Al-Mulk 67:6

Al-Mulk · from ayah 6

67:6

وَلِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ ؕ— وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ۟وَلِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِرَبِّهِمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ‌ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ

اور جن لوگوں نے اپنے پروردگار سے انکار کیا ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے۔ اور وہ برا ٹھکانہ ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And for those who disbelieved in their Lord is the punishment of Hell, and wretched is the destination.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mulk

All translations of 67:6

جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جن لوگوں نے اپنے پروردگار سے انکار کیا ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے۔ اور وہ برا ٹھکانہ ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اپنے رب کے ساتھ کفر کرنے والوں کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وه کیا ہی بری جگہ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جن لوگوں نے اپنے پروردگار سے کفر کا معاملہ کیا ہے، ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جنہوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے، اور کیا ہی برا انجام،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ایسے لوگوں کے لئے جنہوں نے اپنے رب کا اِنکار کیا دوزخ کا عذاب ہے، اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور خاص ان لوگوں کے لیے جنھوں نے اپنے رب کا انکار کیا، جہنم کا عذاب ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا انکار کیا، ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جنہوں نے اپنے رب کا کفر کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جن لوگوں نے کفر کیا ہوگا اپنے رب کے ساتھ ان کے لئے عذاب ہے جہنم (کی اس دہکتی آگ) کا اور بڑا ہی برا ٹھکانا ہے وہ

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو لوگ اپنے پروردگار سے کفر کرتے ہیں ان کے لئے دوزخ کا عذاب ہے اور وہ (بہت ہی) بڑا ٹھکانا ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جو لوگ اپنے رب کا کفر کریں (چاہے وہ انسان ہوں یا جنات) ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ بہت ہی ُ برا ٹھکانہ ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جن لوگوں نے اپنے رب سے انکار کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The chastisement of Hell awaits those who disbelieve in their Lord. What a wretched destination!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And for those who disbelieved in their Lord, there is the punishment of Jahannam , and it is an evil end.

— Muhammad Taqi Usmani

And for those who disbelieved in their Lord, there is the punishment of Jahannam , and it is an evil end.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And for those who disbelieve in their Lord is the torment of Hell, and worst indeed is that destination.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And for those who disbelieve in their Lord there is the doom of hell, a hapless journey's end!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And for those who disbelieved in their Lord is the punishment of Hell, and wretched is the destination.

— Saheeh International

For those who have disbelieved in their Lord, We have prepared the torment of hell, the most terrible place to return.

— Muhammad Sarwar

And for those who disbelieve in their Lord is the punishment of hell, and evil is the resort.

— Muhammad Habib Shakir

And for those who disbelieve in their Lord will be the torment of Hell; and a hapless destination!

— Abdul Majid Daryabadi

For those who reject their Lord (and Cherisher) is the Penalty of Hell: and evil is (such), Destination.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 67:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 6–11

جہنم کا داروغہ سوال کرے گا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے، وہ جہنمی ہے اس کا انجام اور جگہ بد سے بد ہے۔ یہ بلند اور مکروہ گدھے کی سی آوازیں مارنے والی اور جوش مارنے والی جہنم ہے جو ان پر جل رہی ہے اور جوش اور غضب سے اس طرح کچ کچا رہی ہے کہ گویا ابھی ٹوٹ پھوٹ جائے گی، اور دوزخیوں کو زیادہ ذلیل کرنے اور آخری حجت قائم کرنے اور اقبالی مجرم بنانے کے لئے داروغہ جہنم ان سے پوچھتے ہیں کہ بدنصیبو ! کیا اللہ کے رسولوں نے تمہیں اس سے ڈرایا نہ تھا ؟ تو یہ ہائے وائے کرتے ہوئے اپنی جانوں کو کو ستے ہوئے جواب دیتے ہیں کہ آئے تو تھے لیکن وائے بدنصیبی کہ ہم نے انہیں جھوٹا جانا اور اللہ کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُلْک 12 یعنی انسان ہوں، یا شیطان، جن لوگوں نے بھی اپنے رب سے کفر کیا ہے ان کا یہ انجام ہے (رب سے کفر کرنے کے مفہوم کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، البقرہ، حاشیہ 121، النساء، حاشیہ 178، جلد سوم، الکہف، حاشیہ 39، جلد چہارم، المومن، حاشیہ، 3۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 5–14

