Explained with ayahs 17–33
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی
یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
سورة الْقَلَم 18
یعنی ہر ایک نے دوسرے کو الزام دینا شروع کیا کہ اس کے بہکانے سے ہم اس خدا فراموشی اور بد نیتی میں مبتلا ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
كَذٰلِكَ الْعَذَابُ۔ اہل مکہ کے عذاب قحط کا اجمالی اور باغ والوں کے کھیت جل جانے کا تفصیلی ذکر فرمانے کے بعد عام ضابطہ ارشاد فرمایا کہ جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو اسی طرح آیا کرتا ہے اور دنیا میں عذاب آجانے سے بھی ان کے آخرت کے عذاب کا کفارہ نہیں ہوتا بلکہ آخرت کا عذاب اس کے علاوہ اور اس سے زیادہ سخت ہوتا ہے۔
اگلی آیات میں اول نیک متقی بندوں کی جزاء کا ذکر ہے اور اس کے بعد مشرکین مکہ کے ایک اور باطل دعوے کا رد ہے۔ وہ یہ کہ کفار مکہ کرتے تھے کہ اول تو قیامت آنے والی نہیں اور دوبارہ زندہ ہو کر حساب کتاب کا قصہ سب افسانہ ہے اور اگر بالفرض ایسا ہو بھی گیا تو ہمیں وہاں بھی ایسی ہی نعمتیں اور مال و…
Read the full tafseer →تمثیل کے بعد قریش کو تنبیہ:
تمثیل سنانے کے بعد یہ قریش کو تنبیہ ہے کہ اللہ کا رسول ان کو جس عذاب سے ڈرا رہا ہے وہ اسی طرح ان پر آ دھمکے گا۔ آج وہ اپنے عیش میں مگن اور خدا کی پکڑ سے بالکل نچنت ہیں۔ رسولؐ ان کو خطرہ سے آگاہ کر رہا ہے تو اس کو خبطی کہتے ہیں۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی ہے کہ ان پر عذاب کدھر سے آ جائے گا۔ وہ ادھر سے آئے گا جدھر سے اس کے آنے کا گمان بھی نہ ہو گا اور اس وقت ان کا وہی حال ہو گا جو باغ والوں کا ہوا لیکن اس وقت ان کا نالہ و شیون بالکل بے سود ہو گا۔
’کَذٰلِکَ الْعَذَابُ‘ میں ’عَذَاب‘ سے اس عذاب کی طرف اشارہ ہے جو سنت الٰہی کے مطابق کسی قوم پر اس وقت آیا ہے جب اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
یعنی اللہ کے حکم کی مخالفت اور اللہ کے دیے مال میں بخل کرنے والوں کو ہم دنیا میں اسی طرح عذاب دیتے ہیں۔
33۔ 1 لیکن افسوس وہ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے، اس لئے پروا نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
12: اس آیت سے بطاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعے کے بعد انہوں نے توبہ کرلی تھی۔
Read the full tafseer →کذلک .................... یعلمون (86 : 33) ” ایسا ہوتا ہے عذاب۔ اور آخرت کا عذاب اس سے بڑا ہے ، کاش یہ لوگ اس کو جانتے “۔ یوں ہوتی ہے نعمتوں میں بھی آزمائش۔ اس لئے اہل مکہ کو معلوم ہونا چاہئے۔
انا بلونھم ................ الجنة (86 : 71) ” ہم نے ان کو اسی طرح آزمائش میں ڈال دیا ہے جس طرح باغ والوں کو آزمایا تھا “۔ لہٰذا ان کو دیکھنا چاہئے کہ ان کی بھلائی کس میں ہے۔ اور یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ دنیا کی آزمائش اور عذاب تو مختصر ہوتا ہے۔ اس کی تلافی ہوجاتی ہے۔
ولعذاب ................ یعلمون (86 : 33) ” لیکن آخرت کا عذاب اس سے بہت بڑا ہے ، کاش یہ لوگ جانتے “۔
یوں قریشی کے سامنے خود ان کے بدوی معاشرے…
