65. Surah At-Talaaq

الطلاقDivorce · 12 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 65:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ١ۚ لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰهَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا Open ayah 65:1 in the Quran reader

(اے پیغمبر) اور اس کی نعمت کے لوگو ) ( جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو ایسے وقت پر طلاق دو کہ ان کی عدت شروع ہوجائے1 اور عدت کا حساب کرتے رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا مالک ہے (عورتوں کو جھمیلے میں نہ ڈالو) ان کو ان کے گھروں سے جب تک وہ عدت میں رہیں) مت نکالو3 اور نہ وہ خود نکلیں مگر جب کھلم کھلا بدکاری کریں4 اور یہ اللہ کے مقرر کئے ہوئے حکم ہیں اور جو کوئی اللہ کے حکموں سے باہر ہوجائے اس نے اپنا آپ خراپا کیا (طلاق دینے والے) تجھے کیا معلوم اللہ اس کے بعد یعنی طلاق کے بعد کیا صورت نکالتا ہے5

ف 1 یعنی طہر کی حالت میں جس میں صحبت نہ کی ہو۔ یہ تشریح خود آنحضرت نے فرمائی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی۔ آنحضرت سخت خفا ہوئے اور رجوع کا حکم دیا اور فرمایا کہ اگر طلاق دینا چاہیت ہو تو اس اطہر کے بعد اگلے طہر میں دے سکتے ہو یہی وہ عدت ہے جس کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (شوکانی) احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حیض کے دنوں میں عورت کو طلاق تو ممنوع ہے ہاں اگر طلاق دے دی جائے تو نافذ ہوجائے گی۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے تمام راویوں نے بالاتفاق یہی روایت کیا ہے۔ (دار قطنی 427)2 یعنی وہ وقت یاد رکھو جب طلاق دی گی تاکہ عدت کا ٹھیک ٹھیک حساب لگایا جاسکے۔ سورة بقرہ (آیت 128) ؛ یہ عدت تین حیض ہے۔ (3) یعنی ان کے شوہروں کے گھروں سے جن میں انہیں طلاق دی گئی ہے۔4 تو انہیں بطور سزا گھروں سے نکالا جاسکتا ہے۔ کھلی بدکاری سے مراد زنا ہے اور بعض مفسرین کے بقول بدکاری اور بد زبانی بھی … حضرت ابن عمر فرمات یہیں کہ عورت کا عدت پوری ہونے سے پہلے بلا ضرورت نکلنا (بجائے خود) کھلی بدکاری ہے۔ (شوکانی)5 یعنی شاید آدمی کے دل میں عورت کی محبت آجائے اور وہ اپنے کئے پر یشمان ہو کر رجوع کرے۔ اس لئے عورت کو اس کے گھر میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ یہ حکم ہر اس عورت کے لئے ہے جس کو طلاق رجعی دی گئی ہو کیونکہ یہاں ” امرا “ سے مراد رجوع ہے اور تین طلاق کے بعد رجوع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ امام احمد بن جنبل اور سلف کی ایک جراعت کی یہی رائے ہے اور بعض احادیث ہیں اس کی تصریح بھی مذکور ہے۔ مگر یہ ہوسکتا ہے کہ یہ حکم عام ہو اور رجعیہ اور مضبوط دونوں کو شامل ہو۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں والرجعیۃ والمبوتہ فی ذلک سواء ھذا الحق حفظہ الرجل (شوکانی)
Ayah 65:2

فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّ اَشْهِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَ اَقِیْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ۬ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ Open ayah 65:2 in the Quran reader

پھر جب عورتیں اپنی عدت پوری ہونے پر آ لگیں تو یا تو (عدت ختم ہونے سے کچھ پہلے) ان کو سیدھی طرح رکھ لو (ان سے رجعت کرلو) یا سیدھی طرح ان کو رخصت کردوف 6 چپ رہو عدت گذر جانے دو ) اور طلاق دو یارجعت کو ہرحال میں دو بھلے آدمیوں کو گواہ بنادو7 اور (گو تم کو کوئی اپنائے تو) سیدھی سیدھی اللہ سے ڈر کر گواہی دینا ان باتوں سے اس شخص کو نصیحت ہوتی ہے جو اللہ اور پچھلے دن پر یقین رکھتا ہے (بےایمان کو یہ باتیں کچھ فائدہ نہیں دیتیں اور جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے اللہ ہر آفت میں اس کے لئے ایک راستہ نکال دیتا ہے

