Al-Qalam 68:34

Al-Qalam · from ayah 34

68:34

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ ۟اِنَّ لِلۡمُتَّقِيۡنَ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ جَنّٰتِ النَّعِيۡمِ

پرہیزگاروں کے لئے ان کے پروردگار کے ہاں نعمت کے باغ ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, for the righteous with their Lord are the Gardens of Pleasure.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qalam

All translations of 68:34

یقیناً خدا ترس لوگوں کے لیے اُن کے رب کے ہاں نعمت بھری جنتیں ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پرہیزگاروں کے لئے ان کے پروردگار کے ہاں نعمت کے باغ ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

پرہیزگاروں کے لیے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنتیں ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

البتہ متقیوں کے لیے ان کے پروردگار کے پاس نعمتوں بھرے باغات ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک ڈر والوں کے لیے ان کے رب کے پاس چین کے باغ ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بے شک پرہیزگاروں کے لئے ان کے رب کے پاس نعمتوں والے باغات ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلاشبہ ڈرنے والوں کے لیے ان کے رب کے ہاں نعمت والے باغات ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پرہیز گاروں کے لیے ان کے پروردگار کے ہاں نعمتوں والی جنتیں ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک متقیوں کے لیے ان کے رب کے پاس نعمت کے باغ ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ پرہیزگار لوگوں کے لئے ان کے رب کے یہاں نعمتوں بھری جنتیں ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک پرہیزگاروں کے لئے ان کے رب کے پاس آسائش کے باغ میں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

متقین کے لیے یقینا ان کے رب کے پاس نعمت والے باغات ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پرہیز گاروں کے لیے ان کے رب کے پاس نعمت کے باغ ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely the God-fearing shall have Gardens of bliss with their Lord.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, for the God-fearing there are gardens of bliss.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, for the God-fearing there are gardens of bliss.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, for those who have Taqwa are Gardens of Delight with their Lord.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! for those who keep from evil are gardens of bliss with their Lord.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, for the righteous with their Lord are the Gardens of Pleasure.

— Saheeh International

The pious ones will receive a beautiful Paradise from their Lord.

— Muhammad Sarwar

Surely those who guard (against evil) shall have with their Lord gardens of bliss.

— Muhammad Habib Shakir

Verily for the God-fearing, are with their Lord Gardens of Delight.

— Abdul Majid Daryabadi

Verily, for the Righteous, are Gardens of Delight, in the Presence of their Lord.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 68:34

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 34–41

گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لئے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں، پھر فرماتا ہے کیا ہوسکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہوجائیں ؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہوسکتا، کیا ہوگیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو ؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 34–35

سورة الْقَلَم 19 مکہ کے بڑے بڑے سردار مسلمانوں سے کہتے تھے کہ ہم کو یہ نعمتیں جو دنیا میں مل رہی ہیں، یہ خدا کے ہاں ہمارے مقبول ہونے کی علامت ہیں، اور تم جس بد حالی میں مبتلا ہو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تم خدا کے مغضوب ہو۔ لہذا اگر کوئی آخرت ہوئی بھی، جیسا تم کہتے ہو، تو ہم وہاں بھی مزے کریں گے اور عذاب تم پر ہوگا نہ کہ ہم پر۔ اس کا جواب ان آیات میں دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–34

كَذٰلِكَ الْعَذَابُ۔ اہل مکہ کے عذاب قحط کا اجمالی اور باغ والوں کے کھیت جل جانے کا تفصیلی ذکر فرمانے کے بعد عام ضابطہ ارشاد فرمایا کہ جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو اسی طرح آیا کرتا ہے اور دنیا میں عذاب آجانے سے بھی ان کے آخرت کے عذاب کا کفارہ نہیں ہوتا بلکہ آخرت کا عذاب اس کے علاوہ اور اس سے زیادہ سخت ہوتا ہے۔ اگلی آیات میں اول نیک متقی بندوں کی جزاء کا ذکر ہے اور اس کے بعد مشرکین مکہ کے ایک اور باطل دعوے کا رد ہے۔ وہ یہ کہ کفار مکہ کرتے تھے کہ اول تو قیامت آنے والی نہیں اور دوبارہ زندہ ہو کر حساب کتاب کا قصہ سب افسانہ ہے اور اگر بالفرض ایسا ہو بھی گیا تو ہمیں وہاں بھی ایسی ہی نعمتیں اور مال و…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

