Ayah 67:11: برکات دہندہ صرف اللہ تعالیٰ ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی ہی برکت والی ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے آسمان و زمین کی اس پوری کائنات کی۔ اور وہ ذات اتنی بڑی برکتوں والی ہے کہ اس کی خیرات و برکات کا کوئی کنارہ نہیں ‘ ایک ایک لمحہ و لحظہ ‘ میں اپنی جن بےپایاں رحمتوں اور برکتوں سے وہ ذات اقدس و اعلیٰ اپنی گوناگوں اور قسما قسم کی مخلوق کو جس طرح نوازتی ہے اس کا شمار وبیان بھی کسی کے حیطہ امکان و اختیار میں نہیں ‘ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا : " وان تعدوا نعمۃ اللہ لاتخصوھا " (ابراہیم ؛34) ۔ پھر کتنے ظالم اور کس قدر بےانصاف ہیں وہ لوگ جو اس واہب مطلق جل جلالہ سے منہ موڑ کر اوروں کے آگے جھکتے اور اس کی عاجز و بےبس مخلوق کے سامنے جگہ جگہ اور طرح طرح سے ذلیل ہوتے اور ان کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ تبارک کے اندر عظمت اور برکت دونوں کے معنی پائے جاتے ہیں اور ساتھ ہی یہ صیغہ بھی مبالغے کا صیغہ ہے ‘ اس وجہ سے اس کے معنی ہوں گے کہ بڑی ہی عظمت اور فیض والی ہے وہ ذات جس کے قبضہ قدرت و اختیار میں اس کائنات کی باگ ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ اور اس کے ساتھ ہی اس کی شان علی کل شیء قدیر کی شان ہے۔ وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے۔ اس کے لئے نہ کچھ مشکل ہے اور نہ اس کی قدرت سے باہر۔ اور یہ صفت و شان اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کی نہ ہے نہ ہوسکتی ہے۔ اس لئے معبود برحق وہی وحدہ لاشریک ہے اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی وحدہ لاشریک کا حق اور اسی کا مقتضی ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔
2: ساری کائنات کی بادشاہی اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے ‘ سبحانہ و تعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حضر و قصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے یعنی اس ساری کائنات کی بادشاہی اور وہی ہے جو ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ پس بادشاہ حقیقی وہی اور صرف وہی وحدہ ‘ لاشریک ہے۔ اور اس دنیا میں جس کسی کو بھی عارضی و ظاہری طور پر جو کوئی حکومت اور بادشاہی ملتی ہے ‘ وہ سب اسی وحدہ لاشریک کی طرف سے ملتی ہے کہ عزت و ذلت اور اخذ وعطاء کے سارے حقوق و اختیار اسی قادر مطلق کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا " توتی الملک من التشاء و تنزع الملک ممن تشاء وتعز من تشاء و تذل من تشاء بیدک الخیر انک علی کل شیء قدیر " (آل عمران :26) ۔ پس کس قدر محروم اور بدنصیب ہیں وہ لوگ جو اس سے مانگنے کی بجائے کہیں لکڑی پتھر کے بےجان بتوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہیں ‘ کہیں کسی آستانے کے چکر کاٹتے اور کسی قبر کے گرد طواف کرتے اور پھیرے لگاتے ہیں اور کہیں کسی ملنگ یا سادھو کے ہاتھوں سر جھکا کر جوتے کھاتے اور اس سے فحش اور ننگی گالیاں سنتے ہیں ‘ وغیرہ وغیرہ والعیاذ باللہ العظیم اور وہ ذات اقدس اعلیٰ انتہائی بابرکت اور باعظمت ہونے کے ساتھ ساتھ ہر چیز پر پوری قدرت بھی رکھتی ہے ‘ کوئی بڑے سے بڑا اور مشکل سے مشکل کام بھی اس کے حیطہ قدرت و امکان سے باہر نہیں ہوسکتا۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی عبادت و بندگی سے سرفراز و سرشار رکھے اور ہر قسم کے شر و فتن سے ہمیشہ اور ہر حال میں محفوظ رکھے۔ اور ہمیشہ اور ہر حال میں صراط مستقیم ہی پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 67:23 سلسلہ موت وحیات کا خالق بھی وہی وحدہ لاشریک ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس نے پیدا فرمایا زندگی اور موت کو۔ یعنی زندگی اور موت دونوں اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں ‘ وہ جس کو چاہے زندگی بخشے اور جس کو چاہے موت سے ہمکنار فرما دے اور دن رات کے چوبیس گھنٹوں کے ہر لمحہ میں اور اس کائنات کے ہر ہر خطے میں اس کی اس شان احیاء و اماتت کا ظہور ہمیشہ اور طرح طرح سے ہوتا رہتا ہے اور موت اگرچہ نظر بظاہر ایک عدی چیز ہے مگر اس عدم و اعدام میں بھی ایک وجودی معنی پایا جاتا ہے کہ موت بہرحال ایک حقیقت اور اٹل حقیقت ہے ‘ اور ایسی اٹل کہ حق تعالیٰ کے کلام معجز نظام میں اس کو تعبیر بھی یقین کے لفظ سے فرمایا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے واعبد ربک حتی یاتیک الیقین (الحجر :99) ۔ اور ہر حقیقت اپنا ایک وجود بہرحال رکھتی ہے ‘ اور یوں بھی موت میں عدم محض نہیں ہوتا بلکہ اس میں انفصال و انتقال ہوتا ہے روح کا جسد عنصری سے ‘ اور عالم دنیا سے عالم عقبیٰ کی طرف ‘ اسی لئے اردو میں بھی موت کیلئے انتقال کا لفظ ہی مشہور و معورف اور رائج و مستعمل ہے ‘ جس کے معنی منتقل ہونے کے ‘ یعنی ایک جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ جانے کے ہوتے ہیں ‘ سو زندگی و موت اللہ پاک ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ‘ وہی زندگی بخشتا ہے اور اسی کی شان اور اسی کا کام ہے موت کی نیند سلادینا ‘ پس شرک کا ارتکاب کرتے ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ فلاں شخص کو فلاں بزرگ نے اس لئے مار دیا کہ اس نے یہ کیا تھا وہ کیا تھا ‘ یا فلاں کو اس لئے زندہ کردیا کہ اس نے ایسا کیا تھا ‘ ویسا کیا تھا وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کی سب باتیں خرافات اور نصوص قرآن و سنت کے معارض اور ان سے متصادم ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ زندگی و موت سب اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔
