Al-Qalam 68:32

Al-Qalam · from ayah 32

68:32

عَسٰی رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰی رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ ۟عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَـنَا خَيۡرًا مِّنۡهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوۡنَ

امید ہے کہ ہمارا پروردگار اس کے بدلے میں ہمیں اس سے بہتر باغ عنایت کرے ہم اپنے پروردگار کی طرف سے رجوع لاتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Perhaps our Lord will substitute for us [one] better than it. Indeed, we are toward our Lord desirous."

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qalam

All translations of 68:32

بعید نہیں کہ ہمارا رب ہمیں بدلے میں اِس سے بہتر باغ عطا فرمائے، ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

امید ہے کہ ہمارا پروردگار اس کے بدلے میں ہمیں اس سے بہتر باغ عنایت کرے ہم اپنے پروردگار کی طرف سے رجوع لاتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا عجب ہے کہ ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے دے ہم تو اب اپنے رب سے ہی آرزو رکھتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا بعید ہے کہ ہمارا پروردگار ہمیں اس باغ کے بدلے اس سے اچھا عطا فرمادے۔ بیشک ہم اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

امید ہے ہمیں ہمارا رب اس سے بہتر بدل دے ہم اپنے رب کی طرف رغبت لاتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

امید ہے ہمارا رب ہمیں اس کے بدلہ میں اس سے بہتر دے گا، بے شک ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

امید ہے کہ ہمارا رب ہمیں اس کے بدلے میں اس سے بہتر عطا فرمائے گا۔ یقینا (اب) ہم اپنے رب ہی کی طرف راغب ہونے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کچھ بعید نہیں۔ ہمارا پروردگار ہمیں اس کے بدلے میں اس سے اچھا باغ عطا فرمائے۔ ہم اپنے پروردگار کی طرف راغب ہوتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

توقع ہے کہ ہمارا رب اس کی جگہ اس سے بہتر باغ ہمیں دے۔ اب ہم اپنے رب کی طرف رجوع ہوتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اب سب مل کر توبہ کرو کہ) شاید ہمارا رب ہمیں اس کے بدلے میں اس سے بھی کوئی بہتر باغ دے دے اب ہم پوری طرح اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

شاید کہ ہمارا پروردگار ہمیں اس سے بہتر (باغ) بدلہ میں دے دے ہم تو (اب) اپنے پروردگار کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اُمید ہے ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر عطا کر دے گا اب ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

امید ہے کہ ہمارا رب اس کے بدلے میں ہمیں اس سے بہتر باغ عنایت کرے گا ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

Maybe our Lord will give us a better orchard in its place; to our Lord do we penitently turn.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We hope that our Lord will give us in exchange something better than this. Truly we turn to Allah.

— Muhammad Taqi Usmani

We hope that our Lord will give us in exchange something better than this. Truly we turn to Allah.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"We hope that our Lord will give us in exchange better than it. Truly, we hope in our Lord."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

It may be that our Lord will give us better than this in place thereof. Lo! we beseech our Lord.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Perhaps our Lord will substitute for us [one] better than it. Indeed, we are toward our Lord desirous."

— Saheeh International

Perhaps our Lord will replace it with a better garden. We turn in repentance to our Lord".

— Muhammad Sarwar

Maybe, our Lord will give us instead one better than it; surely to our Lord do we make our humble petition.

— Muhammad Habib Shakir

Belike our Lord may exchange for us better garden than this; verily we are Unto our Lord beseechers.

— Abdul Majid Daryabadi

"It may be that our Lord will give us in exchange a better (garden) than this: for we do turn to Him (in repentance)!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 68:32

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–33

سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 30–33

سورة الْقَلَم 18 یعنی ہر ایک نے دوسرے کو الزام دینا شروع کیا کہ اس کے بہکانے سے ہم اس خدا فراموشی اور بد نیتی میں مبتلا ہوئے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 31–32

