Al-Qalam 68:43

Al-Qalam · from ayah 43

68:43

خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ؕ— وَقَدْ كَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُوْدِ وَهُمْ سٰلِمُوْنَ ۟خَاشِعَةً اَبۡصَارُهُمۡ تَرۡهَقُهُمۡ ذِلَّةٌ ؕ وَقَدۡ كَانُوۡا يُدۡعَوۡنَ اِلَى السُّجُوۡدِ وَهُمۡ سٰلِمُوۡنَ

ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ان پر ذلت چھا رہی ہوگی حالانکہ پہلے (اُس وقت) سجدے کے لئے بلاتے جاتے تھے جب کہ صحیح وسالم تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Their eyes humbled, humiliation will cover them. And they used to be invited to prostration while they were sound.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qalam

All translations of 68:43

اِن کی نگاہیں نیچی ہوں گی، ذلت اِن پر چھا رہی ہوگی یہ جب صحیح و سالم تھے اُس وقت اِنہیں سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا (اور یہ انکار کرتے تھے)

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ان پر ذلت چھا رہی ہوگی حالانکہ پہلے (اُس وقت) سجدے کے لئے بلاتے جاتے تھے جب کہ صحیح وسالم تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

نگاہیں نیچی ہوں گی اور ان پر ذلت و خواری چھارہی ہوگی، حاﻻنکہ یہ سجدے کے لیے (اس وقت بھی) بلائے جاتے تھے جب کہ صحیح سالم تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی، ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی۔ اس وقت بھی انہیں سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا جب یہ لوگ صحیح سالم تھے (اس وقت قدرت کے باوجود یہ انکار کرتے تھے)

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

نیچی نگاہیں کیے ہوئے ان پر خواری چڑھ رہی ہوگی، اور بیشک دنیا میں سجدہ کے لیے بلائے جاتے تھے جب تندرست تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ان کی آنکھیں (ہیبت اور ندامت کے باعث) جھکی ہوئی ہوں گی (اور) ان پر ذِلت چھا رہی ہوگی، حالانکہ وہ (دنیا میں بھی) سجدہ کے لئے بلائے جاتے تھے جبکہ وہ تندرست تھے (مگر پھر بھی سجدہ کے اِنکاری تھے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان کی نگاہیں نیچی ہوں گی، ذلت انھیں گھیرے ہوئے ہوگی، حالانکہ انھیں سجدے کی طرف بلایا جاتا تھا، جب کہ وہ صحیح سالم تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی اور ان پر ذلت چھا رہی ہوگی۔ وہ (دنیا میں) سجدہ کی طرف بلائے جاتے تھے اور اس وقت تو وہ صحیح سالم تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی۔ ان پر ذلت طاری ہوگی اور یہ سجدے کے لیے اس وقت بھی بلائے جاتے تھے جب ہ صحیح سالم تھے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اور اس روز ان کا حال یہ ہوگا کہ) جھکی ہوئی ہوں گی ان کی نگاہیں اور چھا رہی ہوگی ان پر ذلت (و رسوائی) اور (یہ اس لئے کہ دنیا میں) ان کو سجدے کے لئے بلایا جاتا تھا (مگر یہ انکار کرتے تھے) جب کہ یہ صحیح وسالم ہوتے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

ان کی آنکھیں جھکی ہوں گی اور ان پر ذلت چھائی ہوگی اور یہ لوگ سجدہ کی طرف بلائے جاتے تھے اس حال میں کہ وہ صحیح سالم تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ان کی نگاہیں زمین پر گڑی رہ جائیں گی ان (کے چہروں) پر ذلت چھا رہی ہوگی۔ اور ان کو (دنیا میں) پکارا جاتا تھا سجدے کے لیے جبکہ یہ صحیح سالم تھے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ان پر ذلت چھا رہی ہوگی حالانکہ پہلے سجدے کے لیے بلائے جاتے تھے جب کہ صحیح سالم تھے

— محترمہ رفعت اعجاز

Their eyes shall be downcast and ignominy shall overwhelm them. For when they were safe and sound, they were summoned to prostrate themselves, (and they refused).

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

With their eyes downcast, they will be enveloped by ignominy. They used to be called upon to prostrate when they were healthy (but they did not.)

— Muhammad Taqi Usmani

With their eyes downcast, they will be enveloped by ignominy. They used to be called upon to prostrate when they were healthy (but they did not.)

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Their eyes will be cast down and ignominy will cover them; they used to be called to prostrate themselves, while they were.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

With eyes downcast, abasement stupefying them. And they had been summoned to prostrate themselves while they were yet unhurt.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Their eyes humbled, humiliation will cover them. And they used to be invited to prostration while they were sound.

— Saheeh International

Their eyes will be lowered and disgrace will cover them. They had certainly been told to prostrate themselves before God when they were safe and sound.

— Muhammad Sarwar

Their looks cast down, abasement shall overtake them; and they were called upon to make obeisance indeed while yet they were safe.

— Muhammad Habib Shakir

Downcast will be their looks; abjectness will overspread them. Surely they had been called upon to Prostrate themselves while yet they were whole.

