Al-Qalam 68:44

Al-Qalam · from ayah 44

68:44

فَذَرْنِیْ وَمَنْ یُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِیْثِ ؕ— سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَ ۟ۙفَذَرۡنِىۡ وَمَنۡ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الۡحَـدِيۡثِ‌ؕ سَنَسۡتَدۡرِجُهُمۡ مِّنۡ حَيۡثُ لَا يَعۡلَمُوۡنَۙ

تو مجھ کو اس کلام کے جھٹلانے والوں سے سمجھ لینے دو۔ ہم ان کو آہستہ آہستہ ایسے طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی

— Fateh Muhammad Jalandhari

So leave Me, [O Muhammad], with [the matter of] whoever denies the Qur'an. We will progressively lead them [to punishment] from where they do not know.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qalam

All translations of 68:44

پس اے نبیؐ، تم اِس کلام کے جھٹلانے والوں کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو ہم ایسے طریقہ سے اِن کو بتدریج تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ اِن کو خبر بھی نہ ہوگی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو مجھ کو اس کلام کے جھٹلانے والوں سے سمجھ لینے دو۔ ہم ان کو آہستہ آہستہ ایسے طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس مجھے اور اس کلام کو جھٹلانے والے کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ کھینچیں گے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہوگا

— مولانا محمد جوناگڑہی

لہذا (اے پیغمبر) جو لوگ اس کلام کو جھٹلا رہے ہیں انہیں مجھ پر چھوڑ دو۔ ہم انہیں اس طرح دھیرے دھیرے (تباہی کی طرف) لے جائیں گے کہ انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو جو اس بات کو جھٹلاتا ہے اسے مجھ پر چھوڑ دو قریب ہے کہ ہم انہیں آہستہ آہستہ لے جائیں گے جہاں سے انہیں خبر نہ ہوگی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس (اے حبیبِ مکرم!) آپ مجھے اور اس شخص کو جو اس کلام کو جھٹلاتا ہے (اِنتقام کے لئے) چھوڑ دیں، اب ہم انہیں آہستہ آہستہ (تباہی کی طرف) اس طرح لے جائیں گے کہ انہیں معلوم تک نہ ہوگا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس چھوڑ مجھے اور اس کو جو اس بات کو جھٹلاتا ہے، ہم ضرور انھیں آہستہ آہستہ (ہلاکت کی طرف) اس طرح سے لے جائیں گے کہ وہ نہیں جانیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہٰذا جو شخص اس کلام کو جھٹلاتا ہے اس کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو۔ ہم انہیں بتدریج یوں تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ انہیں خبر بھی نہ ہوگی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس چھوڑو مجھ کو اور ان کو جو اس کلام کو جھٹلا رہے ہیں۔ ہم ان کو آہستہ آہستہ لا رہے ہیں وہاں سے جہاں سے وہ نہیں جانتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس چھوڑ دو تم مجھے اور ان لوگوں کو جو جھٹلاتے ہیں اس کلام (برحق) کو ہم ان کو آہستہ آہستہ (اور کشاں کشاں) لئے جا رہے ہیں (ان کی ہلاکت اور آخری انجام کی طرف) اس طرح کہ ان کو خبر بھی نہیں

— مولانا اسحاق مدنی

تو آپ رہنے دیجئے مجھے اور انہیں جو اس کلام کو جھٹلاتے ہیں ہم انہیں آہستہ آہستہ لئے جارہے ہیں اس طور پر کہ انہیں خبر نہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو (اے نبی ﷺ !) آپ چھوڑ دیجیے مجھے اور ان لوگوں کو جو اس کلام کی تکذیب کر رہے ہیں۔ ہم انہیں رفتہ رفتہ وہاں سے لے آئیں گے جہاں سے انہیں علم تک نہیں ہوگا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو مجھ کو اس کلام کے جھٹلانے والوں سے سمجھ لینے دو۔ ہم ان کو آہستہ آہستہ ایسے طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی

— محترمہ رفعت اعجاز

So leave Me, (O Prophet), to deal with him who gives the lie to this Discourse. We shall draw them little by little (to their undoing) in a way that they will not know.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, leave Me alone with those who reject this discourse. We will draw them on little by little (towards Hell) from a way they do not know.

— Muhammad Taqi Usmani

So, leave Me alone with those who reject this discourse. We will draw them on little by little (towards Hell) from a way they do not know.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then leave Me alone with whoever denies this narration. We shall punish them gradually from directions they perceive not.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Leave Me (to deal) with those who give the lie to this pronouncement. We shall lead them on by steps from whence they know not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So leave Me, [O Muhammad], with [the matter of] whoever denies the Qur'an. We will progressively lead them [to punishment] from where they do not know.

— Saheeh International

Leave those who reject the Quran to Me and I shall lead them step by step to destruction, without their being aware of it.

— Muhammad Sarwar

So leave Me and him who rejects this announcement; We will overtake them by degrees, from whence they perceive not:

— Muhammad Habib Shakir

Let Me alone with him who belieth this discourse; step by step We lead them on when they perceive not.

