Explained with ayahs 42–47
سجدہ اس وقت منافقوں کے بس میں نہیں ہوگا
اوپر چونکہ بیان ہوا تھا کہ پرہیزگار لوگوں کے لئے نعمتوں والی جنتیں ہیں اسلئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ یہ جنتیں انہیں کب ملیں گی ؟ تو فرمایا کہ اس دن جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی۔ یعنی قیامت کے دن جو دن بڑی ہولناکیوں والا زلزلوں والا امتحان والا اور آزمائش والا اور بڑے بڑے اہم امور کے ظاہر ہونے کا دن ہوگا۔ صحیح بخاری شریف میں اس جگہ حضرت ابو سعید خدری ؓ کی یہ حدیث ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا فرماتے تھے ہمارا رب اپنی پنڈلی کھول دے گا پس ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت سجدے میں گرپڑے گی ہاں دنیا میں جو لوگ دکھاوے سناوے کے لئے سجدہ کرتے تھے وہ بھی سجدہ کرنا…
Read the full tafseer →سورة الْقَلَم 24
اصل الفاظ ہیں یوم یکشف عن ساق، " جس روز پنڈلی کھولی جائے گی "۔ صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت کہتی ہے کہ یہ الفاظ محاورے کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔ عربی محاورے کے مطابق سخت وقت آ پڑنے کو کشف ساق سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے بھی اس کے یہی معنی بیان کیے ہیں اور ثبوت میں کلام عرب سے استشہاد کیا ہے۔ ایک اور قول جو ابن عباس اور ربیع بن انس سے منقول ہے اس میں کشف ساق سے مراد حقائق پر سے پردہ اٹھانا لیا گیا ہے۔ اس تاویل کی رو سے معنی یہ ہوں گے کہ جس روز تمام حقیقتیں بےنقاب ہوجائیں گی اور لوگوں کے اعمال کھل کر سامنے آجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–43
قرآن کریم کے اس لفظ نے اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِيْنَ كَالْمُجْرِمِيْنَ ، اس حقیقت کو واضح کردیا کہ عقلاً یہ ہونا ضروری ہے کہ کوئی ایسا وقت آئے جہاں سب کا حساب ہو اور جہاں مجرموں کے لئے کوئی چور دروازہ نہ ہو اور جہاں انصاف ہی انصاف ہو اور نیک و بد کا کھل کر امتیاز واضح ہو اور اگر یہ نہیں ہے تو دنیا میں کوئی برا کام برا نہیں اور کوئی جرم جرم نہیں اور پھر خدائی عدل و انصاف کے کوئی معنے نہیں رہتے۔
اور جب قیامت آنا اور اعمال کی جزاء و سزا ہونا یقینی ہوگیا تو آگے کچھ اہواں قیامت اور مجرمین کی سزا کا ذکر کیا گیا ہے جس میں قیامت کے دن کشف ساق کا اعجاز بیان ہوا ہے اس کی حقیقت خلاصہ تفسیر میں آ چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
’کَشْف ساق‘ کا مفہوم: ’کَشْف ساق‘ شدت امر کی تعبیر کے لیے عربی زبان کا معروف محاورہ ہے۔ شعرائے جاہلیت نے مختلف طریقوں سے اس کو استعمال کیا ہے۔ حاتم کا مشہور شعر ہے:
اخوا لحرب ان عضّت بہ الحرب عضّھا
وان شمرت عن ساقہا الحرب شمرا
(ممدوح جنگ کا مرد میدان ہے۔ اگر جنگ اس پر حملہ آور ہوتی ہے تو وہ بھی اس سے نبر آزما ہوتا ہے۔ اور اگر گھمسان کا رن پڑتا ہے تو وہ بھی اس میں بے خطر کود پڑتا ہے)۔
اس شعر میں گھمسان کے رن کے لیے ’شمرت عن ساقھا الحرب‘ کا محاورہ استعمال کیا ہے۔
شدت امر کی تعبیر کے لیے اس محاورے کے وجود میں آنے کی وجہ یہ ہوئی کہ جب کوئی بری ہلچل برپا ہوتی ہے تو اس وقت کنواریاں اور شریف زادیاں…
Read the full tafseer →42۔ 1 بعض نے کشف ساق سے مراد قیامت کی ہولناکیاں [ ا۔ ی ] لی ہیں لیکن ایک صحیح حدیث اس کی تفسیر اس طرح بیان ہوئی ہے کہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھولے گا (جس طرح اس کی شان کے لائق ہے) تو ہر مومن مرد اور عورت اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجائیں گے البتہ وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو دکھلاوے اور شہرت کے لئے سجدہ کرتے تھے وہ سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی ریڑھ کی ہڈی کے منکے، تختے کی طرح ایک ہڈی بن جائیں گے جس کی وجہ سے ان کے لئے جھکنا ناممکن ہوجائے گا (صحیح بخاری) اللہ تعالیٰ کی پنڈلی کس طرح کی ہوگی ؟ اسے وہ کس طرح کھولے گا ؟ اس کیفیت ہم نہ جان سکتے ہیں نہ بیان کرسکتے ہیں۔ اس لئے جس طرح ہم بلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–47
