67. Surah Al-Mulk

الملكThe Sovereignty · 30 ayahsانوار البیان

Ayah 67:1

تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ Open ayah 67:1 in the Quran reader

وہ (خدا) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے بڑی برکت والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

(67:1) تبارک : ماضی واحد مذکر غائب تبارک (تفاعل) مصدر۔ وہ بہت برکت والا ہے، وہ بڑی برکت والا ہے، مخاطب کا تبارکت بھی آتا ہے صرف ماضی کا صیغہ مستعمل ہے اور وہ بھی صرف اللہ تعالیٰ کے لئے آتا ہے اسی لئے بعض لوگ اسے اسم فعل بتاتے ہیں۔ البرکۃ کے معنی کسی شے میں خیر الٰہی ثابت ہونا کے ہیں۔ آیت ہذا میں تنبیہ کی ہے کہ وہ تمام خیرات جن کو لفظ تبارک کے تحت ذکر کیا ہے ذات باری تعالیٰ ہی کے ساتھ مختص ہے۔ الذی بیدہ الملک : الذی اسم موصول۔ الملک مبتدائ، بیدہ خبر، دونوں مل کر موصول کا صلہ اور یہ سارا جملہ مل کر فاعل ہے تبارک کا۔ بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں (دارین کی) بادشاہت ہے۔ وھو علی کل شیء قدیر۔ واؤ عاطفہ، جملہ کا عطف صلہ بیدہ الملک پر ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
Ayah 67:2

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ Open ayah 67:2 in the Quran reader

اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے اور وہ زبردست اور بخشنے والا ہے

(67:2) الذی خلق الموت والحیوۃ لیبلوکم ایکم احسن عملا : ن نون قطنی، جس حرف پر تنوین (یعنی دوزبر یا دو زیر یا دو پیش) ہو اور اس کے بعد والے حرف پر جزم ہو تو اس تنوین کو نون مکسور سے بدل کر پڑھیں گے۔ قرآن مجید میں ایسے کئی مقامات پر چھوٹا سا نون بھی لکھا ہوا ہوتا ہے اس نون کو نون قطنی کہتے ہیں۔ الذی اسم موصول خلق الموت والحیوۃ اس کا صلہ، صلہ موصول مل کر خبر مبتدا محذوف کی ای ھو الذی ۔۔ لیبلوکم : لام تعلیل کا۔ یبلو مضارع منصوب بوجہ عمل لام، واحد مذکر غائب بلا (باب نصر) مصدر تاکہ وہ آزمائش کرے۔ تاکہ وہ چھانٹ چھانٹ کر الگ الگ کر دے ۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر (مفعول اول) ای استفہامیہ ، مضاف کم ضمیر جمع مذکر حاضر، مضاف الیہ، مضاف اور مضاف الیہ مل کر مبتداء احسن افعل التفضیل کا صیغہ، بہت اچھا۔ عملا تمیز (اروئے عمل) احسن عملا خبر مبتداء کی۔ ایکم احسن عملا۔ جملہ مفعول دوم ہے فعل یبلو کا۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ جس نے پیدا کیا موت اور زندگی کو تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے۔ وھو العزیز الغفور : واؤ عاطفہ ھو مبتداء العزیز الغفور : معطوف علیہ ومعطوف مل کر خبر مبتداء کی۔ اور وہ بڑا زبردست (اور) بخشنے والا ہے۔
Ayah 67:3

الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ Open ayah 67:3 in the Quran reader

اس نے سات آسمان اوپر تلک بنائے (اے دیکھنے والے) کیا تو (خدا) رحمن کی آفرینش میں کچھ نقص دیکھتا ہے ؟ ذرا آنکھ اٹھا کر دیکھ بھلا تجھ کو آسمان میں کوئی شگاف نظر آتا ہے ؟

(67:3) الذی خلق سبع سموت طباقا : یہ جملہ یا تو ھو مبتداء محذوف کی خبر ہے یا الغفور (آیت سابقہ) کی خبر ہے۔ طباقا کے منصوب ہونے کی وجہ سے یہ ہے کہ یہ سبع سموت کی صفت ہے کیونکہ یہ مصدر ہے اس لئے جمع کی صفت واقع ہوسکتی ہے۔ طباقا۔ طبق برطبق، تہ بر تہ۔ یعنی بےہنگم اور بکھری ہوئی صورت میں نہیں بلکہ ایسی عمدگی سے ترتیب دئیے گئے کہ ایک دوسرے کے اوپر منطبق نظر آتے ہیں۔ ما تری فی خلق الرحمن من تفوت : تفوت بروزن (تفاعل) مصدر ہے بمعنی بےضابطگی، فرق، فوت سے مشتق ہے اختلاف اوصاف کے معنی دیتا ہے گویا ایک کا وصف دوسرے سے فوت ہوگیا یا دونوں میں سے ہر ایک سے دوسرے کا وصف جاتا رہا۔ اگر ما نافیہ ہے تو ترجمہ ہوگا :۔ تو رحمان کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں کوئی فرق نہیں پائے گا۔ اور اگر ما استفہام انکاری ہے تو ترجمہ ہوگا :۔ کیا تو نے رحمن کی پیدا کی کوئی چیزوں میں کوئی فرق دیکھا ؟ پورا جملہ :۔ ماتری فی خلق الرحمن من تفوت حال ہے سبع سموت کا۔ من تفوت ما نافیہ کی صورت میں من زائدہ ہے یا تبعیضیہ ہے۔ من حرف جار ہے مختلف معانی کے لئے مستعمل ہے :۔ (1) ابتدائیہ بمعنی سے۔ اس معنی کے لئے من کا استعمال بکثرت ہے مثلاً انہ من سلیمن (127:30) یا من المسجد الحرام (17:1) وغیرہ۔ (2) تبعیضیہ : جیسے منھم من کلم اللہ (2:353) وغیرہ۔ (3) بیان جنس کے لئے۔ یہ اکثر ما یا مھما کے بعد آتا ہے۔ جیسے مایفتح اللہ للناس من رحمۃ (35:2) اور مھما تاتنا بہ من ایۃ (7:132) اور کبھی ما ومھما کے بغیر بھی آتا ہے جیسے یحلون فیہا من اساور من ذھب (18:31) ۔ (4) تعلیلیہ : یعنی حکم کی علت اور سبب بیان کرنے کے لئے جیسے مما خطیئتھم اغرقوا (71:25) (5) بدلیہ۔ بمعنی بجائے۔ ب مقابل۔ جیسے ارضیتم بالحیوۃ الدنیا من الاخرۃ ای بدل الاخرۃ۔ (6) تجاوز کے لئے۔ عن کا مرادف، جیسے فویل للقسیۃ قلوبھم من ذکر اللہ (39:22) یعنی اللہ کی یاد کو چھوڑ کر جن کے دل سخت پڑگئے ہیں۔ (7) باء کا مرداف۔ جیسے ینظرون من طرف خفی (42:45) (8) فی کا مرادف جیسے اذا نودی للصلوٰۃ من یوم الجمعۃ (66:9) جب جمعہ کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے۔ (9) عند کا مرادف۔ جیسے لن تغنی عنھم اموالہم ولا اولادھم من اللہ شیئا (58:17) یہ قول ابو عبیدہ کا ہے عام علماء کے نزدیک اس جگہ من اللہ شیئا (58:17) یہ قول ابو عبیدہ کا ہے عام علماء کے نزدیک اس جگہ من بدلیہ ہے۔ (10) علی کا مرادف : جیسے ونصرنھم من القوم (21:77) یعنی علی القوم۔ (11) من فارقہ۔ یعنی ایک چیز کو دوسری چیز سے جدا کرنے کے لئے۔ یہ من دو متضاد چیزوں میں سے اول پر نہیں دوسری پر آتا ہے۔ جیسے واللہ یعلم المفسد من المصلح (2:220) یہ قول ابن مالک کا ہے۔ (12) زائدہ : عموم کا معنی پیدا کرنے کے لئے جیسے ما تری فی خلق الرحمن من تفوت (67:3) ۔ (13) ربما کا مترادف : یہ قول صرف سیرافی اور ابن خروف،۔ اور ابن طاہر کا ہے قرآن مجید میں اس کی کوئی مثال نہیں۔ (14) غایت کے لئے : جیسے رایتہ من ذلک الموضع : میں نے اس کو اس جگہ تک دیکھا۔ اس مثال میں من بمعنی الی ہے۔ فارجع البصر : یہ شرط محذوف کی جزاء ہے یعنی اگر تمہارا خیال ہو کہ بار بار دیکھنے سے آسمانوں کی تخلیق میں کچھ عدم تناسب دکھائی دے گا تو پھر دیکھ لو۔ (تفسیر مظہری) جواب شرط کے لئے ہے ارجع فعل امر واحد مذکر حاضر۔ رجوع (باب نصر) مصدر تو لوٹا۔ پھر (نگاہ) لوٹا کر دیکھ لو۔ ہل تری من فطور : ہل استفہام تقریری ہے۔ من زائدہ ہے یا تبعیضیہ ہے۔ فطور۔ اسم فعل، رخنہ ، عیب، شگاف، الفطر (باب نصر، ضرب) مصدر۔ کے اصل معنی کسی چیز کو (پہلی مرتبہ) طول میں پھاڑنے کے ہیں۔ افطر ھو فطورا۔ روزہ افطار کرنا۔ انفطار پھٹ جانا۔ آیت ہذا میں فطور بمعنی شگاف یا خلل ہے۔ بھلا تجھ کو کوئی شگاف نظر آتا ہے۔
Ayah 67:4

ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ Open ayah 67:4 in the Quran reader

پھر دوبارہ (سہ بارہ) نظر کر تو نظر (ہر بار) تیرے پاس ناکام اور تھک کر لوٹے گی۔

(67:4) ثم ارجع البصر کرتین۔ اس جملہ کا عطف فارجع پر ہے اور تثنیہ (یعنی لفظ کر تین جو کرۃ کا تثنیہ ہے) تکثیر کے لئے ہے۔ صرف دو دفعہ دیکھنا مراد نہیں ہے بلکہ بار بار دیکھنا مراد ہے پھر با ربارنگاہ ڈالو۔ ینقلب : مضارع مجزوم (بوجہ جواب امر) صیغہ واحد مذکر غائب ۔ ابقلاب (انفعال) مصدر۔ وہ (نگاہ تیری طرف) لوٹے گی خسئا : خسأ (باب فتح) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ، بمعنی درماندہ، ذلیل و خوار، تھک کر رہ جانے والا۔ دھتکارا ہوا۔ عربی میں ہے خسات الکلب فخسأ میں نے کتے کو دھتکارا پس وہ دور ہوگیا۔ کسی کو دھتکارنے کے لئے عربی میں اخسأ کہا جاتا ہے چناچہ قرآن مجید میں ہے :۔ اخسئوا فیہا ولا تکلمون (23:108) اس میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو اور میرے ساتھ کلام نہ کرو، اسی سے خسأ البصر کا محاورہ ہے جس کے معنی ہیں نظر درماندہ ہو کر منقبض ہوگئی۔ (خ س و حروف مادہ) ۔ خسئا حال ہے ینقلب کے فاعل البصر سے۔ وھو حسیر : یہ جملہ بھی البصر کا دوسرا حال ہے حسیر تھکا ہوا۔ درماندہ، حسر (باب فتح) مصدر سے جس کے معنی ہیں تھکنا عاجز ہونا۔ بروزن (فعیل) صفت مشبہ کا صیغہ بمعنی فاعل بھی ہوسکتا ہے یعنی تھکنے والا۔ عاجز، اور بمعنی مفعول بھی۔ یعنی تھکا ہوا اور درماندہ
Ayah 67:5

وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ Open ayah 67:5 in the Quran reader

اور ہم نے قریب کے آسمان کو (تاروں کے) چراغوں سے زینت دی اور ان کو شیطان کے مارنے کا آلہ بنایا اور ان کے لئے دہکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے

(67:5) ولقد زینا السماء الدنیا بمصابیح : واؤ عاطفہ لقد میں لام تاکید کا اور قد ماضی پر داخل ہو کر تحقیق کا فائدہ دیتا ہے اور فعل ماضی کو حال سے قریب کردیتا ہے۔ زینا ماضی جمع متکلم تزیین (تفعیل) مصدر۔ ہم نے زینت دی۔ ہم نے سنوارا۔ ہم نے آراستہ کیا۔ السماء موصوف الدنیا صفت، موصوف و صفت مل کر زینا کا مفعول الدنیا۔ دانیۃ اور دنیۃ کا اسم تفضیل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ اول صورت میں اس کے معنی بہت قریب اور نزدیک کے ہیں اور دوسری صورت میں بہت ذلیل اور بہت حقیر کے معنی ہیں۔ اس کی جمع دنی ہے جیسے کبری کی جمع کبر اور صغری کی جمع صغر ہے۔ جب دنیا کا استعمال آخرت کے مقابلے میں ہوتا ہے تو اس کے معنی اول اور پہلے کے ہوتے ہیں اور جب قصوی کے مقابلہ میں ہوتا ہے تو اس کے معنی زیادہ قریب کے ہوتے ہیں۔ السماء الدنیا نیچے والا آسمان جو دوسرے آسمانوں سے زمین کے سب سے زیادہ قریب ہے۔ بمصابیح۔ ب حرف جر مصابیح جمع جو منتہی الجموع کے وزن پر ہے اور بوجہ غیر منصرف ہونے کے مفتوح ہے جیسے مساجد۔ مصابیح بمعنی چراغ۔ جمع ستاروں کو چراغ اس لئے کہا گیا کہ وہ بھی چراغوں کی طرح روشن و تاباں ہیں۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور ہم نے قریب کے آسمان کو (ستاروں کے) چراغوں سے روشن و آراستہ کر رکھا ہے۔ وجعلنھا وجوما للشیطین۔ جملہ معطوف ہے جعلنا کا عطف زینا پر ہے۔ ھا مفعول ثانی ہے۔ رجوما آلات سنگ باری رجم کی جمع ہے رجم اصل میں مصدر ہے اور جس چیز کے لئے سنگسار کیا جائے اس کے لئے بطور اسم مستعمل ہے۔ فائدہ : مطلب آیت کا یہ ہے کہ شیاطین جب ملائکہ کی باتیں چوری چھپے سننا چاہتے ہیں تو ان کے مارنے کے لئے ستاروں کو ہم نے آتشیں پتھر بنایا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ستارے اپنی جگہ سے ہٹ کر شیطانوں پر پتھروں کی طرح برستے ہیں بلکہ ان سے مجسم شعلے پھوٹ کر شیطانوں پر برستے ہیں۔ واعتدنا لہم عذاب السعیر : اعتدنا کا عطف زینا پر ہے لہم میں ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع الشیاطین ہے۔ عذاب السعیر مضاف مضاف الیہ مل کر اعتدنا کا مفعول ہے۔ السعیر۔ دہکتی ہوئی آگ۔ دوزخ۔ سعر (باب فتح) مصدر۔ بمعنی آگ بھڑکانا ۔ سے بروزن فعیل بمعنی مفعول ہے دہکتی ہوئی آگ۔ دوزخ۔ مطلب یہ کہ وہ شیاطین جو ملائکہ کی باتیں چوری چھپے سننے کی کوشش کرتے ہیں ان کو شہاب ثاقب کی شکل میں ستاروں سے سنگباری ہوتی ہے۔ اور آخرت میں ان کے لئے دہکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
Ayah 67:6

وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 67:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اپنے پروردگار سے انکار کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے

(67:6) وللذین کفروا بربھم عذاب جھنم : عذاب جھنم مضاف مضاف الیہ مل کر مبتدائ۔ للذین کفروا بربھم خبر مقدم۔ جھنم غیر منصرف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ وبئس المصیر : جملہ حالیہ ہے یا جملہ معترضہ تذییلی ہے۔ اور وہ برا ٹھکانا ہے (نیز ملاحظہ ہو (66:9)
Ayah 67:7

اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ Open ayah 67:7 in the Quran reader

جب وہ اس میں ڈالے جائیں کے تو اس کا چیخنا چلانا سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہوگی۔