قَالُوْا يٰوَيْلَنَآ اِنَّا كُنَّا طٰغِيْنَ ، یعنی ابتداء ایک دوسرے پر الزام ڈالنے کے بعد جب غور کیا تو پھر سب نے اقرار کرلیا کہ ہم سب ہی سرکش گناہگار ہیں یہ اعتراف ندامت کے ساتھ ان کی توبہ کے قائم مقام تھا اسی بناء پر ان کو اللہ سے یہ امید ہوئی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس باغ سے بہتر باغ عطا فرما دیں گے۔ امام بغوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے نقل کیا ہے کہ ابن مسعوں نے فرمایا کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ جب ان سب لوگوں نے سچے دل سے توبہ کرلی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بہتر باغ عطا فرما دیا جس کے انگوروں کے خوشے اتنے بڑے تھے کہ ایک خوشہ ایک خچر پر لادا جاتا تھا۔ (مظہری)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعنی ایک دوسرے پر لعن طعن اور اپنی نالائقی کا اعتراف کرنے کے بعد انھوں نے اس توقع کا بھی اظہار کیا کہ اب ہم اپنے رب کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ امید ہے کہ وہ اس باغ کی جگہ اس سے بہتر باغ ہمیں عطا فرمائے گا۔ یہاں قرآن نے ان کی اس توقع پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے لیکن سنت الٰہی یہ ہے کہ وقت گزر جانے کے بعد جو لوگ توبہ کرتے ہیں ان کی توبہ اللہ تعالیٰ کے ہاں درخور اعتناء نہیں ٹھہرتی۔ جس مقصد سے قریش کو یہ تمثیل سنائی گئی ہے بعینہٖ اسی مقصد سے اسی طرح کی ایک تمثیل سورۂ کہف آیات ۳۲-۴۳ میں سنائی گئی ہے۔ بہتر ہو گا کہ اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ اس سے اس کی مزید وضاحت ہو جائے گی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

32۔ 1 کہتے ہیں کہ انہوں نے آپس میں عہد کیا کہ اب اگر اللہ نے ہمیں مال دیا تو اپنے باپ کی طرح اس میں سے غربا اور مساکین کا حق ادا کریں گے۔ اسلئے ندامت اور توبہ کے ساتھ رب سے امیدیں بھی وابستہ کیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 32–37

12: اس آیت سے بطاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعے کے بعد انہوں نے توبہ کرلی تھی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 31–32

قالوا ........................ رغبون (23) (86 : 13۔ 23) ” آخر کار انہوں نے کہا ” افسوس ہمارے حال پر ، بیشک ہم سرکش ہوگئے تھے۔ بعید نہیں کہ ہمارا رب ہمیں بدلے میں اس سے بہتر باغ عطا فرمائے ، ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں “۔ اور قبل اس کے کہ اس منظر پر سے پردہ گر جائے ، ہم یہ نصیحت سنتے ہیں :

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 31–32

9 آخر میں سب مل کر کہنے لگے کہ واقعی ہماری سب کی زیادتی تھی کہ ہم نے فقیروں محتاجوں کا حق مارنا چاہا اور حرص و طمع میں آکر اصل بھی کھو بیٹھے۔ یہ جو کچھ خرابی آئی اس میں ہم ہی قصور وار ہیں، مگر اب بھی ہم اپنے رب سے ناامید نہیں کیا عجب ہے وہ اپنی رحمت سے پہلے باغ سے بہتر باغ ہم کو عطا کر دے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 32{ عَسٰی رَبُّنَـآ اَنْ یُّـبْدِلَـنَا خَیْرًا مِّنْہَآ اِنَّـآ اِلٰی رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ۔ } ”اُمید ہے ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر عطا کر دے گا ‘ اب ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔“ اب ہم نے توبہ کرلی ہے۔ اب ہم اپنی روش تبدیل کرلیں گے اور آئندہ باقاعدگی سے اللہ تعالیٰ کے تمام حقوق ادا کیا کریں گے۔ ہمیں امید ہے ہمارا رب ہمارے گناہوں کو معاف کرتے ہوئے ہمارے نقصان کی بھی تلافی کر دے گا اور اگلے سال ہمارا باغ اس سے بہتر پیداوار دے گا۔ رَغِبَ جب اِلٰی کے صلے کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی کسی کی طرف رغبت کرنے کے ہوتے ہیں لیکن جب یہی لفظ عَنْ کے صلے کے ساتھ آئے تو بالکل متضاد معنی دیتا ہے۔ چناچہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 18–32

15 باغ والوں کا قصہ :۔ یہ واقعہ آیت نمبر 17 سے آیت نمبر 33 تک پھیلا ہوا ہے۔ جسے ہم تسلسل کے ساتھ اپنے الفاظ میں بیان کریں گے کسی شخص کا ایک باغ تھا جو بھرپور فصل دیتا تھا۔ اس شخص کا زندگی بھر یہ دستور رہا کہ جب بھی پھل کی فصل اٹھاتا تو اس کے تین حصے کرتا۔ ایک حصہ تو خود اپنے گھر کی ضروریات کے لیے رکھ لیتا۔ دوسرا حصہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور ہمسایوں میں تقسیم کردیتا اور تیسرا حصہ فقراء و مساکین میں بانٹ دیتا۔ اس کی اس سخاوت کی وجہ سے اس کا باغ سب سے زیادہ فصل دیتا۔ کٹائی کے دن فقراء و مساکین موقع پر پہنچ جاتے اور اپنا اپنا حصہ وصول کرلیتے۔ جب یہ شخص انتقال کر گیا تو اس کے بیٹوں کو خیال آیا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 31–32

