Explained with ayahs 1–5
بہتر عمل کی آزمائش کا نام زندگی ہے
اللہ تعالیٰ اپنی تعریف بیان فرما رہا ہے اور خبر دے رہا ہے کہ تمام مخلوق پر اسی کا قبضہ ہے جو چاہے کرے۔ کوئی اس کے احکام کو ٹال نہیں سکتا اس کے غلبہ اور حکمت اور عدل کی وجہ سے اس سے کوئی باز پرس بھی نہیں کرسکتا وہ تمام چیزوں پر قدرت رکھنے والا ہے۔ پھر خود موت وحیات کا پیدا کرنا بیان کر رہا ہے، اس آیت سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے جو کہتے ہیں کہ موت ایک وجودی امر ہے کیونکہ وہ بھی پیدا کردہ شدہ ہے، آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمام مخلوق کو عدم سے وجود میں لایا تاکہ اچھے اعمال والوں کا امتحان ہوجائے جیسے اور جگہ ہے آیت (كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ…
Read the full tafseer →سورة الْمُلْک 9
قریب کے آسمان سے مراد وہ آسمان ہے جس کے تا روں اور سیاروں کو ہم برہنہ آنکھوں سے دیکھتے ہیں اس سے آگے جن چیزوں کے مشاہدے کے لیے آلات کی ضرورت پیش آتی ہو وہ دور کے آسمان ہیں۔ اور ان سے بھی زیادہ دور کے آسمان وہ ہیں جن تک آلات کی رسائی بھی نہیں ہے۔
سورة الْمُلْک 10
اصل میں لفظ " مصابیح " نکرہ استعمال ہوا ہے اور اس کے نکرہ ہونے سے خود بخود ان چراغوں کے عظیم الشان ہونے کا مفہوم پیدا ہوتا ہے۔ ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ یہ کائنات ہم نے اندھیری اور سنسان نہیں بنائی ہے بلکہ ستاروں سے خوب مزین اور آراستہ کیا ہے جس کی شان اور جگمگاہٹ رات کے اندھیروں میں دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔
سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–14
(آیت) وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ ، مصابیح سے مراد ستارے ہیں اور نیچے کے آسمان کو ستاروں سے مزین کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ ستارے آسمان کے اندر یا اس کے اوپر لگے ہوئے ہوں بلکہ یہ تزیین اس صورت میں بھی صادق ہے جبکہ ستارے آسمان سے بہت نیچے خلا میں ہوں جیسا کہ تحقیق جدید سے اس کا مشاہدہ ہو رہا ہے یہ اس کے منافی نہیں اور ستاروں کو شیاطین کے دفع کرنے کے لئے انگارے بنا دینے کا یہ مطلب ہوسکتا ہے کہ ستاروں میں سے کوئی مادہ آتشیں ان کی طرف چھوڑ دیا جاتا ہو ستارے اپنی جگہ رہتے ہوں، عوام کی نظر میں چونکہ یہ شعلہ ستارہ کی طحر حرکت…
Read the full tafseer →قدرت کے پہلو بہ پہلو رحمت کے جلوے:
سات آسمانوں کا حوالہ دینے کے بعد آسمان زیریں کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی جس کے عجائب کا نسبۃً آسانی سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ فرمایا کہ اس کو دیکھو کس طرح ہم نے اس کو قمقموں سے آراستہ کیا ہے! مطلب یہ ہے کہ ان قمقموں کو دیکھو گے تو تمہارے سامنے یہ پہلو بھی آئے گا کہ اس جہان کا خالق صرف قدرت والا ہی نہیں بلکہ عظیم رحمت والا بھی ہے، جس نے اس چھت کو ایسے قمقموں سے جگمگایا ہے جن کی حسن افروزی اور فیض بخشی کا کوئی اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ اوپر ’مَا تَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ‘ میں صفت رحمان کا حوالہ آیا ہے۔ یہ اسی ایک پہلو کی طرف اشارہ ہے گویا یہ دنیا اپنے وجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
5۔ 1 یہاں ستاروں کے دو مقصد بیان کئے گئے ہیں ایک آسمانوں کی زینت کیونکہ وہ چراغوں سے جلتے ہیں دوسرا کہ شیطان آسمانوں کی طرف جانے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ شرارہ بن کر ان پر گرتے ہیں۔ تیسرا مقصد ان کا یہ ہے جسے دوسرے مقامات پر بیان فرمایا گیا ہے کہ ان سے برو بحر میں راستوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
