67. Surah Al-Mulk

الملكThe Sovereignty · 30 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 67:1–2

تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ Open ayah 67:1 in the Quran reader

بڑی برکت والا ہے وہ خدا جس کے ہاتھ میں سارے جہان کی بادشاہت ہے اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ Open ayah 67:2 in the Quran reader

جس نے موت اور زندگی دونوں کو اس لئے پیدا کیا کہ تم کو آزما کر دیکھے کون تم میں اچھے کام کرتا ہے اور کون برے2 اور وہ زبردست ہے بخشنے والاف 3

ف 2 یعنی موت اور زندگی کا یہ سلسلہ جو دنیا میں چل رہا ہے اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ ہے اور اس سے مقصود یہ ہے کہ آدمی کے اعمال کا امتحان لیا جائے اور ایمان و اطاعت کے بعد یہ دیکھا جائے کہ کمال احسان کا درجہ کس میں پایا جاتا ہے اگر عمل اچھے ہوں گے تو آخرت میں ان کا اچھا اجر پائے گا اور اگر برے ہوں گے تو آخرت میں برا بدلہ پائے گا۔ موت و حیاۃ کا یہ سلسلہ بےمقصد نہیں ہے بلکہ آخروی شاہ صاحب لکھتے ہیں :” اگر مرنا نہ ہوتا تو بھلے برے کام کا بدلہ کہاں ملتا۔ “ (موضح)3 زبردست ہے یعنی اسے کوئی دوسرا اپنا فیصلہ نافذ کرنے سے نہیں روک سکتا اور بخشنے والا ہے یعنی جو شخص توبہ کرے اور اس کی طرف متوجہ ہو وہ اسے دوزخ سے بچا کر جنت میں داخل کرنے والا ہے۔
Ayah 67:3

الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ Open ayah 67:3 in the Quran reader

جس نے تہ بہ تہ سات آسمان بنائے4 اے پیغمبر تو اللہ کی پیدائش میں کچھ خلل نہیں پاتا5 تو پھر دوبارہ دیکھک6 آسمان میں کوئی دڑاڑ معلوم ہوئی ہے کہیں پھٹا ٹوٹا ہے

ف 4 یعنی انہیں ایک دوسرے کے اوپر بنایا۔ معراج کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر دو آسمانوں یک درمیان پانچ سو برس کی مسافت ہے۔ (ابن کثیر)5 یعنی تمام خلوق حکمت اور کاریگری سے بنائی ہے جس پر بھی غور کرو گے وہ یکساں طور پر اپنے بنانے والے پر گواہی دے گی۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں ” تفاوت “ (فرق) یہ کہ جیسا چاہیے ویسا نہ ہو۔ “6 ” مراد اس سے بار بار نظر کرنا ہے۔ “ یعنی ایک دفعہ دیکھنے سے معلوم نہ ہو تو دوبارہ دیکھو۔ یہ ہر اس شخص سے خطاب ہے جو دیکھنے اور غور و فکر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
Ayah 67:4

ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ Open ayah 67:4 in the Quran reader

پھر بار بار دیکھ ہوگا یہ کہ تیری نگاہ آخر) کھسیانی ہو کر تھک کر تیری طرف الٹ آئے گی7

ف 7 یعنی دیکھتے دیکھتے نگاہ تھک جائے گی لیکن آسمان ( اور اسی طرح دوسری مخلوق) میں کوئی عیب نظر نہ آئے گا۔
Ayah 67:5

وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ Open ayah 67:5 in the Quran reader

اور ہم نے نزدیک والے (بعضے پہلے) آسمان کو چراغ سے ستاروں سے جو بن دی سجایا اور ان چراغوں کو شیطانوں کے لئے مار بھی بنایا8 آخرت میں ان شیاطانوں کے لئے ہم نے دوزخ کا عذاب تیار کر رکھا ہے9

