Explained with ayahs 17–33
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی
یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
سورة الْقَلَم 18
یعنی ہر ایک نے دوسرے کو الزام دینا شروع کیا کہ اس کے بہکانے سے ہم اس خدا فراموشی اور بد نیتی میں مبتلا ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
قَالُوْا يٰوَيْلَنَآ اِنَّا كُنَّا طٰغِيْنَ ، یعنی ابتداء ایک دوسرے پر الزام ڈالنے کے بعد جب غور کیا تو پھر سب نے اقرار کرلیا کہ ہم سب ہی سرکش گناہگار ہیں یہ اعتراف ندامت کے ساتھ ان کی توبہ کے قائم مقام تھا اسی بناء پر ان کو اللہ سے یہ امید ہوئی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس باغ سے بہتر باغ عطا فرما دیں گے۔
امام بغوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے نقل کیا ہے کہ ابن مسعوں نے فرمایا کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ جب ان سب لوگوں نے سچے دل سے توبہ کرلی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بہتر باغ عطا فرما دیا جس کے انگوروں کے خوشے اتنے بڑے تھے کہ ایک خوشہ ایک خچر پر لادا جاتا تھا۔ (مظہری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
جب انجام سامنے آ گیا تو سب ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔ کسی نے کسی پر الزام لگایا کہ اس نے صحیح راہ اختیار کرنے نہ دی، کسی نے دوسرے کو مجرم ٹھہرایا کہ اس نے ناصح کی بات سننے نہ دی۔ جو لوگ اپنی عقل سے کام نہیں لیتے وہ اپنی بے عقلی کا انجام دیکھ لینے کے بعد اسی طرح ایک دوسرے کو مطعون کرتے ہیں حالانکہ مجرم سب ہی ہوتے ہیں۔ بس یہ فرق ہوتا ہے کہ کچھ فساد کی راہ کھولتے ہیں اور کچھ آنکھ بند کر کے ان کی پیروی کرتے ہیں۔ بالآخر ان سب کو اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ جرم میں شریک سب ہی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
29۔ 1 یعنی اب انہیں احساس ہوا کہ ہم نے اپنے باپ کے طرز عمل کے خلاف قدم اٹھا کر غلطی کا ارتکاب کیا ہے جس کی سزا اللہ نے ہمیں دی ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ معصیت کا عزم اور اس کے لیے ابتدائی اقدامات بھی ارتکاب معصیت کی طرح جرم ہے جس پر مؤاخذہ ہوسکتا ہے صرف وہ ارادہ معاف ہے جو وسوسے کی حد تک ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
11: ان بھائیوں میں ایک دوسروں کی بہ نسبت اچھا تھا، اس نے پہلے بھی بھائیوں سے کہا تھا کہ اللہ کا ذکر کرو، اور غریبوں کو منع نہ کرو، لیکن بعد میں وہ بھی دوسرے بھائیوں کے ساتھ شامل ہوگیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
قالوا ........................ رغبون (23) (86 : 13۔ 23) ” آخر کار انہوں نے کہا ” افسوس ہمارے حال پر ، بیشک ہم سرکش ہوگئے تھے۔ بعید نہیں کہ ہمارا رب ہمیں بدلے میں اس سے بہتر باغ عطا فرمائے ، ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں “۔ اور قبل اس کے کہ اس منظر پر سے پردہ گر جائے ، ہم یہ نصیحت سنتے ہیں :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
9 آخر میں سب مل کر کہنے لگے کہ واقعی ہماری سب کی زیادتی تھی کہ ہم نے فقیروں محتاجوں کا حق مارنا چاہا اور حرص و طمع میں آکر اصل بھی کھو بیٹھے۔ یہ جو کچھ خرابی آئی اس میں ہم ہی قصور وار ہیں، مگر اب بھی ہم اپنے رب سے ناامید نہیں کیا عجب ہے وہ اپنی رحمت سے پہلے باغ سے بہتر باغ ہم کو عطا کر دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
آیت 30{ فَاَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ۔ } ”پھر وہ آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔“