2: چراغوں سے مراد ستارے اور اجرام فلکی ہیں جو رات کے وقت سجاوٹ کا بھی ذریعہ بنتے ہیں، اور ان سے شیطانوں کو مارنے کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ شیطانوں کو مارنے کی تفصیل سورة حجر : 18 کے حاشیہ میں گذر چکی ہے۔
Read the full tafseer →کمال کی طرح اس کائنات کی ہر چیز میں جمال بھی مقصود بالذات ہے بلکہ کمال اور جمال ایک ہی حقیقت کے دو نام یا دو پہلو ہیں ، کسی چیز میں کمال ہی اس کی خوبصورتی کا اعلیٰ درجہ ہوتا ہے۔ چناچہ قرآن نے پہلے آسمانوں کی خوبصورتی کی طرف متوجہ کیا اور اس کے بعد کمال کی طرف۔
ولقد .................... بمصابیح (76 : 5) ” اور ہم نے تمہارے قریب کے آسمان کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے “۔ یہ سمائے دنیا کہلاتا ہے۔ شایدہ یہ وہ بلندی ہے جو زمین کے مکان اور قرآن کے مخاطب انسانوں کے فہم کے قریب ہے۔ مصابیح اور چراغوں سے مراد ستارے اور سیارے ہیں جو ہمیں نظر آتے ہیں ، جن انسانوں سے قرآن مخاطب تھا وہ آسمانوں کو…
Read the full tafseer →8 یعنی آسمان کی طرف دیکھو ! رات کے وقت ستاروں کی جگمگاہٹ سے کیسی رونق و شان معلوم ہوتی ہے۔ یہ قدرتی چراغ ہیں جن سے دنیا کے بہت سے منافع وابستہ ہیں۔
9 یہ مضمون سورة " حجر " وغیرہ میں کئی جگہ بہت تفصیل سے گزر چکا ہے۔
10 یعنی دنیا میں تو شہاب پھینکے جاتے ہیں اور آخرت میں ان کے لیے دوزخ کی آگ تیار ہے۔
Read the full tafseer →آیت 5{ وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآئَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ } ”اور ہم نے سب سے قریبی آسمان کو سجا دیا ہے چراغوں سے“
یعنی زمین سے قریب ترین آسمان کو ستاروں سے مزین کردیا گیا ہے۔
{ وَجَعَلْنٰـہَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ } ”اور ان کو بنا دیا ہے ہم نے شیاطین کو نشانہ بنانے کا ذریعہ“
ان ستاروں میں ایسے میزائل نصب کردیے گئے ہیں جو غیب کی خبروں کی ٹوہ میں عالم بالا کی طرف جانے والے شیاطین ِجن کو نشانہ بناتے ہیں۔
{ وَاَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ۔ } ”اور ان کے لیے ہم نے تیار کر رکھا ہے جلا دینے والا عذاب۔“
Read the full tafseer →9 اس کی تشریح کے لئے دیکھئے سورة حجر کی آیت نمبر 17 پر حاشیہ نمبر 9
Read the full tafseer →5۔ شیطانوں کے لئے عذاب جہنم کا تیار رہنا ایک معلوم ومعروف مسئلہ ہے۔ (آیت) ” بمصابیح “۔ مصابیح “۔ سے مراد ستاروں کا ہونا بالکل ظاہر ہے۔ وھی الکواکب التی وضعت فیھا من السیارات والثوابت (ابن کثیر) (آیت) ” و ..... بمصابیح “۔ ستاروں سے ایک بڑی غرض آسمان دنیا کی زینت و آرائش ہے، یہ قرآن مجید میں پہلے بھی بیان ہوچکا ہے۔ (آیت) ” و ...... للشیطین “۔ ستاروں کے رجم شیاطین پر حاشیے پہلے گزر چکے، سورة الحجر (پ 14) سورة الصافات (23) وغیرہ میں۔ آیت کے الفاظ سے یہ لازم نہیں آتا کہ بجنسہ کوئی ستارہ ہی شیطان کو پھینک مارا جاتا ہو، بلکہ جیسا صاحب تفسیر عزیزی نے لکھا ہے ممکن ہے کہ ملائکہ اجزاء ہوا اور بخارات کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، وہ بڑا عالی شان ہے محدثین (مخلوق) کی صفات سے پاک ہے، جس کے قبضہ تصرف میں بادشاہی اور قدرت ہے جس نے دنیا میں موت کو پیدا فرمایا اور حیات کو آخرت میں پیدا فرمایا، دونوں کو دنیا میں پیدا فرمایا چناچہ نطفہ میں حیات ڈالی جاتی ہے، اور حیات وہ ہے کہ جس سے احساس ہوتا ہے، اور موت اس کی ضد ہے یا عدم حیات کا نام موت ہے، یہ دونوں قول ہیں، اور ثانی صورت میں خلق بمعنی تقدیر ہوگا، تاکہ حیات میں تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون شخص عمل میں زیادہ اچھا ہے ؟ یعنی زیادہ فرمانبردار ہے، وہ اپنی نافرمانی کرنے والے سے انتقام لینے میں زبردست ہے اور…
Read the full tafseer →ولقد زینا السما الدنیا . یعنی نچلا آسمان جو زمین سے (بہ نسبت دوسرے آسمان کے) قریب ہے۔
بمصابیح . مصابیح سے مراد ہیں ستارے ‘ یہ تاریکی کے چراغ ہیں ‘ ان سے راستہ مل جاتا ہے۔
