Explained with ayahs 34–41
گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے
اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لئے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں، پھر فرماتا ہے کیا ہوسکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہوجائیں ؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہوسکتا، کیا ہوگیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو ؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور…
Read the full tafseer →سورة الْقَلَم 20
یعنی یہ بات عقل کے خلاف ہے کہ خدا فرمانبردار اور مجرم میں تمیز نہ کرے۔ تمہاری سمجھ میں آخر کیسے یہ بات آتی ہے کہ کائنات کا خالق کوئی اندھا راجہ ہے جو یہ نہیں دیکھے گا کہ کن لوگوں نے دنیا میں اس کے احکام کی اطاعت کی اور برے کاموں سے پرہیز کیا اور کون لوگ تھے جو اس سے بےخوف ہو کر ہر طرح کے گناہ اور جرائم اور ظلم و ستم کرتے رہے ؟ تم نے ایمان لانے والوں کی خستہ حالی اور اپنی خوشحالی تو دیکھ لی، مگر اپنے اور ان کے اخلاق و اعمال کا فرق نہیں دیکھا اور بےتکلف حکم لگا دیا کہ خدا کے ہاں ان فرمانبرداروں کے ساتھ تو مجرموں کا سا معاملہ کیا جائے گا، اور تم جیسے مجرموں کو جنت عطا کردی جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–43
قرآن کریم کے اس لفظ نے اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِيْنَ كَالْمُجْرِمِيْنَ ، اس حقیقت کو واضح کردیا کہ عقلاً یہ ہونا ضروری ہے کہ کوئی ایسا وقت آئے جہاں سب کا حساب ہو اور جہاں مجرموں کے لئے کوئی چور دروازہ نہ ہو اور جہاں انصاف ہی انصاف ہو اور نیک و بد کا کھل کر امتیاز واضح ہو اور اگر یہ نہیں ہے تو دنیا میں کوئی برا کام برا نہیں اور کوئی جرم جرم نہیں اور پھر خدائی عدل و انصاف کے کوئی معنے نہیں رہتے۔
اور جب قیامت آنا اور اعمال کی جزاء و سزا ہونا یقینی ہوگیا تو آگے کچھ اہواں قیامت اور مجرمین کی سزا کا ذکر کیا گیا ہے جس میں قیامت کے دن کشف ساق کا اعجاز بیان ہوا ہے اس کی حقیقت خلاصہ تفسیر میں آ چکی ہے۔
Read the full tafseer →جزا اور سزا کا انکار انسان کی فطرت اور عقل کے خلاف ہے:
یہ ان مستکبرین سے بانداز تعجب سوال ہے کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے، تمہاری عقل کہاں کھوئی گئی ہے کہ تم اس قسم کے فیصلے کرنے لگے ہو! مطلب یہ ہے کہ اگر تم آخرت اور جزا و سزا نہیں مانتے، تمہارے نزدیک زندگی بس اسی دنیا کی زندگی ہے، یہ یونہی چلتی رہے گی یا یونہی ایک دن تمام ہو جائے گی تو اس کے معنی یہ ہیں کہ تم اس کے خالق کو عدل اور رحم کی صفات سے عاری سمجھتے ہو جس کو اس امر سے کوئی بحث نہیں کہ کس نے نیکی کی زندگی گزاری اور کس نے بدی کی۔ اگر تمہارا فیصلہ یہ ہے تو سوچو کہ یہ فیصلہ عقل اور فطرت سے کتنا بعید ہے! یہ کتنی بڑی تہمت ہے جو اس کائنات کے خالق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
35۔ 1 مشرکین مکہ کہتے تھے کہ اگر قیامت ہوئی تو وہاں بھی ہم مسلمانوں سے بہتر ہی ہونگے، جیسے دنیا میں ہم مسلمانوں سے زیادہ آسودہ حال ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا، یہ کس طرح ممکن ہے ہم مسلمانوں کو یعنی اپنے فرماں برداروں کو مجرموں یعنی نافرمانوں کی طرح کردیں گے مطلب یہ ہے کہ یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ عدل وانصاف کے خلاف دونوں کو یکساں کردے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