14: ساق پنڈلی کو کہتے ہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں بعض حضرات نے تو یہ فرمایا ہے کہ پنڈلی کا کھل جانا عربی میں ایک محاورہ ہے جو بہت سخت مصیبت پیش آجانے کے لیے بولا جاتا ہے، لہذا مطلب یہ ہے کہ جب قیامت کی سخت مصیبت پیش آجائے گی تو ان کافروں کا یہ حال ہوگا۔ اور بہت سے مفسرین نے اس کا مطلب یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھول دیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی پنڈلی انسانوں کی پنڈلی کی طرح نہیں ہے، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ایک خاص صفت ہے جس کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ بہر حال ! مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی وہ صفت ظاہر فرمائیں گے، اور لوگوں کو سجدے کے لیے بلایا جائے گا، مگر یہ کافر لوگ اس وقت سجدے…
Read the full tafseer →یوم یکشف ................................ وھم سلمون (34) (86 : 24۔ 34) ” جس روز سخت وقت آپڑے گا اور لوگوں کو سجدہ کرنے کے لئے بلایا جائے گا تو یہ لوگ سجدہ نہ کرسکیں گے ، ان کی نگاہیں نیچی ہوں گی ، ذلت ان پر چھارہی ہوگی۔ یہ جب صحیح وسالم تھے ، اس وقت انہیں سجدے کے لئے بلایا جاتا تھا (اور یہ انکار کرتے تھے) “۔ یوں یہ لوگ قیامت کے اس منظر کے سامنے ہیں۔ گویا قیامت برپا ہے اور ان کو بلایا جارہا ہے ، کہ لاﺅ شریکوں کو جن کا تم دعویٰ کرتے تھے۔ اور اللہ کے علم میں تو یہ دن حقیقتاً حاضر ہے۔ کیونکہ اللہ کے علم میں ماضی ، حال اور مستقبل نہیں ہے۔ یوں اللہ کے علم کو پیش کرنا ، نہایت گہرا اثر ڈالتا ہے اور…
Read the full tafseer →4 اس کا قصہ حدیث شیخین میں مرفوعاً اس طرح آیا ہے کہ حق تعالیٰ میدان قیامت میں اپنی ساق ظاہر فرمائے گا " ساق " (پنڈلی) کو کہتے ہیں اور یہ کوئی خاص صفت یا حقیقت ہے صفات و حقائق الٰہیہ میں سے جس کو کسی خاص مناسبت سے " ساق " فرمایا۔ جیسے قرآن میں " ید " (ہاتھ) " وجہ " (چہرہ) کا لفظ آیا ہے۔ یہ مفہومات متشابہات میں سے کہلاتے ہیں۔ ان پر اسی طرح بلا کیف ایمان رکھنا چاہیے جیسے اللہ کی ذات، وجود، حیات اور سمع و بصر وغیرہ صفات پر ایمان رکھتے ہیں۔ اسی حدیث میں ہے کہ اس تجلی کو دیکھ کر تمام مومنین و مومنات سجدہ میں گرپڑیں گے۔ مگر جو شخص ریا، سے سجدہ کرتا تھا، اس کی کمر نہیں مڑے گی۔ تختہ سی ہو کر رہ جائے…
Read the full tafseer →آیت 42{ یَوْمَ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ } ”جس دن پنڈلی کھولی جائے گی“
پنڈلی کھولے جانے کا مفہوم ہمارے تصور سے ماوراء ہے۔ ممکن ہے یہ اللہ تعالیٰ کی کسی خاص تجلی کا ذکر ہو جس کا ظہور میدانِ محشر کے کسی مرحلے پر لوگوں کی چھانٹی کرنے کے لیے ہونا ہو۔ واللہ اعلم ! اس اعتبار سے یہ آیت آیات متشابہات میں سے ہے۔ 1
{ وَّیُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ۔ } ”اور انہیں پکارا جائے گا اللہ کے حضور سجدے کے لیے تو وہ کر نہیں سکیں گے۔“
جیسا کہ قبل ازیں سورة الحدید کی آیت 11 کے تحت بھی ذکر ہوچکا ہے ‘ میدانِ حشر میں اچھے اور برے لوگوں کو الگ الگ کرنے کے لیے بنی نوع انسان کو مختلف مراحل میں سے گزارا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
19 اللہ کی پنڈلی کا ذکر :۔ آیت نمبر 42 اور 43 کی تفسیر کے لئے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے :
سیدنا ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : قیامت کے دن پروردگار اپنی پنڈلی کھولے گا تو ہر مومن مرد اور مومن عورت سجدہ میں گرپڑیں گے۔ صرف وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو لوگوں کو دکھلانے یا سنانے کے لئے سجدہ کیا کرتے تھے۔ وہ سجدہ تو کرنا چاہیں گے لیکن ان کی پشت اکڑ کر ایک تختہ کی طرح ہوجائے گی (بخاری۔ کتاب التفسیر)
بعض علماء نے (يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ 42ۙ ) 68 ۔ القلم :42) کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ : جس دن حقائق سے پردہ اٹھا دیا جائے گا اگر یہ اہل عرب کا محاورہ ہو تب بھی ہم ارشاد نبوی کے مقابلہ میں ایسے…
