Explained with ayahs 1–5
بہتر عمل کی آزمائش کا نام زندگی ہے
اللہ تعالیٰ اپنی تعریف بیان فرما رہا ہے اور خبر دے رہا ہے کہ تمام مخلوق پر اسی کا قبضہ ہے جو چاہے کرے۔ کوئی اس کے احکام کو ٹال نہیں سکتا اس کے غلبہ اور حکمت اور عدل کی وجہ سے اس سے کوئی باز پرس بھی نہیں کرسکتا وہ تمام چیزوں پر قدرت رکھنے والا ہے۔ پھر خود موت وحیات کا پیدا کرنا بیان کر رہا ہے، اس آیت سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے جو کہتے ہیں کہ موت ایک وجودی امر ہے کیونکہ وہ بھی پیدا کردہ شدہ ہے، آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمام مخلوق کو عدم سے وجود میں لایا تاکہ اچھے اعمال والوں کا امتحان ہوجائے جیسے اور جگہ ہے آیت (كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
سورة الْمُلْک 6
تشریح کے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، البقرہ، حاشیہ 34۔ جلد دوم، الرعد، حاشیہ 2۔ الحجر، حاشیہ 8۔ جلد سوم، الحج، حاشیہ 113۔ المومنون، حاشیہ 15۔ جلد چہارم، الصافات، حاشیہ 5، المومن، حاشیہ 90۔
سورة الْمُلْک 7
اصل میں تفاوت کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کے معنی ہیں، عدم تناسب۔ ایک چیز کا دوسری چیز سے میل نہ کھانا۔ انمل بےجوڑ ہونا۔ پس اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ پوری کائنات میں تم کہیں بد نظمی، بےترتیبی اور بےربطی نہ پاؤ گے۔ اللہ کی پیدا کردہ اس دنیا میں کوئی چیز انمل بےجوڑ نہیں ہے۔ اس کے تمام اجزاء باہم مربوط ہیں اور ان میں کمال درجے کا تناسب پایا جاتا ہے۔
سورة الْمُلْک 8
اصل میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(آیت) فَارْجِعِ الْبَصَرَ ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ ، اس آیت سے ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا والے آسمان کو آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ نیلگوں فضا جو دکھائی دیتی ہے یہی آسمان ہو بلکہ ہوسکتا ہے آسمان اس سے بہت اوپر ہو اور یہ نیلگوں رنگ ہوا اور فضا کا ہو جیسا کہ فلاسفہ کہتے ہیں مگر اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ آسمان انسان کو نظر ہی نہ آئے، ہوسکتا ہے کہ یہ نیلگوں فضا شفاف ہونے کے سب اصل آسمان کو جو اس سے بہت اوپر ہے دیکھنے میں مانع نہ ہو اور اگر کسی دلیل سے یہ ثابت ہوجائے کہ دنیا میں رہتے ہوئے آسمان کو آنکھ سے نہیں دیکھا جاسکتا تو پھر اس آیت میں رویت سے مراد رویت عقلی یعنی غرو…
Read the full tafseer →اتمام حجت کے لیے پھر دعوت دی کہ ایک ہی بار نہیں بلکہ باربار ناقدانہ نگاہ دوڑاؤ، تمہاری نگاہ تھک کر واپس آ جائے گی لیکن کہیں کوئی نقص یا خلل نہیں پا سکے گی۔ مطلب یہ ہے کہ جس خدا کی یہ بے مثال قدرت و حکمت اپنے سروں پر اس طرح پھیلی ہوئی دیکھتے ہو کہ نہ تم اس کا احاطہ کر سکتے اور نہ اس میں کوئی معمولی سے معمولی نقص ڈھونڈھ سکتے اس کے لیے وہ کون سا کام ہے جو دشوار ہو سکتا ہے؟ کیا مرکھپ جانے کے بعد تم کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا اور جزا اور سزا دینا یا تم کو کسی آفت ارضی و سماوی سے چشم زدن میں یہیں تباہ کر دینا اس آسمان کے پیدا کر دینے سے زیادہ مشکل کام ہے؟
