Al-Qalam 68:35

Al-Qalam · from ayah 35

68:35

اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَ ۟ؕاَفَنَجۡعَلُ الۡمُسۡلِمِيۡنَ كَالۡمُجۡرِمِيۡنَؕ

کیا ہم فرمانبرداروں کو نافرمانوں کی طرف (نعمتوں سے) محروم کردیں گے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then will We treat the Muslims like the criminals?

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qalam

All translations of 68:35

کیا ہم فرماں برداروں کا حال مجرموں کا سا کر دیں؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا ہم فرمانبرداروں کو نافرمانوں کی طرف (نعمتوں سے) محروم کردیں گے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا ہم مسلمانوں کو مثل گناه گاروں کے کردیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

بھلا کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کے برابر کردیں گے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا ہم مسلمانوں کو مجرموں کا سا کردیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کی طرح (محروم) کر دیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو کیا ہم فرماں برداروں کو جرم کرنے والوں کی طرح کردیں گے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا ہم فرمانبرداروں کا حال مجرموں کا سا بنادیں گے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کے برابر کردیں گے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کی طرح کردیں گے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

تو کیا ہم فرمانبرداروں کو نافرمانوں کا سا کردیں گے ؟

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا ہم اپنے فرمانبرداروں کو مجرموں کے برابر کردیں گے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا ہم فرمانبرداروں کو نافرمانوں کی طرح نعمتوں سے محروم کردیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

What! Shall We treat those who have submitted (to Our command) like those who have acted as criminals?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Otherwise, shall We make the obedient like the sinners?

— Muhammad Taqi Usmani

Otherwise, shall We make the obedient like the sinners?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Shall We then treat the Muslims like the criminals

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Shall We then treat those who have surrendered as We treat the guilty?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then will We treat the Muslims like the criminals?

— Saheeh International

Shall We treat the Muslims like criminals?

— Muhammad Sarwar

What! shall We then make (that is, treat) those who submit as the guilty?

— Muhammad Habib Shakir

Shall We then make the Muslims like the culprits?

— Abdul Majid Daryabadi

Shall We then treat the People of Faith like the People of Sin?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 68:35

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 34–41

گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لئے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں، پھر فرماتا ہے کیا ہوسکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہوجائیں ؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہوسکتا، کیا ہوگیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو ؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 34–35

سورة الْقَلَم 19 مکہ کے بڑے بڑے سردار مسلمانوں سے کہتے تھے کہ ہم کو یہ نعمتیں جو دنیا میں مل رہی ہیں، یہ خدا کے ہاں ہمارے مقبول ہونے کی علامت ہیں، اور تم جس بد حالی میں مبتلا ہو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تم خدا کے مغضوب ہو۔ لہذا اگر کوئی آخرت ہوئی بھی، جیسا تم کہتے ہو، تو ہم وہاں بھی مزے کریں گے اور عذاب تم پر ہوگا نہ کہ ہم پر۔ اس کا جواب ان آیات میں دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 35–43

قرآن کریم کے اس لفظ نے اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِيْنَ كَالْمُجْرِمِيْنَ ، اس حقیقت کو واضح کردیا کہ عقلاً یہ ہونا ضروری ہے کہ کوئی ایسا وقت آئے جہاں سب کا حساب ہو اور جہاں مجرموں کے لئے کوئی چور دروازہ نہ ہو اور جہاں انصاف ہی انصاف ہو اور نیک و بد کا کھل کر امتیاز واضح ہو اور اگر یہ نہیں ہے تو دنیا میں کوئی برا کام برا نہیں اور کوئی جرم جرم نہیں اور پھر خدائی عدل و انصاف کے کوئی معنے نہیں رہتے۔ اور جب قیامت آنا اور اعمال کی جزاء و سزا ہونا یقینی ہوگیا تو آگے کچھ اہواں قیامت اور مجرمین کی سزا کا ذکر کیا گیا ہے جس میں قیامت کے دن کشف ساق کا اعجاز بیان ہوا ہے اس کی حقیقت خلاصہ تفسیر میں آ چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

نیک اور بد میں امتیاز عدل الٰہی کا لازمی تقاضا ہے: یہ دلیل بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ کیوں خدا سے ڈرنے والوں کے لیے نعمت کے باغ ہوں گے۔ فرمایا کہ ایسا ہونا خدا کے عدل اور اس کی رحمت کا لازمی تقاضا ہے۔ ایسا نہ ہو تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس دنیا کے خالق کے نزدیک نیکو کار اور بدکار، وفادار اور غدار، بے ایمان اور ایمان دار دونوں یکساں ہیں۔ یہ بات بالبداہت اللہ تعالیٰ کی اعلیٰ صفات کے منافی ہے۔ یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس کی نظر میں نیک اور بد دونوں برابر ہوں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 35–36