اب وہ اپنی گمراہی اور شومئی قسمت کی ذمہ داری آپس میں ایک دوسرے کے سر تھوپنے لگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–32
15 باغ والوں کا قصہ :۔ یہ واقعہ آیت نمبر 17 سے آیت نمبر 33 تک پھیلا ہوا ہے۔ جسے ہم تسلسل کے ساتھ اپنے الفاظ میں بیان کریں گے کسی شخص کا ایک باغ تھا جو بھرپور فصل دیتا تھا۔ اس شخص کا زندگی بھر یہ دستور رہا کہ جب بھی پھل کی فصل اٹھاتا تو اس کے تین حصے کرتا۔ ایک حصہ تو خود اپنے گھر کی ضروریات کے لیے رکھ لیتا۔ دوسرا حصہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور ہمسایوں میں تقسیم کردیتا اور تیسرا حصہ فقراء و مساکین میں بانٹ دیتا۔ اس کی اس سخاوت کی وجہ سے اس کا باغ سب سے زیادہ فصل دیتا۔ کٹائی کے دن فقراء و مساکین موقع پر پہنچ جاتے اور اپنا اپنا حصہ وصول کرلیتے۔
جب یہ شخص انتقال کر گیا تو اس کے بیٹوں کو خیال آیا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
17۔ یعنی توبہ وتدارک کرنے میں (آیت) ” یبدلنا خیرا منھا “۔ بدل عام ہے خواہ دنیا میں ملے خواہ آخرت میں اور عجب نہیں کہ دونوں جگہ ہو، صحابی ابن مسعود ؓ کا قول نقل ہوا ہے کہ بہتر باغ انہیں دنیا ہی میں مل گیا۔ اور مجاہد تابعی (رح) سے بھی ایسا ہی منقول ہے۔ عن ابن مسعود ؓ المعنی انھم اخلصوا فابدلھم بہ جنۃ (مدارک) عن مجاہد تابوا فابدلواخیرا منہ (مدارک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
قالوا سبحن ربنا انا کنا ظالمین یعنی اب انہیں احساس ہوا کہ ہم نے اپنے باپ کے طرز عمل کے خلاف قدم اٹھا کر غلطی کا ارتکاب کیا ہے جس کی سزا اللہ نے ہمیں دی ہے، اور اس تباہی و بربادی کا الزام آپس میں ایک دوسرے کو دینے لگے۔
Read the full tafseer →قالوا یاویلنا انا کنا طاغین . کہنے لگے ہائے افسوس ! زیادتی ہماری ہی طرف سے ہوئی ہے یعنی اللہ نے ہم کو
نعمتیں عطا فرمائیں اور ہم نے اس کا شکر ادا نہیں کیا ‘ جیسا ہمارے باپ نے کیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
(31۔ 33) اور پھر متفق ہو کر کہنے لگے بیشک ہم مسکینوں کو نہ دینے کی نیت کر کے نافرمانی کرنے والے تھے، شاید ہمارا پروردگار ہمیں اس باغ سے اچھا باغ جنت میں بدلہ میں دے دے ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
جو اپنے مال میں سے اللہ کا حق ادا نہ کرے دنیا میں اس کو اسی طرح عذاب ہوا کرتا ہے جیسا کہ ان لوگوں کا باغ جل گیا اور اس کے بعد بھوک کی تکلیف میں گرفتار ہوئے یا یہ کہ دنیا کا عذاب اسی طرح ہوا کرتا ہے جیسا کہ مکہ والے قتل اور بھوک کے عذاب میں گرفتار ہیں اور جو شخص توبہ نہ کرے اس کے لیے آخرت کا عذاب اس دنیا کے عذاب سے بھی بڑھ کر ہے۔
کیا اچھا ہوتا اگر اہل مکہ اس چیز کو جان لیتے مگر نہ یہ لوگ اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
فَاَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ۔۔۔: یتلاومون“ ”لام یلوم“ سے با تفاعل ہے جس کے معنی میں تشارک ہوتا ہے ، ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔”طغین“ ”طعی یطعی“ (ف) سے اسم فاعل کی جمع ہے۔ اب ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کو ملامت شروع کردی ، کوئی کسی کو قصور وار ٹھہراتا تو کوئی کسی کو ، پھر خود ہی کہنے لگے کہ ہائے ہماری بربادی ! ہم ہی حد سے بڑھ گئے تھے کہ اللہ کے مال کو اپنا سمجھ بیٹھے اور حق دار کو محروم کرنے کے منصوبے بنانے لگے۔ اب ہم ہم توبہ کرتے ہیں ، اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اپنے رب سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ہمیں اس کے بدلے میں اس سے بہتر عطاء فرمائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