یہ آیت بتارہی ہے کہ تمام تارے دنیاوی آسمان میں پیوست ہیں ‘ اس صراحت کے خلاف علماء فلکیات کا قول بےدلیل ہے ‘ ستاروں کی حرکات کے تعدد سے ہر ستارہ کے لیے جدا فلک ہونے پر استدلال کرنا نامکمل ہے۔ جب تک آسمان کا فرق ٗوالیتام (پھٹنا اور جڑنا یعنی عنصری اجسام کی طرح اس کے اندر تو ڑجوڑ ہونا) محال ثابت نہ کردیا جائے اس وقت تک (ضخامت فلک کے اندر ستاروں کی پیوستگی اور سیر کا محال ہونا اور) ہر ستارہ کا خصوصی فلک ہونا ثابت نہیں ہوسکتا۔…
Read the full tafseer →اور ہم نے پہلے آسمان کو ستاروں سے آراستہ کر رکھا ہے اور ہم نے ان ستاروں کو مارنے قتل کرنے اور جلا دینے کا ذریعہ بنا رکھا ہے اور ہم نے شیطانوں کے لیے دوزخ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآئَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ۔۔۔۔۔۔:”الدنیا“ ‘”دنا یدنو“ میں سے ”ادنی“ کی مؤنث ہے ، سب سے قریب ، اگرچہ سات آسمانوں میں سے ہر آسمان خالق کی کاریگری کا عظیم الشان نمونہ ہے ، مگر زمین کے سب سے قریب آسمان کی زینب و حفاظت کا جو اہتمام ہم نے کیا ہے وہ تو کچھ کچھ تمہیں بھی نظر آرہا ہے ، اس کے لیے تو کسی خاص آلے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں ستاروں کے تین فائدے بیان فرمائے ہیں، پہلا فائدہ زینت ہے ، رات کو چھوٹے بڑے لا تعداد ستاروں کے ساتھ آسمان جس قدر مزین ہوتا ہے اور حسین و جمیل نظر آتا ہے اگر ستارے نہ ہوتے تو اتنا ہی بد صورت دکھائی دیتا اور بےزیب ہوتا۔ دوسرا فائدہ روشنی ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ولقد زینا السماء الدنیا بمصابیح، مصابیح، مصباح کی جمع ہے جس کا معنی چراغ ہے۔ ستاروں کو مصابیح کا نام دیا کیونکہ یہ بھی روشن ہوتے ہیں۔ وجعلنھا رجوما ھا ضمیر سے پہلے شھب کا لفظ مخدوف ہے اس کی دلیل الا من خطف الخطفۃ فاتبعہ شہاب ثاقب
(الصافات) ہے۔ اس تاویل کی بنا پر مصابیح نہ زائل ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کے ساتھ رجم کیا جاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ضمیر مصابیح کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اس تاویل کی بنا پر رجم نفس کواکب سے و گا اور کو کب (ستارہ) خود ساقط نہیں ہوتا بلکہ اس سے ایک حصہ جدا ہوتا ہے جس کے ساتھ رجم کیا جاتا ہے نہ اس کی روشنی میں کمی آتی ہے اور نہ ہی اس کی صورت میں کمی واقع ہوتی ہے۔ ابو علی نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
25۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت سبع سموت طباقا اوپر تلے سات آسمان۔ یعنی اس کا بعض، بعض کے اوپر ہے۔
26۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
27۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ماتری فی خلق الرحمن من تفٰوت تو نہیں دیکھے گا رحمن کی پیدائش میں کوئی خلل یعنی اللہ تعالیٰ کی تخلیفق باہم متفاوت نہیں یعنی جدا جدا کرنے والا۔
28 عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ماتری فی خلق الرحمن من تفٰوت میں تفاوت کا معنی ہے اختلاف آیت فارجع البصر ہل تری من فطور تو پھر نگاہ دوڑا کیا تجھے کوئی شگاف دکھائی دیتا ہے یعنی کوئی…
Read the full tafseer →[وَلَقَدْ زَيَّنَا : اور بیشک ہم نے سجایا ہے ][ السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا : نزدیکی (دنیوی) آسمان کو ] بِمَصَابِيْحَ : چراغوں سے ][ وَجَعَلْنٰهَا : اور ہم نے بنایا ان (چراغوں) کو ][ رُجومًا : سنگسار کرنے کے ذرائع ][ لِلشَّـيٰطِيْنِ : شیطانوں کے لیے ][ وَاَعْتَدْنَا لَهُمْ : اور ہم نے تیار کیا ان کے لیے ][ عَذَابَ السَّعِيْرِ : بھڑکتی آگ کا عذاب ]