Read the full tafseer →10 یعنی یہ تو دنیا کے عذاب کا ایک چھوٹا سا نمونہ تھا جسے کوئی ٹال نہ سکا۔ بھلا آخرت کی اس بڑی آفت کو تو کون ٹال سکتا ہے۔ سمجھ ہو تو آدمی یہ بات سمجھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
آیت 33{ کَذٰلِکَ الْعَذَابُط وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ 7} ”اسی طرح آتا ہے عذاب ! اور آخرت کا عذاب تو یقینا بہت ہی بڑا ہے۔“
اس واقعے میں تو دنیا کے عذاب کا ذکر ہے۔ لیکن یاد رکھو دنیا کے عذاب تو نسبتاً چھوٹے اور وقتی ہوتے ہیں اور توبہ کرنے پر ٹل بھی جاتے ہیں۔ مثلاً ایک سال اگر پکی پکائی فصل برباد ہوگئی تو اللہ کی طرف رجوع کرنے سے ہوسکتا ہے اگلے سال اس کی تلافی ہوجائے ‘ لیکن آخرت کا معاملہ یکسر مختلف ہے۔ آخرت کا عذاب بہت بڑا ہوگا اور اس وقت پلٹنے کا راستہ اور توبہ کا دروازہ بھی بند ہوچکا ہوگا۔
{ لَــوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۔ } ”کاش کہ یہ لوگ اس حقیقت کو جانتے !“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
16 یعنی یہ عذاب تو باغ والوں کو اس دنیا میں ملا۔ اور جو آخرت میں اس طرح کے بخل سے عذاب ہوگا وہ اس سے بہت بڑا ہوگا۔
Read the full tafseer →18۔ کاش بندوں کو اس حقیقت کا علم ہوتا اور استحضار رہا کرتا کہ معصیت ونافرمانی کی پاداش میں جو عذاب اس دنیا میں کبھی کبھی ہوتا رہتا ہے، جب اس کانمونہ یہ ہے تو کفر و انکار پر عذاب جس کا پور ظہور آخرت میں ہی میں ہوگا۔ ظاہر ہے کہ وہ اس سے کس درجہ بڑھا ہوا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
عسی ربنا ان یبدلنا خیرا منھا کہتے ہیں کہ انہوں نے آپس میں عہد کیا کہ اب اگر اللہ نے ہمیں مال دیا تو اپنے باپ کی طرح اس میں غرباء و مساکین کا حق بھی ادا کریں گے۔
امام بغوی (رح) تعالیٰ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے کہ ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ جب ان سب لوگوں نے سچے دل سے توبہ کرلی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بہتر باغ عطا فرما دیا جس کے انگوروں کے خوشے اتنے بڑے ہوتے کہ ایک خوشہ ایک خچر پر لادا جاتا تھا (مظہری، معارف، واللہ اعلم بالصواب)
Read the full tafseer →کذلک العذاب . یعنی جیسا عذاب ہم نے اصحاب الجنۃ اور اہل مکہ پر نازل کیا۔ ایسا ہی شکر نہ کرنے پر دنیا
میں عذاب آتا ہے۔
ولعذاب الاخرۃ اکبر . اور کفر ‘ معصیت ‘ ترک شکر اور زکوٰۃ نہ دینے کا اخروی عذاب دنیوی عذاب سے بہت سخت
اور ناقابل زوال ہے۔
لو کانوا یعلمون . اگر وہ جانتے ہوتے تو جو حرکتیں کی ہیں ‘ نہ کرتے۔ یہ جملہ شرطیہ ہے ‘ گزشتہ کلام کا مفہوم ہی
جزاء پر دلالت کر رہا ہے ‘ جدید جزاء کی ضرورت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
(31۔ 33) اور پھر متفق ہو کر کہنے لگے بیشک ہم مسکینوں کو نہ دینے کی نیت کر کے نافرمانی کرنے والے تھے، شاید ہمارا پروردگار ہمیں اس باغ سے اچھا باغ جنت میں بدلہ میں دے دے ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