35۔ 1 مشرکین مکہ کہتے تھے کہ اگر قیامت ہوئی تو وہاں بھی ہم مسلمانوں سے بہتر ہی ہونگے، جیسے دنیا میں ہم مسلمانوں سے زیادہ آسودہ حال ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا، یہ کس طرح ممکن ہے ہم مسلمانوں کو یعنی اپنے فرماں برداروں کو مجرموں یعنی نافرمانوں کی طرح کردیں گے مطلب یہ ہے کہ یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ عدل وانصاف کے خلاف دونوں کو یکساں کردے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 32–37

12: اس آیت سے بطاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعے کے بعد انہوں نے توبہ کرلی تھی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

افنجعل ............................ فھم یکتبون اس مکالمے اور تحدیات کے درمیان یہ دھمکی بھی آتی ہے کہ آخرت میں تو ان کے لئے عذاب ہے ہی لیکن دنیا میں بھی ان کے خلاف جنگ ہوگی۔ یوں مکالمے میں گرمی پیدا ہوجاتی ہے اور چیلنج زور دار ہوجاتا ہے۔ چناچہ اہل مکہ کو چیلنج کے انداز میں کہا جاتا ہے۔ فنجعل ............ کالمجرمین (86 : 53) ”” فرمانبرداروں کا حال مجرموں کا سا کردیں ؟ “ یہ سوال آیات سابقہ میں پائے جانے والے لوگوں کے حوالے سے ہے جو مجرم تھے اور اس کا جواب صرف ایک ہے کہ مسلمین مجرمین کی طرح نہیں ہوسکتے۔ مسلمین رب کے سامنے جھکنے والے ہیں۔ یہ کبھی بھی ان لوگوں کی طرح نہیں ہوا کرتے جو جرائم کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 35–36

1 کفار مکہ نے غرور وتکبر سے اپنے دل میں یہ ٹھہرا رکھا تھا کہ اگر قیامت کے دن مسلمانوں پر عنایت و بخشش ہوگی تو ہم پر ان سے بہتر اور بڑھ کر ہوگی۔ اور جس طرح دنیا میں ہم کو اللہ نے عیش و رفاہیت میں رکھا ہے وہاں بھی یہ ہی معاملہ رہے گا۔ اس کو فرمایا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے اگر ایسا ہو تو یہ مطلب ہوگا کہ ایک وفادار غلام جو ہمیشہ اپنے آقا کی حکم برداری کے لیے تیار رہتا ہے، اور ایک جرائم پیشہ باغی دونوں کا انجام یکساں ہوجائے، بلکہ مجرم اور باغی، وفاداروں سے اچھے رہیں یہ وہ بات ہے جس کو عقل سلیم اور فطرت صحیحہ رد کرتی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 35{ اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ کَالْمُجْرِمِیْنَ۔ } ”کیا ہم اپنے فرمانبرداروں کو مجرموں کے برابر کردیں گے ؟“ اگر بعث بعد الموت کے منکرین کی منطق درست تسلیم کرلی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نیکوکار اور مجرمین میں سرے سے کوئی فرق ہی نہیں ہے۔ طبعی طور پر تو موت بلاشبہ سب کو برابر کردیتی ہے ‘ جیسا کہ مشہور انگریزی نظم Death the Leveller میں بتایا گیا ہے۔ یعنی کوئی بادشاہ ہو ‘ کوئی فقیرہو ‘ کوئی شریف ہو ‘ کوئی مجرم ہو ‘ مرنا سبھی کو ہے۔ اس اعتبار سے تو یقینا موت کے سامنے سب انسان برابر ہیں ‘ لیکن یہ سمجھنا کہ موت آنے پر اخلاقی لحاظ سے بھی سب انسان برابر ہوجائیں گے انتہائی غیر منطقی اور…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 35–36