(67:7) اذا القوا فیہا : اذا ظرف زمان ہے (شرطیہ) جب، جسوقت۔ القوا ماضی مجہول جمع مذکرغائب۔ القاء (افعال) مصدر۔ بمعنی ڈالنا۔ فیہا میں ضمیر ھا واحد مؤنث غائب کا مرجع جہنم ہے۔ یعنی جب کافروں کو جہنم میں ڈالا جائے گا۔ سمعوا لہا شھیقا : جواب شرط۔ لہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع جہنم ہے لہا حال ہے شھیقا سے جو سمعوا کے مفعول ہونے کے منصوب ہے۔ شھیقا نکرہ تھا اس لئے حال کو اس سے پہلے مقد کردیا۔ (تفسیر المظہری) شھیق گدھے کی آواز۔ یعنی گدھے جیسی آواز جہنم کی آگ سے نکلتی ہوئی سنیں گے یہ آگ کی آواز ہوگی یا ان لوگوں کی جو ان داخل ہونے والوں سے پہلے جہنم میں جا چکے ہوں گے یا خود ان کی ہوگی (المظہری) وہی تفور : یہ جملہ لہا کی ضمیر سے حال ہے یا فیہا کی ضمیر سے حال ہے ہی ای جھنم : تفور : مضارع واحد مؤنث غائب۔ فور (باب نصر) مصدر سے بمعنی اچھلنا۔ جوش مارنا۔ فور کا استعمال آگ کے، ہنڈیا کے اور غصہ کے جوش مارنے اور ابلنے کے لئے ہوتا ہے۔
Ayah 67:8

تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ Open ayah 67:8 in the Quran reader

گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغہ ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ہدایت کرنیولا نہیں آیا تھا ؟

(67:8) تکاد تمیز من الغیظ : من الغیظ کا تعلق تمیز سے ہے اور پورے جملے میں تفور کے فاعل (یعنی جہنم) کی حالت بیان کی ہے۔ تکاد مضارع واحد مؤنث غائب تمیز (تفعل) مصدر اصل میں تتمیز تھا۔ ایک ت حذف ہوگئی۔ ایک دوسرے سے جدا ہونا۔ پھٹ جانا۔ (قریب ہے کہ) پھٹ جائے ۔ صاحب اضواء البیان لکھتے ہیں :۔ اثبات ان للنار حسا وادراکا وارادۃ والقران اثبت للنار انھا تعتاظ وتبصر و تتکلم وتطلب المزید کما قال ھھنا۔ تکاد تمیز من الغیظ۔ وقال : اذا رأتھم من مکان بعید سمعوا لہا تغیظا و زفیرا (25:12) جب وہ ان کو دور سے دیکھے گی تو (غضبناک ہو رہی ہوگی اور یہ) اس کے جوش و غضب) اور چیخنے چلانے کو سنیں گے۔ وقال : یوم نقول لجھنم ہل امتلئت وتقول ہل من مزید (50:30) اس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کیا تو بھر گئی ہے ؟ وہ کہیگی کچھ اور بھی ہے۔ غیظ کے معنی سخت غصہ کے ہیں۔ یعنی وہ حرارت جو انسان اپنے دل کے دوران خون کے تیز ہونے پر محسوس کرتا ہے۔ اگر غیظ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس سے انتقام لینا مراد ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا وانھم لنا لغائظون (26:55) اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں۔ یعنی وہ اپنی مخالفانہ حرکتوں سے ہمیں انتقام پر آمادہ کر رہے ہیں۔ اور تغیظ کے معنی اظہار غصہ کے ہیں ، جو کبھی ایسی آواز کے ساتھ ہوتا ہے جو سنائی دے۔ جیسا کہ آیت ہذا زیر مطالعہ۔ ترجمہ ہوگا :۔ تو وہ اس کے جوش غصب اور اس کے چیخنے اور چلانے کو سنیں گے۔ کلما : یہ لفظ مرکب ہے کل اور ما سے۔ اس ترکیب میں ظرفت کی وجہ سے لفظ کل ہمیشہ منصوب رہتا ہے۔ اس میں ظرفیت ما کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے کیونکہ ما حرف مصدری ہے یا اسم نکرہ ہے بمعنی وقت کے۔ اکثر کلما کے بعد فعل ماضی آتا ہے۔ جیسے آیت ہذا وغیرہ۔ جب ۔ جب بھی۔ القی ماضی مجہول واحد مذکر غائب القاء (افعال) مصدر بمعنی ڈالنا۔ القی وہ ڈالا گیا۔ فیہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جھنم (آیت 6) کے لئے ہے۔ فوج : گروہ، لشکر، فوج ۔ مراد یہاں کفار کی جماعت ہے۔ سئالہم خزنتھا : سئال کا فاعل خزنۃ ہے جو خازن کی جمع ہے بمعنی داروغہ ، نگہبان، چوکیدار،۔ خزانچی، یہ مضاف ہے ھا مضاف الیہ، اس کا مرجع بھی جہنم ہے ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب فوج کے لئے ہے۔ الم یاتکم : استفہام تقریری ہے۔ لم یات مضارع نفی جحد بلم ۔ صیغہ واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ کیا تمہارے پاس نہیں آیا ؟ نذیر : بمعنی جمع ہے جیسا کہ اگلا جملہ ان انتم ۔۔ سے ظاہر ہے یا یہ مصدر ہے اور مضاف الیہ ہے۔ جس کا مناف محذوف ہے ای اہل انذار (ڈرنے والے) ۔ مطلب یہ کہ کیا تمہارے پاس اللہ کے عذاب سے ڈرانے والے نہیں آئے تھے۔ (یعنی پیغمبر)
Ayah 67:9

قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ Open ayah 67:9 in the Quran reader

وہ کہیں گے کیوں نہیں ضرور ہدایت کرنے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور کہا کہ خدا نے تو کوئی چیز نازل ہی نہیں کی۔ تم تو بڑی غلطی میں (پڑے ہوئے) ہو۔

(67:9) قالوا۔ ماضی بمعنی مستقبل۔ یعنی وہ لوگ جن سے سوال کیا جائے گا کہ کیا تمہارے پاس اللہ کے عذاب سے ڈرانے والے رسول نہیں آئے تھے۔ وہ جواب میں کہیں گے۔ بلی : ہاں ۔ الف اس میں اصلی ہے بعض کہتے ہیں کہ زائد ہے۔ اصل میں بل تھا۔ اور کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ تانیث کے لئے ہے کیونکہ اس میں امالہ ہوتا ہے۔ بلی کا استعمال دو جگہ پر ہوتا ہے :۔ (1) ایک تو نفی ماقبل کی تردید کے لئے جیسے زعم الذین کفروا ان لن یبعثوا قل بلی وربی لتبعثن (64:7) کافر دعوی کرتے ہیں کہ وہ ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے تو کہہ دے کیوں نہیں قسم ہے میرے رب کی تمہیں ضرور اٹھایا جائے گا۔ (2) دوسرے یہ کہ اس استفہام کے جواب میں آئے جو نفی پر واقع ہے خواہ استفہام حقیقی ہو۔ جیسے الیس زید بقائم (کیا زید کھڑا نہیں ہے) اور جواب میں کہا جائے بلی۔ یا استفہام توبیخی، جیسے ایحسب الانسان ان لن تجمع عظامہ بلی قادرین علی ان نسوی بنانہ (75:3-4) انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم ہرگز اس کی ہڈیاں جمع نہیں کریں گے۔ کیوں نہیں ہم قدرت رکھتے ہیں کہ اس کو پورپور درست کردیں۔ یا استفہام تقریری ہو جیسے الست بربکم ، قالوا بلی ، شھدنا (7:172) کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں۔ انہوں نے کہا ہاں (تو ہی ہے) ہم گواہ ہیں۔ قد جاء نا نذیر : یہ جملہ بلی کے مفہوم کی تاکید کے لئے ہے۔ فکذبنا :بمعنی لیکن ۔ لیکن ہم نے نذیر کو جھٹلایا۔ جھوٹا قرار دیا۔ وقلنا ما نزل اللہ من شیء اور ہم نے کہہ دیا کہ اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا۔ یعنی (اے ڈرانے والو ! ) نہ ہی تمہیں اللہ نے بھیجا۔ اور نہ ہی کوئی چیز نازل کی۔ (اس سے انہوں نے اللہ کے رسولوں اور اس کی نازل کردہ کتب سے انکار کردیا) ۔ ان کنتم : میں ان نافیہ ہے۔ تم لوگ خود ہی گمراہی صریح میں پڑے ہوئے ہو۔
Ayah 67:10

وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:10 in the Quran reader

اور کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو دوزخیوں میں نہ ہوتے

(67:10) وقالوا : اس کا عطف گذشتہ قالوا پر ہے۔ اور یہ کلام کفار کا دوزخ پر مامور فرشتوں سے ہے۔ لو کنا نسمع او نعقل : لو شرطیہ ، جملہ شرطیہ ہے ما کنا فی اصحب السعیر : جواب شرط۔ اصحب السعیر مضاف مضاف الیہ ۔ اہل دوزخ۔ (نیز ملاحظہ ہو 67:5 متذکرہ الصدر) ۔ اگر ہم خدا کے عذاب سے ڈرانیوالے پیغمبروں کی بات گوش ہوش سے سن لیتے اور عقل سے کام لیتے ہوئے اس پر عمل کرتے تو آج ہم دوزخیوں میں سے نہ ہوتے۔
Ayah 67:11

فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:11 in the Quran reader

پس وہ اپنے گناہوں کا اقرار کرلیں گے سو دوزخیوں کیلئے (رحمت خدا سے) دوری ہے

(67:11) فاعترفوا بذنبھم : قالوا پر عطف تفسیری ہے یعنی انہوں نے اپنے جرم کا ایسے وقت اعتراف کیا جب اعتراف غیر مفید تھا۔ اعتراف (افتعال) کا معنی ہے پہچاننے کے بعد اقرار کرنا۔ اور (ذنب) گناہ سے مراد ہے کفر۔ ذنب چونکہ اصلا مصدر ہے اور مصادر میں باعتبار اصل جمع نہیں ہوتی اس لئے ذنب کو بصورت جمع ذکر نہیں کیا۔ فسحقا لاصحب السعیر : سحقا مفعول مطلق ہے اور مصدر ہے اس کا فعل محذوف ہے ۔ ای فاسحقھم اللہ سحقا : اللہ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا۔ یہ جملہ بددعائیہ معترضہ ہے (تفسیر المظہری) سحق (باب سمع) مصدر۔ دور کرنا، دفع کرنا، سحق سے سحیق بروزن فعیل بمعنی فاعل بمعنی دور، بعید 22:31 میں مستعمل ہے
Ayah 67:12

اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 67:12 in the Quran reader

اور جو لوگ بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے۔

(67:12) ان الذین یخشون ربھم بالغین : ان حرف مشبہ بالفعل الذین موصول۔ یخشون ربہم صلہ۔ بالغیب متعلق یخشون، مغفرۃ مبتدائ۔ وعاجر کبیر معطوف اس کا عطف مغفرۃ پر ہے لہم خبر مقدم ہے ان کی۔ اور موصول و صلہ مل کر اسم ان۔ یخشون مضارع جمع مذکر غائب خشیۃ (باب سمع) مصدر۔ بمعنی ڈرنا۔ وہ ڈرتے ہیں ۔ ربھم مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول ہے یخشون کا۔ بالغیب : ڈرتے ہیں اس عذاب سے جو ابھی تک ان پر نہیں آیا یا ظاہر نہیں ہوا۔ یا تنہائی میں ڈرتے ہیں۔ یا اللہ کو دیکھے بغیر اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ اجر کبیر : موصوف و صفت ۔ بڑا ثواب۔ جس کے مقابلہ میں ہر لذت، ہیچ ہو۔
Ayah 67:13

وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 67:13 in the Quran reader

اور تم (لوگ) بات پوشیدہ کہو یا ظاہر وہ دل کے بھیدوں تک سے واقف ہے۔

(67:13) واسروا قولکم او اجھروا بہ : کلام مستانفہ ہے اسروا فعل امر ۔ جمع مذکر حاضر۔ اسرار (افعال) مصدر تم چھپاؤ۔ تم چھپا کر کہو۔ اوجھروا بہ : او بمعنی یا۔ اجھروا فعل امر حاضر ، جمع مذکر۔ جھر (باب فتح) مصدر۔ تم زور سے کہو۔ تم کھلم کھلا کہو، تم بلند آواز سے کہو۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ انہ یعلم الجھر من القول ویعلم ما تکتمون (21:110) جو بات پکار کر کی جائے وہ اسے بھی جانتا ہے اور جو تم پوشیدہ کرتے ہو اس سے بھی واقف ہے۔ اسروا او اجھروا۔ دونوں امر کے صیغے ہیں لیکن امر بمعنی خبر سے یعنی تمہارا چپکے چپکے باتیں کرنا اور بلند آواز سے بولنا دونوں علم الٰہی میں برابر ہیں۔ پہلے کفار کا ذکر غائبانہ تھا اب اس آیت میں تہدید کے طور پر غائب سے حاضر کی طرف کلام کو موڑ کر روئے خطاب کافروں کی طرف کردیا گیا ہے۔ انہ علیہم بذات الصدور۔ بیشک وہ دلوں کی بات بھی (خوب) جانتا ہے یعنی زبان پر لانے سے پہلے ہی وہ ان باتوں کو جانتا ہے نہ اس کو بلند آواز سے بولنے کی ضرورت ہے نہ آہستہ آہستہ کہنے کی۔ یہ مساوات (سابقہ) یعنی بلند آواز یا آہستہ بولنے کا اس کے نزدیک برابر ہونا اس کی یہ علت ہے کہ وہ تو بولنے سے قبل ہی اس بات کا علم رکھتا ہے ۔ اس لئے بلند آواز سے بولنا یا آہستہ بولنا سب اس کے نزدیک برابر ہے۔
Ayah 67:14

اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ Open ayah 67:14 in the Quran reader

بھلا جس نے پیدا کیا وہ بیخبر ہے ؟ وہ تو پوشیدہ باتوں کا جاننے والا اور ہر چیز سے آٰگاہ ہے

(67:14) الا یعلم من خلق یہ استفہام انکاری ہے۔ الا خبردار ہوجاؤ۔ جان لو، سن رکھو۔ ذہن نشین کرلو۔ یعلم من خلق اس کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) یعلم فعل بافاعل من خلق موصول اور صلہ مل کر یعلم کا مفعول ۔ ترجمہ ہوگا :۔ اللہ جانتا ہے جس کو اس نے پیدا کیا۔ اس صورت میں الا حرف تنبیہ ہے۔ (2) من خلق فاعل ہے یعلم فعل۔ مفعول محذوف : ای من خلق یعلم ما خلق جس نے پیدا کیا وہ جانتا ہے اس نے کیا پیدا کیا۔ اس صورت میں الا حرف استفہام ہے۔ بہرحال کلام سابق کی یہ تاکید ہے۔ وھو الطیف الخبیر : یہ جملہ خلق کی ضمیر فاعل سے حال ہے یعنی اللہ تعالٰٰ کا علم ہر چیز تک رسائی رکھتا ہے۔ خواہ وہ چیز ظاہر ہو یا پوشیدہ۔ لطیف صیغہ صفت مشبہ حالت رفع۔ باریک بین۔ دقیقہ رس۔ امور دقیقہ کو جاننے والا۔ وقت نظر اور حسن تدبیر سے کام لینے والا۔ بندوں پر مہربان ۔ نیکیوں کی توفیق دینے والا۔ کسی جس کے لطیف ہونے کے معنی ہیں نازک ہونا۔ باریک ہونا۔ کسی بات کے لطیف ہونے کے معنی ہیں باریک ہونا دقیق ہونا۔ کسی حرکت کے لطیف ہونے کے معنی ہیں سبک ہونا۔ ہلکا ہونا۔ لطف نرمی۔ لطف الٰہی اس کی رحمت۔ خبیر : خبردار۔ دانا۔ خبیر بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے اللہ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔ اور قرآن مجید میں یہ صرف ذات باری تعالیٰ کے لئے ہی مستعمل ہے۔
Ayah 67:15

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ Open ayah 67:15 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو نرم کیا تو اس کی راہوں میں چلو پھرو اور خدا کا (دیا ہوا) رزق کھاؤ اور (تم کو) اسی کے پاس (قبروں سے) نکل کر جانا ہے۔