(آیت) وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ ، مصابیح سے مراد ستارے ہیں اور نیچے کے آسمان کو ستاروں سے مزین کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ ستارے آسمان کے اندر یا اس کے اوپر لگے ہوئے ہوں بلکہ یہ تزیین اس صورت میں بھی صادق ہے جبکہ ستارے آسمان سے بہت نیچے خلا میں ہوں جیسا کہ تحقیق جدید سے اس کا مشاہدہ ہو رہا ہے یہ اس کے منافی نہیں اور ستاروں کو شیاطین کے دفع کرنے کے لئے انگارے بنا دینے کا یہ مطلب ہوسکتا ہے کہ ستاروں میں سے کوئی مادہ آتشیں ان کی طرف چھوڑ دیا جاتا ہو ستارے اپنی جگہ رہتے ہوں، عوام کی نظر میں چونکہ یہ شعلہ ستارہ کی طحر حرکت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قیامت کا انکار خدا کے انکار کے ہم معنی ہے: اوپر شیاطین کے ساتھ جو معاملہ مذکور ہوا ہے اس سے یہ ان انسانوں کے انجام کے ذکر کی طرف گریز ہے جو اپنے رب کا کفر کریں گے۔ ’رب کے کفر‘ سے یہاں مراد قیامت اور جزاء و سزا کا انکار ہے۔ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم جگہ جگہ اس کتاب میں تفصیل سے واضح کرتے آ رہے ہیں، یہ ہے کہ قیامت کے انکار سے اللہ تعالیٰ کی تمام بنیادی صفات۔۔۔ قدرت، عدل، رحمت اور ربوبیت۔۔۔ کی نفی ہو جاتی ہے۔ ان صفات کی نفی کر کے خدا کو ماننا اور نہ ماننا دونوں یکساں ہے۔ چنانچہ قرآن نے اسی بنیاد پر مشرکین کو جگہ جگہ کفار سے تعبیر کیا ہے حالانکہ وہ خدا کے منکر نہیں تھے۔ ’وَبِئۡسَ الْمَصِیْرُ‘۔ فرمایا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 5–6

5۔ 1 یہاں ستاروں کے دو مقصد بیان کئے گئے ہیں ایک آسمانوں کی زینت کیونکہ وہ چراغوں سے جلتے ہیں دوسرا کہ شیطان آسمانوں کی طرف جانے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ شرارہ بن کر ان پر گرتے ہیں۔ تیسرا مقصد ان کا یہ ہے جسے دوسرے مقامات پر بیان فرمایا گیا ہے کہ ان سے برو بحر میں راستوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–15

3: یعنی زمین کی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے تصرف میں دے دی ہیں، لیکن ان کو استعمال کرتے وقت یہ مت بھولو کہ تمہیں ہمیشہ یہاں نہیں رہنا، بلکہ ایک دن یہاں سے اللہ تعالیٰ ہی کے پاس جانا ہے جہاں تمہیں ان نعمتوں کا حساب دینا ہوگا۔ لہذا یہاں کی ہر چیز کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہی استعمال کرو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وللذین ............................ المصیر (76 : 6) ” اور جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے ان کے لئے جہنم کا عذاب اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے “۔ اس کے بعد جہنم کے ایک منظر کی تفصیلات دی جاتی ہیں جس میں جہنم نہایت ہی غیض وغضب اور نہایت انتقامی حالت میں نظر آتی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 6{ وَلِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّہِمْ عَذَابُ جَہَنَّمَط وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۔ } ”اور جو لوگ اپنے رب کا کفر کریں چاہے وہ انسان ہوں یا جنات ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے ‘ اور وہ بہت ہی ُ برا ٹھکانہ ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

10 یعنی جہنم کا عذاب ان شیطانوں کے لئے بھی ہے جو ملاء اعلیٰ کی باتیں چوری چھپے سننے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر وہاں پہنچنے سے پہلے شہاب ثاقب کی زد میں آجاتے ہیں اور ان کافروں کے لئے بھی جو اللہ کی آیات سے اور ان کی تعمیل سے انکار کردیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 6–8

