Al-Mulk 67:7

Al-Mulk · from ayah 7

67:7

اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّهِیَ تَفُوْرُ ۟ۙاِذَاۤ اُلۡقُوۡا فِيۡهَا سَمِعُوۡا لَهَا شَهِيۡقًا وَّهِىَ تَفُوۡرُۙ

جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے تو اس کا چیخنا چلانا سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہوگی

— Fateh Muhammad Jalandhari

When they are thrown into it, they hear from it a [dreadful] inhaling while it boils up.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mulk

All translations of 67:7

جب وہ اُس میں پھینکے جائیں گے تو اسکے دھاڑنے کی ہولناک آواز سنیں گے اور وہ جوش کھا رہی ہوگی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے تو اس کا چیخنا چلانا سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہوگی

— مولانا فتح محمد جالندہری

جب اس میں یہ ڈالے جائیں گے تو اس کی بڑے زور کی آواز سنیں گے اور وه جوش مار رہی ہوگی

— مولانا محمد جوناگڑہی

جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے تو اس کے دہاڑ نے کی آواز سنیں گے، او وہ جوش مارتی ہوگی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جب اس میں ڈالے جائیں گے اس کا رینکنا (چنگھاڑنا) سنیں گے کہ جوش مارتی ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے تو اس کی خوف ناک آواز سنیں گے اور وہ (آگ) جوش مار رہی ہوگی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے، اس کے لیے گدھے کے زور سے چیخنے جیسی آواز سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہوگی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جب وہ اس میں پھینکے جائیں گے تو اس کے دہاڑنے کی آواز سنیں گے اور وہ اچھل رہی ہوگی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جب وہ اس میں جھونکے جائیں گے اس کا دھاڑنا سنیں گے اور وہ جوش مارتی ہوگی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے تو وہ اس کے سخت شور کی آوازیں سنیں گے

— مولانا اسحاق مدنی

اس میں جب یہ لوگ ڈالے جائیں گے تو اس کی (بڑی) زور کی گرج سنیں گے اور وہ اس طرح جوش ماررہی ہوگی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جب وہ اس میں جھونکے جائیں گے تو اسے سنیں گے دھاڑتے ہوئے اور وہ بہت جوش کھا رہی ہوگی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے تو اس کا دہاڑنا سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہوگی

— محترمہ رفعت اعجاز

When they will be cast into it, they will hear it roar as it boils,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When they will be thrown in it, they will hear a terrible sound from it, and it will be boiling,

— Muhammad Taqi Usmani

When they will be thrown in it, they will hear a terrible sound from it, and it will be boiling,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

When they are cast therein, they will hear its Shahiq while it is simmering.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

When they are flung therein they hear its roaring as it boileth up,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

When they are thrown into it, they hear from it a [dreadful] inhaling while it boils up.

— Saheeh International

When they are thrown into hell, they will hear its roaring while it boils.

— Muhammad Sarwar

When they shall be cast therein, they shall hear a loud moaning of it as it heaves,

— Muhammad Habib Shakir

When they will be cast thereinto, they will hear thereof a braying even as it balleth up,

— Abdul Majid Daryabadi

When they are cast therein, they will hear the (terrible) drawing in of its breath even as it blazes forth,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 67:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 6–11

جہنم کا داروغہ سوال کرے گا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے، وہ جہنمی ہے اس کا انجام اور جگہ بد سے بد ہے۔ یہ بلند اور مکروہ گدھے کی سی آوازیں مارنے والی اور جوش مارنے والی جہنم ہے جو ان پر جل رہی ہے اور جوش اور غضب سے اس طرح کچ کچا رہی ہے کہ گویا ابھی ٹوٹ پھوٹ جائے گی، اور دوزخیوں کو زیادہ ذلیل کرنے اور آخری حجت قائم کرنے اور اقبالی مجرم بنانے کے لئے داروغہ جہنم ان سے پوچھتے ہیں کہ بدنصیبو ! کیا اللہ کے رسولوں نے تمہیں اس سے ڈرایا نہ تھا ؟ تو یہ ہائے وائے کرتے ہوئے اپنی جانوں کو کو ستے ہوئے جواب دیتے ہیں کہ آئے تو تھے لیکن وائے بدنصیبی کہ ہم نے انہیں جھوٹا جانا اور اللہ کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُلْک 13 اصل میں لفظ شھیق استعمال ہوا ہے۔ جو گدھے کی سی آواز کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس فقرے کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ خود جہنم کی آواز ہوگی، اور یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ آواز جہنم سے آ رہی ہوگی جہاں ان لوگوں سے پہلے گرے ہوئے لوگ چیخیں مار رہے ہوں گے۔ اس دوسرے مفہوم کی تائید سورة ہود کی آیت 106 سے ہوتی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ دوزخ میں یہ دوزخی لوگ " ہانپیں گے اور پھنکارے ماریں گے "۔ اور پہلے مفہوم کی تائید سورة فرقان آیت 12 سے ہوتی ہے جس میں ارشاد ہوا ہے کہ دوزخ میں جاتے ہوئے یہ لوگ دور ہی سے اس کے غضب اور جوش کی آوازیں سنیں گے۔ اس بنا پر صحیح یہ ہے کہ یہ شور خود جہنم کا بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 5–14