— Abdul Majid Daryabadi

Their eyes will be cast down,- ignominy will cover them; seeing that they had been summoned aforetime to bow in adoration, while they were whole, (and had refused).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 68:43

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 42–47

سجدہ اس وقت منافقوں کے بس میں نہیں ہوگا اوپر چونکہ بیان ہوا تھا کہ پرہیزگار لوگوں کے لئے نعمتوں والی جنتیں ہیں اسلئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ یہ جنتیں انہیں کب ملیں گی ؟ تو فرمایا کہ اس دن جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی۔ یعنی قیامت کے دن جو دن بڑی ہولناکیوں والا زلزلوں والا امتحان والا اور آزمائش والا اور بڑے بڑے اہم امور کے ظاہر ہونے کا دن ہوگا۔ صحیح بخاری شریف میں اس جگہ حضرت ابو سعید خدری ؓ کی یہ حدیث ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا فرماتے تھے ہمارا رب اپنی پنڈلی کھول دے گا پس ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت سجدے میں گرپڑے گی ہاں دنیا میں جو لوگ دکھاوے سناوے کے لئے سجدہ کرتے تھے وہ بھی سجدہ کرنا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْقَلَم 25 اس کے معنی یہ ہیں کہ قیامت کے روز علی الاعلان اس بات کا مظاہرہ کرایا جائے گا کہ دنیا میں کون اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا تھا اور کون اس سے منحرف تھا۔ اس غرض کے لیے لوگوں کو بلایا جائے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ بجا لائیں۔ جو لوگ دنیا میں عبادت گزار تھے وہ سجدہ ریز ہوجائیں گے۔ اور جن لوگوں نے دنیا میں اللہ کے آگے سر نیاز جھکانے سے انکار کردیا تھا ان کی کمر تختہ ہوجائے گی۔ ان کے لیے یہ ممکن نہ ہوگا کہ وہاں عبادت گزار ہونے کا جھوٹا مظاہرہ کرسکیں۔ اس لیے وہ ذلت اور پیشمانی کے ساتھ کھڑے کے کھڑے رہ جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 35–43

قرآن کریم کے اس لفظ نے اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِيْنَ كَالْمُجْرِمِيْنَ ، اس حقیقت کو واضح کردیا کہ عقلاً یہ ہونا ضروری ہے کہ کوئی ایسا وقت آئے جہاں سب کا حساب ہو اور جہاں مجرموں کے لئے کوئی چور دروازہ نہ ہو اور جہاں انصاف ہی انصاف ہو اور نیک و بد کا کھل کر امتیاز واضح ہو اور اگر یہ نہیں ہے تو دنیا میں کوئی برا کام برا نہیں اور کوئی جرم جرم نہیں اور پھر خدائی عدل و انصاف کے کوئی معنے نہیں رہتے۔ اور جب قیامت آنا اور اعمال کی جزاء و سزا ہونا یقینی ہوگیا تو آگے کچھ اہواں قیامت اور مجرمین کی سزا کا ذکر کیا گیا ہے جس میں قیامت کے دن کشف ساق کا اعجاز بیان ہوا ہے اس کی حقیقت خلاصہ تفسیر میں آ چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 42–43

’کَشْف ساق‘ کا مفہوم: ’کَشْف ساق‘ شدت امر کی تعبیر کے لیے عربی زبان کا معروف محاورہ ہے۔ شعرائے جاہلیت نے مختلف طریقوں سے اس کو استعمال کیا ہے۔ حاتم کا مشہور شعر ہے: اخوا لحرب ان عضّت بہ الحرب عضّھا وان شمرت عن ساقہا الحرب شمرا (ممدوح جنگ کا مرد میدان ہے۔ اگر جنگ اس پر حملہ آور ہوتی ہے تو وہ بھی اس سے نبر آزما ہوتا ہے۔ اور اگر گھمسان کا رن پڑتا ہے تو وہ بھی اس میں بے خطر کود پڑتا ہے)۔ اس شعر میں گھمسان کے رن کے لیے ’شمرت عن ساقھا الحرب‘ کا محاورہ استعمال کیا ہے۔ شدت امر کی تعبیر کے لیے اس محاورے کے وجود میں آنے کی وجہ یہ ہوئی کہ جب کوئی بری ہلچل برپا ہوتی ہے تو اس وقت کنواریاں اور شریف زادیاں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

43۔ 1 یعنی دنیا کے برعکس ان کا معاملہ ہوگا دنیا میں تکبر وعناد کی وجہ سے ان کی گردنیں اکڑی ہوتی تھیں۔ 43۔ 2 یعنی صحت مند اور توانا تھے، اللہ کی عبادت میں کوئی چیز ان کے لئے مانع نہیں تھی۔ لیکن دنیا میں اللہ کی عبادت سے یہ دور رہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 42–47

14: ساق پنڈلی کو کہتے ہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں بعض حضرات نے تو یہ فرمایا ہے کہ پنڈلی کا کھل جانا عربی میں ایک محاورہ ہے جو بہت سخت مصیبت پیش آجانے کے لیے بولا جاتا ہے، لہذا مطلب یہ ہے کہ جب قیامت کی سخت مصیبت پیش آجائے گی تو ان کافروں کا یہ حال ہوگا۔ اور بہت سے مفسرین نے اس کا مطلب یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھول دیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی پنڈلی انسانوں کی پنڈلی کی طرح نہیں ہے، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ایک خاص صفت ہے جس کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ بہر حال ! مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی وہ صفت ظاہر فرمائیں گے، اور لوگوں کو سجدے کے لیے بلایا جائے گا، مگر یہ کافر لوگ اس وقت سجدے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