نوٹ۔ 3: آیت۔ 6 ۔ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہی تارے شیطانوں پر پھینک مارے جاتے ہیں اور یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ شہاب ثاقب صرف شیطانوں کو مارنے ہی کے لیے گرتے ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ تاروں سے جو بیحد و حساب شہاب ثاقب نکل کر کائنات میں انتہائی تیز رفتاری سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
اللہ تعالیٰ کی ذات عالی ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے سارا ملک اسی کے قبضہ قدرت میں ہے اسی نے موت وحیات کو پیدا فرمایا تاکہ تمہیں آزمائے
ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی ذات عالی کی عظمت اور سلطنت اور قدرت اور شان خالقیت بیان فرمائی ہے۔ اول تو یہ فرمایا کہ وہ ذات برتر ہے اور بالا ہے جس کے قبضے میں پورا ملک ہے سارے عالم میں اسی کا راج ہے اسی کی سلطنت ہے اس کی قدرت سے کوئی بھی باہر نہیں۔ سورة ٴ یٰسین میں فرمایا : ﴿ فَسُبْحٰنَ الَّذِيْ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ ﴾ (سو پاک ہے وہ ذات جس کے قبضہ میں ہر چیز کی سلطنت ہے)
دوم یہ فرمایا کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے سوم یہ فرمایا کہ اس نے موت کو اور حیات کو پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
شان عظمت وقدرت خداوندی مع بیان جزائے اہل سعادت وتنبیہ وتہدید براہل شقاوت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” تبرک الذی بیدہ الملک ......... الی ............. عذاب السعیر “۔
(ربط) سورة تحریم کا اختتام اس امر پر تھا کہ دین کی حفاظت کے لئے جہاد مع الکفار ضروری ہے اور ایمان وتقوی ہی انسان کی سعادت و کامیابی کی روح ہے تو اب اس مناسبت سے سورة تبارک الذی کی ابتداء حق تعالیٰ شانہ کی عظمت قدرت کے بیان سے ہورہی ہے اور یہ کہ اہل ایمان اور اہل سعادت کو کیسی کیسی نعمتوں سے نوازا جائے گا اور منکرین واشقیاء کیسے ہولناک عذاب میں مبتلا ہوں گے، اور یہ بھی اشارۃ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر ایک گھر کا سرپرست اپنے اہل خانہ…
Read the full tafseer →6:۔ ” ولقد زینا “ دوسری دلیل عقلی خاص۔ دلیل اول سے بطور ترقی فرمایا کہ آسمانوں کو تو میں نے پیدا کردیا، لیکن کیا پہلے آسمان کو ستاروں سے مزین کسی اور نے کیا ہے ؟ نہیں نہیں یہ بھی ہم ہی نے کیا ہے۔ اسی طرح ” وجعلناھا رجوما للشیاطین “۔ تیسری دلیل عقلی خاص۔ ستاروں کو شیاطین کیلئے رجوم اور ان کی تیز آگ کو ان کے لیے عذاب ہم ہی نے بنایا کیا یہ کام کسی دوسرے کا ہے، ہرگز نہیں، اسی طرح برکات دہندہ بھی کوئی اور نہیں عذاب سعیر سے عذاب جہنم نہیں بلکہ شہاب ثاقب کا عذاب مراد ہے یہ تینوں دلائل آسمانی حالات سے متعلق ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
وجہ تسمیہ اور اکوائف : اس سورة کا نام سورة ملک ہے۔ اس کی پہلی آیت میں لفظ ملک آیا ہے۔ اسی لفظ سے اس سورة کا نام لیا گیا ہے۔ ملک سے مراد اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور حکومت ہے۔ حدیث میں اس سورة کے اور بھی نام آئے ہیں۔ اس کا ایک نام سورة واقیہ ہے یعنی نجات دلانے والی سورة اور بچانے والی۔ اور ایک نام سورة مانعہ یعنی اللہ کے عذاب سے روکنے والی ہے۔ اس کا ایک نام سورة متجیہ ہے عذاب سے نجات دلانے والی ، اور سورة ملک بھی ہے۔ یہ مکی سورة ہے ، ہجرت سے پہلے نازل ہوئی۔ اس میں تیس آیات دو رکوع ، 335 الفاظ اور 1313 حروف ہیں۔
دیکر سورتوں سے مناسبت : یہ سورة اور اس کے بعد والی سورة مکی سورتیں ہیں۔ اس سے پہلی…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰہَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ وَاَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَابَ السَّعِيْرِ 5
( قَدْ )
: حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال…