(67:15) ھو الذی جعل لکم الارض ذلولا : الارض مفعول اول۔ فعل جعل کا ذلولا مفعول ثانی، لکم متعلق فعل۔ ذلولا سیغہ صفت مشبہ۔ ذلل جمع : ذل وذل مصدر۔ پست، نرم ، ہموار مطیع۔ یعنی اللہ نے تمہارے لئے زمین کو ایسا بنادیا کہ تم آسانی کے ساتھ اس میں چل پھر سکو۔ جعل بسیط ایک مفعول چاہتا ہے اس وقت بمعنی خلق ہوگا۔ جعل مرکب دو مفعول کو چاہتا ہے اس وقت بمعنی صیر ہوگا۔ پہلی صورت میں ذلولا حال ہوگا الارض سے۔ فامشوا فی مناکبھا :ترتیب کے لئے ہے ای لترتیب الامر بالمشی : امشوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ مشی باب ضرب مصدر۔ بمعنی چلنا۔ تم چلو پھرو۔ مناکبھا۔ مضاف مضاف الیہ، نکب مادہ سے منکب بمعنی کندھا ۔ (جمع مناکب بمعنی کندھے) استعارہ کے طور پر زمین کے راستوں پر بولا جاتا ہے جیسے کہ آیت ہذا میں ۔ اور یہ زمین کے لئے بطور استعارہ ایسے ہی استعمال ہوا ہے جیسا کہ آیت کریمہ ما ترک علی ظھرھا من دابۃ (35:45) تو روئے زمین پر ایک چلنے پھرنے والے کو نہ چھوڑتا۔ میں ظھر کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ حسن ، مجاہد ، کلبی، مقاتل کا قول ہے :۔ مناکب الارض سے مراد زمین کے راستے، گھاٹیاں، کنارے، اطراف ہیں۔ کس لئے کہ انسان کے مناکب بھی اس کے بدن کے کنارے ، جو انب ہیں۔ اس مناسبت سے زمین کے کناروں اور جوانب اور راستوں کو بھی مناکب کہنے لگے۔ وکلوا من رزقہ۔ واؤ عاطفہ، کلوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ اکل (باب نصر) مصدر۔ کھاؤ۔ من تبعیضیہ ہے۔ زرقہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی دی ہوئی روزی سے ۔ صاحب تفسیر مظہر فرماتے ہیں :۔ وکلوا من رزقہ ای اطلبوا : یعنی خداداد نعمت کی طلب کرو۔ کھانے سے مراد طلب کرنا۔ اور رزق سے مراد ہے نعمت خداوندی۔ والیہ النشور : جملہ مستانفہ ہے۔ الیہ میں ضمیر ہ واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔ النشور (باب نصر) مصدر ہے۔ بمعنی جی اٹھنا۔ یعنی جزاء وسزا کے لئے دوبارہ زندہ ہوکر اٹھ کھڑا ہونا۔ مطلب ہے کہ روز قیامت دوبارہ زندہ ہوکر قبروں سے اٹھ کر اسی ہی کی طرف جانا ہے۔
Ayah 67:16

ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ Open ayah 67:16 in the Quran reader

کیا تم اس جو آسمان میں ہے بےخوف ہو کہ تم کو زمین میں دہنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے

(67:16) ی امنتم من فی السماء ہمزہ استفہامیہ ہے استفہام انکاری ہے۔ یعنی نڈر نہ ہونا چاہیے۔ امنتم ماضی جمع مذکر حاضر۔ امن (باب سمع) مصدر ۔ تم امن میں ہوئے تم مطمئن ہوگئے۔ تم نڈر ہوگئے۔ من اسم موصول ۔ فی السمائ۔ صلہ۔ من محل نصب میں ہے بوجہ امنتم کے مفعول ہونے کے۔ کیا تم نڈر ہوگئے ہو اس سے جو آسمان میں ہے۔ ان یخسف بکم الارض : ان مصدریہ۔ یخسف مضارع منصوب (بوجہ عمل ان) واحد مذکر غائب۔ خسف فعل لازم بھی ہے اور متعدی بھی۔ بمعنی دھنسنا۔ دھنسا دینا۔ کہ وہ تم کو دھنسا دے۔ خسف فعل لازم بھی ہے اور متعدی بھی۔ بمعنی دھنسنا یا دھنسانا۔ خسف سے بطور استعارہ ۔ ذلت بھی مراد ہوتی ہے۔ مثلا تحمل زید خسفا۔ زید نے ذلت برداشت کی خسرف (چاند گرہن) بھی اسی مادہ خسف سے مشتق ہے۔ فاذا ہی تمور : اذا مفاجات (ناگہاں، اچانک) کے لئے ہے۔ اور تمور کا معنی ہے ہلنے لگے۔ زمین میں زلزلہ آجائے۔ یعنی اچانک زمین میں لرزہ پیدا ہوجائے (اور اللہ کافروں کو زمین کے اندر دھنسا دے) (تفسیر مظہری) ۔ (اور) کیا تم اس بات سے امن میں ہوگئے ہو کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور یکایک تمہارے دھنسانے کے لئے زمین ہلنے اور لرزنے لگے ، جیسا کہ زلزلے کے وقت ہوتا ہے زمین ہل کر پھٹ جاتی ہے اور آدمی اور بڑے بڑے مکانات اندر سما جاتے ہیں۔ (تفسیر حقانی) صاحب روح المعانی اور علامہ عبد اللہ یوسف علی نے اذا کو مفاجات کی بجائے ظرفیت کے لئے بمعنی جب، جسوقت، لیا ہے ۔ اور اس صورت میں ان یخسف ۔۔ تمور کا ترجمہ ہوگا :۔ کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے جب کہ وہ زلزلے کی صورت میں پھٹی پڑتی ہو تمور : مضارع واحد مؤنث غائب مور (باب نصر) مصدر۔ بمعنی پھرنا، تیز چلنا، وہ لرزتی ہے ، وہ پھرتی ہے، وہ جنبش کرتی ہے۔ وہ پھٹتی ہے۔
Ayah 67:17

اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ Open ayah 67:17 in the Quran reader

کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے نڈر ہو کہ تم پر کنکر بھری ہوا چھوڑ دے سو تم عنقریب جان لو گے کہ میرا ڈرانا کیسا ہے

(67:17) ام امنتم میں ام بمعنی ہل استفہامیہ ہے اور استفہام انکاری ہے یعنی نہیں ہونا چاہیے۔ امنتم : ماضی جمع مذکر حاضر امن (باب سمع) مصدر (ملاحظہ ہو 67:16 متذکرۃ الصدر) یرسل : مضارع منصوب (بوجہ عمل ان) واحد مذکر غائب ارسال (افعال) مصدر وہ بھیجے، وہ بھیج دے۔ خاصبا : (منصوب بوجہ مفعول فعل یرسل کا) حصب (باب ضرب ونصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ کنکریاں اڑانے والی تیز ہوا۔ باد سنگ بار۔ سخت آندھی، حصبا کنکریاں ۔ حصب کنکر۔ ایندھن ۔ جیسے انکم وما تعبدون من دون اللہ حسب جھنم (21:98) تم اور جن کی تم خدا کے سوا عبادت کرتے ہو دوزخ کا ایندھن ہوں گے۔ فستعلمون :عاطفہ س مضارع پر داخل ہوکر اس کو خالص مستقبل کے معنی میں کردیتا ہے تو تمہیں معلوم ہوجائے گا۔ اس کا عطف کلام سابق کے مضمون پر ہے یعنی میں تم کو ڈراتا ہوں اور جب تم کود عذاب کو دیکھ لوگے تو تمہیں معلوم ہوجائے گا۔ کیف نذیر : کیف حرف استفہام ہے بمعنی کیسا، کس طرح، کیونکر۔ نذیر اصل میں نذیری تھا۔ (مضاف مضاف الیہ) ی ضمیر واحد متکلم ساقط ہوگئی۔ کسرہ ی کے حذف ہوجانے کی دلیل ہے۔ میرا ڈرانا۔ نذیر یہاں بطور مصدر مستعمل ہے بمعنی انذار۔
Ayah 67:18

وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 67:18 in the Quran reader

اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی جھٹلایا تھا سو (دیکھ لو کہ) میرا کیسا عذاب ہوا۔

(67:18) ولقد کذب الذین من قبلہم فکیف کان نکیر : قبلہم میں ہم ضمیر کا مرجع کفار مکہ ہیں۔ پہلا کلام خطابی ہے اور اب یہ کلام بصورت غائب، یہ التفات ضمائر کفار مکہ کی مسلسل روگردانی کے پیش نظر نفرت اور ناگوارہ کے اظہار کے لئے اختیار کیا گیا ہے۔ والالتفات الی الغیبۃ لابراز الاعراض عنہم (روح المعانی) الذین من قبلہم سے مراد وہ قومیں ہیں جو کفار مکہ سے قبل ہو گزریں اور جنہوں نے پیغمبروں کا جھٹلایا۔ مثلا قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود ، وغیرہ۔ فکیف کان نکیر سے قبل جملہ مقدرہ ہے۔ ” تم خود دیکھ لو “ میرا انکار کیسا تھا۔ اس کی ترکین نحوی مثل کیف کان نذیر ہے۔ لغات القرآن میں جمل، روح المعانی کے حوالہ سے نکیر کی تشریح یوں تحریر ہے :۔ نکیر، مصدر بمعنی انکار اصل میں نکیری تھا انکار سے مراد ان آیات میں زبانی یا دلی انکار نہیں بلکہ ان کی حالت کو برعکس اور مخالف حالت سے بدل ڈالنا مراد ہے یعنی تغییر الضد بالضد مثلا زندگی کو موت سے آبادی کو دیرانی سے بدل ڈالنا۔ (جمل) کس سخت، ہیبت ناک، دشوار مصیبت میں مبتلا کردینا ہی اللہ کی طرف سے انکار کرنے کا معنی ہے (روح المعانی)
Ayah 67:19