17۔ یعنی توبہ وتدارک کرنے میں (آیت) ” یبدلنا خیرا منھا “۔ بدل عام ہے خواہ دنیا میں ملے خواہ آخرت میں اور عجب نہیں کہ دونوں جگہ ہو، صحابی ابن مسعود ؓ کا قول نقل ہوا ہے کہ بہتر باغ انہیں دنیا ہی میں مل گیا۔ اور مجاہد تابعی (رح) سے بھی ایسا ہی منقول ہے۔ عن ابن مسعود ؓ المعنی انھم اخلصوا فابدلھم بہ جنۃ (مدارک) عن مجاہد تابوا فابدلواخیرا منہ (مدارک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 32–34

عسی ربنا ان یبدلنا خیرا منھا کہتے ہیں کہ انہوں نے آپس میں عہد کیا کہ اب اگر اللہ نے ہمیں مال دیا تو اپنے باپ کی طرح اس میں غرباء و مساکین کا حق بھی ادا کریں گے۔ امام بغوی (رح) تعالیٰ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے کہ ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ جب ان سب لوگوں نے سچے دل سے توبہ کرلی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بہتر باغ عطا فرما دیا جس کے انگوروں کے خوشے اتنے بڑے ہوتے کہ ایک خوشہ ایک خچر پر لادا جاتا تھا (مظہری، معارف، واللہ اعلم بالصواب)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

عسی ربنا ان یبدلنا خیرا منھا . اپنے کیے پر پشیمان ہو کر جب انہوں نے توبہ کی اور آئندہ شکر کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا تو کلام کا رخ اپنی طرف پھیر کر کہنے لگے : قریب ہے کہ اس سوختہ باغ سے بہتر عوض ہمارا رب عطا فرمائے گا۔ انا الی ربنا راغبون . ہمارا مرکز رغبت ہمارا رب ہی ہے۔ الٰی انتہاء رغبت کے لیے ہے یا رغبت معنی رجوع کو متضمن ہے۔ یعنی ہم اللہ ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں ‘ اس جملہ میں امید کا سبب بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا ‘ انعام الٰہی حاصل کرنے کا سبب ہوتا ہے (یعنی امید انعام ہم کو اپنے رب سے اس لیے ہے کہ اسی کی طرف ہمارا رخ ہوگیا ہے اور جس کا رخ رب کی طرف ہوجاتا ہے پروردگار اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 31–33

(31۔ 33) اور پھر متفق ہو کر کہنے لگے بیشک ہم مسکینوں کو نہ دینے کی نیت کر کے نافرمانی کرنے والے تھے، شاید ہمارا پروردگار ہمیں اس باغ سے اچھا باغ جنت میں بدلہ میں دے دے ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ جو اپنے مال میں سے اللہ کا حق ادا نہ کرے دنیا میں اس کو اسی طرح عذاب ہوا کرتا ہے جیسا کہ ان لوگوں کا باغ جل گیا اور اس کے بعد بھوک کی تکلیف میں گرفتار ہوئے یا یہ کہ دنیا کا عذاب اسی طرح ہوا کرتا ہے جیسا کہ مکہ والے قتل اور بھوک کے عذاب میں گرفتار ہیں اور جو شخص توبہ نہ کرے اس کے لیے آخرت کا عذاب اس دنیا کے عذاب سے بھی بڑھ کر ہے۔ کیا اچھا ہوتا اگر اہل مکہ اس چیز کو جان لیتے مگر نہ یہ لوگ اس کو…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 30–32

فَاَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ۔۔۔: یتلاومون“ ”لام یلوم“ سے با تفاعل ہے جس کے معنی میں تشارک ہوتا ہے ، ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔”طغین“ ”طعی یطعی“ (ف) سے اسم فاعل کی جمع ہے۔ اب ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کو ملامت شروع کردی ، کوئی کسی کو قصور وار ٹھہراتا تو کوئی کسی کو ، پھر خود ہی کہنے لگے کہ ہائے ہماری بربادی ! ہم ہی حد سے بڑھ گئے تھے کہ اللہ کے مال کو اپنا سمجھ بیٹھے اور حق دار کو محروم کرنے کے منصوبے بنانے لگے۔ اب ہم ہم توبہ کرتے ہیں ، اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اپنے رب سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ہمیں اس کے بدلے میں اس سے بہتر عطاء فرمائے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 28–32

