67. Surah Al-Mulk

الملكThe Sovereignty · 30 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 67:1

تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ Open ayah 67:1 in the Quran reader

بڑا عالی شان ہے وہ (اللہ) جس کے ہاتھ میں (ساری) حکومت ہے، اور وہی ہر چیز پر قادر ہے،1۔

1۔ ملکیت اور قدرت دونوں اسی ذات واحد کی کامل اور غیر مشترک ہیں۔ کلمہ ملک میں خود ہی یہ مفہوم آگیا تھا۔ آیت کے دوسرے جزء نے اور زیادہ تصریح وتاکید کردی۔ بعض محققین سے یہ نکتہ بھی منقول ہے کہ بادشاہت اور حکومت عموما محل موجود اور کیفیت حاضر تک محدود سمجھی جاتی ہے۔ قدرت اس کے مقابلہ میں عام ووسیع ہے تو آیت کے جزء ثانی نے یہ صاف کردیا کہ صرف موجودات ہی کی بادشاہت و حکومت نہیں بلکہ سارے آیندہ ممکنات پر بھی حق تعالیٰ کی ملکیت اور قدرت اسی طرح وسیع ہے۔ (آیت) ” بیدہ۔ ید کے لفظی معنی ہاتھ کے ہیں۔ لیکن یہاں مراد اس کے مجازی معنی قبضہ یا تصرف کا ہونا بالکل ظاہر ہے، خود اردو میں بھی ایسے موقع پر ” ہاتھ “ سے مراد یہ جسمانی عضو نہیں۔ بلکہ قبضہ، اختیار، ملک و تصرف ہی ہوتی ہے۔ اور حکومت یا بادشاہت کسی بھی بادشاہ کے ” ہاتھ “ میں نہیں بلکہ ملک و تصرف ہی میں ہوتی ہے۔ اس لئے آیت میں (آیت) ” ید “۔ کے مجازی معنی حق تعالیٰ کے اعتبار سے نہیں۔ بلکہ (آیت) ” الملک “۔ ہی کے لحاظ سے کرنا پڑے۔ (آیت) ” الملک “۔ ال استغراق کا ہے یعنی جو کچھ بھی ہے تصور میں آسکے یا نہ آسکے سب اسی کا مملوک و محکوم ہے۔ ملک وقدرت ان دونوں صفات میں مشرک قوموں کو بڑی ٹھوکریں لگی تھیں۔ قرآن مجید اسی لئے اس کثرت سے ان کا اثبات حق تعالیٰ کے حق میں کرتا ہے۔
Ayah 67:2

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ Open ayah 67:2 in the Quran reader

وہ وہی ہے جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ عمل میں کون بہتر ہے،2۔ اور وہ بڑا زبردست ہے، بڑا مغفرت والا ہے،3۔

2۔ اور اسی کے لحاظ سے آخرت میں جزاء وسزادے گا۔ (آیت) ” خلق الموت والحیوۃ “۔ یہاں یہ بتادیا کہ خود موت وزندگی بھی تمام دوسری ایجابی وسلبی مخلوقات کی طرح حق تعالیٰ کی مخلوق ہی ہیں۔ کوئی دیوی دیوتا نہیں، جیسا کہ بہت سی جاہلی قوموں نے سمجھ رکھا ہے۔ (آیت) ” خلق الموت “۔ موت عدم محض یا فقط سلب حیات کا نام نہیں، جیسا کہ بعض جاہلی فلاسفہ نے خیال کیا ہے، ایک مستقل وجودی مخلوق ہے۔ واستدل بھذہ الایۃ من قال ان الموت امر وجودی لانہ مخلوق (ابن کثیر) والموت علی ماذھب الیہ الکثیرون من اھل السنۃ صفۃ وجودیۃ تضاد الحیوۃ (روح) قال اصحابنا انہ صفۃ وجودیۃ مضادۃ للحیاۃ (کبیر) یہود کا ایک عقیدہ یہ بھی تھا کہ صرف حیات حق تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ہے باق موت تو شیطان نے نافرمانی کرکے پیدا کرادی ہے۔ آیت سے اس اعتقاد کی تصحیح بھی مد نظر ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” الموت والحیوۃ “۔ حیات، کا محل عمل یا ظرف عمل ہونا تو بالکل ظاہر ہی ہے۔ یہ مہلت اور موقع اگر نہ حاصل ہو تو انسان اچھا برا عمل کرے ہی کس وقت۔ اور موت حسن عمل کے لئے بمنزلہ شرط ہے۔ موت کے مشاہدہ سے دنیا کے فانی ہونے کا۔ اور آخرت کے اعتقاد سے وہاں کے اجر کا اگر یقین نہ ہو تو انسان حسن عمل کے لئے کوشش ہی کیوں کرے۔ 3۔ (جس کو چاہے بلامعاوضہ اور بلاکفارہ معاف کردے اور جس حسن عمل پر جتنا چاہے اجر دے ڈالے) (آیت) ” العزیز “۔ ہر جزاء وسزا پر قادر۔ عقاب وثواب دونوں اس کے اختیار میں۔
Ayahs 67:3–4

الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ Open ayah 67:3 in the Quran reader

جس نے سات آسمان تہ بہ تہ پیدا کردیئے تو (خدائے) رحمن کی صنعت میں کوئی فتور نہ دیکھے گا سو تو پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے کہیں تجھ کو کوئی خلل نظر آتا ہے ؟

ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ Open ayah 67:4 in the Quran reader

پھر بار بار نگاہ ڈال کر دیکھ نگاہ (ہی آخر) ذلیل، درماندہ ہو کر تیری طرف لوٹ آئے گی،4۔

4۔ (اے مخاطب ! ) آیت سے مقصود آسمانوں کی تعداد یاہیئت یا جمود وغیرہ کا بیان کرنا نہیں بلکہ مقصود حق تعالیٰ کا فاطر کائنات کے کمال صناعی وصنعت گری کا اظہار ہے۔ آسمان، اس کی ماہیت و حقیقت جو کچھ بھی ہو۔ بہرحال حسن صنعت کا بہترین وکامل ترین نمونہ ہے، ہر عیب، ہر نقص سے پاک، تو جب اس مخلوق اعظم کا یہ حال ہے تو اور ساری مخلوق اس سے تو فروتر ہی ہے۔ ان کا اتنا مرتب و محفوظ اور حسین و جمیل رکھنا اس کے لئے کیا دشوار ہے۔ آیت منکرین صنعت باری کے لئے ایک چیلنج ہے کہ ہر مخلوق کو چھان بین کر خوب غور سے دیکھ لیں کسی میں کوئی بات خلاف حکمت نہ پائیں گے۔ (آیت) ” فارجع البصر “۔ محققین نے کہا ہے کہ یہ پہلی نظر عوام کی ہے جو صرف وجود اور حسن ظاہردیکھ کر کمال صانع کے قائل ہوجاتے ہیں۔ (آیت) ” ثم ارجع البصر “۔ اہل نظر نے کہا ہے کہ یہ دوسری نظر اہل نظر واہل حکمت کی ہے جو ہر ہر مخلوق کے مصالح کو دیکھ کر سمجھ لیتے ہیں کہ جو نظم تکوینی موجود ہے اس سے بہتر ہونا محال تھا اور اس پر مجال حرف گیری نہیں۔ (آیت) ” ینقلب الیک البصر “۔ عارفین نے کہا ہے کہ یہ تیسری نظر خواص اہل حق کی ہے جو اپنی نظر سے خود نادم ہو کر اپنے عجز وجہل کے معترف ہوتے ہی۔ (آیت) ” فارجع البصر “۔ امر فارجع تکلیفی وتشریعی نہیں تعجیزی ہے یعنی تم دیکھ لو، تجربہ کرلو، آخرخود ہی تھک جاؤ گے۔ (آیت) ” کر تین “۔ صیغہ تثنیہ یہاں محض اظہار تعدد کے لئے ہے دو (2) کا متعین عدد مراد نہیں۔ والمراد بالتثنیۃ التکریر والتکثیر کما فی لبیک وسعدیک (بیضاوی)
Ayah 67:5

وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ Open ayah 67:5 in the Quran reader

ہم نے بیشک قریب کے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کر رکھا ہے اور ہم نے ان کو شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ بھی بنایا ہے اور ہم نے ان کے لئے دوزخ کا عذاب بھی تیار کر رکھا ہے،5۔

5۔ شیطانوں کے لئے عذاب جہنم کا تیار رہنا ایک معلوم ومعروف مسئلہ ہے۔ (آیت) ” بمصابیح “۔ مصابیح “۔ سے مراد ستاروں کا ہونا بالکل ظاہر ہے۔ وھی الکواکب التی وضعت فیھا من السیارات والثوابت (ابن کثیر) (آیت) ” و ..... بمصابیح “۔ ستاروں سے ایک بڑی غرض آسمان دنیا کی زینت و آرائش ہے، یہ قرآن مجید میں پہلے بھی بیان ہوچکا ہے۔ (آیت) ” و ...... للشیطین “۔ ستاروں کے رجم شیاطین پر حاشیے پہلے گزر چکے، سورة الحجر (پ 14) سورة الصافات (23) وغیرہ میں۔ آیت کے الفاظ سے یہ لازم نہیں آتا کہ بجنسہ کوئی ستارہ ہی شیطان کو پھینک مارا جاتا ہو، بلکہ جیسا صاحب تفسیر عزیزی نے لکھا ہے ممکن ہے کہ ملائکہ اجزاء ہوا اور بخارات کو ستاروں سے روشن کرکے شیطانوں پر مارتے ہوں۔
Ayahs 67:6–8

وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 67:6 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے پروردگار سے کفر کرتے ہیں ان کے لئے دوزخ کا عذاب ہے اور وہ (بہت ہی) بڑا ٹھکانا ہے ،

اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ Open ayah 67:7 in the Quran reader

اس میں جب یہ لوگ ڈالے جائیں گے تو اس کی (بڑی) زور کی گرج سنیں گے اور وہ اس طرح جوش ماررہی ہوگی ،

تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ Open ayah 67:8 in the Quran reader

کہ گویا ابھی غصہ سے پھٹنے کو ہے، جب جب اس کے اندر کوئی گروہ (کافروں کا) ڈالا جائے گا تو اس کے محافظ ان لوگوں سے پوچھیں گے، کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا،6۔

6۔ (جس نے تم کو اس عذاب سے ڈرایا ہو ؟ ) (آیت) ” کلما ..... نذیر “۔ دوزخ میں کافروں کے مختلف گروہ اپنے اپنے مرتبہ کفر کے لحاظ سے ڈالے جائیں گے۔ یہ سوال ہر نئے گروہ سے ہوگا۔ فرشتوں کے سوال کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ شدید عذاب تو ایسی چیز تھی کہ تمہیں اس کی خبر اگر بدرجہ احتمال پہنچتی، جب بھی تمہیں اس سے اپنے کو بچانا واجب تھا تو کیا ایسے ہولناک انجام کی تمہیں سرے سے خبر ہی نہیں پہنچی تھی ؟ (آیت) ” تکاد تمیز من الغیظ “۔ یہ فقرہ جہنم کے جوش و خروش کی بےانتہاشدت ظاہر کرنے کو ہے۔
Ayah 67:9

قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ Open ayah 67:9 in the Quran reader

وہ کہیں گے کیوں نہیں، ضرور ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا، لیکن ہم نے اس کو جھٹلایا اور کہا کہ خداوند نے کچھ بھی نازل نہیں کیا، تم خود ہی ایک بڑے خبط میں پڑے ہو،7۔