(آیت) وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ ، مصابیح سے مراد ستارے ہیں اور نیچے کے آسمان کو ستاروں سے مزین کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ ستارے آسمان کے اندر یا اس کے اوپر لگے ہوئے ہوں بلکہ یہ تزیین اس صورت میں بھی صادق ہے جبکہ ستارے آسمان سے بہت نیچے خلا میں ہوں جیسا کہ تحقیق جدید سے اس کا مشاہدہ ہو رہا ہے یہ اس کے منافی نہیں اور ستاروں کو شیاطین کے دفع کرنے کے لئے انگارے بنا دینے کا یہ مطلب ہوسکتا ہے کہ ستاروں میں سے کوئی مادہ آتشیں ان کی طرف چھوڑ دیا جاتا ہو ستارے اپنی جگہ رہتے ہوں، عوام کی نظر میں چونکہ یہ شعلہ ستارہ کی طحر حرکت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فرمایا کہ جب یہ منکرین دوزخ میں جھونکے جائیں گے تو ان کو دیکھ کر جہنم اس طرح دھاڑے گی جس طرح بھوکا شیر شکار کو دیکھ کر دھاڑتا ہے اور وہ جوش مار رہی ہو گی۔ یعنی اس کا بھڑکنا اپنے پورے شباب پر ہو گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

7۔ 1 شَھِیْق، اس آواز کو کہتے ہیں جو گدھا پہلی مرتبہ نکالتا ہے، یہ قبیح ترین آواز ہوتی ہے۔ جہنم بھی گدھے کی طرح چیخ اور چلا رہی اور آگ پر رکھی ہوئی ہانڈی کی طرح جوش مار رہی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–15

3: یعنی زمین کی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے تصرف میں دے دی ہیں، لیکن ان کو استعمال کرتے وقت یہ مت بھولو کہ تمہیں ہمیشہ یہاں نہیں رہنا، بلکہ ایک دن یہاں سے اللہ تعالیٰ ہی کے پاس جانا ہے جہاں تمہیں ان نعمتوں کا حساب دینا ہوگا۔ لہذا یہاں کی ہر چیز کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہی استعمال کرو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اذا القوا .................... الغیظ (76 : 8) ” جب وہ اس میں پھینکے جائیں گے تو اس کے دہاڑنے کی ہولناک آواز سنیں گے اور وہ جوش کھارہی ہوگی ، شدت غضب سے پھٹی جاتی ہوگی “۔ ذرا جہنم کو دیکھو ، یہ زندہ مخلوق کی طرح ہے۔ اسے غصہ آرہا ہے اور وہ اپنے غصے پر قابو پانے کی کوشش کررہی ہے اور اس کی سانس پھول رہی ہے اور اس طرح اس کی سانس شدت غضب سے پھنکار کی شکل اختیار کررہی ہے۔ اس پر اس کے غصے ، کراہت اور نفرت کی وجہ سے اس قدر دباﺅ ہے کہ قریب ہے کہ وہ پھٹ پڑے۔ بظاہر تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ انداز بیان ایک مجازی تصویر کشی کا انداز ہے لیکن ہم اس کائنات کا جس قدرگہرا مطالعہ کریں گے ، معلوم ہوگا کہ اللہ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یعنی اس وقت دوزخ کی آواز سخت کر یہ اور خوفناک ہوگی اور بےانتہا جوش و اشتعال سے ایسا معلوم ہوگا گویا غصہ میں آکر پھٹی پڑتی ہے اعاذنا اللہ منہا بلطفہ وکرمہ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7{ اِذَآ اُلْقُوْا فِیْہَا سَمِعُوْا لَہَا شَہِیْقًا وَّہِیَ تَفُوْرُ۔ } ”جب وہ اس میں جھونکے جائیں گے تو اسے سنیں گے دھاڑتے ہوئے اور وہ بہت جوش کھا رہی ہوگی۔“ جہنم انہیں دیکھ کر غصے سے دھاڑرہی ہوگی جیسے کوئی بھوکا بھیڑیا اپنے شکار پر جھپٹتے ہوئے غراتا ہے۔ سورة قٓ میں جہنم کے غیظ و غضب کی ایک کیفیت یوں بیان ہوئی ہے : { یَوْمَ نَـقُوْلُ لِجَہَنَّمَ ہَلِ امْتَلَاْتِ وَتَقُوْلُ ہَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ۔ } ”جس دن کہ ہم پوچھیں گے جہنم سے کہ کیا تو بھر گئی ؟ اور وہ کہے گی کیا کچھ اور بھی ہے ؟“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 7–8

