Al-Qalam 68:37

Al-Qalam · from ayah 37

68:37

اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِیْهِ تَدْرُسُوْنَ ۟ۙاَمۡ لَـكُمۡ كِتٰبٌ فِيۡهِ تَدۡرُسُوۡنَۙ‏

کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں (یہ) پڑھتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or do you have a scripture in which you learn

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qalam

All translations of 68:37

کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں (یہ) پڑھتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا تمہارے لیے کوئی کتاب ہے اس میں پڑھتے ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم (یہ) پڑھتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے، جس میں تم (یہ) پڑھتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم (یہ بات) پڑھتے ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا تمہارے پاس کوئی ایسی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو

— مولانا اسحاق مدنی

کی تمہارے پاس کوئی (آسمانی) کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں یہ پڑھتے ہو ؟۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Or do you have a Book wherein you read

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Do you have a book in which you read

— Muhammad Taqi Usmani

Do you have a book in which you read

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Or have you a Book wherein you learn,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Or have ye a scripture wherein ye learn

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Or do you have a scripture in which you learn

— Saheeh International

Do you have a book from which you study

— Muhammad Sarwar

Or have you a book wherein you read,

— Muhammad Habib Shakir

Is there with you a Book wherein ye study:

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 68:37

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 34–41

گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لئے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں، پھر فرماتا ہے کیا ہوسکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہوجائیں ؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہوسکتا، کیا ہوگیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو ؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 35–43

قرآن کریم کے اس لفظ نے اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِيْنَ كَالْمُجْرِمِيْنَ ، اس حقیقت کو واضح کردیا کہ عقلاً یہ ہونا ضروری ہے کہ کوئی ایسا وقت آئے جہاں سب کا حساب ہو اور جہاں مجرموں کے لئے کوئی چور دروازہ نہ ہو اور جہاں انصاف ہی انصاف ہو اور نیک و بد کا کھل کر امتیاز واضح ہو اور اگر یہ نہیں ہے تو دنیا میں کوئی برا کام برا نہیں اور کوئی جرم جرم نہیں اور پھر خدائی عدل و انصاف کے کوئی معنے نہیں رہتے۔ اور جب قیامت آنا اور اعمال کی جزاء و سزا ہونا یقینی ہوگیا تو آگے کچھ اہواں قیامت اور مجرمین کی سزا کا ذکر کیا گیا ہے جس میں قیامت کے دن کشف ساق کا اعجاز بیان ہوا ہے اس کی حقیقت خلاصہ تفسیر میں آ چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 37–38

مستکبرین کے ایک مغالطہ پر ضرب: یہ قریش کے ان مستکبرین کی ایک اور آرزوئے باطل پر ضرب لگائی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ آخرت واخرت اول تو کوئی چیز ہے نہیں اور ہے تو ہمیں جو کچھ یہاں حاصل ہے اس سے بہتر وہاں حاصل ہو گا۔ ان کے اس مغالطہ کی بنیاد اس واہمہ پر تھی کہ اگر وہ خدا کے منظور نظر نہ ہوتے تو یہ عزت و سیادت انھیں اس دنیا میں کس طرح حاصل ہوتی! تو جب خدا کے منظور نظر ہوئے تو جو کچھ انھیں یہاں حاصل ہے اس سے بڑھ کر وہاں حاصل ہو گا۔ فرمایا کہ تم کو اس مغالطہ میں کس چیز نے ڈالا؟ کیا تمہارے پاس خدا کا اتارا ہوا کوئی صحیفہ ہے جس میں تم پڑھتے ہو کہ تمہاری ساری آرزوئیں پوری ہوں گی؟ مطلب یہ ہے کہ جس کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

37۔ 1 جس میں یہ بات لکھی ہوئی ہے جس کا تم دعویٰ کر رہے ہو، کہ وہاں بھی تمہارے لئے وہ کچھ ہو جسے تم پسند کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 32–37

12: اس آیت سے بطاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعے کے بعد انہوں نے توبہ کرلی تھی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 37–38