Read the full tafseer →ترکیب : الدنیا من الدنوبمعنی القرب فھی صفۃ للسماء ای القربیٰ الی الارض من بقیۃ السماوات وھی التی یراھا الناس مصابیح جمع مصباح ارادبھا الکواکب لانھا تضے کا ضاءۃ السرج ففی الکلام استعارۃ تصریحیۃ لأن حقیقۃ المصابیح السرج۔ والباء یتعلق بزینا وجعلنا عطف علی زینا رجوما مفعول ثان لجعلنا والرجوم جمع رجم بالفتح وھو مصدر یرادبہ المرجوم والضمیر المنصوب فی جعلناھا الی المصابیح واللام فی للشیاطین تتعلق یجعلنا وقیل برجوما واعتدنا عطف علی زینا ‘ السعیر قال مبردسعرت النارفھی مسعورۃ وسعیر کقولک مقبولۃ وقبیل۔
تفسیر…تیسرا شاہد : تیسرا شاہد ولقد زینا السماء الدنیا بمصابیح کہ ہم نے نیچے کے آسمان کو (یعنی ساتویں…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآئَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَجَعَلْنٰـھَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَاَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ ۔ (الملک : 5)
(ہم نے قریب کے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کیا ہے، اور انھیں شیاطین کو سنگسار کرنے کا ذریعہ بنادیا ہے اور ان شیاطین کے لیے ہم نے دوزخ کا عذاب تیا ر کر رکھا ہے۔ )
اللہ تعالیٰ کی ذات جلال و جمال کی جامع ہے
گزشتہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کے اظہار کے لیے سات تہ بہ تہ آسمانوں کی تخلیق کا ذکر فرمایا اور پھر اپنی کمال صنعت گری کی طرف توجہ دلائی۔ اس سے پڑھنے اور سننے والے کے دل پر اللہ تعالیٰ کی ذات کی عظمت کا عکس پڑتا اور ہیبت بیٹھ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : پہلے آسمان کی خصوصیت اور خوبصورتی۔
قرآن مجید میں یہ بات کئی مقامات پر بیان ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے آسمان کو ستاروں سے مزّین فرمایا ہے۔ ستاروں کے کئی فائدے ہیں، ان میں سے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ لوگ ستاروں کے ذریعے راستوں کی راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور انہی ستاروں سے آسمان دنیا کی حفاظت کا بندو بست کیا گیا ہے۔ کیونکہ شیاطین آسمان دنیا کے دروازوں کے قریب جا کر ملائکہ کی گفتگو سننا چاہتے ہیں تو ستارے شیاطین پر انگارے بن کر برستے ہیں اس طرح شاتطین پر مستقل طور پر عذاب مسلّط کردیا گیا ہے۔
اس بندوبست سے پہلے شیاطین آسمان کے قریب جا کر ملائکہ کی کچھ نہ کچھ باتیں سن کر…
Read the full tafseer →آسمان میں چراغ :
5 : وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآ ئَ الدُّنْیَا (اور ہم نے قریب کے آسمانوں کو مزین کر رکھا ہے) الدنیاؔ قریبی، یعنی وہ آسمان جو تمہارے
قریب ہے۔ بِمَصَابِیْحَ (ستاروں کے ساتھ) ایسے ستاروں کے ذریعہ جو صبح کی طرح روشن ہیں۔ یہ مصباح کی جمع ہے۔ چراغ کو کہتے ہیں۔ ان کو چراغ اس لئے کہا کیونکہ لوگ اپنی مساجد اور گھروں کو چراغوں کی روشنی سے مزین کرتے ہیں۔ ( اور ان سے آسمان مزین ہے) ایک قول یہ ہے : ہم نے اس گھر کی چھت کو جس میں تم اکٹھے ہو چراغوں سے مزین کردیا۔ ایسے چراغ کہ روشنی میں تمہارے چراغ ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔
وَجَعَلْنٰھَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ (اور ہم نے ان کو شیطانوں کے…
Read the full tafseer →4 ۔” ثم ارجع البصر کر تین “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ایک مرتبہ ایک مرتبہ کے بعد ” ینقلب “ پھرے گی اور لوٹے گی۔ ” الیک البصر خاسئا “ ذلیل جو اس کا مقصد ہوگا اس کو نہ دیکھ سکے گی۔ ” وھو حسیر “ منقطع ہونے والی رات کی طرح نہیں پایا اس کو جو طلب کیا اور کعب (رح) سے روایت کیا گیا ہے انہوں نے فرمایا دنیا کا آسمان موج مکفوف ہے اور دوسرا سفید موتی کا اور تیسرا لوہے کا اور چوتھا زرد رنگ کا ہے اور کہا تانبے کا ہے اور پانچواں چاندی کا اور چھٹاسونے کا اور ساتواں سرخ یا قوت کا اور ساتویں آسمان سے ساتویں حجاب تک نور کے صحراء ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ 5۔ سورة زحرف میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیاکا چند روزہ انتظام اس طرح فرما دیا ہے کہ کسی کو بادشاہ کیا ہے کسی کو رعیت اور ایک کی ضرورت دوسرے سے لگا دی ہے مثلاً رعیت کے لوگ کھیتی کرکے بادشاہ کو محصول دیتے ہیں فوج کے لوگ ضرورت کے وقت بادشاہ کی طرف سے لڑتے ہیں لکھنے پڑھنے والے لوگ بادشاہ کے دفتری کاموں کو انجام دیتے ہیں۔ اس طرح کے سب کاموں میں بادشاہ کی ضرورتیں رعیت اور نوکروں سے متعلق ہیں۔ کھیتی کے لئے زمین کے ملنے کی رعیت کی ضرورت خرچ کے لئے تنخواہ کے ملنے کی ضرورت فوج اور قسم کے نوکروں کی ضرورتیں بادشاہ سے متعلق ہیں یہ سب کچھ ہے مگر بادشاہ اور رعیت سب پر اصل بادشاہی خدا تعالیٰ کی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
یعنی ہم نے جمال بخشا (السماء الدنیا) دنیا کے آسمان کو، جسے تم دیکھ رہے ہو اور جو تمہارے قریب اور متصل ہے (بمصابیح) ، چراغوں کے ساتھ، اس سے مراد مختلف اقسام کی روشنیاں رکھنے والے ستارے ہیں کیونکہ اگر آسمان میں ستارے نہ ہوتے تو یہ ایک تاریک چھت ہوتی جس میں کوئی حسن و جمال نہ ہو، مگر اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کو آسمان کی زینت، حسن و جمال اور راہ نمایاں جن کے ذریعے سے بحروبر میں راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر کہ اس نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کیا، اس امر کے منافی نہیں کہ بہت سے ستارے ساتوں آسمانوں کے اوپر ہوں کیونکہ آسمان شفاف ہوتے ہیں اور اگر آسمان دنیا پر ستارے نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
10 زینت آسمانی اور اس میں سامان غور و فکر کا ذکر وبیان : سو آسمان دنیا کی تزئین قدرت کی رحمت و عنایت اور اس کی قدرت و حکمت کا ایک اور عظیم الشان شاہکار ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور ہم ہی نے مزین کیا قریب کے آسمان کو عظیم الشان چراغوں سے۔ اور ایسے عظیم الشان چراغوں سے کہ ان کی دوسری کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں ہوسکتی ‘ اور ظاہر ہے کہ ان بےحد و حساب ‘ روشن و چمکدار ‘ تاروں کو پیدا کرنا اور ان کو اس پر حکمت طریقے سے اس نیلگوں آسمان میں اس طرح نصب کردینا ‘ اس قادر مطلق کی قدرت بےپایاں کے سوا اور کس کا کام ہوسکتا ہے ؟ سبحانہ و تعالیٰ سو آسمان دنیا (قریب کے آسمان) کے ان عجائب کا مشاہدہ نسبتاً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
اللہ بادشاہوں کا بادشاہ ہے
تشریح : جیسا کہ سورت کے نام سے ظاہر ہے ” ملک “ مطلب ہے بادشاہی۔ دنیا کا نظام بناتے ہوئے جس حکمت کا اندازہ ہوتا ہے وہ کسی بندے بشر کے بس کی بات نہیں۔ جب ہم اس کی تخلیقات کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی رحمت اور برکت کا بھی کوئی شمار نہیں اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی تخلیقات سے نہ تو غافل ہے اور نہ ہی لاعلم ” اس کو ہر چیز کا علم ہے اور وہ مہربانیوں کا رحمتوں اور برکتوں کا سرچشمہ ہے۔ موت اور زندگی کسی کے اختیار میں ہرگز کسی صورت بھی نہیں یہ مرحلہ بھی بڑا غور طلب ہے۔ موت ختم ہوجانے کا نام نہیں بلکہ یہ دوسری دنیا میں داخل ہونے کا ایک ذریعہ ہے جیسے زندگی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
آیات 1 تا 14۔
اسرار ومعارف۔
بہت ہی بابرکت ہے وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں ہے سلطنت و حکومت کہ حقیقی حکومت اسی کو سزوار ہے جو ہر چیز پر قادر ہے۔
صفات باری تعالیٰ جو اس کی حکومت پر دلالت کرتے ہیں۔
اول اس کا موجود ہوناہمیشہ سے ہمیشہ کے لیے دوم اس کا صفات کمال کا مالک ہونا سوم اس کا ہر چیز پر قادر ہونا اور چہارم ہر چیز کا خالق ہونا حتی کہ موت وحیات کا بھی ، وہی ذات ہے جس نے پیدا فرمایا موت کو اور حیات کو کہ تمہاری آزمائش ہوسکے کہ کون تم میں سے نیک عمل کرتا ہے اور وہ بھی ہے زبردست اور بخشنے والا بھی۔
