Ayah 67:11۔ احمد بن ابو داوٗد والترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن الضریس والحاکم وصححہ وابن مردویہ و بیہقی فی شعب الایمان میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی کتاب میں تیس آیتوں والی ایک سورة ہے۔ وہ آدمی کے لیے سفارش کرے گی یہاں تک کہ اس کو بخش دیا جائے گا۔
سورة ملک تلاوت کرنے والے کو جنت میں داخل کے گی۔
2۔ الطبرانی فی الاوسط وابن مردویہ اور الضیاء نے المختارہ میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک سورة قرآن میں ایسی ہے جو اپنے پڑھنے والے کے بارے میں جھگڑا کرے گی۔ یہاں تک کہ اس کو جنت میں داخل کرادے گی اور وہی سورت ہے تبرک الذی بیدہ الملک۔
3۔ الترمذی والحاکم وابن مردویہ وابن نصر و بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے کسی نے ایک قبر پر خیمہ لگایا وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ قبر ہے۔
4۔ ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ سورة تبارک الذی قبر کے عذاب سے روکنے والی ہے۔
سورۃ ملک کی فضیلت
5۔ ابن مردویہ نے رافع بن خدیج اور ابوہریرہ ؓ دونوں حضرات سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ مجھ پر سورة تبارک الذی اتاری گئی۔ ایک ہی مرتبہ اور اس کی تیس آیتیں ہیں۔ اور فرمایا کہ یہ عذاب کو روکنے والی ہے قبروں میں آیت قل ہوا اللہ احد کا نماز میں پڑھنا ایک تہائی قرآن پڑھنے کے برابر ہے۔ آیت قل یا ایہا الکفرون نماز میں پڑھنا چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔ آیت اذا زلزلت نماز میں پڑھنا آدھے قرآن کے برابر ہے۔
6۔ عبد بن حمید فی مسندہ واللفظ لہ والطبرانی والحاکم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک آدمی سے فرمایا کیا میں تجھ کو ایک حدیث تحفے کے طور پر نہ دوں کہ جس سے تو خوش ہوجائے ؟ اس نے کہا کیوں نہیں۔ فرمایا سورة تبرک الذی بیدہ الملک پڑھ اور اپنے گھروالوں کو بھی سکھاؤ اور اپنی ساری اولاد اور اپنے سارے گھر کے بچوں کو اور اپنے پڑوسیوں کو بھی سکھاؤ کیو کہ وہ نجات دلانے والی ہے اور قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے کے لیے اپنے رب کے پاس جھگڑنے والی ہے اور یہ اسے تلاش کرے گی تاکہ اسے دوزخ کے عذاب سے نجات دلائے اور اس کا پڑھنے والا اس کے ذریعہ قبر کے عذاب سے نجات پائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ یہ سورة میری امت کے ہر فرد کے دل میں ہو۔
7۔ ابن عساکر نے ضعیف سند کے ساتھ زہری سے روایت کیا اور انہوں نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک آدمی جب مرا ان لوگوں میں سے جو تم سے پہلے تھے۔ اللہ کی کتاب میں سے اس کے پاس کوئی چیز نہ تھی سوائے سورة تبرک الذی بیدہ الملک کے جب اس کو اس قبر میں رکھا گیا۔ اس کے پاس فرشتہ آیا تو یہ سورة اس کے سامن حائل ہوگئی۔ تو فرشتے نے اس سے کہا بلاشبہ تو اللہ کی کتاب میں سے ہے اور میں تیری مخالفت کو ناپسند کرتا ہوں۔ اور میں نفع نقصان کا مالک نہیں ہوں نہ تیرے لیے اور نہ اس کے لیے اور نہ ہی اپنے لیے اگر تو اس کا ارادہ رکھتی ہے تو اپنے رب کے پاس چلی جا اور اس کے لیے سفارش کر، تو وہ رب کی طرف جائے گی اور کہے گی اے میرے رب، فلاں مرنے والے آدمی نے تری کتاب میں سے مجھ پر اعتماد کیا ہے اس نے مجھے سیکھا اور میری تلاوت کی۔ کیا آپ اس کو آگ کے ساتھ جلادیں گے یا اس کو عذاب دیں گے ؟ اس حال میں کہ میں اس کے پیٹ میں ہوں۔ اگر آپ ایسا کرنا چاہتے ہیں تو مجھے اپنی کتاب سے مٹاد یجیے تو رب کریم فرمائیں گے خبردار سن میں تجھے دیکھ رہا ہوں کہ تو غصہ میں تو یہ سورت جو اب میں کہے گی غصہ ہونا میرا حق ہے پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ جا میں نے تیرے لیے اس کو بخش دیا اور اس کے حق میں تیری شفاعت کو قبول کرلیا ہے پھر وہ سورة الملک آئے گی تو وہ پراگندہ حال نکل جائے اور اس کی کی طرف کوئی شے اس پر وارد نہیں ہوگی۔ پھر یہ سورت آئے گی اور اپنے منہ کو اس کے منہ پر رکھ دے گی۔ اور کہے گی خوش آمدید ہو اس منہ کو جس نے کئی بار میرے ساتھ قیام کیا۔ خوش آمدید اس سینے کوئی بار اس بار اس نے مجھے یاد کیا۔ اور خوش آمدید ان قدموں کو جنہوں نے کئی بار میرے ساتھ قیام کیا۔ اور اس کی قبر میں اس پر وحشت اور خوف کی وجہ سے اس کے ساتھ غم خواری کرتی رہے گی۔ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ حدیث بیان فرمائی تو نہیں بچا نہ کوئی چھوٹا اور نہ بڑا اور نہ آزاد اور نہ غلام مگر اس نے اس سورة کو سیکھا۔ اور رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام نجات دلانے والی رکھا۔
8۔ ابن الضریس والطبرانی والحاکم وصححہ والبیہقی نے شعب الایمان میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ایک آدمی کو اس کی قبر میں لایا جائے گا اور اسے اس کے پاؤں کی جانب سے لایا جائے گا تو اس کی ٹانگیں کہیں گی تمہارے لیے میری جانب پر کوئی اختیار نہیں۔ یہ ہم پر سورة الملک پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا تھا۔ پھر اسے لایا جائے گا اس کے سینے کی طرف سے تو وہ کہے گا نہیں ہے تمہارے لیے میری جانب کوئی اختیار کیونکہ اس نے میرے اندر سورة ملک کو محفوظ کیا ہے پھر اسے اس کے سر کی جانب سے لایا جائے گا تو وہ کہے گا نہیں ہے تمہارے لیے میری جانب سے کوئی راستہ کیونکہ یہ میرے ساتھ سورة ملک کو پڑھا کرتا تھا۔ تو یہ سورة روکنے والی ہے جو عذاب قبر سے روکتی ہے اور یہی سورت ملک تورات میں بھی ہے جو اسکو رات کو پڑھے گا تو اس نے کثیر اور خوب اچھا پڑھا۔
9۔ طبرانی وابن مردویہ نے سند جید کے ساتھ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اس کو مانعہ یعنی روکنے والی کا نام دیتے تھے۔ اور یہ اللہ کی کتاب میں سورة ملک ہے جو اس کو رات کو پڑھے گا تو اس نے کثیر اور خوب اچھا پڑھا۔
قبر کی آگ سے حفاظت کا ذریعہ
10۔ ابو عبید و بیہقی نے الدلائل من طرق مرۃ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ میت جب مرجاتی ہے تو اس کے اردگرد آگ روشن کی جاتی ہے تو وہ ہر اس آگ کو کھاجاتی ہے جو اس کے قریب ہوتی ہے اگر اس کا کوئی عمل ایسا نہ ہو جو اس کے اور اس آگ کے درمیان حائل ہوا ایک آدمی مرگیا اور اس نے کوئی قرآن نہیں پڑھا سوائے اس تیس آیتوں والی سورة کے تو وہ اس کے سر کی طرف سے قریب آئے گی یہ مجھ کو پڑھا کرتا تھا تو اس کے پاؤں کی طرف سے آئے گی اور کہے گی کہ وہ میرے ساتھ کھڑا ہوتا تھا۔ اور سورة ملک پڑھتا تھا پھر وہ آگ آئے گی اس کے پیٹ کی جانب سے تو وہ پیٹ کہے گا بیشک اس نے مجھے محفوظ کیا تھا تو وہ اس کو نجات دلا دے گی اور ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ میں نے اور مسروق نے مصحف میں دیکھا تو ہم نے نہ پایا تیس آیتوں والی سورة کو سوائے سورة تبارک الذی کے۔
11۔ الدارمی وابن الضریس نے مرہ (رح) سے اسی طرح مرسلاً روایت کیا۔