ام لکم ............................ تخیرون (83) (86 : 73۔ 83) ” کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو کہ تمہارے لئے ضرور وہاں وہی کچھ ہے جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو “۔ یہ ان کے ساتھ ایک مذاق ہے کہ کس کتاب سے یہ علم لے کر آئے ہو ، کیونکہ عقل وعدل کا کوئی معیار تمہارے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرسکتا۔ اس لئے کہ تمہارے فیصلے کا خلاصہ تو یہ ہے کہ مسلموں اور مجرموں کا ایک ہی انجام ہے۔ پھر یہ عجیب مضحکہ خیز کتاب ہوگی جو تمہاری خواہشات اور تمہاری مرغوبات کے مطابق فیصلے کرتی ہے کہ جو تم چاہتے ہو ، وہی فیصلے اس میں درج ہیں۔ حق اور عدل پر مبنی نہیں ہیں۔ نہ معقول ومعروف کے کسی اصول پر مبنی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 37–40

2 یعنی یہ بات کہ مسلم اور مجرم دونوں برابر کردیے جائیں ظاہر ہے عقل و فطرت کے خلاف ہے۔ پھر کیا کوئی نقلی دلیل اس کی تائید میں تمہارے پاس ہے ؟ کیا کسی معتبر کتاب میں یہ مضمون پڑھتے ہو کہ جو تم اپنے لیے پسند کرلو گے وہ ہی ملے گا ؟ اور تمہاری من مانی خواہشات پوری کی جائیں گی۔ یا اللہ نے قیامت تک کے لیے کوئی قسم کھالی ہے کہ تم جو کچھ اپنے دل سے ٹھہرالو گے وہ ہی دیا جائے گا ؟ اور جس طرح آج عیش و رفاہیت میں ہو۔ قیامت تک اسی حال میں رکھے جاؤ گے ؟ جو شخص ان میں سے ایسا دعویٰ کرے اور اس کے ثابت کرنے کی ذمہ داری اپنے اوپر لے، لاؤ، اسے سامنے کرو۔ ہم بھی تو دیکھیں کہ وہ کہاں سے کہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 36–41

آیت 36{ مَا لَـکُمْقف کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ۔ } ”تمہیں کیا ہوگیا ہے ‘ تم کیسے حکم لگاتے ہو ؟“ کیا تمہاری َمت ماری گئی ہے جو ایسی رائے بناتے ہو ؟ کیا اللہ کے ہاں ایسا ہی اندھیر مچاہوا ہے کہ وہاں مسلمین اور مجرمین برابر ہوجائیں گے ؟ کیا دنیا میں کہیں ایسا ہوتا ہے کہ کوئی حکومت اپنے باغیوں اور اپنے وفاداروں کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دے ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 37–41

18 غلط فہمی کی تین طرح سے تردید :۔ آیت نمبر 37 تا 41 میں تین مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ جو ان کے اس باطل نظریہ کی تردید میں نقلی دلائل کی حیثیت رکھتی ہیں اور وہ یہ ہیں : 1۔ کیا کسی الہامی کتاب میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ آخرت میں بھی تمہیں آسودگی اور خوشحالی کی زندگی میسر ہوگی جیسا کہ تمہاری یہ خواہش ہے۔ 2۔ یا تم نے ہم سے کچھ ایسے حلف نامے لے رکھے ہیں کہ تمہیں قیامت کے دن وہی کچھ ملے گا جو تم چاہتے ہو اور اپنے حق میں ایسا ہی فیصلہ چاہتے ہو۔ اگر ایسی بات ہے تو بتاؤ کہ ان حلف ناموں کو ہم سے پورا کرا کے دینے کے لیے تم سے کون ذمہ دار اور ضامن ہے ؟ 3۔ تیسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ ان کے کچھ معبود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 37–38

21۔ یعنی آخرت میں نجات اور کامیابی۔ مطلب یہ ہوا کہ تمہارے عقائد کی صحت کی پشت پر کوئی خدائی سند، کوئی آسمانی شہادت ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 37–41