Read the full tafseer →24۔ (یہ منکر و کافر لوگ) (آیت) ” یوم یکشف عن ساق “۔ اس دن سے مراد روز حشر کا ہونا تو سب کے نزدیک مسلم ہے سوال یہ پیدا ہوا ہے کہ کشف ساق سے کیا مراد ہے ؟ (آیت) ” ساق “۔ کے لفظی معنی تو پنڈلی کے ہیں۔ مابین الکعب والرکبۃ (قاموس) مابین الرکبۃ والقدم (لسان) محققین کا قول ہے کہ صفات باری میں سے یہ کوئی مخصوص صفت ہے۔ جس کی تجلی اس وقت ہوگی اور اسے کسی خاص ہی مناسبت سے ساق سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ قرآن مجید ہی میں حق تعالیٰ کیلئے آخر وجہ (چہرہ) اور ید (ہاتھ) اور حدیث میں رجل، اور قدم (پیر) کے الفاظ بھی تو آتے ہیں۔ اور یہ سب کلمات متشابہات کہلاتے ہیں۔ لیکن ان کی متعدد توجیہات وتاویلات ہوسکتی ہیں۔ ایک…
Read the full tafseer →یوم یکشف عن ساق بعض نے ” کشف ساق “ سے قیامت کے شدائد اور اس کی ہولناکیاں مراد لی ہیں، صحابہ ؓ اور تابعین (رح) تعالیٰ کی ایک جماعت کہتی ہے کہ یہ الفاظ محاورے کے طور پر استعمال ہوگئے ہیں، عربی محاورہ کے مطابق سخت وقت آ پڑنے کو کشف ساق سے تعبیر کیا جاتا ہے، حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے بھی یہی معنی بیان کئے ہیں اور ثبوت میں کلام عرب سے استشہاد کیا ہے، ایک اور قول جو حضرت ابن عباس ؓ اور ربیع بن انس ؓ سے منقول ہے اس میں کشف ساق سے مراد حقائق پر سے پردہ اٹھانا لیا گیا ہے، اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جس روز تمام حقیقتیں بےنقاب ہوجائیں گی اور لوگوں کے اعمال کھل کر سامنے آجائیں گے۔
Read the full tafseer →یوم یکشف عن ساق . ظرف (زمان) کا تعلق اذکر محذوف سے ہے (یعنی اس روز کو یاد کرو) جب پنڈلی کھولی
جائے گی۔ پنڈلی کے کشف سے مراد ہے میدان حشر میں نور الٰہی کی ایک مخصوص پرتو اندازی۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم وغیرہ میں بروایت حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کیا گیا ہے کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے ؟ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہاں ! دوپہر کے وقت جب کہ ابر بھی نہ ہو کیا تم کو سورج کے دیکھنے میں کچھ اشتباہ ہوتا ہے یا چودہویں تاریخ کو جب ابر نہ ہو تم کو چاند دیکھنے میں کوئی رکاوٹ ہوتی ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا : نہیں ! اے رسول خدا۔ ارشاد فرمایا : جیسے تم کو…
Read the full tafseer →جس دن اس کام کے اظہار کے لیے جس سے یہ لوگ دنیا میں اندھے تھے یا یہ کہ ان کے اور ان کے پروردگار کے درمیان نشانی اور علامت کے لیے ساق کی تجلی فرمائی جائے گی اور مشرکین اور منافقین جبکہ اپنی برات میں اللہ کی قسمیں کھا لیں گے تو لوگوں کو سجدہ کی طرف بلایا جائے گا تو یہ کافر سجدہ نہ کرسکیں گے اور ان کی پشتیں لوہے کی طرح سخت ہوجائیں گی۔
Read the full tafseer →(1) یوم یکشف عن ساق …:”یوم“ یا تو پچھلی آیت ”فلیاثوا بشرکآئھم“ کے متعلق ہے، یعنی دنیا میں تو ہوسکتا ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے جھوٹ موٹ شریک گنوا دیں جو ان کی رہائی کے ذمہ دار بننے کا دعویٰ کریں، مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اگر سچے ہیں تو اس دن اپنے شریک سامنے لائیں جس دن پنڈلی سے پردہ ہٹایا جائے گا اور لوگوں کو سجدے کے لئے بلایا جائے گا تو یہ لوگ سجدہ نہیں کرسکیں گے۔ یا یہ ”ان للمتقین عند ربھم جنت النعیم“ کے متعلق ہے، یعنی متقین کو نعمت والی جنتیں اس دن ملیں گی جب پنڈلی سے پردہ ہٹایا جائے گا۔
(2) یوم یکشف عن ساق“ کا ایک معنی تو وہ ہے جو ان لفظوں کا سادہ ترجمہ ہے اور خود بخود ظاہر ہو رہا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
یوم یکشف عن ساق یہ جائز ہے کہ یوم میں عامل فلیاتوا ہو۔ انہیں چاہئے کہ اپنے شریک بلا لیں جس روز پنڈلی سے کپڑا اٹھایا جائے گا تاکہ شرکاء ان کے حق میں سفارش کریں۔ یہ بھی جائز ہے کہ ایک فعل مضمر کے ساتھ یوم کو صنب دی جائے تقدیر کلام یہ ہوگی اذکر یوم یکشف عن ساق اس صورت میں صدقین پر عطف ہوگا پہلی تقدیر کی صورت میں اس پر وقف نہیں ہوگا، اسے یوم نکشف بھی پڑھا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس نے یوم تکشف عن ساق پڑھا ہے اس صورت میں فعل معروف ہوگا۔ تکشف الشدۃ او لقیامۃ عن ساقھا جس طرح عربوں کا قول ہے شمرت الحرب عن ساقھا جنگ نے پنڈلی سے پردہ ہٹا لیا یعنی جنگ سخت ہوگئی۔