7۔ (کہ وحی اور ثبوت اور آخرت وغیرہ کے ڈھکوسلوں میں پڑے ہوئے ہو) (آیت) ” قالوا ...... نذیر “۔ منکرین حشر اب دوزخ میں پہنچ چکی تھی، یہ شامت تو ہماری خود ہی تھی کہ ہم ڈھٹائی کیساتھ پیغمبروں کی تکذیب کرتے اور الٹا انہیں کو خبطی قرار دیتے رہے، (آیت) ” ان .... کبیر “۔ آج ہمارے روشن خیالوں “۔ اور عقلییں کا جو فتوی اہل مذہب کے متعلق ہے، وہ کیا اس سے کچھ بہت مختلف ہے ؟
Ayah 67:10

وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:10 in the Quran reader

اور (یہ بھی) کہیں گے کہ ہم اگر سن لیتے یا عقل ہی سے کام لیتے تو ہم اہل دوزخ میں سے نہ ہوتے،8۔

8۔ منکرین اب اعتراف کریں گے کہ یہ توحید، رسالت وآخرت کے عقائد تو ایسے کھلے ہوئے اور عقل سلیم کے اس قدر مطابق تھے کہ ہم نے خود ہی اگر اپنی عقل و دماغ سے کام لیا ہوتا تو انہیں نتیجوں تک پہنچ جاتے، چہ جائیکہ جب راست باز متدین یقین دلانے والے اس کا یقین دلا رہے تھے ہماری شامت کی انتہاء تھی کہ پھر بھی ہم انکار ہی پر تلے رہے۔ (آیت) ” لوکنا نسمع “۔ نسمع سے مراد دلیل سمعی اور طریق تقلید لی گئی ہے۔ (آیت) ” اونعقل “۔ نقل سے مراد دلیل عقلی اور طریق تحقیق لی گئی ہے۔
Ayahs 67:11–12

فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:11 in the Quran reader

غرض اپنے جرم کا اقرار کریں گے سو لعنت ہے اہل دوزخ پر ،

اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 67:12 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سے بےدیکھے ڈرتے ہیں ان کی لئے مغفرت اور اجر عظیم ہے،9۔

9۔ (جس کا ظہور کامل آخرت میں ہوگا) (آیت) ” یخشون ربھم “۔ یہی خشیت الہی ہی تو ہے جو انہیں ایمان وطاعت کی طرف لاتی ہے۔ (آیت) ” بالغیب “۔ ایمان بالغیب کی طرح یہ خشیت بالغیب کی بھی تصریح اس امر کو ظاہر کردیتی ہے کہ کسی کا مرتبہ ایمان و خشیت جس درجہ کا بھی ہو، بہرحال کوئی نہ کوئی درجہ غیب ان کے لئے بھی باقی رہے گا، یہ شہود کا مل اس عالم ناسوت میں بشر کے لئے ممکن نہیں۔
Ayahs 67:13–14

وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 67:13 in the Quran reader

اور تم لوگ (خواہ) چھپا کر کہو یا پکار کر کہو وہ دلوں تک کی باتوں سے خوب آگاہ ہے،

اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ Open ayah 67:14 in the Quran reader

کیا وہی آگا نہ ہوگا جس نے پیدا کیا ہے ؟ وہ تو (بڑا ہی) باریک بین اور (پورا) باخبر ہے،10۔

10۔ ان مشرک جاہلی قوموں کی حماقت پر تعریض ہے جو ایک طرف خدا کو خدا بھی مانے جاتے ہیں اور دوسری طرف اس کے علم کو ناقص اور جزئیات پر غیر حاوی بھی تسلیم کرتے ہیں ! (آیت) ” الطیف۔ لطیف “۔ سے مراد ہے بڑی بڑی نازل ودقیق حکمتوں اور تدبیروں والا۔ یراد بہ دقائق تدبیر لھم وفیھم (کبیر)
Ayah 67:15

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ Open ayah 67:15 in the Quran reader

وہ وہی ہے جس نے زمین کو تمہارے لئے مسخر کردیا تو تم اس کے راستوں میں چلو پھر و اور اللہ کی (دی ہوئی) روزی میں سے کھاؤ (پیو) اور اسی کے پاس زندہ ہو کر جانا ہے،11۔