6۔ (جس نے تم کو اس عذاب سے ڈرایا ہو ؟ ) (آیت) ” کلما ..... نذیر “۔ دوزخ میں کافروں کے مختلف گروہ اپنے اپنے مرتبہ کفر کے لحاظ سے ڈالے جائیں گے۔ یہ سوال ہر نئے گروہ سے ہوگا۔ فرشتوں کے سوال کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ شدید عذاب تو ایسی چیز تھی کہ تمہیں اس کی خبر اگر بدرجہ احتمال پہنچتی، جب بھی تمہیں اس سے اپنے کو بچانا واجب تھا تو کیا ایسے ہولناک انجام کی تمہیں سرے سے خبر ہی نہیں پہنچی تھی ؟ (آیت) ” تکاد تمیز من الغیظ “۔ یہ فقرہ جہنم کے جوش و خروش کی بےانتہاشدت ظاہر کرنے کو ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–11

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، وہ بڑا عالی شان ہے محدثین (مخلوق) کی صفات سے پاک ہے، جس کے قبضہ تصرف میں بادشاہی اور قدرت ہے جس نے دنیا میں موت کو پیدا فرمایا اور حیات کو آخرت میں پیدا فرمایا، دونوں کو دنیا میں پیدا فرمایا چناچہ نطفہ میں حیات ڈالی جاتی ہے، اور حیات وہ ہے کہ جس سے احساس ہوتا ہے، اور موت اس کی ضد ہے یا عدم حیات کا نام موت ہے، یہ دونوں قول ہیں، اور ثانی صورت میں خلق بمعنی تقدیر ہوگا، تاکہ حیات میں تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون شخص عمل میں زیادہ اچھا ہے ؟ یعنی زیادہ فرمانبردار ہے، وہ اپنی نافرمانی کرنے والے سے انتقام لینے میں زبردست ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وللذین کفروا .. المصیر . اور جنہوں نے اپنے رب کا انکار کیا ‘ ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ (جہنم) برا ٹھکانا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 6–9

(6۔ 9) جب یہود و نصاری مجوسی اور مشرکین عرب میں سے لوگ دوزخ میں ڈالے جائیں گے تو دوزخ کی گدھے کی طرح ایک بڑے زور کی آواز سنیں گے اور وہ اس طرح جوش مارتی ہوگی کہ ابھی کفار پر غصہ کے مارے پھٹ پڑے گی۔ جب دوزخ میں ان مذکورہ کافروں کا کوئی گروہ ڈالا جائے گا تو دوزخ کے محافظ ان لوگوں سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا پیغمبر نہیں آیا تھا تو وہ کہیں گے کہ واقعی ہمارے پاس ڈرانے والا پیغمبر آیا تھا۔ تو ہم لوگوں نے اسے جھٹلایا اور کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی کتاب نازل نہیں کی اور نہ ہماری طرف کسی کو رسول بنا کر بھیجا ہے اور ہم نے رسولوں سے یوں کہہ دیا کہ تم بڑی غلطی میں پڑے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّہِمْ عَذَابُ جَہَنَّمَ۔۔۔: پہلی پانچ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور قیامت کے دلائل بیان فرمائے ہیں ، اب ان لوگوں کا انجام ذکر ہو رہا ہے جنہوں نے اکیلے اللہ کو اپنا رب نہیں مانا کہ ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔”للذین کفروا“ خبر پہلے آنے کی وجہ سے ترجمہ ”خاص ان لوگوں کے لیے“ کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 5–6

ولقد زینا السماء الدنیا بمصابیح، مصابیح، مصباح کی جمع ہے جس کا معنی چراغ ہے۔ ستاروں کو مصابیح کا نام دیا کیونکہ یہ بھی روشن ہوتے ہیں۔ وجعلنھا رجوما ھا ضمیر سے پہلے شھب کا لفظ مخدوف ہے اس کی دلیل الا من خطف الخطفۃ فاتبعہ شہاب ثاقب (الصافات) ہے۔ اس تاویل کی بنا پر مصابیح نہ زائل ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کے ساتھ رجم کیا جاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ضمیر مصابیح کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اس تاویل کی بنا پر رجم نفس کواکب سے و گا اور کو کب (ستارہ) خود ساقط نہیں ہوتا بلکہ اس سے ایک حصہ جدا ہوتا ہے جس کے ساتھ رجم کیا جاتا ہے نہ اس کی روشنی میں کمی آتی ہے اور نہ ہی اس کی صورت میں کمی واقع ہوتی ہے۔ ابو علی نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 3–6

25۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت سبع سموت طباقا اوپر تلے سات آسمان۔ یعنی اس کا بعض، بعض کے اوپر ہے۔ 26۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 27۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ماتری فی خلق الرحمن من تفٰوت تو نہیں دیکھے گا رحمن کی پیدائش میں کوئی خلل یعنی اللہ تعالیٰ کی تخلیفق باہم متفاوت نہیں یعنی جدا جدا کرنے والا۔ 28 عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ماتری فی خلق الرحمن من تفٰوت میں تفاوت کا معنی ہے اختلاف آیت فارجع البصر ہل تری من فطور تو پھر نگاہ دوڑا کیا تجھے کوئی شگاف دکھائی دیتا ہے یعنی کوئی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا : اور ان کے لیے جنھوں نے انکار کیا ][ بِرَبِهِمْ : اپنے رب کا ][ عَذَابُ جَهَنَّمَ ۭ: جہنم کا عذاب ہے ][ وَبِئْسَ : اور بہت بری ہے (وہ)][ الْمَصِيْرُ : لوٹنے کی جگہ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 6–10

کافروں کا دوزخ میں داخلہ، دوزخ کا غیظ و غضب، اہل دوزخ سے سوال و جواب اور ان کا اقرار کہ ہم گمراہ تھے گزشتہ آیت میں بتایا کہ شیاطین کے لیے جلتی ہوئی آگ کا عذاب تیار فرمایا ہے۔ ان آیات میں کافروں کے عذاب کا تذکرہ فرمایا جو کفر میں شیاطین کے ہمنوا ہیں اور شیاطین کے ترغیب دینے اور کفر پر جمانے سے کفر کو اختیار کیے ہوئے ہیں، فرمایا کہ جن لوگوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور جہنم بری جگہ ہے اور برا ٹھکانہ ہے پھر فرمایا کہ جب یہ لوگ دوزخ میں ڈالے جائیں گے تو دوزخ کی سخت دہشت ناک اور وحشت ناک آواز سنیں گے وہ جوش مارتی ہوگی اس کے جوش کا یہ عالم ہوگا کہ گویا ابھی غصے کی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 6–11

عقوبت وتنبیہ برانکار توحید رب العالمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وللذین کفروا بربھم ............ الی ........... فسحقا لاصحب السعیر “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں خداوند کریم کی عظمت وکبریائی کا بیان تھا اور اس کی قدرت وخالقیت دلائل و شواہد سے ظاہر فرمائی گئی تو اب ان آیات میں ان لوگوں پر وعید ہے جو اسکی الوہیت سے انکار کرتے ہیں اور اسکی وحدانیت پر ایمان نہیں لائے فرمایا۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا اپنے رب کا انکے واسطے عذاب جہنم ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے جس کی شدت وہیبت اس سے معلوم ہوسکتی ہے کہ جب بھی یہ لوگ اس میں ڈالیں جائیں گے سنیں گے اس کے دھاڑنے کی آواز جو نہایت ہی ہولناک ہوگی اور وہ جہنم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–9

7:۔ ” وللذین کفروا “ تخویف اخروی۔ جو لوگ اپنے رب سے کفر کرتے ہیں یعنی اللہ کے سوا اپنے خود ساختہ معبودوں کو برکات دہندہ سمجھتے ہیں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے جو نہایت ہی برا انجام ہے۔ جب ان کفار و مشرکین کو جہنم میں ڈالا جائیگا تو وہ سخت جوش میں آجائے گی اور اس کی ہیبتناک غراہٹ ہوگی۔ وہ دشمنان خدا پر اس قدر غضبناک ہوگی کہ قریب ہوگا کہ غیظ و غضب سے پھٹ جائے۔ ” کلام القی فیہا فوج “ جب بھی مشرکین کی کوئی جماعت جہنم میں ڈالی جائیگی تو خازنان جہنم ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس ڈرانے والے نہیں آئے تھے ؟ جنہوں نے تمہیں آج کے عذاب سے خبردار کیا ہو۔ ” قالوا بلی “ جواب دیں گے کیوں نہیں ؟ ہمارے پاس…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–14

