67. Surah Al-Mulk

الملكThe Sovereignty · 30 ayahsسراج البیان

Ayahs 67:1–3

تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ Open ayah 67:1 in the Quran reader

بڑی برکت والا ہے وہ جس کے ہاتھ میں بادشاہت ہے اور وہ ہر شئے پر قادر (ف 1) ہے

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ Open ayah 67:2 in the Quran reader

جس نے موت اور حیات کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے اور وہ زبردست ہے بخشنے والا

الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ Open ayah 67:3 in the Quran reader

جس نے اوپر تلے سات آسمان پیدا کئے تو رحمن کی پیدائش میں کچھ فرق (بےضابطگی) نہیں دیکھتا ۔ پھر دہرا کر نظر پھرا کہیں کچھ درز دیکھتا ہے ؟

اسلامی سوشلزم 1: جہاں تک ذات خد اوندی کا تعلق ہے ۔ وہ تو اضافہ وارتقاء مراتب سے یک قلم منزہ اور پاکی ہے ۔ اس لئے تبارک کی یہ معنے تو ہرگز نہیں ہیں ۔ کہ اس کی صفات جلال اور شنون جمال میں کہیں ازدیاء کا امکان ہے ۔ اس کی شان ازل سے ابد تک یکساں ہے ۔ وہ الان کم کان کا مصداق ہے ۔ وہ قدرت و حکمت اور حسن و کمال کا وہ آخری مفہوم ہے ۔ جس تک عقل انسانی پہنچ سکتی ہے ۔ مگر اس کا احاطہ نہیں کرسکتی ۔ البتہ اس کے معنے یہ ہوسکتے ہیں ۔ کہ اس کے فیوض رحمت میں ابداً اور دائماً باعتبار کائنات کے اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔ اور اس کی ربوبیت زیادہ اتم کو زیادہ جمیل اور زیادہ مفید شکل میں بدل رہی ہے ۔ بیدہ کا لفظ جسمانیت میں لالت نہیں کرتا ۔ بلکہ مفہوم تملیک کو زیادہ مستحکم کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ کائنات ارضی وسمادی کا حقیقی مالک صرف خدا ہے ۔ اور یہ لوگ جو جبروظلم اور استبداً وغضب کی بناء پر دنیا پرچھا رہے ہیں ۔ قطعاً اس بات کا استحقاق نہیں رکھتے کہ دنیا کے تنہا مالک قراردیئے جائیں ۔ اور غربا اور مساکین کو زندگی کے تمام فیوض سے محروم کردیں ۔ مالک خدا ہے ۔ اور یہ لوگ نفس امین ہیں ۔ ان کا کام یہ نہیں ہے ۔ کہ اپنی مرضی سے دنیا کے منافع کو قصرف میں لائیں ۔ بلکہ یہ ہے ۔ کہ خدا کے قوانین کے مطابق دولت و ثروت کی تقسیم کریں ۔ اشتراکیت اور اسلام کے تخیل میں یہی بنیادی اختلاف ہے ۔ کہ اول بلند کو تحر کی کے سوید تمام زمین اور آلات نفع کو سٹیٹ کے سپرد کردیتے ہیں ۔ اور توقع رکھتے ہیں ۔ کہ وہ انصاف کے ساتھ ان میں ان چیزوں کو تقسیم کردے گی ۔ اور اسلام انسانوں کی کسی جماعت کو یہ حق نہیں دیتا ۔ کہ عدل و انصاف کو اپنے ہاتھ میں لے ۔ اور لوگوں کی قسمتوں کی مالک بن جائے ۔ وہ صرف خدا پر اعتماد رکھتا ہے اور صرف اس کے منصفانہ فیصلوں کو نبی نوع انسان کے لئے مفید سمجھتا ہے ۔ اس کے نزدیک انسانوں کی کوئی جماعت اس قابل نہیں ہے ۔ کہ بغیر آسمانی ہدایات کے وہ تسلی بخش کلچرل کی تاسیس کرسکے ۔ حل لغات :۔ الملک ۔ ہر نوع کا قبضہ واقتدار سبع سماوت ۔ کئی اجرام رفیع ۔ باور ہے ۔ سبح کا لفظ جس طرح ایک متقین عد د کے لئے آتا ہے ۔ اسی طرح کثرت کے لئے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے نفوت ۔ چوک ۔ نقص وغیب حسیر ۔ تھکی ماندی ۔ ورماندہ ۔
Ayahs 67:4–8

ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ Open ayah 67:4 in the Quran reader

پھر بار بار نظر پھرا تیری طرف آنکھیں ہوا ہوکر تھکی (ف 2) ہوئی لوٹیں گی

وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ Open ayah 67:5 in the Quran reader

اور ان چراغوں کو شیاطین کے لئے پھینک مار بتایا اور ان کے لئے دوزخ کا عذاب تیار کیا ہے

وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 67:6 in the Quran reader

اور ان کے لئے جو اپنے رب کے منکر ہوئے جہنم کا عذاب سے اور وہ بری ہے جگر پھرجانے کی

اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ Open ayah 67:7 in the Quran reader

جب اس میں ڈالے جائیں گے تو اس کا دہاڑنا سنیں گے اور وہ جوش مارتی ہوگی

تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ Open ayah 67:8 in the Quran reader

قریب ہے کہ غصہ سے پھٹ جائے جب اس میں فوج ڈالی جائیگی تو اس کے نگہبان اس سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا ؟

ف 2: جس طرح زندگی ایک ایجابی حقیقت کا نام ہے ۔ اسی طرح موت بھی صرف عناصر کا پریشان ہونا نہیں ۔ بلکہ ایک مثبت شئے ہے ۔ جو خدا کے قبضہ قدرت میں ہے ۔ اور ان دونوں حقیقتوں پر عالم کون و فساد کی بنیادیں استوار ہیں ۔ فرمایا ۔ کہ اس مقام حیات وممات کی غرض اور غایت یہ ہے ۔ کہ زندگی کو موت پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔ اور انسان اپنے حسن عمل سے یہ ثابت کردے ۔ کہ یہ اللہ کا نائب ہے ۔ اور شجروحجر کی طرح زندگی پسند نہیں کرتا ۔ اس کے بعد کارگاہ حکمت کی طرف انسانی ذہن کو متصف کیا ہے کہ اس میں تمام قسم کی ضروریات کو مہیا کردیا گیا ہے ۔ خواہ کتنا ہی باریک بین انسان ہو جب اس پر غور کریگا ۔ تو اس میں کوئی نقص نہیں پائے گا ۔ نگاہ تعمتق وفکر تھک جائے گی ۔ اور اس میں عیب نہیں نکال سکے گی ۔
Ayahs 67:9–11

قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ Open ayah 67:9 in the Quran reader

وہ کہیں گے کیوں نہیں ہمارے پاس ڈرانے والا تو آیا تھا ۔ پر ہم نے اسے جھٹلایا اور کہا کہ اللہ نے کوئی شئے نازل نہیں کی تم تو بڑی گمراہی (ف 1) میں ہو

وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:10 in the Quran reader

اور کہیں گے کہ اگر ہم سنتے ۔ سمجھتے ۔ تو ہم دوزخیوں میں نہ ہوتے

فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:11 in the Quran reader

سو انہوں نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا ۔ اب لعنت ہو دوزخیوں پر