قال اوسطھم سب سے اچھے، سب سے عادل (4) اور سب سے دانشمند نے کہا، الم اقل لکم لولا تسبحون۔ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے ؟ ان کی استثناء تسبیح ہوا کتری، یہ مجاہد اور دوسرے علماء کا قول ہے۔ یہ اس پر دال ہے کہ اوسط نے انہیں استثناء کا حکم دیا تھا۔ دوسرے بھائیوں نے اس کی اطاعت نہ کی۔ ابوصالح نے کہا، ان کی استثناء سبحان اللہ تھی (5) اس نے ان سے کہا تھا تم سبحان اللہ کیوں نہیں کہتے اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو کچھ دیا ہے اس پر شکر کیوں نہیں بجا لائے ؟ نحاس نے کہا، تسبیح کا اصل معنی اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنا ہے۔ مجاہد نے تسبیح کو انشاء اللہ کی جگہ رکھا ہے کیونکہ تنزیہ کا معنی یہ ہے کہ کوئی بھی چیز…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 28–32

68۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت قال اوسطہم یعنی ان میں جو سب سے زیادہ انصاف پسند تھا (اس نے کہا) ۔ 69۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے آیت قال اوسطہم کے بارے میں روایت کیا یعنی جو ان میں سب سے زیادہ انصاف پسند تھا اور اللہ کی کتاب میں جہاں بھی اوسط کا لفظ ہے اس سے مراد ہے سب سے زیادہ انصاف کرنے والا۔ 70۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت قال اوسطہم سے مراد ہے سب سے زیادہ انصاف کرنے والا۔ 71۔ ابن ابی حاتم نے سری (رح) سے روایت کیا کہ آیت الم اقل لکم لو لا تسبحون کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے کہ ان کا استثنی اس زمانے میں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[عَسٰى رَبُّنَآ : امید ہے ہمارے رب سے ][ اَنْ يُّبْدِلَنَا : کہ وہ بدلے میں دے ہم کو ][ خَيْرًا مِّنْهَآ : زیادہ بھلا اس (باغ) سے ][ اِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا : بیشک ہم اپنے رب کی طرف ][ رٰغِبُوْنَ : رغبت کرنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 17–32

ایک باغ کے مالکوں کا عبرت ناک واقعہ رسول اللہ ﷺ کے ہجرت فرمانے کے بعد مکہ معظمہ کے مشرکوں پر اللہ تعالیٰ نے قحط بھیج دیا تھا۔ قحط کی وجہ سے بہت تکلیف اٹھائی، اس کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے مکہ والوں کو آزمائش میں ڈالا جیسا کہ باغ والوں کو آزمائش میں ڈالا تھا، یہ باغ کہاں تھا باغ والے کون تھے اس کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ باغ یمن میں شہر صنعاء سے دو فرسخ کے فاصلہ پر تھا اسے نمازی لوگوں نے بویا تھا جو لوگ اس کے وارث چلے آ رہے تھے وہ بڑے سخی تھے جس دن باغ کے پھل کاٹتے تھے مساکین جمع ہوجاتے تھے اسی طرح کھیتی کاٹنے کے دن اور جس دن بھوسہ اور دانہ الگ کرتے تھے مساکین آجاتے تھے، یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–33

عبرتناک انجام غرور وتکبر بردولت دنیا و محرومی از سعادت وآخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انا بلونھم کما بلون آ اصحب الجنۃ ....... الی ...... لو کانوا یعلمون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اہل مکہ کے ان مغرور ومتکبر انسانوں کا ذکر تھا جنہوں نے محض اپنے مال و دولت اور اولاد وخاندان کے نشہ میں رسول خدا ﷺ کی توہین کی انکار وکفر کے مرتکب ہوئے تو اب ان آیات میں ایک باغ والوں کا قصہ بیان کرکے بتایا جارہا ہے کہ انسان کو دنیا کے مال ومنال پر بھروسہ کرکے مغرور ومتکبر نہ ہونا چاہئے دنیا کی حقیقت بس اتنی ہی ہے اور غرور کا انجام ایسا ہی ہے جیسے کہ اس باغ کی تباہی اور باغ والوں کی بربادی سے ظاہر ہورہا ہے یہ باغ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 29–32

13:۔ ” قالوا سبحن ربنا “ اب ان کے ہوش ٹھکانے آئے اور فوراً بول اٹھے ہمارا پروردگار شرک سے پاک ہے بیشک ہم غیر اللہ کو برکات دہندہ سمجھ کر اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے۔ ” فاقبل بعضہم اب وہ ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے اور آخر انہوں نے اعتراف کرلیا کہ انہوں نے جو کچھ بھی کیا ہے وہ حدود اللہ سے تجاوز تھا۔ ” عسی ربنا ان یبدلنا “ ہم اپنے کیے پر نادم ہیں اور اپنے پروردگار سے امید رکھتے ہیں کہ اب جبکہ ہم اپنے کیے سے توبہ کرچکے ہیں، وہ ہمیں اس کے عوض بہتر باغ عطا فرمائیگا کیونکہ اب ہم توبہ کر کے اللہ کی طرف راغب ہوچکے ہیں اور اس کی بارگاہ سے عفو درگذر کی امید رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–33