گذشتہ سے پیوستہ : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور حکومت کا ذکر ہوا ہے۔ کہ تمام برکات اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ قادر مطلق بھی وہی ہے۔ جس نے موت وحیات کو انسانوں کی آزمائش کے لیے پیدا کیا تاکہ اس بات کو ظاہر کردے ا کہ اچھا عمل کون کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ عزیز اور غفور ہے ۔ اس نے سات آسمانوں کو تہ بر تہ پیدا کیا۔ اس کی پیدا کی ہوئی چیز میں تم کسی قسم کا نقص نہیں دیکھو گے ، تم بار بار اپنی نگا اٹھا کر دیکھو۔ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی مخلوق میں کوئی دراڑ ، شگاف یا نقص نظر نہیں آئیگا۔ نگا ہ تھکی ہوئی واپس لوٹ آئے گی۔ دیکھو آسمان دنیا کو ہم نے زینت بخشی ہے ستاروں کے چراغوں کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّہِمْ عَذَابُ جَہَنَّمَ۝ 0 ۭ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ۝ 6 كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( کر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–7

ترکیب : عذاب جہنم مبتداء وللذین کفروا خبرمقدم وقریٔ عذاب بالنصب انہ عطف علی عذاب السعیر وللذین علی لھم۔ شہیقا منصوب علی انہ مفعول سمعوا الھا فی محل النصب علی الحال ای کائنا لھا وھی تفور الجملۃ حال من الضمیر فی فیھا۔ تکاد الخ الجملۃ ما حال من فاعل تفوراوخبرآخر کلھا استیناف مسوق لبیان حال اھلھا بعد بیان حال نفسھا وقیل حال من ضمیرھا بلی کان یکفی فی الجواب ولکن حبائوا بالجملۃ المجاب بھا مبالغۃ فی الاعتراف قدجاء نا الخ فسحقا قریٔ الجمہور باسکان الحاء وقریٔ بضبمھا وھما نعتان مثل الرعب منصوب قال الزجاج وابوعلی الفارسی منصوب علی المصدر ای سحقھم اللہ سحقا وکان القیاس اسحاقا فجاء المصدر علی الحذف…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّھِمْ عَذَابُ جَھَنَّمَ ط وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ۔ (الملک : 6) (اور ان لوگوں کے لیے جنھوں نے اپنے رب سے کفر کیا، جہنم کا عذاب ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ ) کفر کا نتیجہ جہنم ہے سابقہ آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا کہ جو شیاطین حدود سے تجاوز کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اسی سے گریز کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جو انسان بھی اپنے رب کا کفر کریں گے یعنی قیامت اور جزاء و سزا کا انکار کریں گے اور اس کے نتیجے میں کفر کی زندگی گزاریں گے تو ان کے لیے بھی جہنم کا عذاب ہے۔ اور یہ جہنم بہت برا ٹھکانہ ہے۔ جس بدبخت نے اپنی زندگی کے اعمال کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–11

فہم القرآن ربط کلام : شیاطین جن میں سے ہوں یا انسانوں سے ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے جہنم تیار کر رکھی ہے۔ جو لوگ شیاطین کا کردار اختیار کرتے ہیں، حقیقت میں وہ اپنے رب کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔ ان کے لیے جہنم تیار کی گئی ہے جو نہایت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ جہنم کی آگ اس قدر جوش مار رہی ہوگی کہ اس سے مختلف قسم کی خوفناک آوازیں نکلیں گی۔ دیکھنے اور سننے والوں کو یوں لگے گا جیسے جہنم اپنے جوش اور زور سے پھٹ جائے گی۔ جب جہنمی کو گروہ در گروہ جہنم میں ڈالا جائے گا تو جہنم کے داروغے ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس جہنم سے ڈرانے والے نہیں آئے تھے ؟ جہنمی اقرار کریں گے کیوں نہیں ! ہمارے پاس ڈرانے والے آئے تھے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

6 : وَلِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّھِمْ (اور جو لوگ اپنے رب کا انکار کرتے ہیں) اس میں شیاطین کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے والا ہر شخص شامل ہے۔ عَذَابُ جَھَنَّمَ (ان کے لئے دوزخ کا عذاب ہے) فقط شیاطین دوزخ کے عذاب کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں۔ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ (اور وہ بری جگہ ہے) المصیر لوٹنے کی جگہ مراد جہنم ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