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ Open ayah 67:19 in the Quran reader

کیا انہوں نے اپنے سروں پر اڑتے جانوروں کو نہیں دیکھا جو پروں کو پھیلائے رہتے ہیں اور ان کو سکیٹر بھی لیتے ہیں ؟ خدا کے سوا انہیں کوئی تھام نہیں سکتا۔ بیشک وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے

(67:19) اولم یروا الی الطیر فوقھم۔ ہمزہ استفہامیہ واؤ عاطفہ جس کا عطف کلام مقدرہ پر ہے ای اغفلوا ولم ینظروا ۔۔ کیا وہ بھول گئے اور اپنے اوپر پرندوں کو نہیں دیکھا۔ طیر طائر کی جمع ہے جیسے صاحب کی صحب جمع ہے۔ اور راکب کی جمع رکب ہے ابو عبیدہ اور مطرب کا بیان ہے کہ لفظ طیر واحد اور جمع دونوں کے لئے آتا ہے جیسے آیت ہذا میں بمعنی جمع آیا ہے ۔ اور آیت شریفہ فیکون طیرا باذن اللہ (3:49) تو وہ ہوجاوے اڑتا ہوا (جانور) پرندہ اللہ کے حکم سے۔ میں طیر کا اطلاق واحد پر ہوا ہے۔ ابن الانباری نے کہا ہے کہ طیر جمع ہی ہے اور اس کی تانیث بہ نسبت تذکیر کے زیادہ مستعمل ہے اور واحد کے لئے طیر نہیں بلکہ طائر ہے۔ فوقھم مضاف مضاف الیہ۔ ان کے اوپر۔ صفت : پرا باندھے۔ صف بستہ۔ پر کھولے ہوئے صف (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث۔ صافۃ کی جمع ہے ویقبضن واؤ عاطفہ یقبضن مضارع جمع مؤنث غائب ۔ قبض (باب ضرب) مصدر۔ وہ (پر) سمیٹتے ہیں۔ اس کا عطف صفت پر ہے۔ ہر دو صفت و یقبضن : حال ہیں الطیر سے۔ ترجمہ ہوگا :۔ کیا انہوں نے اپنے اوپر پرندوں کو نہیں دیکھا بحالیکہ وہ (اڑنے میں) پروں کو کھولتے اور بند کرتے ہیں۔ ما یمسکھن : ما نافیہ ، یمسکہن مضارع منفی واحد مذکر غائب ھن ضمیر جمع مؤنث غائب ، امساک (افعال) مصدر ، بمعنی روکے رکھنا، تھامے رکھنا۔ ھن کا مرجع الطیر ہے۔ یہ جملہ مستانفہ بھی ہوسکتا ہے اور یقبضن کے ضمیر فاعل سے حال بھی۔ مایمسکہن الا الرحمن یعنی فضا میں پرندوں کو ان کی فطرت کے خلاف (کہ بھاری چیز ہمیشہ فضا میں زمین کی طرف گرتی ہے) صرف رحمن ہی روکے رکھتا ہے۔ انہ بکل شیء بصیر : یعنی وہ صرف پرندوں کو ہی ہوا میں اڑنے میں ان کی نگہبانی نہیں کرتا بلکہ کائنات میں ہر عجیب و غریب مخلوق کی تخلیق اور تدبیر سے واقف ہے۔
Ayah 67:20

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ Open ayah 67:20 in the Quran reader

بھلا ایسا کون ہے جو تمہاری فوج ہو کر خدا کے سوا تمہاری مدد کرسکے کافر تو دھوکے میں ہیں

(67:20) امن ھذا الذی ھو جند لکم ینصرکم من دون الرحمن : امن مبتداء ھذا، اس کی خبر۔ الذی ھو جند لکم ھذا سے بدل ینصرکم من دون الرحمن صفت ہے جند کی۔ مشارالیہ، جند سے مراد غیر اللہ کی مدد ہے۔ (مدارک التنزیل) امن : ام بمعنی کیا، خواہ، بھلا، من استفہامیہ سے مرکب ہے، استفہام انکاری ہے جند فوج، واحد، جنود جمع۔ من دون الرحمن خدا کو چھوڑ کر، خدا کے سوا۔ خدا سے ورے، خدا کے مقابلہ میں۔ ترجمہ از شاہ عبد القادر (رح) :۔ بھلا وہ کون ہے جو فوج ہے تمہاری ، مدد کرے گی تمہاری ، رحمان کے سوا۔ مطلب یہ کہ تمہارا کوئی لشکر یا فوج نہیں کہ رحمان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرسکے۔ ان الکفرون الا فی غرور : ان نافیہ ہے۔ غرور (باب نصر) مصدر۔ بمعنی فریب، فریب دینا۔ کچھ نہیں کافر لوگ مگر محض دھوکہ میں پڑے ہوئے ہیں۔
Ayah 67:21

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ Open ayah 67:21 in the Quran reader

بھلا اگر وہ اپنا رزق بند کرلے تو کون ہے جو تم کو رزق دے ؟ لیکن یہ سرکشی اور نفرت میں پھنسے ہوئے ہیں

(67:21) امن ھذا الذی یرزکم ان امسک رزقہ : امن مبتدا۔ ھذا اس کی خبر۔ الذی یرزقکم بدل ہے ھذا سے۔ بھلا وہ کون ہے جو روزی دے گا تم کو اگر وہ رکھ چھوڑے (یعنی روکے رکھے) اپنی روزی استفہام انکاری ہے، مراد یہ کہ اگر پروردگار اپنی روزی کو بندے سے روک دے۔ تو اس کے مقابلہ میں کوئی نہیں جو بندے کو روزی دے سکے۔ ان شرطیہ ہے۔ امسک ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب امساک (افعال) مصدر ۔ بمعنی روکے رکھنا۔ روکنا۔ اگر وہ روکے رکھے اپنے رزق کو۔ بل حرف اضراب ہے۔ پہلے حکم کو برقرار رکھ کر اس کے مابعد کو اس حکم پر اور زیادہ کردیا گیا ہے یعنی کافرین نہ صرف شیطان کی طرف سے فریب و دھوکے میں ہیں بلکہ مزید برآں اس فریب خوردنی میں بڑھئے جاتے ہیں۔ لجوا۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ، لجاج ولجاجۃ (باب سمع و ضرب) مصدر۔ بمعنی اڑے رہنا۔ لجاج کسی ممنوع فعل پر اڑے رہنے کو کہتے ہیں۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ ولو رحمنھم وکشفنا مابھم من ضر للجوا فی طغیانھم یعمھون (23:75) اور اگر ہم ان پر رحم کریں اور جو تکلیفیں ان کو پہنچ رہی ہیں وہ دور کردیں تو بھی وہ اپنی سرکشی پر اڑے رہیں (اور) بھٹکتے (پھریں عتو : شرارت، سرکشی، نافرمانی، عتا یعتوا (باب نصر) سے مصدر ہے جس کے معنی اطاعت ست اکڑنے، تکبر کرنے اور حد دے بڑھ جانے کے ہیں۔ ونفور : واؤ عاطفہ اس کا عطف عتو پر ہے۔ نفور (باب نصر و ضرب) سے مصد رہے بمعنی بھاگنا ، دور ہونا، حق سے دور ہونا۔ رتبا عد عن الحق (خازن)
Ayah 67:22

اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 67:22 in the Quran reader

بھلا جو شخص چلتا ہوا منہ کے بل گرپڑتا ہے وہ سیدھے راستے پر ہے یا وہ جو سیدھے راستے پر برابر چل رہا ہو