— Abdul Majid Daryabadi

Then leave Me alone with such as reject this Message: by degrees shall We punish them from directions they perceive not.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 68:44

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 42–47

سجدہ اس وقت منافقوں کے بس میں نہیں ہوگا اوپر چونکہ بیان ہوا تھا کہ پرہیزگار لوگوں کے لئے نعمتوں والی جنتیں ہیں اسلئے یہاں بیان ہو رہا ہے کہ یہ جنتیں انہیں کب ملیں گی ؟ تو فرمایا کہ اس دن جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی۔ یعنی قیامت کے دن جو دن بڑی ہولناکیوں والا زلزلوں والا امتحان والا اور آزمائش والا اور بڑے بڑے اہم امور کے ظاہر ہونے کا دن ہوگا۔ صحیح بخاری شریف میں اس جگہ حضرت ابو سعید خدری ؓ کی یہ حدیث ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا فرماتے تھے ہمارا رب اپنی پنڈلی کھول دے گا پس ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت سجدے میں گرپڑے گی ہاں دنیا میں جو لوگ دکھاوے سناوے کے لئے سجدہ کرتے تھے وہ بھی سجدہ کرنا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْقَلَم 26 یعنی ان سے نمٹنے کی فکر میں نہ پڑو۔ ان سے نمٹنا میرا کام ہے۔ سورة الْقَلَم 27 بے خبری میں کسی کو تباہی کی طرف لے جانے کی صورت یہ ہے کہ ایک دشمن حق اور ظالم کو دنیا میں نعمتوں سے نوازا جائے، صحت، مال، اولاد اور دنیوی کامیابیاں عطا کی جائیں، جن سے دھوکا کھا کر وہ سمجھے کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں خوب کر رہا ہوں، میرے عمل میں کوئی غلطی نہیں ہے۔ اسی طرح وہ حق دشمنی اور ظلم و طغیان میں زیادہ سے زیادہ غرق ہوتا چلا جاتا ہے اور نہیں سمجھتا کہ جو نعمتیں اسے مل رہی ہے وہ انعام نہیں ہیں بلکہ در حقیقت یہ اس کی ہلاکت کا سامان ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 44–47

(آیت) فَذَرْنِيْ وَمَنْ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ۔ یعنی آپ اس قیامت کی بات جھٹلانے والوں کو اور مجھے چھوڑ دیں پھر دیکھیں کہ ہم کیا کرتے ہیں۔ یہاں چھوڑ دینا ایک محاورہ کے طور پر فرمایا گیا ہے مراد اس سے اللہ پر بھروسہ اور توکل کرنا ہے اور حاصل اس کلام کا یہ ہے کہ کفار کی طرف سے یہ مطالبہ بھی بار بار پیش ہوا کرتا تھا کہ اگر ہم واقعی اللہ کے نزدیک مجرم ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمیں عذاب دینے پر قادر ہے تو پھر ہمیں عذاب ابھی کیوں نہیں دے ڈالتا ان کے ایسے دل آزار مطالبوں کی وجہ سے کبھی کبھی خود رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک میں بھی یہ خیال پیدا ہوتا ہوگا اور ممکن ہے کسی وقت دعا بھی کی ہو کہ ان لوگوں پر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مکذبین کو دھمکی: یہ ان مکذبین قرآن کو دھمکی ہے۔ جن کا ذکر آیت ۱۵ میں گزر چکا ہے کہ ’إِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِ آیَاتُنَا قَالَ أَسَاطِیْرُ الْأَوَّلِیْنَ‘ (جب ان کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں کہتے ہیں یہ اگلوں کے فسانے ہیں) ان کو دھمکی کے ساتھ ہی نبی ﷺ کے لیے اس میں بہت بڑی تسلی بھی ہے۔ آپ کو خطاب کر کے فرمایا کہ اب ان مکذبین قرآن کا معاملہ مجھ پر چھوڑو۔ تمہارے اوپر بلاغ کی جو ذمہ داری تھی وہ تم ادا کر چکے۔ اب تم بیچ سے ہٹو اور مجھے تنہا ان سے نمٹ لینے دو۔ میں درجہ بدرجہ ان کو وہاں سے ہلاکت کے کھڈ میں لے جاؤں گا جہاں سے ان کو علم بھی نہ ہو گا۔ اس وقت ان کو جو ڈھیل دے رہا ہوں اس کو وہ اپنی کامیابی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 44–45

44۔ 1 یعنی میں ہی ان سے نمٹ لوں گا تو ان کی فکر نہ کر یہ ڈھیل دینے کا ذکر ہے۔ قرآن میں کئی جگہ بیان کیا گیا ہے اور حدیث میں بھی وضاحت کی گئی ہے کہ نافرمانی کے باوجود دنیاوی مال و اسباب کی فراوانی، اللہ کا فضل نہیں ہے، اللہ کے قانون پھر جب وہ گرفت کرنے پر آتا ہے تو کوئی بچانے والا نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 42–47

14: ساق پنڈلی کو کہتے ہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں بعض حضرات نے تو یہ فرمایا ہے کہ پنڈلی کا کھل جانا عربی میں ایک محاورہ ہے جو بہت سخت مصیبت پیش آجانے کے لیے بولا جاتا ہے، لہذا مطلب یہ ہے کہ جب قیامت کی سخت مصیبت پیش آجائے گی تو ان کافروں کا یہ حال ہوگا۔ اور بہت سے مفسرین نے اس کا مطلب یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھول دیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی پنڈلی انسانوں کی پنڈلی کی طرح نہیں ہے، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ایک خاص صفت ہے جس کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ بہر حال ! مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی وہ صفت ظاہر فرمائیں گے، اور لوگوں کو سجدے کے لیے بلایا جائے گا، مگر یہ کافر لوگ اس وقت سجدے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فذرنی ............ الحدیث (86 : 55) “ پس اے نبی ! تم اس کلام کے جھٹلانے والوں کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو “۔ مارگئے۔ یہ خوفناک دھمکی ہے اللہ جبار وقہار کی طرف سے ، جو قوی اور مضبوط ہے۔ حضور اکرم ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ چھوڑ دیجئے ان نٹ پونجیوں کو جو اس عظیم کلام کی تکذیب کرتے ہیں۔ میں ان سے لڑوں گا۔ یہ کون تھا جو تکذیب کرتا تھا ؟ یہ وہی انسان ہے جس کی قوت ایک چیونٹی سے بھی کم ہے۔ بلکہ اس پوری کائنات کی نسبت سے یہ تو ایک ذرے کے برابر بھی نہیں ہے جو ہوا میں اڑرہا ہے۔ اللہ قہار وجبار کی قوت کے مقابلے میں ، اس کی عظمت کے مقابلے میں انسان بیچارہ ہے کیا ؟ محمد (ﷺ) تم ان کو میرے لئے چھوڑدو ، آپ اور اہل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی ان کو عذاب ہونا تو یقینی ہے لیکن چندے عذاب کے توقف سے رنج نہ کیجیے اور ان کا معاملہ میرے اوپر چھوڑ دیجیے۔ میں خود ان سے نبٹ لوں گا اور اس طرح بتدریج آہستہ آہستہ دوزخ کی طرف لے جاؤں گا کہ ان کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ یہ اپنی حالت پر مگن رہیں گے اور اندر ہی اندر سکھ کی جڑیں کٹتی چلی جائیں گیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 44–45