5 ۔” ولقد زینا السماء الدنیا بمصابیح “ مراد زمین سے قریب والا ہے جس کو لوگ دیکھتے ہیں اور اس کا قول ” بمصابیح “ ستارے اس کا واحد مصباح ہے اور وہ چراغ ہے ستارے کا نام چراغ رکھا گیا۔ اس کے روشنی دینے کی وجہ سے ” وجعلناھا رجوما “ تیر پھینکنے کے آلے ہیں۔ ” للشیاطین “ جب وہ بات کو چوری سننے لگیں۔ ” واعتدنا لھم “ آخرت میں۔ ” عذاب السعیر “ بھڑکائی ہوئی آگ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–11

6۔ 11۔ اللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل فرما کر اپنے رسولوں کی معرفت یہ سب لوگوں کو اچھی طرح سمجھا دیا ہے کہ یہ لوگ شیطان کو اپنا دشمن جانیں اور اس کے بہکاوے میں ہرگز نہ آئیں ‘ ورنہ جو شیطان کے بہکاوے میں آ کر اللہ کی مرضی کے برخلاف کام کرے گا ایسے نافرمان آدمیوں اور شیطان اور اس کے شیاطینوں سے دوزخ کو بھر دیا جائے گا اس قدر انتظام کے بعد بھی جب بہت سے نافرمان لوگ شیطان اور اس کے شیاطینوں کے ساتھ دوزخ میں جائیں گے تو دوزخ کے تعیناتی والے فرشتوں کو اس بات کا بڑا تعجب ہوگا کہ باوجود ایسے بڑے انتظام کو اتنے بہت سے آدمی دوزخ میں کیونکہ آن پڑے۔ اس لئے وہ فرشتے ان دوزخی آدمیوں سے پوچھیں گے کہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 5–10

یعنی ہم نے جمال بخشا (السماء الدنیا) دنیا کے آسمان کو، جسے تم دیکھ رہے ہو اور جو تمہارے قریب اور متصل ہے (بمصابیح) ، چراغوں کے ساتھ، اس سے مراد مختلف اقسام کی روشنیاں رکھنے والے ستارے ہیں کیونکہ اگر آسمان میں ستارے نہ ہوتے تو یہ ایک تاریک چھت ہوتی جس میں کوئی حسن و جمال نہ ہو، مگر اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کو آسمان کی زینت، حسن و جمال اور راہ نمایاں جن کے ذریعے سے بحروبر میں راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر کہ اس نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کیا، اس امر کے منافی نہیں کہ بہت سے ستارے ساتوں آسمانوں کے اوپر ہوں کیونکہ آسمان شفاف ہوتے ہیں اور اگر آسمان دنیا پر ستارے نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 5–7

10 زینت آسمانی اور اس میں سامان غور و فکر کا ذکر وبیان : سو آسمان دنیا کی تزئین قدرت کی رحمت و عنایت اور اس کی قدرت و حکمت کا ایک اور عظیم الشان شاہکار ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور ہم ہی نے مزین کیا قریب کے آسمان کو عظیم الشان چراغوں سے۔ اور ایسے عظیم الشان چراغوں سے کہ ان کی دوسری کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں ہوسکتی ‘ اور ظاہر ہے کہ ان بےحد و حساب ‘ روشن و چمکدار ‘ تاروں کو پیدا کرنا اور ان کو اس پر حکمت طریقے سے اس نیلگوں آسمان میں اس طرح نصب کردینا ‘ اس قادر مطلق کی قدرت بےپایاں کے سوا اور کس کا کام ہوسکتا ہے ؟ سبحانہ و تعالیٰ سو آسمان دنیا (قریب کے آسمان) کے ان عجائب کا مشاہدہ نسبتاً…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 6–11

