Al-Mulk 67:8

Al-Mulk · from ayah 8

67:8

تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ ؕ— كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ ۟تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الۡغَيۡظِ‌ؕ كُلَّمَاۤ اُلۡقِىَ فِيۡهَا فَوۡجٌ سَاَلَهُمۡ خَزَنَـتُهَاۤ اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ نَذِيۡرٌ‏

گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی۔ جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغہ ان سے پوچھیں گے کہ تمہارے پاس کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا تھا؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

It almost bursts with rage. Every time a company is thrown into it, its keepers ask them, "Did there not come to you a warner?"

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mulk

All translations of 67:8

شدت غضب سے پھٹی جاتی ہو گی ہر بار جب کوئی انبوہ اس میں ڈالا جائے گا، اُس کے کارندے اُن لوگوں سے پوچھیں گے "کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی۔ جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغہ ان سے پوچھیں گے کہ تمہارے پاس کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا تھا؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

قریب ہے کہ (ابھی) غصے کے مارے پھٹ جائے، جب کبھی اس میں کوئی گروه ڈاﻻ جائے گا اس سے جہنم کے داروغے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس ڈرانے واﻻ کوئی نہیں آیا تھا؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

ایسا لگے گا جیسے وہ غصے سے پھٹ پڑے گی۔ جب بھی اس میں (کافروں کا) کوئی گروہ پھینکا جائے گا تو اس کے محافظ ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

معلوم ہوتا ہے کہ شدت غضب میں پھٹ جائے گی، جب کبھی کوئی گروہ اس میں ڈالا جائے گا اس کے داروغہ ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈر سنانے والا نہ آیا تھا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

گویا (ابھی) شدتِ غضب سے پھٹ کر پارہ پارہ ہو جائے گی، جب اس میں کوئی گروہ ڈالا جائے گا تو اس کے داروغے ان سے پوچھیں گے: کیا تمہارے پاس کوئی ڈر سنانے والا نہیں آیا تھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

قریب ہوگی کہ غصے سے پھٹ جائے۔ جب بھی کوئی گروہ اس میں ڈالا جائے گا، اس کے نگران ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ایسا معلوم ہوگا کہ غصہ کی وجہ سے پھٹ پڑے گی۔ جب بھی اس میں کوئی گروہ پھینکا جائے گا تو دوزخ کے محافظ ان سے پوچھیں گے : کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہ آیا تھا ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

معلوم ہوگا کہ غصہ سے پھٹی پڑ رہی ہے۔ جب جب ان کی کوئی بھیڑ اس میں جھونکی جائے گی اس کے داروغے ان سے پوچھیں گے، کیا تمہارے پاس اس دن سے کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جبکہ وہ جوش مار رہی ہوگی شدت غضب سے وہ پھٹی جا رہی ہوگی جب بھی ڈالا جائے گا اس میں (کفار و منکرین) کا کوئی گروہ تو اس کے کارندے ان لوگوں سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا ؟

— مولانا اسحاق مدنی

کہ گویا ابھی غصہ سے پھٹنے کو ہے جب جب اس کے اندر کوئی گروہ (کافروں کا) ڈالا جائے گا تو اس کے محافظ ان لوگوں سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

قریب ہوگا کہ وہ غصے سے پھٹ جائے۔ جب بھی ڈالا جائے گا اس میں کسی ایک گروہ کو تو اس کے داروغے ان سے پوچھیں گے : کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

گویا مارے جو ش کے پھٹ پڑے گی ”جب اس میں ان کی کوئیـ جماعت۔ (گروہ) ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغہ ان سے پوچھیں گے کہ تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

as though it will burst with rage. Every time a multitude is cast into it, its keepers will ask them: “Did no warner come to you?”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

seeming as if it will burst out of fury. Whenever a group is thrown into it, its keepers will say to them, :Had no warner come to you?

— Muhammad Taqi Usmani

seeming as if it will burst out of fury. Whenever a group is thrown into it, its keepers will say to them, :Had no warner come to you?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

It almost bursts up with fury. Every time a group is cast therein, its keepers will ask: "Did no warner come to you"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

As it would burst with rage. Whenever a (fresh) host is flung therein the wardens thereof ask them: Came there unto you no warner?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

It almost bursts with rage. Every time a company is thrown into it, its keepers ask them, "Did there not come to you a warner?"

— Saheeh International

It almost explodes in rage. Whenever a group is thrown into it, its keepers will ask them, "Did no one come to warn you?"

— Muhammad Sarwar

Almost bursting for fury. Whenever a group is cast into it, its keeper shall ask them: Did there not come to you a warner?

— Muhammad Habib Shakir

Well-nigh it bursteth with rage. So oft as a company is cast thereinto, the keepers thereof will ask them: came there not Unto you a warner?