Read the full tafseer →4۔ 1 یہ مذید تاکید ہے کہ جس سے مقصد اپنی عظیم قدرت اور وحدانیت کو واضح تر کرنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
2: چراغوں سے مراد ستارے اور اجرام فلکی ہیں جو رات کے وقت سجاوٹ کا بھی ذریعہ بنتے ہیں، اور ان سے شیطانوں کو مارنے کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ شیطانوں کو مارنے کی تفصیل سورة حجر : 18 کے حاشیہ میں گذر چکی ہے۔
Read the full tafseer →ثم ارجع البصر کرتین (76 : 4) ” بار بار نگاہ دوڑاﺅ“۔ شاید کوئی چیز دیکھنے سے رہ گئی ہو ، اور تم معلوم نہ کرسکے ہو ، لہٰذا پھر بھی نگاہ ڈالو۔
ینقلب .................... حسیر (76 : 4) ” تمہاری نگاہ تھک کرنا مراد پلٹ آئے گی “۔ یہاں چیلنج یہ ہے کہ ان آسمانوں اور اللہ تمام کی تمام مخلوقات کو ذرا گہری نظر سے دیکھو ، اس کائنات کا سنجیدہ مطالعہ کرو ، اور اس میں تامل و تدبر کرو ، اور اس چیز اور اس صفت ہی کو دراصل قرآن کریم انسانوں میں عام کرنا چاہتا ہے کہ تم اس کائنات کا گہرا مشاہدہ کرو۔ یہ کائنات دراصل بہت عجیب و غریب اور نہایت ہی خوبصورت ہے اور اس کے اندر معجزات و کمالات موجود ہیں لیکن ہم اس کے اندر…
Read the full tafseer →7 یعنی ممکن ہے ایک آدھ مرتبہ دیکھنے میں نگاہ خطا کر جائے، اس لیے پوری کوشش سے بار بار دیکھ، کہیں کوئی رخنہ تو دکھائی نہیں دیتا خوب غور و فکر اور نظر ثانی کر کہ قدرت کے انتظام میں کہیں انگلی رکھنے کی جگہ تو نہیں۔ یاد رکھ ! تیری نگاہ تھک جائے گی اور ذلیل و درماندہ ہو کر واپس آجائے گی۔ لیکن خدائی مصنوعات و انتظامات میں کوئی عیب و قصور نہ نکال سکے گی۔
Read the full tafseer →آیت 4{ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَـیْکَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّہُوَ حَسِیْرٌ۔ } ”پھر لوٹائو نگاہ کو بار بار کوئی رخنہ ڈھونڈنے کے لیے ‘ پلٹ آئے گی نگاہ تمہاری طرف ناکام تھک ہار کر۔“
اندازہ کیجیے کہ کس قدر ُ پرزور اسلوب ہے اور کتنا بڑا چیلنج ہے ! بار بار دیکھو ‘ ہر پہلو اور ہر زاویے سے دیکھو ! اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تمہیں کہیں کوئی خلل ‘ نقص یا رخنہ نظر نہیں آئے گا ! ظاہر ہے یہ چیلنج پوری انسانیت کے لیے ہے اور قیامت تک کے لیے ہے۔ بہرحال آج تک کوئی سائنس دان اور کوئی دانشور اس چیلنج کا جواب نہیں دے سکا۔ گویا اب تک پوری نوع انسانی اس نکتے پر متفق ہے کہ یہ کائنات اور اس کی…
Read the full tafseer →8 یعنی انسان کو بار بار اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اگر تم اللہ کی ہستی، اس کے تصرف اور اس کے علیم و حکیم ہونے میں کچھ شک رکھتے ہو تو بتاؤ کہ اس کائنات کے نظام میں فلاں نقص باقی رہ گیا ہے۔ بار بار آسمانوں کی طرف نظر دوڑاؤ اور غور و فکر کرکے اس نظام میں کوئی عیب تلاش کرنے کی کوشش کرو تم دیکھ دیکھ کر اور غور و فکر کر کرکے عاجز رہ جاؤ گے مگر تمہیں ایسا کوئی عیب یا نقص نظر نہیں آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