11 شَھِیْقًا۔ زفیر اور شھیق گدھے کے ہینگنے کے وقت اس آواز کی ابتدائی اور آخری حالت کا نام ہے۔ زفر بمعنی لمبا سانس باہر نکالنا اور زفیر گدھے کے ہینگنے کی ابتدائی آواز جو آہستہ سے اونچی ہونا شروع ہوجاتی ہے اور جب گدھا ہینگنے کے عمل کو ختم کرنے لگے تو وہ آواز جو اونچی آواز سے پست ہونا شروع ہوتی ہے اسے شَھِیِْقٌ کہتے ہیں۔ پھر یہ گدھے کی آواز قرآن کی تصریح کے مطابق سب سے زیادہ مکروہ اور کانوں کو ناگوار محسوس ہونے والی ہوتی ہے۔ ایسی ہی مکروہ آواز دوزخ کی پیدا ہو رہی ہوگی۔ پھر اس کی بھی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ ایسی آواز جہنم کے جوش مارنے سے پیدا ہوگی۔ دوسرے یہ کہ دوزخ میں جو لوگ پہلے پڑے ہوں گے۔ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 6–8

6۔ (جس نے تم کو اس عذاب سے ڈرایا ہو ؟ ) (آیت) ” کلما ..... نذیر “۔ دوزخ میں کافروں کے مختلف گروہ اپنے اپنے مرتبہ کفر کے لحاظ سے ڈالے جائیں گے۔ یہ سوال ہر نئے گروہ سے ہوگا۔ فرشتوں کے سوال کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ شدید عذاب تو ایسی چیز تھی کہ تمہیں اس کی خبر اگر بدرجہ احتمال پہنچتی، جب بھی تمہیں اس سے اپنے کو بچانا واجب تھا تو کیا ایسے ہولناک انجام کی تمہیں سرے سے خبر ہی نہیں پہنچی تھی ؟ (آیت) ” تکاد تمیز من الغیظ “۔ یہ فقرہ جہنم کے جوش و خروش کی بےانتہاشدت ظاہر کرنے کو ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–11

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، وہ بڑا عالی شان ہے محدثین (مخلوق) کی صفات سے پاک ہے، جس کے قبضہ تصرف میں بادشاہی اور قدرت ہے جس نے دنیا میں موت کو پیدا فرمایا اور حیات کو آخرت میں پیدا فرمایا، دونوں کو دنیا میں پیدا فرمایا چناچہ نطفہ میں حیات ڈالی جاتی ہے، اور حیات وہ ہے کہ جس سے احساس ہوتا ہے، اور موت اس کی ضد ہے یا عدم حیات کا نام موت ہے، یہ دونوں قول ہیں، اور ثانی صورت میں خلق بمعنی تقدیر ہوگا، تاکہ حیات میں تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون شخص عمل میں زیادہ اچھا ہے ؟ یعنی زیادہ فرمانبردار ہے، وہ اپنی نافرمانی کرنے والے سے انتقام لینے میں زبردست ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اذا القوا فیھا . جب کافروں کو جہنم میں ڈالا جائے گا۔ سمعوا لھا شھیقا . شہیق ‘ گدھے کی آواز یعنی گدھے جیسی آواز جہنم کی آگ سے نکلتی ہوئی سنیں گے۔ یہ آگ کی آواز ہوگی یا ان لوگوں کی جو ان داخل ہونے والوں سے پہلے جہنم میں جا چکے ہوں گے یا خود ان کی ہوگی۔ لھا حال ہے شھیقًا کا شھیقًا نکرہ تھا ‘ اس لیے حال کو اس سے پہلے ذکر کردیا۔ وھی تفور . ہانڈی کی طرح جہنم میں ابال آتا ہوگا ‘ ہناد نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ جس طرح کم پانی والے کنوئیں سے کبھی پانی اوپر کو ابلتا ہے ‘ اسی طرح کافروں کے داخلہ کے بعد جہنم میں ابال آئیگا۔ یہاں مجازی معنی (جوش کی شدت) مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 6–9