شاعر نے کہا :
فتی الحرب ان عضت بہ احلرب عضھا و…
Read the full tafseer →ہر مومن مرد و عورت کا سجدہ کرنا
1۔ البخاری وابن المنذر نے ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے وہئے سنا کہ ہمارے رب اپنی پنڈلی کو کھولیں گے تو ان کے لیے ہر مومن مرد اور ہر مومن عورت سجدہ کرے گی۔ اور وہ آدمی باقی رہے گا جو دنیا میں ریا کاری اور شہرت کے لیے سجدہ کرتا تھا۔ وہ چاہے گا کہ سجدہ کرے تو اس کی پیٹھ ایک طبق بن جائے گی۔ یعنی اس کی پیٹھ اکڑ جائے گی اور وہ سجدہ نہیں کرسکے گا۔
2۔ ابن مندہ نے الرد علی الجہینہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آیت یوم یکشف عن ساق جس دن پنڈلی سے کھولا جائے گا یعنی اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کو کھولیں گے۔
3۔ عبدالرزاق وعبد…
Read the full tafseer →[يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ : جس دن پردہ اٹھایا جائے گا پنڈلی سے ][ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ : اور ان کو بلایا جائے گا سجدہ کرنے کی طرف ][ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ : تو وہ استطاعت نہ رکھتے ہوں گے ]
نوٹ۔ 2: آیت۔ 42 ۔ میں یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ کے الفاظ کے متعلق صحابہ کرام اور تابعین کی ایک جماعت کہتی ہے کہ یہ الفاظ محاورے کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔ عربی محاورے کے مطابق سخت وقت آ پڑنے کو کشفِ ساق سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ایک اور قول کے مطابق اس میں کشفِ ساق سے مراد حقائق پر سے پردہ اٹھا نا لیا گیا ہے۔ اس تاویل کی رو سے معنیٰ یہ ہوں گے کہ جس روز تمام حقیقتیں بےنقاب ہوجائیں گی اور لوگوں کے اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
ساق کی تجلی اور منافقوں کی بری حالت
ان آیات میں قیامت کے دن کے بعض مظاہر بیان فرمائے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ جب ساق کی تجلی ہوگی اور لوگوں سے کہا جائے گا کہ سجدہ کرو تو مومنین سجدہ کرلیں گے اور منافقین اور ریاکار سجدہ نہ کرسکیں گے اور ان کی کمریں تختہ ہوجائیں گی، سجدہ کرنا چاہیں گے تو گُدّی کے بل گرپڑیں گے۔ صحیح بخاری صفحہ 731 اور صفحہ 1107 اور صحیح مسلم صفحہ 100 اور صفحہ 104 پر اس کی تفسیر وارد ہوئی ہے اور ساق کی تجلی ہونا متشابہات میں سے ہے اور اس پر ایمان لانا ضروری ہے کیفیت کے سمجھنے کی فکر نہ کریں یہی اصل طریقہ ہے، صاحب بیان القرآن لکھتے ہیں سجدہ کی طرف بلائے جانے سے یہ شبہ نہ کیا جائے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–52
بشارت اہل ایمان وتقوی بنعماء جنت وتذلیل وتوہین کفار ومشرکین درروز آخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان للمتقین عندربھم .......... الی ........ الاذکر للعلمین “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں ان منکرین ومکذبین کا ذکر تھا جو دولت کے نشہ میں مست ہو کر اللہ کی نافرمانی پر کمر بستہ ہوئے رسول خدا ﷺ کی توہین وتذلیل کی تو انکی نافرمانی اور غرور کا انجام ہلاکت ایک تاریخی واقعہ کی شکل میں بیان فرمایا گیا اب ان آیات میں اہل تقوی و ایمان کا اعزاز واکرام اور جنت میں حق تعالیٰ شانہ ان کو کیسی کیسی نعمتوں سے نوازے گا بیان فرمایا جارہا ہے پھر اسی کے ساتھ تنبیہ کے طور پر مجرمین ومنکرین کا قیامت کے روز کیسا برا انجام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
20:۔ ” یو یکشف “ یہ تخویف اخروی ہے۔ الکشف عن ساق، پنڈلی کھولنا شدت امر اور صعوبت کار سے کنایہ ہے۔ کیونکہ جب انسان کوئی کٹھن کام کرتا ہے تو پنڈلی سے تہبند سمیٹ لیتا ہے۔ قیامت کے دن جب شدت ہول اور افراتفری کا دور دورہ ہوگا اس وقت ان مشرکین سے سجدہ کرنے کو کہا جائے گا تو وہ فورا سجدہ کرنے کے لیے جھکنے کی کوشش کریں گے مگر ان کی پیٹھوں کو تختوں کی مانند سخت کردیا جائے گا اور وہ سجدہ نہیں کرسکیں گے ان کی آنکھیں جھکی ہوں گی اور ان کے چہروں پر ذلت ورسوائی کے آثار نمایاں ہوں گے۔ مومنوں کے چہرے روشن اور درخشاں ہوں گے لیکن کفار و مشرکین کے چہرے نہایت سنیاہ ہوں گے۔ دنیا میں ان کو خدائے واحد کی بارگاہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–47