4۔ (اے مخاطب ! ) آیت سے مقصود آسمانوں کی تعداد یاہیئت یا جمود وغیرہ کا بیان کرنا نہیں بلکہ مقصود حق تعالیٰ کا فاطر کائنات کے کمال صناعی وصنعت گری کا اظہار ہے۔ آسمان، اس کی ماہیت و حقیقت جو کچھ بھی ہو۔ بہرحال حسن صنعت کا بہترین وکامل ترین نمونہ ہے، ہر عیب، ہر نقص سے پاک، تو جب اس مخلوق اعظم کا یہ حال ہے تو اور ساری مخلوق اس سے تو فروتر ہی ہے۔ ان کا اتنا مرتب و محفوظ اور حسین و جمیل رکھنا اس کے لئے کیا دشوار ہے۔ آیت منکرین صنعت باری کے لئے ایک چیلنج ہے کہ ہر مخلوق کو چھان بین کر خوب غور سے دیکھ لیں کسی میں کوئی بات خلاف حکمت نہ پائیں گے۔ (آیت) ” فارجع البصر “۔ محققین نے کہا ہے کہ یہ پہلی نظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، وہ بڑا عالی شان ہے محدثین (مخلوق) کی صفات سے پاک ہے، جس کے قبضہ تصرف میں بادشاہی اور قدرت ہے جس نے دنیا میں موت کو پیدا فرمایا اور حیات کو آخرت میں پیدا فرمایا، دونوں کو دنیا میں پیدا فرمایا چناچہ نطفہ میں حیات ڈالی جاتی ہے، اور حیات وہ ہے کہ جس سے احساس ہوتا ہے، اور موت اس کی ضد ہے یا عدم حیات کا نام موت ہے، یہ دونوں قول ہیں، اور ثانی صورت میں خلق بمعنی تقدیر ہوگا، تاکہ حیات میں تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون شخص عمل میں زیادہ اچھا ہے ؟ یعنی زیادہ فرمانبردار ہے، وہ اپنی نافرمانی کرنے والے سے انتقام لینے میں زبردست ہے اور…
Read the full tafseer →ثم ارجع البصر کر تین . اس جملہ کا عطف فارجع پر ہے اور تثنیہ (یعنی لفظ کر تین جو کرۃٌ کا تثنیہ ہے)
تکثیر کے لیے ہے (صرف دو مرتبہ دیکھنا مراد نہیں ہے بلکہ) بار بار دیکھنا مراد ہے جیسے لفظ لبیک میں (صرف دو مرتبہ حاضری مراد نہیں بلکہ بکثرت حاضری مراد ہے) ۔
ینقلب . ب ساکن ہے یہ (ارجع) امر کا جواب ہے۔
الیک البصر خاسئا . دھتکاری ہوئی خاسئی کا معنی ہے ناکام ‘ نامراد ‘ ذلت اور حقارت کے ساتھ دور پھینکا ہوا۔
وھو حسیر . ینقلب کے فاعل یعنی لبصر کا پہلا حال خاسئا تھا۔ یہ دوسرا حال ہے حسیر کا معنی ہے ماندہ یعنی
بار بار دیکھنے سے تھکی ہوئی۔
بغوی نے کعب کا قول نقل کیا ہے کہ نچلا دنیوی آسمان موج بستہ ہے (یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(3۔ 4) اس نے سات آسمان اوپر نیچے پیدا کیے کہ ان میں ایک دوسرے کے ساتھ لٹکا ہوا ہے، محمد آپ آسمانوں کے اس پیدا کرنے میں کوئی نقص نہ دیکھیں گے، اے دیکھنے والے تو آسمان کی طرف ایک مرتبہ نگال ڈال کر دیکھ لے کہیں آپ کو کوئی نقص نظر آتا ہے۔
پھر بار بار نگاہ ڈال کر دیکھ آخر کار نگاہ ذلیل درماندہ ہو کر تیری طرف لوٹ آئے گی۔