خاشعة ............ ذلة (86 : 34) ” ان کی نگاہیں نیچی ہوں گی ، رات ان پر چھائی ہوئی ہوگی “۔ یہ متکبر اور اپنے آپ کو بہت بڑی چیز سمجھنے والے اس دن یوں ہوں گے۔ نیچی نظر اور ذلیل حالت یہ دو حالتیں ان کی بداعمالیوں کا بدلہ ہیں۔ سورت کے آغاز میں جو ڈراوا آیا تھا کہ اس کی سونڈ پر ہم داغ لگائیں گے یہاں اس کی طرف اشارہ ہے کہ یہ گہری ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں گے اور ذلیل و خوار ہوں گے۔ یہ ایسے حالات میں ہیں شکستہ دریختہ کہ ان کو ڈرایا دلایا جاتا ہے کہ اس حالت تک وہ کس وجہ سے پہنچے ، کیونکہ یہ لوگ حق سے منہ موڑتے تھے اور تکبر کرتے تھے۔ اور جب صحیح سالم تھے اور ان کو سجدوں کے لئے بلایا جاتا تھا ، تو یہ تکبر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی ندامت اور شرمندگی کے مارے آنکھ اوپر نہ اٹھ سکے گی۔ 6 یعنی دنیا میں سجدہ کا حکم دیا گیا تھا جس وقت اچھے خاصے تندرست تھے اور باختیار خود سجدہ کرسکتے تھے وہاں کبھی اخلاص سے سجدہ نہ کیا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ استعداد ہی باطل ہوگئی۔ اب چاہیں بھی تو سجدہ نہیں کرسکتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 43{ خَاشِعَۃً اَبْصَارُہُمْ } ”ان کی نگاہیں زمین پر گڑی رہ جائیں گی“ { تَرْہَقُہُمْ ذِلَّـــۃٌط } ”ان کے چہروں پر ذلت چھا رہی ہوگی۔“ { وَقَدْ کَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُوْدِ وَہُمْ سٰلِمُوْنَ۔ } ”اور ان کو دنیا میں پکارا جاتا تھا سجدے کے لیے جبکہ یہ صحیح سالم تھے۔“ دنیا میں وہ لوگ اذان کی آواز پر کبھی توجہ ہی نہیں کرتے تھے اور کوئی مجبوری و معذوری نہ ہونے کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز نہیں ہوتے تھے۔ قیامت کے دن میدانِ حشر میں وہ سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن نہیں کرسکیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 42–43

19 اللہ کی پنڈلی کا ذکر :۔ آیت نمبر 42 اور 43 کی تفسیر کے لئے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے : سیدنا ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : قیامت کے دن پروردگار اپنی پنڈلی کھولے گا تو ہر مومن مرد اور مومن عورت سجدہ میں گرپڑیں گے۔ صرف وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو لوگوں کو دکھلانے یا سنانے کے لئے سجدہ کیا کرتے تھے۔ وہ سجدہ تو کرنا چاہیں گے لیکن ان کی پشت اکڑ کر ایک تختہ کی طرح ہوجائے گی (بخاری۔ کتاب التفسیر) بعض علماء نے (يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ 42؀ۙ ) 68 ۔ القلم :42) کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ : جس دن حقائق سے پردہ اٹھا دیا جائے گا اگر یہ اہل عرب کا محاورہ ہو تب بھی ہم ارشاد نبوی کے مقابلہ میں ایسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

25۔ (اور اس وقت سجدہ سے انکار رکھتے تھے) (آیت) ” خاشعۃ ابصارھم “۔ یہ آنکھوں کا جھکا ہونا انتہائے شرم وندامت و حسرت سے ہوگا۔ قرآن مجید میں ذکر کبھی نگاہوں کے اٹھے رہنے کا بھی آیا ہے۔ اور یہ دونوں بیانات باہم متناقض نہیں، حشر میں شدید ہولناکی کے تو مختلف احوال پیدا ہوں گے، اور انہیں کے لحاظ سے اہل دوزخ کے تاثرات بھی ادلتے بدلتے رہیں گے، کبھی غلبہ انتہائی ندامت کا ہوگا، اس وقت نظریں نیچی ہو کر زمین پر گڑ جائیں گی، کبھی غلبہ حیرت وستعجاب کا ہوگا اس وقت نظریں اوپر کو اٹھ جائیں گی، (آیت) ” وقد کانوا ..... سلمون “۔ یعنی دنیا میں جب انہیں پوری طرح قدرت حاصل تھی، اس وقت تو حکم کی تعمیل سے دانستہ گریز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

خاشعۃ ابصارھم یعنی دنیا میں تو ان کی گردنیں اکڑی رہتی تھیں اور سینے تنے رہتے تھے، آخرت میں دنیا کے برعکس معاملہ ہوگا کہ ندامت و شرمندگی کی وجہ سے ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ان پر ذلت و خواری چھائی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

