64. Surah At-Taghaabun

التغابنMutual Disillusion · 18 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 64:1

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 64:1 in the Quran reader

جتنی چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جتنی زمین میں سب اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کر رہی ہیں اسی کی (سارے جہاں میں) بادشاہت ہے اور اسی کو تعریف سجتی ہے6 اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے

ف 6 دنیا میں اگر کسی کو اتخیار اور تعریف حاصل ہے تو وہ اسی کا فیض اور عصیہ ہے۔
Ayah 64:2

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّ مِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 64:2 in the Quran reader

وہی خدا ہے جس نے تم سب کو پیدا کیا اب تم میں کوئی کافر ہوا کوئی مومن جیسا اس نے تقدیر7 میں لکھا تھا اور تمہارے (سب) کاموں کو دیکھ رہا ہے

ف 7 اللہ تعالیٰکا علم اور چیز اور ہے اور اس کی مرضی اور چیز کسی شخص کے متعلق اگر اس نے تقدیر میں یہ لکھا کہ وہ کافر ہوگا تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کی مرضی بھی یہ تھی کہ وہ کافر ہو۔ مرضی تو اس کی یہ تھی کہ تمام لوگ ایمان کا راستہ اتخیار کریں اور اسی لئے اس نے رسول بھیجے اور کتابیں نازل کیں لیکن اس کے ساتھ وہ چونکہ جبر کرنا نہیں چاہتا تھا اس لئے اس نے لوگوں کو ارادہ و اختیار کی آزادی دی کہ چاہے ایمان کا راستہ اختیار کریں اور چاہے کفر کا۔ اس آزادی سے غلط فائدہ اٹھا کر بعض لوگوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا۔ وہ اپنی مخلوق کے حال و مستقبل سے پوری طرح باخبر ہے۔
Ayah 64:3

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 64:3 in the Quran reader

اسی نے آسمان اور زمین حکمت (اور مصحت)8 سے بنائے اور تمہاری شکلیں بنئایں اور اچھی شکلیں بنائیں9 اور اسی کی طرف تم سب کو لوٹ جانا ہے1

ف 8 یعنی بامقصد پیدا کیا ہے تاکہ ابتلاء کے ذریعہ نیک و بد کو جزا و سزا دی جائے۔ نیز دیکھئے ( سورة روم : 8)9 یعنی اس نے اپنی تمام مخلوقات میں سے تمہاری شکل و صورت اور بناوٹ بہترین بنائی۔ دیکھنے میں بھی خوبصورت اور عقل و استعداد کے اعتبارے بھی سب سے ممتاز۔ 1 نہ کہ کی اور طرف لہٰذا ناگزیر ہے کہ تم اس کے حضور اپنے نیک اعمال کا نیک اور برے اعمال کا برا بدلہ پائو۔
Ayah 64:4

یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 64:4 in the Quran reader

جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے وہ (سب) جانتا ہے اور جو تم چھپاتے ہو اور جو کھولتے ہو اس کو بھی جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ تو دلوں تک کی بات جانتا ہے2

ف 2 مطلب یہ ہے کہ تمہارا کوئی بڑے سے بڑا اور چھوٹے سے چھوٹا عمل اللہ تعالیٰسے پوشیدہ نہیں ہے کہ اس کی سزا سے بچ سکو۔
Ayahs 64:5–6

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١٘ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 64:5 in the Quran reader

(لوگو) کیا تم کو اگلے کافروں کی خبر نہیں پہنچی انہوں نے برے کام کئے پھر اپنے کام کا وبال چکھا (دنیا میں مصیبت ہوئی اور آخرت میں الگ ان کو تکلیف کا عذاب ہوگا

ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالُوْۤا اَبَشَرٌ یَّهْدُوْنَنَا١٘ فَكَفَرُوْا وَ تَوَلَّوْا وَّ اسْتَغْنَى اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 64:6 in the Quran reader

اس کی وجہ یہ ہوئی کہ ان کے پیغمبر ان کے پاس نشانیاں لے کر آتے رہے اور یہ لوگ یوں کہتے رہے کیا (ہم جیسے) آدمی ہم کو راہ بتانے لگے3 آخر انہوں نے کسی طرح نہ مانا اور منہ پھیرلیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی کچھ پروا نہ کی کہ خوامخواہ وہ ایمان لائیں اور اللہ بےپرواہ ہے خوبیوں والاف 4

ف 3 یعنی اللہ تعالیٰ کو اگر ہماری رہنمائی مقصود تھی تو اسے چاہیے تھا کہ آسمان سے فرشتے بھیجتا نہ کہ ہم جیسے یہ آدمی گویا ان کے نزدیک کوئی پیغمبر بشر (آدمی) نہیں ہوسکتا تھا۔ اللہ تعالیٰنے متعدد ٓیات میں اس خیال کے باطل ہونے کے دلائل دیئے۔ دیکھئے سورة ابراہیم 10-10 سورة کہف 110 سورة مومنون 33 سورة شعراء 86 سورة یٰسین 154 یعنی وہ اپنی ذات میں تمام خوبیوں کا مالک ہے اسے کسی کی عبادت کی ضرورت نہیں ہے جو شخص اس کی عبادت کرتا ہے اپنے بھلے کے لئے کرتا ہے اور جو شخص اس کی بادت سے منہ موڑتا ہے وہ اپنا نقصا آپ کرتا ہے۔
Ayah 64:7

زَعَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ١ؕ وَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 64:7 in the Quran reader

کافر یہ گمان کرتے ہیں کہ ان کو مرنے کے بعد پھر جی اٹھنا نہیں ہے اے پیغمبر کہ دے کیوں نہیں قسم میرے مالک کی تم ضرور جلا کر اوٹھائے جائو گے پھر تم کو جو تم نے دنیا میں کیا اس کا بدلہ دیکر جتلا دیا جائیگا اور اللہ پر یہ بات کچھ مشکل نہیں آسان ہے5

ف 5 کیونکہ دوبارہ پیدا کرنا پہلی بار پیدا کرنے کی بنسبت آسان تر ہے اور کفار مکہ … جیسا کہ متعدد آیات سے معلوم ہوتا ہے۔ اس چیز کیقائل تھے کہ انسانوں کو پہلی بار اللہ تعالیٰنے پیدا کیا ہے … یہ تیسری آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو آخرت کے آنے پر قسم کھانے کا حکم دیا ہے۔ دیکھیے ( سورة یونس) سورة ساء 30)
Ayah 64:8

فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِیْۤ اَنْزَلْنَا١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 64:8 in the Quran reader

تو اللہ اور اس کے رسول اور نور (یعنی قرآن) پر جس کو ہم نے اوتارا ایمان لائو6 اور تم جو کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے

ف 6 قرآن کو نور (روشنی) اس لئے فرمایا گیا کہ اس کے ذریعہ آدمی کو کفر و ضلالت کے اندھیروں میں حق کی طرف رہنمائی ملتی ہے
Ayah 64:9

یَوْمَ یَجْمَعُكُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ یَوْمُ التَّغَابُنِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 64:9 in the Quran reader

(تم کو اس دن جتلایا جائیگا جس دن حشر کے روز تم سب کو جمع کرے گا یہیتو ہارجیت کا دن ہے7 اور جو کوئی اللہ تعالیٰ پر ایمانلائے اور اچھا کام کرے تو اللہ اس کی برائیاں اس پر سے اتارا دیگا8 اور اس کو ایسے باغوں میں لے جائیگا جن کے تلے نہریں پڑی بہہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے یہی تو بڑی کامیابی ہے

۔7 یعنی اس روز کافر ہاریں گے اور مومن جیتیں گے۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں :” ہ رآدمی کا ایک گھر ہے جنت میں ایک دوزخ میں، بہشت والوں نے اپنے بھی گھر لئے اور دوزخیوں کے بھی، دوزخی ہارے اور بہشتی جیتے (موضح)8 یعنی انہیں معاف فرما دے گا۔
Ayahs 64:10–11

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 64:10 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی لوگ دوزخی ہیں ہمیشہ دوزخ ہی میں رہیں گے اور وہ بری جگہ ہے

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 64:11 in the Quran reader

جو مصیبت آتی ہے وہ اللہ کے حکم ہی سے آتی ہے1 اور جو کوئی الہ پر ایمان رکھتا ہوگا اللہ (مصیبت میں بھی اس کا دل ٹھکانے رکھے گا2 اور اللہ سب کچھ جانتا ہے3

ف 1 یعنی اس کے ارداہ اور مشیت سے آتی ہے کیونکہ اس کے ارادہ مشیت کے بغیر کوئی چیز واقع نہیں ہوسکتی … کہتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب کافروں نے کہا کہ اگر مسلمانوں کو دین سچا ہوتا تو ان پر دنیا کی مصیبتیں کیوں آتیں ؟ ] شوکانی)2 یعنی اسے صبر و استقامت کی توفیق دے گا اور گھبرا کر کفر و ناشکری کا کوئی کلمہ زبان سے نہ نکالے گا کیونکہ اسے یقین ہوگا کہ مجھ پر یہ مصیبت میرے پروردگار نے بھیجی ہے کہ میرے ایمان کا امتحان لے اور اگر میں امتحان میں کامیاب رہا تو میری نیکیاں زیاندہ اور میری برائیاں کم کر دے گا۔
Ayah 64:12

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 64:12 in the Quran reader

اور اللہ کا کہا مانو اور اس کے رسول کا کہا مانو4 پھر اگر تم (مانو) منہ پھیر لو تو یہ سمجھ رکھو ہمارے پیغمبر کا کام صرف کھول کر تم کو (خدا کا حکم) پہنچا دینا تھا5