کفار کے لیے دوزخ کی دہکتی ہوئی آگ تشریح : یہ آیات خوف و دہشت دلانے والی ہیں اور دوزخ کا نقشہ اور اس میں ڈالے جانے والوں کی بےبسی بڑے ہی صاف الفاظ میں اور آسان زبان میں بیان کئے گئے ہیں استغفر اللہ۔ خدایا ! جب دوبارہ اٹھا کر میدان حشر میں جمع کئے جائیں گے تو ہماری حفاظت فرمانا اپنے عذاب اور غصہ سے بچانا ” جہنم سے اپنی پناہ میں رکھنا اور نیکوں کے ساتھ بہشت میں داخل فرما دینا۔ آمین

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–14

آیات 1 تا 14۔ اسرار ومعارف۔ بہت ہی بابرکت ہے وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں ہے سلطنت و حکومت کہ حقیقی حکومت اسی کو سزوار ہے جو ہر چیز پر قادر ہے۔ صفات باری تعالیٰ جو اس کی حکومت پر دلالت کرتے ہیں۔ اول اس کا موجود ہوناہمیشہ سے ہمیشہ کے لیے دوم اس کا صفات کمال کا مالک ہونا سوم اس کا ہر چیز پر قادر ہونا اور چہارم ہر چیز کا خالق ہونا حتی کہ موت وحیات کا بھی ، وہی ذات ہے جس نے پیدا فرمایا موت کو اور حیات کو کہ تمہاری آزمائش ہوسکے کہ کون تم میں سے نیک عمل کرتا ہے اور وہ بھی ہے زبردست اور بخشنے والا بھی۔ موت اور اس کی اقسام۔ زندگی ایک حال ہے اور مخلوق ہے اسی طرح حیا تکے تعلق کو بدن سے الگ کرنا بھی ایک…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 6–7

ف 10 گدھے کی آواز کافروں کو جب دوزخ میں جھونکا جائیگا تو وہ اس میں سے ایسی آواز سنیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(67:6) وللذین کفروا بربھم عذاب جھنم : عذاب جھنم مضاف مضاف الیہ مل کر مبتدائ۔ للذین کفروا بربھم خبر مقدم۔ جھنم غیر منصرف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ وبئس المصیر : جملہ حالیہ ہے یا جملہ معترضہ تذییلی ہے۔ اور وہ برا ٹھکانا ہے (نیز ملاحظہ ہو (66:9)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–14

لغات القرآن۔ تبرک۔ برکت والا۔ ید۔ ہاتھ۔ یبلوا۔ وہ آزماتا ہے۔ ایکم۔ تم میں کون۔ احسن عملا۔ عمل کے اعتبار سے زیادہ بہتر۔ طباقا۔ ایک پر ایک۔ تفوت۔ فرق ۔ ارجع۔ لوٹالے۔ فطور (فطر) ۔ شگاف۔ دراڑ۔ کرتین۔ بار بار۔ ینقلب۔ پلٹ کر آئے گا۔ خاسئا۔ ذلیل و رسوا۔ حسیر۔ تھکا ماندہ۔ مصابیح (مصباح) ۔ چراغ۔ رجوما۔ مارنے کی چیز۔ القوا۔ ڈالے گئے۔ سمعوا۔ انہوں نے سنا۔ شھیقا۔ زبردست ڈرائونی آواز۔ دھاڑنا۔ تفور۔ جوش مارتی ہوگی۔ تکار۔ قریب ہے۔ تمیز۔ پھٹ پڑے گی۔ الغیظ۔ غصہ۔ فوج۔ جماعت۔ گروہ۔ سال۔ اس نے پوچھا۔ خزنۃ۔ حفاظت کرنے والا۔ نگران۔ لوکنا۔ اگر ہم ہوتے۔ اعترفوا۔ انہوں نے اقرار کیا۔ سحقا۔ دور دور۔ اسروا۔ تم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 6–11

شیطان کے بہکاوے سے بچنے کا ذکر اور جو نہ بچے اس کا انجام۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل فرما کر اپنے رسول کی معرفت یہ سب لوگوں کو اچھی طرح سمجھادیاجائے کہ یہ لوگ شیطان کو اپنادشمن جانیں اور اس کے بہکاوے میں نہ آئیں ورنہ جو شیطان کے بہکاوے میں آئے گا اللہ کی مرضی کے برخلاف کام کرے گا ایسے نافرمان آدمیوں اور شیطان اور اس کے شیاطینوں سے دوزخ کو بھردیاجائے گا، اس قدر انتظام کے بعد بھی جب بہت سے نافرمان لوگ شیطان اور اس کے شیاطینوں کے ساتھ دوزخ میں جائیں گے تو دوزخ کے تعیناتی والے فرشتے کو اس بات کا بڑا تعجب ہوگا کہ باوجود ایسے بڑے انتظام کے اتنے بہت سے آدمی دوزخ میں کیونکرآن پڑے۔ اس لیے وہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–8

