Ayahs 67:1–5اللہ تعالیٰ کی ذات عالی ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے سارا ملک اسی کے قبضہ قدرت میں ہے اسی نے موت وحیات کو پیدا فرمایا تاکہ تمہیں آزمائے
ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی ذات عالی کی عظمت اور سلطنت اور قدرت اور شان خالقیت بیان فرمائی ہے۔ اول تو یہ فرمایا کہ وہ ذات برتر ہے اور بالا ہے جس کے قبضے میں پورا ملک ہے سارے عالم میں اسی کا راج ہے اسی کی سلطنت ہے اس کی قدرت سے کوئی بھی باہر نہیں۔ سورة ٴ یٰسین میں فرمایا : ﴿ فَسُبْحٰنَ الَّذِيْ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ ﴾ (سو پاک ہے وہ ذات جس کے قبضہ میں ہر چیز کی سلطنت ہے)
دوم یہ فرمایا کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے سوم یہ فرمایا کہ اس نے موت کو اور حیات کو پیدا فرمایا ہے اور ان دونوں کے پیدا فرمانے میں بڑی حکمت ہے اور وہ یہ کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں عمل کے اعتبار سے سب سے اچھا کون ہے مطلب یہ ہے کہ انسان دنیا میں آتے جاتے ہیں پیدا ہوتے ہیں، زندہ رہتے ہیں پھر مرجاتے ہیں یہ موت وحیات یوں ہی بغیر حکمت کے نہیں ہے، انسان یوں نہ سمجھے کہ میں یوں ہی عبث بغیر کسی حکمت کے پیدا کیا گیا ہوں۔ سورة قیامہ میں فرمایا ﴿اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًىؕ0036﴾ (کیا انسان خیال کرتا ہے کہ اسے یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا) ۔
نہ انسان کی تخلیق عبث ہے نہ اس کی زندگی خوامخواہ ہے اس کے پیدا کرنے والے نے اس کی زندگی کے لیے احکام بھیجے ہیں ان احکام پر عمل کرنا جتنا بھی زیادہ کوئی شخص اچھا عمل کرلے گا اسی قدر اچھا آدمی ہوگا اور خوبی کی صفت سے متصف ہوگا، پھر جب مرے گا تو زندگی کے اعمال کا حساب ہوگا اور جتنے جس کے اچھے اعمال ہوں گے اسی قدر عالم آخرت کی نعمتوں سے مالا مال ہوگا، دنیا میں جینا ہے عمل کرنا ہے پھر مرنا ہے پھر حساب کتاب ہے اچھے اعمال کا اچھا بدلہ ہے اور برے اعمال کی بری سزا ہے۔ سورة ٴ مومنون میں فرمایا ﴿اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ 00115﴾ (کیا تم نے یہ خیال کیا ہے کہ ہم نے تمہیں عبث پیدا کیا اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے نہ جاؤ گے) سورة ٴ ہود رکوع نمبر ایک میں بھی ﴿لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا﴾ کی تفسیر دیکھ لی جائے۔ (انوار البیان ج 2)
چہارم : یہ فرمایا ہے کہ وہ عزیز یعنی زبردست ہے کوئی بھی اس کی گرفت اور سلطنت سے باہر نہیں جاسکتا، جسے عذاب دینا چاہے وہ اس کے عذاب سے بچ نہیں سکتا اور وہ غفور بھی ہے جسے بخشنا چاہے کوئی اس کی بخشش کو روک نہیں سکتا۔
پنجم : یہ فرمایا کہ اس نے سات آسمان تہ بہ تہ یعنی اوپر نیچے پیدا فرمائے۔
ششم : یہ فرمایا کہ اے مخاطب تو رحمن جل مجدہ کی تخلیق میں کوئی فرق نہیں دیکھے گا اس نے جس چیز کو جس طرح چاہا بنایا آسمانوں کو جیسا بنانا چاہا وہ اسی طرح وجود میں آگئے نہ ان میں کوئی شگاف ہے ﴿وَمَا لَہَا مِنْ فُرُوْجٍ﴾ اور نہ ایک آسمان دوسرے آسمان پر گرتا ہے۔
بغیر ستونوں کے قائم ہیں۔ ہر ایک کے درمیان جتنا بعد رکھا ہے اسی کے مطابق قائم ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ ہر آسمان سے لے کردوسرے آسمان تک پانچ سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے۔ (كما فی المشکوٰۃ صفحہ 510 عن احمد والترمذی)