12۔ سعید بن منصور نے عمرو بن مرہ (رح) سے روایت کیا کہ کہا جاتا تھا کہ قرآن میں ایک سورة ہے جو اپنے پڑھنے والے کے لیے قبر میں جھگڑا کرے گی۔ اس کی تیس آیتیں ہوں گی۔ تو انہوں نے غور سے دیکھا تو سورة تبارک الذی کو پایا۔
13۔ الدیلمی نے انس ؓ سے مرفوع حدیث میں روایت کیا کہ ایک آدمی کو قیامت کے دن اٹھایا جائے گا اس نے کوئی گناہ نہ چھوڑا ہوگا مگر وہ اللہ کو ایک جانتا تھا۔ اور وہ قرآن میں سے صرف ایک ہی سورة پڑھتا تھا۔ اس کو دوزخ کی طرف جانے کا حکم دیا جائے گا۔ تو اس کے پیٹ میں سے کوئی چیز شعلے کی طرح اڑے گی اور کہے گی اے اللہ ! بلاشبہ میں ان سورتوں میں سے ہوں جو آپ نے اپنے نبی پر نازل فرمائیں۔ اور یہ بندہ مجھ کو پڑھتا تھا۔ وہ سورة برابر سفارش کرتی رہے گی یہاں تک کہ اس کو جنت میں داخل کرادے گی اور وہ سورة نجات دینے والی یعنی آیت ” تبرک الذی بیدہ الملک “ ہے۔
14۔ عبدالرزاق نے المصنف میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ جمعہ کی نماز میں سورة جمعہ اور سبح اسم ربک الاعلی اور صبح کی نماز میں جمعہ کے الم تنزیل اور تبرک الذی بیدہ الملک پڑھا کرتے تھے۔
15۔ دیلمی نے سند واہ کے ستھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اللہ کی کتاب میں ایک سورة پاتا ہوں اس کی تیس آیتیں ہیں جو اس کو سوتے وقت پڑھے گا اس کے لیے تیس نیکیاں لکھی جائیں گی اور تیس برائیاں مٹا دی جائیں گی اور تیس درجے بلند کردئیے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ فرشتوں میں سے ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس پر اپنے پروں کو بھیلا دیتا ہے اور ہر چیز سے اس کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ وہ جاگ جاتا ہے اور وہ سورة مجادلہ ہے جو اپنے پڑھنے والے کی طرف سے جھگڑا کرتی ہے اور وہ سورة تبرک الذی بیدہ الملک ہے۔
16۔ دیلمی نے سند واہ کے ساتھ انس ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ میں نے عجیب منظر دیکھا میں نے ایک آدمی کو دیکھا جو مرگیا اور اس کے گناہ بہت زیادہ تھے اور وہ زیادتی کرنے والا تھا اپنی جان پر جب اس کی قبر میں عذاب اس کے پاؤں کی جانب سے یا اس کے سر کی طرف سے اس کی طرف متوجہ ہوا تو یہ سورة آگئی جو ایک پرندے میں تھی اور آگ سے آکر جھگڑا کرنے لگی کہ یہ آدمی میری محافظت کرتا تھا اور میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ جو مجھ پر مواظبت کرے گا تو وہ اس کو عذاب نہیں دے گا تو اس کے سبب اس سے عذاب پھر گیا۔ اور مہاجرین اور انصار صحابہ اس سورت کو پڑھتے اور سمجھتے تھے اور کہتے تھے جنہوں نے اس کو نہ سیکھا وہ خسارے میں ہیں اور وہ سورة ملک ہے۔
سورۃ تبارک الذی کی فضیلت
17۔ ابن الضریس نے مرہ ہمدانی (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی اپنی قبر کی اطراف سے لایا جائے گا تو قرآن میں سے تیس آیتوں والی سورت اس سے جھگڑتی رہے گی یہاں تک کہ اس کو عذاب قبر سے روک دے گی تو میں نے اور مسروق نے دیکھا تو ہم نے کوئی سورة نہ پائی سوائے تبارک الذی کے۔
18۔ ابن مردویہ نے ابوالصباح کے طریق سے عبدالعزیز (رح) سے روایت کیا اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک آدمی داخل ہوگا قرآن مجید کی ایک سورة کی شفاعت کے سبب اور وہ تیس آیتوں والی ہے اور وہ عذاب قب سے اس کو نجات دلائے گی اور وہ ہے تبرک الذی بیدہ الملک۔