گذشتہ سے پیوستہ : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا ، جو پیغمبر ﷺ پر کئے اور توحید الہٰی ، رسالت اور معاد کے مکذبین کے متعلق ارشاد فریاما کہ ان کی کسی بات کو تسلیم نہ کریں کیونکہ ان بےہودہ لوگوں نے نبی جیسے عقل مند ، ذہین اور سب سے بلند اخلاق والی ہستی کو العیافہ باللہ مجنون کا خطاب دیا ۔ یہ مشرکین آپ ﷺ کو مداہنت پر آمادہ کرنا چاہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی دس الفاظ کے ساتھ مذمت بیان کی۔ پھر فرمایا کہ یہ اس لیے غرور وتکبر کرتے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے مالی و اولاد سے نوازا ہے۔ یہ انعامات تو شکر گزاری کا سبب بننا چاہئیں نہ کہ تکذیب و نافرمانی کا ان کے غرور کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

عَسٰى رَبُّنَآ اَنْ يُّبْدِلَنَا خَيْرًا مِّنْہَآ اِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ۝ 32 عسی عَسَى طَمِعَ وترجّى، وكثير من المفسّرين فسّروا «لعلّ» و «عَسَى» في القرآن باللّازم، وقالوا : إنّ الطّمع والرّجاء لا يصحّ من الله، وفي هذا منهم قصورُ نظرٍ ، وذاک أن اللہ تعالیٰ إذا ذکر ذلک يذكره ليكون الإنسان منه راجیا لا لأن يكون هو تعالیٰ يرجو، فقوله : عَسى رَبُّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ [ الأعراف/ 129] ، أي : کونوا راجین ( ع س ی ) عسیٰ کے معنی توقع اور امید ظاہر کرنا کے ہیں ۔ اکثر مفسرین نے قرآن پاک میں اس کی تفسیر لازم منعی یعنی یقین سے کی ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حق میں طمع اور جا کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–33

ترکیب : اذ تعلیلیۃ اوظرفیۃ بنوع تسمح لان الانقسام کان قبل ابتلائہم لیصرمنہا جواب القسم مصبحین حال من الفاعل فی یصرمنہا ولا یستثنون جملۃ مستانفہ لبیان ماوقع منھم وقیل حال فتنادوا معطوف علی اقسموا بینما اعتراض لبیان مانزل بتلک الجنۃ ان اغدوا ان مفسرۃ لان فی التنادی معنی القول او مصدریۃ ای اخرجواغدوۃً ان کنتم الخ جواب الشرط محذوف فاغدوا وھم یتخافتون الجملۃ حال من فاعل فانطلقوا ان لایدخلنہا ان مفسرۃ للتخافت المذکور لمافیہ من معنی القول علی حرد یتعلق بقادرین وقادرین حال وقیل خبر غدوا لا نھا حملت علی اصبحوا۔ تفسیر : اہل مکہ خصوص ولید وغیرہ ثروت و حشمت پر نازاں ہو کر کہتے تھے کہ ہم پر خدا کی نظر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 28–32

قَالَ اَوْسَطُھُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّـکُمْ لَوْلاَ تُسَبِّحُوْنَ ۔ قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَـآ اِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیْنَ ۔ فَاَقْـبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَلاَ وَمُوْن۔ قَالُوْا یٰـوَیْلَنَـآ اِنَّا کُنَّا طٰغِیْنَ ۔ عَسٰی رَبُّنَـآ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْھَـآ اِنَّـآ اِلٰی رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ ۔ (القلم : 28 تا 23) (ان میں جو سب سے بہتر آدمی تھا اس نے کہا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم لوگ رب کی تسبیح کیوں نہیں کرتے۔ وہ پکار اٹھے، پاک ہے ہمارا رب واقعی ہم گنہگار تھے۔ پھر وہ آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔ انھوں نے کہا ہائے بدبختی بیشک ہم ہی سرکش ہوگئے تھے۔ توقع ہے کہ ہمارا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–33

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ کی آزمائش۔ نبی معظم ﷺ کی جدوجہد کے سامنے بےبس ہو کر اہل مکہ نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ کچھ آپ نرم ہوجائیں اور کچھ ہم نرم ہوجاتے ہیں نبی ﷺ نے اسے مکمل طور پر مسترد کردیا۔ اس کے ردِّ عمل میں انہوں نے مزدور صحابہ کرام ؓ کی مزدوریاں روک لیں اور اپنے غریب رشتہ دار صحابہ کے ساتھ تعاون کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا، ان کے سرداروں نے مہم چلائی کہ مسلمانوں کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کیا جائے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں جس میں انتباہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم مکہ والوں کو اس طرح آزمائیں گے جس طرح ان سے پہلے باغ والوں کو آزما چکے ہیں۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک شخص کا باغ تھا وہ اپنے باغ کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