(6۔ 9) جب یہود و نصاری مجوسی اور مشرکین عرب میں سے لوگ دوزخ میں ڈالے جائیں گے تو دوزخ کی گدھے کی طرح ایک بڑے زور کی آواز سنیں گے اور وہ اس طرح جوش مارتی ہوگی کہ ابھی کفار پر غصہ کے مارے پھٹ پڑے گی۔ جب دوزخ میں ان مذکورہ کافروں کا کوئی گروہ ڈالا جائے گا تو دوزخ کے محافظ ان لوگوں سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا پیغمبر نہیں آیا تھا تو وہ کہیں گے کہ واقعی ہمارے پاس ڈرانے والا پیغمبر آیا تھا۔ تو ہم لوگوں نے اسے جھٹلایا اور کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی کتاب نازل نہیں کی اور نہ ہماری طرف کسی کو رسول بنا کر بھیجا ہے اور ہم نے رسولوں سے یوں کہہ دیا کہ تم بڑی غلطی میں پڑے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِذَآ اُلْقُوْا فِیْہَا سَمِعُوْا لَہَا شَہِیْقًا وَّہِیَ تَفُوْرُ :”شھیق“ گدھے کے ہینگنے کے آخر کی آواز اور ”زقیر“ شروع کی آواز۔ (قاموس) سورة ٔ فرقان (12) میں فرمایا کہ جہنم جب انہیں دور سے دیکھے گی تو وہ جہنم کے سخت غصے کی اور گدھے کی طرح چلانے کی آواز سنیں گے۔ ساتھ ہی جہنمیوں کے چیخنے چلانے کی جو آوازیں آرہی ہوں گی وہ بھی گدھے کی آوازوں جیسی ہوں گی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَہُمْ فِیْہَا زَفِیْرٌ وَّشَہِیْقٌ) (ھود : 106)”تو وہ لوگ جو بدبخت ہوئے سو وہ آگ میں ہوں گے ، ان کے لیے گدھے کی طرح آواز کھینچنا اور نکالنا ہے“۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اذا القوفیھا وائو ضمیر سے مراد کفار ہیں۔ سمعوالھا شھیقا شھیق سے مراد آواز ہے۔ حضرت ابن باس نے کہا : جب کفار کو جہنم میں پھینکا جائے گا اس وقت جہنم کی یہ آواز ہوگی (1) وہ ان کے لئے یوں آواز نکالے گی کہ ہر کوئی خوفزدہ ہوجائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب کفار کو جہنم میں پھینکا جائے گا اس وقت کفار کی یہ آواز ہوگی، یہ عطا کا قول ہے۔ شبیق سینے کی آواز کو کہتے ہیں اور زفیر حلق کی آواز کو کہتے ہیں۔ سورة ہود میں یہ بحث گزر چکی ہے وھی تفور وہ جوش مارے گی۔ حضرت حسان کا شعر ہے : ترکتم قدرکم لاشئی فیھا و قدر القوم حامیۃ تفور تم نے اپنی ہنڈیا کو یوں چھوڑا کہ اس میں کچھ بھی نہیں جبکہ قوم کی ہنڈیاں گرم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت سمعو الہا شہیقا اس کے شور کی آواز سنیں گے۔ یعنی چیخنے کی آواز۔ 2۔ عبد بن یحییٰ (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی آگ کی طرف گھسیٹا جائے گا تو آگ سکڑ جائے گی اور اس کے بعض حصے بعض حصوں میں منقبض ہوجائی گے تو رحمن اس سے فرمائیں گے تجھ کو کیا ہوا وہ کہے گی کہ وہ مجھ سے شرماتا تھا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میرے بندے کو چھوڑدو۔ اور فرمایا کہ ایک بندے کو آگ کی طرف گھسیٹا جائے گا اور وہ کہے گا اے میرے رب میرا آپ کے ساتھ یہ گمان نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تیرا کیا گمان تھا۔ ؟ وہ کہے گا میرا گمان یہ تھا کہ تیری رحمت مجھے ڈھانپ لے گی تو اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اِذَآ اُلْقُوْا فِيْهَا : جب وہ ڈالے جائیں گے اس میں ][ سَمِعُوْالَهَا : تو وہ سنیں گے اس میں ][ شَهِيْقًا : رینکنے والی آواز ][ وَّهِىَ تَفُوْر : اس حال میں کہ وہ ابلتی ہوگی ] ترکیب : (آیت۔ 7 ۔ 8) اِذَا اور کُلَّمَا حرف شرط ہیں۔ اس لیے افعال ماضی کا ترجمہ مستبقل میں ہوگا۔ تُمَیِّزُ کی پہچان یہ ہے کہ نہ تو یہ تَمَیَّزَ (باب تفعل کا ماضی) ہے اور نہ ہی یہ تُمَیِّزُ (باب تفعیل کا مضارع) ہے، اس سے معلوم ہوا کہ یہ بات تفعل کا مضارع تَتَمَیَّرُ ہے جس کی ایک تا گری ہوئی ہے۔ خَازِنٌ کی جمع خَزَنَۃٌ ہے۔ یہاں یہ سَئَلَ کا فاعل اسم ظاہر ہے اس لیے فاعل جمع ہونے کے باوجود فعل سَئَلَ واحد آیا ہے۔ نوٹ۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 6–10

کافروں کا دوزخ میں داخلہ، دوزخ کا غیظ و غضب، اہل دوزخ سے سوال و جواب اور ان کا اقرار کہ ہم گمراہ تھے گزشتہ آیت میں بتایا کہ شیاطین کے لیے جلتی ہوئی آگ کا عذاب تیار فرمایا ہے۔ ان آیات میں کافروں کے عذاب کا تذکرہ فرمایا جو کفر میں شیاطین کے ہمنوا ہیں اور شیاطین کے ترغیب دینے اور کفر پر جمانے سے کفر کو اختیار کیے ہوئے ہیں، فرمایا کہ جن لوگوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور جہنم بری جگہ ہے اور برا ٹھکانہ ہے پھر فرمایا کہ جب یہ لوگ دوزخ میں ڈالے جائیں گے تو دوزخ کی سخت دہشت ناک اور وحشت ناک آواز سنیں گے وہ جوش مارتی ہوگی اس کے جوش کا یہ عالم ہوگا کہ گویا ابھی غصے کی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 6–11