19۔ ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ الم تنزیل السجدۃ اور تبرک الذی بیدہ الملک ہر رات کو پڑھا کرتے تھے اور سفر حضر میں نہ چھوڑتے تھے۔
20۔ ابن عساکر نے علی ؓ نے مرفوعاً روایت کیا کہ وہ کلمات جو شخص ان کو اپنی موت کے وقت کہے گا۔ جنت میں داخل ہوگا وہ کلمات یہ ہیں کہ آیت لا الہ الا ہو الحلیم الکریم تین مرتبہ آیت الحمد للہ رب العلمین تین مرتبہ اور آیت تبرک الذی بیدی الملک وہو علی کل شیء قدیر۔
Ayah 67:221۔ ابن ابی الدنیا والبیہقی فی شعب الایمان سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت الذی خلق الموت والحیوۃ لیبلوکم ایکم احسن عملا وہ ذات جس نے موت اور زندگی کو پیدا فرمایا تاکہ تم کو آزمائے کہ کون تم میں سے اچھے عمل کرتا ہے۔ یعنی کون تم میں اچھا ہے موت کو یاد کرنے کے لحاظ سے اور اس کی تیاری کرنے کے لحاظ سے اور اس سے خوف اور ڈرنے کے لحاظ سے۔
22۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت الذی خلق الموت والحیوۃ کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آدم کی اولاد کو ذلیل کیا موت کے سبب اور دنیا کو بنادیا زندگی کا گھر پھر موت کا گھر۔ اور آخرت کو بنادیا بدلے کا گھر اور پھر باقی رہنے کا گھر۔
23۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) نے آیت الذی خلق الموت والحیوۃ کے بارے میں روایت کیا کہ زندگی جبریل (علیہ السلام) کا گھوڑا ہے۔ اور موت چتکبرا مینڈھا ہے۔
24۔ ابو الشیخ نے العظمہ میں وہب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے موت کو پیدا فرمایا چتکبرا مینڈھے کی صورت میں حالانکہ وہ سیاہی اور سفیدی کے ساتھ چھپا ہوا ہے اس کے چار پر ہیں ایک پر عرش کے نیچے ہے ایک پر نمناک مٹی کے نیچے ہے، اور ایک پر مشرق میں اور ایک پر مغرب میں ہے۔
Ayahs 67:3–625۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت سبع سموت طباقا اوپر تلے سات آسمان۔ یعنی اس کا بعض، بعض کے اوپر ہے۔
26۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
27۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ماتری فی خلق الرحمن من تفٰوت تو نہیں دیکھے گا رحمن کی پیدائش میں کوئی خلل یعنی اللہ تعالیٰ کی تخلیفق باہم متفاوت نہیں یعنی جدا جدا کرنے والا۔
28 عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ماتری فی خلق الرحمن من تفٰوت میں تفاوت کا معنی ہے اختلاف آیت فارجع البصر ہل تری من فطور تو پھر نگاہ دوڑا کیا تجھے کوئی شگاف دکھائی دیتا ہے یعنی کوئی خلل نظر آتا ہے آیت ثم ارجع البص کر تین ینقلب الیک البصر خاسئا۔ پھر دوبارہ نگاہ کر تیری طرف نگاہ ناکام لوٹ آئے گی یعنی ذلیل ہو کر۔ آیت وہو حسیر اور اور وہ تھکی ہوئی ہوگی یعنی تو نہیں دیکھے گا رحمن کی پیدائش میں نہ کوئی پھٹن اور نہ کوئی خلل۔
29۔ عبد بن حمید نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا ماتری فی خلق الرحمن من تفاوت۔
30۔ سعید بن منصور نے علقمہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے آیت ماتری فی خلق الرحمن من تفٰوت۔
31۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت من تفٰوت سے مراد ہے پھٹن۔ آیت ہل تری من فطور۔ یعنی شگاف۔ آیت خاسئا۔ یعنی ذلیل ہو کر وہو حسیر سے مراد ہے تھکی ماندی۔
32۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” فطور “ سے مراد ہے بوسیدہ اور کمزور۔
33۔ ابن المنذر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” من فطور “ سے مراد ہے خلل میں سے۔
34۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” من فطور “ سے مراد ہے پھٹن یا خلل اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول آیت ینقلب الیک البصر خاسئا سے مراد ہے کہ وہ لوٹے گی تیری طرف طرف خاسئا یعنی ذلیل ہو کر آیت وہو حسیر یعنی وہ تھک جائے گی اور کسی چیز کو نہیں دیکھ سکے گی۔
35۔ ابن جریر وابن المنذر نے ان عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت خاسئا سے مراد ہے ذلیل وہو حسیر اور وہ واپس لوٹ آئے گی۔
Ayah 67:71۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت سمعو الہا شہیقا اس کے شور کی آواز سنیں گے۔ یعنی چیخنے کی آواز۔
2۔ عبد بن یحییٰ (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی آگ کی طرف گھسیٹا جائے گا تو آگ سکڑ جائے گی اور اس کے بعض حصے بعض حصوں میں منقبض ہوجائی گے تو رحمن اس سے فرمائیں گے تجھ کو کیا ہوا وہ کہے گی کہ وہ مجھ سے شرماتا تھا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میرے بندے کو چھوڑدو۔ اور فرمایا کہ ایک بندے کو آگ کی طرف گھسیٹا جائے گا اور وہ کہے گا اے میرے رب میرا آپ کے ساتھ یہ گمان نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تیرا کیا گمان تھا۔ ؟ وہ کہے گا میرا گمان یہ تھا کہ تیری رحمت مجھے ڈھانپ لے گی تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میرے بندے کو چھوڑدو پھر فرمایا ایک آدمی آگ کی طرف گھسیٹا جائے گا۔ تو وہ آگ اس کی طرف چیختے ہوئے آئے گی۔ خچر کے چیخنے کی طرح جو کی طرف۔ پھر وہ شدید آواز نکالے گی تو کوئی باقی نہیں رہے گا مگر وہ خوف زدہ ہوجائے گی۔
3۔ ہناد وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا وہی تفور اور وہ جوش مارتی ہوگی یعنی جہنم ان کے ساتھ اس طرح جوش مارے گی۔ جیسے تھوڑے سے دانے جوش مارتے ہیں بہت پانی میں۔
Ayahs 67:8–104۔ ابن جریر وابن المنذر (رح) سے بیان فرمایا کہ آیت تکاد تمیز (قریب ہے کہ پھٹ پڑے گی) یعنی ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی۔
5۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت تکاد تمیز کے بارے میں روایت کیا کہ شاید اس کا بعض حصہ بعض سے جدا ہوجائے۔
Ayah 67:116۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” فسحقا “ سے مراد ہے دوسری۔
7۔ الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) ان سے ” فسحقا “ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ اس سے مراد ہے دوری۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں۔ فرمایا ہاں کیا تو نے حسان ؓ کا قول نہیں سنا
الا من مبلغ عنی ابیا فقد القیت فی سحق السعیر
8۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فسحقا لا صحب السعیر دوری ہے دوزخ والے کے لیے۔ کہ سحْق جہنم میں ایک وادی ہے۔
Ayahs 67:12–149۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان الذین یخشون ربہم بالغیب وہ لوگ جو اپنے رب سے بغیر دیکھے ڈرتے ہیں سے مراد ہے ابوب کر، عمر علی اور عبیدہ بن جراح ؓ ۔
10۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت لہم مغفرۃ واجر کبیر ان کے لیے مغفرت ہے اور بڑا اجر ہے یعنی جنت ہے۔
Ayah 67:151۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مناکبہ سے مراد ہے زمین کے پہاڑ۔