Read the full tafseer →ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ۔۔۔۔۔:”کر تین“ کا لفظی معنی دو مرتبہ ہے ، مگر یہاں مراد صرف دو مرتبہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ (دوبارہ غور کرنے سے بھی کوئی خلل نہ ملے تو) بار بار دیکھ ! جیسا کہ ”لبیک“ کا لفظ تثنیہ ہے مگر اس کا معنی یہ نہیں کہ ”میں دو دفعہ حاضر ہوں“ بلکہ یہ ہے کہ ”میں بار بار حاضر ہوں“۔”خاسئاً“ کسی چیز کو طلب کرنے والا جو اس سے دور ہٹا دیا جائے۔”حسیر“ جو تھک کر عاجز رہ جائے۔ بار بار دیکھنے کا حکم ان کی بےبسی واضح کرنے کے لیے ہے۔
Read the full tafseer →ثم ارجع البصر کزتین، کرتین مفعول مطلق ہے کیونکہ اس کا معنی دو بار لوٹنا ہے۔ معنی یکے بعد دیگرے۔ دو دفعہ دیکھنے کا حکم دیا کیونکہ انسان جب کسی چیز کو ایک دفعہ دیکھتا ہے تو اس کا عیب نہیں پاتا جب تک دوسری دفعہ اسے نہ دیکھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی اگرچہ دو دفعہ دیکھا تب بھی کوئی عیب نہ پایا بلکہ دیکھنے کے ساتھ متحیر ہوگئے اسی وجہ سے فرمایا : ینقلب الیک البصر خاسا یعنی آنکھ لوٹے گی جھکی ہوئی درماندہ اور کوئی عیب پانے سے دور۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : خسأت القلب تو نے اسے دور کردیا اور دخا الکلب بنفسہ کتنا خود دور ہوگیا۔ یہ متعدی اور غیر متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے انخسأ الکلب یہ جملہ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
25۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت سبع سموت طباقا اوپر تلے سات آسمان۔ یعنی اس کا بعض، بعض کے اوپر ہے۔
26۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
27۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ماتری فی خلق الرحمن من تفٰوت تو نہیں دیکھے گا رحمن کی پیدائش میں کوئی خلل یعنی اللہ تعالیٰ کی تخلیفق باہم متفاوت نہیں یعنی جدا جدا کرنے والا۔
28 عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ماتری فی خلق الرحمن من تفٰوت میں تفاوت کا معنی ہے اختلاف آیت فارجع البصر ہل تری من فطور تو پھر نگاہ دوڑا کیا تجھے کوئی شگاف دکھائی دیتا ہے یعنی کوئی…
Read the full tafseer →[ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ : پھر تو لوٹا بصارت کو ][ كَرَّتَيْنِ : دوبارہ ][ يَنْقَلِبْ اِلَيْكَ الْبَصَرُ : تو پلٹ آئے گی تیری طرف بصارت ][ خَاسِئًا : تھکی ماندی ہوتے ہوئے ][ وَّهُوَ حَسِيْرٌ: اس مال میں کہ وہ ناکام ہوگی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
اللہ تعالیٰ کی ذات عالی ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے سارا ملک اسی کے قبضہ قدرت میں ہے اسی نے موت وحیات کو پیدا فرمایا تاکہ تمہیں آزمائے
ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی ذات عالی کی عظمت اور سلطنت اور قدرت اور شان خالقیت بیان فرمائی ہے۔ اول تو یہ فرمایا کہ وہ ذات برتر ہے اور بالا ہے جس کے قبضے میں پورا ملک ہے سارے عالم میں اسی کا راج ہے اسی کی سلطنت ہے اس کی قدرت سے کوئی بھی باہر نہیں۔ سورة ٴ یٰسین میں فرمایا : ﴿ فَسُبْحٰنَ الَّذِيْ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ ﴾ (سو پاک ہے وہ ذات جس کے قبضہ میں ہر چیز کی سلطنت ہے)
