67. Surah Al-Mulk

الملكThe Sovereignty · 30 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 67:1

تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ Open ayah 67:1 in the Quran reader

وہ (خدا) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے بڑی برکت والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

” منزہ و برتر ہے وہ جس کے قبضہ میں (سب جہانوں کی) بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے “۔ تبرک یہ برکت سے تفاعل کے وزن پر ہے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے حضرت حسن بصری نے کہا : اس کا معنی تقدس ہے یعنی وہ پاک ہے (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ہمیشہ رہنے والا ہے پس وہ ایسا دائم ہے جس کے وجود کا اول نہیں اور اس کے دوام کا آخر نہیں۔ الذی بیدہ الملک دنیا و آخرت میں زمین و آسمان کی بادشاہی اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس کے قبضہ قدرت میں بادشاہی ہے، جسے چاہتا ہے عزت عطا فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت عطا فرماتا ہے، وہ زندگی عطا کرتا ہے، وہ موت عطا کرتا ہے، وہ غنی کرتا ہے، وہی فقر دیتا ہے، وہ عطا فرماتا ہے، وہی روک لیتا ہے۔ محمد بن اسحاق نے کہا : اسی کے قبضہ قدرت میں نبوت کی بادشاہی ہے جس کے ساتھ اتباع کرنے والوں کو عزت عطا فرماتا ہے اور مخالفت کرنے والوں کو ذلت دیتا ہے (2) ۔ وھو علی کل شی قدیر (1) وہ انعام کرنے اور انتقام لینے پر قادر ہے۔
Ayah 67:2

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ Open ayah 67:2 in the Quran reader

اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے اور وہ زبردست اور بخشنے والا ہے

اس میں دو مسئلے ہیں : موت اور حیات کی تخلیق کا معنی مسئلہ نمبر 1 ۔ الذی خلق الموت ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے تمہیں موت اور زندگی کے لئے پیدا کیا، یعنی دنیا میں موت کے لئے اور آخرت میں زندگی کے لئے پیدا کیا (3) ۔ موت کو زندگی پر مقدم کیا کیونکہ موت صفت قہر کے زیادہ قریب ہے جس طرح بنات کو بنین پر مقدم کیا فرمایا : یھب لمن یشاء اناثا (الشوریٰ :49) ایک قول یہ کیا گیا ہے : موت کو اس لئے مقدم کیا کیونکہ یہ زندگی سے پہلے ہے کیونکہ اشیاء ابتدا میں موت کے حکم میں تھیں جس طرح نطفہ، مٹی وغیرہ۔ قتادہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ ارشاد فرمایا کرتے تھے : ” اللہ تعالیٰ نے انسان کو موت کے ساتھ ذلیل کیا، دنیا کو زندگی کا گھر بنایا پھر موت کا گھر بنایا اور آخرت کو جزاء کا گھر پھر بقاء کا گھر بنایا “ (4) ۔ حضرت ابو دائود ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : لولا ثلاث ما طاطا ابن آدم رأسہ الفقر و المرض والموت وانہ مع ذلک لوثاب اگر تین چیزیں نہ ہوں تو انسان اپنا سر نہ جھکائے فقر، مرض اور موت اس کے باوجود وہ اچھلنے کودنے والا اور جلد باز ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ الموت والحیوۃ موت کو حیات پر مقدم کیا کیونکہ جو انسان موت کو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھتا ہے اسے عمل کی طرف دعوت میں یہ سب سے قوی داعی (سبب) ہے اسے مقدم کیا کیونکہ جس غرض کے لئے آیت چلائی گئی ہے وہ زیادہ اہم ہے۔ علماء نے کہا : موت سے مراد عدم محض اور خالص فنا نہیں جبکہ موت سے مراد روح کا بدن سے جو تعلق ہے اس کا انقطاع اور اس کی مفارقت ہے، دونوں میں کسی چیز کا حائل ہونا، ایک حال سے دوسرے حال میں بدل جانا اور ایک دار سے دوسرے دار میں منتقل ہونا ہے، جبکہ زندگی اس کے برعکس ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ، مکی اور مقاتل نے کہا : موت اور حیات دو جسم ہیں موت کو مینڈھے کی ایسی ہیئت میں بنایا گیا ہے جو کسی انسان کے پاس سے نہیں گزرتا اور کوئی اس کی ہوا نہیں پاتا مگر مر جاتا ہے، حیات کو ایسے گھوڑی کی صورت پر بنایا گیا ہے جو سیاہ وسفید رنگ والی ہے یہ وہی گھوڑی ہے جس پر حضرت جبریل امین اور انبیاء (علیہم السلام) سواری کیا کرتے تھے، اس کا ایک قدم حد نگاہ تک ہوتا ہے، جو گدھے سے بڑی اور خچر سے چھوٹی ہوتی ہے، یہ کسی چیز کے پاس سے نہیں گزرتی جو چیز اس کی ہوا پاتی ہے تو وہ زندہ ہوجاتی ہے، وہ کسی چیز کو نہیں روندتی مگر وہ ہر چیز زندہ ہوجاتی ہے، یہ وہی گھوڑی تھی جس کے قدم کے شان سے سامری نے کوئی چیز لی اسے بچھڑے پر ڈالا تو وہ زندہ ہوگیا، ثعلبی اور قشیری نے اسے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے۔ مادردی نے اسی کا معنی مقاتل اور کلبی سے نقل کیا ہے۔ میں کہتا ہوں : قرآن حکیم میں ہے قل یتوفکم ملک الموت الذی وکل بکم (السجدہ :11) ولو تری اذیتوفی الذین کفروا الملئکۃ (الانفال :50) توفتہ رسلنا (الانعام : 61) فرمایا اللہ یتوفی الانفس حین موتھا (الزمر : 42) واسطے فرشتے ہیں جو مکرم ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ان پر ہوں۔ حقیقت میں موت عطا کرنے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے۔ آخرت میں موت کو مینڈھے کی مثالی شکل دی جائے گی اور پل صراط پر اسے ذبح کردیا جائے گا جس طرح خبر صحیح میں واقع ہوا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے جو کچھ ذکر کیا گیا ہے وہ اس خبر صحیح کا محتاج ہے جو عذر کو ختم کر دے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ مقاتل سے یہ بھی مروی ہے : خلق الموت سے مراد ہے نطفہ، علقہ اور مضغہ کو پیدا کیا اور خلق الحیوۃ سے مراد ہے انسان کو پیدا فرمایا، اس میں روح پھونکی تو وہ انسان بن گیا۔ میں کہتا ہوں : یہ اچھا قول ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا فرمان : لیبلوکم ایکم احسن عملا دلالت کرتا ہے۔ سورة کہف میں اس بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ سدی نے ایکم احسن عملا کا معنی یہ ذکر کیا ہے اکثر بکم للموت ذکر او احسن استعدادا تم میں سے کون موت کو زیادہ کرتا ہے اور کون اس کے لئے زیادہ تیاری کرتا ہے ؟ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ معنی ہے کون زیادہ خوف رکھتا ہے اور کون زیادہ احتیاط برتتا ہے ؟ حضرت ابن عمر ؓ نے کہا : نبی کریم ﷺ نے سورت کے شروع احسن عملا تک آیات پڑھیں فرمایا : ” کون اللہ تعالیٰ کے محارم سے بچتا ہے (1) اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں جلدی کرتا ہے “۔ لیکن ایک قول یہ کیا گیا ہے : لیبلوکم کا معنی ہے تمہارے ساتھ ممتحن کا سا معاملہ کرے یعنی موت دے کر بندے کو آزماتا ہے تاکہ اس کے صبر کو واضح کرے اور حیات دے کر آزماتا ہے تاکہ اس کے شکر کو واضح کرے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے بعث اور جزا کے لئے موت کو پیدا کیا اور زندگی کو آزمانے کے لئے پیدا کیا۔ لیبلوکم میں لام خلق حیات کے متعلق ہے خلق موت کے متعلق نہیں، زجاج نے اسے ذکر کیا ہے۔ فراء اور زجاج نے یہ بھی کہا : بلوی، ای پر واقع نہیں ہوتا کیونکہ بلوی اور ای کے درمیان فعل مضمر ہے جس طرح تو کہتا ہے : بلوتکم لانظر ایکم اطوع اسی کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : سلھم ایھم بذلک زعیم (القلم) ان سے پوچھیں پھر دیکھیں۔ ایکم مبتدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے احسن اس کی خبر ہے معنی ہے تاکہ جانے یا دیکھے تم میں سے ازروئے عمل کے کون سب سے اچھا ہے ؟ و ھو العزیز الغفور جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے اس سے انتقام لینے میں غالب ہے اور جو توبہ کرے اس کو بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔
Ayah 67:3

الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ Open ayah 67:3 in the Quran reader

اس نے سات آسمان اوپر تلک بنائے (اے دیکھنے والے) کیا تو (خدا) رحمن کی آفرینش میں کچھ نقص دیکھتا ہے ؟ ذرا آنکھ اٹھا کر دیکھ بھلا تجھ کو آسمان میں کوئی شگاف نظر آتا ہے ؟

الذی خلق سبع سموت طباقا ان میں سے بعض بعض کے اوپر ہیں ان کی اطراف ملے ہوئے ہیں، حضرت ابن عباس ؓ سے اسی طرح مروی ہے۔ طباقاً یہ نعت کی صفت ہے مصدر کے ساتھ اس کی صفت لگائی گئی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مصدر ہے مطابقہ کے معنی میں ہے تقدیر کلام یہ ہوگی خلق سبع سموات وطبقھا تطبیقا او مطابقۃ یا تقدیر کلام یوں ہوگی طوبقت طباقا۔ سیبویہ نے کہا : طباقا منصوب ہے کیونکہ یہ مفعول ثانی ہے۔ میں کہتا ہوں : خلق، جعل اور صیئر کے معنی میں ہوگا۔ طباق، طبق کی جمع ہے جس طرح جمل کی جمع جمال ہوتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ طبقہ کی جمع ہے۔ ابان بن تغلب نے کہا : میں نے ایک بدو کو سنا جو کسی آدمی کی مذمت کر رہا تھا تو اس نے کہا : شرہ طباق وخیرہ غیر باق اس کا شر تہہ در تہہ رہے اور اس کی خیر باقی رہنے والی نہیں (1) ۔ قرآن کے علاوہ میں سبع سموات طباق پڑھنا بھی جائز ہے کیونکہ یہ سموت کی صفت ہوئی اس کی مثل قرآن حکیم میں بھی ہے وسبع سنبلت خضر (یوسف : 43) ماتری فی خلق الرحمن من تفوت حمزہ اور کسائی کی قرات من تفوت ہے الف نہیں وائو مشدد ہے (2) ، یہ حضرت ابن مسعود اور اس کے اصحاب کی قرات ہے باقی قراء نے من تفاوت پڑھا ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں جس طرح تعاھد اور تعھد، تحمل اور تحامل، تظھر اور تظاہر، تصغرا اور تصاغر، تضقف اور تضاعف، تبعد اور تباعد ہے دونوں کا معنی ایک ہے۔ ابو عبید نے من تفوت کی قرات کو اختیار کیا ہے اور حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر کی حدیث سے استدلال کیا : امثلی یتفوت علیہ فی بناتہ کیا مجھ جیسے آدمی کی عدم موجودگی میں اس کی بیٹیوں میں اس کی اجازت کے بغیر معاملہ کیا جاتا ہے۔ نحاس نے کہا : یہ امر ابو عبید پر رد کردیا جائے گا کیونکہ یتفوت کا معنی ہوتا ہے مشورہ کے بغیر کام کرنا۔ آیت میں تفوت کا لفظ مناسب ہے جس طرح تباین کہا جاتا ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے : فاوت الامر جب اس میں جدائی اور بعد میں پیدا ہوجائے یعنی ان میں سے بعض، بعض سے فوت ہوجائے۔ کیا تو نہیں دیکھتا کہ اس سے قبل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : الذی خلق سبع سموت طباقا معنی ہے آپ ﷺ رحمن کی تخلیق میں کوئی کجی، نقص اور تباین نہیں دیکھیں گے بلکہ یہ تقسیم ہیں، مستوی ہیں اور اس کے خالق ہونے پر دال ہیں اگرچہ ان کی صورتیں اور صفات مختلف ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد صرف آسمان ہیں یعنی آپ ﷺ آسمان کی تخلیق میں کوئی عیب نہیں دیکھیں گے۔ اس کی اصل فوت ہے مراد ہے کوئی چیز کسی چیز کو نہ پائے تو برابری میں کمی کی وجہ سے خلل واقع ہوجائے۔ اس پر حضرت ابن عباس ؓ کا قول دلالت کرتا ہے فرمایا : معنی ہے من تفرق ابو عبید نے کہا : تفوت الشی کا معنی ہے جب وہ چیز ناپید ہوجائے پھر حکم دیا کہ اس کی تخلیق میں تم غوروفکر کرو تاکہ تم اس سے عبرت حاصل کرو اور اس کی قدرت میں غوروفکر کرو تو فرمایا : فارجع البصر ھل تری من فطور۔ اپنی نظر کو آسمان کی طرف اٹھائو یہ جملہ بولا جاتا ہے : قلب البصر فی السماء اس نے آسمان کی طرف نظر کو اٹھایا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : اجھد بالنظر الی السمائ۔ معنی قریب قریب ہے۔ فارجع ارشاد فرمایا اور فاء کا ذکر کیا اس سے پہلے فعل مذکور نہیں کیونکہ فرمایا : ما تری معنی ہے دیکھئے پھر نظر کو لوٹائیے کیا آپ ﷺ کوئی کجی دیکھتے ہیں ؟ یہ قتادہ کا قول ہے۔ فطور کا معنی پھٹن ہے، یہ مجاہد اور ضحاک سے مروی ہے (1) ۔ قتادہ نے کہا : معنی ہے خلل یعنی نقص (2) ۔ سدی نے کہا : معنی ہے کوئی شگاف (3) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : معنی ہے کمزوری۔ یہ تفطر اور انفطار سے ماخوذ ہے جس کا معنی انشقاق ہے۔ شاعر نے کہا : بنی لکم بلا عمد سماء و زینھا فما فیھا فطور بغیر ستونوں کے تمہارے لئے آسمان بنایا اور اسے مزین کیا اس میں پھٹن نہیں۔ ایک اور شاعر نے کہا : شققت القلب ثم ذررت فیہ ھواک فلیم فالتام الفطور تو نے دل کو پھاڑا پھر تو نے اس میں اپنی محبت کا بیج بویا پھر اسے جوڑ دیا گیا تو شگاف مندمل ہوگیا۔
Ayah 67:4

ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ Open ayah 67:4 in the Quran reader