12: اس آیت سے بطاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعے کے بعد انہوں نے توبہ کرلی تھی۔
Read the full tafseer →مالکم ............ تحکمون (86 : 63) ” تم لوگوں کو کیا ہوگیا ہے تم کیسے حکم لگاتے ہو “۔ یعنی آخر تمہیں کیا ہوگیا ہے ، تمہاری عقل کیوں کام نہیں کررہی ہے۔ تم فیصلے کن دلائل پر کرتے ہو ؟ آخر حسن وقبح کے پیمانے تمہارے ہاں کیا ہیں ؟ کہ تمہارے میزان کے مطابق ایک مسلم اور مجرم برابر ہے .... اس سرزنش اور استکاری سوالات کے بعد اب قرآن کے ساتھ مزاحیہ انداز اختیار کرتا ہے کہ یہ کسی سنجیدہ گفتگو کے قابل ہی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
1 کفار مکہ نے غرور وتکبر سے اپنے دل میں یہ ٹھہرا رکھا تھا کہ اگر قیامت کے دن مسلمانوں پر عنایت و بخشش ہوگی تو ہم پر ان سے بہتر اور بڑھ کر ہوگی۔ اور جس طرح دنیا میں ہم کو اللہ نے عیش و رفاہیت میں رکھا ہے وہاں بھی یہ ہی معاملہ رہے گا۔ اس کو فرمایا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے اگر ایسا ہو تو یہ مطلب ہوگا کہ ایک وفادار غلام جو ہمیشہ اپنے آقا کی حکم برداری کے لیے تیار رہتا ہے، اور ایک جرائم پیشہ باغی دونوں کا انجام یکساں ہوجائے، بلکہ مجرم اور باغی، وفاداروں سے اچھے رہیں یہ وہ بات ہے جس کو عقل سلیم اور فطرت صحیحہ رد کرتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
آیت 36{ مَا لَـکُمْقف کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ۔ } ”تمہیں کیا ہوگیا ہے ‘ تم کیسے حکم لگاتے ہو ؟“
کیا تمہاری َمت ماری گئی ہے جو ایسی رائے بناتے ہو ؟ کیا اللہ کے ہاں ایسا ہی اندھیر مچاہوا ہے کہ وہاں مسلمین اور مجرمین برابر ہوجائیں گے ؟ کیا دنیا میں کہیں ایسا ہوتا ہے کہ کوئی حکومت اپنے باغیوں اور اپنے وفاداروں کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
17 خوشحال لوگوں کی ایک عام غلط فہمی :۔ قریشی سردار یہ سمجھتے تھے کہ انہیں جو آسودگی اور خوشحالی حاصل ہے تو یہ ان کے مشرکانہ مذہب کی سچائی پر دلیل ہے۔ پھر یہ معاملہ اتنا ہی نہ تھا بلکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر موت کے بعد ہمیں اٹھایا بھی گیا اور دوسری زندگی حاصل ہوئی تو اللہ وہاں بھی ہم پر مہربانیاں کرے گا۔ جو پروردگار ہم پر آج مہربان ہے کیا وجہ ہے کہ وہ اس اخروی زندگی میں ہم پر مہربان نہ ہو۔ اس آیت میں ان کے اسی قول کا جواب دیا جارہا ہے کہ یہ کیسی خلاف عقل بات ہے کہ اللہ قیامت کے دن اپنے فرمانبرداروں اور اپنے باغیوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
20۔ (جو اتنے کھلے ہوئے فرق کو محسوس نہیں کرتے) مطلب یہ ہوا کہ متقین کو یہ درجہ اگر نہ ملے تو گویا مطیع ونافرمان دونوں برابر ٹھہرے (آیت) ” المسلمین “۔ یہ مراد وہ لوگ ہیں جو عادتا مطیع حق رہے ہیں۔ (آیت) ” المجرمین “۔ مراد وہ لوگ ہیں جو عادتا نافرمان و قانون شکن رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