17 خوشحال لوگوں کی ایک عام غلط فہمی :۔ قریشی سردار یہ سمجھتے تھے کہ انہیں جو آسودگی اور خوشحالی حاصل ہے تو یہ ان کے مشرکانہ مذہب کی سچائی پر دلیل ہے۔ پھر یہ معاملہ اتنا ہی نہ تھا بلکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر موت کے بعد ہمیں اٹھایا بھی گیا اور دوسری زندگی حاصل ہوئی تو اللہ وہاں بھی ہم پر مہربانیاں کرے گا۔ جو پروردگار ہم پر آج مہربان ہے کیا وجہ ہے کہ وہ اس اخروی زندگی میں ہم پر مہربان نہ ہو۔ اس آیت میں ان کے اسی قول کا جواب دیا جارہا ہے کہ یہ کیسی خلاف عقل بات ہے کہ اللہ قیامت کے دن اپنے فرمانبرداروں اور اپنے باغیوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 35–36

20۔ (جو اتنے کھلے ہوئے فرق کو محسوس نہیں کرتے) مطلب یہ ہوا کہ متقین کو یہ درجہ اگر نہ ملے تو گویا مطیع ونافرمان دونوں برابر ٹھہرے (آیت) ” المسلمین “۔ یہ مراد وہ لوگ ہیں جو عادتا مطیع حق رہے ہیں۔ (آیت) ” المجرمین “۔ مراد وہ لوگ ہیں جو عادتا نافرمان و قانون شکن رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 35–36

ترجمہ : (آئندہ آیت) اس وقت نازل ہوئی جب مشرکین نے کہا، اگر ہم کو دوبارہ زندہ کیا گیا تو تم سے بہتر ہم کو عطا کیا جائے گا، پرہیزگاروں کے لئے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنتیں ہیں، کیا ہم مسلمین اور مجرمین کو برابر کردیں گے ؟ یعنی گنہگاروں کو مسلمانوں کے برابر کردیں گے ؟ تمہیں کیا ہوگیا ؟ تم یہ فاسد فیصلے کیسے کر رہے ہو ؟ بلکہ کیا تمہارے پاس نازل کردہ کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو کہ اس میں تمہارے لئے وہ چیزیں (لکھی) ہوں جن کو تم پسند کرتے ہو یا تمہارے لئے ہم پر کچھ پختہ قسمیں ہیں ؟ (الی یوم القیامہ) معنی کے اعتبار سے علینا سے متعلق ہے اور اس کلام میں قسم کے معنی ہیں، یعنی اقسمنا لکم اور جواب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

افنجعل المسلمین کالمجرمین . استفہام انکاری ہے ‘ مسلمانوں کے برابر مجرموں کو قرار دینے کا انکار ہے۔ جس سے مسلمانوں پر مجرموں کی فضیلت کا انکار بطریق اعلیٰ مستفاد ہوتا ہے۔ اس جملہ کا عطف محذوف جملہ پر ہے۔ اصل کلام یوں تھا کہ کیا ہم مسلمانوں کو مجرموں پر فضیلت نہیں دیں گے اور کیا مسلمانوں کو مجرموں کی طرح کردیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور کہا گیا ہے کہ عتبہ بن ربیعہ نے کہا کہ محمد اپنے ساتھیوں سے جنت اور اس کی نعمتوں کا جو بیان کرتے ہیں اگر یہ بات صحیح ہے تو ہم ان لوگوں سے آخرت میں بھی اچھے ہوں گے جیسا کہ دنیا میں اچھے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی کیا ہم جنت میں مسلمانوں کے ثواب کو مشرکین کے بدلہ کے برابر کردیں گے یا یہ کہ کیا آخرت میں ہم مشرکین کے بدلہ کو مسلمانوں کے ثواب کے برابر کردیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 35–36

(افنجعل المسلمین…: مشرکین کہا کرتے تھے کہ اول تو مرنے کے بعد زندگی کی بات ہی غلط ہے، اگر یہ سچ ہے اور مرنے کے بعد عذاب یا ثواب ہونا ہے تو ہم یہاں مسلمانوں کی بہ نسبت خوش حال ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کے ہم پر راضی ہونے کی دلیل ہے، آخرت میں بھی وہ نعمتیں اور باغات ہمیں کو ملیں گے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بات کی تردید کی اور فرمایا کہ اللہ کے ہاں اندھیر نہیں کہ حکم ماننے والوں سے اور مجرموں سے ایک جیسا سلوک کیا جائے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 34–36