ہفتم : یہ فرمایا کہ اے مخاطب تو نظر ڈال اور دیکھ کیا تجھے کوئی خلل نظر آتا ہے پھر نظر ڈال اور بار بار دیکھ گہری نظر سے دیکھ غور و فکر و تامل کے ساتھ نگاہ ڈال جب تو نظر ڈالے گا تو تیری نظر ذلیل اور درماندہ اور عاجز ہو کر تیری طرف لوٹ آئے گی تجھے کسی طرح کا رخنہ نظر نہ آئے گا۔
ہشتم : یہ بیان فرمایا کہ ہم نے قریب والے آسمان کو چراغوں سے مزین کیا (ستارے مراد ہیں) جیسا کہ کہ سورة الصافات میں فرمایا : ﴿اِنَّا زَيَّنَّا السَّمَآء الدُّنْيَا بِزِيْنَةِ ا۟لْكَوَاكِبِۙ006﴾ (بیشک ہم نے قریب والے آسمان کو بڑی زینت یعنی ستاروں کے ذریعہ زینت دی) ۔ رات کو آسمان کی طرف دیکھو تو ستاروں کی جگمگاہٹ سے ایک خوبصورتی کا کیف محسوس ہوتا ہے یہ بات اصحاب فرحت و سرور اور اہل نظر سے پوشیدہ نہیں۔
نہم : یہ فرمایا کہ ہم نے ان چراغوں یعنی ستاروں کو شیاطین کے مارنے کا ذریعہ بنایا۔ شیاطین اوپر جاتے ہیں تاکہ اہل سماء یعنی حضرات ملائكہ کی باتیں سنیں۔ ستاروں سے ان کے مارنے کا کام بھی لیا جاتا ہے ضروری نہیں کہ ستارہ خود اپنی جگہ سے ہٹ کر شیطان کو لے ستاروں میں سے چنگاریاں نکلتی ہیں جو شیاطین کو مارتی ہیں۔ سورة ٴ حجر میں فرمایا ﴿اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَہٗ شِھَابٌ مُّبِیْنٌ﴾ (مگر یہ کوئی بات چوری سے سن بھاگے تو اس کے پیچھے ایک روشن شعلہ لگ لیتا ہے) ۔
دہم : یہ فرمایا کہ ہم نے شیاطین کے لیے دہکتی ہوئی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے شیاطین کی بڑی بڑی شرارتیں ہیں خود بھی کافر ہیں بنی آدم کو بھی کفر پر رکھنا چاہتے ہیں اور جو شخص ایمان لے آئے اس کو گناہوں پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آسمان کے قریب جا کر فرشتوں کی باتیں سننے کی کوشش کرتے ہیں جو تکوینی امور سے متعلق ہیں جیسے ہی پہنچتے ہیں، انگاروں اور چنگاریوں کی مار پڑتی ہے جس سے بعض مرجاتے ہیں اور بعض مجنون یعنی دیوانے ہوجاتے ہیں اگر انگارہ لگنے سے پہلے ان میں سے کسی نے ایک آدھ بات سن لی تو زمین پر آ کر اس بات کو کاہن کے کان میں ڈال دیتا ہے پھر وہ اس میں سو جھوٹ ملا کر بیان کردیتا ہے شیاطین اس لیے یہ حرکت کرتے ہیں کہ لوگوں کو کاہنوں کا معتقد بنائیں اور ایمان سے دور رکھیں۔
فائدہ : سورة الملک کے شروع میں جو ﴿خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَيٰوةَ ﴾ فرمایا ہے اس سے بظاہر متبادر یہی ہے کہ موت اور حیات دونوں وجودی چیزیں ہیں اگر موت کو عدم الحیاۃ سے تعبیر کیا جائے تو یوں سمجھ آتا ہے کہ ان کی روحیں نکال لی جاتی ہیں روح کا نکالنا یہ تو وجودی چیزیں ہیں اس اعتبار سے موت کو وجودی چیز کہنے میں کسی تامل کی بات نہیں ہے اور اس میں زیادہ غور و فکر کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔
Ayahs 67:6–10کافروں کا دوزخ میں داخلہ، دوزخ کا غیظ و غضب، اہل دوزخ سے سوال و جواب اور ان کا اقرار کہ ہم گمراہ تھے
گزشتہ آیت میں بتایا کہ شیاطین کے لیے جلتی ہوئی آگ کا عذاب تیار فرمایا ہے۔ ان آیات میں کافروں کے عذاب کا تذکرہ فرمایا جو کفر میں شیاطین کے ہمنوا ہیں اور شیاطین کے ترغیب دینے اور کفر پر جمانے سے کفر کو اختیار کیے ہوئے ہیں، فرمایا کہ جن لوگوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور جہنم بری جگہ ہے اور برا ٹھکانہ ہے پھر فرمایا کہ جب یہ لوگ دوزخ میں ڈالے جائیں گے تو دوزخ کی سخت دہشت ناک اور وحشت ناک آواز سنیں گے وہ جوش مارتی ہوگی اس کے جوش کا یہ عالم ہوگا کہ گویا ابھی غصے کی وجہ سے پھٹ پڑے گی یہ غصہ اسے اللہ تعالیٰ کے دشمنوں پر آئے گا۔ سورة الفرقان میں فرمایا ہے ﴿ اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِيْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَيُّظًا وَّ زَفِيْرًا 0012﴾ جب دوزخ انہیں دور سے دیکھے گی تو غصے میں بھری ہوئی اس کے جوش کی آواز سنیں گے۔ ﴿ كُلَّمَاۤ اُلْقِيَ فِيْهَا فَوْجٌ ﴾ (الآیات) جب بھی کافروں کی کوئی جماعت دوزخ میں ڈالی جائے گی تو جھڑکنے اور ڈانٹنے کے طور پر دوزخ کے محافظین ان سے دریافت کریں گے (کہ تمہیں یہاں آنا کیسے ہوا) کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا یعنی اللہ تعالیٰ نے جو بنی آدم کی طرف اپنے رسول بھیجے تھے ان میں سے کوئی رسول تمہارے پاس نہیں پہنچا تھا جس نے تمہیں منکرین کے عذاب سے باخبر کیا اور جھٹلانے والوں کی سزا بیان فرمائی ؟ کافر یہ سن کر جواب دیں گے کہ ہاں ڈرانے والا تو آیا تھا لیکن ہم نے ان کو جھٹلایا اور یوں کہہ دیا کہ اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا اور صرف جھٹلایا ہی نہیں بلکہ یہ بھی کہا کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں ہی کو بڑی گمراہی میں بتادیا کافر لوگ ساتھ ہی یوں بھی کہیں گے کہ اگر ہم سمجھنے کے طور پر ان حضرات کی بات سنتے اور ان کی بات کو سمجھتے تو آج ہم جلنے کے عذاب میں نہ ہوتے۔
Ayah 67:11﴿فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ 1ۚ﴾ (یہ بات کہہ کر کہ اگر ہم سنتے اور سمجھتے تو آج جلنے کے عذاب میں نہ ہوتے اپنے گناہ کا اقرار کرلیں گے یعنی یہ مان لیں گے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا۔ ) ۔ ﴿ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِيْرِ 0011﴾ (سو جلتی ہوئی آگ میں داخل ہونے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری ہے) یہ دوری ہمیشہ کے لیے ہے کبھی بھی ان پر رحم نہ کیا جائے گا۔
Ayahs 67:12–13اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے لیے بڑی مغفرت ہے اور اجر کریم ہے
یہ تین آیات ہیں پہلی آیت میں اہل ایمان کا اور اعمال صالحہ کا اور گناہوں سے بچنے کا فائدہ بتایا ان کے لیے مغفرت ہے اور ان کے لیے بڑا اجر بھی ہے جس طرح یعنی کہ کافروں کے لیے عذاب سعیر ہے اسی طرح اہل ایمان کے لیے اجر کبیر ہے جو بھی کوئی شخص جنت میں داخل ہوگا اسے اس کا اجر وہاں کی نعمتوں کی صورت میں ملے گا، دوسری آیت میں فرمایا کہ تم لوگ آہستہ سے بات کرو یا زور کی آواز سے اللہ تعالیٰ دونوں طرح کی آواز کو سنتا ہے اور اگر کوئی بات بالکل ہی بےآواز ہو مثلاً دل میں کوئی بات طے کرلی ہو یا کسی بھی گمراہی کا یقین کرلیا ہو اللہ تعالیٰ کو اس سب کی خبر ہے کیونکہ وہ سینہ کی باتوں کو جانتا ہے۔ معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ مشرکین نے آپس میں ایک دوسرے سے یوں کہا کہ چپکے چپکے باتیں کرو ایسا نہ ہو کہ محمد ﷺ کا معبود سن لے۔ اس پر آیت بالا نازل ہوئی۔
Ayah 67:14کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا فرمایا :
تیسری آیت میں فرمایا کہ تم اس بات کا اقرار کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے ہی سب کو پیدا فرمایا، اللہ تعالیٰ محمد ﷺ کا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے جب وہ ہر چیز کا خالق ہے تو اپنی ہر مخلوق کو کیسے نہ جانے گا تمہارے احوال و اقوال بھی اس کی مخلوق ہیں اسے ان سب کا علم ہے زور سے یا آہستہ سے بات کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا اسے ظاہر اور باطن کا اور ہر چیز ہر قول ہر فعل کا علم ہے اس کے احاطہ علمی سے کوئی چیز باہر نہیں تمہارا یہ خیال کرنا کہ آہستہ بات کریں گے تو وہ نہ سنے گا اور اسے ہماری بات کا علم نہ ہوگا تو ہماری گرفت بھی نہ ہوگی یہ سب تمہاری جہالت اور ضلالت یعنی گمراہی ہے۔ وہ تمہارے عقائد اور اعمال پر ضرور سزا دے گا۔