دوم یہ فرمایا کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے سوم یہ فرمایا کہ اس نے موت کو اور حیات کو پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
شان عظمت وقدرت خداوندی مع بیان جزائے اہل سعادت وتنبیہ وتہدید براہل شقاوت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” تبرک الذی بیدہ الملک ......... الی ............. عذاب السعیر “۔
(ربط) سورة تحریم کا اختتام اس امر پر تھا کہ دین کی حفاظت کے لئے جہاد مع الکفار ضروری ہے اور ایمان وتقوی ہی انسان کی سعادت و کامیابی کی روح ہے تو اب اس مناسبت سے سورة تبارک الذی کی ابتداء حق تعالیٰ شانہ کی عظمت قدرت کے بیان سے ہورہی ہے اور یہ کہ اہل ایمان اور اہل سعادت کو کیسی کیسی نعمتوں سے نوازا جائے گا اور منکرین واشقیاء کیسے ہولناک عذاب میں مبتلا ہوں گے، اور یہ بھی اشارۃ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر ایک گھر کا سرپرست اپنے اہل خانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
5:۔ ” الذی خلق “ یہ پہلی دلیل عقلی خاص ہے۔ ” طباقا “ تہ بہ تہ، یہ قید مدار کلام ہے جیسا کہ علم معانی میں مذکور ہے کہ مدار کلام قید زائد پر ہوتا ہے۔ ” تفاوت “ اختلاف اور عدم تناسب (روح) ۔ ” فطور “ شگاف۔ ” خاسئ “ ناکام، عاجز۔ ” حسیر “ تھکی ہوئی۔ حاصل یہ کہ اوپر آسمانوں کو دیکھو ہم ہی نے ان کو تہ بہ تہ پیدا کیا۔ جو خوبی صنعت میں برابر ہیں، ان کی طرف بار بار غور سے دیکھو کیا کہیں کوئی شگاف نظر آتا ہے ؟ جتنی بار پھر دیکھو گے تمہاری نگاہیں تھک ہار کر واپس آجائیں گی مگر ہماری صنعت میں انہیں کوئی عیب نظر نہیں آئیگا اس سے معلوم ہوا کہ برکات دہندہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے یہ سب کچھ ہمارے لیے پیدا فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
وجہ تسمیہ اور اکوائف : اس سورة کا نام سورة ملک ہے۔ اس کی پہلی آیت میں لفظ ملک آیا ہے۔ اسی لفظ سے اس سورة کا نام لیا گیا ہے۔ ملک سے مراد اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور حکومت ہے۔ حدیث میں اس سورة کے اور بھی نام آئے ہیں۔ اس کا ایک نام سورة واقیہ ہے یعنی نجات دلانے والی سورة اور بچانے والی۔ اور ایک نام سورة مانعہ یعنی اللہ کے عذاب سے روکنے والی ہے۔ اس کا ایک نام سورة متجیہ ہے عذاب سے نجات دلانے والی ، اور سورة ملک بھی ہے۔ یہ مکی سورة ہے ، ہجرت سے پہلے نازل ہوئی۔ اس میں تیس آیات دو رکوع ، 335 الفاظ اور 1313 حروف ہیں۔
دیکر سورتوں سے مناسبت : یہ سورة اور اس کے بعد والی سورة مکی سورتیں ہیں۔ اس سے پہلی…
Read the full tafseer →ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ اِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِـئًا وَّہُوَحَسِيْرٌ 4
انقلاب
قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه،