قال اوسطھم سب سے اچھے، سب سے عادل (4) اور سب سے دانشمند نے کہا، الم اقل لکم لولا تسبحون۔ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے ؟ ان کی استثناء تسبیح ہوا کتری، یہ مجاہد اور دوسرے علماء کا قول ہے۔ یہ اس پر دال ہے کہ اوسط نے انہیں استثناء کا حکم دیا تھا۔ دوسرے بھائیوں نے اس کی اطاعت نہ کی۔ ابوصالح نے کہا، ان کی استثناء سبحان اللہ تھی (5) اس نے ان سے کہا تھا تم سبحان اللہ کیوں نہیں کہتے اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو کچھ دیا ہے اس پر شکر کیوں نہیں بجا لائے ؟ نحاس نے کہا، تسبیح کا اصل معنی اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنا ہے۔ مجاہد نے تسبیح کو انشاء اللہ کی جگہ رکھا ہے کیونکہ تنزیہ کا معنی یہ ہے کہ کوئی بھی چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
68۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت قال اوسطہم یعنی ان میں جو سب سے زیادہ انصاف پسند تھا (اس نے کہا) ۔
69۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے آیت قال اوسطہم کے بارے میں روایت کیا یعنی جو ان میں سب سے زیادہ انصاف پسند تھا اور اللہ کی کتاب میں جہاں بھی اوسط کا لفظ ہے اس سے مراد ہے سب سے زیادہ انصاف کرنے والا۔
70۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت قال اوسطہم سے مراد ہے سب سے زیادہ انصاف کرنے والا۔
71۔ ابن ابی حاتم نے سری (رح) سے روایت کیا کہ آیت الم اقل لکم لو لا تسبحون کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے کہ ان کا استثنی اس زمانے میں…
Read the full tafseer →[قَالُوْا يٰوَيْلَنَآ : انھوں نے کہا ہائے ہماری بربادی ][ اِنَّا كُنَّا طٰغِيْنَ : ہم تھے حد سے بڑھنے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–32
ایک باغ کے مالکوں کا عبرت ناک واقعہ
رسول اللہ ﷺ کے ہجرت فرمانے کے بعد مکہ معظمہ کے مشرکوں پر اللہ تعالیٰ نے قحط بھیج دیا تھا۔ قحط کی وجہ سے بہت تکلیف اٹھائی، اس کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے مکہ والوں کو آزمائش میں ڈالا جیسا کہ باغ والوں کو آزمائش میں ڈالا تھا، یہ باغ کہاں تھا باغ والے کون تھے اس کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ باغ یمن میں شہر صنعاء سے دو فرسخ کے فاصلہ پر تھا اسے نمازی لوگوں نے بویا تھا جو لوگ اس کے وارث چلے آ رہے تھے وہ بڑے سخی تھے جس دن باغ کے پھل کاٹتے تھے مساکین جمع ہوجاتے تھے اسی طرح کھیتی کاٹنے کے دن اور جس دن بھوسہ اور دانہ الگ کرتے تھے مساکین آجاتے تھے، یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
عبرتناک انجام غرور وتکبر بردولت دنیا و محرومی از سعادت وآخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انا بلونھم کما بلون آ اصحب الجنۃ ....... الی ...... لو کانوا یعلمون “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل مکہ کے ان مغرور ومتکبر انسانوں کا ذکر تھا جنہوں نے محض اپنے مال و دولت اور اولاد وخاندان کے نشہ میں رسول خدا ﷺ کی توہین کی انکار وکفر کے مرتکب ہوئے تو اب ان آیات میں ایک باغ والوں کا قصہ بیان کرکے بتایا جارہا ہے کہ انسان کو دنیا کے مال ومنال پر بھروسہ کرکے مغرور ومتکبر نہ ہونا چاہئے دنیا کی حقیقت بس اتنی ہی ہے اور غرور کا انجام ایسا ہی ہے جیسے کہ اس باغ کی تباہی اور باغ والوں کی بربادی سے ظاہر ہورہا ہے یہ باغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