موت اور اس کی اقسام۔
زندگی ایک حال ہے اور مخلوق ہے اسی طرح حیا تکے تعلق کو بدن سے الگ کرنا بھی ایک…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی ان سے شعلے نکلتے ہیں جو شیطانوں پر پھینکے جاتے ہیں تاکہ وہ آسمان میں ” ملاء اعلیٰ “ کی گفتگو سن کر غیب سے متعلق کوئی بات اچک نہ سکیں۔ یہ آسمان میں ستاروں کا دوسرا فائدہ ہے۔ (دیکھیے صافات 7) واضح رہے کہ مصابیح مصباح کی جمع ہے اور اس سے مراد روش ستارے ہیں عام اس سے کہ وہ سیارے ہوں یا ثوابت کیونکہ سب اپنے افلاک اور مجاری میں ہیں۔ سلف کے ہاں معروف یہ ہے کہ سماء اور فلک ایک نہیں ہیں ان کو ایک کہنا صرف ان لوگوں کا قول ہے جنہوں نے متقدمین فلاسفہ اور شریعت کے نظریات کو مع کرنے کی کوشش کی یہ۔9 یعنی آخرت میں انہیں (شیاطین) کو دوزخ کا عذاب دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →(67:5) ولقد زینا السماء الدنیا بمصابیح : واؤ عاطفہ لقد میں لام تاکید کا اور قد ماضی پر داخل ہو کر تحقیق کا فائدہ دیتا ہے اور فعل ماضی کو حال سے قریب کردیتا ہے۔ زینا ماضی جمع متکلم تزیین (تفعیل) مصدر۔ ہم نے زینت دی۔ ہم نے سنوارا۔ ہم نے آراستہ کیا۔ السماء موصوف الدنیا صفت، موصوف و صفت مل کر زینا کا مفعول الدنیا۔ دانیۃ اور دنیۃ کا اسم تفضیل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ اول صورت میں اس کے معنی بہت قریب اور نزدیک کے ہیں اور دوسری صورت میں بہت ذلیل اور بہت حقیر کے معنی ہیں۔ اس کی جمع دنی ہے جیسے کبری کی جمع کبر اور صغری کی جمع صغر ہے۔ جب دنیا کا استعمال آخرت کے مقابلے میں ہوتا ہے تو اس کے معنی اول اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
لغات القرآن۔
تبرک۔ برکت والا۔ ید۔ ہاتھ۔ یبلوا۔ وہ آزماتا ہے۔ ایکم۔ تم میں کون۔ احسن عملا۔ عمل کے اعتبار سے زیادہ بہتر۔ طباقا۔ ایک پر ایک۔ تفوت۔ فرق ۔ ارجع۔ لوٹالے۔ فطور (فطر) ۔ شگاف۔ دراڑ۔ کرتین۔ بار بار۔ ینقلب۔ پلٹ کر آئے گا۔ خاسئا۔ ذلیل و رسوا۔ حسیر۔ تھکا ماندہ۔ مصابیح (مصباح) ۔ چراغ۔ رجوما۔ مارنے کی چیز۔ القوا۔ ڈالے گئے۔ سمعوا۔ انہوں نے سنا۔ شھیقا۔ زبردست ڈرائونی آواز۔ دھاڑنا۔ تفور۔ جوش مارتی ہوگی۔ تکار۔ قریب ہے۔ تمیز۔ پھٹ پڑے گی۔ الغیظ۔ غصہ۔ فوج۔ جماعت۔ گروہ۔ سال۔ اس نے پوچھا۔ خزنۃ۔ حفاظت کرنے والا۔ نگران۔ لوکنا۔ اگر ہم ہوتے۔ اعترفوا۔ انہوں نے اقرار کیا۔ سحقا۔ دور دور۔ اسروا۔ تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
خدا کا حقیقی بادشاہ ہونا، حاکمیت اعلی اور دنیوی بادشاہوں میں فرق ۔
(ف 1) سورة زخرف میں گذرچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کا چند روزہ انتظام اس طرح فرمادیا ہے کہ کسی کو بادشاہ کیا کسی کو رعیت ، اور ایک کی ضرورت دوسرے لگادی ، مثلا رعیت کے لوگ کھیتی کرکے بادشاہ کو محصول دیتے ہیں، فوج کے لوگ ضرورت کے وقت بادشاہ کی طرف سے لڑتے ہیں لکھنے پڑھنے والے لوگ بادشاہ کے دفتری کاموں کا انجام دیتے ہیں، جس طرح ان کاموں میں بادشاہ کی ضرورتیں رعیت اور نوکروں سے متعلق ہیں اسی طرح کھیتی کے لیے زمین کے ملنے کی رعیت کی ضرورت خرچ کے لیے تنخواہ کے ملنے کی ضرورت ، فوج اور قسم کے نوکروں کی ضرورتیں بادشاہ سے متعلق ہیں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
[2] یعنی وہ آسمان جو زمین کی طرف سب سے زیادہ قریب ہے اور ہمیں نظر آتا ہے۔
[3] یہ مضمون سورة حجر آیت 18 صفحہ 588 اور سورة صافات آیت 6 تا 10 صفحہ 1046 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