آیت 44{ فَذَرْنِیْ وَمَنْ یُّکَذِّبُ بِہٰذَاالْحَدِیْثِ } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ چھوڑ دیجیے مجھے اور ان لوگوں کو جو اس کلام کی تکذیب کر رہے ہیں۔“ جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوچکا ہے اس گروپ کی سورتوں میں یہ کلمہ ذَرْنِیْ ‘ فَذَرْنِیْ اور یہ اسلوب بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے۔ اس میں ایک طرف حضور ﷺ کی دلجوئی کا پہلو ہے تو دوسری طرف آپ ﷺ کے مخالفین کے لیے بہت بڑی وعید ہے ‘ کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان لوگوں کی باتوں سے رنجیدہ نہ ہوں ‘ ان کا معاملہ آپ مجھ پر چھوڑ دیجیے ‘ ان سے میں خود ہی نمٹ لوں گا۔ { سَنَسْتَدْرِجُہُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَ۔ } ”ہم انہیں رفتہ رفتہ وہاں سے لے آئیں گے جہاں سے انہیں علم تک…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

20 (سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ 182؀ښ) 7 ۔ الاعراف :182) استدراج کے لغوی معنی میں دو باتیں بنیادی طور پر پائی جاتی ہیں۔ ایک تدریج، دوسرے آہستگی، یعنی یہ قریشی سردار جو اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ پھر وہ یہ بھی سمجھے بیٹھے ہیں کہ چونکہ وہ خوشحال اور آسودہ ہیں۔ لہذا ان کا پروردگار ان پر مہربان ہے۔ حالانکہ اللہ انہیں آہستہ آہستہ ہلاکت اور تباہی کی طرف لیے جارہا ہے۔ اور جن چیزوں کو وہ اللہ کے انعامات سمجھ رہے ہیں وہ دراصل ان کی ہلاکت کا سامان ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 44–45

26۔ (اور عذاب و گرفت میں جو توقف ہورہا ہے اس کی آپ کچھ فکر نہ کیجئے) (آیت) ” فذرنی .... الحدیث “۔ یعنی آپ ہمارے ہی اوپر ہر طرح اعتماد و توکل رکھیے ان سارے مجرموں اور منکروں سے نپٹ لینے کے لئے ہم ہی کافی ہیں۔ (آیت) ” سنستدرجھم “۔ ہماری مشیت تکوینی انہیں آہستہ آہستہ دوزخ کی طرف لئے جارہی ہے۔ (آیت) ” واملی لھم “۔ یعنی انہیں تو مہلت دی جارہی ہے اور یہ نہیں ہوتا، کہ فورا ہی ان پر دنیا میں عذاب نازل کردیاجائے۔ (آیت) ” من حیث لایعلمون “۔ کافروں اور منکروں کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ انہیں احساس ہی نہیں کہ حکمت الہی انہیں چپکے چپکے کدھر لئے جارہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 44–47

فذرنی ومن یکذب بھذا الحدیث مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ ان سے نمٹنے کی فکر میں نہ پڑیں، ان سے نمٹنا میرا کام ہے یعنی آپ ﷺ قیامت کو جھٹلانے والوں کو اور مجھے چھوڑ دیں، پھر دیکھیں کہ ہم کیا کرتے ہیں، یہاں چھوڑ دینا ایک محاورہ کے طور پر استعمال ہوا ہے، مراد اس سے اللہ پر بھروسہ اور توکل کرنا ہے، یعنی کفار کی جانب سے جو یہ مطالبہ بار بار پیش ہوتا رہتا ہے کہ ہم اگر واقعی اللہ کے نزدیک مجرم ہیں اور اللہ ہمیں عذاب دینے پر قادر ہے تو پھر ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا ؟ ایسے دل آزار مطالبوں کی وجہ سے کبھی کبھی خود رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک میں بھی یہ خیال پیدا ہوتا ہوگا کہ ان لوگوں پر اسی وقت عذاب آجائے تو باقی ماندہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فذرنی ومن یکذب بھذا الحدیث . یہ جملہ معترضہ ہے۔ الحدیث سے مراد قرآن مجید ہے۔ اس جملہ میں کافروں کے لیے وعید اور رسول اللہ ﷺ کے لیے تسکین بخش حکم ہے۔ یعنی اے پیغمبر ! آپ فکر مند نہ ہوں ‘ کافروں کا معاملہ میرے سپرد کردیں۔ میں آپ کی طرف سے ان سے نمٹ لوں گا۔ سنستدرجھم . ھُمْ کی ضمیر (جمع) مَنْ کی طرف معنوی اعتبار سے راجع ہے (یعنی من کا لفظ اگرچہ مفرد ہے لیکن معنی کے لحاظ سے جمع ہے اس لیے جمع کی ضمیر کا اس کی طرف رجوع صحیح ہے) ۔ دَرْجٌ (مصدر) کاغذ یا کپڑے کو لپیٹنا لیکن اسم مفعول کے معنی میں مستعمل ہے یعنی لپیٹا ہوا ‘ جس طرح لفظ طی سے موت مراد ہوجاتی ہے اسی طرح بطور استعارہ لفظ درج بھی موت کے لیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