جو اپنے مال میں سے اللہ کا حق ادا نہ کرے دنیا میں اس کو اسی طرح عذاب ہوا کرتا ہے جیسا کہ ان لوگوں کا باغ جل گیا اور اس کے بعد بھوک کی تکلیف میں گرفتار ہوئے یا یہ کہ دنیا کا عذاب اسی طرح ہوا کرتا ہے جیسا کہ مکہ والے قتل اور بھوک کے عذاب میں گرفتار ہیں اور جو شخص توبہ نہ کرے اس کے لیے آخرت کا عذاب اس دنیا کے عذاب سے بھی بڑھ کر ہے۔
کیا اچھا ہوتا اگر اہل مکہ اس چیز کو جان لیتے مگر نہ یہ لوگ اس کو…
Read the full tafseer →کٰذَلِکَ الْعَذَابُ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ۔۔۔: اہل مکہ کو یاد دلایا جارہا ہے کہ نعمت کی ناشکری پر عذاب اس طرح ہوتا ہے جس طرح باغ والوں پر آیا اور آخرت کا عذاب تو اس سے کہیں بڑا ہے، کیونکہ دنیا کے عذاب کے بعد تو
توبہ و استغفار کی گنجائش ہے، جیسا کہ اس باغ والوں نے توبہ کرلی اور توبہ کے بعد عذاب سے ہونے والے نقصان کی تلافی کی بھی امید ہے، جیسا کہ باغ ملنے کی امید رکھی، مگر آخرت کے عذاب کے بعد ان میں سے کسی چیز کی گنجائش نہیں۔
Read the full tafseer →کذلک العذاب یعنی دنیا کا عذاب اور اموال کی ہلاکت، یہ ابن زید سے مروی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اہل مکہ کو نصیحت کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی دعا کی وجہ سے خشک سالی میں مبتلا کیا تھا یعنی ہم ان کے ساتھ دنیا میں اسی قسم کا معاملہ کریں گے جو بلھی ہماری حدود کو پامل اکرے گا (1) ولعذاب الاخرۃ اکبر لوکانوا یعلمون۔ حضرت ابن عباس نے کہا، یہ اہل مکہ کے لئے مثال ہے جب وہ بدر کی طرف نکلے اور انہوں نے قسم اٹھائی کہ وہ حضرت محمد ﷺ اور آپ کے اصحاب کو قتل کریں گے اور مکہ کی طرف لوٹیں گے یہاں تک کہ بیت اللہ شریف کا طواف کریں گے، شرب پئیں گے اور لونڈیاں ان کے پاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–41
73۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کذلک العذاب اسی طرح ہے عذاب۔ یعنی دنیا کی سزا آیت ولعذاب الاخرۃ اکبر۔ اور البتہ آخرت کا عذاب بڑا ہے اور فرمایا آیت سلہم ایہم بذلک زعیم۔ ان سے پوچھیے کون سا ان میں اس بات کا ذمہ دار ہے۔ یعنی اس کام کا ان میں سے کون ضامن ہے۔
74۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ تدرسون یعنی تم پڑھتے ہو اور آیت ایمان علینا بالغہ۔ کیا تمہارے لیے ہم نے قسمیں کھائی ہیں جو قیامت تک چلی جائیں گی یعنی ہم پر کوئی وعدہ ہے۔
Read the full tafseer →[كَذٰلِكَ الْعَذَابُ ۭ: ایسا ہوتا ہے (دنیوی) عذاب ][ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ : اور یقینا آخرت کا عذاب (تو)][ اَكْبَرُ ۘ: سب سے بڑا ہے ][ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ : کاش یہ لوگ جانتے ہوتے ]
Read the full tafseer →آخر میں فرمایا ﴿ كَذٰلِكَ الْعَذَابُ 1ؕ﴾ (اسی طرح عذاب ہے) جو شخص ہماری حدود سے آگے بڑھتا ہے اور حکم کی مخالفت کرتا ہے ہم اسے اسی طرح عذاب دیتے ہیں۔ ﴿ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ 1ۘ﴾ اور البتہ آخرت کا عذاب بہت بڑا ہے۔
﴿ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ (رح) 0033﴾ تاکہ یہ لوگ جانتے ہوتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