11۔ بندوں کو ترغیب ہے کہ زمین سے جو چاہوکام لو، جس طرح چاہو رہو سہو، بس صرف اتنا یاد رہے کہ تم بندے ہو، خدا نہیں ہو، خود مختار ومطلق العنان نہیں ہو، خدا کے قانون کے محکوم وپابند ہو اور اسی کے سامنے اپنے ہر عمل کے جوابدہ ہو، (آیت) ” من رزقہ “۔ یاددلادیا کہ جو کچھ تمہیں کھانے پینے کو مل رہا ہے یہ سب حق تعالیٰ کا ہی عطیہ تو ہے۔ (آیت) ” ھو ..... ذلولا “۔ یہ ارشاد ہوا کہ زمین میں تمہارے لئے ہر قسم کے تصرفات کی اہلیت رکھ دی گئی ہے، تم تو خود اس پر حاکم و متصرف ہو، الٹے اسی کو دیوی سمجھ لینا کیسی حماقت ہے۔
Ayah 67:16

ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ Open ayah 67:16 in the Quran reader

کیا تم اس سے نڈر ہوگئے ہو کہ جو آسمان میں ہے، وہ کہیں تم کو زمین میں دھنسا نہ دے اور وہ تھر تھرانے لگے ؟ ،12۔

12۔ یعنی کیا تم نے اپنے کو عذاب الہی کی گرفت سے محفوظ ومصؤن سمجھ لیا ہے ؟ اگر ایسا ہے تو یہ مجرمانہ غفلت کیا انتہاء ہے۔ (آیت) ” من فی السمآء “۔ سے یہ مراد تو ہو ہی نہیں سکتی کہ وہ آسمان پر کہیں بیٹھا ہوا ہے۔ وھذا لایۃ لایمکن اجراؤھا علی ظاھرھا باتفاق المسلمین (کبیر) مراد وہ ذات اعظم ہے جس کا حکم و تصرف آسمان پر چل رہا ہے۔ تقدیر الایۃ من فی السماء سلطانہ ومل کہ قدرتہ والغرض من ذکر السمآء تفخیم سلطان اللہ تعظیم قدرتہ (کبیر) اے من ملکوتہ فی السمآء لانھا مسکن ملائکتہ ومنھا تنزل قضایاہ وکتبہ واوامرۂ ونواھیہ (مدارک) بعض نے (آیت) ” من فی السمآء “۔ سے مراد آسمانی ملائکہ عذاب سے لی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ (آیت) ” السماء کا لفظ محض جہت علو اور غایت شرف کے اظہار کے لئے ہو۔
Ayah 67:17

اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ Open ayah 67:17 in the Quran reader

کیا تم اس سے نڈر ہوگئے ہو کہ جو آسمان میں ہے وہ تمہارے اوپر ہوئے تند بھیج دے ؟ سوعنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا تھا ؟ ،13۔

13۔ یعنی کیسا صحیح، کتنا مطابق واقعہ اور کتنا شدید ! (آیت) ” فستعلمون “۔ س سے مراد ہے کہ موت کے ساتھ ہی (آیت) ” من فی السمآء پر حاشیہ ابھی اوپر گزر چکا۔
Ayah 67:18

وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 67:18 in the Quran reader

اور ان سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں انہوں نے بھی تو جھٹلایا تھا، سو میرا عذاب کیسا (ان پر واقع) ہوا ؟ ،14۔

14۔ اگر ماضی سے نمونے ہی اس عذاب کے تلاش کرنے ہیں تو تاریخ وسیر کے صفحات کا مطالعہ کرلیں کہ کیسی کیسی پر قوت قومیں اور امتیں سرکشی کی پاداش میں ہلاک ہوچکی ہیں۔
Ayah 67:19

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ Open ayah 67:19 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر پرندوں پر نظر نہیں کی کہ پر پھیلائے ہوئے ہیں اور سمیٹ بھی لیتے ہیں انہیں کوئی اور نہیں تھامے رہتا ہے بجز خدائے رحمن کے، وہی ہر چیز کو خوب دیکھے بھالے ہوئے ہے،15۔