نیکو کاروں کا انجام: مستکبرین کا انجام بیان کر چکنے کے بعد یہ اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کا انعام بیان ہو رہا ہے۔ فرمایا کہ جن لوگوں نے اس دنیا میں آخرت کے حساب کتاب سے ڈرتے ہوئے زندگی گزاری ان کے لیے ان کے رب کے پاس نعمت کے باغ ہیں۔ یہ ’مُتَّقِیْن‘ کا ذکر ان مستکبرین کے مقابل میں ہوا ہے جو اپنی دنیوی کامیابیوں کے نشہ میں خدا کی پکڑ اور آخرت کے عذاب سے بالکل نچنت تھے۔ اس تقابل سے اس لفظ کے اصل مفہوم پر روشنی پڑتی ہے کہ متقی وہ لوگ ہیں جو اس دنیا کی ظاہر فریبیوں میں گم نہیں ہوئے ہیں بلکہ اس کے پس پردہ جو حقیقت ہے اس پر بھی ان کی نظر ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 33–34

یعنی اللہ کے حکم کی مخالفت اور اللہ کے دیے مال میں بخل کرنے والوں کو ہم دنیا میں اسی طرح عذاب دیتے ہیں۔ 33۔ 1 لیکن افسوس وہ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے، اس لئے پروا نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 32–37

12: اس آیت سے بطاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعے کے بعد انہوں نے توبہ کرلی تھی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان للمتقین ................ النعیم ” یہ ہے دونوں کے انجام کا فرق۔ اور یہ ہے دونوں کے طرز عمل اور حقیقت کا فرق۔ دونوں کی راہ الگ ہے تو یقینا دونوں کا انجام بھی الگ الگ ہوگا۔ اب اس کے بعد قرآن کریم ان کے ساتھ ایک ایسا مکالمہ کرتا ہے جو بالکل قابل فہم ہے اور سورت کے ماقبل کے مضامین نے اسے واضح کردیا ہے۔ اور ان پر اب سوال پر سوال کیا جاتا ہے۔ ایسا سوال جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ اس لئے وہ جواب نہیں دے سکتے۔ کیونکہ ان سوالات کا واحد جواب ہے جو کڑوا ہے۔ اس کے سوا یہ کوئی جواب نہیں دے سکتے اور آخرت میں ان کے لئے ایک خوفناک منظر ہے۔ اور دنیا میں ان کے ساتھ رب تعالیٰ کا اعلان جنگ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی دنیا کے باغ و بہار کو کیا لیے پھرتے ہو جنت کے باغ ان سے کہیں بہتر ہیں جن میں ہر قسم کی نعمتیں جمع ہیں۔ وہ خاص متقین کے لیے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 33–34

آیت 33{ کَذٰلِکَ الْعَذَابُط وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ 7} ”اسی طرح آتا ہے عذاب ! اور آخرت کا عذاب تو یقینا بہت ہی بڑا ہے۔“ اس واقعے میں تو دنیا کے عذاب کا ذکر ہے۔ لیکن یاد رکھو دنیا کے عذاب تو نسبتاً چھوٹے اور وقتی ہوتے ہیں اور توبہ کرنے پر ٹل بھی جاتے ہیں۔ مثلاً ایک سال اگر پکی پکائی فصل برباد ہوگئی تو اللہ کی طرف رجوع کرنے سے ہوسکتا ہے اگلے سال اس کی تلافی ہوجائے ‘ لیکن آخرت کا معاملہ یکسر مختلف ہے۔ آخرت کا عذاب بہت بڑا ہوگا اور اس وقت پلٹنے کا راستہ اور توبہ کا دروازہ بھی بند ہوچکا ہوگا۔ { لَــوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۔ } ”کاش کہ یہ لوگ اس حقیقت کو جانتے !“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 33–34

16 یعنی یہ عذاب تو باغ والوں کو اس دنیا میں ملا۔ اور جو آخرت میں اس طرح کے بخل سے عذاب ہوگا وہ اس سے بہت بڑا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

19۔ یہاں یہ بتلا دیا کہ جنات النعیم میں داخلہ کا سبب تقوی ہوگا اور تقوی کا ابتدائی اور لازمی درجہ ایمان ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 32–34