Ayahs 67:15–16اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارے لیے مسخر فرما دیا، اسے قدرت ہے کہ تمہیں زمین میں دھنسا دے یا سخت آندھی بھیج دے، بلندی پر جو پرندے اڑتے ہیں اللہ تعالیٰ ہی ان کا محافظ ہے
ان آیات میں بھی اللہ تعالیٰ کی شان خالقیت اور رازقیت بیان فرمائی ہے اول تو یہ فرمایا کہ یہ زمین جس پر تم بستے ہو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے مسخر فرما دی ہے اس کو جیسے چاہتے ہو اپنے تصرف میں لاتے ہو نرم چیز ہے اسے کھودتے ہو بنیادیں ڈال کر گھر بناتے ہو۔ کنویں کھودتے ہو، ہل اور ٹریکٹر چلا کر کھیتی بوتے ہو، اس پر رہتے سہتے ہو، ناپاکی تک اس پر ڈالتے ہو۔ غرض یہ کہ وہ تمہارے کاموں میں آتی ہے اور تمہاری ضرورتوں میں استعمال ہوتی ہے تم اس کے راستوں میں چلو پھرو سفر کرو تجارت کرو یہاں کی چیزیں وہاں لے جاؤ اور وہاں کی چیزیں یہاں لے کر آؤ اور جو رزق تمہیں سفر کیے بغیر مل جائے یا سفر کر کے حاصل ہو اسے کھاؤ پیو۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی کا رزق ہے اور ساتھ ہی یہ سمجھ لو کہ زمین کی یہ نعمت اور رزق کی دولت صرف اسی حد تک نہیں ہے کہ یہیں کھا پی کر بےفکر ہوجاؤ تمہیں مرنا بھی ہے اور اسی زمین میں دفن ہونا ہے پھر صور پھونکے جانے پر قبروں سے اٹھنا ہے اور حساب کتاب کے لیے خالق جل مجدہ کے حضور پیش بھی ہونا ہے، چلو پھرو، کھاو پیو اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو اس کی فرمانبرداری میں لگو۔
Ayahs 67:17–18پھر فرمایا کہ تمہارے سامنے یہ ہمارا رسول ایمان کی دعوت پیش کرتا ہے اس کی بات مانو اور فرمانبرداری کرو۔ اس کی دعوت پر کان نہ دھرنے اور قبول نہ کرنے سے آسمان سے بھی عذاب آسکتا ہے اور زمین سے بھی جس ذات پاک کا حکم آسمانوں میں نافذ ہے کیا تم اس کی طرف سے نڈر ہوگئے ہو کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے۔ یہی زمین جس کو تمہارے قابو میں دیا ہے وہ اسی زمین کو تمہارے لیے ہلاکت اور عذاب کا سبب بنا سکتا ہے وہ اس زمین میں شگاف ڈال کر تمہیں اس میں دھنسانے لگے تو زمین تھرتھرا کر الٹ پلٹ ہونے لگے گی جس سے تم اس کے اندر چلے جاؤ گے اور اس ذات پاک کو یہ بھی قدرت ہے جس کا آسمان میں حکم اور تصرف جاری ہے کہ تم پر وہ ایک سخت ہوا بھیج دے زمین کے اوپر ہوا چلتی ہے یہاں سے وہاں جاتی ہے۔ عام حالات میں معتدل رہتی ہے کبھی تیز بھی ہوجاتی ہے لیکن عام طور سے اس کی رفتار میں اتنی تیزی نہیں ہوتی کہ لوگوں کو اٹھا کر پھینک دے اس کے خالق اور مالک جل مجدہ کو پوری طرح قدرت حاصل ہے کہ وہ ہوا کو خوب زیادہ تیز چلا دے جو زمین پر بسنے والوں کو تہس نہس کر دے جو لوگ اللہ کے رسول ﷺ کی دعوت کو قبول نہیں کرتے انہیں اس سے ڈرنا چاہیے کہ وہ ہوا کے ذریعہ تمہیں ختم نہ کر دے جیسا کہ بعض گزشتہ امتوں پر ہوا کا عذاب آیا تھا۔
﴿فَسَتَعْلَمُوْنَ كَيْفَ نَذِيْرِ 0017﴾ (سو عنقریب تم جان لو گے کہ میرا ڈرانا کیسا تھا) اگر دنیا میں عذاب نہ آیا تو یہ نہ سمجھا جائے کہ یہاں سے صحیح سالم گزر گئے گرفت نہیں، موت کے بعد جو کفر پر عذاب ہوگا وہ بہت سخت ہوگا۔ اس وقت سمجھ میں آئے گا کہ رسولوں کے ذریعہ جو اللہ تعالیٰ نے دین بھیجا تھا وہ حق تھا، ہم جو اس کے منکر ہوئے خود اپنا ہی برا کیا اور عذاب شدید میں گرفتار ہوئے ﴿ وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيْرِ 0018﴾ (اور ان سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں انہوں نے حق کو جھٹلایا سو کیسا تھا میرا عذاب۔ پرانے مکذبین (جھٹلانے والوں) کا انجام تمہیں معلوم ہے اس سے عبرت حاصل کرلو۔