ف 2: جس طرح زندگی ایک ایجابی حقیقت کا نام ہے ۔ اسی طرح موت بھی صرف عناصر کا پریشان ہونا نہیں ۔ بلکہ ایک مثبت شئے ہے ۔ جو خدا کے قبضہ قدرت میں ہے ۔ اور ان دونوں حقیقتوں پر عالم کون و فساد کی بنیادیں استوار ہیں ۔ فرمایا ۔ کہ اس مقام حیات وممات کی غرض اور غایت یہ ہے ۔ کہ زندگی کو موت پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔ اور انسان اپنے حسن عمل سے یہ ثابت کردے ۔ کہ یہ اللہ کا نائب ہے ۔ اور شجروحجر کی طرح زندگی پسند نہیں کرتا ۔ اس کے بعد کارگاہ حکمت کی طرف انسانی ذہن کو متصف کیا ہے کہ اس میں تمام قسم کی ضروریات کو مہیا کردیا گیا ہے ۔ خواہ کتنا ہی باریک بین انسان ہو جب اس پر غور کریگا ۔ تو اس میں کوئی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(6) اور جو لوگ اپنے پروردگار کی توحیدکا انکار کرتے اور جو اپنے پروردگار کے ساتھ کافرانہ شیوہ رکھتے ہیں تو ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور وہ جہنم باز گشت بہت بری جگہ ہے۔ یعنی اپنے پروردگار کی توحید کا انکار کرتے ہیں اور دین حق کے منکر ہیں تو ان کا حشر بھی وہی ہوگاجو شیاطین کا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 4–7

ف 5۔ یعنی وہ جس چیز کو جیسا چاہے بنا سکتا ہے، چناچہ آسمان کو مضبوط بنانا چاہا تو کیسا بنایا کہ باوجود مرور زمان دراز اب تک اس میں کوئی خلل نہیں آیا، اسی طرح کسی شے کو ضعیف و منفعل بنادیا، غرض اس کو ہر طرح قدرت ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 6–7

جب وہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے تو دوزخ دھاڑے گی اور جوش مارے گی 7 ؎ جب کفار کو دوزخ میں ڈالا جائے گا تو دوزخ دھاڑے گی اور یہ وہ کیفیت ہے جب آگ کے الائو جل رہے ہوں اور ان پر ایندھن کی بجائے تیل ، چربی اور اس طرح کی دوسری چیزیں جن میں دہنیت ہوتی ہے ڈالی جائیں تو آگ بھڑکتی ہے اور اس کے بھڑکنے کی آواز کو دھاڑنے سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہ منظر بہت ہی خطرناک منظر ہوگا۔ اس کے شعلے جوش مار رہے ہوں گے جس سے ایک خوفناک اور مکروہ شور اٹھ رہا ہوگا اور دیکھنے والوں کو اس طرح محسوس ہوگا کہ گویا دوزخ کے شعلے اور دہکتے ہوئے انگارے بےقابو ہو رہے ہیں اور شدت غضب سے نہ معلوم ابھی کہاں سے کہاں پہنچ جائیں گے اور جب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–14

وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُ‌جُومًا لِّلشَّيَاطِينِ (And We have decorated the nearest sky with lamps, and have made them devices to stone the devils, and We have prepared for them the punishment of Hell....67:5). The word 'masabih' (translated above as 'lamps' ) stands for 'stars'. The fact that the sky is decorated with stars does not necessarily imply that they should be studded with them inside or under the sky. The decoration is available also to the situation when the stars are far below the sky in space as modern research has proved it by…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

12 That is, the fate of all those,whether men or Satans, who disbelieve in their Lord. (For the explanation of the meaning of disbelieving in the Lord (Rabb) , see E.N 161 of AI-Baqarah, E.N. 178 of An-Nisa', E.N. 39 of Al-Kahf, E,N. 3 of Al-Mu'min

Read the full tafseer →