عقوبت وتنبیہ برانکار توحید رب العالمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وللذین کفروا بربھم ............ الی ........... فسحقا لاصحب السعیر “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں خداوند کریم کی عظمت وکبریائی کا بیان تھا اور اس کی قدرت وخالقیت دلائل و شواہد سے ظاہر فرمائی گئی تو اب ان آیات میں ان لوگوں پر وعید ہے جو اسکی الوہیت سے انکار کرتے ہیں اور اسکی وحدانیت پر ایمان نہیں لائے فرمایا۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا اپنے رب کا انکے واسطے عذاب جہنم ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے جس کی شدت وہیبت اس سے معلوم ہوسکتی ہے کہ جب بھی یہ لوگ اس میں ڈالیں جائیں گے سنیں گے اس کے دھاڑنے کی آواز جو نہایت ہی ہولناک ہوگی اور وہ جہنم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–9

7:۔ ” وللذین کفروا “ تخویف اخروی۔ جو لوگ اپنے رب سے کفر کرتے ہیں یعنی اللہ کے سوا اپنے خود ساختہ معبودوں کو برکات دہندہ سمجھتے ہیں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے جو نہایت ہی برا انجام ہے۔ جب ان کفار و مشرکین کو جہنم میں ڈالا جائیگا تو وہ سخت جوش میں آجائے گی اور اس کی ہیبتناک غراہٹ ہوگی۔ وہ دشمنان خدا پر اس قدر غضبناک ہوگی کہ قریب ہوگا کہ غیظ و غضب سے پھٹ جائے۔ ” کلام القی فیہا فوج “ جب بھی مشرکین کی کوئی جماعت جہنم میں ڈالی جائیگی تو خازنان جہنم ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس ڈرانے والے نہیں آئے تھے ؟ جنہوں نے تمہیں آج کے عذاب سے خبردار کیا ہو۔ ” قالوا بلی “ جواب دیں گے کیوں نہیں ؟ ہمارے پاس…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–14

گذشتہ سے پیوستہ : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور حکومت کا ذکر ہوا ہے۔ کہ تمام برکات اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ قادر مطلق بھی وہی ہے۔ جس نے موت وحیات کو انسانوں کی آزمائش کے لیے پیدا کیا تاکہ اس بات کو ظاہر کردے ا کہ اچھا عمل کون کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ عزیز اور غفور ہے ۔ اس نے سات آسمانوں کو تہ بر تہ پیدا کیا۔ اس کی پیدا کی ہوئی چیز میں تم کسی قسم کا نقص نہیں دیکھو گے ، تم بار بار اپنی نگا اٹھا کر دیکھو۔ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی مخلوق میں کوئی دراڑ ، شگاف یا نقص نظر نہیں آئیگا۔ نگا ہ تھکی ہوئی واپس لوٹ آئے گی۔ دیکھو آسمان دنیا کو ہم نے زینت بخشی ہے ستاروں کے چراغوں کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِذَآ اُلْقُوْا فِيْہَا سَمِعُوْا لَہَا شَہِيْقًا وَّہِىَ تَفُوْرُ۝ 7 ۙ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–7

ترکیب : عذاب جہنم مبتداء وللذین کفروا خبرمقدم وقریٔ عذاب بالنصب انہ عطف علی عذاب السعیر وللذین علی لھم۔ شہیقا منصوب علی انہ مفعول سمعوا الھا فی محل النصب علی الحال ای کائنا لھا وھی تفور الجملۃ حال من الضمیر فی فیھا۔ تکاد الخ الجملۃ ما حال من فاعل تفوراوخبرآخر کلھا استیناف مسوق لبیان حال اھلھا بعد بیان حال نفسھا وقیل حال من ضمیرھا بلی کان یکفی فی الجواب ولکن حبائوا بالجملۃ المجاب بھا مبالغۃ فی الاعتراف قدجاء نا الخ فسحقا قریٔ الجمہور باسکان الحاء وقریٔ بضبمھا وھما نعتان مثل الرعب منصوب قال الزجاج وابوعلی الفارسی منصوب علی المصدر ای سحقھم اللہ سحقا وکان القیاس اسحاقا فجاء المصدر علی الحذف…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِذَ ٓا اُلْقُوْا فِیْھَا سَمِعُوْا لَھَا شَھِیْـقًا وَّھِیَ تَفُوْرْ ۔ (الملک : 7) (جب وہ اس میں پھینکے جائیں گے تو اس کے دھاڑنے کی آواز سنیں گے اور وہ جوش کھا رہی ہوگی۔ ) شَھِیْق کے مفہوم کی وضاحت یہ کافر لوگ جو قیامت کا انکار کرتے تھے جب اپنے کفر و شرک کے باعث جہنم میں پھینکے جائیں گے تو انھیں دیکھ کر جہنم دھاڑے گی۔ آیت میں شَھِیْـقکا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اہل لغت کے نزدیک گدھے کی آواز جیسی آواز کو بھی کہتے ہیں اور شیر کی دھاڑ کو بھی۔ ہماری محاوراتی زبان میں ہیبت کے اظہار کے لیے شیر کی دھاڑ کا ذکر کیا جاتا ہے، گدھے کی آواز کا نہیں۔ گدھے کی آواز کراہت اور شور کا استعارہ ہے۔ لیکن جب کسی آواز…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–11