Ayah 67:19اس کے بعد پرندوں کا حال بیان فرما کر اللہ تعالیٰ کی قدرت قاہرہ بیان فرمائی اور فرمایا :
﴿اَوَ لَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ يَقْبِضْنَ 1ؕۘؔ﴾ (کیا انہوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا جو ان کے اوپر ہوا میں اپنے بازو پھیلائے ہوئے اڑتے ہیں اور وہ اپنے بازوؤں کو پھیلانے کے بعد سکیڑ لیتے ہیں اور دونوں حالتوں میں وہ فضا میں موجود رہتے ہیں اور باوزن ہونے کے باوجود فضا میں پھرتے رہتے ہیں زمین پر نہیں گرتے) ۔ ﴿ مَا يُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ﴾ (رحمٰن کے علاوہ انہیں کوئی تھامے ہوئے نہیں ہے) ۔ ﴿اِنَّهٗ بِكُلِّ شَيْءٍۭ بَصِيْرٌ0019﴾ (بلاشبہ وہ ہر چیز کو دیکھنے والا ہے) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر استدلال کرنے کے لیے پرندوں کا فضا میں پر پھیلائے ہوئے اڑتے پھرنا بلکہ بعض مرتبہ پروں کو سکیڑ کر بھی فضا میں رہنا اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر ایک بڑی دلیل ہے۔ یہی بازو جو جانوروں کے ہیں اس طرح کے بازو اگر پرندوں کے علاوہ دوسرے جانداروں کو لگا دیئے جائیں تو وہ نہیں اڑ سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کو چاہا جس خصوصیت سے نواز دیا، آسمان میں سب تصرفات اللہ تعالیٰ کے ہیں جسے ﴿وَ لَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَآء الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ ﴾ میں بیان فرمایا اور زمین میں بھی اس کا تصرف ہے جسے ﴿هُوَ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا ﴾ میں ذکر فرمایا اور آسمان اور زمین کے درمیان جو فضا ہے اس میں بھی اس قادر مطلق کا تصرف ہے جسے ﴿اَوَ لَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ ﴾ میں بیان فرمایا۔
Ayah 67:20رحمٰن کے سوا تمہارا کون مددگار ہے ؟ اگر وہ اپنا رزق روک لے تو تم کیا کرسکتے ہو
ان دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ کے مدد فرمانے اور رزق عطا فرمانے کا اور کافروں کے غرور اور نفور میں اور سرکشی میں بڑھتے چلے جانے کا ذکر ہے۔ ان آیتوں کا سبب نزول بعض مفسرین نے یہ لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں جو کافر دعوت حق قبول کرنے سے گریز کرتے تھے اور عناد پر تلے ہوئے تھے انہیں دو چیزوں پر گھمنڈ تھا اول تو یوں کہتے اور سمجھتے تھے کہ ہمارے اموال اور ہمارے افراد قوم اور قبیلہ کے لوگ ہماری حفاظت کرلیں گے، دوم وہ بتوں سے نفع وضرر کی امید رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی دونوں باتوں کی تردید فرمائی اول تو یہ فرمایا کہ بتاؤ تمہارے وہ کون سے لشکر ہیں جو رحمن جل مجدہ کے علاوہ تمہاری مدد کردیں گے، یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی عذاب آجائے تو اسے دفع کرنے والا اور تمہاری مدد کرنے والا کون ہے ؟ یعنی کوئی بھی نہیں ہے، تم جھوٹی خام خیالیوں میں مبتلا ہو شیطان نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے اور یہ سمجھا رکھا ہے کہ کوئی عذاب آگیا تو ہمارے جو کثیر افراد ہیں وہ حفاظت کرلیں گے، پھر فرمایا کہ یہ بھی بتاؤ کہ رازق مطلق جو تمہیں رزق دیتا ہے اگر وہ اپنے رزق کو روک لے تو بتاؤ وہ کون ہے جو تمہیں رزق دیدے ؟ یعنی اس کے علاوہ تمہیں کوئی بھی رزق دینے والا نہیں۔