ف 8 یعنی ان سے شعلے نکلتے ہیں جو شیطانوں پر پھینکے جاتے ہیں تاکہ وہ آسمان میں ” ملاء اعلیٰ “ کی گفتگو سن کر غیب سے متعلق کوئی بات اچک نہ سکیں۔ یہ آسمان میں ستاروں کا دوسرا فائدہ ہے۔ (دیکھیے صافات 7) واضح رہے کہ مصابیح مصباح کی جمع ہے اور اس سے مراد روش ستارے ہیں عام اس سے کہ وہ سیارے ہوں یا ثوابت کیونکہ سب اپنے افلاک اور مجاری میں ہیں۔ سلف کے ہاں معروف یہ ہے کہ سماء اور فلک ایک نہیں ہیں ان کو ایک کہنا صرف ان لوگوں کا قول ہے جنہوں نے متقدمین فلاسفہ اور شریعت کے نظریات کو مع کرنے کی کوشش کی یہ۔9 یعنی آخرت میں انہیں (شیاطین) کو دوزخ کا عذاب دیا جائے گا۔
Ayahs 67:6–7

وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 67:6 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے مالک کو نہیں مانتے ان کے لئے بھی دوزخ کا عذاب ہونا ہے اور وہ بری جگہ ہے

اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ Open ayah 67:7 in the Quran reader

جب یہ لوگ اس میں جھونکے جائیں گے تو گدھے کی سی آواز سنیں گے10 اور وہ ایسی بھڑک رہی ہوگی

ف 10 گدھے کی آواز کافروں کو جب دوزخ میں جھونکا جائیگا تو وہ اس میں سے ایسی آواز سنیں گے۔
Ayah 67:8

تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ Open ayah 67:8 in the Quran reader

گویا اب جوش کے مارے کوئی دم پھٹ پڑتی ہے جب کافروں کا ایک گروہ اس میں جھونکا جائے گا تو وہاں کے داروغہ فرشتے ان سے پوچھیں گے کیا دنیا میں کوئی ڈرانے والا پیغمبر تمہارے پاس نہیں آیا تھا11

ف 11” جس نے تمہیں اس دن آنے سے خبر دار کیا ہو۔
Ayah 67:9

قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ Open ayah 67:9 in the Quran reader

وہ تمہیں گے کیوں نہیں ڈرنیوالا پیغمبر تو ہمارے پاس آیا تھا پر ہم نے جھٹلایا اور کہنے لگے اللہ تم نے تو کچھ نہیں اتارا تم بہت بہک گئے ہو بس یہی بات ہے12

“12 یعنی تم اور تمہارے پیرو سب گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔ اللہ نے تم پر کوئی کتاب نازل نہیں کی اور نہ تمہیں بندوں تک پہنچانے کے لئے کوئی پیغام دیا۔
Ayahs 67:10–11

وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:10 in the Quran reader

اور یہ بھی کہیں گے اگر پیغمبروں کا کہنا سنتے یا اپنی عقل سے سمجھتے اللہ تم کو دلیلوں سے پہچان لیتے تو آج ہم دوزخیوں میں نہ ہوتے

فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:11 in the Quran reader

تو دوزخی اپنی خطا کو مان لیں گے دوزخیوں پر اللہ تعالیٰ کی پھٹکار1

ف 1 سحق (پھٹکار) سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ” سخق “ دوزخ کی ایک وادی کا نام ہے واللہ اعلم (شواکفی)
Ayah 67:12

اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 67:12 in the Quran reader

بیشک جو جو لوگ بن دیکھے اپنے مالک سے ڈرتے ہیں2 ان کے لئے آخرت میں گناہوں کی بخشش ہے بڑا نیک بہشت )

ف 2 ” بن دیکھے “ سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے اور نہ اس کے عذاب کو محض انبیاء کی تصدیق کرتے ہوئے وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بالغیب کا دوسرا ترجمہ ” تنہائی میں بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ صحیحین کی حدیثت ’ دسبعتہ بظلھم اللہ فی ظلہ “ میں ساتواں وہ شخص شمار کیا ہے جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ “ (ابن کثیر)
Ayahs 67:13–14

وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 67:13 in the Quran reader

اور لوگو تم اپنی بات چپکے سے کہو یا پکار کر کہو وہ تو دلوں تک کے خیال جانتا ہے

اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ Open ayah 67:14 in the Quran reader

بھلا یہ کیوں کر ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تم اپنی بنائی چیزوں کو3 نہ جانے اور وہ تو بڑا باریک بنی تعبردار ہے

ف 3 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” جس نے پیدا کیا کیا وہ جانتا نہیں ہے ؟ “ پہلا صحیحہ ” من “ کو مفعول اور دوسرا ترجمہ فاعل ماننے کی صورت میں ہے۔
Ayah 67:15

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ Open ayah 67:15 in the Quran reader

وہی خدا تو ہے جس نے زمین کو تمہارے چلنے پھرنے کے لئے4 ملائم نرم ہموار کردیا اس5 اس کے رستوں میں چلتے پھرتے رہو5 اور اس کی دی ہوئی روزی مزے سے کھائو6 اور اسی کے پاس تم کو مرے بعد جی اٹھ کر جانا ہے

ف 4 ” ذلولا “ کے لفظی معنی ہیں ذلیل سخر اور تابعدار ملائم بنادیا ہے کہ تم جیسے چاہو اسے کھو دو ، اس میں راستے بنائو اور اس کی مٹی سے کچی اور پکی عمارتیں تعمیر کرو وغیرہ5 ” مناکب “ کے لفظی معنی ” کندھوں “ کے ہیں۔ مراد زمین کے راستے، اطراف اور پہاڑ ہیں۔ یعنی تین طرف چاہو سفر کرو، کسب و تجارت کے لئے چلو پھرو۔6 یعنی کھائو پیئو مگر آزادی سے نہیں بلکہ سمجھتے ہوئے کہ آخر کار تمہیں اپنے رب کے سامنے حاضر ہوتا ہے جو تم سے ایک ایک چیز کا حساب لے گا کہ اسے کن ذرائع سے حاصل کیا اور کہاں خرچ کیا ؟
Ayah 67:16

ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ Open ayah 67:16 in the Quran reader

کیا تم اس خدا سے بیڈ ہوگئے جو اسمان پر ہے وہ چاہے تو تم کو زمین میں دھنسا دے اور زمین ایک ہی ایکا جبکو مارنے لگے7

ف 7 یعنی بھونچال سے لرزنے لگے… پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات کا ذکر فرمایا تھا اور اس میں اپنی شان قہاریت کا اظہار کیا ہے … مطلب یہ ہے کہ زمین کوچہ تمہارے تابع کردی گئی ہے کہ تم جیسے چاہو اس میں تصرف کرسکو لیکن یاد رکھو کہ یہ اسی آسمان والے کی ملکیت ہے وہ چاہے تو تمہیں اس کے اندر دھنسا دے اور چاہے تو بھونچال سے لرزنے لگے۔ لہٰذا اس پر سرکش و خود مختار ہو کر نہیں بلکہ تابعداروں کی طرح ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرو۔
Ayah 67:17

اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ Open ayah 67:17 in the Quran reader

یا تم اس خدا سے ہیڈر ہوگئے جو آسمان پر ہے وہ چاہئیت و تم پر پتھرائو کی آندھی بھیجا8 یا تم پر پتھرائو کریتو ذرا اٹھو تب میں عذاب دیکھتے ہی تم جانل و گے میرا ڈرانا کیسا تھا9

ف 8 جیسا کہ اس نے قوم لوط اور اصحاب فیل پر پتھرائو کیا۔9 یعنی سچ تھا یا جھوٹ ؟ لیکن تمہارا اس وقت جاننا تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا، لہٰذا اس وقت جو مہلت تمہیں مل رہی ہے اس سے فائدہ اٹھائو اور توبہ کرو۔
Ayah 67:18

وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 67:18 in the Quran reader

اور ان سے یعنے مکہ کے کافروں سے پہلے جو کافر گذر چکے ہیں انہوں نے بھی ہمارے پیغمبروں کو جھٹلایا پھر میرا عذاب ان پر کیسا ہوا۔10

ف 10 ” نکیر “ (عذاب) دراصل اس انتقامی کارروائی کو کہتے ہیں جو کسی کے خلاف اس کے طرز عمل کو غلط اور ناپسندیدہ سمجھ کر کی جاتی ہے۔
Ayah 67:19

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ Open ayah 67:19 in the Quran reader

کیا انہوں نے اڑتے جانوروں کو نہیں دیکھا وہ ان کے اوپر پھیلانے ہوا میں پھرتے ہیں اور کبھی پر سمیٹ لیتے ہیں ان کو خدا کے سوا اور کون ہوا میں تھامے رہتا ہے بیشک وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے11

ف 11 یعنی اپنی کسی مخلوق سے بیخبر نہیں ہے۔
Ayah 67:20

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ Open ayah 67:20 in the Quran reader

بھلا اللہ کے سوا تمہارا کیا کوئی شکر ہے جو مصیبت کے وقت تمہاری مدد کرے گا12 کافر نرے دھوکے میں ہیں شیطان کے قریب میں آگئے ہیں13

ف 12 دوسرا یہ بھی ہے کہ وہ کون سا لشکر ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرسکتا اور اس کے عذاب سے تمہیں بچا سکتا ؟13 جو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بت اور جھوٹے معبود اللہ تعالیٰ کے مقابل ہمیں ان کی مدد کرسکیں گے اور اسی کے حضور سفارش کر کے انہیں اس کی پکڑ سے نجات دلا سکیں گے۔
Ayahs 67:21–22

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ Open ayah 67:21 in the Quran reader

بھلا اگر خدا پانی روزی اتارنا روک لے بارش موقوف کر دے تو تم کو کون روزی دے گا بات یہ ہے کہ کافر شرارت اور حق بات سے بھاگنے پر پڑے ہوئے ہیں

اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 67:22 in the Quran reader

بھلا جو کوئی اندھا ہو کر منہ کے بل چلے وہ راہ پائے گا یا جو سیدھا صاف سڑک پر جا رہا ہو1

ف 1 یہ مومن اور کافر کی مثال ہے۔ کافر باطل خیالات اور شرک کی تاریکیوں میں پھنسا ہوا ہے، جیسے کوئی اندھا ہو کر منہ کے بل چل رہا ہو۔ وہ بھلا صحیح راستہ پر کیسے چل سکتا ہے کہ اپنی مراد کو پہنچے۔ اس کے برعکس مومن توحید کی راہ پر سیدھا اتنا ہوا چل رہا ہے وہ یقینا اپنی منزل مقصود یعنی جنت تک پہنچے گا۔
Ayah 67:23

قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 67:23 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہہ دے اسی خدا نے تم کو پیدا کیا اور اسی نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنانے تم بہت کم اللہ کی نعمتوں کا شکر کرتے ہو2

ف 2 اللہ کی نعمتوں کا شکر یہی ہے کہ انہیں اس کی رضا مندی کے کاموں میں استعمال کیا جائے۔ کان کا شکریہ ہے کہ اس سے حق بات سنی جائے اور آنکھ کا شکریہ ہے کہ اس سے وہی چیز دیکھی جائے جس کے دیکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے یا اجازت دی ہے اور دل کا شکریہ ہے کہ اس میں وہی خیالات رکھے جائیں جو حق کے مطابق ہوں۔ یہی حال اللہ تعالیٰ کی دوسری نعمتوں کا ہے۔
Ayahs 67:24–25

قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 67:24 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہہ دے اسی خدا نے تم کو زمین میں پھیلایا آدمی کی نسل بڑھائی اور اسی کے پاس تم کو اکٹھا ہو کر قیامت کے دن جاتا ہے

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 67:25 in the Quran reader

اور یہ کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں اچھا خیر اگر تم سچے ہو تو بتلائو یہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا3

ف 3 یعنی از راہ مذاق کہتے ہیں کہ جس قیامت کی تم ہمیں دھمکی دیتے رہے ہو وہ کب آئے گی ؟
Ayah 67:26

قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 67:26 in the Quran reader

اے پیغمبر انکے جواب میں کہہ دے یہ تو خدا ہی جانتا ہے اور میں تو اور کچھ نہیں خدا کے عذاب سے ایک کھلا ڈرانے والا ہوں4

ف 4 یعنی وقت کی تعیین میں نہیں کرسکتا۔ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ میرا کام تو صرف یہ تھا کہ اس کے آنے سے پہلے تمہیں متنبہ کرتا سو میں نے تمہیں متنبہ کردیا۔ لہٰذا اب بھی وقت ہے کہ تم کفر و شرک کی روش سے باز آجائو اور توحید کی سیدھی راہ اختیار کرو تاکہ یقینی طور پر آنے والے درد ناک اور رسوا کن عذاب سے محفوظ رہ سکو۔
Ayah 67:27

فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ Open ayah 67:27 in the Quran reader

تو یہ لوگ جب قیامت کو اپنے پاس آن موجود دیکھیں گے اس وقت ہیبت کے مارے ان کافروں کے منہ بگڑ جائیں گے5 اور ان سے کہا جائے گا فرشتے کہیں گے یہی عذاب تو وہ6 بےجس کو تم دنیا میں مانگا کرتے تھے

ف 5 یعنی غم اور افسوس کے مارے روسیاہ ہوجائیں گے اور ان پر ہوائیاں اڑنے لگیں گی۔6 یعنی بار بار پیغمبر اور مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ بتائو یہ وعدہ کب پورا ہوگا
Ayah 67:28

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 67:28 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہ دے بتلائو تو یہی اللہ مجھ کو اور میرے ساتھ والوں مسلمانوں کو تباہ کر دے یا ہم پر رحم فرمانے7 پر کافروں کو تکلیف کے عذاب سے کون بچائے گا8

ف 7 یعنی بچا لے دونوں صورتوں میں ہمارا جو انجام ہونا ہے وہ ہوگا مگر …8 جو نہ صرف اس سے بچنے کی تدبیر نہیں کرتے بلکہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے پیغمبر اور مسلمان بچیں یا نہ بچیں کافروں کے متعلق تو یہ بات یقینی ہے کہ وہ اس سے بچنے والے نہیں ہیں لیکن وہ اتنے بدبخت ہیں کہ اپنی تو فکر نہیں کرتے پیغمبر اور مسلمانوں کے بارے میں انتظار کر رہے ہیں کہ ان پر عذاب کب آتا ہے ؟
Ayahs 67:29–30

قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 67:29 in the Quran reader

اے پیغمبر ان لوگوں سے کہ دے وہی خدا بڑا رحم کرنیوالا ہے ہم اس پر ایمان لائے اور اسی پر بھروسا ہے تم اب قریب میں جب عذاب اترے گا جان لو گے کھلی گمراہی میں تھا

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠ Open ayah 67:30 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کہ دے تم تو خدا کو نہیں ملتے بھلا بتلائو تو سہی اگر تمہاری پانی (جو دیتے ہوا اور پلاتے ہوندین کی شیر میں اتر جانے سے جذب ہوجاتے پھر خدا کے سوا کون ………… بہتا ہوا پانی لا کر دے9

ف 9 یعنی کوئی نہیں۔ تفسیر جلالین میں ہے کہ اس آیت کو پڑھنے اور سننے والے کو ” اللہ رب العلمین “ کہنا مستحب ہے۔ (وحیدی)