پھر دوبارہ (سہ بارہ) نظر کر تو نظر (ہر بار) تیرے پاس ناکام اور تھک کر لوٹے گی۔

ثم ارجع البصر کزتین، کرتین مفعول مطلق ہے کیونکہ اس کا معنی دو بار لوٹنا ہے۔ معنی یکے بعد دیگرے۔ دو دفعہ دیکھنے کا حکم دیا کیونکہ انسان جب کسی چیز کو ایک دفعہ دیکھتا ہے تو اس کا عیب نہیں پاتا جب تک دوسری دفعہ اسے نہ دیکھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی اگرچہ دو دفعہ دیکھا تب بھی کوئی عیب نہ پایا بلکہ دیکھنے کے ساتھ متحیر ہوگئے اسی وجہ سے فرمایا : ینقلب الیک البصر خاسا یعنی آنکھ لوٹے گی جھکی ہوئی درماندہ اور کوئی عیب پانے سے دور۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : خسأت القلب تو نے اسے دور کردیا اور دخا الکلب بنفسہ کتنا خود دور ہوگیا۔ یہ متعدی اور غیر متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے انخسأ الکلب یہ جملہ بھی بولا جاتا ہے : خسا البصر خساء خسوء اس کی آنکھ نہیں دیکھی، اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ینقلب الیک البصر خاسا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : خاسی اسے کہتے ہیں جو ایسی چیز نہ دیکھے جس کی وہ خواہش کرتا تھا۔ وھو حسیر۔ وہ تھکاوٹ میں انتہا کو پہنچ گئی۔ حسیر اسم فاعل کے معنی میں ہے یہ حسور سے مشتق ہے جس کا معنی نکلنا ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ حسرہ، بعد الشی سے اسم مفعول کے معنی میں ہو۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ کے قول کا معنی ہے، اسی معنی میں شاعر کا قول ہے : من مد طرفا ال ما فوق غایتہ ارتد خسان منہ الطرف قد حسرا جو آدمی اپنی حد سے اوپر نظر کرتا ہے اس کی آنکھ ناکام لوٹتی ہے جبکہ وہ سخت تھکی ہوتی ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : قد حسر بصرہ حسر حسورا یعنی وہ تھک گئی اور زیادہ عرصہ دیکھنے کی وجہ سے اس کی نظر میں انقطاع آیا اور جو اس کے مشابہ ہو۔ اس سے صفت کے صیغے حسیر اور محسور استعمال ہوتے ہیں شاعر نے کہا : نظرت الیھا بالمحصب من منی فعاد الی الطرف وھو حسیر میں نے اس کی طرف محصب سے دیکھا جو مٹی سے ہے، نظر میری طرف لوٹی جبکہ وہ تھکی ماندی تھی۔ ایک اور اونٹنی کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے : فشطرھا نظر العینین محسود اس اونٹنی کی جانب آنکھوں کی نظر تھکی ماندی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی نادم ہے۔ اس معنی میں شاعر کا قول ہے : ما انا الیوم علی شی خلا یا بنۃ القین تولی بحسر اے بنت قین ! میں آج ہاتھ سے نکل جانے والی چیز پر شرمندہ ہو کر پلٹنے والا نہیں کرتین سے مراد یہاں کثرت ہے اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ینقلب الیک البصر خاسا وھو حسیر۔ بار بار دیکھنے پر دلیل ہے۔
Ayahs 67:5–6

وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ Open ayah 67:5 in the Quran reader

اور ہم نے قریب کے آسمان کو (تاروں کے) چراغوں سے زینت دی اور ان کو شیطان کے مارنے کا آلہ بنایا اور ان کے لئے دہکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے

وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 67:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اپنے پروردگار سے انکار کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے

ولقد زینا السماء الدنیا بمصابیح، مصابیح، مصباح کی جمع ہے جس کا معنی چراغ ہے۔ ستاروں کو مصابیح کا نام دیا کیونکہ یہ بھی روشن ہوتے ہیں۔ وجعلنھا رجوما ھا ضمیر سے پہلے شھب کا لفظ مخدوف ہے اس کی دلیل الا من خطف الخطفۃ فاتبعہ شہاب ثاقب (الصافات) ہے۔ اس تاویل کی بنا پر مصابیح نہ زائل ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کے ساتھ رجم کیا جاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ضمیر مصابیح کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اس تاویل کی بنا پر رجم نفس کواکب سے و گا اور کو کب (ستارہ) خود ساقط نہیں ہوتا بلکہ اس سے ایک حصہ جدا ہوتا ہے جس کے ساتھ رجم کیا جاتا ہے نہ اس کی روشنی میں کمی آتی ہے اور نہ ہی اس کی صورت میں کمی واقع ہوتی ہے۔ ابو علی نے یہ بات اس کے قول کے جواب میں کہی جو یہ کہتا ہے : یہ زینت کیسے ہو سکتے ہیں جبکہ ان کے ساتھ رجم کیا جاتا ہے جو باقی ہی نہیں رہتے ؟ مہدوی نے کہا : یہ اس صورت میں ہوگا کہ اس کا اخذ کرنا کواکب کے موضع سے ہو تقدیر اول اس صورت میں ہوگی جب اخذ کرنا اس سے ہو جو کواکب کے موضع سے نیچے ہے۔ قشیری نے کہا : ابو علی کے قول سے زیادہ بہتر تو یہ ہے کہ ہم یہ کہیں : یہ آسمانوں کی زینت ہیں جبکہ ان کے ساتھ بھی شیاطین کو رجم نہ کیا جائے۔ رجوم، رجم کی جمع ہے یہ مصدر ہے اس کے ساتھ نام رکھا جاتا ہے اس چیز کا جس کے ساتھ رجم کیا جاتا ہے۔ قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے نجوم کے تین فائدے بنائے ہیں۔ (1) یہ آسمان کی زینت ہیں۔ (2) شیاطین کے لئے رجم ہیں۔ (3) ایسی علامات ہیں جن کے ساتھ خشکی، سمندر اور اوقات میں رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ جس نے ان تین مقاصد کے علاوہ کی تاویل کی ہے اس نے اس چیز کا تکلف کیا ہے جس کے بارے میں کوئی علم نہ ہو، اس نے حد سے تجاوز کیا اور ظلم کیا۔ محمد بن کعب نے کہا : اللہ کی قسم ! اہل زمین میں سے کسی کے لئے بھی آسمان میں کوئی ستارہ نہیں لیکن اہل زمین نے کہانت کو اس کی راہ بنا دیا اور انہوں نے ستارہ کو علت بنا دیا ہے۔ واعتدنا لھم عذاب السعیر۔ ہم نے شیاطین کے لئے شدید آگ تیار کر رکھی ہے، یہ جملہ بولا جاتا ہے، سعرت النار فھی مسعودرۃ سعیر جس طرح مقتولۃ اور قتیل کا لفظ ہے۔
Ayah 67:7

اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ Open ayah 67:7 in the Quran reader

جب وہ اس میں ڈالے جائیں کے تو اس کا چیخنا چلانا سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہوگی۔