فہم القرآن ربط کلام : شیاطین جن میں سے ہوں یا انسانوں سے ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے جہنم تیار کر رکھی ہے۔ جو لوگ شیاطین کا کردار اختیار کرتے ہیں، حقیقت میں وہ اپنے رب کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔ ان کے لیے جہنم تیار کی گئی ہے جو نہایت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ جہنم کی آگ اس قدر جوش مار رہی ہوگی کہ اس سے مختلف قسم کی خوفناک آوازیں نکلیں گی۔ دیکھنے اور سننے والوں کو یوں لگے گا جیسے جہنم اپنے جوش اور زور سے پھٹ جائے گی۔ جب جہنمی کو گروہ در گروہ جہنم میں ڈالا جائے گا تو جہنم کے داروغے ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس جہنم سے ڈرانے والے نہیں آئے تھے ؟ جہنمی اقرار کریں گے کیوں نہیں ! ہمارے پاس ڈرانے والے آئے تھے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

7 : اِذَآ اُلْقُوْا فِیْھَا (جب یہ لوگ اس میں ڈالے جائیں گے) جب ان کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ جیسا لکڑیوں کو بڑی آگ میں پھینکا جاتا ہے۔ سَمِعُوْا لَھَا (تو اس کی ایک بڑی زور کی آواز سنیں گے) جہنم کی آواز شَھِیْقًا ( گدھے کی آواز جیسی انوکھی آواز) جہنم کی زور دار بری آواز کو گدھے کی آواز سے تشبیہ دی۔ وَّھِیَ تَفُوْرُ (اور وہ جوش مارتی ہوگی) جہنمیوں کے ساتھ جہنم میں اسی طرح ابال آئے گا جیسے ہنڈیا میں پکنے والی اشیاء کو ابال آتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–11

6۔ 11۔ اللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل فرما کر اپنے رسولوں کی معرفت یہ سب لوگوں کو اچھی طرح سمجھا دیا ہے کہ یہ لوگ شیطان کو اپنا دشمن جانیں اور اس کے بہکاوے میں ہرگز نہ آئیں ‘ ورنہ جو شیطان کے بہکاوے میں آ کر اللہ کی مرضی کے برخلاف کام کرے گا ایسے نافرمان آدمیوں اور شیطان اور اس کے شیاطینوں سے دوزخ کو بھر دیا جائے گا اس قدر انتظام کے بعد بھی جب بہت سے نافرمان لوگ شیطان اور اس کے شیاطینوں کے ساتھ دوزخ میں جائیں گے تو دوزخ کے تعیناتی والے فرشتوں کو اس بات کا بڑا تعجب ہوگا کہ باوجود ایسے بڑے انتظام کو اتنے بہت سے آدمی دوزخ میں کیونکہ آن پڑے۔ اس لئے وہ فرشتے ان دوزخی آدمیوں سے پوچھیں گے کہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 5–10

یعنی ہم نے جمال بخشا (السماء الدنیا) دنیا کے آسمان کو، جسے تم دیکھ رہے ہو اور جو تمہارے قریب اور متصل ہے (بمصابیح) ، چراغوں کے ساتھ، اس سے مراد مختلف اقسام کی روشنیاں رکھنے والے ستارے ہیں کیونکہ اگر آسمان میں ستارے نہ ہوتے تو یہ ایک تاریک چھت ہوتی جس میں کوئی حسن و جمال نہ ہو، مگر اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کو آسمان کی زینت، حسن و جمال اور راہ نمایاں جن کے ذریعے سے بحروبر میں راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر کہ اس نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کیا، اس امر کے منافی نہیں کہ بہت سے ستارے ساتوں آسمانوں کے اوپر ہوں کیونکہ آسمان شفاف ہوتے ہیں اور اگر آسمان دنیا پر ستارے نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 5–7