پردہ زنگاری میں 1: سابقہ آیات میں یہ بتایا تھا کہ یہ نظام کائنات بہرنوع کامل ہے اس میں کوئی نقص وعیب نہیں ہے ۔ اور اس کو دیکھ کر بادنی تامل ہر شخص کہہ سکتا ہے ۔ کہ اس کو بنانے والا اور کتم عدم سے وجود میں لانے والا کوئی صاحب علم وقدرت خدا ہے ۔ اس پردہ زنگاری کو دیکھ کر شبہ نہیں ۔ بلکہ یقین ہوتا ہے ۔ کہ اس میں کوئی معشوق ضرور پنہاں ہے ۔ اس زندگی وموت کے تسلسل کو مشاہدہ کرنے کے بعد کون ہے ۔ جو تلی اور ممیت ذات کا انکار کرسکے ۔ اور اس سقف زنگار کی آرائش و خوبی کو دیکھ کر کہیں میں جرات ہے ۔ کہ اس نوزانی جہان کو تسلیم نہ کرے ۔ پھر وہ لوگ جو ان سب چیزوں کو صبح ومساء دیکھتے ہیں ۔ اور ذات خداوندی اور ایمان کی نعمت سے بہرہ ور نہیں ہوتے ان کے اے منسوائے جہنم کے اور کہاں ٹھکانا ہوسکتا ہے ۔ یہ لوگ اس وقت تو اس ہولناک منظر کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ کہ کیونکر اس آگ کی تپش اور حرارت کو برداشت کرسکیں گے ۔ جو مارے غصے کی پیچ وتاب کھاتی اور چیخ رہی ہوگی ۔ مگر جب ایک گروہ کی شغل میں ان کو دوزخ میں جھونکا جائیگا ۔ اور فرشتے ازراہ تحقیر پوچھیں گے ۔ کہ کیا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نذیر نہیں آئے تھے ؟ جو تمہیں برائیوں سے روکتے اور انکار وتمرہ سے منع کرتے ۔ کیا انہوں نے اس مقام کی سختیوں اور تکلیفوں کے متعلق تم سے کچھ نہیں کہا تھا ۔ تو اس وقت یہ لوگ اپنی کوتاہی فکر اور بدعملی کا کھلے لفظوں میں اعتراف کریں گے ۔ اور کہیں گے کہ بلا شبہ اللہ کے پیغمبر ہمارے پاس آئے تھے ۔ مگر ہم نیان کو اس وقت تسلیم نہیں کیا ۔ اور الٹا ان کو مورد الزام ٹھہرایا ۔ اگر اس وقت فہم وبصیرت سے کام لیتے ۔ حق بات کو سنتے اور دل میں اتارلیتے ۔ تو آج یہ روز بدو دیکھنا نصیب نہ ہوتا ۔ مگر آہ کہ یہ اعتراف اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکے گا ۔ اس وقت کا اقرار سوائے اس کے کہ حسرت اور کوفت میں اضافہ کردے ۔ کوئی فائدہ انہیں پہنچائے گا ۔ حل لغات :۔ رجوما لشیطین ۔ اس کی دو صورتیں ہیں ایک تو یہ کہ جب ارواح خبیثہ آسمان کی طرف پرواز کرتی ہیں اور اسرار لاہوت کو معلوم کرنے کی کوششیں کرتی ہیں ۔ تو ان سیاروں میں سے ایک برقی رو نکلتی ہے ۔ جو ذرات فلکی کو آگ لگا دیتی ہے ۔ اور وہ شہاب ثاقب بن کر ان پر گرتے ہیں اور اس سے بہ سلسلہ سماعت ونعمتیں منقطع ہوجاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے بروج اور ستاروں کو ہی طرح بنایا ہے کہ کاہن ان کو دیکھ کر کوئی قطعی اور ہمتی پیشگوئی نہیں کرسکتے بلکہ جو کچھ کہتے ہیں ۔ وہ محض الاقبیل رحم یا صفت ہے شھیق ۔ زور کی آواز قبضہ ۔ جو نس مارضے سے تعبیر ہے ۔
Ayahs 67:12–17

اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 67:12 in the Quran reader

وہ لوگ جو بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔ ان کے لئے معافی اور بڑا (ف 1) اجر ہے

وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 67:13 in the Quran reader

اور تم اپنی بات چھپاؤ یا ظاہر کرو ۔ بیشک وہ دلوں کی بات جانتا ہے

اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ Open ayah 67:14 in the Quran reader

کیا وہ نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے حالانکہ وہ بھید جاننے والا خبردار ہے

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ Open ayah 67:15 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تمہاری زمین کو نرم کیا ۔ سو اس کے اطراف میں پھرو ۔ اور اس کے رزق میں سے کھائی اور اسی کی طرف جی اٹھتا ہے

ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ Open ayah 67:16 in the Quran reader

کیا تم اس سے نڈر ہوگئے جو آسمان میں ہے ۔ کہ تمہیں زمین میں دھنسا دے ۔ پھر ناگاہ لرزنے لگے ؟

اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ Open ayah 67:17 in the Quran reader

یا تم اس سے جو آسمان میں ہے نڈر ہوگئے کہ تم پر پھروں کا مینہ برسائے سو اب تم جان لو گے کہ میرا ڈر کیسا ہوتا ہے