عبرتناک انجام غرور وتکبر بردولت دنیا و محرومی از سعادت وآخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انا بلونھم کما بلون آ اصحب الجنۃ ....... الی ...... لو کانوا یعلمون “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل مکہ کے ان مغرور ومتکبر انسانوں کا ذکر تھا جنہوں نے محض اپنے مال و دولت اور اولاد وخاندان کے نشہ میں رسول خدا ﷺ کی توہین کی انکار وکفر کے مرتکب ہوئے تو اب ان آیات میں ایک باغ والوں کا قصہ بیان کرکے بتایا جارہا ہے کہ انسان کو دنیا کے مال ومنال پر بھروسہ کرکے مغرور ومتکبر نہ ہونا چاہئے دنیا کی حقیقت بس اتنی ہی ہے اور غرور کا انجام ایسا ہی ہے جیسے کہ اس باغ کی تباہی اور باغ والوں کی بربادی سے ظاہر ہورہا ہے یہ باغ…
Read the full tafseer →14:۔ ” کذلک العذاب “ یہ اہل مکہ کو تنبیہ ہے یعنی دنیا کا عذاب ایسا ہے جس میں تم کو مبتلا کیا گیا ہے اور آخرت کا عذاب ایسا ہے جس میں تم کو مبتلا کیا گیا ہے اور آخرت کا عذاب اس سے بھی زیادہ سخت اور ہولناک ہے۔ اگر وہ اس کو حقیقت کو جان لیں تو کفر و شرک اور تکذیب و انکار سے باز آجائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
گذشتہ سے پیوستہ :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا ، جو پیغمبر ﷺ پر کئے اور توحید الہٰی ، رسالت اور معاد کے مکذبین کے متعلق ارشاد فریاما کہ ان کی کسی بات کو تسلیم نہ کریں کیونکہ ان بےہودہ لوگوں نے نبی جیسے عقل مند ، ذہین اور سب سے بلند اخلاق والی ہستی کو العیافہ باللہ مجنون کا خطاب دیا ۔ یہ مشرکین آپ ﷺ کو مداہنت پر آمادہ کرنا چاہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی دس الفاظ کے ساتھ مذمت بیان کی۔ پھر فرمایا کہ یہ اس لیے غرور وتکبر کرتے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے مالی و اولاد سے نوازا ہے۔ یہ انعامات تو شکر گزاری کا سبب بننا چاہئیں نہ کہ تکذیب و نافرمانی کا ان کے غرور کا…
Read the full tafseer →كَذٰلِكَ الْعَذَابُ 0 ۭ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَكْبَرُ 0 ۘ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ 33 ۧ
عذب
والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في
العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21]
واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر،
( ع ذ ب )
العذاب
سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔
لفظ عذاب کی اصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
ترکیب : اذ تعلیلیۃ اوظرفیۃ بنوع تسمح لان الانقسام کان قبل ابتلائہم لیصرمنہا جواب القسم مصبحین حال من الفاعل فی یصرمنہا ولا یستثنون جملۃ مستانفہ لبیان ماوقع منھم وقیل حال فتنادوا معطوف علی اقسموا بینما اعتراض لبیان مانزل بتلک الجنۃ ان اغدوا ان مفسرۃ لان فی التنادی معنی القول او مصدریۃ ای اخرجواغدوۃً ان کنتم الخ جواب الشرط محذوف فاغدوا وھم یتخافتون الجملۃ حال من فاعل فانطلقوا ان لایدخلنہا ان مفسرۃ للتخافت المذکور لمافیہ من معنی القول علی حرد یتعلق بقادرین وقادرین حال وقیل خبر غدوا لا نھا حملت علی اصبحوا۔
تفسیر : اہل مکہ خصوص ولید وغیرہ ثروت و حشمت پر نازاں ہو کر کہتے تھے کہ ہم پر خدا کی نظر…