(67:22) افمن یمشی مکبا علی وجھہ اھدی : ہمزہ استفہامیہ ہے۔ترتیب کا ہے۔ من موصولہ مبتداء ہے یمشی مکبا علی وجھہ صلہ۔ مکبا علی وجھم ضمیر فاعل یمشی سے حال ہے۔ یمشی مضارع واحد مذکر غائب کا صیغہ ، مشی باب ضرب مصدر سے ۔ وہ چلتا ہے۔ مکبا اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ اکباب (افعال) مصدر سے ، سرنگوں ، اوندھا یعنی رستہ کی دشواری ونشیب ق فراز کی وجہ سے چلتے چلتے ٹھوکر کھا کر گرپڑنا ہے منہ کے بل۔ اھدی ، ھدایۃ سے (باب ضرب) مصدر سے، افعل التفضیل کا صیغہ۔ بمعنی زیادہ ہدایت یافتہ، یہ مبتداء کی خبر ہے۔ امن یمشی سویا علی صراط مستقیم : اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے تعلیل نحوی تقریبا وہی ہے جو جملہ سابقہ کی ہے۔ سویا سیدھا، درست، صحیح، بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ امام راغب لکھتے ہیں : ۔ سوی اس کو کہا جاتا ہے جو مقدار اور کیفیت دونوں حیثیت سے افراط و تفریطہ سے پاک ہو۔ محفوظ ہو، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :۔ ثلث لیال سویا (19:10) تین رات تک بھلا چنگا۔ اور دوسری جگہ فرمایا :۔ من اصحب الصراط السوی (20 : 135) کون ہیں سیدھی راہ والے۔ اور رجل سوی وہ ہے جس کے اخلاق بھی اور خلقت بھی افراط و تفریط کے اعتبار سے معتدل ہوں۔ صراط مستقیم : موصوف و صفت، سیدھا راستہ۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ بھلا جو شخص چلتا ہوا منہ کے بل گرپڑتا ہے وہ زیادہ سیدھے راستہ پر ہے (یا ہدایت یافتہ ہے) یا وہ جو سیدھے راستہ پر مسلسل چل رہا ہو۔ برابر چل رہا ہو۔
Ayah 67:23

قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 67:23 in the Quran reader

کہہ دو وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے (مگر) تم کم احسان مانتے ہو۔

(67:23) قل ھو الذی انشاکم : مذکورہ بالا دونوں آیات : امن ھذا الذی ھو جند لکم ینصرکم اور امن ھذا الذی ھو یرزقکم میں صراحت فرمائی تھی کہ کافروں کا کوئی حمایتی نہ ان کی مدد کرسکتا ہے اور نہ ان کو رزق دے سکتا ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر نصرت اور رزق کون عطا کرتا ہے ؟ اس سوال مقدرہ کے جواب میں فرمایا :۔ کہ تم کو نصرت اور رزق وہی عطا فرماتا ہے جس نے تم کو پیدا کیا تاکہ تم اس کو پہچانو اور اس کی عبادت کرو۔ (تفسیر مظہری) انشأ ماضی واحد مذکر غائب انشاء (افعال) مصدر۔ اس نے پیدا کیا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر، تم کو۔ السمع کان ، سننا، الابصار (آنکھیں) بصر کی جمع۔ الافئدۃ (دل) فؤاد کی جمع۔ السمع اصل میں مصدر ہے۔ اور مصدر کی جمع (اصل وضع کے اعتبار سے) نہیں آتی۔ اس لئے السمع کو بصورت مفرد ذکر کیا۔ لیکن البصر اور الفؤاد کی یہ حالت نہیں (یہ مصدر نہیں ہیں) اس لئے الابصار، الافئدۃ کو بصورت جمع ذکر کیا۔ ہر سہ السمع، الابصار، الافئدۃ منصوب بوجہ مفعول جعل کے ہیں۔ قلیلا ما تشکرون ۔ قلیلا صفت مشبہ بحالت نسب بوجہ مفعول۔ تھوڑا۔ قلۃ (باب ضرب) مصدر۔ اگر یہاں مراد تھوڑا شکر لیا جائے تو یہ مفعول مطلق ہوگا۔ اور اگر اس کا مطلب ” کم وقت میں “ لیا جائے تو یہ مفعول فیہ ہوگا۔ دونوں صورتوں میں موصوف محذوف ہوگا۔ ما لفطا زائدہ ہے اور معنی مفہوم قلت کی تاکید ہے۔ بہت ہی تھوڑے وقت میں شکر کرتے ہو۔ قلت شکر سے مجازا نفی شکر ہے۔ بالکل شکر نہیں کرتے، یا کسی وقت بھی شکر نہیں کرتے۔ تشکرون ۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ شکر (باب نصر) مصدر، تم شکر کرتے ہو۔
Ayah 67:24

قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 67:24 in the Quran reader

کہہ دو وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا اور اسی کے روبرو تم جمع کئے جاؤ گے۔

(67:24) قل : امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ قول (باب نصر) مصدر۔ تو کہہ۔ یہ لفظا یہاں زائد ہے اور معنی تاکید کے لئے مفید ہے۔ ھو الذی ذراکم فی الارض : یہ جملہ ھو الذی انشاکم سے بدل ہے والیہ تحشرون : یہ جملہ ذراکم کے فاعل (یعنی اللہ) سے حال ہے۔ ذرا ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ ذرء (باب فتح) مصدر۔ اس نے پیدا کیا ۔ اس نے پھیلایا۔ اس نے بکھیرا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اس نے تم کو پیدا کیا۔ اس نے تم کو پھیلایا۔ تحشرون ۔ مضارع مجہول جمع مذکر حاضر حشر (باب نصر) مصدر۔ تم جمع کئے جاؤ گے۔ تم اکھٹے کئے جاؤ گے۔
Ayah 67:25

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 67:25 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعید کب (پوری) ہوگی ؟

(67:25) ویقولون : واؤ عاطفہ، یقولون، مضارع جمع مذکر غائب، وہ کہتے ہیں یعنی کافر عتو اور نفور کی بنا پر مسلمانوں سے سوال کرتے ہیں۔ پوچھتے ہیں حجت کے طور پر۔ متی ھذا الوعد : الوعد سے مراد وعدہ حشر ہے۔ یعنی کافر پوچھتے ہیں کہ وعدہ حشر کب پورا ہوگا ؟ ان کنتم صدقین : ان شرطیہ ہے یہ جملہ شرطیہ ہے ۔ جواب شرط محذوف ہے ای ان کنتم صدقین فیما تحبرونہ من مجی الساعۃ والحشر فبینوا وقتہ۔
Ayah 67:26

قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 67:26 in the Quran reader

کہہ دو کہ اس کا علم خدا ہی کو ہے اور میں تو کھول کھول کر ڈر سنا دینے والا ہوں۔

(67:26) قل : (توکہہ دے) یعنی جب کفار یہ سوال کریں تو آپ یہ جواب دیں ۔ انما العلم عند اللہ : انما : ان حرف مشبہ بالفعل اور ما کافہ سے مرکب ہے ۔ ما کافہ حصر کے لئے آتا ہے۔ اور ان کو عمل لفظی سے روک دیتا ہے۔ بیشک ، تحقیق، سوائے اس کے نہیں۔ العلم ای علم وقت الساعۃ قیامت کے وقوع کے وقت کا علم۔ یعنی قیامت کب اور کس وقت وقوع پذیر ہوگی اس کا ٹھیک ٹھیک علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ نذیر مبین : مرکب توصیفی ہے، واضح طور پر ڈرانے والا۔ خبردار کرنے والا۔
Ayah 67:27

فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ Open ayah 67:27 in the Quran reader

تو جب وہ دیکھ لیں گے کہ وہ (وعدہ) قریب آگیا تو کافروں کے منہ برے ہوجائیں گے اور (ان سے) کہا جائے گا کہ یہ وہی ہے جس کے تم خواستگار تھے۔