— Abdul Majid Daryabadi

Almost bursting with fury: Every time a Group is cast therein, its Keepers will ask, "Did no Warner come to you?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 67:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 6–11

جہنم کا داروغہ سوال کرے گا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے، وہ جہنمی ہے اس کا انجام اور جگہ بد سے بد ہے۔ یہ بلند اور مکروہ گدھے کی سی آوازیں مارنے والی اور جوش مارنے والی جہنم ہے جو ان پر جل رہی ہے اور جوش اور غضب سے اس طرح کچ کچا رہی ہے کہ گویا ابھی ٹوٹ پھوٹ جائے گی، اور دوزخیوں کو زیادہ ذلیل کرنے اور آخری حجت قائم کرنے اور اقبالی مجرم بنانے کے لئے داروغہ جہنم ان سے پوچھتے ہیں کہ بدنصیبو ! کیا اللہ کے رسولوں نے تمہیں اس سے ڈرایا نہ تھا ؟ تو یہ ہائے وائے کرتے ہوئے اپنی جانوں کو کو ستے ہوئے جواب دیتے ہیں کہ آئے تو تھے لیکن وائے بدنصیبی کہ ہم نے انہیں جھوٹا جانا اور اللہ کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُلْک 14 اس سوال کی اصل نوعیت سوال کی نہیں ہوگی کہ جہنم کے کارندے ان لوگوں سے یہ معلوم کرنا چاہتے ہوں کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خبردار کرنے والا آیا تھا یا نہیں، بلکہ اس سے مقصود ان کو اس بات کا قائل کرنا ہوگا کہ انہیں جہنم میں ڈال کر ان کے ساتھ کوئی بےانصافی نہیں کی جا رہی ہے۔ اس لیے وہ خود ان کی زبان سے یہ اقرار کرانا چاہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بیخبر نہیں رکھا تھا، ان کے پاس انبیاء بھیجے تھے، ان کو بتادیا تھا کہ حقیقت کیا ہے اور راہ راست کونسی ہے، اور ان کو متنبہ کردیا تھا کہ اس راہ راست کے خلاف چلنے کا نتیجہ اسی جہنم کا ایندھن بننا ہوگا جس میں اب وہ جھونکے گئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 5–14

(آیت) وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ ، مصابیح سے مراد ستارے ہیں اور نیچے کے آسمان کو ستاروں سے مزین کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ ستارے آسمان کے اندر یا اس کے اوپر لگے ہوئے ہوں بلکہ یہ تزیین اس صورت میں بھی صادق ہے جبکہ ستارے آسمان سے بہت نیچے خلا میں ہوں جیسا کہ تحقیق جدید سے اس کا مشاہدہ ہو رہا ہے یہ اس کے منافی نہیں اور ستاروں کو شیاطین کے دفع کرنے کے لئے انگارے بنا دینے کا یہ مطلب ہوسکتا ہے کہ ستاروں میں سے کوئی مادہ آتشیں ان کی طرف چھوڑ دیا جاتا ہو ستارے اپنی جگہ رہتے ہوں، عوام کی نظر میں چونکہ یہ شعلہ ستارہ کی طحر حرکت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

جہنم کے جوش غضب کی تصویر: یہ جہنم کے غصہ کی تعبیر ہے کہ معلوم ہو گا کہ وہ غضب سے پھٹی پڑ رہی ہے۔ اس کے اس غیظ و غضب کی وجہ ظاہر ہے کہ یہی ہو گی کہ اس کے نزدیک اس ہولناک دن سے جن لوگوں نے بے پروا ہو کر زندگی گزاری انھوں نے بالکل آنکھیں اور کان بند کر کے زندگی گزاری۔ ورنہ اس دنیا میں نہ قیامت اور جزا و سزا کی نشانیوں کی کمی تھی اور نہ کبھی یہ منذروں سے خالی رہی۔ پس جن لوگوں نے آنکھیں اور کان رکھتے ہوئے ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا وہ ہرگز کسی ہمدردی کے مستحق نہیں ہو سکتے۔ چنانچہ جہنم کے داروغے ان کو ملامت کریں گے کہ بدبختو! کیا تمہارے پاس اس دن سے آگاہ کرنے کے لیے کوئی نذیر نہیں آیا کہ تم نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

8۔ 1 یا مارے غیظ وغضب کے اس کے حصے ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں گے یہ جہنم کافروں کو دیکھ کر غضب ناک ہوگی جس کا شعور اللہ تعالیٰ اس کے اندر پیدا فرما دے گا اللہ تعالیٰ کے لیے جہنم کے اندر یہ ادراک وشعور پیدا کردینا کوئی مشکل نہیں۔ 8۔ 2 جس کی وجہ سے تمہیں آج جہنم کے عذاب کا مزہ چکھنا پڑا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–15