Read the full tafseer →کَذٰلِکَ الْعَذَابُ ط وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ م لَوْکَانُوْا یَعْلَمُوْنَ ۔ (القلم : 33)
(اسی طرح آتا ہے عذاب اور آخرت کا عذاب تو اس سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے، کاش یہ لوگ اس کو جانتے۔ )
حاصلِ نصیحت اور قریش کو تنبیہ
باغ والے اپنے باغ کی سرسبزی، پھلوں کی شادابی اور دوسری فصلوں کی تیاری کی خوشی میں سرشار اور مست تھے۔ اب صرف ان پھلوں کو توڑنے اور فصل کو کاٹنے کا مرحلہ تھا۔ اس کے بعد ہر طرح کی نعمت کی فراوانی ہوجاتی اور خوشحالی میں مزید اضافہ ہوجاتا انھیں تصورات میں گم غرور وتکبر میں ڈوبے ہوئے اور مستقبل کے خطرات سے بےنیاز صبح صبح اپنے باغ میں پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ باغ تباہ ہوچکا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ کی آزمائش۔
نبی معظم ﷺ کی جدوجہد کے سامنے بےبس ہو کر اہل مکہ نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ کچھ آپ نرم ہوجائیں اور کچھ ہم نرم ہوجاتے ہیں نبی ﷺ نے اسے مکمل طور پر مسترد کردیا۔ اس کے ردِّ عمل میں انہوں نے مزدور صحابہ کرام ؓ کی مزدوریاں روک لیں اور اپنے غریب رشتہ دار صحابہ کے ساتھ تعاون کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا، ان کے سرداروں نے مہم چلائی کہ مسلمانوں کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کیا جائے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں جس میں انتباہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم مکہ والوں کو اس طرح آزمائیں گے جس طرح ان سے پہلے باغ والوں کو آزما چکے ہیں۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک شخص کا باغ تھا وہ اپنے باغ کی…
Read the full tafseer →33 : کَذٰلِکَ الْعَذَابُ (اسی طرح عذاب ہوا کرتا ہے) یعنی اس عذاب کی طرح جس کا تذکرہ ہم نے کیا یہ دنیا کا عذاب ہے جو ان کیلئے ہے جو انہی کی راہ پر چلے۔ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ (اور آخرت کا عذاب اس سے بھی بڑھ کر ہے) بہت ہی بڑا ہے۔ لَوْکَانُوْا یَعْلَمُوْنَ (کیا خوب ہوتا کہ یہ لوگ جان لیتے) اسلئے کہ جو کچھ یہ کر رہے ہیں وہ ان کو عذاب کی طرف دھکیل رہا ہے۔
Read the full tafseer →32 ۔ پھر اپنے دل میں کہنے لگے ” عسیٰ ربنا ان یبدلنا خیرا منھا انا الی ربنا راغبون “ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ان لوگوں نے اخلاص دکھایا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی سچائی کو پہچان لیا تو ان کو اس باغ کے بدلہ میں ایک اور باغ دیا جس کو حیوان کہا جاتا تھا۔ اس میں انگور کا درخت تھا اس کا ایک گچھا ایک خچر اٹھاتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
17۔ 33۔ اہل مکہ جب اپنے مال و متاع پر بہت اترائے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اللہ کے رسول سے طرح طرح کی سرکشی انہوں نے شروع کی تو آنحضرت ﷺ نے ان کے حق میں قحط کی بددعا کی جس کا ذکر حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں ہے اللہ کے رسول کی بد دعا سے بڑا سخت قحط پڑا یہاں تک کہ اہل مکہ مردار چیزیں کھا کر زندگی بسر کرنے لگے۔ آخر آنحضرت ﷺ سے رفع قحط کی دعا کرنے کی التجا کی اور آپ ﷺ کی دعا سے وہ قحط رفع ہوا اس لئے اوپر کی آیتوں میں ولید بن مغیرہ کا خاص طور پر ذکر فرما کر سب قریش کو قحط کا قصہ یاد دلایا اور فرمایا کہ ان لوگوں کی نافرمانی کے سبب سے ان پر قحط کی آفت اسی…