خاشعۃ ابصارھم . (حقیقت میں) خشوع (عاجزی ‘ پستی) ان لوگوں کی صفت ہے جو صاحب بصر (و نظر) ہوں لیکن خشوع کا ظہور چونکہ نظر میں ہوگا اس لئے مجازاً ابصار کی طرف نسبت کردی گئی۔ ترھقھم ذلۃٌ . ان کو ذلت لاحق ہوگی۔ وقد کانوا یدعون الی السجود . دنیا میں ان کو سجدہ کرنے کی دعوت دی جاتی تھی مگر اللہ کے حکم کے مطابق خلوص کے ساتھ وہ سجدہ نہیں کرتے تھے۔ وھم سالمون . اس وقت تو وہ سالم تھے ‘ ان کی پشت سپاٹ تختہ نہ تھی۔ (جھک سکتے تھے مگر سجدہ نہ کرتے تھے) وقد کانوا سے سالمون تک آخرت میں سجدہ نہ کرسکنے کی وجہ بیان کی ہے۔ وھم سالمون میں دوسرے یدعون کے فاعل کی حالت کا اظہار ہے اور خاشعۃ ابصارھم ترھقھم ذلۃ وقد…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور ان کی آنکھیں جھکی ہوں گی بھلائی کو نہیں دیکھ سکیں گے اور ان پر ذلت اور پسماندگی چھائی ہوگی یعنی ان کی صورتیں سیاہ ہوں گی۔ اور وجہ اس کی یہ ہے کہ ان لوگوں کو دنیا میں توحید خداوندی کے سامنے جھکنے کے لیے بلایا جایا کرتا تھا مگر ان لوگوں نے توحید خدا ودی کو اختیار نہیں کیا حالانکہ یہ صحیح وسالم تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وقد کانوا یدعون الی السجود وھم سلمون : گویا آخرت میں ان کی پیٹھ کا تختہ بن جانا اور ان کا سجدے کے قابل نہ رہنا اس بات کی سزا ہے کہ انہوں نے دنیا میں صحیح سالم ہوتے ہوئے ایک اللہ کو سجدہ کرنے کی دعوت قبول نہ کی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 42–43

یوم یکشف عن ساق یہ جائز ہے کہ یوم میں عامل فلیاتوا ہو۔ انہیں چاہئے کہ اپنے شریک بلا لیں جس روز پنڈلی سے کپڑا اٹھایا جائے گا تاکہ شرکاء ان کے حق میں سفارش کریں۔ یہ بھی جائز ہے کہ ایک فعل مضمر کے ساتھ یوم کو صنب دی جائے تقدیر کلام یہ ہوگی اذکر یوم یکشف عن ساق اس صورت میں صدقین پر عطف ہوگا پہلی تقدیر کی صورت میں اس پر وقف نہیں ہوگا، اسے یوم نکشف بھی پڑھا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس نے یوم تکشف عن ساق پڑھا ہے اس صورت میں فعل معروف ہوگا۔ تکشف الشدۃ او لقیامۃ عن ساقھا جس طرح عربوں کا قول ہے شمرت الحرب عن ساقھا جنگ نے پنڈلی سے پردہ ہٹا لیا یعنی جنگ سخت ہوگئی۔ شاعر نے کہا : فتی الحرب ان عضت بہ احلرب عضھا و…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 43–47

23۔ ابن مردویہ نے کعب الحبر (رح) سے روایت کیا کہ اس ذات کی قسم ! جس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات اتاری اور انجیل عیسیٰ (علیہ السلام) پر اور زبور داوٗد (علیہ السلام) اور فرقان محمد ﷺ پر اتاری۔ کہ یہ آیات فرض نمازوں کے بارے میں اتاری گئیں۔ جب ان کے ساتھ آواز لگائی جاتی ہے۔ اور آیت یوم یکشف عن ساق۔ سے لے کر آیت وقد کانوا یدعون الی السجود وہم سلمون تک سے مراد ہے پانچوں نمازیں ہیں جب ان کے ساتھ اذان دی جاتی ہے۔ 24۔ بیہقی نے شعب الایمان میں سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقد کانوا یدعون الی السجود سے مراد ہے وہ نمازیں جو جماعت کے ساتھ پڑھی جائیں۔ 25۔ بیہقی نے ابن عباس ؓ سے آیت وقدکانوا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ : جھکی پڑیں گی ان کی نظریں ][ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ۭ: چھا جائے گی ان پر ذلت ][ وَقَدْ كَانُوْا يُدْعَوْنَ : حالانکہ وہ بلائے گئے تھے ][ اِلَى السُّجُوْدِ : سجدہ کرنے کی طرف ][ وَهُمْ سٰلِمُوْنَ : اس حال میں کہ وہ صحیح سالم تھے ] (آیت۔ 43) اَبْصَارُھُمْ جمع مکسر سے اس لیے لیے خاشعۃ مؤنث کا صیغہ آیا ہے اور یہ حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 42–43

ساق کی تجلی اور منافقوں کی بری حالت ان آیات میں قیامت کے دن کے بعض مظاہر بیان فرمائے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ جب ساق کی تجلی ہوگی اور لوگوں سے کہا جائے گا کہ سجدہ کرو تو مومنین سجدہ کرلیں گے اور منافقین اور ریاکار سجدہ نہ کرسکیں گے اور ان کی کمریں تختہ ہوجائیں گی، سجدہ کرنا چاہیں گے تو گُدّی کے بل گرپڑیں گے۔ صحیح بخاری صفحہ 731 اور صفحہ 1107 اور صحیح مسلم صفحہ 100 اور صفحہ 104 پر اس کی تفسیر وارد ہوئی ہے اور ساق کی تجلی ہونا متشابہات میں سے ہے اور اس پر ایمان لانا ضروری ہے کیفیت کے سمجھنے کی فکر نہ کریں یہی اصل طریقہ ہے، صاحب بیان القرآن لکھتے ہیں سجدہ کی طرف بلائے جانے سے یہ شبہ نہ کیا جائے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–52

بشارت اہل ایمان وتقوی بنعماء جنت وتذلیل وتوہین کفار ومشرکین درروز آخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان للمتقین عندربھم .......... الی ........ الاذکر للعلمین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں ان منکرین ومکذبین کا ذکر تھا جو دولت کے نشہ میں مست ہو کر اللہ کی نافرمانی پر کمر بستہ ہوئے رسول خدا ﷺ کی توہین وتذلیل کی تو انکی نافرمانی اور غرور کا انجام ہلاکت ایک تاریخی واقعہ کی شکل میں بیان فرمایا گیا اب ان آیات میں اہل تقوی و ایمان کا اعزاز واکرام اور جنت میں حق تعالیٰ شانہ ان کو کیسی کیسی نعمتوں سے نوازے گا بیان فرمایا جارہا ہے پھر اسی کے ساتھ تنبیہ کے طور پر مجرمین ومنکرین کا قیامت کے روز کیسا برا انجام…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 42–43