Ayah 67:21طرح طرح کے دلائل سامنے آتے ہیں لیکن پھر بھی سرکشی میں اور نفور میں یعنی حق سے دور ہونے میں آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں اسی کو فرمایا : ﴿ بَلْ لَّجُّوْا فِيْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ 0021﴾ بلکہ وہ لوگ سرکشی اور نفرت پر جمے ہوئے ہیں۔
Ayah 67:22جو شخص اوندھا منہ کر کے چل رہا ہو کیا وہ صراط مستقیم پر چلنے والے کے برابر ہوسکتا ہے ؟
ان آیات میں پہلے تو کافر اور مومن کی مثال بیان فرمائی ارشاد فرمایا کہ ایک شخص منہ کے بل گرا ہوا ہے اور اسی طرح اوندھا چل رہا ہے (یہ کافر کی مثال ہے) اور ایک وہ شخص ہے جو ٹھیک راستے پر جا رہا ہے نہ اسے گرنے کا خطرہ ہے نہ پھسلنے کا ڈر ہے (یہ مومن کی مثال ہے) بتاؤ ان دونوں میں صحیح راہ پر کون ہے اور دونوں میں کون بہتر ہے۔ ظاہر ہے ایک سمجھدار آدمی اس کو بہتر اور صحیح راہ پر بتائے گا جو اعتدال کے ساتھ ٹھیک طریقہ سے سیدھے راستہ پر جا رہا ہے جس میں نہ کجی ہے نہ پھسلنے کا خطرہ ہے مومن اس صفت سے متصف ہے اور اس کی حالت ہر طرح سے اوندھے منہ چلنے والے کافر سے بہتر ہے۔
Ayah 67:23اعضاء وجوارح کا شکر کرو :
اس کے بعد اللہ تعالیٰ شانہ ٗ کا یہ احسان فرمایا کہ اس نے تمہیں پیدا کیا، تمہارا بالکل ہی وجود نہ تھا اس نے تمہیں وجود بخشا اور صرف وجود ہی نہیں دیا بلکہ بہترین اعضاء وجوارح سے آراستہ فرما دیا، تمہیں اس نے قوت سامعہ دی آنکھیں عطا فرمائیں دل عنایت فرمائے۔ ان سب نعمتوں کا تقاضا یہ ہے کہ خوب بڑھ چڑھ کر اس کا شکر ادا کرو۔ قلب سے اور قالب سے شکر گزار بندے بنے رہو۔ سمجھداری کا تو تقاضا یہی ہے مگر تمہارا حال یہ ہے کہ بہت کم شکر ادا کرتے ہو۔
اللہ تعالیٰ نے علم و فہم اور ادراک و شعور عطا فرمایا ہے ان کے کچھ ذرائع بھی بنا دیئے ہیں۔ دیکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انکھیں دیں سننے کے لیے قوت سامعہ عطا فرمائی، سونگھنے کے لیے ناک کے اندر قوت شامہ رکھ دی اور چکھنے کے لیے زبان کے جسم میں قوت ذائقہ ودیعت فرما دیا اور قوت لامسہ یعنی چھونے کی قوت سارے بدن میں رکھ دی۔ اعضاء کی نعمتوں میں سے یہاں تین چیزوں یعنی سمع اور بصر اور افئدہ یعنی قلوب کو ذکر فرمایا ہے یہ مضمون سورة ٴ نحل اور سورة المومنون اور سورة ٴ الم سجدہ میں بھی بیان فرمایا ہے افئدہ فواد کی جمع ہے فواد ” دل “ کو کہتے ہیں جو علم اور فہم، ادراک اور شعور کا مرکز ہے اور انسان کو زیادہ معلومات سننے سے حاصل ہوتی ہیں۔ اس کے بعد دیکھنے کا مرتبہ ہے اس سے بھی علم حاصل ہوتا ہے لیکن جو معلومات سننے سے حاصل ہوتی ہیں ان معلومات سے زیادہ ہیں جو دیکھنے سے حاصل ہوتی ہیں اس سے سمع و بصر کے ذکر پر اکتفا فرمانے اور سمع کو بصر پر مقدم فرمانے کی وجہ بھی معلوم ہوگئی گو دل کو ان حواس کے ذریعہ علم حاصل ہوتا ہے لیکن ان حواس کا ذریعہ علم ہونا بھی صحت قلب پر موقوف ہے اگر انسان کا دل ٹھکانے نہ ہو تو یہ چیزیں ادراک سے قاصر اور عاجز رہتی ہیں۔ اس اعتبار سے سمع بصر اور فواد کی نعمت کو اکٹھا بار بار بیان کرنے کی حکمت معلوم ہوگئی۔
Ayah 67:24اللہ نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا اور اسی کی طرف جمع کیے جاؤ گے :