10 زینت آسمانی اور اس میں سامان غور و فکر کا ذکر وبیان : سو آسمان دنیا کی تزئین قدرت کی رحمت و عنایت اور اس کی قدرت و حکمت کا ایک اور عظیم الشان شاہکار ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور ہم ہی نے مزین کیا قریب کے آسمان کو عظیم الشان چراغوں سے۔ اور ایسے عظیم الشان چراغوں سے کہ ان کی دوسری کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں ہوسکتی ‘ اور ظاہر ہے کہ ان بےحد و حساب ‘ روشن و چمکدار ‘ تاروں کو پیدا کرنا اور ان کو اس پر حکمت طریقے سے اس نیلگوں آسمان میں اس طرح نصب کردینا ‘ اس قادر مطلق کی قدرت بےپایاں کے سوا اور کس کا کام ہوسکتا ہے ؟ سبحانہ و تعالیٰ سو آسمان دنیا (قریب کے آسمان) کے ان عجائب کا مشاہدہ نسبتاً…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 6–11

کفار کے لیے دوزخ کی دہکتی ہوئی آگ تشریح : یہ آیات خوف و دہشت دلانے والی ہیں اور دوزخ کا نقشہ اور اس میں ڈالے جانے والوں کی بےبسی بڑے ہی صاف الفاظ میں اور آسان زبان میں بیان کئے گئے ہیں استغفر اللہ۔ خدایا ! جب دوبارہ اٹھا کر میدان حشر میں جمع کئے جائیں گے تو ہماری حفاظت فرمانا اپنے عذاب اور غصہ سے بچانا ” جہنم سے اپنی پناہ میں رکھنا اور نیکوں کے ساتھ بہشت میں داخل فرما دینا۔ آمین

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–14

آیات 1 تا 14۔ اسرار ومعارف۔ بہت ہی بابرکت ہے وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں ہے سلطنت و حکومت کہ حقیقی حکومت اسی کو سزوار ہے جو ہر چیز پر قادر ہے۔ صفات باری تعالیٰ جو اس کی حکومت پر دلالت کرتے ہیں۔ اول اس کا موجود ہوناہمیشہ سے ہمیشہ کے لیے دوم اس کا صفات کمال کا مالک ہونا سوم اس کا ہر چیز پر قادر ہونا اور چہارم ہر چیز کا خالق ہونا حتی کہ موت وحیات کا بھی ، وہی ذات ہے جس نے پیدا فرمایا موت کو اور حیات کو کہ تمہاری آزمائش ہوسکے کہ کون تم میں سے نیک عمل کرتا ہے اور وہ بھی ہے زبردست اور بخشنے والا بھی۔ موت اور اس کی اقسام۔ زندگی ایک حال ہے اور مخلوق ہے اسی طرح حیا تکے تعلق کو بدن سے الگ کرنا بھی ایک…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 6–7

ف 10 گدھے کی آواز کافروں کو جب دوزخ میں جھونکا جائیگا تو وہ اس میں سے ایسی آواز سنیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(67:7) اذا القوا فیہا : اذا ظرف زمان ہے (شرطیہ) جب، جسوقت۔ القوا ماضی مجہول جمع مذکرغائب۔ القاء (افعال) مصدر۔ بمعنی ڈالنا۔ فیہا میں ضمیر ھا واحد مؤنث غائب کا مرجع جہنم ہے۔ یعنی جب کافروں کو جہنم میں ڈالا جائے گا۔ سمعوا لہا شھیقا : جواب شرط۔ لہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع جہنم ہے لہا حال ہے شھیقا سے جو سمعوا کے مفعول ہونے کے منصوب ہے۔ شھیقا نکرہ تھا اس لئے حال کو اس سے پہلے مقد کردیا۔ (تفسیر المظہری) شھیق گدھے کی آواز۔ یعنی گدھے جیسی آواز جہنم کی آگ سے نکلتی ہوئی سنیں گے یہ آگ کی آواز ہوگی یا ان لوگوں کی جو ان داخل ہونے والوں سے پہلے جہنم میں جا چکے ہوں گے یا خود ان کی ہوگی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–14

لغات القرآن۔ تبرک۔ برکت والا۔ ید۔ ہاتھ۔ یبلوا۔ وہ آزماتا ہے۔ ایکم۔ تم میں کون۔ احسن عملا۔ عمل کے اعتبار سے زیادہ بہتر۔ طباقا۔ ایک پر ایک۔ تفوت۔ فرق ۔ ارجع۔ لوٹالے۔ فطور (فطر) ۔ شگاف۔ دراڑ۔ کرتین۔ بار بار۔ ینقلب۔ پلٹ کر آئے گا۔ خاسئا۔ ذلیل و رسوا۔ حسیر۔ تھکا ماندہ۔ مصابیح (مصباح) ۔ چراغ۔ رجوما۔ مارنے کی چیز۔ القوا۔ ڈالے گئے۔ سمعوا۔ انہوں نے سنا۔ شھیقا۔ زبردست ڈرائونی آواز۔ دھاڑنا۔ تفور۔ جوش مارتی ہوگی۔ تکار۔ قریب ہے۔ تمیز۔ پھٹ پڑے گی۔ الغیظ۔ غصہ۔ فوج۔ جماعت۔ گروہ۔ سال۔ اس نے پوچھا۔ خزنۃ۔ حفاظت کرنے والا۔ نگران۔ لوکنا۔ اگر ہم ہوتے۔ اعترفوا۔ انہوں نے اقرار کیا۔ سحقا۔ دور دور۔ اسروا۔ تم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 6–11