20:۔ ” یو یکشف “ یہ تخویف اخروی ہے۔ الکشف عن ساق، پنڈلی کھولنا شدت امر اور صعوبت کار سے کنایہ ہے۔ کیونکہ جب انسان کوئی کٹھن کام کرتا ہے تو پنڈلی سے تہبند سمیٹ لیتا ہے۔ قیامت کے دن جب شدت ہول اور افراتفری کا دور دورہ ہوگا اس وقت ان مشرکین سے سجدہ کرنے کو کہا جائے گا تو وہ فورا سجدہ کرنے کے لیے جھکنے کی کوشش کریں گے مگر ان کی پیٹھوں کو تختوں کی مانند سخت کردیا جائے گا اور وہ سجدہ نہیں کرسکیں گے ان کی آنکھیں جھکی ہوں گی اور ان کے چہروں پر ذلت ورسوائی کے آثار نمایاں ہوں گے۔ مومنوں کے چہرے روشن اور درخشاں ہوں گے لیکن کفار و مشرکین کے چہرے نہایت سنیاہ ہوں گے۔ دنیا میں ان کو خدائے واحد کی بارگاہ میں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 42–47

گذشتہ سے پیوستہ (ربطہ) : پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفر و شرک کرنے والوں کا رد فرمایا ۔ کافروں کے اس خیال کی تردید فرمائی جس کے مطابق وہ کہتے تھے کہ چونکہ ہم دنیا میں برتر ہیں لہٰذا آگے بھی ہم ہی برتر ہونگے فرمایا کہ فرمانبردار اور مجرم کیسے ہو سکتے ہیں ۔ یہ بات عقل اور نقل دونوں کے خلاف ہے۔ پھر مطالبہ کیا کہ تمہارے پا س کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہے تو پیش کرو۔ دنیا کا کوئی عقلمند اس بات کو تسلیم نہیں کرے گا کہ مجرم اور فرمانبردار ایک جیسے ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے متقیوں کے لیے مقرر کردہ نعمتوں اور ان کی کامیابی کا حال بیان کیا ۔ عبادت کا اثر اسکی صحت پر منحصر ہے : ان آیتوں میں شرک اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

خَاشِعَۃً اَبْصَارُہُمْ تَرْہَقُہُمْ ذِلَّۃٌ۝ 0 ۭ وَقَدْ كَانُوْا يُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَہُمْ سٰلِمُوْنَ۝ 43 خشع الخُشُوع : الضّراعة، وأكثر ما يستعمل الخشوع فيما يوجد علی الجوارح . والضّراعة أكثر ما تستعمل فيما يوجد في القلب ولذلک قيل فيما روي : روي : «إذا ضرع القلب خَشِعَتِ الجوارح» قال تعالی: وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعاً [ الإسراء/ 109] ، وقال : الَّذِينَ هُمْ فِي صَلاتِهِمْ خاشِعُونَ [ المؤمنون/ 2] ، وَكانُوا لَنا خاشِعِينَ [ الأنبیاء/ 90] ، وَخَشَعَتِ الْأَصْواتُ [ طه/ 108] ، خاشِعَةً أَبْصارُهُمْ [ القلم/ 43] ، أَبْصارُها خاشِعَةٌ [ النازعات/ 9] ، كناية عنها وتنبيها علی تزعزعها کقوله :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 42–47

ترکیب : یوم منصوب امابقولہ فلیاتوا واما باذکر ویدعون معطوف علی یکشف۔ فلایستطیعون جواب یوم یکشف خاشعۃ بالنصب علی انھا حال من ضمیر یدعون ابصارھم مرفوع علی انہ فاعل خاشعۃ ونسبۃ الخشوع الی الابصار بظھور اثرہ فیھا وھم سالمون الجملۃ حال من فی یدعون ومن منصوب محلا عطفا علی الضمیر المنصوب فی ذرنی۔ تفسیر : اس کے بعد قیامت کا ہولناک واقعہ بیان فرماتا ہے کہ اس روز ان کے افتراء اور خیالی ڈھکوسلوں کا یہ نتیجہ ہوگا۔ فقال یوم یکشف عن ساق ویدعون الی السجود فلایستطیعون کہ جس دن پردہ کھل جائے گا اور وہ سجدے کے لیے بلائے جائیں گے تو سجدہ نہ کرسکیں گے۔ ساق کیا ہے : ساق کے لغوی معنی پنڈلی کے ہیں پھر کیا یہ حقیقت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 42–43

یَوْمَ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُوْدِ فِلاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ ۔ خَاشِعَۃً اَبْصَارُھُمْ تَرْھَقُہُمْ ذِلَّـۃٌ ط وَقَدْ کَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُوْدِ وَھُمْ سٰلِمُوْنَ ۔ (القلم : 42، 43) (جس دن پنڈلی کھولی جائے گی (سخت وقت آپڑے گا) اور لوگوں کو سجدہ کرنے کے لیے بلایا جائے گا تو یہ لوگ سجدہ نہ کرسکیں گے۔ ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی، ذلت ان پر چھا رہی ہوگی اور یہ سجدے کے لیے اس وقت بھی بلائے جاتے تھے جب وہ صحیح سالم تھے۔ ) قیامت کے روز مشرکین کی رسوائی آج مشرکینِ مکہ بالخصوص اشرافِ قریش بتوں کے سامنے جھکتے اور مختلف قوتوں کے سامنے جنھیں ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 42–45