4 نعمت زندگی سے اصل مطلوب و مقصود ابتلاء و آزمائش : سو سلسلہ موت وحیات سے متعلق اصل مقصود کے اظہار وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ وہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے کون سب سے اچھا عمل کرتا ہے۔ یعنی ابتلاء و آزمائش کا یہ طریقہ اختیار فرمایا تاکہ اس طرح وہ کھرے اور کھوٹے کے درمیان تمیز کرے ‘ اور ہر ایک کی حقیقت کو آشکارا فرما دے ‘ ورنہ وہ عالم الغیب والشہادۃ جانتا تو سب کو ہے ‘ اور ازل سے جانتا ہے اور پوری طرح جانتا ہے سبحانہ و تعالیٰ ‘ کہ وہ سب کا خالق ومالک ہے اور ہر چیز کو اس کے ظاہر اور باطن کے اعتبار سے جانتا ہے ‘ بھلا جو خالق ہے وہ اپنی مخلوق کو بھول جائے گا ‘ بہرکیف اس ارشاد سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اس نے اس دنیا میں جس کو زندگی بخشی اسی لئے بخشی کہ کون اس کی پسند کے مطابق زندگی گزارتا ہے اور کون من مانی کرتا ہے ‘ اور اس امتحان کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ ایک ایسا دن بھی لائے جس میں لوگوں کو ازسرنو زندہ کرے ‘ ہر شخص کی نیکی بدی کا حساب کتاب ہو ‘ اور وہ اپنے کئے کرائے کا پورا پور اصلہ اور بدلہ پائے ‘ تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوں ‘ اور اس طرح کائنات کی تخلیق کا مقصد پورا ہو ‘ ورنہ یہ سب کچھ عبث قرار پائے گا جو کہ اس خالق حکیم کی حکمت کے خلاف ہے ‘ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ موت وحیات سے مقصود اس امتحان میں ہمیں کامیابی سے سرفراز فرما دے اور ویسی کامیابی سے جو تجھے پسند ہو۔ انت المستعان فی کل حین من الاحیان و بکل حال من الاحوال یا ذا الجلال والکرام۔ اللہ نفس و شیطان کے ہر مکرو فریب سے اپنی پناہ میں رکھے۔ ہمیشہ راہ حق و صواب پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے اور ہر قدم ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہ پر اٹھانا نصیب فرمائے ‘ آمین !۔
5 اصل مقصود حسن عمل (ہے نہ کہ کثرت عمل): سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ وہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے سب کا اچھا عمل کس کا ہے ؟ کہ موت کے خؤف کے بغیر نفس کا بےلگام گھوڑا حق کے سامنے جھکنے اور دبنے کیلئے تیار ہی کہاں ہوتا ہے ‘ سو موت کا یقین اور اس کا استحضار ہی ہے جو انسان کے دل میں خوف خدا پیدا کرتا ہے ‘ اور اس کو آخرت کیلئے فکرمند بناتا ہے ‘ اسی لئے طبرانی وغیرہ میں حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا : کفی بالموت واعظار و کفی بالیقین غنی۔ یعنی انسان کی نصیحت کیلئے موت کا واعظ ہی کافی ہے ‘ کہ موت کے تصور و استحضار سے انسان یہ سوچتا ہے کہ موت کی اس گھاٹی سے میں نے بھی بہرحال گزرنا ہے اور آگے حساب کتاب کیلئے اکیلے ہی پیش ہونا ہے ‘ جہاں اپنا عمل و کردار ہی کام آسکے گا ‘ اور ایمان و یقین کی دولت وہ سب سے بڑی دولت ہے جس کے بغیر کسی عمل کی کوئی قیمت و اہمیت ہی نہیں۔ بہرکیف موت ہی وہ سب سے بڑی اہم و اور مؤثر حقیقت ہے جس کی یاد اور استحضار کی بناء پر انسان اپنی آخرت کیلئے فکر مند ہوتا ہے ‘ اسی لئے حضرت ابوالدرداء ؓ آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تین چیزیں اگر نہ ہوتیں تو ابن آدم کبھی اپنے اکڑے ہوئے سر کو جھکانے کیلئے تیار ہی نہ ہوتا۔ لولا ثلث ما طاطأ ابن ادم رأسہ الفقر والمرض والموت وانہ مع ذالک لوثاب۔ یعنی وہ ان تین چیزوں کے بغیر سر کیا جھکاتا جب کہ اس کا حال یہ ہے کہ وہ ان عوارض اور زواجر کے باوجود خم ٹھوک سرکشی کرنے والا ہے ‘ (روح ‘ قرطبی وغیرہ) والعیاذ باللہ العظیم من کل سوء و شر بہرحال انسان کی اصل قدر و قیمت حسن عمل سے ہے اور حسن عمل موقوف ہے ایمان و یقین اور استحضار موت پر۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین۔
6 اللہ تعالیٰ کی صفت عزت و مغفرت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ بڑا ہی زبردست انتہائی درگزر کرنے والا ہے اور نہایت زبردست اور غالب ہونے کے باوجود نہایت بخشنے والا اور درگزر کرنے والا ہونا اسی کی اور صرف اسی وحدہ لاشریک کی شان ہے۔ تبارک و تعالیٰ ‘ ورنہ دنیا میں تو یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ جس کو کچھ قوت و جان مل گئی وہ دوسروں پر ظلم کرنا اور ان کو کچلنا دبانا اور زیر کرنا گویا اپنا حق اور تقاضا شان سمجھتا ہے ‘ والعیاذ باللہ العزیز بہرحال وہ چونکہ بڑا ہی زبردست اور سب پر غالب ہے ‘ اس لئے کوئی اس کی گرفت و پکڑ سے کسی بھی طرح بچ نہیں سکتا ‘ لیکن اس کے ساتھ ہی وہ بڑا بخشنے والا اور نہایت ہی درگزر کرنے والا بھی ہے ‘ پس جو لوگ اپنی غلط اور باغیانہ روش کو ترک کرکے اس کے عفو و درگزر کے طالب بنیں گے ‘ وہ ان کو مغفرت و بخشش سے نوازے گا۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور وہ ایسا بڑا اور اس قدر غفور و رحیم ہے کہ اس کی رحمت و مغفرت سے سرفرازی کیلئے کسی اور کی سعی و سفارش اور کسی طرح کے وسیلے اور واسطے کی بھی ضرورت نہیں۔ اس لئے اس نے اپنے بندوں کو اپنی مغفرت و بخشش سے نوازنے کیلئے اپنی کتاب حکیم میں جگہ جگہ ترغیب و ترہیب سے کام لیا ہے۔ چناچہ ایک اور مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا کہ " میرے بندوں کو خبر کردو کہ یقینا میں بڑا ہی بخشنے والا ‘ انتہائی مہربان ہوں اور یہ کہ میرا عذاب ہی وہ عذاب ہے جو کہ بڑا دردناک عذاب ہے۔ " ارشاد ہوتا ہے : " نبی عبادی انی انا الغفور الرحیم وان عذابی ھو العذاب الالیم " (الحجر :49 ۔ 50) ۔ اللہم فخذنا بنو اصینا الی مافیہ حبک ورضاک بکل حال من الاحوال و فی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 67:37 اسی نے پیدا فرمایا سات آسمانوں کو تہ بہ تہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس نے ساتوں آسمانوں کو تہ بہ تہ پیدا فرمایا : تہ بہ تہ سات آسمانوں کی اس عظیم الشان چھت کو بغیر ظاہری ستونوں اور سہاروں کے اس قدر گوناگوں اور وسیع مخلوق پر تن دینا اور وہ بھی اس طرح کہ اس میں نہ کوئی پھٹن ‘ نہ شگاف ‘ نہ کجی نہ ٹیڑھ ‘ نہ اصلاح و مرمت کی کوئی ضرورت ‘ اور نہ نگرانی کرنے والے کارندوں کی کوئی حاجت ‘ کس قدر عظیم الشان اور کتنا حیرت انگیز شاہکار ہے یہ اس قدر مطلق کی قدرت مطلقہ اور عظمت شان اور حکمت بےپایاں کا کوئی کنارہ نہیں ‘ اور دوسری طرف یہ بات بھی کہ اس نے اس عظٔم الشان کائنات کو یونہی بےمقصد نہیں پیدا فرما دیا کہ یہ اس کی حکمت کے خلاف ہے ‘ سبحانہ و تعالیٰ اور تیسری طف یہ کہ جب اس کی اس عظیم الشان مخلوق کی تخلیق اور اس کی ایجاد میں کوئی اس کا شریک نہیں تو پھر اس کی عبادت و بنڈگی میں کوئی اس کا شریک کس طرح ہوسکتا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو کس قدر غافل اور بےانضاف ہیں وہ لوگ جو اپنے پاؤں کے نیچے بچھے زمین کے اس عظیم الشان بچھونے اور اپنے سروں کے اوپر تنی آسمان کی اس عظیم الشان چھت کو ہمیشہ دیکھنے کے باوجود کوئی سبق نہیں لیتے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