ف 6 مطلب یہ ہے کہ طلاق دو یا رجوع کرو بہرحال ان سے شرافت کا برتائو اور محض تنگ کرنے کی نیت سے رجوع نہ کرو۔7 مسند عبدالرزاق میں ہے کہ کسی نے حضرت عمران بن حصین سے کہا :” ایک شخص نے طلاق دی پھر رجوع کیا اور گواہ نہیں کیا۔ “ فرمایا :” اس نے برا کیا اس نے بدعث کے طریقہ سے طلاق دی اور غیر مضمون طریقہ سے رجوع کیا۔ اسے چاہیے کہ طلاق اور رجوع دونوں پر گواہ کرے اور اللہ سے استغفار کرے۔ بعض کے نزدیک یہ حکم استحباب پر محمول ہے تاکہ تہمت سے بچا جائے اور بعض نے کہا ہے کہ رجوع پر گواہ مقرر کرلینے واجب ہیں اور چھوڑنے پر مستحب امام شافعی اور احمد کا یہی مذہب ہے شوکانی
Ayah 65:3

وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ١ؕ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا Open ayah 65:3 in the Quran reader

اور اس کو وہاں سے روزی پہنچاتا ہے جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوتا8 اور جو کوئی اللہ پر بھروسا رکھے تو وہ اس کو بس ہے9 اللہ تو اپنا کام ضرور پورا کرنے والا ہے10 بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کا اندازہ ٹھہرا چکا ہے11

ف 8 اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کے متعدد اقوال ہیں۔ شعبی اور ضماک کہتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ جو شخص مسنون طریقہ سے طلاق دیتا ہے اللہ تعالیٰمدت میں رجوع کے لئے اس پر راستہ کھول دیتا ہے یا مصیبت میں صبر پر دوزخ سے بچ کر جنت میں داخل ہونے کا راستہ بنا دیتا ہے۔ اول کلبی کا ہے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ حرام کاموں سے بچنے کا راستہ نکال دیتا ہے وغیرہ آیت اپنے عموم کے اعتبار سے ان تمام اقوال کو شامل ہے۔ (شوکانی)9 حضرت عمر سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا اگر تم اللہ تعالیٰپر صحیح بھروسا کرو تو وہ تمہیں پرندوں کی طرح روزی دے جو صبح کو خالی پیٹ نکالتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر پلٹتے ہیں۔ (ترمذی)10 ینی کوئی بھروسا کرے یا نہ کرے بہرحالت قدیر کا نوشتہ پورا ہو کر رہے گا پھر توکل کا ثواب کیوں کھویا جائے۔11 یعنی خوشحالی ہو یا تنگدستی بہرحال اس کی ایک انتہا ہے۔
Ayah 65:4

وَ الّٰٓئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ١ۙ وَّ الّٰٓئِیْ لَمْ یَحِضْنَ١ؕ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ یُسْرًا Open ayah 65:4 in the Quran reader

مسلمانو تمہاری عورتوں میں سے جو (بوڑھی) حیف سے ناامید ہوگئی ہوں (ان کی مدت میں) اگر تم کو شبہ پڑے8 تو ان کی عدت تین مہینے ہیں اور13 (اسی طرح ان عورتوں کی) عدت جن کو چھٹپنے کی وجہ سے) حیض نہ آیا ہو اور پیٹ والی عورتوں کی خدمت14 یہ ہے کہ وہ اپنا بچہ جنیں1 اور جوئی کوئی اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کا کام آسانی سے نکال دیتا ہے