32 : عَسٰی رَبُّنَآ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْھَآ (شاید ہمارا پروردگار ہم کو اس سے اچھا باغ بدلہ میں دے دے) قراءت : یبدّلنا تشدید کے ساتھ مدنی، ابو عمرو نے پڑھا ہے۔ ھاؔ سے مراد سابقہ باغ ہے۔ اِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا رَاغِبُوْنَ (ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں) اسی سے خیر و بھلائی کے طالب ہیں اور اس کے عفو کے امیدوار ہیں۔ قول مجاہد (رح) : انہوں نے توبہ کی تو اس سے بہتر باغ بدلے میں دیا گیا۔ قول ابن مسعود ؓ : انہوں نے اخلاص اختیار کیا اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں ” الحیوان “ نامی باغ عنایت فرمایا اس میں انگور کے گچھے کو خچر اٹھاتا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

31 ۔” قالوا یاویلنا انا کنا طاغین “ فقراء کے حق کو روکنے میں۔ ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں ہم نے اللہ کی نعمتوں سے سرکشی کی۔ پس ہم نے ان کا شکر نہیں کیا اور ہم نے وہ نہیں کیا جو ہمارے آباء اس سے پہلے کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–33

17۔ 33۔ اہل مکہ جب اپنے مال و متاع پر بہت اترائے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اللہ کے رسول سے طرح طرح کی سرکشی انہوں نے شروع کی تو آنحضرت ﷺ نے ان کے حق میں قحط کی بددعا کی جس کا ذکر حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں ہے اللہ کے رسول کی بد دعا سے بڑا سخت قحط پڑا یہاں تک کہ اہل مکہ مردار چیزیں کھا کر زندگی بسر کرنے لگے۔ آخر آنحضرت ﷺ سے رفع قحط کی دعا کرنے کی التجا کی اور آپ ﷺ کی دعا سے وہ قحط رفع ہوا اس لئے اوپر کی آیتوں میں ولید بن مغیرہ کا خاص طور پر ذکر فرما کر سب قریش کو قحط کا قصہ یاد دلایا اور فرمایا کہ ان لوگوں کی نافرمانی کے سبب سے ان پر قحط کی آفت اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(عسی ربنا ان یبدلنا خیرا منھا انا الی ربنا راغبون) ۔ پس انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس سے بہتر عطا کرے گا اور انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ اللہ کی طرف راغب ہوں گے اور اس دنیا میں اس کے سامنے اصرار کے ساتھ التجائیں کرتے رہیں گے۔ پس اگر وہ ایسے ہی تھے جیسے وہ کہتے تھے تو ظاہر ہے کہ اللہ نے دنیا میں ان کے حال کو بدل دیا ہوگا کیونکہ جو کوئی صدق دل سے اللہ سے دعا کرتا ہے، اس کی طرف راغب ہوتا ہے اور اس کے ساتھ امید وابستہ کرتا ہے تو وہ جو کچھ اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے وہ اسے عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالی نے جو کچھ وقوع پذیر ہوا، اسے بیان کرتے ہوئے فرمایا (کذالک العذاب) یعنی اس شخص…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–52

قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 32–33

23 ۔ تنبیہی عذاب سے متعلق سنت الہیہ کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی طرح ہوتا ہے اللہ کا عذاب۔ جوا نسان کو اس کی سرکشی اور بدعملی کی پاداش میں کبھی اسی دنیا میں بھی آدبوچتا ہے، والعیاذ باللہ، تاکہ عبرت پکڑنے والے عبرت پکڑیں اور انکار وتکبر والے اپنے انجام کو پہنچیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ولنذیقنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر لعلھم یرجعون (السجدہ :21) چناچہ ایسے عذاب اس دنیا میں پہلے بھی آتے رہے اور اب بھی آئے دن آتے رہتے ہیں، جگہ جگہ آتے ہیں اور طرح طرح سے آتے ہیں، والعیاذ باللہ، مگر یہ انسان کی غفلت و لاپرواہی اور اس کی محرومی ہے کہ یہ اس سے سبق نہیں لیتا،…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–35

باغ والوں کے بخل کا واقعہ تشریح :۔ اس قصے سے سبق ملتا ہے کہ صرف دنیا میں کھو جانا اور اللہ کی طرف سے آنکھیں بند کرلینا سراسر غلط راستہ ہے رب العزت کا یہی طریقہ ہے کہ وہ بندوں کو ایسی ہی سزاؤں سے جھنجوڑتا ہے کہ انسان غفلت سے باز آجائے یہ دنیاوی نقصانات تو صرف آنکھیں کھولنے کے لیے کرائے جاتے ہیں نافرمان اور غفلت سے بیدار نہ ہونے والے لوگوں کو آخرت میں بڑا سخت عذاب دیا جائے گا۔ جب کہ فرمانبرداروں کے لیے آرام و آسائش کے بہترین باغات ہیں اور یہی فرق ہے نافرمانوں اور فرمانبرداروں میں کیونکہ اللہ بہترین انصاف کرنے والا ہے۔ اچھے اور برے لوگوں کا حساب ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔ حدیث میں نصیحت کی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–33