3: یعنی زمین کی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے تصرف میں دے دی ہیں، لیکن ان کو استعمال کرتے وقت یہ مت بھولو کہ تمہیں ہمیشہ یہاں نہیں رہنا، بلکہ ایک دن یہاں سے اللہ تعالیٰ ہی کے پاس جانا ہے جہاں تمہیں ان نعمتوں کا حساب دینا ہوگا۔ لہذا یہاں کی ہر چیز کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہی استعمال کرو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اور جہنم کے نگرانوں کی حالت بھی یہی ہوگی۔ کلما .................... نذیر (76 : 8) ” ہر بار جب کوئی انبوہ اس میں ڈالا جائے گا ، اس کے کارندے ان لوگوں سے پوچھیں گے ” کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا ؟ “ یہ بات واضح ہے کہ جہنم میں ان سے یہ سوال محض معلومات حاصل کرنے کے لئے نہ ہوگا ، یہ ان کی سرزنش کرنے اور ان کو دلیل کرنے کے لئے ہوگا ، گویا جہنم کے کارندے بھی جہنم کے ساتھ اس غیظ وغضب میں شریک ہوں گے ۔ جس طرح وہ دونوں ان کو عذاب دینے میں شریک ہیں اور کسی مصیبت زدہ اور پریشان شخص پر اگر سرزنش اور دھتکار کے کوڑے بھی لگیں تو اس کی تلخی کی تو حد ہی نہ ہوگی لیکن ذرا ان لوگوں کا جواب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یہ پوچھنا اور زیادہ ذلیل و محجوب کرنے کے لیے ہوگا یعنی تم جو اس مصیبت میں آکر پھنسے ہو، کیا کسی نے تم کو متنبہ نہ کیا تھا ؟ اور ڈرایا نہ تھا کہ اس راستے سے مت چلو ورنہ سیدھے دوزخ میں گرو گے جہاں ایسے ایسے عذاب ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 8{ تَـکَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ } ”قریب ہوگا کہ وہ غصے سے پھٹ جائے۔“ ایسے معلوم ہوگا کہ ابھی شدت غضب سے پھٹ پڑے گی۔ { کُلَّمَآ اُلْقِیَ فِیْہَا فَوْجٌ سَاَلَہُمْ خَزَنَتُہَآ اَلَمْ یَاْتِکُمْ نَذِیْرٌ۔ } ”جب بھی ڈالا جائے گا اس میں کسی ایک گروہ کو تو اس کے داروغے ان سے پوچھیں گے : کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا ؟“ قیامت کے دن ہر قوم کا علیحدہ علیحدہ حساب ہوگا ‘ جیسا کہ سورة النمل کی اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے : { وَیَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ فَوْجًا مِّمَّنْ یُّـکَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَـہُمْ یُوْزَعُوْنَ۔ } ”اور ذرا تصور کرو اس دن کا جس دن ہم جمع کریں گے ہر امت…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 7–8

11 شَھِیْقًا۔ زفیر اور شھیق گدھے کے ہینگنے کے وقت اس آواز کی ابتدائی اور آخری حالت کا نام ہے۔ زفر بمعنی لمبا سانس باہر نکالنا اور زفیر گدھے کے ہینگنے کی ابتدائی آواز جو آہستہ سے اونچی ہونا شروع ہوجاتی ہے اور جب گدھا ہینگنے کے عمل کو ختم کرنے لگے تو وہ آواز جو اونچی آواز سے پست ہونا شروع ہوتی ہے اسے شَھِیِْقٌ کہتے ہیں۔ پھر یہ گدھے کی آواز قرآن کی تصریح کے مطابق سب سے زیادہ مکروہ اور کانوں کو ناگوار محسوس ہونے والی ہوتی ہے۔ ایسی ہی مکروہ آواز دوزخ کی پیدا ہو رہی ہوگی۔ پھر اس کی بھی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ ایسی آواز جہنم کے جوش مارنے سے پیدا ہوگی۔ دوسرے یہ کہ دوزخ میں جو لوگ پہلے پڑے ہوں گے۔ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 6–8

6۔ (جس نے تم کو اس عذاب سے ڈرایا ہو ؟ ) (آیت) ” کلما ..... نذیر “۔ دوزخ میں کافروں کے مختلف گروہ اپنے اپنے مرتبہ کفر کے لحاظ سے ڈالے جائیں گے۔ یہ سوال ہر نئے گروہ سے ہوگا۔ فرشتوں کے سوال کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ شدید عذاب تو ایسی چیز تھی کہ تمہیں اس کی خبر اگر بدرجہ احتمال پہنچتی، جب بھی تمہیں اس سے اپنے کو بچانا واجب تھا تو کیا ایسے ہولناک انجام کی تمہیں سرے سے خبر ہی نہیں پہنچی تھی ؟ (آیت) ” تکاد تمیز من الغیظ “۔ یہ فقرہ جہنم کے جوش و خروش کی بےانتہاشدت ظاہر کرنے کو ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–11

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، وہ بڑا عالی شان ہے محدثین (مخلوق) کی صفات سے پاک ہے، جس کے قبضہ تصرف میں بادشاہی اور قدرت ہے جس نے دنیا میں موت کو پیدا فرمایا اور حیات کو آخرت میں پیدا فرمایا، دونوں کو دنیا میں پیدا فرمایا چناچہ نطفہ میں حیات ڈالی جاتی ہے، اور حیات وہ ہے کہ جس سے احساس ہوتا ہے، اور موت اس کی ضد ہے یا عدم حیات کا نام موت ہے، یہ دونوں قول ہیں، اور ثانی صورت میں خلق بمعنی تقدیر ہوگا، تاکہ حیات میں تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون شخص عمل میں زیادہ اچھا ہے ؟ یعنی زیادہ فرمانبردار ہے، وہ اپنی نافرمانی کرنے والے سے انتقام لینے میں زبردست ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