(67:27) فلما راوہ :ترتیب کا ہے۔ پھر ، لما : یہاں بطور کلمہ ظرف مستعمل ہے اور شرط کے لئے آیا ہے۔ بمعنی جب۔ راوہ : ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے اور ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع الوعد (آیت 25 میں مذکور ہے) الوعد سے مراد روز حشر، وقت وقوع حشر، حشر کے دن کا عذاب۔ زلفۃ : ای قریبا منہم۔ اپنے قریب ہی ، اپنے پاس ہی ، یہ راوہ میں ہ ضمیر مفعول سے حال ہے۔ پھر جب وہ اسے اپنے قریب ہی پائیں گے یاد یکھیں گے۔ فلما راوہ زلفۃ جملہ شرط ہے۔ سیئت وجوہ الذین کفروا : جواب شرط۔ سیئت ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب سوء (باب نصر) مصدر۔ بمعنی غمگین کرنا۔ برا سلوک کرنا۔ س و ء مادہ سے باب افعال سے اساء یسی اساء ۃ خراب کرنا ، بگاڑنا۔ وجوہ مفعول مالم یسم فاعلہ۔ مضاف، الذین کفروا سلہ و موصول مل کر مضاف الیہ کافر لوگوں کے چہرے۔ سیئت وجوہ الذین کفروا : ای اساء ھا اللہ فتغیرت بالاسواد و الکابۃ والحزن (ایسر التفاسیر) اللہ تعالیٰ ان کے چہرے بگاڑ دے گا اور وہ حشر کے روز متواتر تاریکی میں ٹھوکریں کھانے اور افتاں وخیزاں چلنے سے بگڑ جائیں گے (افمن یمشی مکبا علی وجہہ اھدی ۔۔ کی طرف اشارہ ہے) ۔ اکثر مفسرین نے اس کا ترجمہ صیغہ ماضی معروف میں کیا ہے۔ کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے وقیل : ای وقیل لہم اور (ان کافروں سے) کہا جائے گا۔ قیل کا عطف سیئت پر ہے ھذا کا اشارہ عذاب آخرت کی طرف ہے۔ کنتم بہ تدعون : کنتم تدعون ماضی استمراری جمع مذکر غائب ادعاء افتعال مصدر۔ تم دعا کیا کرتے تھے، تم آرزو کیا کرتے تھے۔ تم مانگا کرتے تھے۔
Ayah 67:28

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 67:28 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر خدا مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر مہربانی کرے تو کون ہے جو کافروں کو دکھ دینے والے عذاب سے پناہ دے

(67:28) قل : ای قل یا محمد لمشر کی مکۃ الذین یتمنون ہلاکک ای محمد ( ﷺ ) مکہ کے کافروں کو جو آپ کی موت کے متمنی ہیں کہہ دو ۔ ارائیتم : کیا تم نے دیکھا۔ یہ محاور بمعنی ارونی (بھلا مجھے دکھاؤ تو) یا اخبرونی بھلا مجھے بتاؤ تو) استعمال ہوتا ہے۔ ان اھلکنی اللہ ومن معی اور حمنا : ان حرف شرط ہے اہلکنی اللہ جملہ شرطیہ ہے ۔ ومن معی اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے جملہ شرط ہے او حرف عطف رحمنا جملہ شرط جس کا عطف جملہ اول پر ہے۔ اہلکنی : اہلکماضی واحد مذکر غائب اہلاک (افعال) مصدر ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم اگر وہ (یعنی اللہ) مجھے ہلاک کردے ومن معی : من موصولہ، معی صلہ۔ اور ان کو جو میرے ساتھی ہیں (یعنی مؤمن) فمن یجیر الکافرین من عذاب الیم۔ جواب شرط۔ یجیر مضارع واحد مذکر غائب اجارۃ (افعال) مصدر۔ کون پناہ دے گا جور مادہ۔ جار پڑوسی، پناہ دینے یا لینے والا۔ جوز ظلم ۔ زیادتی۔ عذاب الیم : موصوف صفت، دردناک عذاب۔ یعنی کوئی بھی پناہ نہیں دے سکتا۔ جملہ استفہامیہ انکاریہ ہے۔ جواب شرط میں۔
Ayah 67:29

قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 67:29 in the Quran reader

کہہ دو کہ وہ (جو خدائے) رحمن (ہے) ہم اسی پر ایمان لائے اور اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ تم کو جلد معلوم ہوجائیگا کہ صریح گمراہی میں کون پڑ رہا تھا

(67:29) قل ھو الرحمن امنا بہ : ای قل یا محمد ﷺ ھو (یعنی اللہ) ۔ الرحمن : یعنی اے رسول اللہ ﷺ ان کفار سے فرما دیجئے کہ وہ اللہ جس کے اختیار میں ہماری ہلاکت یا پناہ ہے وہ بہت ہی رحم کرنے والا ہے۔ (ھو ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع آیت مندرجہ بالا ان اہلکنی اللہ ۔۔ الخ میں اللہ ہے امنا بہ (ہم اسی پر ایمان رکھتے ہیں) وعلیہ توکلنا (اور اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں) یہ دونوں جمع الرحمن کی صفت ہیں۔ یا ھو ضمیر شان ہے۔ اور امنا بہوعلیہ توکلنا خبر ہے الرحمن کی۔ ضمیر شان کا فائدہ یہ ہے کہ مخبر عنہ (الرحمن) کی تعظیم اور بڑائی پر دلالت کرتی ہے اس طرح کہ پہلے اس کا مبہم طریقہ سے ذکر کرکے پھر اس کی تشریح کی جائے۔ علیہ کو توکلنا سے مقدم ذکر کرنا حصر پر دلالت کرتا ہے (اسی پر ہمارا بھروسہ ہے) حیصر کا مفہوم ھو الرحمن سے بھی مستفاد ہوتا ہے مبتدا اور خبر جب دونوں معرفہ ہوں تو مفید حصر ہوتے ہیں۔ (وہی رحمن ہے) اس جملہ سے اس کی تائید ہوتی ہے گویا یہ جملہ سابق دونوں جملوں کی تاکید کر رہا ہے۔ حقیقت میں اس آیت کا مفہوم نتیجہ ہے ان دلائل کا جو پہلے بیان کئے گئے ہیں اور اسی پر مؤمنوں اور کافروں کے آئندہ حکم کی بنا ہے اسی لئے اگلے جملے میںسببیت کی لائی گئی ہے۔ (تفسیر المظہری) فستعلمون من ھو فی ضلال مبین ۔سببیت کی ہے (جیسا کہ ابھی اوپر گزرا) س مجارع پر داخل ہوکر اس کو خالص مستقبل کے معنی میں کردیتا ہے اور مستقبل قریب کے معنی دیتا ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ پس تم کو جلد معلوم ہوجائے گا کہ کون صریح گمراہی میں پڑا ہوا ہے۔ من استفہامیہ محل نصب میں ہے کیونکہ تعلمون کا مفعول ہے۔
Ayah 67:30

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠ Open ayah 67:30 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر تمہارا پانی (جو تم پیتے ہو اور برتتے ہو) خشک ہوجائے تو (خدا کے سوا) کون ہے جو تمہارے لیے شیریں پانی کا چشمہ بہا لائے

(67:30) ارائیتم : ملاحظہ ہو 67:28 متذکرۃ الصدر۔ ان اصبح ماء کم غورا : ان شرطیہ جملہ شرطیہ ہے۔ اصبح : ماضی واحد مذکر غائب افعال ناقصہ میں سے ہے۔ اصباح (افعال) مصدر۔ اس نے صبح کی۔ اس کو صبح ہوئی۔ ہوگیا۔ ماء کم : مضاف مضاف الیہ ۔ تمہارا پانی، یعنی وہ پانی جو تمہارے استعمال کے لئے تمہیں جیا کہا جاتا ہے۔ جیسے پینے کا پانی ، فصلوں کی آبپاشی کے لئے مطلوبہ پانی۔ غورا : غور مصدر ہے بمعنی فاعل۔ غور کے معنی ہیں پانی کا زمین کے اندر گھس جانا۔ کسی چیز کا اندر کی طرف چلے جانا (باب نصر) ۔ یہاں آیت ہذا میں غور (مصدر) بمعنی غایر زمین میں گھس کر خشک ہوجانے والا پانی، جو ہاتھ یا ڈول وغیرہ کی دسترس سے باہر ہوگیا ہو۔ نشیبی جگہ یا گڑھا کو بھی غور کہتے ہیں۔ غورا بوجہ خبر اصبح کے منصوب ہے۔ فمن یاتیکم بماء معین : جملہ جواب شرط ہےجواب شرط کے لئے۔ من استفہامیہ انکاریہ، کون ؟ کوئی بھی نہیں۔ ماء معین : موصوف و صفت، جاری پانی۔ معین صیغہ صفت بروزن فعیل بمعنی جاری۔ معن مصدر۔ جاری ہونا۔ جاری کرنا۔ گھاس کا سیراب ہونا۔ بعض کے نزدیک معین میں میم زائد ہے عین کا معنی ہے ظہور۔ وہ جاری پانی جس کو سامنے ہونے کی وجہ سے ہر کوئی دیکھ لے۔ کہیں جھاڑیوں اور جنگلوں میں چھپا ہوا نہ ہو معین کہلاتا ہے۔ بغوی (رح) نے اس کے معنی لکھے ہیں : بالکل سامنے ، جس کو آنکھیں دیکھ سکیں اور ہاتھوں اور ڈولوں سے اس کو لیا جاسکے۔ (اللہ رب العلمین)