67. Surah Al-Mulk

الملكThe Sovereignty · 30 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 67:1

تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ Open ayah 67:1 in the Quran reader

بڑی برکت ہے اس کی جس کے ہاتھ میں ہے راج اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے1

1 یعنی سب ملک اس کا ہے اور تنہا اسی کا اختیار ساری سلطنت میں چلتا ہے۔
Ayah 67:2

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ Open ayah 67:2 in the Quran reader

جس نے بنایا مرنا اور جینا تاکہ تم کو جانچے کون تم میں اچھا کرتا ہے کام2 اور وہ زبردست ہے بخشنے والا

2 یعنی مرنے جینے کا سلسلہ اسی نے قائم کیا، ہم پہلے کچھ نہ تھے (اسے موت ہی سمجھو) پھر پیدا کیا، اس کے بعد موت بھیجی، پھر مرے پیچھے زندہ کردیا۔ کما قال (كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ ) 2 ۔ البقرۃ :28) موت وحیات کا یہ سارا سلسلہ اس لیے ہے کہ تمہارے اعمال کی جانچ کرے کہ کون برے کام کرتا ہے کون اچھے، اور کون اچھے سے اچھے۔ پہلی زندگی میں یہ امتحان ہوا اور دوسری زندگی میں اس کا مکمل نتیجہ دکھلا دیا گیا۔ فرض کرو اگر پہلی زندگی نہ ہوتی تو عمل کون کرتا، اور موت نہ آتی تو لوگ مبداء و منتہٰی سے غافل اور بےفکر ہو کر عمل چھوڑ بیٹھتے اور دوبارہ زندہ نہ کیے جاتے تو بھلا برے کا بدلہ کہاں ملتا۔
Ayah 67:3

الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ Open ayah 67:3 in the Quran reader

ف 3 جس نے بنائے سات آسمان تہ پر تہ4 کیا دیکھتا ہے تو رحمان کے بنانے میں کچھ فرق5 پھر دوبارہ نگاہ کر کہیں نظر آتی ہے تجھ کو دڑاڑ6

3 یعنی زبردست ہے جس کی پکڑ سے کوئی نہیں نکل سکتا اور بخشنے والا بھی بہت بڑا ہے۔ 4 حدیث میں آیا کہ ایک آسمان کے اوپر دوسرا آسمان، دوسرے پر تیسرا اسی طرح سات آسمان اوپر نیچے ہیں۔ اور ہر ایک آسمان سے دوسرے تک پانچ سو برس کی مسافت ہے۔ نصوص میں یہ تصریح نہیں کی گئی کہ اوپر جو نیلگونی چیز ہم کو نظر آتی ہے وہ ہی آسمان ہے ہوسکتا ہے کہ ساتوں آسمان اس کے اوپر ہوں اور یہ نیلگونی چیز آسمان کی چھت گیری کا کام دیتی ہو۔ 5 یعنی قدرت نے اپنے انتظام اور کاریگری میں کہیں فرق نہیں کیا ہر چیز میں انسان سے لے کر حیوانات، نباتات، عناصر، اجرام علویہ، سبع سماوات اور نیرات تک یکساں کاریگری دکھلائی ہے۔ یہ نہیں کہ بعض اشیاء کو حکمت و بصیرت سے اور بعض کو یونہی کیف ما اتفق، بےتکایا بیکار و فضول بنادیا ہو (العیاذ باللہ) اور جہاں کسی کو ایسا وہم گزرے سمجھو اس کی عقل و نظر کا قصور ہے۔ 6 یعنی ساری کائنات نیچے سے اوپر تک ایک قانون اور مضبوط نظام میں جکڑی ہوئی ہے اور کڑی سے کڑی ملی ہوئی ہے، کہیں درز یا دراڑ نہیں۔ نہ کسی صنعت میں کسی طرح کا اختلال پایا جاتا ہے۔ ہر چیز ویسی ہے جیسا اسے ہونا چاہیے۔ اور اگر یہ آیتیں صرف آسمان سے متعلق ہیں تو مطلب یہ ہوگا کہ اے مخاطب ! اوپر آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ کہیں اونچ نیچ یا درز اور شگاف نہیں پائے گا۔ بلکہ ایک صاف ہموار، متصل، مربوط اور منظم چیز نظر آئے گی جس میں باوجود مروردہور اور تطاول ازمان کے آج تک کوئی فرق اور تفاوت نہیں آیا۔
Ayah 67:4

ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ Open ayah 67:4 in the Quran reader

پھر لوٹا کر نگاہ کر دوبارہ لوٹ آئے گی تیرے پاس تیری نگاہ رد ہو کر تھک کر7

7 یعنی ممکن ہے ایک آدھ مرتبہ دیکھنے میں نگاہ خطا کر جائے، اس لیے پوری کوشش سے بار بار دیکھ، کہیں کوئی رخنہ تو دکھائی نہیں دیتا خوب غور و فکر اور نظر ثانی کر کہ قدرت کے انتظام میں کہیں انگلی رکھنے کی جگہ تو نہیں۔ یاد رکھ ! تیری نگاہ تھک جائے گی اور ذلیل و درماندہ ہو کر واپس آجائے گی۔ لیکن خدائی مصنوعات و انتظامات میں کوئی عیب و قصور نہ نکال سکے گی۔
Ayah 67:5

وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ Open ayah 67:5 in the Quran reader

اور ہم نے رونق دی سب سے ورلے آسمان کو چراغوں سے8 اور ان سے کر رکھی ہے ہم نے پھینک مار شیطانوں کے واسطے9 اور رکھا ہے ان کے واسطے عذاب دہکتی آگ کا10

8 یعنی آسمان کی طرف دیکھو ! رات کے وقت ستاروں کی جگمگاہٹ سے کیسی رونق و شان معلوم ہوتی ہے۔ یہ قدرتی چراغ ہیں جن سے دنیا کے بہت سے منافع وابستہ ہیں۔ 9 یہ مضمون سورة " حجر " وغیرہ میں کئی جگہ بہت تفصیل سے گزر چکا ہے۔ 10 یعنی دنیا میں تو شہاب پھینکے جاتے ہیں اور آخرت میں ان کے لیے دوزخ کی آگ تیار ہے۔
Ayah 67:6

وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 67:6 in the Quran reader

اور جو لوگ منکر ہوئے اپنے رب سے ان کے واسطے ہے عذاب دوزخ کا اور بری جگہ جا پہنچے11

11 یعنی کافروں کا ٹھکانا بھی شیاطین کے ساتھ اسی دوزخ میں ہے۔
Ayah 67:7

اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ Open ayah 67:7 in the Quran reader

جب اس میں ڈالے جائیں گے سنیں گے اس کا دھاڑنا اور وہ اچھل رہی ہوگی،12

12 یعنی اس وقت دوزخ کی آواز سخت کر یہ اور خوفناک ہوگی اور بےانتہا جوش و اشتعال سے ایسا معلوم ہوگا گویا غصہ میں آکر پھٹی پڑتی ہے اعاذنا اللہ منہا بلطفہ وکرمہ۔
Ayah 67:8

تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ Open ayah 67:8 in the Quran reader

ایسا لگتا ہے کہ پھٹ پڑے گی جوش سے جس وقت پڑے اس میں ایک گروہ پوچھیں ان سے دوزخ کے داروغہ کیا نہ پہنچا تھا تمہارے پاس کوئی ڈر سنانے والاف 1

1 یہ پوچھنا اور زیادہ ذلیل و محجوب کرنے کے لیے ہوگا یعنی تم جو اس مصیبت میں آکر پھنسے ہو، کیا کسی نے تم کو متنبہ نہ کیا تھا ؟ اور ڈرایا نہ تھا کہ اس راستے سے مت چلو ورنہ سیدھے دوزخ میں گرو گے جہاں ایسے ایسے عذاب ہوں گے۔
Ayah 67:9

قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ Open ayah 67:9 in the Quran reader

اور وہ بولیں کیوں نہیں ہمارے پاس پہنچا تھا ڈر سنانے والا پھر ہم نے جھٹلایا اور کہا نہیں اتاری اللہ نے کوئی چیز تم تو پڑے ہوئے ہو بڑے بہکاوے میں2

2 یعنی کھسیانے ہو کر حسرت و ندامت سے جواب دیں گے کہ بیشک ڈرانے والے آئے تھے مگر ہم نے ان کی بات نہ مانی برابر جھٹلایا کیے کہ تم سب غلط کہتے ہو۔ نہ اللہ نے تم کو بھیجا نہ تم پر وحی اتاری بلکہ تم عقل و فہم کے راستہ سے بہک کر بڑی سخت گمراہی میں جا پڑے ہو۔
Ayah 67:10

وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:10 in the Quran reader

اور کہیں گے اگر ہم ہوتے سنتے یا سمجھتے تو نہ ہوتے دوزخ والوں میں3

3 یعنی کیا خبر تھی کہ یہ ڈرانے والے ہی سچے نکلیں گے۔ اگر ہم اس وقت کسی ناصح کی بات سنتے یا عقل سے کام لے کر معاملہ کی حقیقت کو سمجھ لیتے تو آج دوزخیوں کے زمرہ میں کیوں شامل ہوتے اور تم کو یہ طعن دینے کا موقع کیوں ملتا۔
Ayah 67:11

فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:11 in the Quran reader

سو قائل ہوگئے اپنے گناہ کے اب دفع ہوجائیں دوزخ والے4

4 یعنی خود اقرار کرلیا کہ بیشک ہم مجرم ہیں یوں ہی بےقصور ہم کو دوزخ میں نہیں ڈالا جا رہا لیکن اس ناوقت کے اقرار و اعتراف سے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ ارشاد ہوگا (فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِيْرِ ) 67 ۔ الملک :11) (اب دفع ہوجائیں دوزخ والے) ان کے لیے جوار رحمت میں کہیں ٹھکانا نہیں۔
Ayah 67:12

اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 67:12 in the Quran reader

جو لوگ ڈرتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھے5 ان کے لیے معافی ہے اور ثواب بڑا

5 یعنی اللہ کو دیکھا نہیں، مگر اس پر اور اس کی صفات پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ اور اس کی عظمت و جلال کے تصور سے لرزتے اور اس کے عذاب کا خیال کر کے تھرتھراتے ہیں۔ یا " بالغیب " کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے مجمع سے الگ ہو کر خلوت و عزلت میں اپنے رب کو یاد کر کے لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔
Ayah 67:13

وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 67:13 in the Quran reader

اور تم چھپا کر کہو اپنی بات یا کھول کر وہ خوب جانتا ہے جیوں کے بھید6

6 یعنی گو تم اس کو نہیں دیکھتے مگر وہ تم کو دیکھ رہا ہے اور تمہاری ہر کھلی چھپی بات خلوت میں ہو یا جلوت میں سب کو جانتا ہے بلکہ دلوں میں اور سینوں میں جو خیالات گزرتے ہیں ان کی بھی خبر رکھتا ہے۔ غرض وہ تم سے غائب ہے پر تم اس سے غائب نہیں۔
Ayah 67:14

اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ Open ayah 67:14 in the Quran reader

بھلا وہ نہ جانے جس نے بنایا اور وہی ہے بھید جاننے والا خبردار7

7 یعنی تمہارا اور تمہارے افعال و اقوال ہر چیز کا خالق و مختار وہ ہے اور خالق و مختار جس چیز کو پیدا کرے ضروری ہے کہ اس کا پورا علم اسے حاصل ہو، ورنہ پیدا کرنا ممکن نہیں، پھر کیسے ہوسکتا ہے کہ جس نے بنایا وہ ہی نہ جانے۔
Ayah 67:15

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ Open ayah 67:15 in the Quran reader

وہی ہے جس نے کیا تمہارے آگے زمین کو پست اب چلو پھرو اس کے کندھوں پر اور کھاؤ کچھ اس کی دی ہوئی روزی اور اسی کی طرف جی اٹھنا ہے8

8 یعنی زمین کو تمہارے سامنے کیسا پست و ذلیل و مسخر و منقاد کردیا کہ جو چاہو اس میں تصرف کرو تو چاہے کہ اس پر اور اس کے پہاڑوں پر چلو پھرو اور روزی کماؤ، مگر اتنا یاد رکھو کہ جس نے روزی دی ہے اسی کی طرف پھر لوٹ کر جانا ہے۔
Ayah 67:16

ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ Open ayah 67:16 in the Quran reader

کیا تم نڈر ہوگئے اس سے جو آسمان میں ہے اس سے کہ دھنسا دے تم کو زمین میں پھر تبہی وہ لرزنے لگے9