ام لکم کتاب فیہ تدرسون یعنی تم جو یہ دعویٰ کر رہے ہو کہ ہمیں وہاں بھی وہ سب کچھ ملے گا جو یہاں ملا ہوا ہے، کیا تمہارے پاس کوئی آسمانی کتاب ہے کہ جس میں یہ بات لکھی ہوئی ہے اور تم اس میں پڑھ کر یہ حکم لگاتے ہو، یا ہم نے تم سے پختہ عہد کر رکھا ہے جو قیامت تک باقی رہنے والا ہے کہ تمہارے لئے وہی کچھ ہوگا جو تم پسند کرو گے ؟ آپ ﷺ ان سے پوچھئے تو کہ ان میں سے کون اس بات کا ذمہ دار ہے کہ قیامت کے دن ان کے لئے وہی فیصلے کروائے گا جو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لئے فرمائے گا ؟ یا جن کو انہوں نے اس کا شریک ٹھہرا رکھا ہے وہ ان کی مدد کر کے ان کو اچھا مقام دلوا دیں گے ؟ اگر ان کے شریک ایسے ہیں تو ان کو سامنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 37–39

(37۔ 39) کیا اس کتاب میں تمہارے لیے وہ چیز لکھی ہو جس کو تم پسند کرتے ہو یعنی جنت ملنا، کیا ہمارے ذمہ کچھ قسمیں چڑھی ہوئی ہیں کہ تمہیں آخرت میں جنت ملے جس کا تم اپنے لیے فیصلہ کر رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 37–38

(1) ام لکم کتب فیہ تدرسون …: کفار جو کہتے تھے کہ ہمیں آخرت میں بھی جنت و نعمت ملے گی، اس بات کی تردید ایک اور طرح سے ہے، فرمایا تمہیں یہ بات کیسے معلوم ہوئی ؟ اگر کہو کہ تمہیں خود اللہ تعالیٰ نے بتائی ہے تو بتاؤ تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی کون سی کتاب ہے جس میں تم نے پڑھا ہے کہ آخرت میں تمہیں تمہاری پسند ہی کی چیزیں ملیں گی ؟ صاف ظاہر ہے کہ نہ تمہارے پاس ایسی کوئی کتاب ہے اور نہ تمہارا یہ گمان کچھ حقیقت رکھتا ہے۔ (2) ”تخیزون“ باب تفعل میں سے ”تنخیرون“ ہے، ایک تاء حذف کردی ہے۔”ان لکم فیہ لما تخیرون“ جملہ مکسور ہوگیا۔ ترجمہ یہ ہوگا ”کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ بات پڑھتے ہو کہ تمہارے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ام لکم کتب فیہ تدرسون۔ کیا تمہارے لئے کتاب ہے جس میں تم مطیع کو عاصی کی طرح پاتے ہو ان لکم فیہ لما تخیرون۔ تم پسند کرتے ہو اور تم اسے چاہتے ہو۔ اصل میں ان فتح کے ساتھ تھا لیکن خبر پر لام مفتوح آنے کی وجہ سے اسے کسرہ دیا، تو کہتا ہے : علمت انک عاقل اور علمت انک لعاقل۔ ان کم لکم فیہ لما تخیرون۔ میں عامل ترسون ہے۔ لام ان کے ہمزہ کے فتح کے مانع ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تدرسون پر کلام مکمل ہوگئی پھر نئی کلام شروع کی اور کہا، ان لکم فیہ لماتخیرون۔ کتاب میں تمہارے لئے وہ ہو جو تم پسند کرتے ہو یعنی تمہارے لئے ایسا نہیں دونوں فیہ میں ضمیر کتاب کی طرف لوٹ رہی ہے پھر تو بیخ میں یہ اضافہ کیا ام لکم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 33–41

73۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کذلک العذاب اسی طرح ہے عذاب۔ یعنی دنیا کی سزا آیت ولعذاب الاخرۃ اکبر۔ اور البتہ آخرت کا عذاب بڑا ہے اور فرمایا آیت سلہم ایہم بذلک زعیم۔ ان سے پوچھیے کون سا ان میں اس بات کا ذمہ دار ہے۔ یعنی اس کام کا ان میں سے کون ضامن ہے۔ 74۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ تدرسون یعنی تم پڑھتے ہو اور آیت ایمان علینا بالغہ۔ کیا تمہارے لیے ہم نے قسمیں کھائی ہیں جو قیامت تک چلی جائیں گی یعنی ہم پر کوئی وعدہ ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ: یا تمہارے لیے کوئی ایسی (آسمانی) کتاب ہے ][ فِيْهِ تَدْرُسُوْنَ : جس میں تم سبق پڑھتے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 37–40