سو محمد مجھ کو اور جو اس کتاب یعنی قرآن کریم کو جھٹلاتے اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں رہنے دیجیے ہم انہیں دوزخ کی طرف لے جارہے ہیں اس طور پر کہ ان کو خبر نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 44–45

فذرنی ومن یکذب بھذا الحدیث…: یعنی جھٹلانے والوں کو سزا دینے میں اگر تاخیر ہو رہی ہے تو آپ فکر مت کریں، انہیں ہمارے سپرد کردیں، پھر ہم جانیں اور وہ ”سنستدرجھم“ ہم انہیں درجہ بدرجہ ہلاکت کی طرف لے جائیں گے، یعنی ہم انہیں عمر، صحت اور دوسری نعمتیں مسلسل دیتے جائیں گے، وہ شکر کے بجائے کفر میں بڑھتے جائیں گے اور انجام کار جہنم میں پہنچ جائیں گے۔ کفر و فسق کے باوجود نعمتیں بڑھتی جائیں تو یہ اللہ کی طرف سے استدراج اور اس کی خفیہ تدبیر ہے۔ دیکھیے سورة مومنون (56) ، انعام (44) اور سورة اعراف (183)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فذرنی مجھے چھوڑ دیجیے و من یکذب من مفعول معہ ہے یا ضمیر متکلم پر معطوف ہے بھذا الحدیث مراد قرآن حکیم ہے، یہ سدی کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد یوم قیامت ہے۔ یہ نبی کریم ﷺ کو تسلی دینا مقصود ہے یعنی میں انہیں اجازت دیتا ہوں اور ان سے اتنقام لیتا ہوں۔ پھر فرمایا، سنستدرجھم من حیث لایعلمون۔ اس کا معنی ہے ہم اس کی غفلت میں اسے پکڑ لیں گے جبکہ وہ پچانتے تک نہ ہوں گے پس انہیں بدر کے دن عذاب میں مبتلا کیا گیا (4) حضرت سفیان ثوری نے کہا، ہم ان پر نعمتیں بہائیں گے اور شکر کرنا انہیں بھلا دیں گے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : کتنے ہی لوگ ہیں جن پر احسان کرنے کے ساتھ ان کے ساتھ استدراج کیا جاتا ہے (5)…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 43–47

23۔ ابن مردویہ نے کعب الحبر (رح) سے روایت کیا کہ اس ذات کی قسم ! جس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات اتاری اور انجیل عیسیٰ (علیہ السلام) پر اور زبور داوٗد (علیہ السلام) اور فرقان محمد ﷺ پر اتاری۔ کہ یہ آیات فرض نمازوں کے بارے میں اتاری گئیں۔ جب ان کے ساتھ آواز لگائی جاتی ہے۔ اور آیت یوم یکشف عن ساق۔ سے لے کر آیت وقد کانوا یدعون الی السجود وہم سلمون تک سے مراد ہے پانچوں نمازیں ہیں جب ان کے ساتھ اذان دی جاتی ہے۔ 24۔ بیہقی نے شعب الایمان میں سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقد کانوا یدعون الی السجود سے مراد ہے وہ نمازیں جو جماعت کے ساتھ پڑھی جائیں۔ 25۔ بیہقی نے ابن عباس ؓ سے آیت وقدکانوا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَذَرْنِيْ : تو آپ چھوڑ دیں مجھ کو ][ وَمَنْ يُّكَذِّبُ : اور اس کو جو جھٹلاتا ہے ][ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ ۭ : اس بات (قرآن) کو ][سَنَسْتَدْرِجُهُمْ : ہم بتدریج لے جائیں گے ان کو (خسران میں)][ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ : جہاں سے یہ لوگ جانتے نہیں ہیں ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 44 ۔ میں ہے کہ آپ جھٹلانے والوں کو اور مجھے چھوڑ دیں۔ یہاں چھوڑنا ایک محاورہ کے طور پر فرمایا گیا ہے۔ مراد اس سے اللہ پر بھروسہ کرنا ہے۔ اور اس کا حاصل کلام یہ ہے کہ کفار کی طرف سے یہ مطالبہ بھی پیش ہوا کرتا تھا کہ اگر ہم واقعی اللہ کے مجرم ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمیں عذاب دینے پر قادر ہے تو پھر ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا۔ اس پر یہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 44–45

مکذبین کے لیے استدراج اور ان کی مہلت ان آیات میں منکرین اور مکذبین کو وعید سنائی ہے اور پیرایہ ایسا اختیار کیا ہے کہ بظاہر رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہے اور اس ضمن میں آپ کی تسلی بھی مضمر ہے ارشاد فرمایا ہے کہ مجھے اور ان لوگوں کو رہنے دیجئے جو اس کلام کو جھٹلاتے ہیں یعنی عذاب آنے میں جو دیر لگ رہی ہے آپ اس سے رنجیدہ نہ ہوں، ہم انہیں بتدریج جہنم کے عذاب کی طرف لے جا رہے ہیں اور وہ بھی اس طور پر کہ انہیں خبر بھی نہیں، انہیں مہلت دی جا رہی ہے انہوں نے اس مہلت کو اپنے لیے فائدہ مند سمجھ رکھا ہے اور دنیا کی نعمتوں اور لذتوں میں پڑ کر اپنی جانوں کو کامیاب سمجھ رہے ہیں حالانکہ سراسر ناکامی اور عذاب کی طرف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–52

