66. Surah At-Tahrim

التحريمThe Prohibition · 12 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 66:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ١ۚ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 66:1 in the Quran reader

اے پیغمبر اللہ نے جو چیز تجھ پر حلال کی تو اس کو اپنے اوپر حرام کیوں کرتا ہے تو اپنی بی بیوں کی خوشی چاتہا ہے5 اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے6

ف 5 حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرلینے کا مطلب یہ ہے کہ نبی ﷺ نے اسے عقیدہ حلال سمجھتے ہوئے عہد کرلیا تھا کہ آئندہ اسے اسعتمال نہ کروں گا۔ اس قسم کا عہد کسی امتی کے لئے تو جائز ہے مگر نبی کی شان اس سے بلند ہے کہ ایک حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کر کے امت کو تکلیف میں مبتلا کرے۔6 اس لئے اس نے آپ کی غلطی معاف فرما دی۔
Ayah 66:2

قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَیْمَانِكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 66:2 in the Quran reader

اللہ نے تمہارے لئے اے مسلمانو قسم کا اتار ڈالنا ٹھہرا دیا ہے7 اور اللہ تمہارا کام بنانے والا (سرپرست ہے) اور وہ خوب جانتا ہے حکمت والا

“7 یعنی اگر نامناسب چیز ہر قسم کھالو، تو اللہ تعالیٰ نے اس کا کافرہ مقرر کردیا۔ ( سورة مائدہ :89) تم اسے ادا کر کے اپنی قسم توڑ سکتے ہو۔ چناچہ حضرت عمر (یا حضرت ابن عباس) فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے کفارہ ادا کیا اور ماریہ سے تعلق قائم رکھا۔ (ابن کثیر بحوالہ نسائی) بعض لوگ (جیسے احناف) کہتے ہیں کہ محض کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلینا قسم ہے۔ لیکن آیت سے اس کی تائید نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر عتاب کیا اور پھر فرمایا :” قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم “ اور اس آیت کی شان نزول کے سلسلہ میں جو واقعات روایات میں مذکور ہیں ان میں واضحطور پر یہ مذکور ہے کہ آنحضرت نے پہلے ایک خبر کو اپنے اوپر حرام کیا اور پھر اس کی قسم کھائی معلوم ہوا کہ قسم سے کفارہ واجب ہوتا ہے نہ کہ محض حرام کرلینے سے۔ (شوکانی)
Ayah 66:3

وَ اِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِیْثًا١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِهٖ وَ اَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَیْهِ عَرَّفَ بَعْضَهٗ وَ اَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَهَا بِهٖ قَالَتْ مَنْ اَنْۢبَاَكَ هٰذَا١ؕ قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 66:3 in the Quran reader

اور جب پیغمبر نے اپنی ایک بی بی سے راز کی بات کہی8 اور کہا کہ کسی سے اس کا ذکر نہ کرنا پھر جب اس نے دوسری بی بی کو اس کی خبر کردی اور اللہ کے پیغمبر پر اس کا حال کھول دیا1 تو پیغمبر نے کچھ تو اس بی بی کو جتلایا جس نے راز فاش کردیا2 تھا) اور کچھ نہیں جتلا یا (چشم پوشی کی اس کی عزت رکھنے کو ض جب پیغمبر نے اس بی بی کو یہ جتلایا تو وہ کہین لگی تم کو یہ سب حال کس نے بتلایا پیغمبر نے کہا جاننے والے خبردار نے3

ف 8 مرا حضرت حفضہ ہیں۔ 1 یعنی حضرت عائشہ کو2 یعنی بذریعہ وحی بتادیا کہ اس نے دوسری بیوی سے یہ راز کی بات کہہ دی ہے۔
Ayah 66:4

اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا١ۚ وَ اِنْ تَظٰهَرَا عَلَیْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ Open ayah 66:4 in the Quran reader

اے پیغمبر کی دونوں بی بیو اگر تم اللہ کی درگاہ میں اس قصور سے تو بہ کرو تو تمہارے حق میں بہتر ہوگا) تمہارے دل جھک پڑے ہیں4 اور اگر تم دونوں ایک دوسرے کی مددگار بن کر پیغمبر پر زور ڈالنا چاہو گی تو یہ سمجھ رکھو کہ اللہ اور اور جبرائیل اور نیک مسلمان ہے (سب) پیغمبر کے حمایتی ہیں اور فرشتے الگ ان کے سوا مدد کو5 حاض رہیں

ف 3 یعنی اللہ تعالیٰنے4 یعنی تمہارے دل راہ اعتدال سے ہٹ کر ایک طرف جھک گئے ہیں۔5 ” لہٰذا تم اسے کوئی نقصان نہ پہنچا سکو گی۔
Ayah 66:5

عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ یُّبْدِلَهٗۤ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْكُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّ اَبْكَارًا Open ayah 66:5 in the Quran reader

اگر پیغمبر تم کو طلاق دیدے تو اس کا مالک عجب نہیں تمہارے بدلے تم سے بہتر بی بیاں اس کو عنایت فرمائے جو فرمانبردار ایماندار نماز گذار توبہ کرنے والیاں عاجزی کرنیوالیاں روزہ رکھنے والیاں بیاہی ہوئی اور کنواریاں ہوں6

“6 مطلب یہ ہے کہ اس خیال میں نہ رہو کہ پیغمبر (ﷺ) کو ہم سے بہتر بیویاں نہیں مل سکتیں ؟ اس لئے ہم جیسے چاہیں ان پر دبائو ڈال لیں۔
Ayah 66:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ Open ayah 66:6 in the Quran reader

مسلمانوں اپنی جانوں کو اور اپنے بال بچوں کو دوزخ کی آگ سے7 بچائو جس کے ایندھن آدمی ہیں اور پتھر وہاں ایسے فرشتے تعینات ہیں جو اکھڑ بےرحم ہیں8 اللہ جو ان کو حکم دے وہ نافرمانی نہیں کرتے

ف 7 یعنی نیک اعمال کرو اور گناہوں سے بچو اور اپنے گھر والوں کو بھی اس کی تلقین کرو تاکہ خود بھی جہنم سے بچو اور انہیں بھی بچائو۔8 یعنی کوئی دوزخی سے ان سے رحم کی درخواست کرے تو انہیں رحم نہیں آتا۔
Ayah 66:7

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 66:7 in the Quran reader

اور جو حکم ہوتا ہے وہ فوراً بجا لاتے ہیں کافرو اب آج کے دن9 بہانے مت بنائو جیسے کام تم (دنیا میں) کرتے رہے ان کا بدلہ پائو گے

ف 9 یہ خطاب کافروں سے قیامت کے روز اس وقت ہوگا جب دوزخ سامنے لائی جائے گی۔
Ayah 66:8

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا١ؕ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰهُ النَّبِیَّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۚ نُوْرُهُمْ یَسْعٰى بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَ اغْفِرْ لَنَا١ۚ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 66:8 in the Quran reader

مسلمانو اللہ کی درگاہ میں سچی توبہ کرو10 عجب نہیں تمہارا مالک توبہ کی وجہ سے تمہاری برائیاں تم پر سے اوتار دے (معاف کر دے) اور تم کو ان باغوں میں سے لے جائے جن کے تلے نہریں پڑی رہی ہیں۔ جس دن اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے شرمندہ رسوا نہ کریگا ان کے ایمان کا نور ان کے آگے آگے اور داہنی طرف دوڑتا جاتا ہوگا وہ یوں دعا کر رہے1 ہونگے مالک ہمارے ہمارے نور کو اخیر تک بہشت میں پہنچنے تک قائم رکھ اور ہم کو بخشدے بیشک تو سب کچھ کرسکتا ہے

ف 10 یعنی ایسی توبہ جو دل سے ہو اور اس کے بعد پھر گناہ کرنے کی نیت نہ ہو۔ علامہ نووی ریاض الصالحین میں لکھتے ہیں :” علماء کا کہنا ہے کہ ہر گناہ سے توبہ کرنا واجب ہے اگر وہ گناہ اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ہے تو توبہ کی قبولیت کے لئے تین شرطیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی گناہ سے باز آئے۔ دوسری یہ کہ اس پر پشیمان ہو اور تیسری یہ کہ پختہ ارداہ کرے کہ آئندہ کبھی اس کا ارتکاب نہ کرے گا اگر ان تین شرطوں میں سے ایک کی بھی کمی ہوئی تو توبہ سجی نہ ہوگی اور اگر اس گناہ کا تعلق کسی آدمی سے ہی تو اس کی قبولیت کے لئے ان شرطوں کے علاوہ چوتھی شرط یہ بھی ہے کہ وہ اس آدمی کے دبائے ہوئے حق سے دست بردار ہو۔ اگر وہ مال یا جائیداد ہے تو اسے واپس کرے اور مگر قابل حد کام کیا ہے تو اپنے اوپر حد جاری کرنے کا موقع دے یا اس سے معافی طلب کرے جس پر تہمت لگائی ہے۔ 1 یعنی اس وقت جب وہ پل صراط پر چل رہے ہوں گے۔ چناچہ اس کی رہنمائی میں وہ چل کر جنت میں داخل ہوں گے۔ (دیکھیے سورة حدیث آیت 12)
Ayah 66:9

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 66:9 in the Quran reader

اسے پیغمبر کافروں کے ساتھ تلوار سے اور منافقوں کے ساتھ زبان سے جہاد کرتا رہ اور ان سے سختی سے پیش آ (گھرک جھڑک کر2 اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے

ف 2 یعنی ان کے مقابلہ میں نرمی کا رویہ اختیار نہ کریں (دیکھیے سورة الفتح 29)
Ayah 66:10

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَتَ لُوْطٍ١ؕ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا وَّ قِیْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِیْنَ Open ayah 66:10 in the Quran reader

کافروں کو سجھانے کے لئے اللہ تعالیٰ نوح کی بی بی اور لوط کی بی بی کی مثال بیان کرتا ہے یہ دونوں عورتیں ہمارے دو نیک بندوں کے نکاح میں تھیں یعنی نوح اور لوط کے) پھر ان دونوں نے اپنے خاوندوں سے چوری کی3 تو ان کے خاوند خدا کے سامنے ان کے کچھ کام نہ آئے حالانکہ وہ پیغمبر تھے اور ان دو عورتوں کے لئے یہ حکم ہوا کہ دوزخ میں جانیوالوں کے ساتھ تم بھی دوزخ میں جائو4

ف 3 خیانت (چوری) سے مراد دینی خیانت ہے نہ کہ اخلاقی خیانت عکرمہ اور ضحاک کہتے ہیں کہ وہ کافر ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ حضرت نوح کی بیوی لوگوں سے کہا کرتی تھی کہ یہ (حضرت نوح) دیوانہ ہیں اور حضرت لوط کی بیوی قوم کو اپنے گھر آنے والے مہمانوں کی خبر دیا کرتی تھی۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ منافق تھیں الغرض اس پر اجماع ہے کہ کسی نبی کی بیوی نے بدکاری کا ارتکاب نہیں کیا۔ یہی چیز ان عاسکر کی ایک مرفوع روایت میں بھی آئی ہے۔ (شوکانی)4 اس مثال سے مقوصد کافروں کو یہ بتانا ہے کہ کفر کے ساتھ کوئی نیک کام نہیں آتی حتی کہ پیغمبر کی رشتہ داری بھی فاء نہیں دیتی۔ اس سے امہات المومنین (حضرت عائضہ و حفصہ) کو تنبیہ کرنا ہے۔ (شوکانی )
Ayah 66:11

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ١ۘ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَكَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 66:11 in the Quran reader

اور ایمانداروں کی تسلی کے لئے اللہ نے فرعون کی بی بی کی مثال دی جب اس نے یوں دعا کی مالک میرے میرے لئے بہشت میں ایک مکان بنا اور مجھ کو فرعون اور اس کے برے کاموں سے بچائے رکھ اور ظالم لوگوں سے نجات دے5

ف 5 ظالم لوگوں سے مراد اہل مصر یا قبطی ہیں۔ حضرت سلمان کہتے ہیں کہ فرعون کی بیوی کو دھوپ میں لٹا کر سزا دیتے تھے۔ جب وہ پلٹ جاتے تو فرشتے اپنے پروں سے سایہ کرتے، اس وقت وہ جنت میں اپنا گھر دیکھتی۔ (شوکانی)
Ayah 66:12

وَ مَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَ كُتُبِهٖ وَ كَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ۠ Open ayah 66:12 in the Quran reader

اور ایمانداروں کی تسلی کیلئے اللہ نے مریم کی مثال دی جو عمران کی بیٹی تھی اسنے اپنی عصمت بچائے رکھی (کسی مرد سے آلودہ نہیں ہوئیں) پھر ہم نے اپنی بنائی ہوئی روح اس میں پھونک دی6 اور اس نے اپنے مالک کے کلاموں اور کتابوں کو سچ مانا7 اور وہ ہمارے فرمانبردار بندوں میں سے تھی8

ف 6 جس سے ان کو حمل ہوگیا اور پھر حضرت عیسیٰ پیدا ہوئے۔7 یعنی ان فرشتوں کو سچ مانا جو پچھلے پیغمبروں پر اتریں بعض مفسرین کہتے ہیں کہ کلمات سے مراد حضرت جبرئیل کے یہ الفاظ ہیں ” الما انا رسول ربک نیز فرشتوں کے یہ الفاظ یا مریم ان اللہ اصطفاک آلایۃ8 دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” وہ شریف اور نیک خاندان میں سے تھی۔ “ صحیحین میں حضرت ابو موسیٰ شعری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ علیہ وسلم نی فرمایا : مردوں میں بہت سے کامل ہوئے ہیں لیکن عورتوں میں سے صرف چار کامل ہوئی ہیں اسٓیہ زوجہ فرعون مریم بنت عمران، خدیجہ بنت خویلد اور عائشہ کی فضیلت دوسری عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کے دوسرے کھانوں پر مسند احمد میں حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” جنت کی تمام عورتوں میں سے افضل چار ہیں خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد، مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم (شوکانی)