نظر اور استدلال کی فضیلت 1: غرض یہ ہے ۔ کہ مغفرت اور بخشش اور اجر کبیر ان لوگوں کا حصہ ہے ۔ جو ان معارف پر غائبانہ ایمان رکھتے ہیں ۔ جو پس پردہ ہیں ۔ جو استدلال ووجدان کی روشنی میں ان حقائق کو تسلیم کرتے ہیں ۔ جو نظروں سے اوجھل ہیں ۔ اور جو اس دنیا میں کوشش کرتے ہیں ۔ کہ سچائی کو پالیں اور صداقت کا برات کے ساتھ اعتراف کریں ۔ اور جو لوگ اس وقت جب دنیا کی آنکھیں بند ہوتی ہیں ۔ عاقبت کی آنکھوں کے ساتھ مشاہدہ و تجربہ کے بعد خدا کو اور جنت و دوزخ کو تسلیم کرینگے ۔ ان کا یہ تسلیم کرنا ان کے لئے یک قلم بےسود ہوگا ۔ کیونکہ ضرورت تو اس بات کی ہے ۔ کہ یہاں اس دنیا میں ان مشکلات ومواقع میں ۔ اور ان حجب استاد کے باوجود اس کو پہچانا جائے ۔ اور اس کے نام کو کفر و انکار کے خلاف پھیلایا جائے ۔ اس وقت تسلیم کیا ۔ تو کیا ۔ جب کہ وہ خود ایمان پر مجبور کردے اور جبکہ اعمال کے لئے کوئی وقت ہی باقی نہ رہے حل لغات :۔ سعیر ۔ آتش وزاں شحقا ۔ لعنت ہے ۔ یعنی بعد اور دوری ہے ۔ مرضات الٰہی سے محرومی ہے ذلولا ۔ مستخر ۔
Ayah 67:18

وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 67:18 in the Quran reader

اور ان سے پہلوں نے جھٹلایا ۔ سو میرا انکار (ف 1) کیسا ہوا ؟

فریب نفس کی بدترین مثال 1: اللہ تعالیٰ کا قانون ہے ۔ کہ وہ مجرموں کو سنبھلنے کی کافی مہلت دیتا ہے تاکہ تمام حجت ہوجائے ۔ اور ان کے پاس کوئی معقول عذر باقی نہ رہے ۔ وہ ڈھیل دیتا ہے ۔ اور درگزرعفو سے کام لیتا ہے ۔ تاکہ یہ اپنے طرز عمل پر غور کرسکیں مگر ان کے مزاج اس قدر بڑا ہوجاتے ہیں ۔ اور وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ کہ خدا ہم سے خوش ہے ۔ اور ہم اس کے عذاب سے ہمیشہ مامون اور محفوظ رہیں گے ۔ اس کا استدلال یہ ہوتا ہے ۔ کہا گر اس کو ہمارے افعال ناگوار ہوتے ۔ اور اس کے نزدیک ہم گنہگار ہوتے ۔ تو کبھی کے مٹ گئے ہوتے ۔ اور اس کے غضب نے ہمارا قصہ تمام کردیا ہوتا ۔ اب جو باوجودانکار اور کفر کے چین سے بسرہو رہی ہے ۔ تو اس کے صاف معنے یہ ہیں ۔ کہ ہمارے عقائد اس کو ناگوار نہیں ۔ اور وہ ہم کو حق بجانب سمجھتا ہے ۔ اس مغالطہ اور فریب نفس کو دور کرنے کے لئے فرمایا ۔ کہ تم لوگ اپنے کو اس درجہ گستاخ نہ بنالو ۔ اور اس درجہ نڈر نہ ہوجاؤ۔ کہ رب السموت کی پکڑ سے تمہارے بدن پر لرزہ طاری نہ ہو ۔ یاد رکھو تم دن اور رات کی ہر ساعت میں اللہ کی گرفت میں ہو ۔ وہ جب چاہے زمین کو اکٹ اے ۔ اور تم کو پیش کر رکھ دے اور جب چاہے آسمان سے پتھروں کا مینہ برسا دے ۔ اور تم کو بیخ ذہن سے اکھاڑدے ۔ پھر اس وقت تمہیں معلوم ہو کہ اس کا تنبیہ کتنا صحیح اور درست ہے تم سے پہلے بھی قوموں نے اللہ کے دین کو جھٹلایا ۔ اور تمہاری طرح خداع نفس میں مبتلا ہوگئے ۔ کہ ہمیں کون پوچھتا ہے ۔ اور کون سزا دیتا ہے ۔ کہ یکایک اللہ کا غضب بھڑکا اور ان کی بستیوں کو فناکے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ اس وقت دنیا کی کوئی قوت ان کو نہ بچا سکی ۔ اور مال و دولت اور اعزاز فخر قطعاً ان کی سفارش نہ کرسکے ۔ ان حالات میں کیا تم یہ سمجھتے ہو ۔ کہ تم اس کے چہتے ہو تمہیں فسق وفجور کے باوجود وہ ضرور باقی رکھے گا ۔ نہیں ہرگز نہیں ۔ اللہ کے نزدیک کوئی قوم چہتی نہیں ۔ وہ سب سے یکساں سلوک روا رکھتا ہے ۔ اور اس کے ہاں صرف ایک ہی قانون ہے ۔ مکافات کا جو سب کے لئے جاری ہے ۔
Ayahs 67:19–26