اذا القوفیھا وائو ضمیر سے مراد کفار ہیں۔ سمعوالھا شھیقا شھیق سے مراد آواز ہے۔ حضرت ابن باس نے کہا : جب کفار کو جہنم میں پھینکا جائے گا اس وقت جہنم کی یہ آواز ہوگی (1) وہ ان کے لئے یوں آواز نکالے گی کہ ہر کوئی خوفزدہ ہوجائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب کفار کو جہنم میں پھینکا جائے گا اس وقت کفار کی یہ آواز ہوگی، یہ عطا کا قول ہے۔ شبیق سینے کی آواز کو کہتے ہیں اور زفیر حلق کی آواز کو کہتے ہیں۔ سورة ہود میں یہ بحث گزر چکی ہے وھی تفور وہ جوش مارے گی۔ حضرت حسان کا شعر ہے : ترکتم قدرکم لاشئی فیھا و قدر القوم حامیۃ تفور تم نے اپنی ہنڈیا کو یوں چھوڑا کہ اس میں کچھ بھی نہیں جبکہ قوم کی ہنڈیاں گرم ہے، جوش مار رہی ہے۔ مجاہد نے کہا : وہ ان کے ساتھ جوش مار رہی ہوگی جس طرح کثیر پانی میں تھوڑے دانے جوش مارتے ہیں (2) حضرت ابن عباس نے کہا : وہ ہنڈیا ان پر جوش مار رہی ہوگی جس میں وہ ہوں گے۔ یہ سخت غصہ کی وجہ سے آگ کے شعلہ کی شدت کا اظہار ہے جس طرح تو کہتا ہے : فلان یفور غیظاً وہ غصہ کی وجہ سے جوش مار رہا ہے۔
Ayahs 67:8–11

تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ Open ayah 67:8 in the Quran reader

گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغہ ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ہدایت کرنیولا نہیں آیا تھا ؟

قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ Open ayah 67:9 in the Quran reader

وہ کہیں گے کیوں نہیں ضرور ہدایت کرنے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور کہا کہ خدا نے تو کوئی چیز نازل ہی نہیں کی۔ تم تو بڑی غلطی میں (پڑے ہوئے) ہو۔

وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:10 in the Quran reader

اور کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو دوزخیوں میں نہ ہوتے

فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:11 in the Quran reader

پس وہ اپنے گناہوں کا اقرار کرلیں گے سو دوزخیوں کیلئے (رحمت خدا سے) دوری ہے

تکاد تمیز من الغیظ وہ ٹکڑے ہوجائے گی اور اس کا بعض، بعض سے جدا ہوگا، یہ سعید بن جبیر کا قول ہے (1) حضرت ابن عباس ضحاک اور ابن زید نے کہا : اللہ تعالیٰ کے دشمنوں پر شدت غیظ کی وجہ سے پھٹ جائے گی (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : من الغیظ کا معین جوش مارنا ہے۔ تمیز کی اصل تتمیز ہے کلمآ القی فیھا فوج فوج سے مراد کفار کی جماعت ہے۔ سالھم خزنتھآ جہنم کے داور غے تو بیخ اور قریع کے انداز میں ان سے سوال کریں گے۔ الم یاتکم نذیر۔ کیا تمہارے پاس دنیا میں کوئی رسول نہیں آیا جو تمہیں اس دن سے ڈراتا یہاں تک کہ تم احتیاط برتتے ؟ قالوا بلی قدجآء نا نذیر یعنی ہمارے پاس ڈرانے والا آیا، اس نے ہمیں ڈرایا اور خبردار کیا۔ فکذبنا و قلنا مانزل اللہ من شیء یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہاری زبانوں پر کچھ نازل نہیں کیا۔ ان انتم ضمیر سے مراد رسولوں کی جماعت ہے۔ الا فی ضلل کبیر۔ انہوں نے رسولوں کو جھٹلانے کا اعتراف کیا، پھر انہوں نے جہالت کا اعتراف کیا جبکہ وہ جہنم میں ہوں گے لو کنا نسمع کاش ہم رسولوں کی باتوں کو سنتے جو رسول لاتے تھے او نعقل یا ان سے حکمت کی باتوں کو سمجھتے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : کاش ! ہم ہدایت کی بات کو سنتے یا اسے سمجھتے یا ہم اس آدمی کے سننے کی طرح سنتے جو یاد رکھتا ہے اور غور و فکر کرتا ہے یا ہم اس آدمی کی طرح سمجھتے جو امتیاز رکھتا ہے اور غور و فکر کرتا ہے (3) یہ اس امر پر دال ہے کہ کافر کو کچھ بھی عقل نہیں دیا گیا۔ سورة طور میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ الحمد اللہ ماکنان فی اصحب السعیر۔ یعنی ہم جہنمی نہ ہوتے۔ حضرت ابوسعید خدرمی سے روایت مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” قیامت کے روز تاجر شرمندہ ہوں گے۔ کہیں گے : کاش ! ہم سنتے یا سمجھ بوجھ رکھتے تو ہم جہنمی نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : انہوں نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا۔ “ یعنی انہوں نے رسولوں کو جھٹلانے کے لئے جرم کا اعتراف کرلیا۔ یہاں ذنبا جمع کے معنی میں ہے کیونکہ اس میں فعل کا معنی پایا جات رہا ہے۔ یہ جملہ بوالا جاتا ہے : خرج عطاء الناس یعنی ان کے عطیات نکل گئے۔ فسحقالا صحب السعیر۔ اللہ تعالیٰ کی رحمحت سے انہیں دور کردیا گیا ہے۔ سعید بن جبیر اور ابو صالح نے کہا، یہ جہنم میں وادی ہے جسے سحق کہتے ہیں (1) کسائی اور ابو جعفر نے اسے فسحقا حاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے (2) یہ حضرت علی شیر خدا سے بھی مروی ہے۔ باقی قراء نے اسے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں جس طرح سحت اور رعب زجاج نے کہا : یہ مفعول مطلق ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے، تقدیر کلام یہ ہے اسحقھم اللہ سحقاً یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں دور کردیا۔ امراء القیس نے کہا ، وستسحقہ ریح الصبا کل مسحق بادصبا اسے دور کرتی ہے۔ ابوعلی نے کہا، قیاس تو یہ تھا کہ مصدر اسحاقا ہوتا تو مصدر حروف زائدہ کے حذف کے ساتھ آیا ہے جس طرح کہا گیا : وان اھلک فذالک کان قدری اگر میں ہلاک کیا جائوں تو یہی میری تقدیر ہوگی۔ محل استدلال قدری ہے جو اصل میں تقدیری تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان انتم الا فی ضلل کبیر۔ یہ جہنم کے داور غوں کا قول ہے جو وہ جہنمیوں کو کہیں گے۔
Ayah 67:12

اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 67:12 in the Quran reader

اور جو لوگ بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے۔

ان الذین یخشون ربھم اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : من خشی الرحمٰن بالغیب (ق : 33) اس بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں جو غیب ہے۔ یہ قیامت کے دن کا عذاب ہے۔ لھم مغفرۃ ان کے لئے ان گناہوں کی بخشش ہے اور واجر کبیر۔ اجر بکیر ہے۔ اجر کبیر سے مراد جنت ہے۔
Ayahs 67:13–14

وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 67:13 in the Quran reader

اور تم (لوگ) بات پوشیدہ کہو یا ظاہر وہ دل کے بھیدوں تک سے واقف ہے۔

اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ Open ayah 67:14 in the Quran reader

بھلا جس نے پیدا کیا وہ بیخبر ہے ؟ وہ تو پوشیدہ باتوں کا جاننے والا اور ہر چیز سے آٰگاہ ہے