تکاد تمیز من الغیظ . من الغیظ کا تعلق تمیز سے ہے اور پورے جملہ میں تفور کے فاعل (یعنی جہنم) کی حالت بیان کی ہے اور جملہ وھی تفور لھا کی ضمیر سے حال ہے ‘ غیظ سے مراد یا اللہ کا غضب ہے یا عذاب کے فرشتوں کا غضب یا خود آگ کا غصہ ہے جو اللہ کے دشمنوں پر ہوگا۔ آگ کی طرف غیظ کی نسبت مجازی ہے بطور استعارہ یا حقیقی ہے لیکن حقیقی نسبت اس وقت ہوگی جب آگ کا صاحب شعور ہونا ثابت کردیا جائے ‘ جس طرح جمادات کا شعور ہم نے ثابت کیا ہے۔ کلما القی فیھا فوج . فوج سے مراد ہے کافروں کی جماعت۔ سالھم خزنتھا . جب کافروں کی کوئی جماعت دوزخ کے اندر ڈالی گئی تو دوزخ کے نگرانوں نے زجر و تذلیل کے طور پر ان سے پوچھا۔ الم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 6–9

(6۔ 9) جب یہود و نصاری مجوسی اور مشرکین عرب میں سے لوگ دوزخ میں ڈالے جائیں گے تو دوزخ کی گدھے کی طرح ایک بڑے زور کی آواز سنیں گے اور وہ اس طرح جوش مارتی ہوگی کہ ابھی کفار پر غصہ کے مارے پھٹ پڑے گی۔ جب دوزخ میں ان مذکورہ کافروں کا کوئی گروہ ڈالا جائے گا تو دوزخ کے محافظ ان لوگوں سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا پیغمبر نہیں آیا تھا تو وہ کہیں گے کہ واقعی ہمارے پاس ڈرانے والا پیغمبر آیا تھا۔ تو ہم لوگوں نے اسے جھٹلایا اور کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی کتاب نازل نہیں کی اور نہ ہماری طرف کسی کو رسول بنا کر بھیجا ہے اور ہم نے رسولوں سے یوں کہہ دیا کہ تم بڑی غلطی میں پڑے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 8–9

تَکَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ۔۔۔۔:”تمیز“ اصل میں ”تمیز“ (تفعل) ہے ، ایک تاء تخفیف کے لیے حذف کردی گئی۔”قریب ہے کہ غصے سے پھٹ جائے“ اس سے آگ کا صاحب شعور ہونا اور کفار پر سخت غصے ہونا ظاہر ہو رہا ہے۔ جہنم کے اس وقت کے سخت غصے اور جوش و خروش کا نقشہ اس سے بہتر الفاظ میں نہیں کھینچا جاسکتا۔ جہنم میں جب بھی کسی نئے گروہ کے لوگ پھینکنے جائیں گے تو جہنم کے نگران فرشتے ان سے پوچھیں گے ، کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا ؟ یہ سوال ہر گروہ سے ہوگا اور اس لیے نہیں ہوگا کہ فرشتوں کو معلوم نہیں کہ ان کے پاس ڈرانے والے آئے تھے یا نہیں ، بلکہ ایک تو تعجب کے اظہار کے لیے ہوگا کہ اللہ کی طرف سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 8–11

تکاد تمیز من الغیظ وہ ٹکڑے ہوجائے گی اور اس کا بعض، بعض سے جدا ہوگا، یہ سعید بن جبیر کا قول ہے (1) حضرت ابن عباس ضحاک اور ابن زید نے کہا : اللہ تعالیٰ کے دشمنوں پر شدت غیظ کی وجہ سے پھٹ جائے گی (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : من الغیظ کا معین جوش مارنا ہے۔ تمیز کی اصل تتمیز ہے کلمآ القی فیھا فوج فوج سے مراد کفار کی جماعت ہے۔ سالھم خزنتھآ جہنم کے داور غے تو بیخ اور قریع کے انداز میں ان سے سوال کریں گے۔ الم یاتکم نذیر۔ کیا تمہارے پاس دنیا میں کوئی رسول نہیں آیا جو تمہیں اس دن سے ڈراتا یہاں تک کہ تم احتیاط برتتے ؟ قالوا بلی قدجآء نا نذیر یعنی ہمارے پاس ڈرانے والا آیا، اس نے ہمیں ڈرایا اور خبردار…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 8–10

4۔ ابن جریر وابن المنذر (رح) سے بیان فرمایا کہ آیت تکاد تمیز (قریب ہے کہ پھٹ پڑے گی) یعنی ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی۔ 5۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت تکاد تمیز کے بارے میں روایت کیا کہ شاید اس کا بعض حصہ بعض سے جدا ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[تَكَادُ تمــيَّزُ : قریب ہے کہ وہ پھٹ پڑے گی ][ مِنَ الْغَيْظِ ۭ: شدید غصّہ سے ][ كُلَمَآ : جب کبھی بھی ][ اُلْقِيَ فِيْهَا فَوْجٌ: ڈالا جائے گا اس میں کسی گروہ کو ][ سَاَلَهُمْ : تو پوچھیں گے ان سے ][ خَزَنَــتُهَآ : اس (جہنم) کے داروغہ لوگ ][ اَلَمْ يَاْتِكُمْ : کیا نہیں پہنچا تمہارے پاس ][ نَذِيْرٌ: کوئی خبردار کرنے والا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 6–10