﴿اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِيْهِ تَدْرُسُوْنَۙ0037﴾ (الی آخر الآیات) یہ بات جو تم نے کہی ہے تمہارے پاس اس کی کیا دلیل ہے ؟ کیا تمہارے پاس آسمان سے کوئی کتاب نازل ہوئی ہے جسے تم آپس میں پڑھتے ہو ؟ اور کیا اس کتاب میں یہ مضمون ہے کہ تم جو چاہو اپنے پاس سے اپنی خواہش کے مطابق کہہ دو گے اسی کے مطابق فیصلہ ہوجائے گا ؟ پھر فرمایا کیا تمہارے لیے ہمارے اوپر قسمیں ہیں جو قیامت تک باقی رہنے والی ہیں کہ تمہیں وہ دیا جائے گا جس کا تم فیصلہ کرتے ہو ؟ مطلب یہ ہے کہ تم بتاؤ کیا اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسا عہد ہے کہ جو تم کہہ دو گے ہم وہی کردیں گے اور تمہارے کہنے کے مطابق فیصلہ ہوگا ؟ ایسا نہیں ہے پھر بڑھ چڑھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–52

بشارت اہل ایمان وتقوی بنعماء جنت وتذلیل وتوہین کفار ومشرکین درروز آخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان للمتقین عندربھم .......... الی ........ الاذکر للعلمین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں ان منکرین ومکذبین کا ذکر تھا جو دولت کے نشہ میں مست ہو کر اللہ کی نافرمانی پر کمر بستہ ہوئے رسول خدا ﷺ کی توہین وتذلیل کی تو انکی نافرمانی اور غرور کا انجام ہلاکت ایک تاریخی واقعہ کی شکل میں بیان فرمایا گیا اب ان آیات میں اہل تقوی و ایمان کا اعزاز واکرام اور جنت میں حق تعالیٰ شانہ ان کو کیسی کیسی نعمتوں سے نوازے گا بیان فرمایا جارہا ہے پھر اسی کے ساتھ تنبیہ کے طور پر مجرمین ومنکرین کا قیامت کے روز کیسا برا انجام…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 37–39

17:۔ ” ام لکم کتب “ خطاب مشرکین سے ہے۔ کیا تمہارے پاس کوئی آسمانی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو کہ اس میں تمہاری مرضی کی باتیں موجود ہیں یعنی کیا اس میں لکھا ہے کہ ان کے معبود برکات دہندہ ہیں یا یہ کہ قیامت کے دن مسلمان ان کے برابر ہوں گے ؟ ” ام لکم ایمان “ یا ہم نے تمہارے ساتھ پختہ وعدے کر رکھے ہیں جن کو پورا کرنا قیامت تک ہمارے ذمہ ہے اور جو کچھ تم کہہ رہے ہو، ہم اس کو ضرور پورا کریں گے کہ قیامت کے دن تم مسلمانوں کے برابر ہو گے (بالغۃ) ای ثابتۃ الکم الی یوم القیامۃ لا نخرج عن عھدتہا الا یومئذ اذا حکمنالکم و اعطیناکم ماتحکمون (روح ج 29 ص 34) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 34–41