شیطان کے بہکاوے سے بچنے کا ذکر اور جو نہ بچے اس کا انجام۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل فرما کر اپنے رسول کی معرفت یہ سب لوگوں کو اچھی طرح سمجھادیاجائے کہ یہ لوگ شیطان کو اپنادشمن جانیں اور اس کے بہکاوے میں نہ آئیں ورنہ جو شیطان کے بہکاوے میں آئے گا اللہ کی مرضی کے برخلاف کام کرے گا ایسے نافرمان آدمیوں اور شیطان اور اس کے شیاطینوں سے دوزخ کو بھردیاجائے گا، اس قدر انتظام کے بعد بھی جب بہت سے نافرمان لوگ شیطان اور اس کے شیاطینوں کے ساتھ دوزخ میں جائیں گے تو دوزخ کے تعیناتی والے فرشتے کو اس بات کا بڑا تعجب ہوگا کہ باوجود ایسے بڑے انتظام کے اتنے بہت سے آدمی دوزخ میں کیونکرآن پڑے۔ اس لیے وہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–8

ف 2: جس طرح زندگی ایک ایجابی حقیقت کا نام ہے ۔ اسی طرح موت بھی صرف عناصر کا پریشان ہونا نہیں ۔ بلکہ ایک مثبت شئے ہے ۔ جو خدا کے قبضہ قدرت میں ہے ۔ اور ان دونوں حقیقتوں پر عالم کون و فساد کی بنیادیں استوار ہیں ۔ فرمایا ۔ کہ اس مقام حیات وممات کی غرض اور غایت یہ ہے ۔ کہ زندگی کو موت پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔ اور انسان اپنے حسن عمل سے یہ ثابت کردے ۔ کہ یہ اللہ کا نائب ہے ۔ اور شجروحجر کی طرح زندگی پسند نہیں کرتا ۔ اس کے بعد کارگاہ حکمت کی طرف انسانی ذہن کو متصف کیا ہے کہ اس میں تمام قسم کی ضروریات کو مہیا کردیا گیا ہے ۔ خواہ کتنا ہی باریک بین انسان ہو جب اس پر غور کریگا ۔ تو اس میں کوئی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(7) جب یہ پروردگار کی توحید کے منکر اس جہنم میں ڈالے جائیں گے تو یہ اس کی خوفناک اور ناپسندیدہ آوازیں سنیں گے اور وہ دوزخ جوش مارہی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 4–7

ف 5۔ یعنی وہ جس چیز کو جیسا چاہے بنا سکتا ہے، چناچہ آسمان کو مضبوط بنانا چاہا تو کیسا بنایا کہ باوجود مرور زمان دراز اب تک اس میں کوئی خلل نہیں آیا، اسی طرح کسی شے کو ضعیف و منفعل بنادیا، غرض اس کو ہر طرح قدرت ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 6–7

جب وہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے تو دوزخ دھاڑے گی اور جوش مارے گی 7 ؎ جب کفار کو دوزخ میں ڈالا جائے گا تو دوزخ دھاڑے گی اور یہ وہ کیفیت ہے جب آگ کے الائو جل رہے ہوں اور ان پر ایندھن کی بجائے تیل ، چربی اور اس طرح کی دوسری چیزیں جن میں دہنیت ہوتی ہے ڈالی جائیں تو آگ بھڑکتی ہے اور اس کے بھڑکنے کی آواز کو دھاڑنے سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہ منظر بہت ہی خطرناک منظر ہوگا۔ اس کے شعلے جوش مار رہے ہوں گے جس سے ایک خوفناک اور مکروہ شور اٹھ رہا ہوگا اور دیکھنے والوں کو اس طرح محسوس ہوگا کہ گویا دوزخ کے شعلے اور دہکتے ہوئے انگارے بےقابو ہو رہے ہیں اور شدت غضب سے نہ معلوم ابھی کہاں سے کہاں پہنچ جائیں گے اور جب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–14

وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُ‌جُومًا لِّلشَّيَاطِينِ (And We have decorated the nearest sky with lamps, and have made them devices to stone the devils, and We have prepared for them the punishment of Hell....67:5). The word 'masabih' (translated above as 'lamps' ) stands for 'stars'. The fact that the sky is decorated with stars does not necessarily imply that they should be studded with them inside or under the sky. The decoration is available also to the situation when the stars are far below the sky in space as modern research has proved it by…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

13 The word shahiq is used for producing a cry like the ass's braying. The sentence may also mean that it could be the sound of Hell itself, as well as that it would be the sound coming from Hell, where the people already flung into it would be screaming and crying. This second meaning is supported by Surah Hud: 106, where it has been said: "Therein they will pant and hiss (because of thirst) ", and the first meaning is confirmed by AI-Furgan: 12, which says: "When the Hell will see them from afar, they will hear the sounds of its raging and roaring." On this basis, the correct meaning is…

Read the full tafseer →