واسروا قولکم اواجھروا بہ لفظ تو امر کا ہے معنی خبر کا دے رہا ہے یعنی اگر تم حضرت محمد ﷺ کے معاملہ میں اپنی کلام مخفی رکھو یا اسے ظاہر کرو۔ ان ہعلیم بذات الصدور۔ وہ ذات پاک تو دلوں میں موجود خیر و شرکو بھی جانتی ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، یہ آیت مشرکین کے حق میں نازل ہوئی جو نبی کریم ﷺ کے بارے میں باتیں کرتے تھے تو حضرت جبرئیل امین نبی کریم ﷺ کو اس بارے میں ب تا دیتے تھے تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا : آہستہ بات کرو تاکہ (حضرت) محمد ﷺ کا رب سن ہی نہ لے تو یہ آیت نازل ہوئی واسروا قولکم اوجھروابہ حضرت محمد ﷺ کے معاملہ میں آہستہ بات کرو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، تمام اقوال آہستہ سے کیا کرو یا اعلانیہ کیا کرو۔ انہ علیم بذات الصدور دلوں میں جو کچھ ہے اسے وہ جانتا ہے۔ بذات الصدور سے مراد مافی الصدور ہے جس طرح عورت کا بچہ جب جنین ہو تو اسے ذابطنھا کہتے ہیں۔ پھر فرمایا : الا یعلم من خلق وہ ذات پاک جس نے سر کو پیدا کیا۔ وہ سر کو نہیں جانتی۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : میں نے دل میں راز کو پیدا کیا ہے، کیا بندوں کے دلوں میں جو کچھ ہے میں اسے نہیں جانتا۔ علماء معافی نے کہا، اگر تو چاہے تو من سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات لے لے تو معنی یہ ہوگا کیا خالق اپنی مخلوق کو نہیں جانتا اگر چاہے تو تو اس سے مراد مخلوق لے لے یعنی اسے مفعول بہ بنا لے تو معنی ہوگیا اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو نہیں جانتا۔ ضروری ہے کہ خالق اسے جانتا ہو جس کو اس نے پیدا کیا ہے اور اسے جسے پیدا کرے گا۔ ابن مسیب نے کہا : اس اثناء میں کہ ایک آدمی رات کے وقت گھنے درختوں میں بیٹھا ہوا تھا، تیز ہوا چلی تو انسان کے دل میں خیال پیدا ہوا : بتائو کیا اللہ تعالیٰ ان گرنے والے پتوں کو جانتا ہے ؟ تو گھنے درخت جانب سے بڑی عظیم آواز آئی : کیا وہ ذات اپنی مخلوق کو نہیں جاتنی جبکہ وہ لطیف وخبیر ہے۔ استاذ ابو اسحاق اسفرائینی نے کہا، صفات ذات کے اسماء میں سے جو علم کے لئے استعمال ہوتے ہیں ان میں سے ایک علیم ہے اس کا معنی ہے جمع معلومات کو عام ہے۔ ان میں سے ایک خبیر ہے۔ یہ خاص ہے کہ جو چیز وقوع پذیر ہونے والی ہے اس کے واقع ہونے سے پہلے وہ باخبر ہے۔ ان میں سے ایک حکیم ہے۔ اس سے مراد وہ اوصاف کے حقائق کو جانتا ہے۔ ان میں سے ایک شھید ہے۔ یہ اس کے ساتھ خاص ہے کہ وہ غائب و حاضر کو جانتا ہے۔ اس کا معنی ہے اس سے کوئی شی غائب نہیں۔ ان میں سے ایک حافظ ہے۔ یہ اس کے ساتھ خاص ہے کہ وہ بھلوتا نہیں۔ ان میں سے ایک محصی ہے۔ یہ اس کے ساتھ خاص ہے کہ کثرت اسے علم سے غافل نہیں کرتی جس طرح نور کی روشنی، ہوا کا سخت ہونا، پتوں کا گرنا، اس اعتبار سے ہر پتے کی حرکت کے اجزاء کو ب ھی جانتا ہے۔ وہ کیسے نہ جانے جبکہ اسی نے پیدا کیا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : الایعلم من خلق، وھو اللطیف الخبیر۔
Ayah 67:15

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ Open ayah 67:15 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو نرم کیا تو اس کی راہوں میں چلو پھرو اور خدا کا (دیا ہوا) رزق کھاؤ اور (تم کو) اسی کے پاس (قبروں سے) نکل کر جانا ہے۔

ھو الذی جعل لکم الارض ذلولا یعنی نرم جس پر تم قرار پذیر ہوتے ہو۔ ذلول ایسے مطیع کو کہتے ہیں جو تیرے لئے نرمی کرتا ہے اس کا مصدر ذل ہے جس کا معین نرمی اور اطاعت کرنا ہے یعنی زمین کو ایسا نہیں بنایا کہ اس کی سختی کی وجہ سے اس میں چلنا ممکن نہ ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسے پہاڑوں کے ساتھ مضبوط کردیا تاکہ وہ اپنے مکینوں کے ساتھ جھک ہی نہ جائے۔ اگر یہ ایک طرف جھکنے والی ہوتی تو یہ ہمارے لئے مطیع نہ ہوتی۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : اس امر یک طرف اشارہ کیا ہے کہ اس میں کھیتی اگانا، درخت لگانا، چشموں کا پھوٹ پڑنا، نہریں نکالنا اور کنوئیں کھودنا ممکن ہے۔ فامشوا فی مناکبھا امراباحت کے لئے ہے اس میں احسان کرنے کا اظہار ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ خبر ہے جو امر کے لفظ کی صورت میں ہے یعنی تاکہ تم اس کی اطراف، اس کے چھوٹے پہاڑوں اور اس کے بڑے پہاڑوں پر چلو۔ حضرت ابن عباس قتادہ اور بشیر بن کعب نے کہا، فی مناکبھا سے مراد اس کے پہاڑ ہیں (1) روایت بیان کی جاتی ہے کہ حضرت بشیر بن کعب کی ایک لونڈی تھی۔ آپ نے اسے فرمایا، اگر تو مجھے بتا دے کہ زمین کے مناکب کیا ہیں تو تو آزاد ہے ؟ اس نے جواب دیا : زمین کے مناکب سے مراد اس کے پہاڑ ہیں تو وہ آزاد ہوگئی۔ حضرت بشیر بن کعب نے اس سے نکاح کا ارادہ کیا اور حضرت ابودرداء سے پوچھا، آپ نے فرمایا : جو تجھے شک میں ڈالے اور اسے چھوڑ دے اور اسے اپنا جو تجھے شک میں نہ ڈالے (٭) مجاہد نے کہا، اس کا معنی ہے اس کے اطراف، منکبا الرجل سے مراد بندے کی دونوں اطراف ہیں۔ مجاہد سے یہ بھی مروی ہے، اس کے راستوں اور تنگ راستوں میں، یہی سدی اور حضرت حسن بصری کا قول ہے۔ کلبی نے کہا، مراد اس کی اطراف ہیں (2) منکب کا اصل معنی جانب ہے اسی سے منکب الرجل ہے۔ انسان کا کندھا، اس سے ایک لفظ ریح نکباء ٹیڑھی چلنے والی ہوا ہے۔ تنکب فلان عن فلاں فلاں فلاں سے ایک طرف ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : جہاں تم چاہو تم چلو میں نے اسے تمہارے لئے مسخر کردیا ہے، اب یہ تمہارے مانع نہیں۔ قتادہ نے ابو جلد سے روایت نقل کی ہے زمین چوبیس ہزار فرسخ ہے۔ حبشیوں کے لئے بارہ ہزار فرسخ، رومیوں کے لئے آٹھ ہزار فرسخ، ایرانیوں کیلئے تین ہزار فرسخ اور عربوں کے لئے ایک ہزار فرسخ (3) وکلوا من رزقہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے جسے حلال کیا ہے اسے کھائو، یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس میں سے کھائو جو میں نے تمہیں دیا ہے۔ والیہ النشور۔ اس کی طرف لوٹنا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس کا معنی ہے وہ ذات جس نے آسمان کو کجی کے بغیر پیدا کیا اور زمین کو مطیع بنایا وہ تمہیں دوبارہ اٹھانے پر قادر ہے۔
Ayah 67:16

ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ Open ayah 67:16 in the Quran reader

کیا تم اس جو آسمان میں ہے بےخوف ہو کہ تم کو زمین میں دہنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے

حضرت ابن عباس نے کہا : کیا تم اس کے عذاب سے امن میں ہو جو آسمان میں ہے اگر تم اس کی نافرمانی کرو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تقدیر کلام یہ ہے امنتم من فی السماء قدرتہ و سلطانہ و عرشہ و مملکتہ یعنی کیا تم اس سے بےخوف ہوگئے جس کی قدرت، سلطان، عرش اور مملکت آسمان میں ہے۔ یہاں آسمان کو خاص کیا ہے جبکہ اس کی مملکت عام ہے۔ اس بات پر آگاہ کرنے کیلئے ہے الہ وہ ہے جس کی قدرت آسمانوں میں نافذ ہے نہ کہ وہ الہ ہے جس کی تم زمین میں عظمت بیان کرتے ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ملائکہ کی طرف اشارہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، جبرائیل امین کی طرف اشارہ ہے کیونکہ حضرت جبرائیل امین وہ فرشتہ ہے جس کے ذمہ عذاب دینا ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ احتمال موجود ہے کہ معنی ہو کیا تم بےخوف ہوگئے اس خالق سے جس نے پیدا کیا ہے ان چیزوں کو جو آسمان میں ہیں کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے جس طرح اس نے قارون کو زمین میں دھنسایا تھا۔ فاذا ھی تمور۔ یعنی وہ جائے گی اور آئے گی۔ مور کا معنی آنے اور جانے میں اضطراب ہے۔ شاعر نے کہا : رمین فاقصدن القلوب ولن تری دما ماترا الا جری فی الحیازم انہوں نحے تیر مارے اور انہوں نے دلوں کا قصد کیا تو ہرگز پھیلنے والے خون کو نہیں دیکھے گا مگر یہ کہ وہ سینے کے وسط میں چلتا ہے۔ حیازم یہ حیزوم کی جمع ہے۔ وہ سینہ کا وسط ہے جب انسان کو دھنسایا جاتا ہے تو زمین اس پر گھوم جاتی ہے۔ یہی مور ہے۔ محققین کہتے ہیں : کیا تم بےخوف ہو اس سے جو آسمانوں سے بھی اوپر ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فسیحوا فی الارض (التوبہ : 2) یعنی جو آسمان سے اوپر ہے اس کا خوف مس کرنے سے نہیں اور نہ ہی اسے مکان بنانے سے ہے بلکہ وہ اس پر غلبہ رکھتا ہے اور تدبیر فرماتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے امنتم من علی السماء جس طرح ولا وصلبنکم فی جذوع النخ (طہ : 71) فی، علی کے معنی میں ہے۔ اس کا معنی ہوگا اس کا مدبر اور اس کا مالک ہے جس طرح یہ جملہ بولا ا جاتا ہے : فلان علی العراق و العجاز یعنی فلاں عراق اور حجاز کا والی اور اس کا امیر ہے۔ اس باب میں اخبار بہت زیادہ ہیں، صحیح ہیں، مشہر و معروف ہیں، بلندی کی طرف اشارہ کرنے والیاں ہیں، ان کا انکار صرف ملحد یا معاند جاہل ہی کرسکتا ہے۔ ان سے مراد اللہ تعالیٰ کی عظمت اور پستی سے اس کی پاکی بیان کرنا ہے۔ اس کی علو اور عظمت کے ساتھ صفت یہ جہات اور حدود کے اعتبار سے نہیں کیونکہ یہ اجسام کی صفات ہیں۔ دعا کے موقع پر ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھایا جاتا ہے کیونکہ آسمان وحی کا محبط ہے، بارش وہاں سے نازل ہوتی ہے، پاکیزگی کا محل ہے اور پاکیزہ فرشتوں کا معدن ہے، بندوں کے اعمال اس کی طرف بلند کئے جاتے ہیں۔ آسمانوں سے اوپر اس کا عرش اور اس کی جنت ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو دعا اور نماز کا قبلہ بنا دیا ہے۔ ایک وجہ یہ ہے اللہ تعالیٰ نے امکنہ کو پیدا کیا ہے، وہ امکنہ کا محتاج نہیں، وہ مکان اور زبان کے پیدا کرنے سے پہلے ازل میں تھا، اس کا کوئی مکان اور زبان نہیں تھا، وہ اب بھی اسی طرح ہے جس طرح وہ پہلے تھا۔ قنبل نے ابن کثیر سے النشور، وامنتم پڑھا ہے۔ پہلے ہمزہ کو وائو اور دوسرے میں تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ کو فیوں، بصریوں اور اہل شام نے ابو عمرو اور ہشام کے علاوہ دونوں ہمزوں میں تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے باقی قراء نے اسے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 67:17

اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ Open ayah 67:17 in the Quran reader

کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے نڈر ہو کہ تم پر کنکر بھری ہوا چھوڑ دے سو تم عنقریب جان لو گے کہ میرا ڈرانا کیسا ہے

حاصباً یعنی آسمان سے پتھر برسائے جس طرح اس نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم اور اصحاب فیل پر پتھر برسائے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، ایسی ہوا بھیجے جس میں پتھر اور سنگریزے ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ایسا بادل بھیجے جس میں پ تھر ہوں۔ نذیر اندازی کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نذیر منذر کے معنی میں ہے۔ مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے تو تم عنقریب آپ ﷺ کی صداقت اور جھٹلانے کا انجام دیکھ لو گے۔
Ayah 67:18

وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 67:18 in the Quran reader

اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی جھٹلایا تھا سو (دیکھ لو کہ) میرا کیسا عذاب ہوا۔

نکیر بھی انکاری کے معنی میں ہے یعنی یائے متکلم محذوف ہے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ورش نے نذیری اور نکیری میں یاء کو صول میں ثابت رکھا ہے۔ یعقوب نے دونوں حالتوں میں ثابت رکھا ہے باقی قراء نے مصحف کی اتباع میں حذف کردیا ہے۔
Ayah 67:19

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ Open ayah 67:19 in the Quran reader

کیا انہوں نے اپنے سروں پر اڑتے جانوروں کو نہیں دیکھا جو پروں کو پھیلائے رہتے ہیں اور ان کو سکیٹر بھی لیتے ہیں ؟ خدا کے سوا انہیں کوئی تھام نہیں سکتا۔ بیشک وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے

اولم یروا الی الطیر فوقھم صفت جس طرح اللہ تعالیٰ نے زمین کو انسان کے لئے مسخر کیا ہے اس طرح پرندوں کے لئے ہوا کو مخسر کیا ہے صفت کا معنی باسات ہے یعنی وہ اڑنے کے وقت فضا میں اپنے پروں کو پھیلا لیتے ہیں کیونکہ جب وہ انہیں پھیلاتے تو، تو ادم (بڑے پر) کو صف درصف کرلیتے ہیں ویقضن انہیں پانے پہلوئوں سے مارتے ہیں۔ ابو جعفر نحاس نے کہا، پرندہ جب اپنے پروں کو پھیلائے تو اسے صافک ہتے ہیں اور جب انہیں ملا لے تو اسے قابضک ہتے ہیں کیونکہ اس وقت وہ پروں کو قبض کرلیتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنے پروں کو پھیلانے کے بعد قبض کرل یتے ہیں جب وہ اڑنے سے وقفہ کرتے ہیں۔ اس کا عطف صفت پر ہے۔ فعل مضارع کا عطف اسم فاعل پر ہے جب سرح اسم فاعل کا عطف فعل مضارع پر ہے۔ یقصد فی اسوقھا و جائر یہاں جائز کا عطف یقصد پر ہے۔ مایمسکھن الا الرحمٰن انہ بکل شیء بصیر۔ پرند جب فضا میں اڑ رہا ہو تو فضا میں اسے اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی نہیں روکتا۔
Ayah 67:20

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ Open ayah 67:20 in the Quran reader

بھلا ایسا کون ہے جو تمہاری فوج ہو کر خدا کے سوا تمہاری مدد کرسکے کافر تو دھوکے میں ہیں

حضرت ابن عباس نے جند کا معنی حزب اور منعۃ کیا ہے (1) یعنی ایسی جماعت جو تمہارا دفاع کرے گی۔ اللہ تعالیٰ جس کا تمہارے بارے میں ارادہ کرے گا۔ اگر تم اس کی نافرمانی کرو۔ لفظ جند واحد ہے اسی وجہ سے فرمایا : ھذا الذی ھوجندلکم یہ استفہام انکاری ہے یعنی تمہارے پاس کوئی لشکر نہیں جو تمہارا اللہ تعالیٰ کے عذاب سے دفاع کرے۔ دون، سوا کے معنی میں ہے۔ کافر شیطان کی جانب سے دھوکہ میں مبتلا ہیں۔ وہ انسان کو دھوکہ دیتا ہے کہ کوئی عذاب نہیں کوئی حساب نہیں۔
Ayah 67:21

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ Open ayah 67:21 in the Quran reader

بھلا اگر وہ اپنا رزق بند کرلے تو کون ہے جو تم کو رزق دے ؟ لیکن یہ سرکشی اور نفرت میں پھنسے ہوئے ہیں

کیا کوئی ایسی ہستی ہے جو تمہیں دنیا کے منافع عطا کرے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمہارے معبودوں میں سے کوئی ایسا ہے جو تم پر بارش نازل فرمائے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنا رزق روک لے بلکہ انہوں نیس رکشی کی اور سرکشی میں اور قح سے دور بھاگنے میں اصرار کیا۔
Ayah 67:22

اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 67:22 in the Quran reader

بھلا جو شخص چلتا ہوا منہ کے بل گرپڑتا ہے وہ سیدھے راستے پر ہے یا وہ جو سیدھے راستے پر برابر چل رہا ہو

افمن یمشی مکبا علی وجھۃ اللہ تعالیٰ نے مومن اور کافر کی مثال بیان فرمائی ہے مکباً وہ اپنے سر کو جھکائے ہوئے ہے وہ اپنے سامنے نہیں دیکھ سکتا نہ دائیں دیکھ سکتا ہے اور نہ بائیں دیکھ سکتا ہے۔ وہ لڑکھڑانے اور منہ کے بل گرنے سے امن میں نہیں ہوتا جس طرح وہ آدمی جو سیدھا اعتدال سے چلتا ہے جبکہ وہ سامنے، اپنی دائیں جانب اور اپنی بائیں جانب دیکھ رہا ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : یہ دنیا میں ہے۔ یہ جائز ہے کہ مراد اندھا ہو جو راستہ کی طرف ہدیات نہیں پاتا تو وہ بھٹک جاتا ہے وہ ہمیشہ منہ کے بل گرتا رہتا ہے۔ وہ اس آدمی کی طرح نہیں جو سیدھے قد والا، صحیح، دیکھنے والا ہے اور راستہ میں چلتا ہے اور ہدایت پاتا ہے۔ قتادہ نے کہا : مراد کافر ہے جو دنیا میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں پر منہ کے بل گرا رہتا ہے۔ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اسے منہ کے بل ہی گرائے گا۔ حضرت ابن عباس اور کلبی نے کہا، افمن یمشی مکبا علی وجھۃ سے مراد ابوجہل ہے اور الذی یمشی سویا سے مراد حضرت ابوبکر صدیق ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد حضرت حمزہ ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد حضرت عمار بن یاسر ہیں، یہ عکرمہ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ کافر و مومن کو عام ہے یعنی کافر نہیں جانتا کہ کیا وہ حق پر ہے یا باطل پر ہے یعنی کیا یہ کافر زیادہ حق پر ہے یا مسلمان حق پر ہے جو سدیھا اور اعتدلا کے ساتھ چلتا ہے جبکہ وہ راستہ بھی دیکھ رہا ہوتا ہے۔ علی صراط مستقیم۔ اس سے مراد سالام ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اکب باب افعال ہو تو لازم استعمال ہوتا ہے اور کب مجرد ہو تو متعدی اسعتمال ہوتا ہے جیسے کبہ اللہ لوجھہ۔
Ayah 67:23

قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 67:23 in the Quran reader

کہہ دو وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے (مگر) تم کم احسان مانتے ہو۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ ان لوگوں کو شرک کی قباحت سے آگاہ کریں جبکہ وہ یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہی انہیں پیدا کیا ہے۔ الافدۃ سے مراد دل ہیں۔ قلیلاً ما یہ لا کے معنی میں ہے یعنی تم ان نعمتوں کا شکر بجا نہیں لاتے اور تم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت بیان نہیں کرتے تو کہتا ہے : قلما افعل کذا یعنی میں اسے نہیں کرتا۔
Ayah 67:24

قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 67:24 in the Quran reader

کہہ دو وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا اور اسی کے روبرو تم جمع کئے جاؤ گے۔

ذرا کم فی الارض تمہیں زمین میں پیدا کیا، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمہیں اس میں پھیلا دیا اور اس پر تمہیں بکھیر دیا (2) یہ ابن شجرہ کا قول ہے۔ تمہیں اس کی بارگاہ میں جمع کیا جائے گا تاکہ ہر کسی کو اس کے عمل کا ب دلہ دے دیا جائے۔ وہ کہتے ہیں : یہ قیامت کب آئے گی ؟ یہ عذاب کب آئے گا جس کی تم ہمیں دھمکیاں دیتے ہوڈ یہ بات بطور استہزاء کہا کرتے تھے۔
Ayahs 67:25–26

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 67:25 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعید کب (پوری) ہوگی ؟

قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 67:26 in the Quran reader

کہہ دو کہ اس کا علم خدا ہی کو ہے اور میں تو کھول کھول کر ڈر سنا دینے والا ہوں۔

اے محمد ! ﷺ انہیں بتا دیجیے قیامت کے قائم ہونے کے وقت کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : قل انما علمھا عند ربی (الاعراف : 187) نذیر مبین۔ تمہیں ڈرانے والا اور تمہیں تعلیم دینے والا ہے۔
Ayah 67:27

فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ Open ayah 67:27 in the Quran reader