گذشتہ سے پیوستہ (ربطہ) :
پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفر و شرک کرنے والوں کا رد فرمایا ۔ کافروں کے اس خیال کی تردید فرمائی جس کے مطابق وہ کہتے تھے کہ چونکہ ہم دنیا میں برتر ہیں لہٰذا آگے بھی ہم ہی برتر ہونگے فرمایا کہ فرمانبردار اور مجرم کیسے ہو سکتے ہیں ۔ یہ بات عقل اور نقل دونوں کے خلاف ہے۔ پھر مطالبہ کیا کہ تمہارے پا س کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہے تو پیش کرو۔ دنیا کا کوئی عقلمند اس بات کو تسلیم نہیں کرے گا کہ مجرم اور فرمانبردار ایک جیسے ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے متقیوں کے لیے مقرر کردہ نعمتوں اور ان کی کامیابی کا حال بیان کیا ۔
عبادت کا اثر اسکی صحت پر منحصر ہے :
ان آیتوں میں شرک اور…
Read the full tafseer →يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ 42 ۙ
كشف
كَشَفْتُ الثّوب عن الوجه وغیره، ويقال : كَشَفَ غمّه . قال تعالی: وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلا کاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ [ الأنعام/ 17]
( ک ش) الکشف
كَشَفْتُ الثّوب عن الوجه وغیره، کا مصدر ہے جس کے معنی چہرہ وغیرہ سے پر دہ اٹھا نا کے ہیں ۔ اور مجازا غم وانداز ہ کے دور کرنے پر بھی بولا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلا کاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ [ الأنعام/ 17] اور خدا تم کو سختی پہچائے تو اس کے سوا کوئی دور کرنے والا نہیں ہے ۔
ساق
سَوْقُ الإبل : جلبها وطردها، يقال :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–47
ترکیب : یوم منصوب امابقولہ فلیاتوا واما باذکر ویدعون معطوف علی یکشف۔ فلایستطیعون جواب یوم یکشف خاشعۃ بالنصب علی انھا حال من ضمیر یدعون ابصارھم مرفوع علی انہ فاعل خاشعۃ ونسبۃ الخشوع الی الابصار بظھور اثرہ فیھا وھم سالمون الجملۃ حال من فی یدعون ومن منصوب محلا عطفا علی الضمیر المنصوب فی ذرنی۔
تفسیر : اس کے بعد قیامت کا ہولناک واقعہ بیان فرماتا ہے کہ اس روز ان کے افتراء اور خیالی ڈھکوسلوں کا یہ نتیجہ ہوگا۔ فقال یوم یکشف عن ساق ویدعون الی السجود فلایستطیعون کہ جس دن پردہ کھل جائے گا اور وہ سجدے کے لیے بلائے جائیں گے تو سجدہ نہ کرسکیں گے۔
ساق کیا ہے : ساق کے لغوی معنی پنڈلی کے ہیں پھر کیا یہ حقیقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
یَوْمَ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُوْدِ فِلاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ ۔ خَاشِعَۃً اَبْصَارُھُمْ تَرْھَقُہُمْ ذِلَّـۃٌ ط وَقَدْ کَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُوْدِ وَھُمْ سٰلِمُوْنَ ۔ (القلم : 42، 43)
(جس دن پنڈلی کھولی جائے گی (سخت وقت آپڑے گا) اور لوگوں کو سجدہ کرنے کے لیے بلایا جائے گا تو یہ لوگ سجدہ نہ کرسکیں گے۔ ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی، ذلت ان پر چھا رہی ہوگی اور یہ سجدے کے لیے اس وقت بھی بلائے جاتے تھے جب وہ صحیح سالم تھے۔ )
قیامت کے روز مشرکین کی رسوائی
آج مشرکینِ مکہ بالخصوص اشرافِ قریش بتوں کے سامنے جھکتے اور مختلف قوتوں کے سامنے جنھیں ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ بدعقیدہ اور برا کردار رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو جنت کا مالک اور مسلمانوں سے بہتر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں انہیں قیامت کے دن معلوم ہوجائے گا کہ حقیقت کیا ہے۔
محشر کے میدان میں ایک مرحلہ ایسا بھی آئے گا جب لوگوں کے سامنے کافر اور مومن، مشرک اور موحِّد، بد اور نیک کے درمیان فرق ظاہر کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی سے نور کے پردے ہٹائیں گے۔ اللہ تعالیٰ جونہی اپنی پنڈلی کو جلوہ گر کریں گے تو موحّد نمازی اللہ کے حضور سربسجود ہوجائیں گے۔ موحّد نماز یوں کو سربسجود ہوتے دیکھ کر کافر، مشرک، منافق اور بےنماز بھی سجدہ کرنے کی کوشش کریں گے لیکن ان کی کمریں پتھر کی طرح سخت…