بشارت اہل ایمان وتقوی بنعماء جنت وتذلیل وتوہین کفار ومشرکین درروز آخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان للمتقین عندربھم .......... الی ........ الاذکر للعلمین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں ان منکرین ومکذبین کا ذکر تھا جو دولت کے نشہ میں مست ہو کر اللہ کی نافرمانی پر کمر بستہ ہوئے رسول خدا ﷺ کی توہین وتذلیل کی تو انکی نافرمانی اور غرور کا انجام ہلاکت ایک تاریخی واقعہ کی شکل میں بیان فرمایا گیا اب ان آیات میں اہل تقوی و ایمان کا اعزاز واکرام اور جنت میں حق تعالیٰ شانہ ان کو کیسی کیسی نعمتوں سے نوازے گا بیان فرمایا جارہا ہے پھر اسی کے ساتھ تنبیہ کے طور پر مجرمین ومنکرین کا قیامت کے روز کیسا برا انجام…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 44–45

21:۔ ” فذرنی “ یہ سزا دینے پر تمکن وقدرت سے کنایہ ہے۔ مجھے چھوڑو تو سہی میں ان جھٹلانے والوں کے لیے کافی ہوں اور میں ان کو ٹھیک کرلوں گا ہم ان کو مہلت دیں گے اور ان کو نعمتوں سے نوازیں گے اور ان کو معلوم بھی نہ ہوگا کہ یہ ان کے لیے استدراج ہے اور پھر ہم ان کو اچانک پکڑ لیں۔ میری تدبیر ایسی محکم ہے کہ کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ کی کید سے مراد انتقام ہے بصورت انعام و امہال فالکید من اللہ الانتقام بصورۃ الانعام (مظہری ج 10 ص 43) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 42–47

گذشتہ سے پیوستہ (ربطہ) : پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفر و شرک کرنے والوں کا رد فرمایا ۔ کافروں کے اس خیال کی تردید فرمائی جس کے مطابق وہ کہتے تھے کہ چونکہ ہم دنیا میں برتر ہیں لہٰذا آگے بھی ہم ہی برتر ہونگے فرمایا کہ فرمانبردار اور مجرم کیسے ہو سکتے ہیں ۔ یہ بات عقل اور نقل دونوں کے خلاف ہے۔ پھر مطالبہ کیا کہ تمہارے پا س کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہے تو پیش کرو۔ دنیا کا کوئی عقلمند اس بات کو تسلیم نہیں کرے گا کہ مجرم اور فرمانبردار ایک جیسے ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے متقیوں کے لیے مقرر کردہ نعمتوں اور ان کی کامیابی کا حال بیان کیا ۔ عبادت کا اثر اسکی صحت پر منحصر ہے : ان آیتوں میں شرک اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَذَرْنِيْ وَمَنْ يُّكَذِّبُ بِہٰذَا الْحَدِيْثِ۝ 0 ۭ سَنَسْتَدْرِجُہُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ۝ 44 ۙ وذر [يقال : فلان يَذَرُ الشیءَ. أي : يقذفه لقلّة اعتداده به ] ، ولم يستعمل ماضيه . قال تعالی: قالُوا أَجِئْتَنا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ ما کانَ يَعْبُدُ آباؤُنا[ الأعراف/ 70] ، وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] ، فَذَرْهُمْ وَما يَفْتَرُونَ [ الأنعام/ 112] ، وَذَرُوا ما بَقِيَ مِنَ الرِّبا[ البقرة/ 278] إلى أمثاله وتخصیصه في قوله : وَيَذَرُونَ أَزْواجاً [ البقرة/ 234] ، ولم يقل : يترکون ويخلّفون، فإنه يذكر فيما بعد هذا الکتاب إن شاء اللہ . [ والوَذَرَةُ : قطعة من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 42–47

ترکیب : یوم منصوب امابقولہ فلیاتوا واما باذکر ویدعون معطوف علی یکشف۔ فلایستطیعون جواب یوم یکشف خاشعۃ بالنصب علی انھا حال من ضمیر یدعون ابصارھم مرفوع علی انہ فاعل خاشعۃ ونسبۃ الخشوع الی الابصار بظھور اثرہ فیھا وھم سالمون الجملۃ حال من فی یدعون ومن منصوب محلا عطفا علی الضمیر المنصوب فی ذرنی۔ تفسیر : اس کے بعد قیامت کا ہولناک واقعہ بیان فرماتا ہے کہ اس روز ان کے افتراء اور خیالی ڈھکوسلوں کا یہ نتیجہ ہوگا۔ فقال یوم یکشف عن ساق ویدعون الی السجود فلایستطیعون کہ جس دن پردہ کھل جائے گا اور وہ سجدے کے لیے بلائے جائیں گے تو سجدہ نہ کرسکیں گے۔ ساق کیا ہے : ساق کے لغوی معنی پنڈلی کے ہیں پھر کیا یہ حقیقت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 44–45

فَذَرْنِیْ وَمَنْ یُّـکَذِّبُ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ ط سَنَسْتَدْرِجُھُمْ مِّنْ حَیْثُ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ وَاُمْلِیْ لَھُمْ ط اِنَّ کَیْدِیْ مَتِیْنٌ۔ (القلم : 44، 45) (پس اے نبی ! اس کلام کے جھٹلانے والوں کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دیجیے، ہم ان کو آہستہ آہستہ لارہے ہیں، وہاں سے جہاں سے وہ نہیں جانتے۔ میں ان کی رسی دراز کر رہا ہوں بیشک میری تدبیر نہایت محکم ہوتی ہے۔ ) منکرین کو دھمکی اور استدراج کا مفہوم اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم کے جھٹلانے والوں کو دھمکی بھی ہے اور آنحضرت ﷺ کو تسلی بھی۔ گزشتہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ جب انھیں ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ اگلوں کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 42–45