Read the full tafseer →(ولعذاب الاخرۃ اکبر) دنیا کے عذاب سے آخرت کا عذاب زیادہ بڑا ہے (لوکانوایعلمون) ، کاش انہیں سمجھ ہوتی۔ کیونکہ جو کوئی اس حقیقت کو جانتا ہے تو یہ علم اسے ہر اس سبب سے باز رکھتا ہے جو عذاب کا موجب اور ثواب سے محروم رکھنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–52
قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔
ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
23 ۔ تنبیہی عذاب سے متعلق سنت الہیہ کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی طرح ہوتا ہے اللہ کا عذاب۔ جوا نسان کو اس کی سرکشی اور بدعملی کی پاداش میں کبھی اسی دنیا میں بھی آدبوچتا ہے، والعیاذ باللہ، تاکہ عبرت پکڑنے والے عبرت پکڑیں اور انکار وتکبر والے اپنے انجام کو پہنچیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ولنذیقنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر لعلھم یرجعون (السجدہ :21) چناچہ ایسے عذاب اس دنیا میں پہلے بھی آتے رہے اور اب بھی آئے دن آتے رہتے ہیں، جگہ جگہ آتے ہیں اور طرح طرح سے آتے ہیں، والعیاذ باللہ، مگر یہ انسان کی غفلت و لاپرواہی اور اس کی محرومی ہے کہ یہ اس سے سبق نہیں لیتا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–35
باغ والوں کے بخل کا واقعہ
تشریح :۔ اس قصے سے سبق ملتا ہے کہ صرف دنیا میں کھو جانا اور اللہ کی طرف سے آنکھیں بند کرلینا سراسر غلط راستہ ہے رب العزت کا یہی طریقہ ہے کہ وہ بندوں کو ایسی ہی سزاؤں سے جھنجوڑتا ہے کہ انسان غفلت سے باز آجائے یہ دنیاوی نقصانات تو صرف آنکھیں کھولنے کے لیے کرائے جاتے ہیں نافرمان اور غفلت سے بیدار نہ ہونے والے لوگوں کو آخرت میں بڑا سخت عذاب دیا جائے گا۔ جب کہ فرمانبرداروں کے لیے آرام و آسائش کے بہترین باغات ہیں اور یہی فرق ہے نافرمانوں اور فرمانبرداروں میں کیونکہ اللہ بہترین انصاف کرنے والا ہے۔ اچھے اور برے لوگوں کا حساب ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔ حدیث میں نصیحت کی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–33
آیات 1 تا 23۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم سے لکھاجاتا ہے یعنی آپ ﷺ نے امی ہونے کے باوجود علم کے وہ دریابہائے کہ خود قلم اور اس کی تحریر آپ کے کامل عقل مند اور بےمثال صاحب خرد ہونے پر دال ہے۔
مجنون۔
جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر ساری انسانیت کو دعوت حق دے دی اور تمام انسانوں کے لیے ایک عقیدہ اور ایک نظام حیات تو مشرکین نے اسے معاذ اللہ پاگل پن قرار دیا کہ دنیا کی عظیم الشان حکومتیں ساری دنیا پہ ایک نظام رائج نہ کرسکیں۔ پھر آپ ﷺ امی ہیں ، اکیلے ہیں یا چند مسلمان جن کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں پھر اقوام عالم کے مزاج الگ ، فکر الگ ، رنگ ونسل اپنی اپنی ، غذا الگ زبانیں الگ موسم اور…