Read the full tafseer →42 : یَوْمَ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ (جس دن ساق کی تجلی فرمائی جائے گے)
نحو : یومؔ یہ فلیاتوا کا ظرف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ نمبر 2۔ اذکر مضمر کی وجہ سے منصوب ہے۔
شدت بطور کنایہ ہے :
قول جمہور : کشف ساق یہ معاملے کی شدت اور مصیبت کی زیادتی کی تعبیر ہے پس معنی یہ ہوگا جس دن معاملہ سخت اور مشکل ہوجائے گا۔ وہاں نہ کشف ہے اور نہ ساق ہے۔ لیکن شدت کو بطور کنایہ اس طرح بیان کیا کیونکہ جب وہ کسی سختی میں پھنس جاتے تو پنڈلی کھول دیتے اور یہ اسی طرح ہے جیسا تم کہو اس آدمی کو جو بہت ہی بخیل ہو۔ یدہ مغلولۃ حالانکہ نہ وہاں ہاتھ ہے اور نہ طوق بلکہ بخل سے کنایہ ہے۔ باقی جن لوگوں نے اس کو تشبیہ قرار دیا تو اس کا…
Read the full tafseer →41 ۔” ام لھم شرکائ “ یعنی ان کے پاس اللہ کے شریک ایسے رب ہیں جو یہ کریں گے اور کہا گیا ہے گواہ جوان کے لئے گواہی دیں جو ان کے دعویٰ کی تصدیق کریں۔ ” فلیاتوا بشر کا ئھم ان کانوا صادقین “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–47
42۔ 46۔ مشرکین مکہ کی اس بات کا اوپر ذکر تھا جو وہ مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ اگر مرنے کے بعد پھر جینا اور میوے کھانے کے لئے باغوں کا ملنا سچ ہے تو دنیا میں جس طرح ہم لوگ بہ نسبت ان غریب مسلمانوں کے خوشحالی سے گزران کرتے ہیں اسی طرح آخرت میں بھی ہم اچھی طرح رہیں گے ان مشرکوں کی اس بات کا جواب اللہ تعالیٰ نے اوپر کی آیتوں میں دیا تھا دوسرا جواب ان آیتوں میں یہ دیا ہے کہ اصلی کافروں کو تو آخرت میں خوشحالی کا ملنا درکنار جو لوگ ظاہر میں اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دین کا پورا یقین نہیں ہے اور اس ادھورے یقین کے سبب سے وہ جو کچھ کرتے ہیں وہ محض دنیا کے دکھاوے کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
یعنی جب قیامت کا دن ہوگا اور ایسے ایسے زلزلے اور ہولناکیاں ظاہر ہوں گی جو وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتیں، باری تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کرنے اور ان کو جزا وسزا دینے کے لیے تشریف لائے گا، پس وہ اپنی مکرم پنڈلی کو ظاہر کرے گا جس سے کوئی چیز مشابہت نہیں رکھتی، لوگ اللہ تعالیٰ کا جلال اور عظمت دیکھیں گے جس کی تعبیر ممکن نیہں۔ یہی وہ وقت ہوگا جب ان کو سجدے کے لیے کہا جائے گا مومن اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوجائیں گے جو (دنیا میں) اپنی مرضی اور اختیار سے سجدہ کیا کرتے تھے۔
منافق اور فاجر سجدہ کرنے کی کوشش کریں گے مگر وہ سجدہ کرنے پر قادر نہیں ہوں گے ان کی کمریں ایسی ہوجائیں گی جیسے گائے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–52
قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔
ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…
Read the full tafseer →33 کشف ساق کا ذکر اور اس کا معنی ومطلب ؟: سو ارشاد فرمایا گیا اور جس دن تجلی فرمائی جاء گی ساق کی۔ بعض حضرات مفسیرن نے محاورہ کی زبان میں کشف ساق کو شدت اور سختی سے کنایہ قرار دیا ہے کہ وہ بڑا سخت اور ہولناک دن ہوگا ‘ اس لئے اس کو یاد کرکے اپنی اصلاح کی فکر کرو ‘ کما قال ابن عباس وغیرہ (رواہ ابن جریر ‘ محاسن التاویل وغیرہ) اور بعض نے اس کو کشٰ و ظہور حقائق غیبۃ سے کنایہ قرار دیا ہے (جامع البیان ‘ المراغی اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) اور بعض حضرات نے اس کو اپنے ظاہر پر رکھا ہے جیسا کہ صحیحین وغیرہ میں آنحضرت ﷺ سے مروی ہے کہ قیامت کے دن رب تعالیٰ کشف ساق فرمائے گا (جیسا کہ اس کی شان اقدس و اعلیٰ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–52
کفار کی خوش فہمیاں، نبی ﷺ کو صبر کی تلقین