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ بدعقیدہ اور برا کردار رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو جنت کا مالک اور مسلمانوں سے بہتر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں انہیں قیامت کے دن معلوم ہوجائے گا کہ حقیقت کیا ہے۔ محشر کے میدان میں ایک مرحلہ ایسا بھی آئے گا جب لوگوں کے سامنے کافر اور مومن، مشرک اور موحِّد، بد اور نیک کے درمیان فرق ظاہر کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی سے نور کے پردے ہٹائیں گے۔ اللہ تعالیٰ جونہی اپنی پنڈلی کو جلوہ گر کریں گے تو موحّد نمازی اللہ کے حضور سربسجود ہوجائیں گے۔ موحّد نماز یوں کو سربسجود ہوتے دیکھ کر کافر، مشرک، منافق اور بےنماز بھی سجدہ کرنے کی کوشش کریں گے لیکن ان کی کمریں پتھر کی طرح سخت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

44 : فَذَرْنِیْ (پس رہنے دو مجھ کو) عرب کے لوگ ذرنی وایاہ بولتے ہیں۔ مطلب یہ ہوتا ہے اس کو میرے حوالے کرو میں اس سے نپٹ لوں گا۔ وَمَنْ یُّکَذِّبُ (اور اس کو جو جھٹلاتے ہیں) اس کا مفعول پر عطف ہے یا یہ مفعول معہ ہے۔ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ (اس کلام کو) مراد قرآن مجید ہے۔ مقصد یہ ہے اس کا معاملہ میرے اوپر چھوڑ دو ۔ میں اس کو جانتا ہیں جو کچھ اس کے ساتھ کرنا ہے اور اس کی طاقت رکھتا ہوں آپ اس کی وجہ سے اپنے دل کو پریشان مت کریں اور انتقام میں مجھ پر توکل کریں۔ اس میں مکذبین کو تہدید کی گئی اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے۔ استدراج کی حالت : سَنَسْتَدْرِجُھُمْ (ہم ان کو بتدریج لئے جارہے ہیں) درجہ بدرجہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

43 ۔” خاشعۃ ابصارھم “ کیونکہ مومنین اپنے سروں کو سجدوں سے اٹھائیں گے اور ان کے چہرے برف سے زیادہ سفید ہوں گے اور کافروں اور منافقوں کے چہرے سیاہ ہوں گے۔ ” ترھقھم ذلۃ “ ان پر ندامت و حسرت کی ذلت چھائی ہوئی ہوگی۔ ” وقد کانوا یدعون الی السجود “ ابراہیم تیمی (رح) کہتے ہیں یعنی فرض نمازوں کی طرف اذان و اقامت کے ذریعے اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں وہ ” حی علی الصلوٰۃ “ اور ” حی علی الفلاح “ سنتے ہیں ان کا جواب نہیں دیتے۔ ” وھم سالمون “ تندرست ہیں پھر بھی نماز میں نہیں آتے۔ کعب احبار (رح) فرماتے ہیں اللہ کی قسم ! یہ آیت جماعت سے پیچھے رہ جانے والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 42–47

42۔ 46۔ مشرکین مکہ کی اس بات کا اوپر ذکر تھا جو وہ مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ اگر مرنے کے بعد پھر جینا اور میوے کھانے کے لئے باغوں کا ملنا سچ ہے تو دنیا میں جس طرح ہم لوگ بہ نسبت ان غریب مسلمانوں کے خوشحالی سے گزران کرتے ہیں اسی طرح آخرت میں بھی ہم اچھی طرح رہیں گے ان مشرکوں کی اس بات کا جواب اللہ تعالیٰ نے اوپر کی آیتوں میں دیا تھا دوسرا جواب ان آیتوں میں یہ دیا ہے کہ اصلی کافروں کو تو آخرت میں خوشحالی کا ملنا درکنار جو لوگ ظاہر میں اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دین کا پورا یقین نہیں ہے اور اس ادھورے یقین کے سبب سے وہ جو کچھ کرتے ہیں وہ محض دنیا کے دکھاوے کے لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 42–45

یعنی جب قیامت کا دن ہوگا اور ایسے ایسے زلزلے اور ہولناکیاں ظاہر ہوں گی جو وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتیں، باری تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کرنے اور ان کو جزا وسزا دینے کے لیے تشریف لائے گا، پس وہ اپنی مکرم پنڈلی کو ظاہر کرے گا جس سے کوئی چیز مشابہت نہیں رکھتی، لوگ اللہ تعالیٰ کا جلال اور عظمت دیکھیں گے جس کی تعبیر ممکن نیہں۔ یہی وہ وقت ہوگا جب ان کو سجدے کے لیے کہا جائے گا مومن اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوجائیں گے جو (دنیا میں) اپنی مرضی اور اختیار سے سجدہ کیا کرتے تھے۔ منافق اور فاجر سجدہ کرنے کی کوشش کریں گے مگر وہ سجدہ کرنے پر قادر نہیں ہوں گے ان کی کمریں ایسی ہوجائیں گی جیسے گائے کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–52

قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

37 منکرین کیلئے تہدید و وعید اور پیغمبر (علیہ السلام) کیلئے تسلیہ و تسکین : سو ارشاد فرمایا گیا اور پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ چھوڑ دو ان لوگوں کو اور میرے حوالے کردو ان کا معاملہ میرے حوالے کردو اور ان لوگوں کو جو جھٹلاتے ہیں اس کلام حق ترجمان کو۔ اور ان کی فکر مت کرو ‘ ان سب سے میں خود ٹھیک ٹھیک اور نہایت مناسب طریقے سے اور صحیح وقت پر پوری طرح نبٹ لوں گا ‘ اور میں ہی جانتا ہوں کہ کس کا جرم کتنا ہے اور کون کتنی اور کس طرح کی سزا کا مستحق ہے ‘ اور کس کو کتنی ڈھیل دی جائے ‘ وغیرہ سو اس ارشاد میں ایک طرف تو ان منکرین و مکذبین کیلئے سخت دھمکی ہے اور دوسری طرف اس میں پیغمبر ﷺ کیلئے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 36–52

کفار کی خوش فہمیاں، نبی ﷺ کو صبر کی تلقین تشریح : پچھلی آیات میں مسلمان اور کافر کی سزا و جزا کو علیحدہ علیحدہ کر کے بتا دیا گیا ہے کہ یہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ کیونکہ ہم یعنی کفار مکہ کے سردار دنیا میں امیر کبیر ہیں تو اس لیے ہیں کہ ہم سے اللہ خوش ہے تو اس نے ہمیں یہ تمام نعمتیں دے رکھی ہیں اس لیے آخرت اگر آئی تو وہاں بھی ہمیں کسی تحریر میں رب العزت نے ان سے اس بات کا وعدہ کر رکھا ہے کہ ان کو تو انعام و اکرام دئیے جائیں گے اور مسلمان کیونکہ یہاں اس دنیا میں کچھ کم حیثیت ہیں اس لیے آخرت میں بھی ان کو کچھ نہیں ملے گا۔ کچھ ہی دیر کی بات ہے بہت جلد سب کچھ سامنے آنے والا ہے (جب ساق کھول دی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 34–52

آیات 34 تا 52۔ اسرار ومعارف۔ اور جو لوگ عظمت الٰہی کا اقرار کرلیتے ہیں ان کی خاطر تو ان کے پروردگار نے جنت کی نعمتیں سجارکھی ہیں جو لوگ اطاعت گزار اور حکم بجالانے والے ہیں بھلامجرم ان کی برابری کس طرح کرسکتے ہیں کہ تم اے کفار برائی پہ اچھے نتیجے کی امید رکھتے ہو تمہاری یہ رائے قطعی غلط ہے کیا اس کے لیے تمہارے پاس کوئی نقلی دلیل ہے عقلا تو ویسے محال ہے تو کیا کسی آسمانی کتاب میں تمہیں یہ حق دیا گیا ہے کہ اپنے لیے بہتری چن لو یا اللہ نے قیامت تک کوئی قسم کھارکھی ہے کہ تم جو مانگو ملے گا بھلا تمہارے پاس ایسی باتوں کی کیا ضمانعت ہے ؟ یا کوئی اور ہستی ایسی ہے جو اللہ کی شریک ہے اس نے تمہیں وعدہ دے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یعنی دنیا میں ان کے لئے طرح طرح کی عیش و آرام کے اسباب فراہم کریں گے تاکہ وہ اور زیادہ غافل ہوجائیں اور پھر آخر کار جہنم میں چلے جائیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا استدراج اور مکر ہے جس کا متعدد آیات میں ذکر کیا گیا ہے۔ (مومنوں 56 انعام آیت 44 ۔ اعراف 183)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(68:44) فذرنی :سببیہ ہے ذر فعل امر، واحد مذکر حاضر، وذر (باب سمع، فتح) مصدر سے۔ تو چھوڑ دے۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم ۔ تو مجھے چھوڑ دے۔ اس کی ماضی نہیں آتی ۔ ومن یکذب بھذا الحدیث۔ واؤ عاطفہ من موصولہ محل نصب میں ہے ۔ اس کا عطف ی ضمیر مفعول واحد متکلم پر ہے۔ یکذب مضاف واحد مذکر غائب تکذیب (تفعیل) مصدر۔ ھذا اسم اشارہ قریب۔ واحد مذکر ۔ الحدیث : ای القران ، اور (چھوڑ) اس کو جو اس قرآن کی تکذیب کرتا ہے۔ اس کو جھٹلاتا ہے ۔ یعنی ایسوں سے نمٹنے کی فکر میں مت پڑو ان سے نمٹنا میرا کام ہے۔ سنستدرجھم : س مضارع پر داخل ہوکر مستقبل کیلئے خاص کردیتا ہے اور اس کو زمانہ حال سے قریب کردیتا ہے۔ بمعنی اب،…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 42–52

لغات القرآن۔ یکشف۔ کھول دیا جائے گا۔ ساق۔ پنڈلی۔ یدعون۔ وہ بلائے جائیں گے۔ خاشعۃ۔ جھکنے والی۔ ترھق۔ وہ ڈھانپ لیتی ہے۔ سالمون۔ صحیح سالم۔ ہٹے کٹے۔ ذرنی۔ مجھے چھوڑو۔ نستدرج۔ ہم آہستہ آہستہ لئے جاتے ہیں۔ املی۔ میں نے مہلت دی۔ کیدی۔ میری تدبیر۔ مغرم۔ تاوان۔ مثقلون۔ بوجھ کے نیچے دبے ہوئے۔ صاحب الحوت۔ مچھلی والا (حضرت یونس (علیہ السلام) ) ۔ مکظوم۔ غم میں گھونٹ دیا گیا۔ العرائ۔ چٹیل میدان۔ یزلقون۔ وہ جگہ سے ہٹے ہیں۔ پھسل جاتے ہیں۔ تشریح : جب کفار و مشرکین اور منافقین کے سامنے رسول اللہ ﷺ کلام اللہ کو پیش کرتے تو وہی مکہ کے لوگ جو ان کو صادق و امین کہتے اور ان کی فہم و فراست کے گن گایا کرتے تھے آپ پر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 44–45