ان للمتقین عند ربھم جنت النعیم۔ اس بارے میں قول پہلے گزر چکا ہے یعنی متقین کے لئے آخرت میں ایسی جنتیں ہیں جن میں خالص نعمتیں ہیں، ان میں کسی ایسی چیز کی آمیزش نہ ہوگی جو ان نعمتوں کو بدمزہ کرے جس طرح وہ دنیا کی نعمتوں کو بدمزہ کرتی تھی۔ قریش کے سردار دنیا میں اپنا حصہ دیکھتے تھے اور مسلمانوں کا حصہ کم دیکھتے تھے جب وہ آخرت کی کوئی بات سنتے اور اللہ تعالیٰ نے مومنین سے جو عدے کئے ان کو سنتے تو کہتے : اگر یہ بات درست ہوگی کہ ہمیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا جس طرح حضرت محمد ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھی گمان کرتے ہیں تو ہمارا اور ان کا حال نہ ہوگا مگر اسی طرح جس دنیا میں حال ہے ورنہ وہ ہم پر زائد نہ ہوں اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 33–41

73۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کذلک العذاب اسی طرح ہے عذاب۔ یعنی دنیا کی سزا آیت ولعذاب الاخرۃ اکبر۔ اور البتہ آخرت کا عذاب بڑا ہے اور فرمایا آیت سلہم ایہم بذلک زعیم۔ ان سے پوچھیے کون سا ان میں اس بات کا ذمہ دار ہے۔ یعنی اس کام کا ان میں سے کون ضامن ہے۔ 74۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ تدرسون یعنی تم پڑھتے ہو اور آیت ایمان علینا بالغہ۔ کیا تمہارے لیے ہم نے قسمیں کھائی ہیں جو قیامت تک چلی جائیں گی یعنی ہم پر کوئی وعدہ ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِيْنَ : تو کیا ہم بنائیں گے فرمانبرداروں کو ][ كَالْمُجْرِمِيْنَ : مجرموں کے جیسا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 34–36

متقیوں کے لیے نعمت والے باغ ہیں اور مسلمین و مجرمین برابر نہیں ہو سکتے ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے متقی بندوں کے انعامات بیان فرمائے ہیں اولاً ارشاد فرمایا کہ انہیں ان کے رب کے پاس نعمتوں والے باغ ملیں گے، اس کے بعد فرمایا کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کی طرح کردیں گے ؟ یعنی جو لوگ مجرم ہیں انہیں اپنے جرم کی سزا ملے گی اور فرماں بردار بندے اپنے ایمان اور اعمال صالحہ کا پھل پائیں گے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی نوازش ہوگی اور نعمتیں ملیں گی، نہ تو یہ ہوگا کہ فرمانبردار نعمتوں سے محروم ہو کر مجرمین کے برابر ہوجائیں اور نہ یہ ہوگا کہ کافرین کو نعمتیں دے دی جائیں، جب اہل ایمان اور اہل تقویٰ کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–52

بشارت اہل ایمان وتقوی بنعماء جنت وتذلیل وتوہین کفار ومشرکین درروز آخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان للمتقین عندربھم .......... الی ........ الاذکر للعلمین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں ان منکرین ومکذبین کا ذکر تھا جو دولت کے نشہ میں مست ہو کر اللہ کی نافرمانی پر کمر بستہ ہوئے رسول خدا ﷺ کی توہین وتذلیل کی تو انکی نافرمانی اور غرور کا انجام ہلاکت ایک تاریخی واقعہ کی شکل میں بیان فرمایا گیا اب ان آیات میں اہل تقوی و ایمان کا اعزاز واکرام اور جنت میں حق تعالیٰ شانہ ان کو کیسی کیسی نعمتوں سے نوازے گا بیان فرمایا جارہا ہے پھر اسی کے ساتھ تنبیہ کے طور پر مجرمین ومنکرین کا قیامت کے روز کیسا برا انجام…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 35–36

16:۔ ” افنجعل المسلمین “ یہ مشرکین پر زجر ہے۔ مشرکین جب آخرت اور جنت و دوزخ کا ذکر سنتے تو کہتے اگر بالفرض قیامت آ بھی گئی تو ہمارا اور مسلمانوں کا حال بعینہ وہی ہوگا جو آج دنیا میں ہے یعنی ان سے زیادہ دولت و ثروت کے مالک ہوں گے اور ان کو ہم پر کوئی فوقیت اور بڑائی حاصل نہیں ہوگی بلکہ زیادہ سے زیادہ وہ ہمارے برابر ہی ہوں گے اس پر ارشاد فرمایا : کیا ہم مسلمانوں کو ان سرکش اور باغی و طاغی مجرموں کے برابر کردیں گے ؟ ہرگز نہیں، ایسا نہیں ہوگا۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے تم کیسی بےتکی اور بےعقلی کی باتیں کرتے ہو۔ استفہام انکاری ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 34–41