9 پہلے انعامات یاد دلائے تھے۔ اب شان قہر و انتقام یاد دلا کر ڈرانا مقصود ہے یعنی زمین بیشک تمہارے لیے مسخر کردی گئی۔ مگر یاد رہے اس پر حکومت اسی آسمان والے کی ہے وہ اگر چاہے تو تم کو زمین میں دھنسا دے۔ اس وقت زمین بھونچال سے لرزنے لگے اور تم اس کے اندر اترتے چلے جاؤ لہذا آدمی کو جائز نہیں کہ اس مالک مختار سے نڈر ہو کر شرارتیں شروع کر دے اور اس کے ڈھیل دینے پر مغرور ہوجائے۔
Ayah 67:17

اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ Open ayah 67:17 in the Quran reader

یا نڈر ہوگئے ہو اس سے جو آسمان میں ہے اس بات سے کہ برسا دے تم پر مینہ پتھروں کا10 سو جان لو گے کیسا ہے میرا ڈرانا11

10 یعنی بیشک زمین پر چلو پھرو اور روزی کماؤ، لیکن خدا کو نہ بھولو ورنہ وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر ایک سخت آندھی بھیج دے۔ یا پتھروں کا مینہ برسا دے۔ پھر تم کیا کرو گے ساری دوڑ دھوپ یوں ہی رکھی رہ جائے گی۔ 11 یعنی جس عذاب سے ڈرایا جاتا تھا وہ کیسا تباہ کن اور ہولناک ہے۔
Ayah 67:18

وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 67:18 in the Quran reader

اور جھٹلا چکے ہیں جو ان سے پہلے تھے پھر کیسا ہوا میرا انکار12

12 یعنی " عاد " و " ثمود " وغیرہ کے ساتھ جو معاملہ ہوچکا ہے اس سے عبرت پکڑو۔ دیکھ لو ! ان کی حرکات پر ہم نے انکار کیا تھا تو وہ انکار کیسے عذاب کی صورت میں ظاہر ہو کر رہا۔
Ayah 67:19

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ Open ayah 67:19 in the Quran reader

اور کیا نہیں دیکھتے ہو اڑتے جانوروں کو اپنے اوپر پر کھولے ہوئے اور پر جھپکتے ہوئے ان کو کوئی نہیں تھام رہا رحمان کے سوا اس کی نگاہ میں ہے ہر چیز1

1 پہلے آسمان و زمین کا ذکر ہوا تھا۔ یہاں درمیانی چیز کا ذکر ہے یعنی خدا کی قدرت دیکھو پرندے زمین و آسمان کے درمیان کبھی پر کھول کر اور کبھی بازو سمیٹے ہوئے کس طرح اڑتے رہتے ہیں۔ اور باوجود جسم ثقیل مائل الی المرکز ہونے کے نیچے نہیں گرپڑتے نہ زمین کی قوت جاذبہ اس ذرا سے پرندے کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ بتلاؤ رحمان کے سوا کس کا ہاتھ ہے جس نے انہیں فضاء میں تھام رکھا ہے۔ بیشک رحمان نے اپنی رحمت و حکمت سے ان کی ساخت ایسی بنائی اور اس میں وہ قوت رکھی جس سے وہ بےتکلف ہوا میں گھنٹوں ٹھہر سکیں۔ وہ ہی ہر چیز کی استعداد کو جانتا اور تمام مخلوق کو اپنی نگاہ میں رکھتا ہے۔ شاید پرندوں کی مثال بیان کرنے سے یہاں اس طرف بھی اشارہ ہو کہ اللہ آسمان سے عذاب بھیجنے پر قادر ہے اور کفار اپنے کفر و شرارت سے اس کے مستحق بھی ہیں۔ لیکن جس طرح رحمان کی رحمت نے پرندوں کو ہوا میں روک رکھا ہے، عذاب بھی اسی کی رحمت سے رکا ہوا ہے۔
Ayah 67:20

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ Open ayah 67:20 in the Quran reader

بھلا وہ کون ہے جو فوج ہے تمہاری مدد کرے تمہاری رحمان کے سوا منکر پڑے ہیں برے بہکائے ہیں2