گذشتہ سے پیوستہ (ربطہ) : گذشتہ آیات میں مشرکین مکہ کو تبنیہ کی گئی۔ ان کو مال و دولت ، اقتدار ، ریاست پر بڑا فخر تھا اللہ نے ایک مثال کے ذریعہ ان کو سمجھایا کہ یہ سب چیزیں اللہ نے ا ن کو امتحان کی خاطر دی ہیں ۔ یہ چیزیں اس با ت کی دلیل نہیں ہیں کہ یہ لوگ اللہ کے پسندیدہ اور اسکے محبوب ہیں بلکہ یہ تو مکذب اور بری خصلتوں کے مالک ہیں۔ ان میں تکبر ، گناہ ، حدود کو توڑنا ، چغلی کرنا ، قسمیں کھانا ، حق کی مخالفت ، رسالت سے انکار ، اللہ کی وحدانیت سے انکار ، جزائے عمل اور معاد کا انکار پایا جاتا ہے۔ تو باغ والوں کی مثال بیان کر کے اللہ تعالیٰ نے سمجھایا کہ ان کو نعمتیں عطا کی گئی تھیں مگر انہوں نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِيْہِ تَدْرُسُوْنَ۝ 37 ۙ أَمْ»حرف إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه : أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ } ( سورة ص 63) ( یا) ہماری آنکھیں ان ( کی طرف ) سے پھر گئی ہیں ۔ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 34–41

ترکیب : جنات النعیم اسم ان للمتقین خبرھا عندربہم یجوزان یکون ظرفاللا سقراروان یکون حالامن جنات افنجعل الھمزۃ للکانکارو الفاء للعطف علیٰ مقدر تقیضیہ المقام ای الخیف فی الحکم فنجعل المسلمین کالکافرین ام منقطعۃ کتاب موصوف فیہ تدرسون الجملۃ صفۃ لکتاب ان قراء الجمہور بالکسر علی انھا معمولۃ لتدرسون ای تدرسون فی الکتاب ان لکم فیہ لماتخیرون۔ وقیل تم الکلام عندقولہ تدرسون ثم ابتداء فقال ان لکم الخ بالغۃ بالرفع نعت لایمان وبالنصب علی الحال والعامل فیھا الظرف الی یوم القیامۃ بالمقدر فی لکم ای ثابتۃ لکم الیٰ یوم القیامۃ او ببالغۃ ای ایمان تبلغ ذلک الیوم۔ تفسیر : گروہ اشقیا کا حال پہلے مجملاً بیان فرمایا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 37–38

اَمْ لَـکُمْ کِتٰبٌ فِیْہِ تَدْرُسُوْنَ ۔ اِنَّ لَـکُمْ فِیْہِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَ ۔ (القلم : 37، 38) (کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو۔ اس میں تمہارے لیے وہی کچھ ہے جو تم اپنے لیے پسند کرو گے۔ ) ایک مغالطے کی تردید گزشتہ آیت کی تشریح میں، میں نے عرض کیا ہے کہ مشرکینِ عرب بالعموم اور قریش بالخصوص یہ سمجھتے تھے کہ ہم لوگ اللہ تعالیٰ کے منظورِنظر ہیں، اس لیے اس نے ہمیں دنیا میں عزت و سیادت عطا کی ہے، تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن بھی ہمیں نعمتوں سے نوازے گا اور یہ بات وہ اس مفروضے پر کہتے تھے کہ اولاً تو قیامت آئے گی ہی نہیں اور اگر آہی گئی تو ہمیں اس کی کیا فکر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 34–41

فہم القرآن ربط کلام : مجرموں کے لیے آخرت میں بڑا عذاب ہوگا اور متقین کے لیے انعامات ہوں گے۔ فہم القرآن کا مطالعہ کرنے والے حضرات جانتے ہیں کہ قرآن مجید کا اسلوب بیان ہے کہ وہ نیکی اور برائی، متقین اور مجرمین جنت اور جہنم کا مقابلۃً ذکر کرتا ہے۔ اسی اسلوب کے پیش نظر یہاں بھی مجرموں کا انجام ذکر کرنے کے بعد متقین کے انعامات کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہوا کہ کیا ہم تابعدار اور نافرمان لوگوں کو برابر کردیں ؟ ایساہرگز نہیں ہوگا یقیناً متقی لوگ اپنے رب کے ہاں انعام وکر ام والی جنت میں ہوں گے۔ جب جنتیوں کے انعام کا ذکر کیا جاتا ہے تو کفار اور مشرکین کہتے ہیں کہ ہم ایمانداروں سے دنیا میں بھی بہتر ہیں اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

37 : اَمْ لَکُمْ کِتٰبٌ (کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے) جو آسمان سے آئی ہو فِیْہِ تَدْرُسُوْنَ (جس میں تم پڑھتے ہو) یعنی اس کتاب میں پڑھ لیتے ہو کہ