ترجمہ : (آئندہ آیت) اس وقت نازل ہوئی جب مشرکین نے کہا، اگر ہم کو دوبارہ زندہ کیا گیا تو تم سے بہتر ہم کو عطا کیا جائے گا، پرہیزگاروں کے لئے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنتیں ہیں، کیا ہم مسلمین اور مجرمین کو برابر کردیں گے ؟ یعنی گنہگاروں کو مسلمانوں کے برابر کردیں گے ؟ تمہیں کیا ہوگیا ؟ تم یہ فاسد فیصلے کیسے کر رہے ہو ؟ بلکہ کیا تمہارے پاس نازل کردہ کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو کہ اس میں تمہارے لئے وہ چیزیں (لکھی) ہوں جن کو تم پسند کرتے ہو یا تمہارے لئے ہم پر کچھ پختہ قسمیں ہیں ؟ (الی یوم القیامہ) معنی کے اعتبار سے علینا سے متعلق ہے اور اس کلام میں قسم کے معنی ہیں، یعنی اقسمنا لکم اور جواب…
Read the full tafseer →مالکم کیف تحکمون . تم جو یہ عجیب ترین ‘ بعید از عقل فیصلہ کر رہے ہو ‘ کیسے کر رہے ہو۔ عقل کا تقاضا ہے کہ
فرمانبردار کا حال نافرمان سے اچھا ہو۔
Read the full tafseer →ہرگز نہیں مکہ والو تمہیں کیا ہوا اپنے لیے کیسا برا فیصلہ کرتے ہو کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
(افنجعل المسلمین…: مشرکین کہا کرتے تھے کہ اول تو مرنے کے بعد زندگی کی بات ہی غلط ہے، اگر یہ سچ ہے اور مرنے کے بعد عذاب یا ثواب ہونا ہے تو ہم یہاں مسلمانوں کی بہ نسبت خوش حال ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کے ہم پر راضی ہونے کی دلیل ہے، آخرت میں بھی وہ نعمتیں اور باغات ہمیں کو ملیں گے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بات کی تردید کی اور فرمایا کہ اللہ کے ہاں اندھیر نہیں کہ حکم ماننے والوں سے اور مجرموں سے ایک جیسا سلوک کیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
ان للمتقین عند ربھم جنت النعیم۔ اس بارے میں قول پہلے گزر چکا ہے یعنی متقین کے لئے آخرت میں ایسی جنتیں ہیں جن میں خالص نعمتیں ہیں، ان میں کسی ایسی چیز کی آمیزش نہ ہوگی جو ان نعمتوں کو بدمزہ کرے جس طرح وہ دنیا کی نعمتوں کو بدمزہ کرتی تھی۔ قریش کے سردار دنیا میں اپنا حصہ دیکھتے تھے اور مسلمانوں کا حصہ کم دیکھتے تھے جب وہ آخرت کی کوئی بات سنتے اور اللہ تعالیٰ نے مومنین سے جو عدے کئے ان کو سنتے تو کہتے : اگر یہ بات درست ہوگی کہ ہمیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا جس طرح حضرت محمد ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھی گمان کرتے ہیں تو ہمارا اور ان کا حال نہ ہوگا مگر اسی طرح جس دنیا میں حال ہے ورنہ وہ ہم پر زائد نہ ہوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–41
73۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کذلک العذاب اسی طرح ہے عذاب۔ یعنی دنیا کی سزا آیت ولعذاب الاخرۃ اکبر۔ اور البتہ آخرت کا عذاب بڑا ہے اور فرمایا آیت سلہم ایہم بذلک زعیم۔ ان سے پوچھیے کون سا ان میں اس بات کا ذمہ دار ہے۔ یعنی اس کام کا ان میں سے کون ضامن ہے۔
74۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ تدرسون یعنی تم پڑھتے ہو اور آیت ایمان علینا بالغہ۔ کیا تمہارے لیے ہم نے قسمیں کھائی ہیں جو قیامت تک چلی جائیں گی یعنی ہم پر کوئی وعدہ ہے۔
Read the full tafseer →[مَا لَكُمْ ۪: تمہیں کیا ہے ][ كَيْفَ تَحْكُمُوْنَ : کیسا تم لوگ فیصلہ کرتے ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
متقیوں کے لیے نعمت والے باغ ہیں اور مسلمین و مجرمین برابر نہیں ہو سکتے