عسی ربنا ان یبدلنا خیرا منھا کہتے ہیں کہ انہوں نے آپس میں عہد کیا کہ اب اگر اللہ نے ہمیں مال دیا تو اپنے باپ کی طرح اس میں غرباء و مساکین کا حق بھی ادا کریں گے۔ امام بغوی (رح) تعالیٰ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے کہ ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ جب ان سب لوگوں نے سچے دل سے توبہ کرلی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بہتر باغ عطا فرما دیا جس کے انگوروں کے خوشے اتنے بڑے ہوتے کہ ایک خوشہ ایک خچر پر لادا جاتا تھا (مظہری، معارف، واللہ اعلم بالصواب)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان للمتقین عند ربھم . اللہ کے پاس یعنی جوار قدس میں متقیوں کے لیے۔ جنت النعیم . راحت کے باغ ہیں یعنی ایسے باغ ہیں جن کے اندر آسائش کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ سابق آیت میں مجرموں کے لیے عذاب کی وعید تھی۔ اس آیت میں متقیوں کے لیے جنت کا وعدہ ہے۔ مشرکوں نے کہا تھا کہ بالفرض اگر روز آخرت ہوا تو جس طرح دنیا میں ہم کو نعمتیں ملی ہیں اسی طرح تم سے زیادہ یا تمہاری طرح ہم کو اس روز بھی نعمتیں دی جائیں گی۔ اس خیال کی تردید میں اللہ نے فرمایا :

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

کفر و شرک اور بےحیائی کے کاموں سے بچنے والوں کے لیے آخرت میں آسائش کی جنتیں ہیں، جن کی نعمتیں ہمیشہ رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(ان للمتقین عند ربھم جنت النعیم :) پچھلی آیات میں بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرنے کی پاداش میں کس طرح باغ والوں کا باغ برباد ہوا اور آخرت کا عذاب تو اس سے بھی بڑا ہے۔ دنیا کے باغ کے بعد آخرت کے باغات کا ذکر کیا اور فرمایا کہ رب تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے لئے ان کے رب کے پاس ایک نہیں بلکہ نعمت والے کئی باغ ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 34–36

ان للمتقین عند ربھم جنت النعیم۔ اس بارے میں قول پہلے گزر چکا ہے یعنی متقین کے لئے آخرت میں ایسی جنتیں ہیں جن میں خالص نعمتیں ہیں، ان میں کسی ایسی چیز کی آمیزش نہ ہوگی جو ان نعمتوں کو بدمزہ کرے جس طرح وہ دنیا کی نعمتوں کو بدمزہ کرتی تھی۔ قریش کے سردار دنیا میں اپنا حصہ دیکھتے تھے اور مسلمانوں کا حصہ کم دیکھتے تھے جب وہ آخرت کی کوئی بات سنتے اور اللہ تعالیٰ نے مومنین سے جو عدے کئے ان کو سنتے تو کہتے : اگر یہ بات درست ہوگی کہ ہمیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا جس طرح حضرت محمد ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھی گمان کرتے ہیں تو ہمارا اور ان کا حال نہ ہوگا مگر اسی طرح جس دنیا میں حال ہے ورنہ وہ ہم پر زائد نہ ہوں اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 33–41

73۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کذلک العذاب اسی طرح ہے عذاب۔ یعنی دنیا کی سزا آیت ولعذاب الاخرۃ اکبر۔ اور البتہ آخرت کا عذاب بڑا ہے اور فرمایا آیت سلہم ایہم بذلک زعیم۔ ان سے پوچھیے کون سا ان میں اس بات کا ذمہ دار ہے۔ یعنی اس کام کا ان میں سے کون ضامن ہے۔ 74۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ تدرسون یعنی تم پڑھتے ہو اور آیت ایمان علینا بالغہ۔ کیا تمہارے لیے ہم نے قسمیں کھائی ہیں جو قیامت تک چلی جائیں گی یعنی ہم پر کوئی وعدہ ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ : بیشک متقی لوگوں کے لیے ان کے رب کے پاس ][ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ : دائمی نعمتوں کے باغات ہیں ] ترکیب : قاعدہ یہ ہے کہ جملہ کے شروع میں اَنَّ (بیشک) آتا ہے اور جملہ کے درمیان میں ان (کہ) آتا ہے۔ اس قاعدے کا ایک استثناء ہم آیت۔ 2:25، نوٹ۔ 2 ۔ میں پڑھ چکے ہیں کہ قَالَ یا اس کے مشتقات سے شروع ہونے والے جملوں کے درمیان میں اِنَّ آتا ہے لیکن ایسی صورت میں اس کے معنیٰ ” کہ “ ہوتے ہیں۔ اس قاعدے کا دوسرا استثناء یہ ہے کہ ان کی خبر پر اگر لام تاکید آ رہا ہو تو اس کی جگہ ان آتا ہے لیکن اس کے معنی اِنَّ (کہ) کے بھی ہوتے ہیں۔ اس حوالہ سے نوٹ کریں کہ آیت۔ 38 ۔ 39 ۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 34–36