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 34–41

34۔ 41۔ اوپر دنیا کے ایک باغ کا ذکر تھا اس کے پورا کرنے کے لئے جنت کے باغوں کا ذکر فرمایا اس طرح کی آیتوں کو سن کر مشرکین مکہ یہ کہا کرتے تھے کہ اگر مرنے کے بعد پھر جینا اور میوے کھانے کے لئے باغوں کا ملنا سچ ہے تو دنیا میں جس طرح ہم لوگ بہ نسبت مسلمانوں کے خوشحالی سے گزران کرتے ہیں اسی طرح آخرت میں بھی ہم اچھی طرح رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں مشرکوں کی اس بات کا یہ جواب دیا کہ آخرت کا حال کسی نے آنکھ سے تو ابھی تک دیکھا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ سے وہ حال اپنے رسول کو بتایا ہے اور اللہ کے رسول کے ذریعہ سے وہ حال مسلمان لوگوں کو معلوم ہوا ہے۔ ان مشرکوں کے پاس کیا اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 34–39

اللہ تعالیٰ ان چیزوں کے بارے میں آگاہی فرماتا ہے جو اس نے کفر اور معاصی سے بچنے والوں کے لیے تیار کررکھی ہیں، یعنی مختلف انواع کی نعمتیں اور اکرم الاکرمین کے جوار میں ہر قسم کے تکدر سے پاک زندگی، نیز وہ آگاہ فرماتا ہے کہ اس کی حکمت تقاضا نہیں کرتی کہ وہ اہل تقوی، اپنے رب کے فرماں بردار بندوں، اس کے احکام کی تعمیل کرنے والوں اور اس کی مرضی کی اتباع کرنے والوں کو مجرموں کے برابر قرار دے جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، اس کی آیات اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر اور اس کے اولیاء کے ساتھ محاربت میں مبتلا کررکھا ہے، جو کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں کو ثواب میں برقرار دے گا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–52

قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 37–38

29 منکرین کے ایک زعم باطل کی تردید : سو منکروں کے ضمیروں کو جھنجھوڑنے کے لئے ان سے ایک اور سوال کیا گیا کہ تم لوگوں کے پاس کوئی ایسی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو کہ آخرت میں تم کو وہی کچھ ملے گا، جو تم پسند کرتے ہو ؟ اور ظاہر ہے کہ ایسا بھی نہیں نہ ایسی کوئی کتاب ہے اور نہ ہوسکتی ہے تو پھر تم لوگ آخرت کے اس حقیقی اور ہولناک انجام سے نچنت اور بےفکر کس طرح اور کیونکر ہو ؟ سو تم لوگوں نے اپنے دلوں کے اندر جو طرح طرح کی آرزوئیں پال رکھی ہیں اور جو مفروضے از خود گھڑ رکھے ہیں۔ آخر ان کی اصل اور اساس کیا ہے اور تم لوگ ایسا کس بنیاد پر کہتے ہو ؟ سو اس سال و ارشاد میں منکرین کے ایک اور زعم باطل کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 36–52

کفار کی خوش فہمیاں، نبی ﷺ کو صبر کی تلقین تشریح : پچھلی آیات میں مسلمان اور کافر کی سزا و جزا کو علیحدہ علیحدہ کر کے بتا دیا گیا ہے کہ یہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ کیونکہ ہم یعنی کفار مکہ کے سردار دنیا میں امیر کبیر ہیں تو اس لیے ہیں کہ ہم سے اللہ خوش ہے تو اس نے ہمیں یہ تمام نعمتیں دے رکھی ہیں اس لیے آخرت اگر آئی تو وہاں بھی ہمیں کسی تحریر میں رب العزت نے ان سے اس بات کا وعدہ کر رکھا ہے کہ ان کو تو انعام و اکرام دئیے جائیں گے اور مسلمان کیونکہ یہاں اس دنیا میں کچھ کم حیثیت ہیں اس لیے آخرت میں بھی ان کو کچھ نہیں ملے گا۔ کچھ ہی دیر کی بات ہے بہت جلد سب کچھ سامنے آنے والا ہے (جب ساق کھول دی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 34–52