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے متقی بندوں کے انعامات بیان فرمائے ہیں اولاً ارشاد فرمایا کہ انہیں ان کے رب کے پاس نعمتوں والے باغ ملیں گے، اس کے بعد فرمایا کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کی طرح کردیں گے ؟ یعنی جو لوگ مجرم ہیں انہیں اپنے جرم کی سزا ملے گی اور فرماں بردار بندے اپنے ایمان اور اعمال صالحہ کا پھل پائیں گے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی نوازش ہوگی اور نعمتیں ملیں گی، نہ تو یہ ہوگا کہ فرمانبردار نعمتوں سے محروم ہو کر مجرمین کے برابر ہوجائیں اور نہ یہ ہوگا کہ کافرین کو نعمتیں دے دی جائیں، جب اہل ایمان اور اہل تقویٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–52
بشارت اہل ایمان وتقوی بنعماء جنت وتذلیل وتوہین کفار ومشرکین درروز آخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان للمتقین عندربھم .......... الی ........ الاذکر للعلمین “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں ان منکرین ومکذبین کا ذکر تھا جو دولت کے نشہ میں مست ہو کر اللہ کی نافرمانی پر کمر بستہ ہوئے رسول خدا ﷺ کی توہین وتذلیل کی تو انکی نافرمانی اور غرور کا انجام ہلاکت ایک تاریخی واقعہ کی شکل میں بیان فرمایا گیا اب ان آیات میں اہل تقوی و ایمان کا اعزاز واکرام اور جنت میں حق تعالیٰ شانہ ان کو کیسی کیسی نعمتوں سے نوازے گا بیان فرمایا جارہا ہے پھر اسی کے ساتھ تنبیہ کے طور پر مجرمین ومنکرین کا قیامت کے روز کیسا برا انجام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
16:۔ ” افنجعل المسلمین “ یہ مشرکین پر زجر ہے۔ مشرکین جب آخرت اور جنت و دوزخ کا ذکر سنتے تو کہتے اگر بالفرض قیامت آ بھی گئی تو ہمارا اور مسلمانوں کا حال بعینہ وہی ہوگا جو آج دنیا میں ہے یعنی ان سے زیادہ دولت و ثروت کے مالک ہوں گے اور ان کو ہم پر کوئی فوقیت اور بڑائی حاصل نہیں ہوگی بلکہ زیادہ سے زیادہ وہ ہمارے برابر ہی ہوں گے اس پر ارشاد فرمایا : کیا ہم مسلمانوں کو ان سرکش اور باغی و طاغی مجرموں کے برابر کردیں گے ؟ ہرگز نہیں، ایسا نہیں ہوگا۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے تم کیسی بےتکی اور بےعقلی کی باتیں کرتے ہو۔ استفہام انکاری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
گذشتہ سے پیوستہ (ربطہ) :
گذشتہ آیات میں مشرکین مکہ کو تبنیہ کی گئی۔ ان کو مال و دولت ، اقتدار ، ریاست پر بڑا فخر تھا اللہ نے ایک مثال کے ذریعہ ان کو سمجھایا کہ یہ سب چیزیں اللہ نے ا ن کو امتحان کی خاطر دی ہیں ۔ یہ چیزیں اس با ت کی دلیل نہیں ہیں کہ یہ لوگ اللہ کے پسندیدہ اور اسکے محبوب ہیں بلکہ یہ تو مکذب اور بری خصلتوں کے مالک ہیں۔ ان میں تکبر ، گناہ ، حدود کو توڑنا ، چغلی کرنا ، قسمیں کھانا ، حق کی مخالفت ، رسالت سے انکار ، اللہ کی وحدانیت سے انکار ، جزائے عمل اور معاد کا انکار پایا جاتا ہے۔ تو باغ والوں کی مثال بیان کر کے اللہ تعالیٰ نے سمجھایا کہ ان کو نعمتیں عطا کی گئی تھیں مگر انہوں نے…
Read the full tafseer →مَا لَكُمْ 0 ۪ كَيْفَ تَحْكُمُوْنَ 36 ۚ
ما
مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف .
فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع .
فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي
نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] .
الثاني :
نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
ترکیب : جنات النعیم اسم ان للمتقین خبرھا عندربہم یجوزان یکون ظرفاللا سقراروان یکون حالامن جنات افنجعل الھمزۃ للکانکارو الفاء للعطف علیٰ مقدر تقیضیہ المقام ای الخیف فی الحکم فنجعل المسلمین کالکافرین ام منقطعۃ کتاب موصوف فیہ تدرسون الجملۃ صفۃ لکتاب ان قراء الجمہور بالکسر علی انھا معمولۃ لتدرسون ای تدرسون فی الکتاب ان لکم فیہ لماتخیرون۔ وقیل تم الکلام عندقولہ تدرسون ثم ابتداء فقال ان لکم الخ بالغۃ بالرفع نعت لایمان وبالنصب علی الحال والعامل فیھا الظرف الی یوم القیامۃ بالمقدر فی لکم ای ثابتۃ لکم الیٰ یوم القیامۃ او ببالغۃ ای ایمان تبلغ ذلک الیوم۔
تفسیر : گروہ اشقیا کا حال پہلے مجملاً بیان فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ کَالْمُجْرِمِیْنَ ۔ مَالَـکُمْ وقفۃ کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ ۔ (القلم : 35، 36)
(کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کے برابر کردیں گے۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے، تم کیسے حکم لگاتے ہو۔ )
اچھوں اور بروں میں فرق عقل اور اخلاق کا تقاضا ہے
متکبرین اور منکرین کے لیے عذاب اور متقین کے لیے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے معمور جنتیں، پیش نظر آیت کریمہ میں اس پر عقلی دلیل بیان فرمائی گئی ہے۔ انسانی دنیا میں ہر جگہ اس بات کو تسلیم کیا جاتا ہے کہ اگر چند لوگ کسی منصب اور کسی ڈیوٹی پر فائز کیے جاتے ہیں ان میں کچھ لوگ وہ ہوتے ہیں جو اپنے فرائض کو باحسن طریق پورا کرتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
فہم القرآن
ربط کلام : مجرموں کے لیے آخرت میں بڑا عذاب ہوگا اور متقین کے لیے انعامات ہوں گے۔
فہم القرآن کا مطالعہ کرنے والے حضرات جانتے ہیں کہ قرآن مجید کا اسلوب بیان ہے کہ وہ نیکی اور برائی، متقین اور مجرمین جنت اور جہنم کا مقابلۃً ذکر کرتا ہے۔ اسی اسلوب کے پیش نظر یہاں بھی مجرموں کا انجام ذکر کرنے کے بعد متقین کے انعامات کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہوا کہ کیا ہم تابعدار اور نافرمان لوگوں کو برابر کردیں ؟ ایساہرگز نہیں ہوگا یقیناً متقی لوگ اپنے رب کے ہاں انعام وکر ام والی جنت میں ہوں گے۔ جب جنتیوں کے انعام کا ذکر کیا جاتا ہے تو کفار اور مشرکین کہتے ہیں کہ ہم ایمانداروں سے دنیا میں بھی بہتر ہیں اور…
Read the full tafseer →36 : مَالَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ (تم کو کیا ہوگیا تم کیسا فیصلہ کرتے ہو) یہ ٹیڑھا فیصلہ کہ نافرمان اور فرمانبردار یکساں۔ اس سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کا معاملہ تمہارے سپرد ہوگیا کہ جو چاہو اس میں تم فیصلہ کردو۔
Read the full tafseer →35 ۔” انجعل المسلمین کالمجرمین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
34۔ 41۔ اوپر دنیا کے ایک باغ کا ذکر تھا اس کے پورا کرنے کے لئے جنت کے باغوں کا ذکر فرمایا اس طرح کی آیتوں کو سن کر مشرکین مکہ یہ کہا کرتے تھے کہ اگر مرنے کے بعد پھر جینا اور میوے کھانے کے لئے باغوں کا ملنا سچ ہے تو دنیا میں جس طرح ہم لوگ بہ نسبت مسلمانوں کے خوشحالی سے گزران کرتے ہیں اسی طرح آخرت میں بھی ہم اچھی طرح رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں مشرکوں کی اس بات کا یہ جواب دیا کہ آخرت کا حال کسی نے آنکھ سے تو ابھی تک دیکھا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ سے وہ حال اپنے رسول کو بتایا ہے اور اللہ کے رسول کے ذریعہ سے وہ حال مسلمان لوگوں کو معلوم ہوا ہے۔ ان مشرکوں کے پاس کیا اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