والِانْقِلابُ : الانصراف، قال : انْقَلَبْتُمْ عَلى أَعْقابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلى عَقِبَيْهِ [ آل عمران/ 144] ، وقال : إِنَّا إِلى رَبِّنا مُنْقَلِبُونَ [ الأعراف/ 125]
( ق ل ب ) قلب
الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں
الانقلاب
کے معنی پھرجانے کے ہیں ارشاد ہے ۔ انْقَلَبْتُمْ عَلى أَعْقابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلى عَقِبَيْهِ [ آل عمران/ 144] تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ ( یعنی مرتد ہوجاؤ ) وَمَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترکیب : تبارک تفاعل من البرکۃ وھی النماء والزیاوۃ حسیۃ کانت او عقلیۃ وکثرۃ الخیر ودوامہ ایضا وصیغۃ التفاعل للمبالغۃ فی ذلک الملک مبتداء بیدہ خبرو الجملۃ صلۃ الذی وھو فاعل تبارک وھو علی کل شیئٍ قدیر الجملۃ معطوفۃ علی الصلۃ مقررۃ لمضمونھا لیبلوکم واللام متعلقہ بخلق (ایکم مبتدائ) احسن عملا خبرہ والجملۃ واقعۃ موقع المفعول ثانیا لفعل البلویٰ المتضمن معنی العلم الذی خلق سبع سمٰوات قیل ھو لغت للعزیز الغفور اوبیان اوبدل والاوجہ انہ نصب اور فع علی المدح متعلق بالموصومین السابقین وان کان منقطعا عنھما اعرابا۔ طباقا صفۃ سبع سمٰوات ای مطابقۃ علی انہ مصدر وصف بہ المفعول اومصدر موکد لمحذوف ھو صف تھا ای…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ط مَاتَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ ط فَارْجِعِ الَبَصَرَ لا ھَلْ تَرٰی مِنْ فُطُوْرٍ ۔ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْکَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّھُوَ حَسِیْرٌ۔ (الملک : 3، 4)
(جس نے بنائے سات آسمان تہ بہ تہ، تم رحمن کی تخلیق میں کوئی خلل نہیں پائو گے، پس نگاہ دوڑائو، کیا تمہیں کہیں کوئی نقص نظر آتا ہے۔ پھر بار بار نگاہ دوڑائو، تمہاری نگاہ تھک کر نامراد پلٹ آئے گی۔ )
اللہ تعالیٰ کی قدرت و عظمت کے مظاہر
پہلی آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی طرف اشارہ فرمایا تھا۔ اس آیت میں اس کا مشاہدہ کرنے کی دعوت دی گئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
فہم القرآن
ربط کلام : جس بابرکت ذات کے ہاتھ میں کائنات کی بادشاہی ہے اور جس نے موت وحیات کو پیدا کیا ہے اسی نے اوپر تلے سات آسمان بنائے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں زمین و آسمانوں کی تخلیق کا کئی مرتبہ ذکر فرمایا ہے۔ ان کے لیے کبھی ” جَعَلَ “ کا لفظ استعمال کیا اور کبھی ” خَلَقَ “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ مفہوم کے اعتبار سے دونوں الفاظ کا ایک ہی معنٰی بنتا ہے۔ لیکن موقع محل کے مطابق ان کے استعمال میں بڑی لطافت پائی جاتی ہے۔ کبھی زمین و آسمانوں کی تخلیق اور بناوٹ کا بیک وقت ذکر کیا اور کبھی دونوں کا الگ الگ بیان کیا ہے۔ یہاں صرف آسمانوں کی تخلیق کا ذکر فرمایا اور ان کے بارے میں ” طَبَقًا…