پھر فرمایا کہ اللہ وہی ہے جس نے تمہیں زمین پر پھیلا دیا (زمین میں چلتے پھرتے کھاتے کماتے ہو اور زمین کی پیداوار سے منتفع اور متمتع ہوتے ہو اس پر گھر بناتے ہو آرام سے رہتے سہتے ہو) ان نعمتوں کی قدردانی کرو اور یہ بھی سمجھ لو کہ اس زمین پر ہمیشہ رہنا نہیں ہے۔ تمہیں موت آئے گی پھر قیامت کے دن اسی خالق اور رازق کی طرف جمع کیے جاو گے جس نے تمہیں پیدا فرمایا اور نعمتوں سے نواز وہاں جمع کیا جانا اعمال کا بدلہ دینے کے لیے ہوگا لہٰذا حساب کے دن کی پیشی کے لیے فکر مند رہو۔
Ayahs 67:25–26منکرین کا سوال کہ قیامت کب آئے گی اور ان کا جواب
منکرین کے سامنے جب قیامت آنے اور وہاں پیشی ہونے کی باتیں آتی تھیں اور انہیں وعید سنائی جاتی تھی تو مذاق کے طور پر انکار کے پیرایہ میں سوال کرتے تھے کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو تو اس کی تاریخ بتادو، ان کے جواب میں فرمایا ﴿قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ 1۪﴾ (آپ فرما دیجئے کہ علم صرف اللہ کے پاس ہے) ﴿وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ0026﴾ (اور میں تو صرف واضح طور پر ڈرانے والا ہوں) میر اکام بتانا سمجھانا واضح طور پر بیان کرنا ہے (اگر مجھے قیامت کے واقع ہونے کا وقت معلوم ہوتا تو تمہیں بتادینا) لیکن یہ بھی نہ سمجھو کہ اس کے وقوع کی تاریخ معلوم نہ ہوسکی تو وہ آنے والی ہی نہیں۔
جب قیامت آنے لگے گی اور اس کا وقوع قریب ہوجائے گا تو کافروں کا برا حال ہوگا۔ عذاب نظر آئے گا تو ان کے چہرے بگڑ جائیں گے ان پر ذلت سوار ہوگی، سورة ٴ زمر میں فرمایا ﴿وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ تَرَى الَّذِيْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ﴾ (اور اے مخاطب تو قیامت کے دن دیکھے گا کہ جنہوں نے اللہ پر جھوٹ بولا ان کے چہرے سیاہ ہوں گے) اور سورة ٴ عبس میں فرمایا ﴿وَ وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌۙ0040 تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌؕ0041 اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ (رح) 0042﴾ (اور بہت سے چہروں پر اس روز سیاہی ہوگی ان پر کدورت چھائی ہوگی۔ یہ لوگ کافر و فاجر ہوں گے) ۔
Ayah 67:27﴿وَ قِيْلَ هٰذَا الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ 0027﴾ اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ جسے تم طلب کیا کرتے تھے۔
یعنی تم جو یہ کہتے تھے کہ قیامت آنے کا وعدہ کب پورا ہوگا گویا انداز بیان ایسا تھا جیسے تم قیامت کے چاہنے والے ہو، لو اب وعدہ پورا ہوگیا تمہاری مانگ پوری ہوگئی آج اپنے انکار و تکذیب کی سزا بھگت لو۔
Ayahs 67:28–29اگر اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک فرما دیں تو کون ہے جو کافروں کو عذاب سے بچائے گا
ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرمایا کہ آپ اپنے مخاطبین سے یہ باتیں فرما دیں، پہلی بات یہ ہے کہ تم میرے لیے اور میرے ساتھ والوں کے لیے دکھ تکلیف میں مبتلا ہونے کی آرزو رکھتے ہو تم اپنے بارے میں غور کرو، دیکھو اگر اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے (جیسا کہ تم چاہتے ہو) یا ہم پر رحم فرما دے جیسا کہ ہم اس سے یہی امید رکھتے ہیں تو اس سے تمہارا کوئی بھلا ہونے والا نہیں ہمارے لیے تو ہر حالت بہتر ہے موت بھی بہتر ہے۔ زندگی بھی رحمت ہے۔ تم پر جب کفر کا عذاب آئے گا تو تم کو کون بچائے گا اس کو سوچو۔ دوسری بات ان سے یہ فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ بڑا مہربان ہے ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے اسی پر توکل کیا ہمیں اس سے ہر طرح سے خیر کی امید ہے اور ہم سراپا ہدایت پر ہیں لیکن تم اس بات کو نہیں مانتے۔ سنو تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ صریح گمراہی میں کون ہے جب تم کفر کی سزا پاؤ گے اس وقت واضح طور پر معلوم ہوجائے گا کہ تم گمراہ تھے اگرچہ ہمیں یہاں گمراہ بتاتے ہو ہم اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم اپنے بارے میں ہدایت پر ہونے کا یقین رکھتے ہیں جب اللہ تعالیٰ فیصلے فرمائے گا اور تم عذاب میں پڑو گے تو معلوم ہوجائے گا گمراہ ہم ہیں یا تم ہو ؟