13:۔ ” قالوا سبحن ربنا “ اب ان کے ہوش ٹھکانے آئے اور فوراً بول اٹھے ہمارا پروردگار شرک سے پاک ہے بیشک ہم غیر اللہ کو برکات دہندہ سمجھ کر اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے۔ ” فاقبل بعضہم اب وہ ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے اور آخر انہوں نے اعتراف کرلیا کہ انہوں نے جو کچھ بھی کیا ہے وہ حدود اللہ سے تجاوز تھا۔ ” عسی ربنا ان یبدلنا “ ہم اپنے کیے پر نادم ہیں اور اپنے پروردگار سے امید رکھتے ہیں کہ اب جبکہ ہم اپنے کیے سے توبہ کرچکے ہیں، وہ ہمیں اس کے عوض بہتر باغ عطا فرمائیگا کیونکہ اب ہم توبہ کر کے اللہ کی طرف راغب ہوچکے ہیں اور اس کی بارگاہ سے عفو درگذر کی امید رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
گذشتہ سے پیوستہ :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا ، جو پیغمبر ﷺ پر کئے اور توحید الہٰی ، رسالت اور معاد کے مکذبین کے متعلق ارشاد فریاما کہ ان کی کسی بات کو تسلیم نہ کریں کیونکہ ان بےہودہ لوگوں نے نبی جیسے عقل مند ، ذہین اور سب سے بلند اخلاق والی ہستی کو العیافہ باللہ مجنون کا خطاب دیا ۔ یہ مشرکین آپ ﷺ کو مداہنت پر آمادہ کرنا چاہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی دس الفاظ کے ساتھ مذمت بیان کی۔ پھر فرمایا کہ یہ اس لیے غرور وتکبر کرتے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے مالی و اولاد سے نوازا ہے۔ یہ انعامات تو شکر گزاری کا سبب بننا چاہئیں نہ کہ تکذیب و نافرمانی کا ان کے غرور کا…
Read the full tafseer →قَالُوْا يٰوَيْلَنَآ اِنَّا كُنَّا طٰغِيْنَ 31
ويل
قال الأصمعيّ : وَيْلٌ قُبْحٌ ، وقد يستعمل علی التَّحَسُّر .
ووَيْسَ استصغارٌ. ووَيْحَ ترحُّمٌ. ومن قال : وَيْلٌ وادٍ في جهنّم، قال عز وجل : فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ، وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2] وَيْلٌ لِكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الجاثية/ 7] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا [ مریم/ 37] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا [ الزخرف/ 65] ، وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ [ المطففین/ 1] ، وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ [ الهمزة/ 1] ، يا وَيْلَنا مَنْ بَعَثَنا[يس/ 52] ، يا وَيْلَنا إِنَّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
ترکیب : اذ تعلیلیۃ اوظرفیۃ بنوع تسمح لان الانقسام کان قبل ابتلائہم لیصرمنہا جواب القسم مصبحین حال من الفاعل فی یصرمنہا ولا یستثنون جملۃ مستانفہ لبیان ماوقع منھم وقیل حال فتنادوا معطوف علی اقسموا بینما اعتراض لبیان مانزل بتلک الجنۃ ان اغدوا ان مفسرۃ لان فی التنادی معنی القول او مصدریۃ ای اخرجواغدوۃً ان کنتم الخ جواب الشرط محذوف فاغدوا وھم یتخافتون الجملۃ حال من فاعل فانطلقوا ان لایدخلنہا ان مفسرۃ للتخافت المذکور لمافیہ من معنی القول علی حرد یتعلق بقادرین وقادرین حال وقیل خبر غدوا لا نھا حملت علی اصبحوا۔
تفسیر : اہل مکہ خصوص ولید وغیرہ ثروت و حشمت پر نازاں ہو کر کہتے تھے کہ ہم پر خدا کی نظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
قَالَ اَوْسَطُھُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّـکُمْ لَوْلاَ تُسَبِّحُوْنَ ۔ قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَـآ اِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیْنَ ۔ فَاَقْـبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَلاَ وَمُوْن۔ قَالُوْا یٰـوَیْلَنَـآ اِنَّا کُنَّا طٰغِیْنَ ۔ عَسٰی رَبُّنَـآ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْھَـآ اِنَّـآ اِلٰی رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ ۔ (القلم : 28 تا 23)
(ان میں جو سب سے بہتر آدمی تھا اس نے کہا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم لوگ رب کی تسبیح کیوں نہیں کرتے۔ وہ پکار اٹھے، پاک ہے ہمارا رب واقعی ہم گنہگار تھے۔ پھر وہ آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔ انھوں نے کہا ہائے بدبختی بیشک ہم ہی سرکش ہوگئے تھے۔ توقع ہے کہ ہمارا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ کی آزمائش۔