آیات 34 تا 52۔ اسرار ومعارف۔ اور جو لوگ عظمت الٰہی کا اقرار کرلیتے ہیں ان کی خاطر تو ان کے پروردگار نے جنت کی نعمتیں سجارکھی ہیں جو لوگ اطاعت گزار اور حکم بجالانے والے ہیں بھلامجرم ان کی برابری کس طرح کرسکتے ہیں کہ تم اے کفار برائی پہ اچھے نتیجے کی امید رکھتے ہو تمہاری یہ رائے قطعی غلط ہے کیا اس کے لیے تمہارے پاس کوئی نقلی دلیل ہے عقلا تو ویسے محال ہے تو کیا کسی آسمانی کتاب میں تمہیں یہ حق دیا گیا ہے کہ اپنے لیے بہتری چن لو یا اللہ نے قیامت تک کوئی قسم کھارکھی ہے کہ تم جو مانگو ملے گا بھلا تمہارے پاس ایسی باتوں کی کیا ضمانعت ہے ؟ یا کوئی اور ہستی ایسی ہے جو اللہ کی شریک ہے اس نے تمہیں وعدہ دے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 36–40

ف 7 یعنی ان میں سے کون اس چیز کا ذمہ لیتا ہے کہ آخرت میں انہیں وہی ملے گا جو مسلمانوں کو ملے گا بلکہ اس سے بھی زیادہ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(68:37) ام لکم کتب فیہ تدرسون ۔ ام حرف عطف ہے۔ بعنی یاء خواہ ، کیا۔ استفہام کے معنی دیتا ہے۔ کبھی بمعنی بل : یعنی بلکہ : اور کبھی بمعنی ہمزہ استفہام آتا ہے۔ اور کبھی زائدہ ہوتا ہے۔ یہاں ام منقطعہ ہے۔ یعنی پہلی بات سے اعراض ہے اور بمعنی بل ہے۔ یعنی اگر تمہارے پاس کوئی عقلی دلیل نہیں ہے جیسا کہ اوپر معلوم ہوا کہ یہ بات بعیداز عقل ہے کہ مسلمانوں اور مجرموں کو ایک ہی طرح کا کردیں۔ تو کہا تمہارے پاس اور کوئی نقلی دلیل ہے ؟ یعنی کوئی آسمانی کتاب جو تمہارے خیال کی تائید میں ہو۔ کتب بمعنی آسانی کتاب ۔ منزل من اللہ، اللہ تعالٰ کی طرف سے نازل شدہ فیہ ای فی ذلک الکتب اس کتاب میں۔ تدرسون۔ مضارع کا صیغہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 34–41

لغات القرآن۔ تدرسون۔ تم پڑھتے ہو۔ تخیرون۔ تم پسند کرتے ہو۔ ایمان۔ قسمیں۔ تشریح : مکہ کے کفار و مشرکین اپنی معمولی دولت اور چھوٹی چھوٹی سرداریوں کی وجہ سے اس طرح غرور وتکبر کے پیکر بنے ہوئے تھے کہ اپنے سوا ہر ایک کو حقیر اور ذلیل سمجھتے تھے۔ وہ اس غلط فہمی کا شکار تھے کہ جس طرح وہ اس دنیا مین عیش و آرام سے زندگی گزار رہے ہیں آخرت میں بھی اسی طرح راحت و آرام سے رہیں گے اور ان کے دیوی دیوتا ان کی سفارش کرکے جنت کی راحتوں سے ہم کنار کرادیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے خوش فہمی میں مبتلا ایسے لوگوں سے فرمایا ہے کہ جنت اور اس کی بھرپور نعمتوں کے مستحق وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے دنیا کی زندگی میں ایمان، عمل صالح،…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 34–41