8 خالق کی بےمثال صنعت گری میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم اس میں نگاہ ڈال کر دیکھ لو کیا تم اس میں کوئی خلل دیکھ سکتے ہو ؟ جب نہیں اور ہرگز نہیں تو پھر کس قدر ظالم اور بےانصاف ہے عقل و خرد کا وہ اندھا جو اس خداوند قدوس کی ذات اقدس و اعلیٰ کا انکار کرتا ‘ یا دوسری عاجز و بےحقیقت چیزوں کو اور خود ساختہ و من گھڑت سرکاروں کو اس کا شریک اور ساجھی قرار دیتا ہے ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس عظیم الشان اور حکمتوں بھری کائنات کی تخلیق اور اس کے وجود کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ایک طرف تو اس میں غور و فکر سے کام لے کر اپنے خالق ومالک کی معرفت سے سرشار ہو ‘ اور دوسری طرف اس میں پائی جانے والی ان گونا گوں نعمتوں سے فائدہ اٹھاکر دل و جان سے اس کے حضور جھک جائے ‘ اور اس کے ذکر و شکر اور اس کی عبادت و بندگی سے سرشار ہوجائے ‘ اور اس طرح وہ اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا سامان کرے ‘ سو کائنات کی اس عظیم الشان اور کھلی کتاب میں صحیح طریقے سے غور و فکر کے نتیجے میں انسان دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا سامان کرے ‘ سو کائنات کی اس عظیم الشان اور کھلی کتاب میں صحیح طریقے سے غور و فکر کے نتیجے میں انسان دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوسکتا ہے لیکن مشکل اور مشکلوں کی مشکل یہ ہے کہ انسان اس میں صحیح طریقے سے غور و فکر کرتا ہی نہیں۔ وہ یا تو محض حیوانوں کی طرف اس سے فائدے اٹھاتا ہے مگر کبھی غور و فکر کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتا اور یا اس میں مادی فوائد حاصل کرنے ہی کیلئے سوچتا اور غور کرتا ہے اور اسی میں کھویا رہتا ہے۔ اور یا پھر اس کے مختلف مظاہر کی پوجا پاٹ میں لگ جاتا ہے اور انہی کے آگے جھک کر اور سجدہ ریز ہو کر خود اپنی تذلیل و تحقیر اور ہلاکت و بربادی کا سامان کرنے لگتا ہے۔ والعیاذ باللہ جل و علا۔
Ayah 67:49 تمام حجرت کیلئے دعوت مکرر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر تم بار بار نگاہ ڈال کر دیکھ لو۔ تمہاری نگاہ تھکی ہاری ناکام ہو کر تمہاری طرف واپس لوٹے گی مگر تم کو اس میں کوئی خلل و قصور نظر نہیں آئے گا "۔ یعنی۔ " کرتین "۔ یہاں پر تنبیہہ کیلئے نہیں تکریر و تکثیر کیلئے ہے۔ جیسا کہ " لبیک " اور " سعدیک " وغیرہ میں ہے۔ (جامع ‘ محاسن ‘ مدارک وغیرہ سو اس ارشاد عالی میں اتمام حجت کیلئے پھر دعوت غور و فکر دی گئی ہے کہ تم ایک ہی مرتبہ نہیں ‘ بلکہ بار بار ناقدانہ نگاہ دوڑا کر دیکھ لو ‘ تمہاری نگاہ تھک ہار کر واپس آجائے گی مگر وہ اللہ تعالیٰ کی اس عظیم الشان تخلیق میں کوئی نقص یا خلل نہیں پاس کے گی ‘ سو جس خداوند قدوس کی قدرت و حکمت کے اس عظیم الشان شاہکار کو تم لوگ اپنے سروں کے اوپر اس طرح پھیلا ہوا دیکھتے ہو ‘ اس کیلئے آخری کوئی کام کس طرح اور کیونکر دشوار ہوسکتا ہے ؟ اور اس کیلئے تم لوگوں کو مر کھپ جانے کے بعد وبارہ اٹھ کھڑا کرنا اور سزا و جزا دینا اور تم سب کو تباہ کردینا والعیاذ باللہ آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ سو اس طرح صحیح زاویہ نگاہ سے غور و فکر کرکے انسان اپنے خالق ومالک کی عظمت شان اور اس کی قدرت و حکمت بےپایاں سے واقف و آگاہ اور اس کی معرفت سے سرفراز سرشار ہوسکتا ہے اور پھر اپنے خالق ومالک کے حق عبادت و بندگی کی طرف متوجہ اور اس کیلئے فکر مند ہوسکتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اس کا جواب دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کے سوا اور کہیں نہیں مل سکتا۔ سو اس کے نتیجے میں وہ دین حق کی آغوش میں آکر گرتا اور اس کی تعلیمات مقدسہ کو اپناکر اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرسکتا ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔
Ayahs 67:5–710 زینت آسمانی اور اس میں سامان غور و فکر کا ذکر وبیان : سو آسمان دنیا کی تزئین قدرت کی رحمت و عنایت اور اس کی قدرت و حکمت کا ایک اور عظیم الشان شاہکار ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور ہم ہی نے مزین کیا قریب کے آسمان کو عظیم الشان چراغوں سے۔ اور ایسے عظیم الشان چراغوں سے کہ ان کی دوسری کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں ہوسکتی ‘ اور ظاہر ہے کہ ان بےحد و حساب ‘ روشن و چمکدار ‘ تاروں کو پیدا کرنا اور ان کو اس پر حکمت طریقے سے اس نیلگوں آسمان میں اس طرح نصب کردینا ‘ اس قادر مطلق کی قدرت بےپایاں کے سوا اور کس کا کام ہوسکتا ہے ؟ سبحانہ و تعالیٰ سو آسمان دنیا (قریب کے آسمان) کے ان عجائب کا مشاہدہ نسبتاً زیادہ آسانی سے کیا جاسکتا ہے ‘ پس تم ذرا دیکھو کہ اس کو ہم نے کس قدر عظیم الشان قمقموں سے روشن کیا ہے اور اس کا تقاضا کیا ہے ؟ سو آسمان دنیا کی یہ عظیم الشان اور بےمثال تزئین و آرائش حضرت خالق جل مجدہ کی قدرت بےپایاں اور حکمت بےنہایت کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ وہ رب رحمن نہایت رحمت و کرم والا اور انتہائی فیاض و کریم بھی ہے جس نے اپنے بندوں کیلئے آسمان کی اس عظیم الشان چھت کو ستاروں اور سیاروں کے ان عظیم الشان و بےمثال قمقموں سے اس محکم و مضبوط اور اس پر حکمت و حیرت انگیز طریقے سے مزین اور آراستہ و پیراستہ فرمایا ہے۔ سو یہ چمکتے دمکتے ستارے و سیارے اپنی زبان حال سے انسان کو دعوت غور و فکر دے رہے ہیں۔ تاکہ اس طرح انسان اپنے خالق ومالک کی قدرت اور اس کی حکمت و رحمت کے نمونے دیکھ سکے ‘ اور دل و جان سے اس کے آگے جھک جائے۔