کافروں کا دوزخ میں داخلہ، دوزخ کا غیظ و غضب، اہل دوزخ سے سوال و جواب اور ان کا اقرار کہ ہم گمراہ تھے گزشتہ آیت میں بتایا کہ شیاطین کے لیے جلتی ہوئی آگ کا عذاب تیار فرمایا ہے۔ ان آیات میں کافروں کے عذاب کا تذکرہ فرمایا جو کفر میں شیاطین کے ہمنوا ہیں اور شیاطین کے ترغیب دینے اور کفر پر جمانے سے کفر کو اختیار کیے ہوئے ہیں، فرمایا کہ جن لوگوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور جہنم بری جگہ ہے اور برا ٹھکانہ ہے پھر فرمایا کہ جب یہ لوگ دوزخ میں ڈالے جائیں گے تو دوزخ کی سخت دہشت ناک اور وحشت ناک آواز سنیں گے وہ جوش مارتی ہوگی اس کے جوش کا یہ عالم ہوگا کہ گویا ابھی غصے کی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 6–11

عقوبت وتنبیہ برانکار توحید رب العالمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وللذین کفروا بربھم ............ الی ........... فسحقا لاصحب السعیر “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں خداوند کریم کی عظمت وکبریائی کا بیان تھا اور اس کی قدرت وخالقیت دلائل و شواہد سے ظاہر فرمائی گئی تو اب ان آیات میں ان لوگوں پر وعید ہے جو اسکی الوہیت سے انکار کرتے ہیں اور اسکی وحدانیت پر ایمان نہیں لائے فرمایا۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا اپنے رب کا انکے واسطے عذاب جہنم ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے جس کی شدت وہیبت اس سے معلوم ہوسکتی ہے کہ جب بھی یہ لوگ اس میں ڈالیں جائیں گے سنیں گے اس کے دھاڑنے کی آواز جو نہایت ہی ہولناک ہوگی اور وہ جہنم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–9

7:۔ ” وللذین کفروا “ تخویف اخروی۔ جو لوگ اپنے رب سے کفر کرتے ہیں یعنی اللہ کے سوا اپنے خود ساختہ معبودوں کو برکات دہندہ سمجھتے ہیں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے جو نہایت ہی برا انجام ہے۔ جب ان کفار و مشرکین کو جہنم میں ڈالا جائیگا تو وہ سخت جوش میں آجائے گی اور اس کی ہیبتناک غراہٹ ہوگی۔ وہ دشمنان خدا پر اس قدر غضبناک ہوگی کہ قریب ہوگا کہ غیظ و غضب سے پھٹ جائے۔ ” کلام القی فیہا فوج “ جب بھی مشرکین کی کوئی جماعت جہنم میں ڈالی جائیگی تو خازنان جہنم ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس ڈرانے والے نہیں آئے تھے ؟ جنہوں نے تمہیں آج کے عذاب سے خبردار کیا ہو۔ ” قالوا بلی “ جواب دیں گے کیوں نہیں ؟ ہمارے پاس…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–14

گذشتہ سے پیوستہ : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور حکومت کا ذکر ہوا ہے۔ کہ تمام برکات اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ قادر مطلق بھی وہی ہے۔ جس نے موت وحیات کو انسانوں کی آزمائش کے لیے پیدا کیا تاکہ اس بات کو ظاہر کردے ا کہ اچھا عمل کون کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ عزیز اور غفور ہے ۔ اس نے سات آسمانوں کو تہ بر تہ پیدا کیا۔ اس کی پیدا کی ہوئی چیز میں تم کسی قسم کا نقص نہیں دیکھو گے ، تم بار بار اپنی نگا اٹھا کر دیکھو۔ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی مخلوق میں کوئی دراڑ ، شگاف یا نقص نظر نہیں آئیگا۔ نگا ہ تھکی ہوئی واپس لوٹ آئے گی۔ دیکھو آسمان دنیا کو ہم نے زینت بخشی ہے ستاروں کے چراغوں کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ۝ 0 ۭ كُلَّمَآ اُلْقِيَ فِيْہَا فَوْجٌ سَاَلَہُمْ خَزَنَــتُہَآ اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَذِيْرٌ۝ 8 كَادَ ووُضِعَ «كَادَ» لمقاربة الفعل، يقال : كَادَ يفعل : إذا لم يكن قد فعل، وإذا کان معه حرف نفي يكون لما قد وقع، ويكون قریبا من أن لا يكون . نحو قوله تعالی: لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئاً قَلِيلًا[ الإسراء/ 74] ، وَإِنْ كادُوا[ الإسراء/ 73] ، تَكادُ السَّماواتُ [ مریم/ 90] ، يَكادُ الْبَرْقُ [ البقرة/ 20] ، يَكادُونَ يَسْطُونَ [ الحج/ 72] ، إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ [ الصافات/ 56] ولا فرق بين أن يكون حرف النّفي متقدما عليه أو متأخّرا عنه . نحو : وَما کادُوا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 8–11

ا ؎ کلماء القی فیہا فوج اس سے معلوم ہوا کہ تمام دوزخی ایک بار دوزخ میں نہیں ڈالیں جائیں گے بلکہ ہر ایک گروہ اور فرقہ ایک ملک کے یا ایک خاندان کے یا ایک مذہب کے یکے بعد دیگرے داخل ہوں گے اور ہر ایک گروہ علیٰ حسب مراتب ہر طبقہ میں بند ہوگا اور ان کے شرمندہ کرنے کے لیے ملائکہ یہ سوال کریں گے اور وہ یہ جواب دیں گے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 8–9

تَکَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ ط کُلَّمَآ اُلْقِیَ فِیْھَا فَوْجٌ سَأَلَھُمْ خَزَنَـتُـھَا اَلَمْ یَاتِکُمْ نَذِیْرٌ۔ قَالُوْا بَلٰی قَدْ جَآئَ نَا نَذِیْرٌ 5 لا فَکَذَّبْنَا وُقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ مِنْ شَیْ ئٍ صلے ج اِنْ اَنْـتُمْ اِلاَّ فِیْ ضَلٰلٍ کَبِیْرٍ ۔ (الملک : 8، 9) (قریب ہے کہ غصے سے پھٹ جائے، جب جب ان کی کوئی بھیڑ اس میں جھونکی جائے گی تو اس کے داروغے ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا۔ وہ جواب دیں گے، ہاں ! ہمارے پاس ایک خبردار کرنے والا آیا تو سہی مگر ہم نے اسے جھٹلا دیا اور کہہ دیا کہ اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا، تم بڑی گمراہی میں پڑے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–11

فہم القرآن ربط کلام : شیاطین جن میں سے ہوں یا انسانوں سے ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے جہنم تیار کر رکھی ہے۔ جو لوگ شیاطین کا کردار اختیار کرتے ہیں، حقیقت میں وہ اپنے رب کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔ ان کے لیے جہنم تیار کی گئی ہے جو نہایت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ جہنم کی آگ اس قدر جوش مار رہی ہوگی کہ اس سے مختلف قسم کی خوفناک آوازیں نکلیں گی۔ دیکھنے اور سننے والوں کو یوں لگے گا جیسے جہنم اپنے جوش اور زور سے پھٹ جائے گی۔ جب جہنمی کو گروہ در گروہ جہنم میں ڈالا جائے گا تو جہنم کے داروغے ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس جہنم سے ڈرانے والے نہیں آئے تھے ؟ جہنمی اقرار کریں گے کیوں نہیں ! ہمارے پاس ڈرانے والے آئے تھے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

زبانیہ کا سوال : 8 : تَکَادُ تَمَیَّزُ (ایسامعلوم ہوتا ہے کہ غصہ کے مارے پھٹ پڑے گی) تمیز یہ تتمیز ہے پھٹنا اور ٹکڑے ٹکڑے ہونا۔ مِنَ الْغَیْظِ (کفار پر غصہ کی بناء پر) جہنم کے بہت زیادہ ابال کو استعارۃً اس طرح قرار دیا گویا وہ سخت غصہ میں لال پیلی ہے۔ کُلَّمَآ اُلْقِیَ فِیْھَا فَوْجٌ (جب بھی اس میں کوئی گروہ ڈالاجائے گا) کفار کی جماعت مراد ہے۔ سَاَ لَھُمْ خَزَنَتُہَآ (تو اس کے محافظ ان لوگوں سے پوچھیں گے) خزنہؔ سے مالک اور اس کے مددگار زبانیہ مراد ہیں اور یہ سوال زجرو تذلیل کیلئے ہوگا۔ اَلَمْ یَاْتِکُمْ نَذِیْرٌ (کیا تمہارے پاس ڈرانے والا نہیں آیا تھا) وہ رسول جو تمہیں اس عذاب سے ڈرائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7 ۔” اذا القوا فیھا سمعوا لھا شھیقا “ اور یہ گدھے کے ڈھینچوں کرنے کی ابتداء ہے اور یہ قبیح ترین آواز ہوتی ہے۔ ” وھی تفور “ ان کے ساتھ بہے گی جیسے بہت زیادہ پانی تھوڑے سے دانوں کے ساتھ بہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–11

6۔ 11۔ اللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل فرما کر اپنے رسولوں کی معرفت یہ سب لوگوں کو اچھی طرح سمجھا دیا ہے کہ یہ لوگ شیطان کو اپنا دشمن جانیں اور اس کے بہکاوے میں ہرگز نہ آئیں ‘ ورنہ جو شیطان کے بہکاوے میں آ کر اللہ کی مرضی کے برخلاف کام کرے گا ایسے نافرمان آدمیوں اور شیطان اور اس کے شیاطینوں سے دوزخ کو بھر دیا جائے گا اس قدر انتظام کے بعد بھی جب بہت سے نافرمان لوگ شیطان اور اس کے شیاطینوں کے ساتھ دوزخ میں جائیں گے تو دوزخ کے تعیناتی والے فرشتوں کو اس بات کا بڑا تعجب ہوگا کہ باوجود ایسے بڑے انتظام کو اتنے بہت سے آدمی دوزخ میں کیونکہ آن پڑے۔ اس لئے وہ فرشتے ان دوزخی آدمیوں سے پوچھیں گے کہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 5–10

یعنی ہم نے جمال بخشا (السماء الدنیا) دنیا کے آسمان کو، جسے تم دیکھ رہے ہو اور جو تمہارے قریب اور متصل ہے (بمصابیح) ، چراغوں کے ساتھ، اس سے مراد مختلف اقسام کی روشنیاں رکھنے والے ستارے ہیں کیونکہ اگر آسمان میں ستارے نہ ہوتے تو یہ ایک تاریک چھت ہوتی جس میں کوئی حسن و جمال نہ ہو، مگر اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کو آسمان کی زینت، حسن و جمال اور راہ نمایاں جن کے ذریعے سے بحروبر میں راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر کہ اس نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کیا، اس امر کے منافی نہیں کہ بہت سے ستارے ساتوں آسمانوں کے اوپر ہوں کیونکہ آسمان شفاف ہوتے ہیں اور اگر آسمان دنیا پر ستارے نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