(ف 1) شان نزول : مشرکین نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ اگر مرنے کے بعد پھر ہم اٹھائے بھی گئے تو وہاں بھی ہم تم سے اچھے رہیں گے اور ہماری ہی درجہ بلند ہوگا جیسے کہ دنیا میں ہمیں آسائش حاصل ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ ان مشرکوں کے پاس کیا اللہ کی طرف سے کوئی نوشتہ آیا ہے یا اللہ نے ان سے عہد لیا ہے یا کوئی ضامن انہوں نے پیدا کیا ہے یا ان کے بتوں نے ان سے اقرار کیا ہے کہ آخرت میں ان کو اللہ کے فرمانبرداروں سے بڑھ کر خوش حالی ملے گی، اللہ تعالیٰ کے انصاف میں یہ بات ہرگز روا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو اور فرمانبردار کو ایک سا کردے۔ یا اللہ تعالیٰ نے ان کے بتوں کو اپنے حکم میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 36–41

[10] کفار مکہ مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ اللہ جو اپنی نعمتوں سے ہمیں نواز رہا ہے یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ ہم سے خوش ہے اور تم جو بدحالی میں مبتلا ہو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تم اللہ کے مغضوب ہو۔ لہذا اگر قیامت واقع ہوئی جیسا کہ تم کہتے ہو تو ہم وہاں بھی عیش کریں گے اور عذاب جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو تمہارے حصے میں آئے گا۔ اس کا جواب یہاں دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 32–41

کیا مسلمان اور جرائم پیشہ لوگ برابر ہیں 1: جس طرح حق و باطل میں امیتاز ہے ۔ فسق وفجور تقوی اور پرہیزگاری برابر نہیں ۔ اور جس طرح سرکشی اور تمرد میں بین تفاوت ہے ۔ اسی طرح نتائج اعمال میں درجات کا فرق برحق ہے ۔ کچھ لوگ ایسے ہیں ۔ جو اپنی سیاہ کاریوں کے باعث اللہ کے غضب وسخط کے مستحق ہیں ۔ اور کچھ وہ ہیں ۔ جو صحت البقدہ اور حسن عمل کی بدولت مقام قرب وحضوری پر فائز ہیں ۔ اس کے لئے روح اور جسم کی پوری آسودگی کا انتظام ہے ۔ یہ لوگ جنات نعیم میں کام ورہن کی لذتوں سے بہرہ اندوز ہوں گے ۔ ان کے لئے روح کی بالیدگی کا سامان مہیا ہوگا ۔ ان کے لئے دیدہ ونظر کے لئے رب السموت کی جلوہ فرمائیاں باعث تسکین ہوں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 33–40

ف 6۔ یعنی اے اہل مکہ تم بھی ایسے ہی عذاب کے مستحق ہو، بلکہ اس سے بھی زیادہ کے کیونکہ عذاب مذکور تو محض معصیت پر تھا، تم تو کفر کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس سے تم پڑھ لیتے ہو ؟ 37 ؎ بات تو وہ بات ہوتی ہے جس پر کوئی عقلی یا نقلی دلیل موجود ہے یا کوئی لال کتاب تم نے رکھی ہے جس سے دیکھ دیکھ کر تم اس طرح کی بےسروپا باتیں بیان کرتے ہو کہ جب ہماری زندگی دنیا میں اس طرح عیاشی اور معاشی سہولت میں گزر رہی ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہماری اخروی زندگی بھی صحیح اور درست ہو اور ہم کو وہاں بھی اسی طرح کی آسائش اور آرام مہیا ہو۔ یہ باتیں تم کس ورطہ سے بنا لیتے ہو۔ کیا تم کوئی ایسا حوالہ پیش کرسکتے ہو جس میں مجرم اور فرمانبردار دونوں سے ایک طرح کا سلوک کئے جانے کا ہم نے ذکر کیا ہے اور جس جگہ پر لکھا ہے آپ نے پڑھا ہے کہ فرمانبردار اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 35–43

This verse: أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِ‌مِينَ (Otherwise, shall We make the obedient like the sinners?... 68:35). Clarifies that it is rationally necessary that there should come a time when people will have to give account of their deeds, a place where the guilty ones will find no escape routes, an ideal world where there will be absolute justice and fair play, where good and evil will be clearly distinguished. If this is not the state of affairs in the Hereafter, then no evil should be evil, and no sin should be sin in this mortal world. Divine justice would thus be rendered…

Read the full tafseer →