2 یعنی منکر سخت دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے باطل معبودوں اور فرضی دیوتاؤں کی فوج ان کو اللہ کے عذاب اور آنے والی آفت سے بچالے گی ؟ خوب سمجھ لو ! رحمان سے الگ ہو کر کوئی مدد کو نہ پہنچے گا۔
Ayah 67:21

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ Open ayah 67:21 in the Quran reader

بھلا وہ کون ہے جو روزی دے تم کو اگر وہ رکھ چھوڑے اپنی روزی3 کوئی نہیں پر اڑ رہے ہیں شرارت اور بدکنے پر4

3 یعنی اللہ اگر روزی کے سامان بند کرلے تو کس کی طاقت ہے جو تم پر روزی کا دروازہ کھول دے ؟4 یعنی دل میں یہ لوگ بھی سمجھتے ہیں کہ اللہ سے الگ ہو کر نہ کوئی نقصان کو روک سکتا ہے نہ نفع پہنچاسکتا ہے۔ مگر محض شرارت اور سرکشی ہے کہ توحید و اسلام کی طرف آتے ہوئے بدکتے ہیں۔
Ayah 67:22

اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 67:22 in the Quran reader

بھلا ایک جو چلے اوندھا اپنے منہ کے بل وہ سیدھی راہ پائے یا وہ شخص جو چلے سیدھا ایک سیدھی راہ پر5

5 یعنی ظاہری کامیابی کی راہ طے کر کے وہی مقصد اصلی تک پہنچے گا جو سیدھے راستہ پر آدمیوں کی طرح سیدھا ہو کر چلے۔ جو شخص ناہموار راستہ پر اوندھا ہو کر منہ کے بل چلتا ہو اس کے منزل مقصود تک پہنچنے کی کیا توقع ہوسکتی ہے۔ یہ مثال ایک موحد اور ایک مشرک کی ہوئی۔ محشر میں بھی دونوں کی چال میں ایسا ہی فرق ہوگا۔
Ayah 67:23

قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 67:23 in the Quran reader

تو کہہ وہی ہے جس نے تم کو بنا کھڑا کیا اور بنا دیے تمہارے واسطے کان اور آنکھیں اور دل تم بہت تھوڑا حق مانتے ہو6

6 یعنی اللہ نے سننے کے لیے کان، دیکھنے کے لیے آنکھیں، اور سمجھنے کے لیے دل دیئے تھے کہ اس کا حق مان کر ان قوتوں کو ٹھیک مصرف میں لگاتے، اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں خرچ کرتے مگر ایسے شکر گزار بندے بہت کم ہیں۔ کافروں کو دیکھ لو کہ ان نعمتوں کا کیسا حق ادا کیا ؟ اس کی دی ہوئی قوتیں اسی کے مقابلہ میں استعمال کیں۔
Ayah 67:24

قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 67:24 in the Quran reader

تو کہہ وہی ہے جس نے کھنڈا دیا تم کو زمین میں اور اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے7

7 یعنی ابتداء بھی اس سے ہوئی انتہاء بھی اسی پر ہوگی، جہاں سے آئے تھے وہیں جانا ہے۔ چاہیے تھا کہ اس سے ایک دم غافل نہ ہوتے اور ہمہ وقت اس کی فکر رکھتے کہ مالک کے سامنے خالی ہاتھ نہ جائیں مگر ایسے بندے بہت تھوڑے ہیں۔
Ayah 67:25

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 67:25 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کب ہوگا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو8

8 یعنی اکٹھے کب کیے جائیں گے ؟ اور قیامت کب آئے گی اسے جلدی بلالو۔
Ayah 67:26

قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 67:26 in the Quran reader

تو کہہ خبر تو ہے اللہ ہی کے پاس اور میرا کام تو یہی ڈر سنا دینا ہے کھول کر9

9 یعنی وقت کی تعیین میں نہیں کرسکتا۔ اس کا علم اللہ ہی کو ہے۔ البتہ جو چیز یقینا آنے والی ہے اس سے آگاہ کردینا اور خوفناک مستقبل سے ڈرا دینا میرا فرض تھا وہ میں ادا کرچکا۔
Ayah 67:27

فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ Open ayah 67:27 in the Quran reader

پھر جب دیکھیں گے کہ وہ پاس آلگا تو بگڑ جائیں گے منہ منکروں کے اور کہے گا یہی ہے جس کو تم مانگتے تھے10