11 رجم شیاطین مقصد کا ذکر وبیان : سو اس سے ستارو کے دوسرے مقصد یعنی رجم شیاطین کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ چناچہ سو ارشاد فرمایا گیا اور ہم ہی نے ان کو شیطانوں کے مار بھگانے کا ذریعہ بنایا۔ تاکہ وہ عالم بالا کی باتیں نہ سن سکیں ‘ جیسا کہ ان کا طریقہ تھا کہ وہ اس طرح کوئی ایک آدھ بات سن گن لیتے اور پھر اس کے ساتھ سو جھوٹ اور ملا کر وہ اس کو اپنے چیلوں چانٹوں میں رواج دیتے ‘ جس سے ان کا کاروبار کذب و زور خوب چلتا اور چمکتا ‘ جیسا کہ دوسری مختلف نصوص و روایات میں اس کی تصریح موجود ہے ‘ بہرکیف یہ ستارو کا دوسرا بڑا اور اہم فائدہ اور مقصد ہے کہ ان سے شیطانوں کو مار بھگایا جاتا ہے تاکہ وہ آسمانوں تک رسائی نہ حاصل کرسکیں اور وہاں کی باتیں نہ سن سکیں ‘ جب کہ ان کا تیسرا بڑا فائدہ اور مقصد یہ ہے کہ ان کے ذریعے انسان کو بحر و بر میں راہنمائی ملتی ہے ‘ اور وہ اپنے سفر کے راستے معلوم کرتا ہے ‘ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی اس طرح تصریح فرمائی گئی ہے۔ " وعلمت وبالنجم ھم یھتدون " (النحل :16) ۔ سو تاروں کے یہ تین مقصد ہوئے۔ چناچہ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ ستارو کو اللہ تعالیٰ نے تین مقاصد کیلئے پیدا فرمایا ہے کہ ایک تو یہ کہ یہ آسمان کیلئے زیب وزینت ہیں اور دوسرے یہ کہ ان سے شیطانوں کو مار بھگایا جاتا ہے ‘ اور تیسرے یہ کہ ان سے انسان کو بحر و بر میں رہنمائی ملتی ہے (روح ‘ ابن کثیر ‘ المدارک ‘ القرطبی ‘ المراغی وغیرہ) بہرکیف ستارے بحر و بر میں انسان کی راہنمائی کرتے ‘ اور اسے منزل مقصود تک پہنچنے کی راہ دکھاتے ہیں ‘ جیسا کہ ابھی اوپر گزرا۔ سبحان اللہ کتنے عظیم الشان فوائد ہیں جو ان عظیم الشان نورانی قمقموں (ستاروں) سے وابستہ ہیں ‘ جن سے یہ انسان فائدہ اٹھاتا ہے مگر یہ کبھی سوچتا تک نہیں کہ یہ سب کچھ کیا کس نے ؟ کس لئے کیا ‘ وہ کتنا بڑا خالق و حکیم اور وہاب و کریم اور بےپایاں قدرت والا ہے ‘ اس کا مجھ پر اور پوری بنی نوع انسآن پر کیا حق ہے ؟ اور اس کے ان حقوق کی ادائیگی کس طرح ممکن ہوسکتی ہے ؟ سو غافل انسان اس طرف کوئی توجہ نہیں کرتا ‘ بلکہ وہ الٹا یہ کرتا ہے کہ ان کے ذریعے خدائے پاک کی یاد تازہ کرنے اور اس کے حضور دل و جان سے جھکنے کی بجائے الٹا انہی کے ذریعے کفر و شرک کا ارتکاب کرکے اپنی جان پر اور ظلم ڈھاتا ہے ‘ اور پھر اس کریم مطلق اکرم الاکرمین کا کرم بھی دیکھو کہ اس سب کے باوجود وہ اس انسان کو ڈھیل پر ڈھیل دیئے جا رہا ہے ‘ تاکہ انسان سنبھل جائے اور اپنے ہولناک انجام سے بچ جائے۔ فالحمدللہ رب العلمین۔ سو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو اس شان و اہتمام کے ساتھ پیدا فرمانے کے بعد یونہی نہیں چھوڑ دیا کہ شیطان اس کو اپنی آماجگاہ بنالیں ‘ بلکہ اس نے اس کی نگرانی بھی کی ہے ‘ سو جب وہ حدود سے تجاوز کرتے ہیں تو ان کی سرکوبی بھی ہوتی ہے ‘ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ خلق بےراعی کا گلہ نہیں ‘ بلکہ جس خالق حکیم نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے اس کو وجود بخشا ہے ‘ وہ پوری بیداری کے ساتھ اس کی نگرانی بھی فرما رہا ہے ‘ اور ایک دن ایسے تمام جن و انس اپنے کیفر کردار کو پہنچ کر رہیں گے ‘ جو اس میں دھاندلی مچائیں گے ان کیلئے اس نے دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
12 شیطانوں کیلئے عذاب دوزخ تیار والعیاذ باللہ جل و علاء الکبیر : سو ارشاد فرمایا گیا اور ہم نے ان کیلئے تیار کر رکھا ہے دوزخ کا عذاب۔ یعنی ان شیاطین کیلئے رجم و آتش باری کے اسی دنیاوی عذاب پر ہی بس نہیں ‘ بلکہ اس کے بعد آخرت کا عذاب بھی ہم نے ان کیلئے تیار کر رکھا ہے ‘ جو کہ دائمی ہوگا جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا " ولھم عذاب واصب " (الصافات :9) بہرکیف ایسے شیاطین کیلئے دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ کا عذاب تیار ہے ‘ (المراغٔ‘ الفتح ‘ الصفوۃ وغیرہ) سعیر کے معنی اشد الحریق یعنی نہایت سخت آگ کے کیے گئے ہیں۔ سو شیاطین کا چونکہ جرم بہت سخت اور نہایت سنگین ہے کہ ان کا کام لوگوں کو بھٹکانا اور راہ حق و ہدایت سے پھیرنا ہے اس لئے ان کا عذاب بھی سب سے زیادہ اور نہایت سنگین ہوگا اور دوسری بات یہاں سے یہ بھی واضح ہوجاتی ہے کہ باغیوں اور سرکشوں کو جو عذاب دنیا میں ملتا ہے وہ ان کا اصل اور حقیقی عذاب نہیں ہوتا بلکہ وقتی نوعیت کا اور خاص حد تک ہی ہوتا ہے۔ اصل اور پورا عذاب آخرت ہی میں ہوگا کہ دنیا دارالجزاء نہیں دارالعمل ہے دارالجزاء آخرت ہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر لحاظ سے اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 67:813 دوزخیوں کی تذلیل و تقبیح کے ایک منظر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب بھی کسی گروہ کو دوزخ میں ڈالا جائے گا تو اس کے کارندے ان لوگوں سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا ؟ یہ پوچھنا ان کی تقبیح و تذلیل کے لئے ہوگا۔ تاکہ اس طرح یہ بدبخت دوزخ کی اس ہولناک آگ کے ساتھ ساتھ ‘ حسرت و یاس اور ندامت و افسوس کی اس باطنی آگ سے بھی جلیں ‘ اور ان کا عذاب دوہرا ہوتا جائے ‘ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور یہ بھی اس اکرم الاکرمین کے کرم بےپایاں کا ایک عظیم الشان مظہر ہے کہ اس نے آخرت میں ملنے والے اس طرح کے ان ہولناک عذابوں کی خبر پیشگی اسی دنیا ہی میں اور اس قدر صراحت و وضاحت کے ساتھ دے دی ‘ تاکہ جس نے سنبھلنا ہو وہ سنبھل جائے ‘ اور وہ کل یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے خبر نہ تھی ‘ مگر دنیا ہے کہ پھر بھی غافل و بےفکر ہے ‘ وہ اس بارے میں سوچتی ہے نہ دعوت حق و ہدایت سے متعلق کسی بات پر کان دھرتی ہے۔ اندھی ‘ بہری بنی ہوئی ہے الا ماشاء اللہ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ دوزخ کے کارندے ان دوزخیوں سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا ؟ جو تمہیں اس ہولناک انجام سے ڈراتا اور خبردار کرتا ؟ تاکہ آج تمہیں یہ روز بد نہ دیکھنا پڑتا ‘ اور تم دنیاوی زندگی کی اس فرصت محدود میں اس یوم عظیم کیلئے تیاری کرلیتے ؟ جو تمہیں اصل میں دی ہی اس لئے گئی تھی کہ تم آخرت کیلئے کمائی کرو۔ سو دوزخ کے کارندوں کے اس سوال کے جواب میں وہ دوزخی ان سے کہیں گے اور اعتراف جرم کے طور پر کہیں گے کہ ہاں کیوں نہیں ہمارے پاس خبردار کرنے والے تو آئے تھے مگر ہم نے ان کو جھٹلا دیا ‘ اور ان کی دعوت کے جواب میں کہا کہ اللہ نے کچھ بھی نہیں اتارا۔ تم لوگ تو بہت بڑی گمراہی میں پڑے ہو ‘ سو اس طرح ان لوگوں کی آتش یاس و حسرت اور بھڑکے گی۔ مگر اس کا کوئی فائدہ ان کو بہرحال نہیں ہوگا اور ان کی رہائی اور رستگاری کی پھر کوئی صورت ان کیلئے ممکن نہیں ہوگی۔ والعیاذ باللہ جل و علا۔ سو رب رحمن کا یہ کتنا بڑا کرم ہے کہ اس نے اس یوم رہیب کے ان ہولناک احوال و اھوال سے اس قدر پیشگی اسی دنیا میں اور اس قدر صراحت و وضاحت سے بیان فرما دیا ‘ تاکہ جس نے بچنا ہو بچ جائے مگر دنیا ہے کہ پھر بھی خواب غفلت میں محو و مگن ہے ‘ وہ حق بات کو سننے اور ماننے کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتی۔ اور اس طرح وہ دارین کے اس ہولناک خسارے کی طرف بڑھتی چلی جارہی ہے جس کی تلافی وتدارک کی پھر کوئی صورت ممکن نہ ہوگی۔ سو حق و ہدایت کی دعوت سے منہ موڑنا اور اعراض و روگردانی سے کام لینا خساروں کا خسارہ اور محرومیوں کی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 67:914 منکرین کے اقرار و اعتراف جرم کا ذکر وبیان : سو اس سے منکرین کی طرف سے اقرار و اعتراف جرم کو بیان فرما دیا گیا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ کہیں گے کہ ہاں نذیر تو یقینا ہمارے پاس آتے تھے ‘ مگر ہم نے ان کو جھٹلا دیا ‘ اور کہا کہ اللہ نے کچھ بھی نہیں اتارا ‘ تم لوگ تو ایک بڑی گمراہی میں پڑے ہو ‘ اور یہ کہ تم محض اپنی بڑائی کیلئے اس طرح کے دعوے کرتے اور ہم پر اپنی دھونس جمانا چاہتے ہو ‘ کما قال تعالیٰ حکایۃ عن الملاء الذین کفرو۔ " یرید ان یتفضل علیکم " (المومنون :24) ۔ سو اس طرح وہ لوگ اپنے جرم کا اقرار کرلیں گے مگر اس کا ان کو کوئی فائدہ نہ ہوگا سوائے آتش یاس و حسرت میں اضافے کے۔ سو جن لوگوں نے آخرت کے اس یوم حساب اور یوم عظیم و رہیب سے غفلت و لاپرواہی کی زندگی گزاری۔ انہوں نے اپنی آنکھوں اور اپنے کانوں کو حق کے فہم و ادراک سے بند رکھا ورنہ نہ اس دنیا میں قیامت و آخرت اور جزا و سزا کی نشانیوں کی کمی تھی اور نہ ہی یہ دنیا منذروں سے کبھی خالی رہی لیکن جن لوگوں نے اپنی آنکھوں اور اپنے کانوں کو حق سے بند رکھا تھا انہوں نے ان سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔ پس وہ اس یوم حساب میں ہرگز کسی ہمدردی کے مستحق نہ ہوں گے اور ایسے باغیوں اور سرکش منکروں کو دوزخ کی آگ دیکھتے ہی بھڑک اٹھے گی اور وہ غیظ و غضب سے پھٹی پڑ رہی ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اس نے ان معاندین منکرین کے عناد و ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ و مظہر سامنے آیا ہے کہ انہوں نے منذروں کی باتوں کو ماننے اور ان کی دعوت کو قبول کرنے کی بجائے الٹا ان سے کہا کہ تم لوگ تو کھلی گمراہی میں پڑے ہو کہ ہماری دنیوی ترقی کی راہوں میں رکاوٹ بنتے ہو (والعیاذ باللہ) اور ہماری اپنی آزادی اور خواہشات پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کرکے خواہ مخواہ ہم پر عرصہ حیات تنگ کرتے ہو (والعیاذ باللہ) سو ابناء دنیا کی ذہنی ساخت اور طبعی افتاد جب سے لے کر اب تک ہمیشہ یہی رہی کہ دین پر چلنا اور دینی تقاضوں کی تکمیل کرنا ‘ ان کے نزدیک دنیوی ترقی میں حارج اور مانع ہے ‘ اس لئے وہ آج بھی حضرات علماء کرام کی آواز پر لبیک کہنے کو تیار نہیں ‘ بلکہ وہ ان پر الٹا آوازے کستے ہیں کہ یہ لوگ دقیانوسی ‘ بیک ورڈ اور ہماری ترتقی میں حارج اور رکاوٹ ہیں ‘ کل بھی ان لوگوں کا یہی حال تھا ‘ اور آج بھی یہی ہے ‘ حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہے کہ دین کے تقاضوں کی تکمیل اور اللہ پاک کے حضور صدق دل سے جھکنے سے نہ صرف یہ کہ دنیوی ترقی متاثر نہیں ہوتی ‘ بلکہ اس سے انسان کو اور پورے انسانی معاشرے کو برکتوں پر برکتیں نصیب ہوتی ہیں ‘ جیسا کہ نصوص قرآن و سنت میں اس امر کی جابجا اور طرح طرح سے تصریح فرمائی گئی ہے اور جیسا کہ واقعاتی شواہد نے اس کی ہمیشہ تصدیق و تائید کی اور تاریخ اس کی گواہ اور اس پر شاہد عدل ہے۔ لیکن مادہ پرستوں اور حق کے منکروں کو یہ بات نہ سمجھ آتی ہے نہ ہضم ہوتی ہے۔ وہ مادہ اور معدہ کی پوجا ہی کو اصل مقصد سمجھے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 67:10–1115 دوزخیوں کے اظہار یاس و حسرت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس وقت وہ کہیں گے کہ کاش ہم سن لیتے۔ یعنی سن لیتے دعوت حق و ہدایت کو اور دل سے اپنالیتے اس کو اور مان لیتے اس بات کو کہ یہ پاکیزہ صفت حضرات جو کچھ کہتے کرتے ہیں اس میں ان کا کوئی ذاتی مفاد نہیں ‘ ان کی یہ بےلوث اور مخلصانہ باتیں ہمارے بھلے ہی کیلئے ہیں ‘ کاش کہ یہ بات ہمیں اس وقت سمجھ میں آجاتی اور آج ہمیں اس حشر سے دوچار نہ ہونا پڑتا ‘ سو حق و ہدایت کی دعوت کو سننا اور ماننا سعادتوں کی سعادت اور سرفرازیوں کی سرفرازی ہے جبکہ اس سے اعراض و روگردانی محرومیوں کی محرومی اور ہلاکتوں کی ہلاکت ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو کشف حقائق اور ظہور نتائج کے اس یوم عظیم میں دوزخی کہیں گے کہ کاش کہ ہم سنتے یا عقل سے کام لیتے تو آج اس ہولناک انجام سے دوچار نہ ہوتے۔ سو وہ کہیں گے کہ اگر ہم اپنی عقلوں سے کام لیتے اور سوچتے کہ آخر یہ حضرات کہتے کیا ہیں ‘ تو ہمیں نور حق نصیب ہوجاتا ‘ اور آج ہمیں اس انجام سے دوچار نہ ہونا پڑتا مگر بےوقت کے اس افسوس اور پچھتاوے سے ان کو وہاں کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا۔ سوائے اپنی آتش یاس و حسرت میں اضافے کے ‘ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو سمع وطاعت یعنی حق بات کو سننا اور ماننا سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے اور اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ دوزخی لوگ بصد حسرت کہیں گے کہ اگر ہم سن لیتے یا اپنی عقلوں سے کام لے لیتے تو آج ہم دوزخیوں میں سے نہ ہوتے : بلکہ اس کے بجائے ہم آج جنت والوں میں سے ہوتے ‘ مگر اب تو حسرت اور افسوس کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ اس کا وقت تو بہرحال گزر چکا ‘ جس نے اب کبھی بھی اور کسی بھی طرح واپس نہیں آنا ‘ سو اس وقت وہ اعتراف کریں گے کہ اگر ہم حق بات کو سن لیتے ‘ یا عقل سے کام لے کر راہ حق کو اپنا لیتے تو آج ہمیں یہ روز بد نہ دیکھنا پڑتا ‘ لیکن ہم نے ایسے نہ کیا اور اب ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا ہوگئے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو دعوت حق کو سننا اور قبول کرنا سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے اور اس سے اعراض و روگردانی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ ہلاکتوں کی ہلاکت اور دائمی خسارے کا باعث ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین۔