Ayah 67:30اگر پانی زمین میں واپس ہوجائے تو اسے واپس لانے والا کون ہے ؟
تیسری بات یہ فرمائی کہ آپ ان سے یوں فرما دیں کہ تم یہ بتاؤ کہ اگر تمہارا یہ پانی جو بارش کے ذریعہ تمہیں ملتا ہے اور جسے کنوؤں سے نکالتے ہو اور جسے میٹھی نہروں سے حاصل کرتے ہو یہ تمہارے پینے کھانے پکانے نہانے دھونے میں اور باغوں اور کھیتیوں کی آبپاشی میں کام آتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پانی کو ایسا کر دے کہ بالکل ہی زمین میں دور تک اترتا چلا جائے اور جہاں تک تمہاری رسائی نہ ہو وہاں تک پہنچ جائے تو بتاؤ وہ کون ہے جو پانی کو لے آئے۔ صاحب جلالین لکھتے ہیں کہ یہاں پہنچ کر تلاوت کرنے والا لفظ معین کے بعد یوں کہے کہ ﴿اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ (رح) 0029﴾ (اللہ رب العالمین ہی پانی لاسکتا ہے) یعنی اللہ اس نعمت عظیمہ کو غائب فرما دے تو اس کے علاوہ کوئی بھی کہیں سے پانی دینے والا نہیں۔
تفسیر جلالین شریف میں لکھا ہے کہ جب سورة الملک کی آخری آیت بعض متکبروں نے سنی تو ﴿ فَمَنْ يَّاْتِيْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِيْنٍ (رح) 0030﴾ کے جواب میں اس نے کہا ناتی بہ بالفوس والمعاول (یعنی کدال اور پھاوڑہ کے ذریعہ پانی لے آئیں گے) اس کا یہ کہنا تھا کہ اس کی آنکھوں کا پانی خشک ہوگیا آنکھوں میں جو پانی ہے جس سے چمک دمک اور روشنی ہے وہ بھی تو اللہ تعالیٰ کا پیدا فرمودہ ہے، جسے کدال اور پھاوڑہ پر غرور ہے وہ اپنی آنکھ کا خشک شدہ پانی پھاوڑہ چلا کر کھدائی کر کے لے آئے۔
فضیلت
احادیث شریفہ میں سورة الملک کی بڑی فضیلت آئی ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بلاشبہ قرآن میں ایک سورت ہے جس کی تیس آیتیں ہیں اس نے ایک شخص کے لیے شفاعت کردی یہاں تک کہ وہ بخش دیا گیا وہ سورت تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ ہے۔ (رواہ احمد والترمذی و ابو داؤد والنسائی و ابن ماجہ کما فی المشکوٰۃ صفحہ 182)
اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک صحابی نے ایک جگہ اپنا خیمہ لگایا وہاں قبر تھی جس کا انہیں پتہ نہ تھا وہاں انہوں نے ایک شخص کی آواز سنی جو سورة ٴ تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ پڑھ رہا تھا اس نے پوری سورت ختم کرلی، یہ صحابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو پوری کیفیت سنائی، آپ نے فرمایا یہ سورت عذاب سے روکنے والی ہے قبر والے شخص کو اللہ کے عذاب سے نجات دینے والی ہے۔ (رواہ الترمذی کما فی المشکوٰۃ صفحہ 188)
اور حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب تک سورة ٴ الم تنزیل (جو اکیسویں پارہ میں ہے) اور سورة ٴ تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ نہیں پڑھ لیتے تھے اس وقت تک (رات کو) نہیں سوتے تھے۔
(رواہ احمد والترمذی والدارمی کما فی المشکوٰۃ صفحہ 188)
وھذا آخر تفسیر سورة الملک بفضل اللہ الملیک العلام والحمد للہ علی التمام والصلٰوة علی البدر التمام وعلی الہ و اصحابہ البررة الکرام