متقیوں کے لیے نعمت والے باغ ہیں اور مسلمین و مجرمین برابر نہیں ہو سکتے ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے متقی بندوں کے انعامات بیان فرمائے ہیں اولاً ارشاد فرمایا کہ انہیں ان کے رب کے پاس نعمتوں والے باغ ملیں گے، اس کے بعد فرمایا کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کی طرح کردیں گے ؟ یعنی جو لوگ مجرم ہیں انہیں اپنے جرم کی سزا ملے گی اور فرماں بردار بندے اپنے ایمان اور اعمال صالحہ کا پھل پائیں گے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی نوازش ہوگی اور نعمتیں ملیں گی، نہ تو یہ ہوگا کہ فرمانبردار نعمتوں سے محروم ہو کر مجرمین کے برابر ہوجائیں اور نہ یہ ہوگا کہ کافرین کو نعمتیں دے دی جائیں، جب اہل ایمان اور اہل تقویٰ کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–52

بشارت اہل ایمان وتقوی بنعماء جنت وتذلیل وتوہین کفار ومشرکین درروز آخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان للمتقین عندربھم .......... الی ........ الاذکر للعلمین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں ان منکرین ومکذبین کا ذکر تھا جو دولت کے نشہ میں مست ہو کر اللہ کی نافرمانی پر کمر بستہ ہوئے رسول خدا ﷺ کی توہین وتذلیل کی تو انکی نافرمانی اور غرور کا انجام ہلاکت ایک تاریخی واقعہ کی شکل میں بیان فرمایا گیا اب ان آیات میں اہل تقوی و ایمان کا اعزاز واکرام اور جنت میں حق تعالیٰ شانہ ان کو کیسی کیسی نعمتوں سے نوازے گا بیان فرمایا جارہا ہے پھر اسی کے ساتھ تنبیہ کے طور پر مجرمین ومنکرین کا قیامت کے روز کیسا برا انجام…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

15:۔ ” ان للمتقین “ یہ مومنوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے۔ جو لوگ کفر و شرک سے بچنے والے ہیں ان کے لیے نعمتوں کے باغ ہیں جہاں انہیں ہر قسم کی راحت و آسائش اور ہر نعمت میسر ہوگی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 34–41

گذشتہ سے پیوستہ (ربطہ) : گذشتہ آیات میں مشرکین مکہ کو تبنیہ کی گئی۔ ان کو مال و دولت ، اقتدار ، ریاست پر بڑا فخر تھا اللہ نے ایک مثال کے ذریعہ ان کو سمجھایا کہ یہ سب چیزیں اللہ نے ا ن کو امتحان کی خاطر دی ہیں ۔ یہ چیزیں اس با ت کی دلیل نہیں ہیں کہ یہ لوگ اللہ کے پسندیدہ اور اسکے محبوب ہیں بلکہ یہ تو مکذب اور بری خصلتوں کے مالک ہیں۔ ان میں تکبر ، گناہ ، حدود کو توڑنا ، چغلی کرنا ، قسمیں کھانا ، حق کی مخالفت ، رسالت سے انکار ، اللہ کی وحدانیت سے انکار ، جزائے عمل اور معاد کا انکار پایا جاتا ہے۔ تو باغ والوں کی مثال بیان کر کے اللہ تعالیٰ نے سمجھایا کہ ان کو نعمتیں عطا کی گئی تھیں مگر انہوں نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ عِنْدَ رَبِّہِمْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ۝ 34 لام اللَّامُ التي هي للأداة علی أوجه : الأول : الجارّة، وذلک أضرب : ضرب لتعدية الفعل ولا يجوز حذفه . نحو : وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ [ الصافات/ 103] . وضرب للتّعدية لکن قدیحذف . کقوله : يُرِيدُ اللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ [ النساء/ 26] ، فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلامِ وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقاً [ الأنعام/ 125] فأثبت في موضع وحذف في موضع . الثاني : للملک والاستحقاق، ولیس نعني بالملک ملک العین بل قد يكون ملکا لبعض المنافع، أو لضرب من التّصرّف . فملک العین نحو : وَلِلَّهِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 34–41