Ayah 67:1216 خوف و خشیت خداوندی ذریعہ نجات و سرفرازی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اپنے رب سے بن دیکھے ڈرنے والوں کیلئے بڑی بخشش بھی ہے اور اجر کبیر بھی یعنی ان کے ان گناہوں کی بخشش جو بشری تقاضوں کی بناء پر ان سے سرزد ہوگئے ‘ والعیاذ باللہ کہ ان کو معاف کردیا جائے گا سو منکرین کے انجام کے بیان کے بعد اب یہاں سے ان لوگوں کا صلہ بیان فرمایا جا رہا ہے ‘ جو اپنی زنڈگیوں میں بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے رہے ‘ کہ ان کیلئے ایک عظیم الشان بخشش اور رحمت ہے ‘ سو اسی سے ان خوش نصیبوں کا صاحب عقل و بصیرت ہونا بھی واضح ہوجاتا ہے ‘ کہ انہوں نے اپنے کان ‘ آنکھ بند کرکے اور اندھے بہرے بن کر زندگی نہیں گزاری ‘ اور نہ ہی وہ اس بات کے منتظر رہے کہ جب سب کچھ سامنے آجائے گا تب مانیں گے ‘ نہیں بلکہ انہوں نے کائنات کی نشانیوں کو دیکھ کر اور اپنی عقلوں سے کام لے کر اور دعاۃ حق کی باتوں کو مان کر حق قبول کرلیا اور فائز المرام ہوگئے اور بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے رہے۔ سو بالغیب کا یہ لفظ بڑا عظیم الشان اور نہایت معنی خیز لفظ ہے اور یہ اس لئے کہ اس دنیا میں انسان کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ اپنی عقل و بصیرت سے کام لے کر غیب سے تعلق رکھنے والے ان حقائق کو تسلیم کرے اور ان پر ایمان لائے جن کی خبر اللہ کے رسولوں نے دی ہے اور ان حقائق کو اسی طرح مانے جس طرح اللہ اور اس کے رسول نے بتایا۔ سو ایسوں کیلئے ارشاد فرمایا گیا کہ ان کیلئے عظیم الشان مغفرت و بخشش بھی ہے اور ایک بہت بڑا اجر بھی۔ اتنا بڑا اجر کہ اس کی عظمت و بڑائی کا اندازہ کرنا بھی اس دنیا میں کسی کے بس میں نہیں ‘ کہ ان کیلئے ان کے رب کریم نے وہاں پر وہ کچھ تیار کر رکھا ہوگا ‘ جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ‘ نہ کسی کان نے سنا ‘ اور نہ ہی کسی بشر کے دل پر اس کا گزر ہی ہوا ہوگا ‘ اللہ نصیب فرمائے آمین ثم آمین یارب العالمین۔ بہرکیف انہوں نے اپنی عقل و فکر کو صحیح طور پر ساتعمال کرکے اور دعاۃ حق و ہدایت کی دعوت حق کو قبول کرکے نور ہدایت سے سرفرازی حاصل کرلی ‘ تو اس بناء پر وہ اس بات کے مستحق ہوگئے کہ ان کا رب ان کو اپنے فضل عظیم اور اجر کبیر سے نوازے ‘ سو جس شخص نے اپنی عقل و بصیرت سے کام لے کر دعوت حق کو قبول کرلیا ‘ وہ امتحان میں کامیاب ہو کر فائز المرام ہوگیا اور جنہوں نے اس کے برعکس دعوت حق و ہدایت کو سننے اور ماننے سے انکار کیا اور وہ اسی بات کے منتظر رہے کہ جب سب کچھ ان کی آنکھوں کے سامنے آئیگا تب وہ مانیں گے۔ تو وہ محروم اور ناکام رہے خواہ دنیاوی اعتبار سے انہوں نے کتنی ہی ترقی کیوں نہ کرلی ہو اور وہ اپنے آپ کو کیا کچھ سمجھتے اور مانتے ہوں اور دنیا میں ان کا کتنا ہی غلغلہ اور دبدبہ کیوں نہ ہو۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید۔
Ayah 67:1317 اللہ تعالیٰ دلوں کے بھیدوں کو بھی جانتا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اپنی بات کو خواہ چھپا کر کہو یا اعلانیہ طور پر وہ سب کو ایک برابر جانتا ہے کہ بیشک اللہ دلوں کے بھیدوں کو بھی پوری طرح جانتا ہے۔ اس لئے وہاں چرب لسانی ‘ یا چکنی چپڑی باتیں کرنے سے کام نہیں بن سکے گا ‘ بلکہ اس سے بنے گا کہ اپنے اس خالق ومالک سے اپنے دلوں کی دنیا اور اپنی نیتوں کے معاملے کو صحیح اور درست رکھا جائے ‘ تبارک و تعالیٰ ۔ سو کسی کو اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ اس کی مخفی باتیں اللہ سے مخفی اور پوشیدہ رہ سکتی ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ پس اس ارشاد میں ایک طرف تو منکرین کیلئے تنبیہہ و تہدید ہے کہ کہیں تم لوگ اس غلط فہمی میں نہ رہنا کہ تم جو کچھ کرتے ہو وہ خدا سے مخفی ہے۔ نہیں اور ہرگز نہیں تمہاری ایک ایک حرکت اس کے علم میں ہے۔ پس تم لوگوں کو اپنے کئے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا۔ اس لئے تم لوگ اپنی اصلاح کرلو قبل اس سے کہ عمر رواں کی فرصت محدود تمہارے ہاتھوں سے نکل جائے اور تمہیں ہمیشہ ہمیش کے عذاب میں مبتلا ہونا پڑے اور اگر اس کی بجائے تم لوگ اپنے کفر و انکار ‘ تمردو سرکشی ہی میں پڑے رہے تو پھر اپنے آخری انجام اور ہولناک بھگتان کیلئے تیار رہو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور دوسری طرف اس ارشاد ربانی میں ان مومنین صادقین کیلئے تسلیہ و تسکین کا سامان بھی ہے جو بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے رہے کہ تم لوگ راہ حق میں اور اپنے رب کی رضا و خوشنودی کیلئے جو بھی کچھ کرتے ہو خواہ وہ اعلانیہ ہو یا پوشیدہ وہ سب کچھ اس کے علم میں ہے۔ وہ اس کے اجر و صلہ سے تم لوگوں کو نوازے گا۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔
Ayah 67:1418 اللہ بڑا ہی لطیف وخبیر ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ انتہائی باریک بیں بھی ہے اور نہایت باخبر بھی۔ پس وہ ضرور ہی جانے گا ‘ اور بھرپور طریقے سے اور ٹھیک ٹھیک جانے گا ‘ اس لئے اس کے یہاں ظاہر کے ساتھ ساتھ اپنے باطن کا معاملہ بھی درست رکھنے کی فکر و کوشش کرو ‘ اللہ توفیق بخشے آمین ‘ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس سے کسی کی کوئی بھی حالت اور کیفیت مخفی اور مستور نہیں رہ سکتی ‘ کہ وہ خالق بھی ہے اور لطیف وخبیر بھی ‘ اور علیم بذات الصدور بھی ‘ سو اس میں منکرین کیلئے تہدید و تنبیہہ بھی ہے کہ وہ حق اور اہل حق کے خلاف جو بھی کچھ کہتے اور کرتے ہیں ‘ اس کو اپنے طور پر یہ لوگ خواہ کتنا ہی مخفی اور مستور رکھنے کی کوشش کریں ‘ وہ اس کو اس سے کسی بھی طرح چھپا نہیں سکتے ‘ بس ان کو اپنے کئے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا اور دوسری طرف اس میں ان خوش نصیبوں کیلئے تسکین وتسلیہ کا سامان بھی ہے جو بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں ‘ کہ تم لوگ رات کی خلوتوں میں اپنے رب سے راز و نیاز کی جو باتیں کرتے ہو ‘ وہ بھی اس کے علم میں ہیں اور دن کی جلوتوں میں بھی جو کچھ کرتے ہو وہ بھی اس کے سامنے ہے ‘ اور تمہارے دلوں کے اندر جو کچھ ہے وہ بھی اس سے مخفی نہیں ‘ کہ اس کے یہاں غیب و شہادت اور نہاں وعیاں سب ایک برابر ہے ‘ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس تم اطمینان رکھو کہ تمہاری رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی نیکی رائیگاں نہیں جائے گی ‘ بلکہ تمہیں تمہارے عمل کا پورا پورا بدلہ ملے گا اور کئی گنا بڑھا دیا جائے گا۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 67:1519 بچھونہ ارضی میں سامان غور و فکر کی طرف راہنمائی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اللہ وحدہ لاشریک وہی ہے جس نے تمہارے لئے رام کردیا زمین کے اس عظیم الشان کرے کو۔ جس کے باعث تم لوگ اس کی خیرات و برکات سے ہمیشہ اور لگاتار مستفید ہوتے اور اس سے طرح طرح کے فائدے اٹھاتے ‘ ذلول کے اصل معنی مطیع و منقاد کے آتے ہیں اس لئے ہم نے رام کرنے کے لفظ سے اس مفہوم کو ادا کرنے کی کوشش کی ہے ‘ واللہ الموفق اوپر آسمان کے عجائب قدرت و حکتم کا ذکر تھا اور اب اس سے زمین کے اندر پائے جانے والے آثار رحمت و ربوبیت کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے ‘ جس میں عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت پائے جاتے ہیں۔ سو اس بچھونہ ارضی اور اس کائنات خداوندی میں بڑے سامان ہائے عبرت و بصیرت ہیں غور و فکر سے کام لینے والوں کیلئے۔ مگر مشکل اور مشکلوں کی مشکل یہ ہی کہ لوگ صحیح طور پر غور و فکر سے کام لیتے ہی نہیں۔ وہ یا تو اس کے مادی پہلو کو دیکھتے ہیں کہ اس میں موجود ان گونا گوں نعمتوں سے فائدہ کس طرح اٹھائیں اور زیادہ سے زیادہ منافع کس طرح حاصل کریں ‘ اور بس۔ اور یا وہ اس کے چمکتے دمکتے عظیم الشان ظواہر و مظاہر ہی میں الجھ کر اور اٹک کر رہ جاتے ہیں۔ اور وہ یہ سوچتے ہی نہیں کہ یہ سب کچھ کس کی قدرت و حکمت اور رحمت و عنایت کا نتیجہ ہے اور اس کا ہم پر کیا حق ہے۔ اور وہ حق کس طرح ادا کیا جاسکتا ہے ؟ سو اس اہم پہلو سے دنیا غافل ہے۔ الا ماشاء اللہ سبحانہ و تعالیٰ ۔
20 زمین میں چلنے پھرنے کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا پس تم لوگ چلو اس کے کندھوں پر : اور فائدے اٹھاؤ اس میں موجود راستوں سے ‘ خواہ وہ بحری ہوں یا بری ‘ ریگستانی ہوں یا کوہستانی ‘ ہوائی ہوں یا فضائی ‘ سب سے استفادہ کرو ‘ جیسا کہ تم لوگ دن رات ایسا کرتے اور اس کے کونے کونے سے طرح طرح کے فوائد اور منافع سمیٹتے ہو ‘ اصل میں لفظ مناکب استعمال ہوا ہے جو کہ جمع ہے منکب کی جس کے معنی کندھے اور مونڈھے کے آتے ہیں ‘ پس یہ دراصل کنایہ ہے انتہائی خضوع سے ‘ کیونکہ جو جانور انتہائی خضوع کا اظہار کرتا ہے وہ اپنی گردن اپنے مالک کے آگے ڈال دیتا ہے ‘ تاکہ وہ اس کی گردن پر پاؤں رکھ کر اس پر سوار ہوجائے ‘ سبحان اللہ زمین کے اس عظیم الشان کرے کو اس ضعیف البیان انسان کیلئے اس طرح مسخر و تابع کردینا ‘ اور مطیع و منقاد بنادینا ‘ کس قدر عظیم الشان مظہر ہے حضرت حق جل شانہ کی بےپایاں قدرت اور عظیم الشان رحمت کا ‘ سبحانہ و تعالیٰ پھر بھی جو انسان غفل ہے اپنے اس خالق ومالک کی قدرت اور اس کی رحمت و عنایت سے ‘ اور اس سے منہ موڑ کو وہ دوسروں کے آگے جھکتا ہے ‘ اس سے بڑھ کر ظالم ‘ بےانصاف اور ناشکرا اور کون ہوسکتا ہے ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ نیز مناکب کے اس لفظ میں یہ درس عظیم بھی ہے کہ زمین کی اس ناقہ ذلول پر تم لوگوں کی حیثیت ان جوؤں کی سی ہے جو اونٹنی کے کندھوں پر رینگ رہی ہوتی ہیں۔ تو پھر تکبر کا ہے کا ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی بندگی سے سرفراز و سرشار ہمیشہ رکھے اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ و یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین۔
21 یوم نشور کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے اسلوب و انداز میں ارشاد فرمایا گیا اور اسی کی طرف دوبارہ اٹھ کر جانا ہے سب کو تاکہ وہاں ہر کوئی پہنچ کر ہر کوئی اپنی زندگی بھر کے کئے کرائے کا صلہ اور بدلہ پاس کے ‘ اچھے کا اچھا اور برے کا برا ‘ تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوسکیں ‘ پس کہیں تم لوگ اس دنیا کی چمک دمک اور اس کی عارضی اور فانی لذتوں میں کھوکر اپنے اس انجام کو ‘ اور اس کیلئے تیاری کو بھول نہیں جانا کہ اس طرح تم ہولناک خسارے میں مبتلا ہوجاؤ ‘ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو جس خدا نے تمہیں طرح طرح کی ان عظیم الشان نعمتوں سے نوازا ہے ‘ اور تمہارے کسی استحقاق کے بغیر نوازا ہے۔ وہ لازماً تم سے ان کے بارے میں پوچھے گا کہ تم نے ان کا کیا حق ادا کیا ؟ پس اس کو بھولنا نہیں۔ سو تمہارے خالق ومالک نے تمہیں اس دنیا میں شتر بےمہار بناکر نہیں چھوڑ دیا کہ تم جو مرضی کرتے رہو اور تمہاری کوئی پوچھ نہ ہو کہ یہ بات عقل و نقل اور فطرت کے تقاضوں کے خلاف ہے کہ انسان کو نعمتیں اور حقوق تو سب حاصل ہوں مگر اس سے ان کے بارے میں کبھی کوئی پرسش نہ ہو اور وہ مسؤلیت و پرسش سے بری اور آزاد ہو۔ پس تم لوگ اس اہم اور بنیادی حقیقت کو ہمیشہ یاد اور اپنے پیش نظر رکھو کہ ایک دن تم نے مرنا ہے اور مرنے کے بعد اٹھ کر اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے اور وہاں پر اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید۔