گذشتہ سے پیوستہ (ربطہ) : گذشتہ آیات میں مشرکین مکہ کو تبنیہ کی گئی۔ ان کو مال و دولت ، اقتدار ، ریاست پر بڑا فخر تھا اللہ نے ایک مثال کے ذریعہ ان کو سمجھایا کہ یہ سب چیزیں اللہ نے ا ن کو امتحان کی خاطر دی ہیں ۔ یہ چیزیں اس با ت کی دلیل نہیں ہیں کہ یہ لوگ اللہ کے پسندیدہ اور اسکے محبوب ہیں بلکہ یہ تو مکذب اور بری خصلتوں کے مالک ہیں۔ ان میں تکبر ، گناہ ، حدود کو توڑنا ، چغلی کرنا ، قسمیں کھانا ، حق کی مخالفت ، رسالت سے انکار ، اللہ کی وحدانیت سے انکار ، جزائے عمل اور معاد کا انکار پایا جاتا ہے۔ تو باغ والوں کی مثال بیان کر کے اللہ تعالیٰ نے سمجھایا کہ ان کو نعمتیں عطا کی گئی تھیں مگر انہوں نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِيْنَ كَالْمُجْرِمِيْنَ۝ 35 ۭ الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ أَوْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 34–41

ترکیب : جنات النعیم اسم ان للمتقین خبرھا عندربہم یجوزان یکون ظرفاللا سقراروان یکون حالامن جنات افنجعل الھمزۃ للکانکارو الفاء للعطف علیٰ مقدر تقیضیہ المقام ای الخیف فی الحکم فنجعل المسلمین کالکافرین ام منقطعۃ کتاب موصوف فیہ تدرسون الجملۃ صفۃ لکتاب ان قراء الجمہور بالکسر علی انھا معمولۃ لتدرسون ای تدرسون فی الکتاب ان لکم فیہ لماتخیرون۔ وقیل تم الکلام عندقولہ تدرسون ثم ابتداء فقال ان لکم الخ بالغۃ بالرفع نعت لایمان وبالنصب علی الحال والعامل فیھا الظرف الی یوم القیامۃ بالمقدر فی لکم ای ثابتۃ لکم الیٰ یوم القیامۃ او ببالغۃ ای ایمان تبلغ ذلک الیوم۔ تفسیر : گروہ اشقیا کا حال پہلے مجملاً بیان فرمایا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 35–36

اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ کَالْمُجْرِمِیْنَ ۔ مَالَـکُمْ وقفۃ کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ ۔ (القلم : 35، 36) (کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کے برابر کردیں گے۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے، تم کیسے حکم لگاتے ہو۔ ) اچھوں اور بروں میں فرق عقل اور اخلاق کا تقاضا ہے متکبرین اور منکرین کے لیے عذاب اور متقین کے لیے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے معمور جنتیں، پیش نظر آیت کریمہ میں اس پر عقلی دلیل بیان فرمائی گئی ہے۔ انسانی دنیا میں ہر جگہ اس بات کو تسلیم کیا جاتا ہے کہ اگر چند لوگ کسی منصب اور کسی ڈیوٹی پر فائز کیے جاتے ہیں ان میں کچھ لوگ وہ ہوتے ہیں جو اپنے فرائض کو باحسن طریق پورا کرتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو کام…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 34–41

فہم القرآن ربط کلام : مجرموں کے لیے آخرت میں بڑا عذاب ہوگا اور متقین کے لیے انعامات ہوں گے۔ فہم القرآن کا مطالعہ کرنے والے حضرات جانتے ہیں کہ قرآن مجید کا اسلوب بیان ہے کہ وہ نیکی اور برائی، متقین اور مجرمین جنت اور جہنم کا مقابلۃً ذکر کرتا ہے۔ اسی اسلوب کے پیش نظر یہاں بھی مجرموں کا انجام ذکر کرنے کے بعد متقین کے انعامات کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہوا کہ کیا ہم تابعدار اور نافرمان لوگوں کو برابر کردیں ؟ ایساہرگز نہیں ہوگا یقیناً متقی لوگ اپنے رب کے ہاں انعام وکر ام والی جنت میں ہوں گے۔ جب جنتیوں کے انعام کا ذکر کیا جاتا ہے تو کفار اور مشرکین کہتے ہیں کہ ہم ایمانداروں سے دنیا میں بھی بہتر ہیں اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مسلم و مجرم برابر نہیں : 35 : اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ کَالْمُجْرِمِیْنَ (کیا ہم فرمانبرداروں کو نافرمانوں کے برابر کردیں گے) یہ استفہام انکاری ہے جو ان کے اس قول کا انکار کر کرنے کیلئے لائے۔ لو کان ما یقول محمد حقا فنحن نعطی فی الاٰخرۃ خیرًا مما یعطی ھو ومن معہ کمافی الدنیا۔ اگر محمد سچے ہوں بھی پھر بھی ہم کو آخرت میں ان سے بہتر نعمتیں ملیں گی جیسا کہ دنیا میں ہیں تو فرمایا کیا ہم فیصلہ میں ظلم کریں گے کہ مسلمانوں کو کافروں کی طرح کردیں گے ؟ یعنی ایسا ہرگز نہ ہوگا۔ پھر بطریق التفات ان کو فرمایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