ف 2: جس طرح زندگی ایک ایجابی حقیقت کا نام ہے ۔ اسی طرح موت بھی صرف عناصر کا پریشان ہونا نہیں ۔ بلکہ ایک مثبت شئے ہے ۔ جو خدا کے قبضہ قدرت میں ہے ۔ اور ان دونوں حقیقتوں پر عالم کون و فساد کی بنیادیں استوار ہیں ۔ فرمایا ۔ کہ اس مقام حیات وممات کی غرض اور غایت یہ ہے ۔ کہ زندگی کو موت پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔ اور انسان اپنے حسن عمل سے یہ ثابت کردے ۔ کہ یہ اللہ کا نائب ہے ۔ اور شجروحجر کی طرح زندگی پسند نہیں کرتا ۔ اس کے بعد کارگاہ حکمت کی طرف انسانی ذہن کو متصف کیا ہے کہ اس میں تمام قسم کی ضروریات کو مہیا کردیا گیا ہے ۔ خواہ کتنا ہی باریک بین انسان ہو جب اس پر غور کریگا ۔ تو اس میں کوئی…
Read the full tafseer →(5) اور ہم نے آسمان دنیا یعنی ورلے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کررکھا ہے اور ہم نے ان چراغوں کو شیاطین کے مارنے کا ذریعہ بھی بنایا ہے اور ہم نے ان شیاطین کے لئے دوزخ کا عذاب تیار کررکھا ہے - آسمان دنیا ورلا آسمان اس میں تارے نظر آتے ہیں جو رات میں چراغوں کی طرح چمکتے ہیں۔ رات کی تاریکی میں دیکھنے والوں کو بھلے معلوم ہوتے ہیں زمین کی مخلوق کے ہزاروں منافع ان تاروں سے وابستہ ہیں تری اور خشکی کے راستوں کا پتہ ، مغرب، مشرق، شمال، جنوب کا معلوم ہونا، پھولوں کا رنگ پھولوں کی رنگت پھلوں کا رنگ اور خدا جانے ان تاروں کے کیا کیا اثرات ہیں جو حکماء اور فلاسفر یا کاشتکار اور باغبان جانتے ہیں۔ قرآن سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
ف 5۔ یعنی وہ جس چیز کو جیسا چاہے بنا سکتا ہے، چناچہ آسمان کو مضبوط بنانا چاہا تو کیسا بنایا کہ باوجود مرور زمان دراز اب تک اس میں کوئی خلل نہیں آیا، اسی طرح کسی شے کو ضعیف و منفعل بنادیا، غرض اس کو ہر طرح قدرت ہے۔
Read the full tafseer →آسمان دنیا کو ستاروں سے مزین کرنے کا بیان اور شیاطین کو روکنے کی وضاحت
5 ؎ قرآن کریم کے نظریہ کے مطابق جب سات آسمان ہیں تو ان میں ایک کا نام آسمان دنیا رکھا گیا ہے اس لئے کہ یہ اس دنیا میں رہنے والوں کی حد نظر کا آخر ہے اور زیر نظر آیت میں بیان کیا جا رہا ہے کہ ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے زینت دی ہے اور یہ زینت تم کو تمہاری آنکھوں سے واضح نظر آرہی ہے کیونکہ یہی وہ آسمان ہے جو ہماری نظروں کے قریب تر ہے اور اس کو آسمان اول بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے اندر قندیلوں کی طرح لٹکتے اور سیر کرتے کروڑوں کی تعداد میں ستارے نظر آ رہے ہیں اور جب سے انسان نے اس دنیا میں قدم رکھا ہے اور ان کو جس طرح وہ گردش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–14
وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِّلشَّيَاطِينِ (And We have decorated the nearest sky with lamps, and have made them devices to stone the devils, and We have prepared for them the punishment of Hell....67:5). The word 'masabih' (translated above as 'lamps' ) stands for 'stars'. The fact that the sky is decorated with stars does not necessarily imply that they should be studded with them inside or under the sky. The decoration is available also to the situation when the stars are far below the sky in space as modern research has proved it by…
Read the full tafseer →9 "The nearest heaven": the heaven the stars and planets of which can be seen with the naked eye; the objects beyond that which can be seen only through telescopes are the distant heaven; and the heavens still farther away are those which have not yet been seen even with telescopes.
10 The word masabih in the original has been used as a common noun, and therefore, automatically gives the meaning of the lamp's being splendid and glorious. It means: "We have not created this universe dark, dismal and desolate, but have decked and decorated it with stars, the glory and grandeur of which at night…
Read the full tafseer →