تو جب وہ دیکھ لیں گے کہ وہ (وعدہ) قریب آگیا تو کافروں کے منہ برے ہوجائیں گے اور (ان سے) کہا جائے گا کہ یہ وہی ہے جس کے تم خواستگار تھے۔

فلما را اوہ زلفۃ زلفۃ مصدر ہے جو مزدلفا کے معنی میں ہے جس کا معنی قریب ہے، یہ مجاہد کا قول ہے۔ حضرت حسن بصری نے ہا، اس کا معنی عیاں ہے۔ اکثر مفسرین نے کہا : معنی ہے جب وہ عذاب کو قریب دیکھیں گے۔ اس سے مراد آخرت کا عذاب ہے۔ مجاہد نے کہا : مراد بدر کا عذاب ہے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : جس حشر کا ان سے وعدہ کیا گیا اس کو قریب دیکھیں گے۔ اس پر تحشرون دلالت کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : جب وہ اپنے برے عمل کو قریب دیکھیں گے۔ سیئت وجوہ الذین کفروا کفار کے ساتھ برا معاملہ کیا جائے گا۔ زجاج نے کہا، ان کے چہروں میں طوء کو ظاہر کر دے گا اور ان کے چہروں پر ایسی نشانی ظاہر ہوگی جو ان کے کفر پر دلالت کرے گی جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : یوم تبیض وجوہ و تسودو جوہ (آل عمران : 106) نافع، ابن محیصن، ابن عامر اور کسائی نے ضمہ کے اشمام کے ساتھ سیئت پڑھا ہے باقی قراء نے اشمام کے بغیر خفت کو طلب کرتے ہوئے پڑھا ہے۔ جس نے ضمہ پڑھا اس نے اصل کو پیش نظر رکھا۔ وقیل ھذا الذی کنتم بہ تدعون۔ فراء نے کہا، تدعون یہ دعا سے تفتعلون کا وزن ہے، یہ اکثر علماء کا قول ہے یعنی تم تمنا کرتے ہو اور سوال کرتے ہو۔ حضرت ابن عباس نے کہا، تم جھوٹ بولتے ہو۔ اس کی تاویل ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کی وجہ سے تم اباطیل کا دعویٰ کیا کرتے تھے، یہ زجاج کا قول ہے۔ عام قرأت تدعون ہے۔ اس کی تاویل وہی ہے جو ہم نے ذکر کردی ہے۔ قتادہ، ابن ابی اسحاق، ضحاک اور یعقوب نے تدعون تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ قتادہ نے کہا : یہ ان کا یہ قول ہے ربنا عجل لنا قطنا (ص : 16) ضحاک نے کہا : وہ ان کا یہ قول ہے اللھم ان اکن ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السمآء (الانفال : 32) حضرت ابو العباس نے کہا : تدعون کا معنی ہے تم جلدی مچاتے ہو۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : دعوت بکذا۔ جب تو اسے طلب کرے۔ ادعیت یہ اسی سے باب افتعال ہے۔ نحاس نے کہا : تدعون اور تدعون دونوں کا ایک ہی معنی ہے جس طرح کہا جاتا ہے : قدر اور اقتدر، عدی اور اعتدی، مگر افتعل میں ایسا معنی ہے کہ ایک شی دوسری شی کے بعد واضح ہوتی ہے اور فعل، قلیل و کثیر پر واقع ہوتی ہے۔
Ayah 67:28

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 67:28 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر خدا مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر مہربانی کرے تو کون ہے جو کافروں کو دکھ دینے والے عذاب سے پناہ دے

اے محمد ﷺ انہیں کہہ دیجیے۔ مراد مشرکین مکہ ہیں۔ وہ حضرت محمد مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء کی موت کا انتظار کرتے تھے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ام یقولون شاعر نتربص بہ ریب المنون۔ (الطور) بتائو اگر ہمیں متو آجائے یا ہم پر رحم کیا جائے اور ہماری موت کے وقت کو موخر کردیا جائے تو تمہیں عذاب الیم سے کون پناہ دے گا تو تمہیں ہماری موت کے انتظار کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی قیامت کے وقوع کی جلدی کی ضروتر ہے۔ ابن محیصن، مسیب، شیبہ، اعمش اور حمزہ نے اھلکنی کی یاء کو ساکن کیا ہے، باقی قرء نے اسے فتحہ دیا ہے۔ تمام قراء نے کہا، ومن معی کی یاء کو فتحہ دیا ہے مگر اہل کوفہ نے اسے ساکن قرار دیا ہے۔ حفیص نے اسے دوسرے قراء کی طرح فتحہ دیا ہے۔
Ayah 67:29

قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 67:29 in the Quran reader

کہہ دو کہ وہ (جو خدائے) رحمن (ہے) ہم اسی پر ایمان لائے اور اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ تم کو جلد معلوم ہوجائیگا کہ صریح گمراہی میں کون پڑ رہا تھا

کسائی نے تعلمون کو یائ کے ساتھ پڑھا ہے (1) اور اسے علی سے روایت کیا ہے باقی قراء نے خطاب کے صیغہ کے طور پر پر تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ ان کو دھمکانا ہے۔ یہ سوال کیا جاتا ہے : امنا کے مفعول بہ کو موخر کیا گیا اور توکلنا کے مفعول کو مقدم کیا گیا ؟ تو اس کا جواب دیا جائے گا : کافروں کے ذکر کے بعد جب اس کو ذکر کیا تو کفار سے اشارۃ بات کی گی گویا کہا گیا ہم ایمان لائے اور ہم نے کفر نہیں کیا جس طرح تم نے کفر کیا۔ پھر فرمایا، وعلیہ توکلنا خصوصاً ہم ان چیزوں پر بھروسہ نہیں رکھتے جن پر تم بھروسہ رکھتے ہو جیسے اپنے مردوں اور اپنے اموال پر، یہ زمحرشی کا قول ہے (2) ۔
Ayah 67:30

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠ Open ayah 67:30 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر تمہارا پانی (جو تم پیتے ہو اور برتتے ہو) خشک ہوجائے تو (خدا کے سوا) کون ہے جو تمہارے لیے شیریں پانی کا چشمہ بہا لائے

قل ارئیتم اے قریش کی جماعت ! ان صبح مآء کم غوراً زمین میں دور چلا جائے ڈول اس تک نہ پہنچ سکیں۔ ان کا پانی دو چشموں سے حاصل ہوتا تھا۔ بر زمزم اور بئر میمون۔ فمن یاتیکم بمآء معین۔ معین کا معنی جاری ہے، یہ قتادہ اور ضحاک کا قول ہے۔ ان کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ کہیں : اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی لانے والا نہیں، تو فرمایئیے : تم اس کے ساتھ ایسی کیوں شریک ٹھہراتے ہو جو تمہارے لئے پانی لانے والا بھی نہیں۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : غار الماء یغور غورا پانی کا دور چلا جانا، غور، غائر کے معنی میں ہے۔ مبالغہ کے لئے مصدر کے ساتھ صفت ذکر کی گئی ہے جس طرح تو کہتا ہے : رجل عدل و رضا سورة کہف میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ سورة مومنون میں بھی یہ بحث گزر چکی ہے۔ الحمد للہ۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ماء معین کا معنی ہے ظاہر پانی جسے آنکھیں دیکھ سکیں (3) یہ مفعول کا وزن ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ معن الماء سے مشتق ہے یعنی زیادہ ہوجانا اس وقت فعیل کا وزن ہوگا۔ حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے : معنی ہے کون میٹھا پانی لائے گا ؟ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