اللہ تعالیٰ ان چیزوں کے بارے میں آگاہی فرماتا ہے جو اس نے کفر اور معاصی سے بچنے والوں کے لیے تیار کررکھی ہیں، یعنی مختلف انواع کی نعمتیں اور اکرم الاکرمین کے جوار میں ہر قسم کے تکدر سے پاک زندگی، نیز وہ آگاہ فرماتا ہے کہ اس کی حکمت تقاضا نہیں کرتی کہ وہ اہل تقوی، اپنے رب کے فرماں بردار بندوں، اس کے احکام کی تعمیل کرنے والوں اور اس کی مرضی کی اتباع کرنے والوں کو مجرموں کے برابر قرار دے جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، اس کی آیات اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر اور اس کے اولیاء کے ساتھ محاربت میں مبتلا کررکھا ہے، جو کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں کو ثواب میں برقرار دے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–52
قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔
ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…
Read the full tafseer →28 ۔ جزا و سزا عقل و فطرت کا تقاضا : سو منکرین کے ضمیروں کو جھنجھوڑتے ہوئے ان سے فرمایا گیا کہ کیا ہوگیا تم لوگوں کہ تم کیسا فیصلہ کرتے ہو ؟ جو کہتے ہو کہ آخرت وغیرہ کچھ نہیں جو کچھ نہیں جو کچھ ہے یہ دنیا ہی دنیا ہے اور اگر بالفرض آخرت ہوئی بھی تو ہمارے لئے وہاں بھی اچھائی اور کامیابی ہے ولئن رددت الٰی ربی لاجدن خیرا منھا منقلبا واضح ہے کہ یحکمون حکم سے ماخوذ ہے جس کے معنی فیصلہ کرنے کے آتے ہیں اسی لئے عربی میں عدالت (Court) کو محکمہ کہا جاتا ہے، یعنی فصلہ کرنے کی جگہ، اور اس کی جمع محاکم آتی ہے، سو اس سوال و استفہام کا حاصل و مدا یہ ہے کہ عدل و انصاف اور عقل و خرد اور فطرت انسانی کا تقاضا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–52
کفار کی خوش فہمیاں، نبی ﷺ کو صبر کی تلقین
تشریح : پچھلی آیات میں مسلمان اور کافر کی سزا و جزا کو علیحدہ علیحدہ کر کے بتا دیا گیا ہے کہ یہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ کیونکہ ہم یعنی کفار مکہ کے سردار دنیا میں امیر کبیر ہیں تو اس لیے ہیں کہ ہم سے اللہ خوش ہے تو اس نے ہمیں یہ تمام نعمتیں دے رکھی ہیں اس لیے آخرت اگر آئی تو وہاں بھی ہمیں کسی تحریر میں رب العزت نے ان سے اس بات کا وعدہ کر رکھا ہے کہ ان کو تو انعام و اکرام دئیے جائیں گے اور مسلمان کیونکہ یہاں اس دنیا میں کچھ کم حیثیت ہیں اس لیے آخرت میں بھی ان کو کچھ نہیں ملے گا۔ کچھ ہی دیر کی بات ہے بہت جلد سب کچھ سامنے آنے والا ہے (جب ساق کھول دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–52
آیات 34 تا 52۔
اسرار ومعارف۔
اور جو لوگ عظمت الٰہی کا اقرار کرلیتے ہیں ان کی خاطر تو ان کے پروردگار نے جنت کی نعمتیں سجارکھی ہیں جو لوگ اطاعت گزار اور حکم بجالانے والے ہیں بھلامجرم ان کی برابری کس طرح کرسکتے ہیں کہ تم اے کفار برائی پہ اچھے نتیجے کی امید رکھتے ہو تمہاری یہ رائے قطعی غلط ہے کیا اس کے لیے تمہارے پاس کوئی نقلی دلیل ہے عقلا تو ویسے محال ہے تو کیا کسی آسمانی کتاب میں تمہیں یہ حق دیا گیا ہے کہ اپنے لیے بہتری چن لو یا اللہ نے قیامت تک کوئی قسم کھارکھی ہے کہ تم جو مانگو ملے گا بھلا تمہارے پاس ایسی باتوں کی کیا ضمانعت ہے ؟ یا کوئی اور ہستی ایسی ہے جو اللہ کی شریک ہے اس نے تمہیں وعدہ دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