15۔ (اور جس میں جو تصرف چاہے، اپنے حسب مرضی ومشیت کرتا رہتا ہے) پرندوں کی قوت پرواز، ان کا وہ ہوا کی موجوں کو چیرتے ہوئے جانا، ان کا وہ اتنی بلندیوں پر اپنے جسم کا توازن قائم رکھنا، یہ سب انسان کے لئے کیسے حیرت انگیز مشاہدات ہین، اور ان سے کیسا سبق حق تعالیٰ کی صناعی کا ملتا ہے۔
Ayah 67:20

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ Open ayah 67:20 in the Quran reader

بھلا (خدائے) رحمن کے سوا وہ کون ہے جو تمہارا لشکر بن کر تمہاری نصرت کرسکے ؟ کافر تو بڑے دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں،16۔

16۔ اور کافر تو وہی ہیں جو خدائے واحد کے بجائے ادھر ادھر کے سہاروں اور آسروں میں الجھے رہتے ہیں) (آیت) ” امن ...... الرحمن “۔ مثال دفع مضرت کی ہے۔ بتایا ہے کہ اس پر بجز خدائے رحمن کے کوئی قادر نہیں۔
Ayah 67:21

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ Open ayah 67:21 in the Quran reader

بھلاوہ کون ہے جو تمہیں روزی پہنچا سکے اگر اللہ اپنی روزی بند کرلے ؟ اصل یہ ہے کہ یہ لوگ جمے ہی ہوئے سرکشی اور نفرت میں ہیں،17۔

17۔ (اور بلاکسی شائبہ دلیل کے کفر وشرک میں مبتلا ہیں) (آیت) ” امن .... رزقہ “۔ مثال ایصال نفع کی ہے کہ اس پر بھی بجز خدائے رحمن کے کوئی قادر نہیں۔
Ayah 67:22

اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 67:22 in the Quran reader

سو کیا جو شخص اپنے منہ کے بل گرتا ہوا چل رہا ہو کیا وہ بہتر رہرو ہوگا یا وہ جو سیدھا ایک ہموار سڑک پر چلا جارہا ہو ؟ ،18۔

18۔ آیت کے اندر پہلی مثال کافر کی ہے، اور دوسری مثال مومن کی (آیت) ” افمن یمشی .... وجھہ “۔ کافر کا راستہ ہی زیغ وضلالت کا ہوتا ہے، اور وہ سر کے بل گرتا ہی جاتا ہے ہلاکتوں میں اس کا نقطہ نظر ہی کائنات کی ہر شے سے متعلق اوندھا ہوتا ہے۔ (آیت) ” امن ..... مستقیم “۔ مومن سیدھے قد کے ساتھ تنا ہوا چلتا ہے۔ افراط وتفریط کے غاروں، گڑھوں سے بچتا ہوا۔
Ayahs 67:23–24

قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 67:23 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ اللہ وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں کان اور آنکھیں اور دل دیئے (مگر) تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہوا،

قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 67:24 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ اللہ وہی ہے جس نے تمہیں زمین پر پھیلا یا اور تم اس کے پاس اکھٹے کئے جاؤ گے،19۔

19۔ تمہیں چلنا اس کے قانون پر ہے جو انفرادی اور اجتماعی ہر قسم کی نعمتوں کا جامع اور مالک ہے۔ (آیت) ” قل ھوالذی انشاکم “۔ الخ۔ اس آیت میں خطاب افراد انسانی سے ہے (آیت) ” قل ھو الذی ذراکم “۔ الخ اس آیت میں خطاب اجتماع انسانی سے ہے۔
Ayah 67:25

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 67:25 in the Quran reader

اور یہ لوگ پوچھتے ہیں کہ یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا اگر تم سچے ہو،20۔

20۔ (اے مسلمانو ! ) منکرین حشراہل ایمان سے یہ سوال طنز و استہزاء کی راہ سے کیا کرتے تھے۔
Ayah 67:26

قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 67:26 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ (متعین) علم تو بس اللہ ہی کو ہے، اور میں تو بس ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں،21۔

21۔ (اور عبد محض، مجھے غیب کی کیا خبر۔ قیامت کا واقع کردینا نہ میرے اختیار میں نہ اس کا وقت میرے علم میں) مشرکوں کے سوال پیغمبر سے اپنے عقیدہ میں بس وہی حلول ومظہریت کا اعتقاد رکھتے تھے۔
Ayah 67:27

فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ Open ayah 67:27 in the Quran reader

پھر جب وہ اس (قیامت) کو پاس آتا دیکھ لیں گے تو کافروں کے چہرے بگڑجائیں گے اور ان سے کہا جائے گا یہی ہے وہ جسے تم طلب کیا کرتے تھے،22۔

22۔ یہ کہنے والے فرشتے ہوں گے اور یہ اہل جہنم سے ان کی مزید توبیخ اور زیادہ دل جلانے کے لئے کہا جائے گا۔ (آیت) ” راؤہ “۔ ضمیرہ اسی یوم موعود کی جانب ہے۔ اے الوعد یعنی العذاب الموعود (مدارک) یعنی العذاب فی الاخرۃ علی قول اکثر المفسرین (معالم) (آیت) ” سیٓئت وجوہ الذین کفروا “۔ یعنی جب قیامت واقعۃ آنے لگے گی تو منکرین کے چہرے فرط ہیبت و دہشت سے بگڑ کر رہ جائیں گے۔
Ayah 67:28

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 67:28 in the Quran reader

آپ کہئے کہ اچھا یہ بتلاؤ اگر اللہ مجھے اور میرے ساتھ والوں کو ہلاک کردے یا ہم پر رحمت کردے تو کافروں کو عذاب دردناک سے کون بچالے گا ؟ ،23۔

23۔ مقصد یہ ہے کہ ہم پر دنیا میں جو گزرے گی وہ تو گزر کررہے گی، اور کامیابی ہو یا کانامی، ہر حالت میں اس کا انجام مومنین کے حق میں اچھا ہی ہے۔ تم اپنی خبر لو، اور اپنے لئے فکر کرو، کہ تمہارے کفر و انکار کا انجام کیا ہوتا ہے۔ (آیت) ” ان ..... معی “۔ یعنی اگر تمہاری آروزو اور تمہارے گمان کے مطابق میری اور میرے ساتھیوں کی ہلاکت بھی ہوجائے۔ (آیت) ” اور حمنا “۔ یعنی اگر وعدۂ الہی اور ہماری امید کے مطابق ہم پر نزول رحمت ہی رہے۔
Ayah 67:29

قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 67:29 in the Quran reader

آپ کہئے وہی خدائے رحمن ہے ہم اس پر ایمان لائے اور اسی پر ہم توکل کرتے ہیں، سوعنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کھلی ہوئی گمراہی میں کون ہے،24۔

24۔ یعنی جب اپنے کو مبتلائے عذاب اور ہمیں اس سے محفوظ دیکھ لوگے جب تو عیانا جان لوگے کہ ضلالت کی راہ تمہاری ہی تھی۔ (آیت) ” امنا بہ “۔ اور ایمان کی برکت انشاء اللہ ہم کو عذاب آخرت سے محفوظ کردے گی۔ (آیت) ” وعلیہ توکلنا “۔ اور توکل کی برکت انشاء اللہ حوادث دنیوی کو دفع یا سہل کردے گی۔
Ayah 67:30

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠ Open ayah 67:30 in the Quran reader

آپ کہیے کہ اچھایہ بتلاؤ کہ اگر تمہارا پانی نیچے کو غائب ہی ہوجائے تو کون ہے جو تمہارے پاس سوت کا پانی لے آئے ؟ ،25۔

25۔ (پس جب حق تعالیٰ کے مقابلہ میں معمولی طبعی واقعات میں کسی کو تصرف کی قدرت نہیں تو عذاب آخرت سے بچانے کی کس کی مجال ہوسکتی ہے۔