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ بدعقیدہ اور برا کردار رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو جنت کا مالک اور مسلمانوں سے بہتر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں انہیں قیامت کے دن معلوم ہوجائے گا کہ حقیقت کیا ہے۔ محشر کے میدان میں ایک مرحلہ ایسا بھی آئے گا جب لوگوں کے سامنے کافر اور مومن، مشرک اور موحِّد، بد اور نیک کے درمیان فرق ظاہر کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی سے نور کے پردے ہٹائیں گے۔ اللہ تعالیٰ جونہی اپنی پنڈلی کو جلوہ گر کریں گے تو موحّد نمازی اللہ کے حضور سربسجود ہوجائیں گے۔ موحّد نماز یوں کو سربسجود ہوتے دیکھ کر کافر، مشرک، منافق اور بےنماز بھی سجدہ کرنے کی کوشش کریں گے لیکن ان کی کمریں پتھر کی طرح سخت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

43 : خَاشِعَۃً (جھکنے والی ہونگی ) نحو : یہ یدعون کی ضمیر سے حال ہے۔ اَبْصَارُھُمْ (ان کی آنکھیں) تقدیر کلام یہ ہوگا یدعون فی حال خشوع ابصارھم آنکھوں کے جھکنے کی حالت میں ان کو بلایا جائے گا۔ تَرْھَقُھُمْ ذِلَّۃٌ(ان پر ذلت چھائی ہوگی) ان کو ذلت ڈھانپ لے گی۔ وَقَدْ کَانُوْا یُدْعَوْنَ ( اور یہ لوگ سجدہ کی طرف بلائے جایا کرتے تھے) رسولوں کی زبانوں پر اِلَی السُّجُوْدِ (دنیا میں سجدہ کی ان کو دعوت دی جاتی تھی) وَھُمْ سَالِمُوْنَ (اور وہ صحیح سالم تھے) وہ صحت مند تھے پھر وہ سجدہ نہ کرتے تھے۔ پس اسی طرح اس جگہ ان کو سجدہ سے روک دیا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

آیت یوم یکشف عن ساق کی تفسیر 42 ۔” یوم یکشف عن ساق “ کہا گیا ہے کہ یوم ظرف ہے اللہ تعالیٰ کے قول ” فلیاتوا بشر کا ئھم “ کا۔ یعنی پھر ان کو اس دن میں لائیں تاکہ ان کو نفع دیں اور ان کی سفارش کریں۔ ” یوم یکشف عن ساق “ کہا گیا ہے عن ساق، کہا گیا ہیای سے امر سے جو سخت ہولناک ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ قیامت کی سخت ترین گھڑی ہوگی۔ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں ” یوم یکشف عن ساق “ معاملہ کی سختی سے۔ ابن قتیبہ (رح) فرماتے ہیں : عرب کہتے ہیں ایسے آدمی کے لئے میں سخت وقت آجائے تو کہا جاتا ہے ” کشف الحرب بن ساق “ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں چند لوگوں نے کہا یارسول اللہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 42–47

42۔ 46۔ مشرکین مکہ کی اس بات کا اوپر ذکر تھا جو وہ مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ اگر مرنے کے بعد پھر جینا اور میوے کھانے کے لئے باغوں کا ملنا سچ ہے تو دنیا میں جس طرح ہم لوگ بہ نسبت ان غریب مسلمانوں کے خوشحالی سے گزران کرتے ہیں اسی طرح آخرت میں بھی ہم اچھی طرح رہیں گے ان مشرکوں کی اس بات کا جواب اللہ تعالیٰ نے اوپر کی آیتوں میں دیا تھا دوسرا جواب ان آیتوں میں یہ دیا ہے کہ اصلی کافروں کو تو آخرت میں خوشحالی کا ملنا درکنار جو لوگ ظاہر میں اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دین کا پورا یقین نہیں ہے اور اس ادھورے یقین کے سبب سے وہ جو کچھ کرتے ہیں وہ محض دنیا کے دکھاوے کے لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 42–45

یعنی جب قیامت کا دن ہوگا اور ایسے ایسے زلزلے اور ہولناکیاں ظاہر ہوں گی جو وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتیں، باری تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کرنے اور ان کو جزا وسزا دینے کے لیے تشریف لائے گا، پس وہ اپنی مکرم پنڈلی کو ظاہر کرے گا جس سے کوئی چیز مشابہت نہیں رکھتی، لوگ اللہ تعالیٰ کا جلال اور عظمت دیکھیں گے جس کی تعبیر ممکن نیہں۔ یہی وہ وقت ہوگا جب ان کو سجدے کے لیے کہا جائے گا مومن اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوجائیں گے جو (دنیا میں) اپنی مرضی اور اختیار سے سجدہ کیا کرتے تھے۔ منافق اور فاجر سجدہ کرنے کی کوشش کریں گے مگر وہ سجدہ کرنے پر قادر نہیں ہوں گے ان کی کمریں ایسی ہوجائیں گی جیسے گائے کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–52

قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

35 اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریزی سے محرومی سعادت دارین سے محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنا اور سجدہ ریز ہونا سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے کیونکہ دنیا میں جو لوگ اس معبود برحق کے حضور سجدہ ریز نہیں رہے ہوں گے اس روز جو اس کے حضور سجدہ کر ہی نہیں سکیں گے ‘ جس کے نتیجے میں ان کی ذلت و رسوائی سب کے سامنے آشکارا ہوجائے گی اور وہ ذلت و رسوائی کی تصویر بنے کھڑے ہوں گے چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان کی نگاہیں اس روز جھکی ہوئی ہوں گی۔ اس شرم و عار کی بناء پر جو کہ کشف حقائق اور ظہور نتائج کے اس جہاں میں اور اس موقع پر ان کو اپنے خالق ومالک اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 36–52

کفار کی خوش فہمیاں، نبی ﷺ کو صبر کی تلقین تشریح : پچھلی آیات میں مسلمان اور کافر کی سزا و جزا کو علیحدہ علیحدہ کر کے بتا دیا گیا ہے کہ یہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ کیونکہ ہم یعنی کفار مکہ کے سردار دنیا میں امیر کبیر ہیں تو اس لیے ہیں کہ ہم سے اللہ خوش ہے تو اس نے ہمیں یہ تمام نعمتیں دے رکھی ہیں اس لیے آخرت اگر آئی تو وہاں بھی ہمیں کسی تحریر میں رب العزت نے ان سے اس بات کا وعدہ کر رکھا ہے کہ ان کو تو انعام و اکرام دئیے جائیں گے اور مسلمان کیونکہ یہاں اس دنیا میں کچھ کم حیثیت ہیں اس لیے آخرت میں بھی ان کو کچھ نہیں ملے گا۔ کچھ ہی دیر کی بات ہے بہت جلد سب کچھ سامنے آنے والا ہے (جب ساق کھول دی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 34–52

آیات 34 تا 52۔ اسرار ومعارف۔ اور جو لوگ عظمت الٰہی کا اقرار کرلیتے ہیں ان کی خاطر تو ان کے پروردگار نے جنت کی نعمتیں سجارکھی ہیں جو لوگ اطاعت گزار اور حکم بجالانے والے ہیں بھلامجرم ان کی برابری کس طرح کرسکتے ہیں کہ تم اے کفار برائی پہ اچھے نتیجے کی امید رکھتے ہو تمہاری یہ رائے قطعی غلط ہے کیا اس کے لیے تمہارے پاس کوئی نقلی دلیل ہے عقلا تو ویسے محال ہے تو کیا کسی آسمانی کتاب میں تمہیں یہ حق دیا گیا ہے کہ اپنے لیے بہتری چن لو یا اللہ نے قیامت تک کوئی قسم کھارکھی ہے کہ تم جو مانگو ملے گا بھلا تمہارے پاس ایسی باتوں کی کیا ضمانعت ہے ؟ یا کوئی اور ہستی ایسی ہے جو اللہ کی شریک ہے اس نے تمہیں وعدہ دے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 گویا آخرت میں انہیں یہ سزا جائے گی کہ انہیں سجدہ کرنے کے ناقابل بنادیا جائے گا۔ کعب الاحبار کہتے ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو نماز با جماعت میں شریک نہیں ہوتے۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(68:43) خاشعۃ ابسارھم : جملہ ضمیر یدعون سے حال ہے۔ خاشعۃ ذلیل ہونے والی خوار۔ دبی جانے والی۔ خشوع (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث۔ ابصارھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ اب کی آنکھیں۔ یعنی شرم و ذلت کی وجہ سے ان کی آنکھیں جھکی جا رہی ہوں گی۔ ترھقھم ذلۃ : ترھق مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب : رھق (باب سمع) مصدر۔ بمعنی کسی چیز کا کسی چیز پر زبردستی چھا جانا اور اس کو پالینا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ان پر ذلت چھا رہی ہوگی۔ جملہ ما سبق کی طرح یہ جملہ بھی حالیہ ہے۔ وقد کانوا یدعون الی السجود وہم سالمون : کافروں اور منافقوں کے متعلق ذکر چلا آرہا ہے۔ قیامت کے روز جب شدت کرب کے ماحول میں سب کو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 42–52

لغات القرآن۔ یکشف۔ کھول دیا جائے گا۔ ساق۔ پنڈلی۔ یدعون۔ وہ بلائے جائیں گے۔ خاشعۃ۔ جھکنے والی۔ ترھق۔ وہ ڈھانپ لیتی ہے۔ سالمون۔ صحیح سالم۔ ہٹے کٹے۔ ذرنی۔ مجھے چھوڑو۔ نستدرج۔ ہم آہستہ آہستہ لئے جاتے ہیں۔ املی۔ میں نے مہلت دی۔ کیدی۔ میری تدبیر۔ مغرم۔ تاوان۔ مثقلون۔ بوجھ کے نیچے دبے ہوئے۔ صاحب الحوت۔ مچھلی والا (حضرت یونس (علیہ السلام) ) ۔ مکظوم۔ غم میں گھونٹ دیا گیا۔ العرائ۔ چٹیل میدان۔ یزلقون۔ وہ جگہ سے ہٹے ہیں۔ پھسل جاتے ہیں۔ تشریح : جب کفار و مشرکین اور منافقین کے سامنے رسول اللہ ﷺ کلام اللہ کو پیش کرتے تو وہی مکہ کے لوگ جو ان کو صادق و امین کہتے اور ان کی فہم و فراست کے گن گایا کرتے تھے آپ پر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 42–43