2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مناکبہا سے مراد ہے زمین کے اطراف۔
3۔ ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ بشیر بن کعب (رح) نے یہ آیت پڑھی آیت فامشوا فی مناکبہا چلو تم اس کے اطراف میں۔ اور اپنی باندی سے فرمایا اگر تو یہ بتادے کہ زمین کے مناکب کیا ہیں پھر تو اللہ کے لیے آزاد ہے اس نے کہا زمین کے مناکب اس کے پہاڑ ہیں پھر انہوں نے ابودرداء ؓ نے سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا جو چیز تجھے شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر ایسی چیز کو اختیار کر جو تجھے شک میں نہ ڈالے۔
4۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ مناکبہا سے مراد ہے زمین کے اطراف اور اس کے پہاڑی راستے۔
Ayahs 67:16–207۔ طبرانی وابن عدی والبیہقی فی شعب الایمان والحکیم الترمذی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پیشہ ور مومن بندے کو پسند فرماتے ہیں۔
8۔ الحکیم الترمذی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پیشہ ور بندے کو پسند فرماتے ہیں
9۔ الحکیم الترمذی نے معاویہ بن قرح (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ ایک قوم پہ گذرے پوچھا تم کون ہو انہوں نے کہا ہم توکل کرنے والے ہیں یعنی اللہ پر بھروسہ کرنے والے آپ ؓ نے فرمایا تم کھانے والے ہو پھر فرمایا متوکل وہ آدمی ہے جو زمین کی مٹی میں دانہ ڈال دیتا ہے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتا ہے۔
10۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیاء امنتم من فی السماء کیا تم اس سے نہیں ڈرتے جو آسمانوں میں ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے آیت فاذا ہی تمور بس اچانک وہ لرزنے لگے۔ یعنی زمین کے بعض حصوں کا بعض کے اوپر حرکت کرنا اور اس کا گھومنا اور فرمایا آیت اولم یروا الی الطیر فوقہم صفت۔ کیا انہوں نے اپنے اوپر پرندوں کو پر کھولتے ہوئے نہیں دیکھا۔ یعنی پرندے پروں کو پھیلاتے ہیں۔ آیت ویقبضن اور سکیڑتے ہیں یعنی اپنے پروں کو مارتے ہیں۔ پہلوؤں کے ساتھ۔
11۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) نے ان سے آیت الا فی غرور کے بارے میں سوال کیا۔ فرمایا اس سے مراد ہے باطل یعنی وہ باطل میں ہیں۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے حسان کا قول نہیں سنا
تمنتک الامانی من بعید وقل الکفر یرجع فی غرور
ترجمہ : تو نے دور تمناؤں اور آرزؤوں کا ارادہ کیا ہے اور کفر کا قول باطل میں لوٹتا ہے
Ayah 67:2112۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت بل لجوا فی عتو ونفور بلکہ وہ سرکشی اور نفر میں اڑے بیٹھے ہیں یعنی گمراہی میں۔
13۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت بل لجوا فی عتو ونفور کے بارے میں روایت کیا کہ یعنی ناشکری میں آیت افمن یمشی مکبا علی وجہۃ پس وہ شخص جو اپنے منہ کے بل اوندھا چلتا ہے یعنی گمراہی میں۔ امن یمشی سویا علی صراط مستیم۔ یا جو سیدھے راستے پر سیدھا چلا جاتا ہے سے مراد ہے الحق المستقیم یعنی سیدھی راہ پر۔
14۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت افمن یمشی مکبا سے مراد ہے گمراہی میں آیت امن یمشی سویا یعنی ہدایت پانے والا یعنی وہ جو ہدایت پائے ہوئے چلتا ہے۔