تشریح : پچھلی آیات میں مسلمان اور کافر کی سزا و جزا کو علیحدہ علیحدہ کر کے بتا دیا گیا ہے کہ یہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ کیونکہ ہم یعنی کفار مکہ کے سردار دنیا میں امیر کبیر ہیں تو اس لیے ہیں کہ ہم سے اللہ خوش ہے تو اس نے ہمیں یہ تمام نعمتیں دے رکھی ہیں اس لیے آخرت اگر آئی تو وہاں بھی ہمیں کسی تحریر میں رب العزت نے ان سے اس بات کا وعدہ کر رکھا ہے کہ ان کو تو انعام و اکرام دئیے جائیں گے اور مسلمان کیونکہ یہاں اس دنیا میں کچھ کم حیثیت ہیں اس لیے آخرت میں بھی ان کو کچھ نہیں ملے گا۔ کچھ ہی دیر کی بات ہے بہت جلد سب کچھ سامنے آنے والا ہے (جب ساق کھول دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–52
آیات 34 تا 52۔
اسرار ومعارف۔
اور جو لوگ عظمت الٰہی کا اقرار کرلیتے ہیں ان کی خاطر تو ان کے پروردگار نے جنت کی نعمتیں سجارکھی ہیں جو لوگ اطاعت گزار اور حکم بجالانے والے ہیں بھلامجرم ان کی برابری کس طرح کرسکتے ہیں کہ تم اے کفار برائی پہ اچھے نتیجے کی امید رکھتے ہو تمہاری یہ رائے قطعی غلط ہے کیا اس کے لیے تمہارے پاس کوئی نقلی دلیل ہے عقلا تو ویسے محال ہے تو کیا کسی آسمانی کتاب میں تمہیں یہ حق دیا گیا ہے کہ اپنے لیے بہتری چن لو یا اللہ نے قیامت تک کوئی قسم کھارکھی ہے کہ تم جو مانگو ملے گا بھلا تمہارے پاس ایسی باتوں کی کیا ضمانعت ہے ؟ یا کوئی اور ہستی ایسی ہے جو اللہ کی شریک ہے اس نے تمہیں وعدہ دے…
Read the full tafseer →“9 یعنی ان کی پیٹھ کی پسلیاں جڑ کر یخ بستہ ہوجائیں گی اور وہ سجدہ کے لئے جھلک نہ سکیں گے۔ اس آیت کی یہ تفسیر حدیث سے ثابت ہے حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : ” ہمارا پروردگار اپنی پنڈلی کھولے گا۔ تمام ممن مرد اور عورتیں اس کو سجدہ کریں گے، لیکن جو لوگ دنیا میں محضدکھلاوے اور شہرت کے لئے سجدہ کرتے تھے وہ رہ جائیں گے، وہ سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی پیٹھ تخ ہیک طرح اکڑ جائے گی…یہ حدیث صحیحین اور دوسری کتابوں میں متعدد اسانید سے آئی ہے۔ (شوکانی) بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہاں کشف ساق “ کنایہ ہے شدت سے کہ قیامت کا دن بڑا سخت ہوگا، چناچہ جاہد ابراہیم نخعی اور عکرمہ وغیرہ نے یہی…
Read the full tafseer →(68:42) یوم یکشف عن ساق : یوم منصوب بوجہ مفعول اذکر محذوف ہے ۔ اذکر یوم : یاد کرو وہ دن جب ۔۔ یکشف مضارع مجہول واحد مذکر غائب ، کشف (باب ضرب) مصدر سے۔ پردہ ہٹا دیا جائے گا۔ کھول دیا جائے گا۔ سخت شدت ہوگی۔ ساق بمعنی پنڈلی۔ یکشف عن ساق سے کیا مراد ہے ؟ اس میں مختلف اقوال ہیں :۔
(1) ای یکشف عن اقبل الامر (بیضاوی، روح البیان) جب حقیقہ الامر سے پردہ ہٹا دیا جائے گا۔
(2) کنایۃ عن شدۃ ھول القیامۃ۔ کلمات القرآن ، تفسیر و بیان، حسنین محمد مخلوف۔
(3) پنڈلی کے کشف سے مراد ہے میدان حشر میں نور الٰہی کی ایک خاص جھلک ایک مخصوص پر تو اندازی۔ وغیرہ
اکثر مفسرین نے اس سے مراد روز حشر کی ہولناک اور کرب عظیم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
لغات القرآن۔
یکشف۔ کھول دیا جائے گا۔ ساق۔ پنڈلی۔ یدعون۔ وہ بلائے جائیں گے۔ خاشعۃ۔ جھکنے والی۔ ترھق۔ وہ ڈھانپ لیتی ہے۔ سالمون۔ صحیح سالم۔ ہٹے کٹے۔ ذرنی۔ مجھے چھوڑو۔ نستدرج۔ ہم آہستہ آہستہ لئے جاتے ہیں۔ املی۔ میں نے مہلت دی۔ کیدی۔ میری تدبیر۔ مغرم۔ تاوان۔ مثقلون۔ بوجھ کے نیچے دبے ہوئے۔ صاحب الحوت۔ مچھلی والا (حضرت یونس (علیہ السلام) ) ۔ مکظوم۔ غم میں گھونٹ دیا گیا۔ العرائ۔ چٹیل میدان۔ یزلقون۔ وہ جگہ سے ہٹے ہیں۔ پھسل جاتے ہیں۔
تشریح : جب کفار و مشرکین اور منافقین کے سامنے رسول اللہ ﷺ کلام اللہ کو پیش کرتے تو وہی مکہ کے لوگ جو ان کو صادق و امین کہتے اور ان کی فہم و فراست کے گن گایا کرتے تھے آپ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
ساق کا ذکر۔ قیامت میں نماز نہ پڑھنے والوں کی کمر تختے کی مانند ہوجائے گی۔
(ف 1) اس کا قصہ حدیث شیخین میں مرفوعا اس طرح آیا ہے کہ حق تعالیٰ میدان قیامت میں اپنی ساق کی تجلی فرمائے گا ساق پنڈلی کو کہتے ہیں اور یہ کوئی خاص صفت یا حقیقت ہے صفات وحقائق الٰہیہ میں سے ، جس کو کسی خاص مناسبت سے ساق فرمایا جیسے قرآن میں ید (ہاتھ) اور وجہ (چہرہ) کا لفظ آیا ہے یہ مفہومات متشابہات میں سے کہلاتے ہیں اور ان پر اسی طرح بلاکیف ایمان رکھنا چاہیے جیسے اللہ کی ذات وجود، حیات اور سمیع وبصیر وغیرہ صفات پر ایمان رکھتے ہیں سلف کا یہی طریق ہے کہ وہ اسکے معنی میں کلام نہیں کرتے، اور یہ فرماتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