(ف 1) جو لوگ قرآن کو جھٹلاتے ہیں آپ ان کا معاملہ میرے اوپر چھوڑ دیجئے میں خود ان سے سمجھ لوں گا اور اس طرح بتدریج آہستہ آہستہ دوزخ کی طرف لے جاؤں گا کہ ان کو پتہ بھی نہ چلے گا یہ اپنی حالت پر مگن رہیں گے اور اندر ہی اندر سکھ کی جڑیں کٹتی چلی جائیں گی ان کو چند دنوں کی ڈھیل دے رکھی ہے اس میں اگر وہ راہ راست پر نہ آئے تو پھر میری خفیہ تدبیرایسی ایسی زبردست اور مستحکم ہے جس کو یہ لوگ سمجھ بھی نہیں سکتے بھلا اس کو توڑ تو کیا کرسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 44–46

[12] یعنی ان مکذبین قرآن کا معاملہ ہمارے اوپر چھوڑ دو ۔ ان سے نمٹنا ہمارا کام ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 42–44

ف 1: فرمایا ۔ ان عبادت ناآشنا لوگوں کو جب اس وقت دعوت سجود دی جائے گی ۔ جب کہ قیامت کے اہوال شدتوں پر ہوں گے ۔ تو اس وقت ان کی جبشیں قطعاً نہیں جھک سکیں گی ۔ ان کی نظریں مارے شرم وندامت کے زمین بوس ہوں گی ۔ اور ان پر ذلت ومقارت چھارہی ہوگی ۔ اس وقت ان کو معلوم ہوگا ۔ کہ دنیا میں باوجود تندرستی اور صحت و توانائی کے ذوق عبادت سے محرومی کتنا بڑا جرم تھا ۔ فرمایا ۔ یہ لوگ آج ان حقائق کو جھٹلاتے ہیں ۔ مگر بتدریج غیر محسوس طریق پر یہ لوگ جہنم کی طرف لپکے ہوئے جارہے ہیں ۔ حل لغات :۔ تدرسون ۔ پڑھتے ہو زعیم ۔ ذمہ دار ، ضامن یکشف عن ساق ۔ حضرت ابن عباس سے پوچھا گیا ۔ کہ کشف عن الساق کے کیا معنے ہیں ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(44) پس اے پیغمبر آپ مجھ کو اور ان لوگوں کو جو اس کلام کی تکذیب کرتے ہیں چھوڑ دیجئے ہم ان کو اس طرح بتدریج عذاب کی طرف لے جائیں گے جس کی ان کو خبر بھی نہ ہوگی ۔ یعنی آپ ان کے معاملے کو مجھ پر چھوڑ دیجئے اور مجھ پر بھروسہ کیجئے میں ان سے بدلہ اور انتقام لینے کے لئے کافی ہوں میں ان کو جہنم اور عذاب کی طرف آہستہ آہستہ اس طور پر لے جارہا ہوں کہ ان کو اس کا علم بھی نہیں۔ استدراج اندک اندک نزدیک گردانیدن آپ کو کوئی تشویش نہ ہو آپ اپنی طبیعت پر کسی قسم کا بار نہ ڈالئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 43–47

ف 4۔ دنیا میں امتثال امر نہ کرنے سے آج ان کو یہ رسوائی و ذلت ہوئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ سمجھے اور اس کتاب کے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیں ہم ان کو دوزخ کی طرف لے جائیں گے 44 ؎ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ انسان کو ٹھوکر لگتی ہے اور وہ منہ کے بل گرتا ہے ، اس کو تکلیف پہنچتی ہے اور بعض کا زیادہ ہی نقصان ہوجاتا ہے تاہم اگر اس کی قسمت باور کرے اور اس کا مقدر درست ہو تو ایسے لوگ اس ٹھوکر سے سنبھل جاتے ہیں جیسے ان لوگوں کی حالت تھی جو پیچھے باغ والوں کی تمثیل میں بیان کئے گئے کہ ان کا نقصان ہوا لیکن بات ان کی سمجھ میں آگئی۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کو ٹھوکر لگتی ہے لیکن وہ سنبھلنے کی بجائے ٹھوکر میں مزید پختہ ہوجاتا ہے اور اپنے نظریہ کو قطعاً نہیں بدلتا بلکہ جوں جوں ان کی رسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 44–47

فَذَرْ‌نِي وَمَن يُكَذِّبُ بِهَـٰذَا الْحَدِيثِ (So, leave Me alone with those who reject this discourse. We will draw them on little by little (towards Hell) from a way they do not know.... 68:44). Here the phrase 'So, leave me alone' in the original Arabic is an idiomatic expression which signifies 'Rely on Allah'. The disbelievers often demanded Divine punishment arguing that if they are really guilty in the sight of Allah, and if He has the power to punish, then why the punishment does not befall them forthwith. These were heart-rending demands on account of which the thought probably…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

26 That is, "Do not worry yourself as to how to deal with them; it is for Me to see how to chastise them. " 27 A form of leading somebody to ruin in imperceptible ways is that an enemy of the Truth and wicked person may be blessed in the world, and be granted health, wealth, children and worldly successes, by which he may be deluded into believing that whatever he is doing, he is doing well and right: there is nothing wrong with his acts and deeds. Thus, he may go on getting more and more deeply involved in enmity of the truth and wickedness and rebellious conduct and may not realize that the…

Read the full tafseer →