Read the full tafseer →ف 5 ” جیسے وہ مکہ والوں پر یا ان باغ والوں پر اترا۔
Read the full tafseer →(68:33) کذلک العذاب : العذاب : مبتدا مؤخر۔ کذلک اس کی خبر مقدم : ک تشبیہ کا ذلک : وہ (عذاب ) جس کا اوپر ذکر ہوا۔ جو باغ والوں کو ان کی سرکشی کے بدلے میں ملا۔ مطلب یہ ہے کہ جو باغی ہوتا ہے اس کو ہم ایسا عذاب دیتے ہیں (اور آخرت کا عذاب اس دنیاوی عذاب سے بہت سخت ہے) ۔
لو کانوا یعلمون : لو حرف تمنائی ہے کاش وہ اسے جانتے ۔ لو شرطیہ بھی ہوسکتا ہے۔ اور لوکانوا یعلمون جملہ شرطیہ۔ اس صورت میں گزشتہ کلام کا مفہوم ہی جزاء پر دلالت کرتا ہے جدید جزاء کی ضرورت نہیں ۔ ای ما فعلوا ذلک اگر وہ جانتے تو ایسا کام کیوں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–33
لغات القرآن۔
یسطرون۔ وہ لکھتے ہیں۔ ممنون۔ منقطع ہونے والا۔ ختم ہونے والا۔ تبصر۔ تو دیکھے گا۔ المفتون۔ دیوانہ۔ ودوا۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ تدھن۔ تو خوشامد کرے۔ تو نمر پرے۔ حلاف۔ بہت قسمیں کھانے والا۔ مھین۔ ذلیل کمینہ۔ ھماز۔ طعنے دینے والا۔ مشائ۔ پھرنے والے۔ نیمیم۔ چغل خور۔ باتیں لگانے والے۔ مناع۔ روکنے والا۔ معتد۔ حد سے بڑھنے والا۔ اثیم۔ گناہ گار۔ عتل۔ اکھڑ۔ اجد۔ زنیم۔ بدنام۔ نسیم۔ ہم داغ دیں گے۔ الخرطوم۔ ناک۔ دم۔ سونڈ۔
تشریح : سورة القلم کا آغاز ” ن “ سے کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ایک حروف ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ اس کی تفصیل اس سے پہلی ابتدائی سورتوں میں آچکی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
(ف 4) اہل مکہ جب اپنے مال ومتاع پر بہت اترائے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی، اور نبی ﷺ سے طرح طرح کی سرش کی انہوں نے شروع کی تو نبی ﷺ نے ان کے حق میں دعا فرمائی کہ یارب ، انہیں ایسی قحط سالی میں مبتلا کر جیسی حضرت یوسف کے زمانہ میں ہوئی تھی چناچہ اہل مکہ قحط کی مصیبت میں ایسے مبتلا ہوگئے کہ وہ بھوک کی شدت میں مردار اور ہڈیاں تک کھاگئے اور اس طرح آزمائش میں ڈالے گئے ، آخرنبی ﷺ سے رفع قحط کی دعا کرنے کی التجا کی اورآ پکی دعا سے قحط رفع ہوا۔ اس لیے اوپر کی ایتوں میں ولید بن مغیرہ کا خاص طور پر ذکر فرما کر سب کو قحط کا قصہ یاد دلا اور فرمایا کہ ان لوگوں کی نافرمانی کے سبب سے ان پر قحط کی آفت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
[9] یعنی اللہ کی پاکی کیوں نہیں بیان کرتے ؟ مطلب یہ ہے کہ فقراء و مساکین سے تم اپنا مال اس لئے بچانا چاہتے ہو کہ تم سمجھتے ہو کہ اللہ تم کو اس کے بجائے اور نہ دے گا حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے۔ وہ اس کی راہ میں خرچ کرنے والوں کو اپنے پاس سے زیادہ دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–41
کیا مسلمان اور جرائم پیشہ لوگ برابر ہیں