ف 3 یعنی وہ جو مصیبت یا تکلیف بھیجتا ہے ہمیں علم و حکمت کی بنا پر بھیجتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ تم میں سے کون واقعی صبر و استقامت کی راہ اتخیار کر کے اپنے درجات بلند کریگا اور کون بےصبری اور ناشکری کا مظاہرہ کر کے اپنی بدبختی میں اضافہ کرے گا۔4 یعنی مصیبت کے وقت بےصبری اور نا شکری کا مظاہرہ نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو اللہ و رسول کی اطاعت میں مشغول کر کے اپنی تکلیف کے احساس کو کم کرو اور اللہ کے ہاں اجر کے مستحق ہو۔5 سو اس نے پہنچا دیا اگر تم اسے نہ مانو گے تو اپنی ہی عاقبت خراب کرو گے۔ پیغمبر ﷺ کو ہرگز کوئی الزام نہ دے سکو گے۔
Ayah 64:13

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 64:13 in the Quran reader

اللہ کے سوا اور کوئی سچا خدا نہیں اور اللہ ہی پر مسلمانوں کو بھروسا رکھنا چاہیے6

ف 6 توکل کے لئے دیکھیے (آل عمران 160)
Ayah 64:14

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعْفُوْا وَ تَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 64:14 in the Quran reader

مسلمانو (ہوشیار ہو) تمہاری بی بیوں اور تمہاری اولاد ہی میں بعضے تمہارے دشمن ہیں ان سے بچے رہو7 اور اگر تم ان کا قصور معاف کردو در گزر کرو بخش دو تو اللہ بھی بخشنے والا مہربان ہے

ف 7 بعض اوقات آدمی بیوی بچوں کی محبت میں پھنس کر اللہ و رسول کے احکام کو بھلا دیتا ہے اور اپنی آخرت تباہ کرلیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جو اہل و عیال اس تباہی کا باعث نہیں ان سے بڑھ کر آدمی کا کوئی دشمن نہیں ہوسکتا۔ اس لئے اللہ تعالیٰنے فرمایا کہ ایسے دشمنوں سے ہوشیار ہو ایسا نہ ہو کہ تم ان کی محبت میں پڑ کر اپنی آخرت تباہ کرلو۔ حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ مکہ معظمہ میں کچھ لوگ تھے جو مسلمان ہوچکے تھے اور ہجرت کر کے مدینہ آنا چاہتے تھے۔ لیکن ان کے بیوی بچوں نے انہیں ہجرت کرنے سے باز رکھا پھر جب وہ آخر کار ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے اور انہوں نے دیکھا کہ دوسرے لوگ آنحضرت کی صحبت میں رہ کر دین کا خوب علم حاصل کرچکے ہیں تو انہیں سخت افسوس ہوا اور انہوں نے اپنے بیوی بچوں کو سزا دینے کا ارادہ کیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (شوکانی)
Ayah 64:15

اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 64:15 in the Quran reader

وہ تمہارے قصور بخش دیگا تمہارے مال اور اولاد اور کچھ نہیں اللہ کی جانچ ہیں8 (جو کوئی مال اولاد رکھ کر اللہ کو نہ بھولے تو اللہ کے پاس اس کے لئے بڑا ثواب ہے

ف 8 یعنی اللہ تعالیٰمال و دولت دیکر تمہاری آزمائش کرتا ہے کہ کون اللہ و رسول کے احکام کی اطاعت کرتا ہے اور کون دنیا کی محبت میں مشغول ہو کر اعراض کرتا ہے۔ حضرت بریدہ سے روایت ہے کہ حضرت حسن اور حسین لال کرتے پہنے گرنے پڑتے آپہنچے۔ آنحضرت منبر پر خطبہ دے رہے تھے آپ نے منبر سے اتر کر ان کو اپنے دونوں طرف اٹھا لیا اور فرمایا :” اللہ تعالیٰنے سچ فرمایا ہے کہ تمہارے مال اور اولاد آزمائش ہیں (شوکانی)
Ayahs 64:16–17

فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَ اسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 64:16 in the Quran reader

تو مسلمانو جہاں تکتم سے ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کا حکم مانو اور مانو اور اپنی جانوں کی بھلائی کے لئے اس کی راہ میں خرچ کرتے رہو اور جو کوئی اپنی طبیعت کی لالچ اور بخیلی سے بچایا گیا (اللہ نے اس کو بچا دیا) تو ایسے ہی لوگ آخرت میں ہی پہونچیں گی

اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْهُ لَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِیْمٌۙ Open ayah 64:17 in the Quran reader

اگر تم (اے مسلمانو اللہ کو اچھی ضروردو گے9 اللہ تم کو دوگنا سات سو گنا تک دیگا اور اس کے سوا تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بڑا اور تحمل والا ہے10

ف 9 یعنی اپنی حلال کی کمائی میں سے خوشدلی کے ساتھ اس کی راہ میں خرچ کروں گے۔10 اور قدانی یہ ہے کہ تھوڑے عمل پر بہت ثواب دیتا ہے۔
Ayah 64:18

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 64:18 in the Quran reader

چھپے اور کھلے کا جاننے والا، صبر و سکت والاف 11

ف 11 یعنی اسے ظاہری اعمال اور پوشیدہ نیتوں کی خبر ہے۔ اپنی زبردست قوت اور حکمت سے اس کے مطابق بدلہ دے گا