ف 12 یعنی تمہیں معلوم نہ ہو کہ ان کی عدت کیا ہے۔3 ۃ یعنی عام عورت کی عدت اگرچہ تین حیض ہے لیکن جس عورت کا حیض بڑھاپے کی وجہ سے موقف ہوگیا ہو یا اس کمسنی کی وجہ سے ابھی حفیض آنا شروع نہیں ہوا اس کی عدت تین ماہ ہے۔ واضح رہے کہ یہ عدت طلاق کی صورت میں ہے شوہر کے مرجانے کی صورت میں ہر عورت کی عدت چار ماہ دس دن ہوگی۔ (بشرطیکہ حاملہ نہ ہو) سورة بقرہ آیت 234)14 مراد احاملہ عورتیں ہیں چاہے انہیں طلاق ہو یا انکے شوہر کا انتقال ہو۔ 1 چاہے ایک منٹ کے بعد اور چاہے کتنی ہی طویل مدت کے بعد یہ چیز آیت کے الفاظ سے بھی ظاہر ہے اور صحیح احادیث میں بھی اس کی تصریح۔ شوکانی)
Ayahs 65:5–6

ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یُكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُعْظِمْ لَهٗۤ اَجْرًا Open ayah 65:5 in the Quran reader

یہ اللہ کا حکم ہے جو تم پر اوتارا اور جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے گناہ اس پر سے اوتار دیتا ہے اور اس کو بڑا نیگ (اجر) دیتا ہے

اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْهِنَّ حَتّٰى یَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ۚ وَ اْتَمِرُوْا بَیْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ١ۚ وَ اِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗۤ اُخْرٰىؕ Open ayah 65:6 in the Quran reader

(مسلمانو) جن عورتوں کو تم طلاق دو ان کو اپنے مقدور کے موافق جہاں تم رہتے ہو وہیں رکھو2 اور ان کو ستانے کے لئے تکلیف مت دو3 اور اگر وہ پیٹ سے ہوں تو عدت گذر نے تک حمل رکھنے تک ان کو خرچ دو4 پھر اگر وہ عورتیں جن کو طلاق دیا گیا تمہاری اولاد کو دودھ پلائیں تو ان کی دودھ پلائی کا حق ادا کرو اور دستور کے موافق یہ حق ٹھہرائو (خاوند اور جورو کی حیثیت کے موافق) اور اگر آپس میں ضدم ضدا کرو5 تو کوئی دوسری عورت اس کے بچے کو دوھ پلا دیگی6

ف 2 یعنی عدت گزرنے تک نہیں خچ اور رہنے کے لئے مکان دو مراد وہ عورتیں ہیں جنہیں رجعی لاق دی جائے۔ رہی وہ عورت جسے تین طلاقیں مل چکی ہوں تو اسے نہ خرچ دینا ضروری ہے اور نہ رہنے کے لئے مکان فاطمہ بنت قیس کی حدیث میں آنحضرت نے یہ تصریح کردی ہے کہ سکنی اور نفقہ اس عورت کے لئے ہے جسے رجی طلاق دی گی ہو اور جب تین طلاقیں دے دی گئی ہوں تو اس کے لئے کوئی نفقہ و سکنی نہیں ہے۔ وقدم ابن کثیر3 یعنی سکوتن اور خرچ کے معاملہ میں ان پر تنگی نہ کرو۔4 مطلقہ حاملہ عورت کے لئے تا وضع حمل نفقہ اور سکنی کے واجب ہونے پر تمام علماء کا اتفاق ہے بشرطیکہ اسے رجعی طلاق دی گئی ہو اور تین طلاق ہونے کی صورت میں بھی اکثر علماء کے نزدیک واجب ہے۔ اختلاف صرف اس حاملہ کے بارے میں ہے جس کے شوہر کا اتنقال ہوگیا ہو حضرت علی ابن عمر ابن مسعود شرجیح نخفی اور شعبی وغیرہ ہم کہتے ہیں کہ اس پر پورے سال میں سے خرچ کیا جائے گا اور حضرت ابن عباس، ابن الزبیر جابر بن عبد اللہ، ائمہ ثلاثہ (شافعی مالک اور ابوحن یفہ کہتے ہیں اس پر اس حصے میں سے خرچ کیا جائے گا جو اسے بطور ترکہ ملے گا۔ ولعلہ ھوالصحیح (شوکانی)5 یعنی عورت زیادہ اجرت مانگے اور مرد اتنی اجرت دینے کو تیار نہ ہو۔6 یعنی شوہر اپنے بچے کو کسی دوسری عورت سے دودھ پلوا لے۔ اس پر نہ یہ واجب ہے کہ بیوی کو اتنی اجرت ضرور ہے اور نہ یہ جائز ہے کہ جس اجرت پر چاہے بیوی کو دودھ پلانے پر مجبور کرے۔ شوکانی جتنی اجرت پر کوئی دوسری عورت دودھ پلانے کو تیار ہو وہ اگر بیوی کو بھی منظور ہو تو وہ دودھ پلائے گی کیونکہ اپنے بچے پر اس کا حق زیادہ ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 65:7

لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ١ؕ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْهِ رِزْقُهٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ١ؕ لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا١ؕ سَیَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا۠ Open ayah 65:7 in the Quran reader

جس شخص کو مقدور ہو وہ اپنے مقدور پھر خرچ کرے اور جس کی روزی تنگ ہو اس کو جتنا خدا نے دیا ہے اسی کے موافق خرچ کرے7 خدا نے جس کو جتنادیا ہے اتنی ہی تکلیف دیتا ہے8 تنگی کے بعد اللہ قریب میں فراغت دیگا9

ف 7 اگر اختلاف ہو تو قاضی اسلامی عدالت اس کا فیصلہ کر دے گا کہ خاوند کی آمدنی اور حیثیت کے لحاظ سے دودھ پلانے کا کیا خرچ دلایا جائے ؟ (وحیدی)8 اگر اختلاف ہو تو قاضی (اسلامی عدالت) اس کا فیصلہ کر دے گا کہ خاوند کی آمدنی اور حیثیت کے لحاظ سے دودھ پلانے کا کیا خرچہ دلایا جائے ؟ (وحیدی)9 یہ اللہ تعالیٰ کی طر سے وعدہ ہے کہ جو شخص اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے گا اسے تنگی کے بعد فراغت نصیب ہوگی۔
Ayah 65:8

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَ رُسُلِهٖ فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ عَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 65:8 in the Quran reader

اور کتنی بستیاں ایسی گذر چکی ہیں10 جنہوں نے یعنی وہاں کے رہنے والوں نے اپنے پروردگار اور اس کے پیغمبروں کے حکم کو نہ مانا سرکشی کی تو ہم نے سختی سے ان کا حساب لیا باز پرس کی اور ان کو بڑی آفت میں پھنسا دیا (بیماری قحط وغیرہ)

ف 10 اب تک اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام کا ذکر فرمایا تھا۔ یہاں سے بتایا جا رہا ہے کہ پچھلی جن بستیوں نے احکام الٰہی کی پروا نہ کرتے ہوئے سرکشی اختیار کی ان کا حشر کیا ہوا۔ اس سے مقصود مسلمانوں کو ان احکام کی اہمیت بتانا اور ان کی پابندی کی تلقین کرنا ہے۔
Ayahs 65:9–11

فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِهَا وَ كَانَ عَاقِبَةُ اَمْرِهَا خُسْرًا Open ayah 65:9 in the Quran reader

آخر انہوں نے اپنے اعمال کا وبال چکھا اور ان کے (برے) کام انجام یہ ہوا کہ تباہ ہوگئے

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ١ۛۖۚ۬ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۛ۫ؕ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكُمْ ذِكْرًاۙ Open ayah 65:10 in the Quran reader

ان لوگوں کے لئے اللہ نے قیامت کے دن سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ تو اے عقل والو اللہ سے ڈرو ایماندار لوگو اللہ نے تمہارے پاس قرآن بھیجا

رَّسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدْ اَحْسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزْقًا Open ayah 65:11 in the Quran reader