ساق کا ذکر۔ قیامت میں نماز نہ پڑھنے والوں کی کمر تختے کی مانند ہوجائے گی۔ (ف 1) اس کا قصہ حدیث شیخین میں مرفوعا اس طرح آیا ہے کہ حق تعالیٰ میدان قیامت میں اپنی ساق کی تجلی فرمائے گا ساق پنڈلی کو کہتے ہیں اور یہ کوئی خاص صفت یا حقیقت ہے صفات وحقائق الٰہیہ میں سے ، جس کو کسی خاص مناسبت سے ساق فرمایا جیسے قرآن میں ید (ہاتھ) اور وجہ (چہرہ) کا لفظ آیا ہے یہ مفہومات متشابہات میں سے کہلاتے ہیں اور ان پر اسی طرح بلاکیف ایمان رکھنا چاہیے جیسے اللہ کی ذات وجود، حیات اور سمیع وبصیر وغیرہ صفات پر ایمان رکھتے ہیں سلف کا یہی طریق ہے کہ وہ اسکے معنی میں کلام نہیں کرتے، اور یہ فرماتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 42–43

[11] اصل الفاظ ہیں ( يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ 42؀ۙ ) 68 ۔ القلم :42) جس کا لفظی ترجمہ ہے جس دن پنڈلی کھولی جائے گی۔ یہ ایک عربی محاورہ ہے جس سے مراد سختی اور مصیبت کا پیش آنا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 42–44

ف 1: فرمایا ۔ ان عبادت ناآشنا لوگوں کو جب اس وقت دعوت سجود دی جائے گی ۔ جب کہ قیامت کے اہوال شدتوں پر ہوں گے ۔ تو اس وقت ان کی جبشیں قطعاً نہیں جھک سکیں گی ۔ ان کی نظریں مارے شرم وندامت کے زمین بوس ہوں گی ۔ اور ان پر ذلت ومقارت چھارہی ہوگی ۔ اس وقت ان کو معلوم ہوگا ۔ کہ دنیا میں باوجود تندرستی اور صحت و توانائی کے ذوق عبادت سے محرومی کتنا بڑا جرم تھا ۔ فرمایا ۔ یہ لوگ آج ان حقائق کو جھٹلاتے ہیں ۔ مگر بتدریج غیر محسوس طریق پر یہ لوگ جہنم کی طرف لپکے ہوئے جارہے ہیں ۔ حل لغات :۔ تدرسون ۔ پڑھتے ہو زعیم ۔ ذمہ دار ، ضامن یکشف عن ساق ۔ حضرت ابن عباس سے پوچھا گیا ۔ کہ کشف عن الساق کے کیا معنے ہیں ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(43) ان کی آنکھیں نیچی ہورہی ہوں گی اور ان پر ذلت چھارہی ہوگی اس رسوائی کی وجہ یہ ہے کہ ان کو دنیا میں سجے کے لئے بلایا جاتا تھا حالانکہ اس وقت یہ توانا اور تندرست تھے۔ ساق پنڈلی کو کہتے ہیں ، حدیث میں آتا ہے۔ یکشف ربنا من ساقہ فیسجد کل مومن ومومنۃ ویبقی من کا یسجد فی الدنیا ریاء وسمعۃ، یعنی ہمارا پروردگار اپنی پنڈلی کو نمایاں کرے گا پھر ہر مومن مرد اور مومن عورت سجدہ میں گرپڑیں گے اور جو شخص دنیا میں ریاکاری اور دکھاوا کا سجدہ کیا کرتا تھا وہ باقی رہ جائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ جب منافق اور ریاکار سجدہ نہ کرسکیں گے تو کافر کس طرح کرسکیں گے ان کی کمر کی ہڈی سیدھی کردی جائے گی اور یہ جھک نہ سکیں گے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 43–47

ف 4۔ دنیا میں امتثال امر نہ کرنے سے آج ان کو یہ رسوائی و ذلت ہوئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی ، ذلت ان پر چھائی ہوگی اور سجدہ کرنے سے معذور ہوجائیں گے 43 ؎ وہ لوگ سجدہ سے کیوں محروم کردیئے گئے فرمایا یہاں تو ان کو سجدہ کا حکم دیا گیا تھا اور یہ اس حکم کی دراصل تصدیق تھی جو دنیا میں ان کو دیا گیا تھا لیکن وہاں ان کو کم از کم پانچ بار سجدہ کی دعوت دی جاتی رہی لیکن ان کے ماتھے پر جوں بھی نہ رینگی اور انہوں نے ایک بار بھی سجدہ کرنے کا ارادہ نہ کیا اور اب جب وہ دار فانی سے نکل کر دارالنتیحہ کی طرف آ چکے تو اب ان کو سجدہ کا حکم دیا گیا یہ وہ فرض اور واجب نہیں تھا یہ تو محض ایک طرح کی آزمائش تھی تاکہ سب کو معلوم ہوجائے کہ کون دنیا میں سجدہ کی طرف دوڑتا تھا اور کون…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 35–43

This verse: أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِ‌مِينَ (Otherwise, shall We make the obedient like the sinners?... 68:35). Clarifies that it is rationally necessary that there should come a time when people will have to give account of their deeds, a place where the guilty ones will find no escape routes, an ideal world where there will be absolute justice and fair play, where good and evil will be clearly distinguished. If this is not the state of affairs in the Hereafter, then no evil should be evil, and no sin should be sin in this mortal world. Divine justice would thus be rendered…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

25 It means: On the Resurrection Day it will be openly and publicly demonstrated as to who in the world had actually worshipped Allah and who was disinclined to do so. For this purpose the people will be called upon to prostrate themselves before Allah. Then, those who had been sincerely worshipping Allah in the world, would prostrate themselves, and those who had declined to bow before Him in the world, would be unable to do so. It will become impossible for them to put up a false show of being worshippers. Therefore, they will remain standing, degraded and downcast with shame.

Read the full tafseer →