ترکیب : جنات النعیم اسم ان للمتقین خبرھا عندربہم یجوزان یکون ظرفاللا سقراروان یکون حالامن جنات افنجعل الھمزۃ للکانکارو الفاء للعطف علیٰ مقدر تقیضیہ المقام ای الخیف فی الحکم فنجعل المسلمین کالکافرین ام منقطعۃ کتاب موصوف فیہ تدرسون الجملۃ صفۃ لکتاب ان قراء الجمہور بالکسر علی انھا معمولۃ لتدرسون ای تدرسون فی الکتاب ان لکم فیہ لماتخیرون۔ وقیل تم الکلام عندقولہ تدرسون ثم ابتداء فقال ان لکم الخ بالغۃ بالرفع نعت لایمان وبالنصب علی الحال والعامل فیھا الظرف الی یوم القیامۃ بالمقدر فی لکم ای ثابتۃ لکم الیٰ یوم القیامۃ او ببالغۃ ای ایمان تبلغ ذلک الیوم۔ تفسیر : گروہ اشقیا کا حال پہلے مجملاً بیان فرمایا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَرَبِّہِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ ۔ (القلم : 34) (بیشک اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے ان کے رب کے پاس نعمت بھری جنتیں ہیں۔ ) اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کا انجام گزشتہ آیات میں ان لوگوں کا انجام بیان ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کے نبیوں کی تکذیب کرتے، قیامت کا انکار کرتے اور اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت اور پیغمبر کے مقابلے میں تکبر اختیار کرتے تھے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ان منکرین اور متکبرین کے برعکس زندگی گزارنے والوں یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کا انجام بیان ہورہا ہے۔ جن لوگوں نے ایمان و عمل کا راستہ اختیار کیا اور ہر فیصلہ کرنے اور ہر کام سے پہلے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اس کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 34–41

فہم القرآن ربط کلام : مجرموں کے لیے آخرت میں بڑا عذاب ہوگا اور متقین کے لیے انعامات ہوں گے۔ فہم القرآن کا مطالعہ کرنے والے حضرات جانتے ہیں کہ قرآن مجید کا اسلوب بیان ہے کہ وہ نیکی اور برائی، متقین اور مجرمین جنت اور جہنم کا مقابلۃً ذکر کرتا ہے۔ اسی اسلوب کے پیش نظر یہاں بھی مجرموں کا انجام ذکر کرنے کے بعد متقین کے انعامات کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہوا کہ کیا ہم تابعدار اور نافرمان لوگوں کو برابر کردیں ؟ ایساہرگز نہیں ہوگا یقیناً متقی لوگ اپنے رب کے ہاں انعام وکر ام والی جنت میں ہوں گے۔ جب جنتیوں کے انعام کا ذکر کیا جاتا ہے تو کفار اور مشرکین کہتے ہیں کہ ہم ایمانداروں سے دنیا میں بھی بہتر ہیں اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

34 : نحو : پھر ایمان والوں کو ملنے والے انعامات کا ذکر فرمایا اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ (بیشک پرہیز گاروں کیلئے) جو شرک سے بچنے والے ہیں۔ عِنْدَ رَبِّھِمْ (ان کے رب کے نزدیک) یعنی آخرت میں جَنّٰتِ النَّعِیْمِ (آسائش کی جنتیں ہیں) وہ ایسے باغات ہیں جن میں خالص نعمتوں سے لطف اندوزی ہوگی دنیا کے باغات ایسے نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

33 ۔” کذلک العذاب “ یعنی جیسے ہم نے ان کے ساتھ کیا ہم اس طرح ان کے ساتھ کرتے ہیں جو ہماری حدود سے تجاوز کرے اور ہمارے حکم کی مخالفت کرے۔ ” والعذاب الآخرۃ اکبر لو کانوا یعلمون “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 34–41