ف 7 یعنی ان میں سے کون اس چیز کا ذمہ لیتا ہے کہ آخرت میں انہیں وہی ملے گا جو مسلمانوں کو ملے گا بلکہ اس سے بھی زیادہ۔
Read the full tafseer →(68:36) مالکم : تم کو کیا ہوا ہے۔ تم کو کیا ہوگیا ہے۔ تم کیسے ہو ؟ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔
وقالوا مال ھذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق (65:7) اور کہتے ہیں کہ یہ کیسا پیغمبر ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔
کیف تحکمون ۔ کیف حرف استفہام ہے۔ بمعنی کیسے۔ کس طرح، کیونکر تحکمون : مضارع جمع مذکر حاضر۔ حکم (باب نصر) مصدر سے تم حکم کرتے ہو۔ تم فیصلہ کرتے ہو ؟ آیت کا ترجمہ :۔ تم کو کیا ہوگیا ہے کیسے فیصلے کر رہے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
لغات القرآن۔
تدرسون۔ تم پڑھتے ہو۔ تخیرون۔ تم پسند کرتے ہو۔ ایمان۔ قسمیں۔
تشریح : مکہ کے کفار و مشرکین اپنی معمولی دولت اور چھوٹی چھوٹی سرداریوں کی وجہ سے اس طرح غرور وتکبر کے پیکر بنے ہوئے تھے کہ اپنے سوا ہر ایک کو حقیر اور ذلیل سمجھتے تھے۔ وہ اس غلط فہمی کا شکار تھے کہ جس طرح وہ اس دنیا مین عیش و آرام سے زندگی گزار رہے ہیں آخرت میں بھی اسی طرح راحت و آرام سے رہیں گے اور ان کے دیوی دیوتا ان کی سفارش کرکے جنت کی راحتوں سے ہم کنار کرادیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے خوش فہمی میں مبتلا ایسے لوگوں سے فرمایا ہے کہ جنت اور اس کی بھرپور نعمتوں کے مستحق وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے دنیا کی زندگی میں ایمان، عمل صالح،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
(ف 1) شان نزول :
مشرکین نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ اگر مرنے کے بعد پھر ہم اٹھائے بھی گئے تو وہاں بھی ہم تم سے اچھے رہیں گے اور ہماری ہی درجہ بلند ہوگا جیسے کہ دنیا میں ہمیں آسائش حاصل ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ ان مشرکوں کے پاس کیا اللہ کی طرف سے کوئی نوشتہ آیا ہے یا اللہ نے ان سے عہد لیا ہے یا کوئی ضامن انہوں نے پیدا کیا ہے یا ان کے بتوں نے ان سے اقرار کیا ہے کہ آخرت میں ان کو اللہ کے فرمانبرداروں سے بڑھ کر خوش حالی ملے گی، اللہ تعالیٰ کے انصاف میں یہ بات ہرگز روا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو اور فرمانبردار کو ایک سا کردے۔ یا اللہ تعالیٰ نے ان کے بتوں کو اپنے حکم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
[10] کفار مکہ مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ اللہ جو اپنی نعمتوں سے ہمیں نواز رہا ہے یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ ہم سے خوش ہے اور تم جو بدحالی میں مبتلا ہو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تم اللہ کے مغضوب ہو۔ لہذا اگر قیامت واقع ہوئی جیسا کہ تم کہتے ہو تو ہم وہاں بھی عیش کریں گے اور عذاب جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو تمہارے حصے میں آئے گا۔ اس کا جواب یہاں دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–41
کیا مسلمان اور جرائم پیشہ لوگ برابر ہیں