آیات 1 تا 23۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم سے لکھاجاتا ہے یعنی آپ ﷺ نے امی ہونے کے باوجود علم کے وہ دریابہائے کہ خود قلم اور اس کی تحریر آپ کے کامل عقل مند اور بےمثال صاحب خرد ہونے پر دال ہے۔ مجنون۔ جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر ساری انسانیت کو دعوت حق دے دی اور تمام انسانوں کے لیے ایک عقیدہ اور ایک نظام حیات تو مشرکین نے اسے معاذ اللہ پاگل پن قرار دیا کہ دنیا کی عظیم الشان حکومتیں ساری دنیا پہ ایک نظام رائج نہ کرسکیں۔ پھر آپ ﷺ امی ہیں ، اکیلے ہیں یا چند مسلمان جن کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں پھر اقوام عالم کے مزاج الگ ، فکر الگ ، رنگ ونسل اپنی اپنی ، غذا الگ زبانیں الگ موسم اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یا ” اپنے مالک کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ “ یعنی اپنے کئے پر شرمندہ ہو کر اس کے حضور توبہ استغفار کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(68:32) عسی ربنا ان یبدلنا خیرا منھا : عسی بمعنی ممکن ہے۔ توقع ہے، امید ہے ، اندیشہ ہے۔ فعل جامد ہے۔ اس کی گردان نہیں آتی۔ صرف فعل ماضی مستعمل ہے ربنا مضاف مضاف الیہ۔ ہمارا رب، عسی ربنا۔ امید ہے کہ ہمارا رب ۔۔ یا ہمیں اپنے رب سے امیر ہے کہ ۔۔ ان مصدریہ۔ خیرا فعل التفضیل کا صیغہ ۔ منھا میں ھا ضمیر کا مرجع الجنۃ ہے۔ امید ہے کہ ہمارا رب بدلے میں ہمیں اس (باغ) سے بہتر (باغ) عطا کرے۔ انا الی ربنا راغبون : انا بیشک ہم۔ الی انتہاء رغبت کے لئے ہے راغبون جمع ہے راغب کی۔ رغبۃ سے اسم فاعل کا صیغہ ہے رغبت کرنے والے۔ یہاں صفت مشبہ کے مفعول میں استعمال ہوا ہے اور دوام کا مفہوم ادا کرتا ہے۔ رغبت رجوع کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–33

لغات القرآن۔ یسطرون۔ وہ لکھتے ہیں۔ ممنون۔ منقطع ہونے والا۔ ختم ہونے والا۔ تبصر۔ تو دیکھے گا۔ المفتون۔ دیوانہ۔ ودوا۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ تدھن۔ تو خوشامد کرے۔ تو نمر پرے۔ حلاف۔ بہت قسمیں کھانے والا۔ مھین۔ ذلیل کمینہ۔ ھماز۔ طعنے دینے والا۔ مشائ۔ پھرنے والے۔ نیمیم۔ چغل خور۔ باتیں لگانے والے۔ مناع۔ روکنے والا۔ معتد۔ حد سے بڑھنے والا۔ اثیم۔ گناہ گار۔ عتل۔ اکھڑ۔ اجد۔ زنیم۔ بدنام۔ نسیم۔ ہم داغ دیں گے۔ الخرطوم۔ ناک۔ دم۔ سونڈ۔ تشریح : سورة القلم کا آغاز ” ن “ سے کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ایک حروف ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ اس کی تفصیل اس سے پہلی ابتدائی سورتوں میں آچکی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–33

(ف 4) اہل مکہ جب اپنے مال ومتاع پر بہت اترائے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی، اور نبی ﷺ سے طرح طرح کی سرش کی انہوں نے شروع کی تو نبی ﷺ نے ان کے حق میں دعا فرمائی کہ یارب ، انہیں ایسی قحط سالی میں مبتلا کر جیسی حضرت یوسف کے زمانہ میں ہوئی تھی چناچہ اہل مکہ قحط کی مصیبت میں ایسے مبتلا ہوگئے کہ وہ بھوک کی شدت میں مردار اور ہڈیاں تک کھاگئے اور اس طرح آزمائش میں ڈالے گئے ، آخرنبی ﷺ سے رفع قحط کی دعا کرنے کی التجا کی اورآ پکی دعا سے قحط رفع ہوا۔ اس لیے اوپر کی ایتوں میں ولید بن مغیرہ کا خاص طور پر ذکر فرما کر سب کو قحط کا قصہ یاد دلا اور فرمایا کہ ان لوگوں کی نافرمانی کے سبب سے ان پر قحط کی آفت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 28–35