34۔ 41۔ اوپر دنیا کے ایک باغ کا ذکر تھا اس کے پورا کرنے کے لئے جنت کے باغوں کا ذکر فرمایا اس طرح کی آیتوں کو سن کر مشرکین مکہ یہ کہا کرتے تھے کہ اگر مرنے کے بعد پھر جینا اور میوے کھانے کے لئے باغوں کا ملنا سچ ہے تو دنیا میں جس طرح ہم لوگ بہ نسبت مسلمانوں کے خوشحالی سے گزران کرتے ہیں اسی طرح آخرت میں بھی ہم اچھی طرح رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں مشرکوں کی اس بات کا یہ جواب دیا کہ آخرت کا حال کسی نے آنکھ سے تو ابھی تک دیکھا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ سے وہ حال اپنے رسول کو بتایا ہے اور اللہ کے رسول کے ذریعہ سے وہ حال مسلمان لوگوں کو معلوم ہوا ہے۔ ان مشرکوں کے پاس کیا اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 34–39

اللہ تعالیٰ ان چیزوں کے بارے میں آگاہی فرماتا ہے جو اس نے کفر اور معاصی سے بچنے والوں کے لیے تیار کررکھی ہیں، یعنی مختلف انواع کی نعمتیں اور اکرم الاکرمین کے جوار میں ہر قسم کے تکدر سے پاک زندگی، نیز وہ آگاہ فرماتا ہے کہ اس کی حکمت تقاضا نہیں کرتی کہ وہ اہل تقوی، اپنے رب کے فرماں بردار بندوں، اس کے احکام کی تعمیل کرنے والوں اور اس کی مرضی کی اتباع کرنے والوں کو مجرموں کے برابر قرار دے جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، اس کی آیات اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر اور اس کے اولیاء کے ساتھ محاربت میں مبتلا کررکھا ہے، جو کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں کو ثواب میں برقرار دے گا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–52

قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

26 پرہیزگاروں کے لئے ابدی کامیابی کی بشارت : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمہ تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ پرہیزگاروں کے لئے ان کے رب کے یہاں نعمتوں بھری جنتیں ہیں اور جو ایسی نعمتوں سے بھیر ہیں کہ نہ کسی آنکھ نے ان کو دیکھا، نہ کسی کان نے ان کو سنا اور نہ کسی دل پر ان کا گزر ہی ہوا، (مالا عین راب ولا اذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر اللھم اجعلنا من اھلھا) سو مستکربین و مجرمین والعیاذ باللہ کے انجام کے ذکر وبیان کے بعد اب اس سے متقین کا انعام بیان فرمایا گیا ہے، سو جن لوگوں نے دنیا میں اپنے رب کی ناراضگی سے بچتے ہوئے اور آخرت کے حساب و کتاب سے ڈرتے ہوئے زندگی گزاری ہوگی ان کے لئے آخرت میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–35

باغ والوں کے بخل کا واقعہ تشریح :۔ اس قصے سے سبق ملتا ہے کہ صرف دنیا میں کھو جانا اور اللہ کی طرف سے آنکھیں بند کرلینا سراسر غلط راستہ ہے رب العزت کا یہی طریقہ ہے کہ وہ بندوں کو ایسی ہی سزاؤں سے جھنجوڑتا ہے کہ انسان غفلت سے باز آجائے یہ دنیاوی نقصانات تو صرف آنکھیں کھولنے کے لیے کرائے جاتے ہیں نافرمان اور غفلت سے بیدار نہ ہونے والے لوگوں کو آخرت میں بڑا سخت عذاب دیا جائے گا۔ جب کہ فرمانبرداروں کے لیے آرام و آسائش کے بہترین باغات ہیں اور یہی فرق ہے نافرمانوں اور فرمانبرداروں میں کیونکہ اللہ بہترین انصاف کرنے والا ہے۔ اچھے اور برے لوگوں کا حساب ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔ حدیث میں نصیحت کی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 34–52

آیات 34 تا 52۔ اسرار ومعارف۔ اور جو لوگ عظمت الٰہی کا اقرار کرلیتے ہیں ان کی خاطر تو ان کے پروردگار نے جنت کی نعمتیں سجارکھی ہیں جو لوگ اطاعت گزار اور حکم بجالانے والے ہیں بھلامجرم ان کی برابری کس طرح کرسکتے ہیں کہ تم اے کفار برائی پہ اچھے نتیجے کی امید رکھتے ہو تمہاری یہ رائے قطعی غلط ہے کیا اس کے لیے تمہارے پاس کوئی نقلی دلیل ہے عقلا تو ویسے محال ہے تو کیا کسی آسمانی کتاب میں تمہیں یہ حق دیا گیا ہے کہ اپنے لیے بہتری چن لو یا اللہ نے قیامت تک کوئی قسم کھارکھی ہے کہ تم جو مانگو ملے گا بھلا تمہارے پاس ایسی باتوں کی کیا ضمانعت ہے ؟ یا کوئی اور ہستی ایسی ہے جو اللہ کی شریک ہے اس نے تمہیں وعدہ دے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 34–35