1: جس طرح حق و باطل میں امیتاز ہے ۔ فسق وفجور تقوی اور پرہیزگاری برابر نہیں ۔ اور جس طرح سرکشی اور تمرد میں بین تفاوت ہے ۔ اسی طرح نتائج اعمال میں درجات کا فرق برحق ہے ۔ کچھ لوگ ایسے ہیں ۔ جو اپنی سیاہ کاریوں کے باعث اللہ کے غضب وسخط کے مستحق ہیں ۔ اور کچھ وہ ہیں ۔ جو صحت البقدہ اور حسن عمل کی بدولت مقام قرب وحضوری پر فائز ہیں ۔ اس کے لئے روح اور جسم کی پوری آسودگی کا انتظام ہے ۔ یہ لوگ جنات نعیم میں کام ورہن کی لذتوں سے بہرہ اندوز ہوں گے ۔ ان کے لئے روح کی بالیدگی کا سامان مہیا ہوگا ۔ ان کے لئے دیدہ ونظر کے لئے رب السموت کی جلوہ فرمائیاں باعث تسکین ہوں…
Read the full tafseer →(33) یوں عذاب آیا کرتا ہے اور آخرت کا عذاب یقینا دنیا کے عذاب سے کہیں بڑھ کر ہے کاش یہ کافر سمجھتے ہوتے اور کاش یہ لوگ جانتے ہوتے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا کا عذاب تھا اس کو کوئی نہیں ٹال سکا اور آخرت کا عذاب تو اس سے کہیں بڑا ہے اور وہاں کی آفت تو سب سے بڑی ہے کاش یہ لوگ اتنی بات کو جان لیتے۔
کفار مکہ کی حالت بھی یہی ہے کہ یہ اپنی آسودگی اور دولت کے غرور میں اندھے ہورہے ہیں اور نبی آخرالزمان ﷺ کی مخالفت پر آمادہ ہیں ان کو نہ قحط کی خبر ہے نہ جنگ بدر کی ، یہ سب عذاب ان پر آنے والے ہیں اور جب آخری عذاب ان کی تباہی کا آئے گا اور مکہ فتح ہوجائے گا تب باغ والوں کی طرح آنکھیں کھلیں گی اس وقت توبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–40
ف 6۔ یعنی اے اہل مکہ تم بھی ایسے ہی عذاب کے مستحق ہو، بلکہ اس سے بھی زیادہ کے کیونکہ عذاب مذکور تو محض معصیت پر تھا، تم تو کفر کرتے ہو۔
Read the full tafseer →اس طرح عذاب کے اترنے کو بھی دیکھ لیں اور سمجھ لیں کہ آخرت کا عذاب تو بہت ہی بڑا ہے
33 ؎ اگر آپ لوگ غورو فکر کریں تو آپ بھی سمجھ سکتے ہیں اور جس طرح ان لوگوں نے جن کا ذکر اس واقعہ یا مثال میں کیا گیا ہے انہوں نے سنبھلنے کی اور اپنی اصلاح خود کرنے کی کوشش کی ہے اور بھول جانے کے بعد وہ راہ راست کی طرف آئے ہیں تم بھی آ جائو اور اپنے گناہوں کی تلافی چاہو۔ اللہ تعالیٰ کو معاف کرتے کچھ دیر نہیں لگتی اور آیا ہوا عذاب بھی ٹل جاتا ہے اگر انسان اپنی ضد اور ہٹ پر اڑا رہے تو اس کی دنیا ہی خراب نہیں ہوتی آخرت بھی برباد ہوجاتی ہے۔ یقین کیجئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کا ترجمہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
كَذَٰلِكَ الْعَذَابُ (In this way the punishment comes. And, of course, the punishment of the Hereafter is even greater, if they but realize!....68:33). After a brief reference to the famine faced by the Makkans and a detailed account of the People of the Garden whose garden was burnt as a punishment, the present verse sets down a general rule. When a Divine punishment visits, it visits in this way, and this kind of punishment in the mortal world does not serve as an expiation for the punishment in the Hereafter. The punishment of the Hereafter is greater and more severe.
The following…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
18 That is, each reproached and blamed the other that because of his wrong counsel they had forgotten God and resolved upon an evil course.
Read the full tafseer →