نبی معظم ﷺ کی جدوجہد کے سامنے بےبس ہو کر اہل مکہ نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ کچھ آپ نرم ہوجائیں اور کچھ ہم نرم ہوجاتے ہیں نبی ﷺ نے اسے مکمل طور پر مسترد کردیا۔ اس کے ردِّ عمل میں انہوں نے مزدور صحابہ کرام ؓ کی مزدوریاں روک لیں اور اپنے غریب رشتہ دار صحابہ کے ساتھ تعاون کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا، ان کے سرداروں نے مہم چلائی کہ مسلمانوں کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کیا جائے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں جس میں انتباہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم مکہ والوں کو اس طرح آزمائیں گے جس طرح ان سے پہلے باغ والوں کو آزما چکے ہیں۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک شخص کا باغ تھا وہ اپنے باغ کی…
Read the full tafseer →31 : قَالُوْا یٰوَیْلَنَآ اِنَّا کُنَّا طٰغِیْنَ (کہنے لگے ہم حد سے نکلنے والے تھے) کہ فقراء کا حق روک لیا اور انشاء اللہ بھی چھوڑ دیا۔
Read the full tafseer →30 ۔” فاقبل بعضھم علی بعض یتلاومون “ ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے ۔ مساکین کو ان کے حقوق سے منع کرنے میں اور اپنے اوپر ہلاکت کی آوازیں لگائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
17۔ 33۔ اہل مکہ جب اپنے مال و متاع پر بہت اترائے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اللہ کے رسول سے طرح طرح کی سرکشی انہوں نے شروع کی تو آنحضرت ﷺ نے ان کے حق میں قحط کی بددعا کی جس کا ذکر حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں ہے اللہ کے رسول کی بد دعا سے بڑا سخت قحط پڑا یہاں تک کہ اہل مکہ مردار چیزیں کھا کر زندگی بسر کرنے لگے۔ آخر آنحضرت ﷺ سے رفع قحط کی دعا کرنے کی التجا کی اور آپ ﷺ کی دعا سے وہ قحط رفع ہوا اس لئے اوپر کی آیتوں میں ولید بن مغیرہ کا خاص طور پر ذکر فرما کر سب قریش کو قحط کا قصہ یاد دلایا اور فرمایا کہ ان لوگوں کی نافرمانی کے سبب سے ان پر قحط کی آفت اسی…
Read the full tafseer →(قالوا یویلنا انا کنا طغین) ۔ کہنے لگے، ہائے شامت ہم ہی حد سے بڑھ گئے تھے۔ یعنی ہم اللہ کے حق اور اس کے بندوں کے حق کے بارے میں حد سے تجاوز کرنے والے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–52
قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔
ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…
Read the full tafseer →22 عذاب آنے کے بعد کی توبہ کا کوئی اعتبار نہیں : سو ایک دوسرے پر لعن طعن کرنے اور ایک دوسرے پر الزام رکھنے کے بعد انہوں نے اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا کہ یقینا ہم سب ہی سرکش تھے کہ ہم نے اپنے نیک باپ کے نیک اور پاکیزہ طریقے کو چھوڑا، فقراء اور مساکین کو ان کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کی اور اپنے رب پر توکل و اعتماد کو ترک کیا، والعیاذ باللہ سو آخر کار ان سب کو اپنے قصور کا اعتراف کرنا پڑا اور کہا کہ ہم سب ہی اس جرم میں شریک اور قصور وار تھے، مگر بےوقت کے اس اعتراف کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ بہرحال انہوں نے کہا کہ ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر بدلہ دے گا۔ ہم اپنے رب ہی کی طرف راغب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–35
باغ والوں کے بخل کا واقعہ