“6 ” ھمزہ “ برائے انکار اور فاء عاطفہ ہے اور اس کا عطف مقدر پر ہے : ای فیعیف فی الحکم فیجعل المسلمین کا لکافرین یعنی ہرگز برابر نہ کریں گے کیونکہ اگر ایسا ہو تو جزا سزا کا سارا قانون ہی بےمعنی ہو کر رہ جائے۔ یہ آیت ” ان المتقین “ کی تاکید ہے اور اس سے مقصود کفار مکہ کے اس خیال کی تردید ہے کہ اگر واقعی قیامت آئی جیسا کہ محمد (ﷺ) کا دعویٰ ہے تو اس میں ہمارا اور مسلمانوں کا حال وہی ہوگا جو اس دنیا میں ہے۔ ہم چونکہ یہاں مالدارو خوشحال ہیں اس لئے آخرت میں بھی مسلمانوں سے زیادہ عنایات و انعامات سے نوازے جائیں گے یا کم از کم ان کے برابر تو ہوں گے ہی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(68:34) جنت النعیم مضاف مضاف الیہ۔ راحت کے باغ۔ یعنی ایسے باغ جن کے اندر آسائش کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ النعیم۔ اسم معرفہ، نعمت، راحت۔ عیش۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 34–41

لغات القرآن۔ تدرسون۔ تم پڑھتے ہو۔ تخیرون۔ تم پسند کرتے ہو۔ ایمان۔ قسمیں۔ تشریح : مکہ کے کفار و مشرکین اپنی معمولی دولت اور چھوٹی چھوٹی سرداریوں کی وجہ سے اس طرح غرور وتکبر کے پیکر بنے ہوئے تھے کہ اپنے سوا ہر ایک کو حقیر اور ذلیل سمجھتے تھے۔ وہ اس غلط فہمی کا شکار تھے کہ جس طرح وہ اس دنیا مین عیش و آرام سے زندگی گزار رہے ہیں آخرت میں بھی اسی طرح راحت و آرام سے رہیں گے اور ان کے دیوی دیوتا ان کی سفارش کرکے جنت کی راحتوں سے ہم کنار کرادیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے خوش فہمی میں مبتلا ایسے لوگوں سے فرمایا ہے کہ جنت اور اس کی بھرپور نعمتوں کے مستحق وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے دنیا کی زندگی میں ایمان، عمل صالح،…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 34–41

(ف 1) شان نزول : مشرکین نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ اگر مرنے کے بعد پھر ہم اٹھائے بھی گئے تو وہاں بھی ہم تم سے اچھے رہیں گے اور ہماری ہی درجہ بلند ہوگا جیسے کہ دنیا میں ہمیں آسائش حاصل ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ ان مشرکوں کے پاس کیا اللہ کی طرف سے کوئی نوشتہ آیا ہے یا اللہ نے ان سے عہد لیا ہے یا کوئی ضامن انہوں نے پیدا کیا ہے یا ان کے بتوں نے ان سے اقرار کیا ہے کہ آخرت میں ان کو اللہ کے فرمانبرداروں سے بڑھ کر خوش حالی ملے گی، اللہ تعالیٰ کے انصاف میں یہ بات ہرگز روا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو اور فرمانبردار کو ایک سا کردے۔ یا اللہ تعالیٰ نے ان کے بتوں کو اپنے حکم میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 28–35

[9] یعنی اللہ کی پاکی کیوں نہیں بیان کرتے ؟ مطلب یہ ہے کہ فقراء و مساکین سے تم اپنا مال اس لئے بچانا چاہتے ہو کہ تم سمجھتے ہو کہ اللہ تم کو اس کے بجائے اور نہ دے گا حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے۔ وہ اس کی راہ میں خرچ کرنے والوں کو اپنے پاس سے زیادہ دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 32–41