1: جس طرح حق و باطل میں امیتاز ہے ۔ فسق وفجور تقوی اور پرہیزگاری برابر نہیں ۔ اور جس طرح سرکشی اور تمرد میں بین تفاوت ہے ۔ اسی طرح نتائج اعمال میں درجات کا فرق برحق ہے ۔ کچھ لوگ ایسے ہیں ۔ جو اپنی سیاہ کاریوں کے باعث اللہ کے غضب وسخط کے مستحق ہیں ۔ اور کچھ وہ ہیں ۔ جو صحت البقدہ اور حسن عمل کی بدولت مقام قرب وحضوری پر فائز ہیں ۔ اس کے لئے روح اور جسم کی پوری آسودگی کا انتظام ہے ۔ یہ لوگ جنات نعیم میں کام ورہن کی لذتوں سے بہرہ اندوز ہوں گے ۔ ان کے لئے روح کی بالیدگی کا سامان مہیا ہوگا ۔ ان کے لئے دیدہ ونظر کے لئے رب السموت کی جلوہ فرمائیاں باعث تسکین ہوں…
Read the full tafseer →(36) تم کو کیا ہوگیا تم کیسا فیصلہ کرتے اور کیسا حکم لگاتے ہو۔ یعنی یہ کیسا نامعقول فیصلہ ہے کہ جو لوگ اطاعت گزار اور تقویٰ شعار اور مطیع ومنقاد ہیں ان کو ہم مفسدوں سرکشوں اور گناہگاروں کی مانند کردیں گے اور دونوں کو ایک ہی مرتبہ اور ایک ہی درجہ عنایت کریں گے یہ کس قدر خلاف عقل اور لغو فیصلہ ہے جو تم کررہے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–40
ف 6۔ یعنی اے اہل مکہ تم بھی ایسے ہی عذاب کے مستحق ہو، بلکہ اس سے بھی زیادہ کے کیونکہ عذاب مذکور تو محض معصیت پر تھا، تم تو کفر کرتے ہو۔
Read the full tafseer →تم کو کیا ہوگیا ، تم کیسے فیصلے کرتے ہو
36 ؎ یہ بات پیچھے بہت دفعہ دہرائی جا چکی ہے کہ کسی قوم کے کفار کو بھی جب کسی قوم کے نبی و رسول نے ڈرایا تو انہوں نے یہی بات کہی کہ تم ہم کو خواہ مخواہ برا سمجھتے ہو اور ہمارے افعال و اعمال کو اچھا نہیں سمجھتے اگر ہمارے اعمال اللہ کو پسند نہ ہوتے تو آخر اس نے جو ہم پر احسان کر رکھے ہیں وہ کیوں کرتا۔ حالت تو تمہاری رحم کے قابل ہے اور باتیں ہماری کرتے ہو۔ پھر تم کو بار بار یہ بات باور کراتے ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات ، دولت ، عزت ، شہرت ، اولاد سب کچھ ہمیں دیا ہے اور آپ کی آنکھوں کے سامنے ہم موج و بہار سے زندگی گزار رہے ہیں اور اس نے ہم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–43
This verse: أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِمِينَ (Otherwise, shall We make the obedient like the sinners?... 68:35). Clarifies that it is rationally necessary that there should come a time when people will have to give account of their deeds, a place where the guilty ones will find no escape routes, an ideal world where there will be absolute justice and fair play, where good and evil will be clearly distinguished. If this is not the state of affairs in the Hereafter, then no evil should be evil, and no sin should be sin in this mortal world. Divine justice would thus be rendered…
Read the full tafseer →20 That is, "lt is against reason that God should not differentiate between the obedient servant and the guilty. How do you regard this as reasonable that the Creator of the universe should, like a blind ruler, not judge which people in the world obeyed His commands and refrained from evildoing, and which people committed every sin and crime and perpetrated every cruelty fearless of His punishment? You have seen the adversity of the believers and your own prosperity, but you have not appreciated the distinction between their good morals and your own evildoing, and have given your judgement…
Read the full tafseer →