تشریح :۔ اس قصے سے سبق ملتا ہے کہ صرف دنیا میں کھو جانا اور اللہ کی طرف سے آنکھیں بند کرلینا سراسر غلط راستہ ہے رب العزت کا یہی طریقہ ہے کہ وہ بندوں کو ایسی ہی سزاؤں سے جھنجوڑتا ہے کہ انسان غفلت سے باز آجائے یہ دنیاوی نقصانات تو صرف آنکھیں کھولنے کے لیے کرائے جاتے ہیں نافرمان اور غفلت سے بیدار نہ ہونے والے لوگوں کو آخرت میں بڑا سخت عذاب دیا جائے گا۔ جب کہ فرمانبرداروں کے لیے آرام و آسائش کے بہترین باغات ہیں اور یہی فرق ہے نافرمانوں اور فرمانبرداروں میں کیونکہ اللہ بہترین انصاف کرنے والا ہے۔ اچھے اور برے لوگوں کا حساب ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔ حدیث میں نصیحت کی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–33
آیات 1 تا 23۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم سے لکھاجاتا ہے یعنی آپ ﷺ نے امی ہونے کے باوجود علم کے وہ دریابہائے کہ خود قلم اور اس کی تحریر آپ کے کامل عقل مند اور بےمثال صاحب خرد ہونے پر دال ہے۔
مجنون۔
جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر ساری انسانیت کو دعوت حق دے دی اور تمام انسانوں کے لیے ایک عقیدہ اور ایک نظام حیات تو مشرکین نے اسے معاذ اللہ پاگل پن قرار دیا کہ دنیا کی عظیم الشان حکومتیں ساری دنیا پہ ایک نظام رائج نہ کرسکیں۔ پھر آپ ﷺ امی ہیں ، اکیلے ہیں یا چند مسلمان جن کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں پھر اقوام عالم کے مزاج الگ ، فکر الگ ، رنگ ونسل اپنی اپنی ، غذا الگ زبانیں الگ موسم اور…
Read the full tafseer →ف 3 ” حد سے بڑھنا یہی تھا کہ انہوں نے خدا کا خیال چھوڑ دیا اور اس کے دیئے ہوئے مال کو اپنا سمجھنے لگے۔ اس لئے ایسی تجویزیں سوچنے پر اتر آئے کہ فقیروں اور محتاجوں کو ان کے حق سے محروم کردیا۔ حتی کہ ” انشاء اللہ “ کہنے کی بھی ضرورت محسوس نہ کی۔
Read the full tafseer →(68:31) یویلنا : یا کلمہ ندا۔ ویلنا مضاف مضاف الیہ ۔ ویل ہلاکت، موت، بدبختی، جہنم میں ایک کنویں کا نام ۔ ویلنا۔ کلمہ حسرت و ندامت ہے۔ بمعنی ہائے ہماری موت و ہائے ہماری بدبختی۔ ہائے افسوس۔
طغین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ طغیان (باب نصر، سمع) مصدر سے۔ طغی یطغی اس نے سرکشی کی۔ اس نے سر اٹھایا۔ اس نے حد سے تجاوز کیا۔ پانی کی حد سے نکل جانا ۔ طغیانی کہلاتا ہے ۔ طغین۔ سرکش۔ حد سے نکلنے والے۔ شریر۔ طاغی کی جمع۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–33
لغات القرآن۔
یسطرون۔ وہ لکھتے ہیں۔ ممنون۔ منقطع ہونے والا۔ ختم ہونے والا۔ تبصر۔ تو دیکھے گا۔ المفتون۔ دیوانہ۔ ودوا۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ تدھن۔ تو خوشامد کرے۔ تو نمر پرے۔ حلاف۔ بہت قسمیں کھانے والا۔ مھین۔ ذلیل کمینہ۔ ھماز۔ طعنے دینے والا۔ مشائ۔ پھرنے والے۔ نیمیم۔ چغل خور۔ باتیں لگانے والے۔ مناع۔ روکنے والا۔ معتد۔ حد سے بڑھنے والا۔ اثیم۔ گناہ گار۔ عتل۔ اکھڑ۔ اجد۔ زنیم۔ بدنام۔ نسیم۔ ہم داغ دیں گے۔ الخرطوم۔ ناک۔ دم۔ سونڈ۔
تشریح : سورة القلم کا آغاز ” ن “ سے کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ایک حروف ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ اس کی تفصیل اس سے پہلی ابتدائی سورتوں میں آچکی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
(ف 4) اہل مکہ جب اپنے مال ومتاع پر بہت اترائے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی، اور نبی ﷺ سے طرح طرح کی سرش کی انہوں نے شروع کی تو نبی ﷺ نے ان کے حق میں دعا فرمائی کہ یارب ، انہیں ایسی قحط سالی میں مبتلا کر جیسی حضرت یوسف کے زمانہ میں ہوئی تھی چناچہ اہل مکہ قحط کی مصیبت میں ایسے مبتلا ہوگئے کہ وہ بھوک کی شدت میں مردار اور ہڈیاں تک کھاگئے اور اس طرح آزمائش میں ڈالے گئے ، آخرنبی ﷺ سے رفع قحط کی دعا کرنے کی التجا کی اورآ پکی دعا سے قحط رفع ہوا۔ اس لیے اوپر کی ایتوں میں ولید بن مغیرہ کا خاص طور پر ذکر فرما کر سب کو قحط کا قصہ یاد دلا اور فرمایا کہ ان لوگوں کی نافرمانی کے سبب سے ان پر قحط کی آفت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