کیا مسلمان اور جرائم پیشہ لوگ برابر ہیں 1: جس طرح حق و باطل میں امیتاز ہے ۔ فسق وفجور تقوی اور پرہیزگاری برابر نہیں ۔ اور جس طرح سرکشی اور تمرد میں بین تفاوت ہے ۔ اسی طرح نتائج اعمال میں درجات کا فرق برحق ہے ۔ کچھ لوگ ایسے ہیں ۔ جو اپنی سیاہ کاریوں کے باعث اللہ کے غضب وسخط کے مستحق ہیں ۔ اور کچھ وہ ہیں ۔ جو صحت البقدہ اور حسن عمل کی بدولت مقام قرب وحضوری پر فائز ہیں ۔ اس کے لئے روح اور جسم کی پوری آسودگی کا انتظام ہے ۔ یہ لوگ جنات نعیم میں کام ورہن کی لذتوں سے بہرہ اندوز ہوں گے ۔ ان کے لئے روح کی بالیدگی کا سامان مہیا ہوگا ۔ ان کے لئے دیدہ ونظر کے لئے رب السموت کی جلوہ فرمائیاں باعث تسکین ہوں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(34) البتہ ڈرنے والوں اور پرہیزگاروں کے لئے ان کے پروردگار کے پاس نعمتوں کے باغ ہیں۔ اوپر کی آیتوں میں باغ ضروان کے مالکوں کا ذکر تھا اور اہل مکہ کے منکروں کی آزمائش اور امتحان کی طرف اشارہ تھا اب ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو کفر سے اور دوسرے گناہوں سے پرہیز کرتے ہیں ان کو عالم آخرت میں جو نعمتیں اور آرام و آسائش کے باغ ملنے والے ہیں ان کا ذکر کیا کیا چون کہ کفار مکہ عام طور سے یہ خیال کیا کرتے تھے کہ اول تو قیامت اور میدان حشر کا قیام یہ سب ڈھونگ ہے ان میں سے کوئی بات بھی ہونے والی نہیں اور اگر بالفرض قیامت ہوئی بھی اور وہ دوسرا عالم آیا بھی تو ہمارے وہاں بھی حسنی اور جنت ہوگی ہم مسلمانوں سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 33–40

ف 6۔ یعنی اے اہل مکہ تم بھی ایسے ہی عذاب کے مستحق ہو، بلکہ اس سے بھی زیادہ کے کیونکہ عذاب مذکور تو محض معصیت پر تھا، تم تو کفر کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ پرہیزگار بندوں کے لئے ان کے رب کے ہاں نعمتوں کے باغات ہیں 34 ؎ گزشتہ آیات میں متکبرین کی بات تھی اور ان کے مشوروں میں اس طرح کے خیالات کی ترجمانی ہوتی تھی۔ یہ دوسری بات ہے کہ وہ کچھ نقصان حاصل کرنے کے بعد سنبھل گئے اور انہوں نے تکبر سے توبہ کر کے تقویٰ اور پرہیزگاری کی راہ اختیار کرلی اور اب زیر نظر آیت میں ان کو گویا متقی کہہ کر ان کی پذیرائی کی جا رہی ہے کہ سنبھلنے والوں کے لئے خیر و برکت ہے اور اب وہ آخرت کی خوشخبری کے مستحق ٹھہرے۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ ہر وہ شخص جو دنیا کی زندگی میں اس طرح ڈوب نہ جائے کہ آخرت سے نچنت ہوجائے بلکہ اپنی آخرت کی فکر بھی رکھتا ہو تو بحمد اللہ اس کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–34

كَذَٰلِكَ الْعَذَابُ (In this way the punishment comes. And, of course, the punishment of the Hereafter is even greater, if they but realize!....68:33). After a brief reference to the famine faced by the Makkans and a detailed account of the People of the Garden whose garden was burnt as a punishment, the present verse sets down a general rule. When a Divine punishment visits, it visits in this way, and this kind of punishment in the mortal world does not serve as an expiation for the punishment in the Hereafter. The punishment of the Hereafter is greater and more severe. The following…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 34–35

19 This is. a rejoinder to the chiefs of Makkah, who argued with the Muslims, thus: "The blessings that we are enjoying in the world are a sign that we are favourites of AIlah, and the miserable lives that you are living are a proof that you are under the wrath of AIIah. Therefore, even if there was any life after death, as you say, we shall have good time there too, and the torment would be imposed on you, not on us!"

Read the full tafseer →