صادق و امین کہتے اور ان کی فہم و فراست کے گن گایا کرتے تھے آپ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
(ف 2) یعنی افسوس اور تعجب کا مقام ہے کہ یہ لوگ اسی طرح تباہی کی طرف چلے جارہے ہیں لیکن آپ کی بات نہیں مانتے آخرنہ ماننے کی وجہ کیا ہے کہ آپ ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتے ہیں جس کے بوجھ میں وہ دبے جارہے ہیں یا خود ان کے پاس غیب کی خبریں اور اللہ کی وحی آتی ہے جسے وہ حفاظت کے لیے قران کی طرح لکھ لیتے ہیں اس لیے آپ کے اتباع کی ضرورت نہیں سمجھتے آخر کچھ سبب تو ہونا چاہیے جب ان پر کچھ بار بھی ڈالا نہیں جاتا، اور اس چیز سے استغناء بھی نہیں تو نہ ماننے کا سبب بجز عناد اور ہٹ دھرمی کے اور کیا ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
[12] یعنی ان مکذبین قرآن کا معاملہ ہمارے اوپر چھوڑ دو ۔ ان سے نمٹنا ہمارا کام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
ف 2: امرتسئلھم کا تعلق آیات ماسبق سے ہے ۔ مقصود یہ دریافت کرتا ہے کہ یہ لوگ ایمان کی نعمت سے آخر محروم کیوں ہیں ۔ آخر جب یہ بات طے ہے ۔ کہ اسلام انسانیت کے لئے آخری پیغام ہے ۔ اس میں تمام روحانی اور مادی مشکلات کا حل ہے ۔ اس میں نجات وسعادت ہے ۔ فلاں دارین ہے ۔ بالیدگی اور ارتقاء ہے ۔ اور جب یہ مسلم ہے ۔ کہ اس نے محض اپنی تعلیمات کی صداقت کی وجہ سے اتنی بڑی کامیابی حاصل کی ہے ۔ کہ انسانوں کو پشتی اور فیض سے اٹھایا ہے ۔ اور انتہائی بلندیوں تک اچھال دیا ہے ۔ عربوں کو جو جرائم پیش اقوام میں سے تھے تعلیم روحانیت واخلاق کا ناپیدار بنادیا ہے ۔ اور دیکھتے دیکھتے علم وصنعت کے ایک عالم نو کی بنیاد…
Read the full tafseer →(46) کیا آپ ان قرآن کی تبلیغ پر کچھ مزدور اور اجرت طلب کرتے ہیں جس کے تاوان سے یہ دبے جاتے ہیں۔ یعنی آپ کوئی ان سے ایسا مطالبہ کرتے ہیں جس سے یہ بوجھل اور گراں بار ہوتے ہیں اور اس کی وجہ سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر استفادہ نہیں کرتے اور آپ اور آق سے مستغنی اور بےپروا رہتے ہیں مغرم اس غرامہ مالی کو کہتے ہیں جو بغیر کسی خیانت اور خطا کے وصول کیا جائے جس کو ہمارے ہاں تاوان اور چٹی جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–47
ف 4۔ دنیا میں امتثال امر نہ کرنے سے آج ان کو یہ رسوائی و ذلت ہوئی۔
Read the full tafseer →کیا آپ ﷺ ان سے کچھ اجر چاہتے ہیں کہ وہ اس تاوان کے بوجھ میں دبے جاتے ہیں
46 ؎ اے پیغمبر اسلام ! اور اے مخاطب ! کیا آپ ﷺ نے ان سے کوئی اجر طلب کیا ہے کہ یہ لوگ اس بوجھ کے نیچے دب کر رہ گئے ہیں ؟ دراصل یہ ان لوگوں کے کردار پر تعجب کا اظہار کیا جا رہا ہے اور ان کو ایک طرح کی ملامت بھی کی جا رہی ہے کہ آخر وجہ کیا ہے کہ ایک آدمی اتنی خیر خواہی کا مظاہرہ کرتا ہے اور کسی کو سمجھانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا لیکن یہ لوگ ہیں کہ ٹس سے مس نہیں ہوتے اور ان کو اس بات کی ذرا پر دا نہیں ہے کہ کم از کم یہ ذہن میں اس کا احترام ہی رکھتے۔ گویا ان کے اخلاق و کردار کا بالکل ہی جنازہ نکل چکا ہے تو آپ ﷺ کو تسلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
فَذَرْنِي وَمَن يُكَذِّبُ بِهَـٰذَا الْحَدِيثِ (So, leave Me alone with those who reject this discourse. We will draw them on little by little (towards Hell) from a way they do not know.... 68:44). Here the phrase 'So, leave me alone' in the original Arabic is an idiomatic expression which signifies 'Rely on Allah'. The disbelievers often demanded Divine punishment arguing that if they are really guilty in the sight of Allah, and if He has the power to punish, then why the punishment does not befall them forthwith. These were heart-rending demands on account of which the thought probably…
Read the full tafseer →29 The question apparently is being asked of the Holy Prophet (upon whom be peace) , but its real audience are the people, who were crossing all limits in their opposition to him. They are being asked: "is Our Messenger asking you for a reward which makes you feel so upset? You yourself know that he is absolutely selfless in his invitation and is exerting himself only for your own benefit and well-being. If you do not want to believe in what he says, you may not, but why are you feeling so enraged at his this invitation to you? (For further explanation, see E.N. 31 of Surah At-Tur) .
Read the full tafseer →