13 دوزخیوں کی تذلیل و تقبیح کے ایک منظر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب بھی کسی گروہ کو دوزخ میں ڈالا جائے گا تو اس کے کارندے ان لوگوں سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا ؟ یہ پوچھنا ان کی تقبیح و تذلیل کے لئے ہوگا۔ تاکہ اس طرح یہ بدبخت دوزخ کی اس ہولناک آگ کے ساتھ ساتھ ‘ حسرت و یاس اور ندامت و افسوس کی اس باطنی آگ سے بھی جلیں ‘ اور ان کا عذاب دوہرا ہوتا جائے ‘ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور یہ بھی اس اکرم الاکرمین کے کرم بےپایاں کا ایک عظیم الشان مظہر ہے کہ اس نے آخرت میں ملنے والے اس طرح کے ان ہولناک عذابوں کی خبر پیشگی اسی دنیا ہی میں اور اس قدر صراحت و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 6–11

کفار کے لیے دوزخ کی دہکتی ہوئی آگ تشریح : یہ آیات خوف و دہشت دلانے والی ہیں اور دوزخ کا نقشہ اور اس میں ڈالے جانے والوں کی بےبسی بڑے ہی صاف الفاظ میں اور آسان زبان میں بیان کئے گئے ہیں استغفر اللہ۔ خدایا ! جب دوبارہ اٹھا کر میدان حشر میں جمع کئے جائیں گے تو ہماری حفاظت فرمانا اپنے عذاب اور غصہ سے بچانا ” جہنم سے اپنی پناہ میں رکھنا اور نیکوں کے ساتھ بہشت میں داخل فرما دینا۔ آمین

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–14

آیات 1 تا 14۔ اسرار ومعارف۔ بہت ہی بابرکت ہے وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں ہے سلطنت و حکومت کہ حقیقی حکومت اسی کو سزوار ہے جو ہر چیز پر قادر ہے۔ صفات باری تعالیٰ جو اس کی حکومت پر دلالت کرتے ہیں۔ اول اس کا موجود ہوناہمیشہ سے ہمیشہ کے لیے دوم اس کا صفات کمال کا مالک ہونا سوم اس کا ہر چیز پر قادر ہونا اور چہارم ہر چیز کا خالق ہونا حتی کہ موت وحیات کا بھی ، وہی ذات ہے جس نے پیدا فرمایا موت کو اور حیات کو کہ تمہاری آزمائش ہوسکے کہ کون تم میں سے نیک عمل کرتا ہے اور وہ بھی ہے زبردست اور بخشنے والا بھی۔ موت اور اس کی اقسام۔ زندگی ایک حال ہے اور مخلوق ہے اسی طرح حیا تکے تعلق کو بدن سے الگ کرنا بھی ایک…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(67:8) تکاد تمیز من الغیظ : من الغیظ کا تعلق تمیز سے ہے اور پورے جملے میں تفور کے فاعل (یعنی جہنم) کی حالت بیان کی ہے۔ تکاد مضارع واحد مؤنث غائب تمیز (تفعل) مصدر اصل میں تتمیز تھا۔ ایک ت حذف ہوگئی۔ ایک دوسرے سے جدا ہونا۔ پھٹ جانا۔ (قریب ہے کہ) پھٹ جائے ۔ صاحب اضواء البیان لکھتے ہیں :۔ اثبات ان للنار حسا وادراکا وارادۃ والقران اثبت للنار انھا تعتاظ وتبصر و تتکلم وتطلب المزید کما قال ھھنا۔ تکاد تمیز من الغیظ۔ وقال : اذا رأتھم من مکان بعید سمعوا لہا تغیظا و زفیرا (25:12) جب وہ ان کو دور سے دیکھے گی تو (غضبناک ہو رہی ہوگی اور یہ) اس کے جوش و غضب) اور چیخنے چلانے کو سنیں گے۔ وقال : یوم نقول…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–14

لغات القرآن۔ تبرک۔ برکت والا۔ ید۔ ہاتھ۔ یبلوا۔ وہ آزماتا ہے۔ ایکم۔ تم میں کون۔ احسن عملا۔ عمل کے اعتبار سے زیادہ بہتر۔ طباقا۔ ایک پر ایک۔ تفوت۔ فرق ۔ ارجع۔ لوٹالے۔ فطور (فطر) ۔ شگاف۔ دراڑ۔ کرتین۔ بار بار۔ ینقلب۔ پلٹ کر آئے گا۔ خاسئا۔ ذلیل و رسوا۔ حسیر۔ تھکا ماندہ۔ مصابیح (مصباح) ۔ چراغ۔ رجوما۔ مارنے کی چیز۔ القوا۔ ڈالے گئے۔ سمعوا۔ انہوں نے سنا۔ شھیقا۔ زبردست ڈرائونی آواز۔ دھاڑنا۔ تفور۔ جوش مارتی ہوگی۔ تکار۔ قریب ہے۔ تمیز۔ پھٹ پڑے گی۔ الغیظ۔ غصہ۔ فوج۔ جماعت۔ گروہ۔ سال۔ اس نے پوچھا۔ خزنۃ۔ حفاظت کرنے والا۔ نگران۔ لوکنا۔ اگر ہم ہوتے۔ اعترفوا۔ انہوں نے اقرار کیا۔ سحقا۔ دور دور۔ اسروا۔ تم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 6–11