34 ۔ پھر خبر دی اس کی جو اللہ تعالیٰ کے پاس متقین کے لئے ہے۔ ” ان للمتقین عندربھم جنات النعیم “ پس مشرکین نے کہا تھا ہم آخرت میں اس سے افضل دیئے جائیں گے جو تم دیئے جائو گے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا :

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 34–41

34۔ 41۔ اوپر دنیا کے ایک باغ کا ذکر تھا اس کے پورا کرنے کے لئے جنت کے باغوں کا ذکر فرمایا اس طرح کی آیتوں کو سن کر مشرکین مکہ یہ کہا کرتے تھے کہ اگر مرنے کے بعد پھر جینا اور میوے کھانے کے لئے باغوں کا ملنا سچ ہے تو دنیا میں جس طرح ہم لوگ بہ نسبت مسلمانوں کے خوشحالی سے گزران کرتے ہیں اسی طرح آخرت میں بھی ہم اچھی طرح رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں مشرکوں کی اس بات کا یہ جواب دیا کہ آخرت کا حال کسی نے آنکھ سے تو ابھی تک دیکھا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ سے وہ حال اپنے رسول کو بتایا ہے اور اللہ کے رسول کے ذریعہ سے وہ حال مسلمان لوگوں کو معلوم ہوا ہے۔ ان مشرکوں کے پاس کیا اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 34–39

اللہ تعالیٰ ان چیزوں کے بارے میں آگاہی فرماتا ہے جو اس نے کفر اور معاصی سے بچنے والوں کے لیے تیار کررکھی ہیں، یعنی مختلف انواع کی نعمتیں اور اکرم الاکرمین کے جوار میں ہر قسم کے تکدر سے پاک زندگی، نیز وہ آگاہ فرماتا ہے کہ اس کی حکمت تقاضا نہیں کرتی کہ وہ اہل تقوی، اپنے رب کے فرماں بردار بندوں، اس کے احکام کی تعمیل کرنے والوں اور اس کی مرضی کی اتباع کرنے والوں کو مجرموں کے برابر قرار دے جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، اس کی آیات اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر اور اس کے اولیاء کے ساتھ محاربت میں مبتلا کررکھا ہے، جو کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں کو ثواب میں برقرار دے گا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–52

قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

27 منکرین کے ضمیروں کو جھنجھوڑنے والا ایک سوال : سو منکرین کے ضمیروں کو جھنجھوڑتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کی طرح کردیں گے ؟ جب نہیں اور ہرگز و یقیناً نہیں، کہ یہ عقل و خرد کے بھی خلاف ہے اور ہمارے عدل و انصاف کے بھی منافی، تو پھر یہ لوگ آخر کس خبط میں مبتلا ہیں ؟ سو اس ارشاد سے اس بات کی دلیل بیان فرما دی گئی کہ خدا نے ڈرنے والوں کے لئے ان کے رب کے یہاں نعمتوں بھری جنتیں کیوں ہوں گی ؟ پس اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایسا کرنا اس کے قانون عدل و انصاف اور اس کی رحمت بےپایاں کا لازم تقاضا ہے، سو اگر ایسا نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کائنات کے خالق ومالک کے نزدیک…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–35

باغ والوں کے بخل کا واقعہ تشریح :۔ اس قصے سے سبق ملتا ہے کہ صرف دنیا میں کھو جانا اور اللہ کی طرف سے آنکھیں بند کرلینا سراسر غلط راستہ ہے رب العزت کا یہی طریقہ ہے کہ وہ بندوں کو ایسی ہی سزاؤں سے جھنجوڑتا ہے کہ انسان غفلت سے باز آجائے یہ دنیاوی نقصانات تو صرف آنکھیں کھولنے کے لیے کرائے جاتے ہیں نافرمان اور غفلت سے بیدار نہ ہونے والے لوگوں کو آخرت میں بڑا سخت عذاب دیا جائے گا۔ جب کہ فرمانبرداروں کے لیے آرام و آسائش کے بہترین باغات ہیں اور یہی فرق ہے نافرمانوں اور فرمانبرداروں میں کیونکہ اللہ بہترین انصاف کرنے والا ہے۔ اچھے اور برے لوگوں کا حساب ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔ حدیث میں نصیحت کی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 34–52