[9] یعنی اللہ کی پاکی کیوں نہیں بیان کرتے ؟ مطلب یہ ہے کہ فقراء و مساکین سے تم اپنا مال اس لئے بچانا چاہتے ہو کہ تم سمجھتے ہو کہ اللہ تم کو اس کے بجائے اور نہ دے گا حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے۔ وہ اس کی راہ میں خرچ کرنے والوں کو اپنے پاس سے زیادہ دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–31
ف 1: ان آیات میں اس حقیقت کو واضح فرمایا ہے ۔ کہ جو لوگ اللہ کے مال و دولت کی بنا پر احکام الٰہی کا انکار کردیتے ہیں ۔ ا ہیں یقین رکھنا چاہیے ۔ کہ یہ فراوانی اور آسودگی ہمیشہ نہیں رہے گی ۔ فرمایا کہ مکہ والوں کہ ہم نے عیش وتکلفات سے بہرہ مند کرکے اسی طرح آزمایا ہے ۔ جس طرح کہ بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو ہم نے مال و دولت سے نوازا ۔ ان کو ایک نہایت عمدہ باغ مرحمت فرمایا ۔ مگر انہوں نے ازراہ بخل یہ طے کرلیا ۔ کہ ہم اس کا پھل صرف آپس میں بانٹ لیں گے ۔ اس میں کسی غریب کا حصہ نہیں ہوگا ۔ پھر جو کچھ باغ کی آمدنی سے ملے گا ۔ اس کو صرف اپنی ان آسانی کے لئے استعمال کریں گے ۔ اور مستحقین کو کچھ نہیں…
Read the full tafseer →(31) آخر کہنے لگے ہائے ہماری خرابی ہم سب ہی حد سے بڑھ جانے والے تھے۔ یعنی الزام دینے ملامت کرنے اور اولا ہنادینے سے کیا فائدہ آئو سب مل کر اللہ تعالیٰ کی جناب میں توبہ کریں اور کھلے الفاظ میں اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–31
ف 4۔ یعنی ان اہل مکہ کو سامان عیش دے رکھا ہے تاکہ دیکھیں کہ نعمتوں کے شکر میں ایمان لاتے ہیں یا ناشکری و بےقدری کر کے کفر کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →کہنے لگے ہمارے شامت اعمال کہ ہم ہی حد سے تجاوز کرنے والے تھے
31 ؎ ایک دوسرے پر الزام دھرنے کے بعد آخر ان سب بھائیوں نے اس بات پر اتفاق کرلیا کہ حقیقت اپنی جگہ پر حقیقت ہی ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم ہی ظامل تھے اس لئے ہم نے آپس میں اس طرح کی بات طے کر کے اپنے اوپر ہی ظلم کیا ہے اور اب سب نے اس کا نیجہخ بھی حاصل کرلیا ہے۔ ہمارے والد جو کرتے رہے اس کا نتیجہ کتنا بہتر رہا لیکن ہماری بدقسمتی کہ ہم نے حقیقت کو سمجھنے میں بہت دیر کی لیکن اب ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانا بھی کوئی اچھی فال نہیں ہے اور یہ کہ اس طرح کی بحث و تمحیص کا کبھی اچھا اور مفید نتیجہ نہیں نکل سکتا اس لئے کہ جو کچھ ہونا تھا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا طَاغِينَ ( [ and at last ] they said, "Woe to us! In fact, we [ all ] were outrageous....68:31). At the beginning, they accused one another of the sin. Then when they considered the matter carefully, they admitted that they were all on the wrong. As a result, they lamented and admitted their guilt that amounted to repentance. On the basis of this repentance they hoped that Allah will give them in exchange a garden better than the one destroyed.
Imam Baghawi reports from Sayyidna ` Abdullah Ibn Masud ؓ that, according to his information, when these brothers…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
18 That is, each reproached and blamed the other that because of his wrong counsel they had forgotten God and resolved upon an evil course.
Read the full tafseer →