[9] یعنی اللہ کی پاکی کیوں نہیں بیان کرتے ؟ مطلب یہ ہے کہ فقراء و مساکین سے تم اپنا مال اس لئے بچانا چاہتے ہو کہ تم سمجھتے ہو کہ اللہ تم کو اس کے بجائے اور نہ دے گا حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے۔ وہ اس کی راہ میں خرچ کرنے والوں کو اپنے پاس سے زیادہ دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 32–41

کیا مسلمان اور جرائم پیشہ لوگ برابر ہیں 1: جس طرح حق و باطل میں امیتاز ہے ۔ فسق وفجور تقوی اور پرہیزگاری برابر نہیں ۔ اور جس طرح سرکشی اور تمرد میں بین تفاوت ہے ۔ اسی طرح نتائج اعمال میں درجات کا فرق برحق ہے ۔ کچھ لوگ ایسے ہیں ۔ جو اپنی سیاہ کاریوں کے باعث اللہ کے غضب وسخط کے مستحق ہیں ۔ اور کچھ وہ ہیں ۔ جو صحت البقدہ اور حسن عمل کی بدولت مقام قرب وحضوری پر فائز ہیں ۔ اس کے لئے روح اور جسم کی پوری آسودگی کا انتظام ہے ۔ یہ لوگ جنات نعیم میں کام ورہن کی لذتوں سے بہرہ اندوز ہوں گے ۔ ان کے لئے روح کی بالیدگی کا سامان مہیا ہوگا ۔ ان کے لئے دیدہ ونظر کے لئے رب السموت کی جلوہ فرمائیاں باعث تسکین ہوں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(32) عجب نہیں کہ ہمارا پروردگار اس باغ کے بدلے اس سے بہتر باغ ہم کو عنایت فرمادے بیشک ہم اپنے پروردگار ہی سے توقع رکھنے والے اور رغبت کرنے والے ہیں اور اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں اور اپنے پروردگار سے ہی آرزو کرتے ہیں۔ یعنی توبہ کرتے ہیں اور توبہ کی قبولیت کے ساتھ یہ امیدرکھتے ہیں کہ وہ اس باغ سے بہتر باغ عنایت فرمادے گا۔ بدلا عام ہے دنیا میں دے دے گا یا آخرت میں ا س سے بہتر باغ مل جائے گا کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسی اجرڑے ہوئے باغ کو سرسبز کردیا اور اس کی حالت کو پہلے سے بہتر کردیا یا کہتے ہیں کہ جب شہر کے بادشاہ نے ان کے واقعہ کو سنا اور ان کے رونے کو دیکھا تو ان کو ایک باغ حیوان نامی اپنے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ یعنی توبہ کرتے ہیں اور بدلنا عام ہے خواہ دنیا میں نعم البدل مل جاوے خواہ آخرت میں، اور ظاہرا معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ مومن تھے مرتکب معصیت ہوئے تھے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

شاید ہمارا رب اس سے بہتر باغ ہم کو عطا کر دے اگر ہم اس کی طرف لوٹ آئیں 32 ؎ معلوم ہوتا ہے کہ جب انہوں نے اپنے باغ اور کھیتی کی حالت دیکھی تو ان کی آنکھوں سے غفلت کی پٹی اتر گئی اور یہ بھی ان کی خوش قسمتی کی بات تھی کہ ان کی عقل نے ان کی غلط راہنمائی نہ کردی ورنہ اس طرح کے بھولے ہوئے آدمیوں کو کم ہی سیدھی راہ میسر آتی ہے بلکہ اکثر لوگ الٹی راہ ہی پر چل نکلتے ہیں اور اس طرح ان کی دنیا بھی برباد ہوجاتی ہے اور آخرت کو بھی وہ خود اپنے ہاتھوں برباد کر بیٹھتے ہیں۔ بہرحال اب ان کو یقین آگیا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے نقصان نہیں ہوتا بلکہ اس کی راہ میں خرچ کرنے سے دناا بھی سنورتی ہے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 31–32

قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا طَاغِينَ ( [ and at last ] they said, "Woe to us! In fact, we [ all ] were outrageous....68:31). At the beginning, they accused one another of the sin. Then when they considered the matter carefully, they admitted that they were all on the wrong. As a result, they lamented and admitted their guilt that amounted to repentance. On the basis of this repentance they hoped that Allah will give them in exchange a garden better than the one destroyed. Imam Baghawi reports from Sayyidna ` Abdullah Ibn Masud ؓ that, according to his information, when these brothers…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 30–33

18 That is, each reproached and blamed the other that because of his wrong counsel they had forgotten God and resolved upon an evil course.

Read the full tafseer →