آیات 34 تا 52۔ اسرار ومعارف۔ اور جو لوگ عظمت الٰہی کا اقرار کرلیتے ہیں ان کی خاطر تو ان کے پروردگار نے جنت کی نعمتیں سجارکھی ہیں جو لوگ اطاعت گزار اور حکم بجالانے والے ہیں بھلامجرم ان کی برابری کس طرح کرسکتے ہیں کہ تم اے کفار برائی پہ اچھے نتیجے کی امید رکھتے ہو تمہاری یہ رائے قطعی غلط ہے کیا اس کے لیے تمہارے پاس کوئی نقلی دلیل ہے عقلا تو ویسے محال ہے تو کیا کسی آسمانی کتاب میں تمہیں یہ حق دیا گیا ہے کہ اپنے لیے بہتری چن لو یا اللہ نے قیامت تک کوئی قسم کھارکھی ہے کہ تم جو مانگو ملے گا بھلا تمہارے پاس ایسی باتوں کی کیا ضمانعت ہے ؟ یا کوئی اور ہستی ایسی ہے جو اللہ کی شریک ہے اس نے تمہیں وعدہ دے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 34–35

“6 ” ھمزہ “ برائے انکار اور فاء عاطفہ ہے اور اس کا عطف مقدر پر ہے : ای فیعیف فی الحکم فیجعل المسلمین کا لکافرین یعنی ہرگز برابر نہ کریں گے کیونکہ اگر ایسا ہو تو جزا سزا کا سارا قانون ہی بےمعنی ہو کر رہ جائے۔ یہ آیت ” ان المتقین “ کی تاکید ہے اور اس سے مقصود کفار مکہ کے اس خیال کی تردید ہے کہ اگر واقعی قیامت آئی جیسا کہ محمد (ﷺ) کا دعویٰ ہے تو اس میں ہمارا اور مسلمانوں کا حال وہی ہوگا جو اس دنیا میں ہے۔ ہم چونکہ یہاں مالدارو خوشحال ہیں اس لئے آخرت میں بھی مسلمانوں سے زیادہ عنایات و انعامات سے نوازے جائیں گے یا کم از کم ان کے برابر تو ہوں گے ہی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(68:35) افنجعل المسلمین کالمجرمین : کیا ہم فرمانبرداروں کا حال مجرموں جیسا کردیں گے ؟ استفہام انکاری ہے۔ مسلمانوں کے برابر مجرموں کو قرار دینے کا انکار ہے جس سے مسلمانوں پر مجرموں کی فضیلت کا انکار بطریق اولی مستفاد ہوتا ہے۔ اس جملہ کا عطف جملہ محذوف پر ہے۔ اصل کلام یوں تھا :۔ کیا ہم مسلمانوں کو مجروموں پر فضیلت نہیں دیں گے اور کیا مسلمانوں کو مجرموں کی طرح کردیں گے ؟

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 34–41

لغات القرآن۔ تدرسون۔ تم پڑھتے ہو۔ تخیرون۔ تم پسند کرتے ہو۔ ایمان۔ قسمیں۔ تشریح : مکہ کے کفار و مشرکین اپنی معمولی دولت اور چھوٹی چھوٹی سرداریوں کی وجہ سے اس طرح غرور وتکبر کے پیکر بنے ہوئے تھے کہ اپنے سوا ہر ایک کو حقیر اور ذلیل سمجھتے تھے۔ وہ اس غلط فہمی کا شکار تھے کہ جس طرح وہ اس دنیا مین عیش و آرام سے زندگی گزار رہے ہیں آخرت میں بھی اسی طرح راحت و آرام سے رہیں گے اور ان کے دیوی دیوتا ان کی سفارش کرکے جنت کی راحتوں سے ہم کنار کرادیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے خوش فہمی میں مبتلا ایسے لوگوں سے فرمایا ہے کہ جنت اور اس کی بھرپور نعمتوں کے مستحق وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے دنیا کی زندگی میں ایمان، عمل صالح،…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 34–41