10 یعنی اب تو جلدی مچا رہے لیکن جس وقت وہ وعدہ قریب آلگے گا، بڑے بڑے سرکشوں کے منہ بگڑ جائیں گے اور چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگیں گی۔
Ayah 67:28

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 67:28 in the Quran reader

تو کہہ بھلا دیکھو تو اگر ہلاک کر دے مجھ کو اللہ اور میرے ساتھ والوں کو یا ہم پر رحم کرے پھر وہ کون ہے جو بچائے منکروں کو عذاب درناک سے11

11 کفار تمنا کرتے تھے کہ کہیں جلد مرمرا کر ان کا قصہ ختم ہوجائے (العیاذ باللہ) اس کا جواب دیا کہ فرض کرو تمہارے زعم کے موافق میں اور میرے ساتھی دنیا میں سب ہلاک کردیے جائیں یا ہمارے عقیدے کے موافق مجھ کو اور میرے رفقاء کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے کامیاب و بامراد کرے۔ ان دونوں صورتوں میں سے جو صورت بھی ہو، مگر تم کو اس سے کیا فائدہ ہے۔ ہمارا انجام دنیا میں جو کچھ ہو، بہرحال آخرت میں بہتری ہے کہ اس کے راستہ میں جدوجہد کر رہے ہیں۔ لیکن تم اپنی فکر کرو کہ اس کفر و سرکشی پر جو دردناک عذاب آنا یقین ہے، اس سے کون بچائے گا۔ ہمارا اندیشہ چھوڑ دو ، اپنی فکر کرو، کیونکہ کافر کسی طرح بھی خدائی عذاب سے نہیں چھوٹ سکتا۔
Ayah 67:29

قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 67:29 in the Quran reader

تو کہہ وہی رحمان ہے ہم نے اس کو مانا اور اسی پر بھروسہ کیا1 سو اب تم جان لو گے کون پڑا ہے صریح بہکائے میں2

1 یعنی جب ہمارا ایمان اس پر ہے تو ایمان کی بدولت نجات یقین ہے اور جب ہم صحیح معنی میں اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں تو مقاصد میں کامیابی یقینی ہے۔ (وَّيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۭ وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ ۭ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ ) 65 ۔ الطلاق :3) تم میں دونوں چیزیں نہیں، نہ ایمان، نہ توکل، پھر تو کیسے بےفکر ہو ؟ 2 یعنی ہم جیسا کہ تمہارا گمان ہے یا تم جیسا کہ ہمارا عقیدہ ہے۔
Ayah 67:30

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠ Open ayah 67:30 in the Quran reader

تو کہہ بھلا دیکھو تو اگر ہوجائے صبح کو پانی تمہارا خشک پھر کون ہے جو لائے تمہارے پاس پانی نتھرا3

3 یعنی زندگی اور ہلاکت کے سب اسباب اسی اللہ کے قبضہ میں ہیں۔ ایک پانی ہی کو لے لو، جس سے ہر چیز کی زندگی ہے، اگر فرض کرو ! چشموں اور کنوؤں کا پانی خشک ہو کر زمین کے اندر اتر جائے جیسا کہ اکثر موسم گرما میں پیش آجاتا ہے تو اس کی قدرت ہے کہ موتی کی طرح صاف شفاف پانی اس قدر کثیر مقدار میں مہیا کر دے جو تمہاری زندگی اور بقاء کے لیے کافی ہو۔ لہذا ایک مومن متوکل کو اسی خالق الکل مالک علی الاطلاق پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ یہیں سے یہ بھی سمجھ لو کہ جب ہدایت کے سبب چشمے خشک ہوچکے، اس وقت ہدایت و معرفت کا خشک نہ ہونے والا چشمہ محمد ﷺ کی صورت میں جاری کردینا بھی اسی رحمان مطلق کا کام ہوسکتا ہے۔ جس نے اپنے فضل و انعام سے تمام جانداروں کی ظاہری و باطنی زندگی کے سامان پیدا کیے ہیں اگر فرض محال یہ چشمہ خشک ہوجائے، جیسا کہ اشقیاء کی تمنا ہے، تو کون ہے جو مخلوق کے لیے ایسا پاک و صاف نتھرا پانی مہیا کرسکے۔ تم سورة الملک وللہ الحمد والمنۃ۔