پیغمبر بھیجا (یا تمہارے سمجھانے کو پیغمبر بھیجا جو اللہ1 کی کھلی کھلی آیتیں تم کو پڑھ کر سناتا ہے اس لئے کہ جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے ان کو جہالت اور کفر کے اندھیروں سے کال کر ایمان اور نیک اعمال کی روشنی میں لائے اور جو لوگ اللہ پر ایمان لائیں گے اور اچھے کام کریں گے ان کو اللہ ایسے باغوں میں لے جائے گا جن کے تلے نہریں پڑی بہ رہی ہیں و ہمیشہ ان میں رہیں گے اللہ تعالیٰ نیان کو اچھی روزی دی2

ف 1 ذکر سے مراد قرآن ہے اور اگر ذاکر کے معنی میں لیا جائے تو اس سے مراد خود آنحضرت بھی ہوسکتے ہیں۔2 یعنی جنت میں انہیں فراخ روزی دی جو نہ کبھی فنا ہوگی اور نہ کم
Ayah 65:12

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ١ؕ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ١ۙ۬ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا۠ Open ayah 65:12 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور اتنی ہی یعنی سات زمینیں بنائیں3 ان ساتوں آسمانوں اور زمینوں میں اللہ کے حکم اترتے رہتے ہیں اس لئے کہ تم سمجھ لو اللہ تعالیٰ سب کچھ کرسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔4

ف 3 آسمانوں کی طرح زمینوں کے بھی سات ہونے کا صحیح احادیث میں واضح طور پر ذکر ہے۔ صحیح بخاری وغیرہ میں ایک دعائے ثورہ میں اللھم رب السموت السبع وما اظللن و رب الارضین السبع وما اقلن صحیح مسلم میں ہے کہ ” جو شخص ظلم سے ایک بالشت زمین چھینے گا۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اسے سات زمینوں کا طوق پہنائے گا۔ (شوکانی) ممکن ہے کہ سات زمینوں سے مراد چاند مریخ وغیرہ ہوں جنہیں ہم ستارے کہتے ہیں کیونکہ یہ بھی ہماری زمین کی طرح زمین ہیں اور موجودہ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ان میں پہاڑ، دریا اور آبادیاں ہیں۔ (واللہ اعلم)4 یہ سورة بالاتفاق مدنی ہے اور اس کا دوسرا نام سورة النبی بھی ہے۔ اس کی ابتدائی آیات دو واقعات کے سلسلے میں نازل ہوئیں۔ ایک یہ کہ آنحضرت حضرت زینب بنت حش کے ہاں جا کر دودھ اور شہد پیا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ اور حفضہ نے باہم طے کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس آنحضرت تشریف لائیں وہ آپ سے یہ کہے کہ مجھے آپ کے منہ عرفط (ایک قسم کا گوند) کی بو آتی ہے چناچہ حفصہ کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے آپ سے یہی بات کہی۔ آپ نے فرمایا ” نہیں میں نے تو زینب کے ہاں شہد پیا تھا۔ اب آئندہ سے یہ شہد نہ پیوں گا۔ (بخاری) دوسرا واقعہ یہ یان کیا جاتا ہے کہ آنحضرت کی ایک لونڈی تھی جس سے آپ سے یہی بات کہی۔ آپ نے فرمایا۔” نہیں۔ میں نے تو زینب کے ہاں شہد پیا تھا۔ اب آئندہ سے یہ شہد نہ پیوں گا۔ بخاری دوسرا واقعہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ آنحضرت کی ایک لونڈی تھی جس سے آپ صحبت فرماتے تھے حضرت عائشہ اور حفصہ نے زور دیا کہ اس سے آپ تعلق نہ رکھیں۔ ان کے مسلسل اصرار پر آپ نے اسے اپنے اوپر حرام کرلیا۔ یہ روایت سنن نسائی حاکم وغیرہ میں حضرت انس سے مروی ہے۔ دوسری روایت میں اس لونڈی کا نام ماریہ قبطیہ مذکور ہے اور ساتھ ہی آپ نے حفضہ کو تاکید کی کہ کسی دوسری بیوی سے اس کا ذکر نہ کرنا مگر انہوں نے حضرت عائشہ سے اس کا ذکر دیا۔ اس کی اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے آپ کو اطلاع دی۔ (شوکانی)