Ayah 67:2215۔ عبد بن حمید وعبد الرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت افمن یمشی مکبا علی وجہہ سے مراد ہے وہ کافر جو اللہ کی نافرمانی کے عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن منہ کے بل چلائیں گے۔ آیت امن یمشی سویا علی صراط مستقیم سے مراد ہے وہ مومن جو اللہ کی اطاعت کے ساتھ عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنی اطاعت پر اٹھائیں گے۔ آیت فلما رأوہ یعنی جب اللہ کے عذاب کو دیکھیں گے آیت زلفۃ سیئت وجوہ الذین کفروا۔ قریب سے تو ان کی صورتیں بگڑ جائیں گے جو کافر ہیں یعنی ان کی صورتیں بگڑ جائیں گی جب وہ اللہ کے عذاب کو اور اس کی جانب سے ذلت کو دیکھیں گے۔
Ayahs 67:23–26داڑھ میں درد کا علاج
5۔ الخطیب فی تاریخہ وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص کی داڑھ میں درد ہو تو اس کو چاہیے کہ اپنی انگلی کو اس پر رکھ کر یہ آیت پڑھے۔ آیت قل ہوا لذی انشائکم وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ قلیلا ما تشکرون فرمادیجیے وہی ذات ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے کان آنکھیں اور دل بنایا تھوڑے لوگ شکر کرتے ہیں۔
6۔ دارقطنی نے الافراد میں ابن عباس رضٰ اللہ عنہما سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کی داڑھ میں درد ہو اس کو چاہیے اپنی انگلی اس پر رکھ کر سات مرتبہ یہ دونوں آیتیں پڑھے۔ آیت وہوا لذی انشاء کم من نفس واحدۃ فمستقر (الانعام : آیت 98) اور اللہ وہی ہے جس نے ایک شخص سے تم کو پیدا کیا پھر ایک تو تمہارا ٹھکانہ ہے سے لے کر یفقہو تک اور ہوالذی انشاکم وجعل لکم السمع سے لے کر تشکرو نتک۔ بلاشبہ وہ اس درد سے شفا پائے گا۔ اللہ کے حکم سے۔
Ayahs 67:27–2916۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت وقیل ہذا الذی کنتم بہ تدعون۔ اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی عذاب ہے جس کے جلدی آنے تم خواست گار تھے۔ یعنی تدعون کو تخفیف کے ساتھ پڑھا۔
18۔ عبد بن حمید نے ابوبکر بن عیاش سے روایت کیا اور انہوں نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو اسی طرح پڑھا آیت تدعون تشدید کے ساتھ ابوبکر (رح) فرمایا کہ تدعون سے مراد ہے کہ تم جلدی کرتے تھے۔ عذاب کے آنے میں۔
Ayah 67:301۔ ابن المنذر والفاکہی نے ابن کلبی (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت قل ارأیتم ان اصبح ماء کم غورا فرمادیجیے بھلا دیکھو تو سہی اگر تمہارا پانی خشک ہوجائے۔ زمزم کے کنوئیں اور میمون بن الحضر کے کنوئیں کے بارے میں نازل ہوئی اور یہ دور جاہلیت کے کنویں تھے فاکہی نے کہا کہ مکہ کے کنوئیں جلدی سے نیچے اترجاتے تھے۔
2۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے آیت ان اصبح ماء کم غورا کے بارے میں روایت کیا کہ اگر پانی زمین میں داخل ہوجائے آیت فمن یاتکیم بماء معین کون تمہارے پاس لائے گا یعنی جاری پانی۔
3۔ ابن المنذر نے ابن جریج کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان اصبح مارکم غورا یعنی اگر پانی زمین میں لوٹ جائے۔
4۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” غورا “ سے مراد ہے اگر پانی چلاجائے ” بماء معین “ یعنی جاری پانی۔
5۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” بماء معین “ سے مراد ہے ظاہری پانی (سطح زمین پر ظاہر ہونے والا)
6۔ عبد بن حمید نے مجاہد اور عکرمہ رحمہما اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔
7۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” بماء معین “ سے مراد ہے میٹھا پانی۔