Ayahs 67:16–1722 بےفکری اور لاپرواہی پر تنبیہہ و تذکیر کا ذکر وبیان : سو غافل لوگوں کے قلوب و ضمائر کو جھنجھوڑتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگ آسمان والے سے اس بارے نڈر ہوگئے ہو کہ وہ تمہیں دھنسا دے زمین میں پھر وہ یکایک ہچکولے کھانے لگے ؟ استفہام یہاں پر انکاری ہے ‘ یعنی تم کو اس ذات اقدس و اعلیٰ کی گرفت و پکڑ سے بےفکر اور بےخوف نہیں ہونا چاہئے کہ وہ تم کو آخرت کے اس ہولناک عذاب سے پہلے اس دنیا میں بھی اس طرح کے کسی بھی عذاب میں ‘ کسی بھی وقت پکڑ سکتا ہے کہ وہ غفور و رحیم اور ستار و کریم ہونے کے ساتھ ساتھ جبار وقہار اور عزیز ذوانتقام بھی ہے ‘ سبحانہ و تعالی۔ٰ سو کسی کو اپنی طاقت و قوت اور اپنے ذرائع و وسائل پہ اتنا غرہ نہیں ہونا چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کدھر سے آأے گا ؟ کون لائے گا ؟ سو کسی کو اس خدائے پاک کی اس عظیم الشان ہستی سے نچنت اور بےخوف نہیں ہوجانا چاہئے جو کہ آسمان میں ہے ‘ وہ اگر چاہے تو اسی زمین کو تمہارے لئے باعث عذاب بنادے ‘ جس کو اس نے نافہ ذنول (فرمانبردار اونٹنی) کی طرح تمہارے کام میں لگا رکھا ہے کہ اس کی باگ ڈور تو بہرحال اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ‘ وہ اگر اس کی باگ ذرہ ڈھیلی کردے سبحانہ و تعالیٰ تو یہ تم سب کو لے کر اس طرح بھاگ کھڑی ہو کہ کسی کے سنبھالے نہ سنبھلے ‘ اور کسی کے روکے نہ رکے ‘ سو عقل و خرد کا تقاضا یہی ہے کہ انسان نچنت اور بےفکر ہونے کی بجائے ہمیشہ اس کی گرفت و پکڑ سے بچنے کی فکر و کوشش کرے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔
Ayah 67:1823 تاریخ سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین : سو اس سے گزشتہ زمانے کے منکرین و مکذبین کے انجام سے درست عبرت و بصیرت لینے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ سو یہ تاریخی ثبوت کا حوالہ ہے کہ قوموں کے جرائم پر آخرت سے پہلے اس دنیا میں بھی عذاب آسکتا ہے اور فی الواقع اور بالفعل آچکا ہے ‘ پس جو انجام کل کے ان منکروں اور سرکشوں کا ہوچکا ہے ‘ وہ آج کے ان منکروں اور سرکشوں کا بھی ہوسکتا ہے ‘ کہ اللہ تعالیٰ کا قانون عام ہے ‘ بےلاگ اور سب کیلئے یکساں ہے ‘ بس آج کے ان منکروں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں ‘ قبل اس سے کہ یہ بھی اسی طرح کے کسی ہولناک انجام سے دوچار ہوں ‘ جس سے وہ لوگ ہوچکے ہیں والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے بھی جھٹلایا حق اور حقیقت کو جو دور حاضر کے ان منکروں سے پہلے گزر چکے ہیں۔ پھر دیکھ لو کہ کیسا ہوا میرا عذاب۔ سو آخرکار ان پر وہ عذاب آکر رہا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ پس دور حاضر کے ان منکرین کو ان کے انجام سے سبق لینا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین۔
Ayah 67:1924 فضا میں اڑتے پرندوں میں سامان غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ان لوگوں نے کبھی ان پرندوں کو نہیں دیکھا جو ان کے اوپر فضا میں اڑتے ہیں جو کبھی پر پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں اور کبھی سکیڑے ہوئے ؟ اور یہ دیکھنا ان ظاہری آنکھوں سے نہیں کہ اس طرح تو ہر کوئی دیکھتا ہے جانور بھی دیکھتے ہیں ‘ بلکہ دل کی اور باطن کی آنکھوں سے اور عبرت و اعتبار کی نیت و نگاہ سے دیکھنا ‘ تاکہ ان کو حق اور حقیقت تک رسائی حاصل ہوتی اور سیدھی راہ ملتی ‘ اور اس طرح یہ لوگ بچ جاتے گمراہی اور اپنے برے انجام سے ‘ پس اللہ کی مخلوق میں صحیح طور پر غور و فکر سے کام لینا ایک اہم مقصد ہے ‘ سو یہ لوگ اگر اپنے سروں کے اوپر اڑتے پھرتے ان پرندوں ہی کو دیکھ لیتے اور انہی میں نگاہ عبرت و اعتبار ڈال لیتے تو ان کو چشم کشا درسہائے عبرت و بصیرت ملتے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان پرندوں کو فضا میں کوئی نہیں روک سکتا سوائے خدائے رحمٰن کے۔ اس کے سوا کوئی نہیں جو ان کے گرنے سے بچائے حالانکہ ثقل اجسام کا طبعی تقاضا ہے کہ وہ زمین پر آ رہیں، سو اس سے اندازہ کرو کہ کیسا قادر و حکیم ہے وہ معبود برحق جس کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے یہ اجسام ثقلیہ اس طرح فضاؤں میں گھومتے پھرتے ہیں اور ہر ایک اپنے انداز میں محو گردش ہے۔ اور پرندوں کا یہ ذکر بطور مثال ہے۔ ورنہ اس کائنات کی ہر چیز کا حال یہی ہے اور وہ اسی قادر مطلق کے تھامنے سے تھمی ہوئی ہے۔ سو تم لوگ ان پرندوں کی مال ہی پر کائنات کی ہر چیز کو قیاس کرلو اس فضائے لامتناہی میں پائے جانے والے لامتناہی کواکب و نجوم اور ثوابت و ستارے اسی قادر مطلق کی توجہ اور عنایت سے ٹکے ہوئے ہیں۔ اسی نے ان سب کو اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے سنبھال رکھا ہے۔ خدائے رحمان کے سوا کوئی نہیں جو ان کو تھام سکے مایمسکہن الا الرحمٰن ان میں سے ایک بھی اگر گرپڑے تو اس پوری کرہ ارض کو تہس نہس کر دے لیکن اس کی قدرت و حکمت اور رحمت و عنایت سے ہر ایک اپنے مقررہ راستے پر چل رہا ہے۔ " کل فی فلک یسبحون " والحمد للہ جل و علا۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے۔ ابن محمد آمین
Ayah 67:2025 ۔ کافر اور منکر لوگ نرے دھوکے میں والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور کافروں اور منکروں کے دیوں پر ایک دستک کے طور پر بطور استفہام ارشاد فرمایا گیا کہ بھلا وہ کون سا لشکر ہے جو خدائے رحمٰن کے مقابلے میں تمہاری مدد کرسکے ؟ کافر لوگ تو محض دھوکے میں پڑے ہیں جو خدائے رحمٰن سے منہ موڑ کر طرح طرح کی بےحقیقت چیزوں پر تکیہ کر کے حق اور حقیقت سے دور اور محروم ہور ہے ہیں اور حضرت حق جل مجدہ کی طرف رجوع کرنے کی بجائے اس کی عاجز اور بےبس مخلوق کے آگے جھک کر جگہ جگہ اور طرح طرح سے اپنی تذلیل کا سامان کرتے ہیں، والعیاذ باللہ العظیم سو اس ارشاد میں ان لوگوں کی بدبختی پر اظہار افسوس ہے کہ ان کی غفلت و لاپرواہی اور ان کے طنطنہ سے یوں لگتا ہے جیسے انہوں نے اپنے دفاع کے لئے کوئی بڑا ناقابل تسخیر دفاعی حصار قائم کر رکھا ہے، جس سے یہ لوگ ایسے نچنت اور بےفکر ہو رہے ہیں، لیکن یہ لوگ سخت دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں، عذاب الٰہی کا کوئی جھونکا بھی اگر آگیا۔ والعیاذ باللہ۔ تو ان کے یہ سارے قلعے اور حصار خس و خاشاک کی طرح اڑ جائیں گے، والعیاذ باللہ۔ خدائے رحمان کے مقابلے میں کوئی شکر کام نہیں آسکتا سوائے اسی کی رحمت و عنایت کے۔ لاملجا ولامنجامنہ الا الیہ۔ جل و علا۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ، ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنا ہی بنائے رکھے، آمین ثم آمین