(ف 1) شان نزول : مشرکین نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ اگر مرنے کے بعد پھر ہم اٹھائے بھی گئے تو وہاں بھی ہم تم سے اچھے رہیں گے اور ہماری ہی درجہ بلند ہوگا جیسے کہ دنیا میں ہمیں آسائش حاصل ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ ان مشرکوں کے پاس کیا اللہ کی طرف سے کوئی نوشتہ آیا ہے یا اللہ نے ان سے عہد لیا ہے یا کوئی ضامن انہوں نے پیدا کیا ہے یا ان کے بتوں نے ان سے اقرار کیا ہے کہ آخرت میں ان کو اللہ کے فرمانبرداروں سے بڑھ کر خوش حالی ملے گی، اللہ تعالیٰ کے انصاف میں یہ بات ہرگز روا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو اور فرمانبردار کو ایک سا کردے۔ یا اللہ تعالیٰ نے ان کے بتوں کو اپنے حکم میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 28–35

[9] یعنی اللہ کی پاکی کیوں نہیں بیان کرتے ؟ مطلب یہ ہے کہ فقراء و مساکین سے تم اپنا مال اس لئے بچانا چاہتے ہو کہ تم سمجھتے ہو کہ اللہ تم کو اس کے بجائے اور نہ دے گا حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے۔ وہ اس کی راہ میں خرچ کرنے والوں کو اپنے پاس سے زیادہ دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 32–41

کیا مسلمان اور جرائم پیشہ لوگ برابر ہیں 1: جس طرح حق و باطل میں امیتاز ہے ۔ فسق وفجور تقوی اور پرہیزگاری برابر نہیں ۔ اور جس طرح سرکشی اور تمرد میں بین تفاوت ہے ۔ اسی طرح نتائج اعمال میں درجات کا فرق برحق ہے ۔ کچھ لوگ ایسے ہیں ۔ جو اپنی سیاہ کاریوں کے باعث اللہ کے غضب وسخط کے مستحق ہیں ۔ اور کچھ وہ ہیں ۔ جو صحت البقدہ اور حسن عمل کی بدولت مقام قرب وحضوری پر فائز ہیں ۔ اس کے لئے روح اور جسم کی پوری آسودگی کا انتظام ہے ۔ یہ لوگ جنات نعیم میں کام ورہن کی لذتوں سے بہرہ اندوز ہوں گے ۔ ان کے لئے روح کی بالیدگی کا سامان مہیا ہوگا ۔ ان کے لئے دیدہ ونظر کے لئے رب السموت کی جلوہ فرمائیاں باعث تسکین ہوں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 33–40

ف 6۔ یعنی اے اہل مکہ تم بھی ایسے ہی عذاب کے مستحق ہو، بلکہ اس سے بھی زیادہ کے کیونکہ عذاب مذکور تو محض معصیت پر تھا، تم تو کفر کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا ہم فرمانبرداروں اور نافرمانوں کو برابر کردیں گے ؟ 35 ؎ اگر تم یہ بات سمجھتے ہو کہ اندھیرا اور روشنی ، دن اور رات ، ظلم اور رحمت ، سایہ اور دھوپ برابر نہیں ہو سکتے اور نہ ہی نیکی اور برائی کبھی نتیجہ کے اعتبار سے برابر ہو سکتی ہے تو تم نے یہ کیسے باور کرلیا کہ فرمانبرداروں اور نافرمان دونوں کے نتائج برابر برابر ایک جیسے نکلیں گے۔ نہیں اور ہرگز نہیں ہم کبھی فرمانبرداروں اور نافرمانوں کو ایک جیسے نتائج سے دوچار نہیں کریں گے اور نہ ہی ہمارے نزدیک ایک نیکوکار اور بدکار ، وفادار اور غدار ، بےایمان اور ایماندار برابر ہو سکتے ہیں اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں ایسا اندھیر ہے بلکہ وہاں جو کچھ ہے عدل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 35–43

This verse: أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِ‌مِينَ (Otherwise, shall We make the obedient like the sinners?... 68:35). Clarifies that it is rationally necessary that there should come a time when people will have to give account of their deeds, a place where the guilty ones will find no escape routes, an ideal world where there will be absolute justice and fair play, where good and evil will be clearly distinguished. If this is not the state of affairs in the Hereafter, then no evil should be evil, and no sin should be sin in this mortal world. Divine justice would thus be rendered…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 34–35

19 This is. a rejoinder to the chiefs of Makkah, who argued with the Muslims, thus: "The blessings that we are enjoying in the world are a sign that we are favourites of AIlah, and the miserable lives that you are living are a proof that you are under the wrath of AIIah. Therefore, even if there was any life after death, as you say, we shall have good time there too, and the torment would be imposed on you, not on us!"

Read the full tafseer →