شیطان کے بہکاوے سے بچنے کا ذکر اور جو نہ بچے اس کا انجام۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل فرما کر اپنے رسول کی معرفت یہ سب لوگوں کو اچھی طرح سمجھادیاجائے کہ یہ لوگ شیطان کو اپنادشمن جانیں اور اس کے بہکاوے میں نہ آئیں ورنہ جو شیطان کے بہکاوے میں آئے گا اللہ کی مرضی کے برخلاف کام کرے گا ایسے نافرمان آدمیوں اور شیطان اور اس کے شیاطینوں سے دوزخ کو بھردیاجائے گا، اس قدر انتظام کے بعد بھی جب بہت سے نافرمان لوگ شیطان اور اس کے شیاطینوں کے ساتھ دوزخ میں جائیں گے تو دوزخ کے تعیناتی والے فرشتے کو اس بات کا بڑا تعجب ہوگا کہ باوجود ایسے بڑے انتظام کے اتنے بہت سے آدمی دوزخ میں کیونکرآن پڑے۔ اس لیے وہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–8

ف 2: جس طرح زندگی ایک ایجابی حقیقت کا نام ہے ۔ اسی طرح موت بھی صرف عناصر کا پریشان ہونا نہیں ۔ بلکہ ایک مثبت شئے ہے ۔ جو خدا کے قبضہ قدرت میں ہے ۔ اور ان دونوں حقیقتوں پر عالم کون و فساد کی بنیادیں استوار ہیں ۔ فرمایا ۔ کہ اس مقام حیات وممات کی غرض اور غایت یہ ہے ۔ کہ زندگی کو موت پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔ اور انسان اپنے حسن عمل سے یہ ثابت کردے ۔ کہ یہ اللہ کا نائب ہے ۔ اور شجروحجر کی طرح زندگی پسند نہیں کرتا ۔ اس کے بعد کارگاہ حکمت کی طرف انسانی ذہن کو متصف کیا ہے کہ اس میں تمام قسم کی ضروریات کو مہیا کردیا گیا ہے ۔ خواہ کتنا ہی باریک بین انسان ہو جب اس پر غور کریگا ۔ تو اس میں کوئی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(8) ایسا معلوم ہوتا ہوگا کہ وہ مارے غصے کے ابھی پھٹ پڑے گی جب بھی اس میں کافروں کا کوئی گروہ اور کوئی دل اور کوئی انبوہ جھونکا جائے گا تو دوزخ کی حفاظت کرنے والے اور دوزخ کے نگہبان فرشتے ان سے دریافت کریں گے اور سوال کریں گے کیا دنیا میں تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا پیغمبر نہیں آیا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ جب دین حق کے منکر جہنم میں ڈالے جائیں گے تو ایک ہیبت ناک اور سخت مکروہ آواز سنیں گے جو گدھے کی آواز جیسی ہوگی۔ شھیق گدھے کی آواز کو کہتے ہیں یعنی آواز خوفناک اور ناپسندیدہ ہوگی دوزخ جوش مار رہی ہوگی اور یہ معلوم ہوتا ہوگا کہ قریب ہے کہ دوزخ پھٹ پڑے، دوزخ کی یہ حالت یا تو بطور تمثیل بیان کی گئی ہے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس میں ڈالے جانے والوں سے محافظ جو سوال کریں گے ، اس کا ذکر 8 ؎ (تمیز) وہ پھٹ جائے ، وہ پھٹ پڑے تمیز سے جس کے معنی ایک دوسرے سے جدا ہونے اور پھٹ جانے کے ہیں۔ مضارع کا صیغہ واحد مونث غائب اصل میں یہ تتمیز تھا اور اس کی ایک تاء کو حذف کردیا گیا۔ قریب ہے کہ وہ غصہ سے پھٹ پڑے۔ یہ اس کی ہیئت اور ہیبت کا ذکر کیا جا رہا ہے اور فرمایا جب کبھی اس میں کسی گروہ کو لا کر ڈالا جائے گا تو اس کے دربان ہر گروہ اور ہر جماعت سے سوال کریں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں گیا تھا۔ اور ظاہر ہے کہ ایسے موقع پر جو اس طرح کا سوال پوچھا جاتا ہے تو وہ کسی لاعلمی کے لئے یا کسی لاعلمی کو دور کرنے کے لئے نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–14

وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُ‌جُومًا لِّلشَّيَاطِينِ (And We have decorated the nearest sky with lamps, and have made them devices to stone the devils, and We have prepared for them the punishment of Hell....67:5). The word 'masabih' (translated above as 'lamps' ) stands for 'stars'. The fact that the sky is decorated with stars does not necessarily imply that they should be studded with them inside or under the sky. The decoration is available also to the situation when the stars are far below the sky in space as modern research has proved it by…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

14 The real nature of this question will not be of a question that the keepers of Hell would like to ask them whether a warner from Allah had come to them or not, but the object would be to make them realize that no injustice had been done to them by casting them into Hell. They would try to make them confess that Allah had not kept them uninformed and unwarned: He had sent the Prophets to them; He had informed them of the truth and of the Right Way; He had warned them that if they followed a way other than the Right Way, it would lead them to Hell, in which they had been cast. But they had…

Read the full tafseer →