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ Open ayah 67:19 in the Quran reader

کیا وہ اپنے اوپر پرندوں کو نہیں دیکھتے جو پر کھولے ہوئے ہیں اور سکیڑلیتے ہیں انہیں رحمن کے سوا کوئی تھام رہا ۔ وہ ہر شئے کو دیکھتا (ف 2) ہے

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ Open ayah 67:20 in the Quran reader

بھلا رحمن کے سوا وہ کون ہے جو تمہیں مدد دینے کو تمہاری فوج ہے ؟ کافر محض دھوکے میں ہیں

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ Open ayah 67:21 in the Quran reader

بھلا وہ کون ہے کہ اگر اللہ اپنا رزق روک لے تو تمہیں رزق دے ؟ کوئی نہیں پر وہ سرکشی اور نفرت پر اڑے ہوئے ہیں

اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 67:22 in the Quran reader

بھلا وہ جو اپنے منہ پر اندھا چلتا ہے زیادہ ہدایت پر ہے یا وہ جو برابر سیدھا ہوکر راہ راست پر چلتا ہے ؟

قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 67:23 in the Quran reader

تو کہہ وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تم تھوڑا شکر کرتے ہو

قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 67:24 in the Quran reader

تو کہہ وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا اور اسی کی طرف تم اکٹھے کئے جاؤ گے

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 67:25 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا

قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 67:26 in the Quran reader

تو کہہ خدا ہی کو علم ہے اور میں فقط کھول کر ڈر سنانے والا ہوں

تمہاری حفاظت کا کون ذمہ دار ہے 2: خدا کی قدرت اور حکمت کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ وہ کیونکر پرندوں کو پرواز کی طاقت بخشتا ہے ۔ اور کس طرح ان کو توفیق عطا کرتا ہے ۔ کہ وہ زمین کے قانون کشش ثقل کو باطل کردیں ۔ اور فضا میں اڑنے لگیں ۔ اس کے بعد منکرین اور مشرکین سے مخاطب فرمایا کہ جب تم ایسے قادر اور مہربان خدا کو چھوڑ دیتے ہو ۔ اور دوسروں کی پوجا کرنے لگتے ہ ۔ تو بتاؤ ۔ تمہاری حفاظت کا کون ذمہ دار ہے ۔ آج اگر خدا تمہاری روزی بند کردے ۔ اور تمہارے لئے معیشت کے تمام دروازے مسدود ہوجائیں ۔ تو کون ہے ۔ جو ان درازوں کو کھولے ۔ اور تم کو رزق سے بہرہ مند کرے ۔ پھر یہ دریافت ہے ۔ کہ رشدوہدایت کی صراط مستقیم پر گامزن ہونا بہتر اور زیادہ قرین عقل و دانش ہے ۔ یا ان پگڈنڈیوں پر چلنا جو نشیب و فراز کی وجہ سے تمہیں گرادیں ۔ یاد رجھو اسلام ہی عقل و استدلال کی راہ ہے ۔ روشنی اور بھیرے کا راستہ ہے ۔ اور کامیابی اور کامرانی کا ذریعہ ہے ۔ اس کے سوا جتنے راستے ہیں ۔ وہ مخدوش ہیں اور غلط ہیں اور گمراہ ہیں ۔ حل لغات :۔ تمور ۔ تھرتھرانے لگے ۔ نذیر ۔ مبرا ۔ ڈراتا یا مغنیہ کرنا جند ۔ لشکر غرور ۔ دھوکہ جوا ۔ کسی چیز میں مضبوطی کے ساتھ الجھ جانا عتوا ۔ سرکشی ۔
Ayahs 67:27–29

فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ Open ayah 67:27 in the Quran reader

پھر جب دیکھیں گے کہ وہ نزدیک آگیا ہے تو کافروں (ف 1) کے منہ بگڑ جائیں اور کہا جائیگا یہی وہ ہے جسے تم مانگتے تھے

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 67:28 in the Quran reader

تو کہہ بھلا دیکھو تو اگر مجھے اور میرے ساتھیوں کو اللہ ہلاک کرے یا ہم پر رحم کرے تو وہ کون ہے کہ دکھ دینے والے عذاب سے کافروں کو بچائے گا ؟

قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 67:29 in the Quran reader

تو کہہ وہی رحمن ہے اس پر ہم ایمان لائے اور ہم نے اس پر توکل کیا تو اب تمہیں معلوم ہوجائیگا کہ کون صریح گمراہی میں ہے

ف 1: قریش مکہ حضور ﷺ کے لئے ہمیشہ ہلاکت کے طالب رہتے ۔ اور دعا کرتے کہ کہیں ان پر ہمارے دیوتاؤں کا غضب بھی نازل ہو ۔ اس کا جواب مرحمت فرمایا ہے ۔ کہ آپ ان سے کہہ دیجئے ۔ کہ میں تو موت سے خائف نہیں ہوں میں اور میری جماعت خندہ پیشانی موت کا خیر مقدم کریگی ۔ ہم کو اللہ پر پورا پورا اعتماد ہے ۔ ہمیں وہ ہلاکت وفناکا ہدف بنائے ۔ خواہ رحمت وکرم سے نوازے اور ایک عرصہ تک مزید زندہ رکھے ۔ تمہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا ۔ سوال یہ ہے کہ تم لوگوں کو اس عذاب سے جو مقدمات میں سے ہے ۔ کون بچا سکے گا جب موت تمہارے سامنے آغوش کھولے آکھڑی ہوگی ۔ اور جہنم کے شعلے تمہاری جانب ایک رہے ہوں گے ۔ اس وقت تم کو کون اپنی پناہ میں لے گا ۔ ہمارا ایمان اس خدائے رحمان پر ہے ۔ جس نے اس دنیا میں بھی دستگیری فرمائی ہے اور عاقبت میں بھی وہ اپنے فیوض سے ڈھانپ لیگا ۔ ہمارا اس پر بھروسہ ہے ۔ اور اسی کو اس سلسلہ میں لائق اعتما لکھتے ہیں ۔ مگر عنقریب جب دنیا کروٹ لیگی ۔ تو تمہیں معلوم ہوجائے گا ۔ کہ کون گمراہ ہے ۔ اور کون راہ راست پر ۔ تم اللہ کی بوقلمون نعمتوں سے صبح وشام استفادہ کرتے ہو ۔ وہ اگر تم سے یہ استعداد یہ استفادہ کو چھین لے ۔ تو بتاؤ تم کیا کرو کیا اس زندگی کے لوازم کے لئے تم سراپا اس کے محتاج نہیں ہوا ۔ حل لغات :۔ ذرائکم ۔ پھیلا دیا رنفۃ ۔ قریب ۔
Ayah 67:30

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠ Open ayah 67:30 in the Quran reader

تو کہہ بھلا دیکھو تو اگر صبح کو تمہارا پانی خشک ہوجائے ۔ تو تمہیں جاری نتھرا پانی (ف 1) کون لادے گا

ف 1: یہ پانی اسکا کتنا بڑا انعام ہے ۔ کہ زندگی کے انعام میں سے اولین اس کا شمار ہے ۔ اگر تم کو نہ ملے ۔ سوتے خشک ہوجائیں کنوئیں اتنے عمیق ہوجائیں ۔ کہ پانی کی بوند بھی حاصل کرنا دشوار ہو ۔ تو بتاؤ۔ پھر کیا تمہارے معبودان باطل تمہاری کوئی مدد کرسکتے ہیں ۔ اگر جواب نفی میں ہے ۔ اور یقینا نفی میں ہے ۔ تو اٹھو اور اظہار تشکر میں اس کے سامنے جھک جاؤ۔