[11] اصل الفاظ ہیں ( يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ 42ۙ ) 68 ۔ القلم :42) جس کا لفظی ترجمہ ہے جس دن پنڈلی کھولی جائے گی۔ یہ ایک عربی محاورہ ہے جس سے مراد سختی اور مصیبت کا پیش آنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
ف 1: فرمایا ۔ ان عبادت ناآشنا لوگوں کو جب اس وقت دعوت سجود دی جائے گی ۔ جب کہ قیامت کے اہوال شدتوں پر ہوں گے ۔ تو اس وقت ان کی جبشیں قطعاً نہیں جھک سکیں گی ۔ ان کی نظریں مارے شرم وندامت کے زمین بوس ہوں گی ۔ اور ان پر ذلت ومقارت چھارہی ہوگی ۔ اس وقت ان کو معلوم ہوگا ۔ کہ دنیا میں باوجود تندرستی اور صحت و توانائی کے ذوق عبادت سے محرومی کتنا بڑا جرم تھا ۔ فرمایا ۔ یہ لوگ آج ان حقائق کو جھٹلاتے ہیں ۔ مگر بتدریج غیر محسوس طریق پر یہ لوگ جہنم کی طرف لپکے ہوئے جارہے ہیں ۔
حل لغات :۔ تدرسون ۔ پڑھتے ہو زعیم ۔ ذمہ دار ، ضامن یکشف عن ساق ۔ حضرت ابن عباس سے پوچھا گیا ۔ کہ کشف عن الساق کے کیا معنے ہیں ۔…
Read the full tafseer →(42) وہ دن قابل ذکر ہے جس دن پنڈلی کو نمایا کیا جائے اور کھولا جائے گا اور لوگوں کو سجدے کے لئے بلایا جائے گا پھر کافر لوگ سجدہ نہ کرسکیں گے۔
Read the full tafseer →ف 2۔ ساق کہتے ہیں پنڈلی کو اور یہ کوئی خاص صفت ہے جس کو کسی مناسبت سے ساق فرمایا جیسا قرآن میں ہاتھ ایا ہے اور ایسے مفہومات متشابہات میں سے کہلاتے ہیں۔
3۔ بلائے جانے سے مراد امر بالسجود نہیں ہے بلکہ اس تجلی میں یہ اثر ہوگا کہ سب بالاضطرار سجدہ کرنا چاہیں گے۔
Read the full tafseer →جس دن ساق کھولی جائے گی ، لوگوں کو سجدہ کی طرف بلایا جائے گا وہ سجدہ نہیں کرسکیں گے
42 ؎ (ساق) پنڈلی۔ علامہ مجد الدین فیروز آبادی رقم طراز ہیں کہ ” تخنہ اور گھٹنہ کے جو درمیان ہے وہ (ساق) ہے۔ سوق سقان اور اسوق جمع وائو کو ہمزہ اس لئے کہا گیا ہے کہ ضد کو برداشت کرسکے اور (یوم یکشف عن ساق) جس دن پنڈلی کھولی جائے کے معنی عن شدۃ کے ہیں یعنی جس روز سختی ظاہر ہوگی اور والتفت الساق بالساق اور پنڈلی پنڈلی پر لپٹ گئی۔ یعنی دنیا کی آخری شدت ، آخرت کی پہلی شدت سے لپٹ گئی جب معاملہ کی شدت اور اس کی ہولناکی کی خبر دینا مقصود ہوتا ہے تو (ساق) کا ذکر کرتے ہیں۔ جب کوئی سخت تکلیف اور مصیبت کا وقت آجاتا ہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–43
This verse: أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِمِينَ (Otherwise, shall We make the obedient like the sinners?... 68:35). Clarifies that it is rationally necessary that there should come a time when people will have to give account of their deeds, a place where the guilty ones will find no escape routes, an ideal world where there will be absolute justice and fair play, where good and evil will be clearly distinguished. If this is not the state of affairs in the Hereafter, then no evil should be evil, and no sin should be sin in this mortal world. Divine justice would thus be rendered…
Read the full tafseer →24 Literally: "The Day the shin shall be uncovered". A section of the Companions and their successors says that these words have been used idiomatically, for according to Arabic idiom, kashf-i saq implies befalling of an affliction. Hadrat `Abdullah bin 'Abbas also has given this same meaning of this and has supported it by evidence from Arabic poetry. According to another saying that has been cited from Ibn 'Abbas and Rabi' bin Anas, kashf-i saq implies uncovering the facts and truths. In view of this interpretation, the meaning would be: "The Day when all truths shall be bared and the…
Read the full tafseer →