Read the full tafseer →4 : ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ (پھر بار بار نگاہ ڈال کر دیکھ) دوبارہ دو مرتبہ نگاہ ڈال پہلی سمیت دو مرتبہ۔ ایک قول : پہلی کے علاوہ دو مرتبہ پس تین مرتبہ ہوجائیں گی۔ ایک قول اور ہے : دو مرتبہ پر اکتفاء مطلوب نہیں بلکہ کثرت تکرار مراد ہے۔ بار بار نگاہ ڈال اور گہرائی اختیار کرو۔ کیا تمہیں اس میں کوئی عیب و شگاف نظر آتا ہے۔ یَنْقَلِبْ اِلَیْکَ الْبَصَرُخَا سِئًا (نگاہ ذلیل اور درماندہ ہو کر تیری طرف لوٹ آئے گی )
نحو : ینقلبؔ یہ لوٹنے کے معنی میں ہے۔ یہ جواب امر ہے اسی لئے مجزوم ہے۔ خاسئًا ذلیل نمبر 2۔ اس سے بہت دور جو تیرے ارادہ میں ہے۔
نحو : یہ البصر سے حال واقع ہے۔ وَّ ھُوَ حَسِیْرٌ…
Read the full tafseer →3 ۔” الذی خلق سبع سماوات طباقا “ تہہ بہ تہہ ایک دوسرے کے اوپر ” ماتریٰ فی خلق الرحمن تفوت “ حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ ” من تفوت “ وائو کی شد کے ساتھ بغیر الف کے پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے وائو کی کیف اور اس سے پہلے الف کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ دو لغتیں ہیں جیسے تحمل اور تحامل اور ” تضھر “ اور تظاہر اور اس کا معنی اے آدم تو رحمن کی تخلیق میں کوئی کجی وٹیڑھا پن اور اختلاف تنا قض نہ دیکھے گا بلکہ وہ تو بالکل سیدھی برابر ہے اور اس کی اصل سے ہے۔ وہ یہ کہ اس میں بعض بعض سے فوت ہوجائے اور اس کی قلت استواء کی وجہ سے۔ ” فارجع البصر ، نظر ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ 5۔ سورة زحرف میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیاکا چند روزہ انتظام اس طرح فرما دیا ہے کہ کسی کو بادشاہ کیا ہے کسی کو رعیت اور ایک کی ضرورت دوسرے سے لگا دی ہے مثلاً رعیت کے لوگ کھیتی کرکے بادشاہ کو محصول دیتے ہیں فوج کے لوگ ضرورت کے وقت بادشاہ کی طرف سے لڑتے ہیں لکھنے پڑھنے والے لوگ بادشاہ کے دفتری کاموں کو انجام دیتے ہیں۔ اس طرح کے سب کاموں میں بادشاہ کی ضرورتیں رعیت اور نوکروں سے متعلق ہیں۔ کھیتی کے لئے زمین کے ملنے کی رعیت کی ضرورت خرچ کے لئے تنخواہ کے ملنے کی ضرورت فوج اور قسم کے نوکروں کی ضرورتیں بادشاہ سے متعلق ہیں یہ سب کچھ ہے مگر بادشاہ اور رعیت سب پر اصل بادشاہی خدا تعالیٰ کی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(تبارک الذی بیدہ الملک) یعنی وہ ہستی بہت عظمت والی اور بلند ہے اس کی بھلائی بہت زیادہ اور اس کا احسان عام ہے۔ یہ اس کی عظمت ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی کا اقتدار اسی کے ہاتھ میں ہے وہی ہے جس نے اس کو پیدا کیا ہے وہ جیسے چاہتا ہے احکام دینی اور احکام قدری میں تصرف کرتا ہے جو اس کی حکمت کے تابع ہوتے ہیں اس کی عظمت اور اس کی قدرت کا کمال ہے جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر قادر ہے اسی قدرت کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات، مثلا آسمان اور زمین کو وجود بخشا اور آیت (خلق الموت والحیوۃ) ، اس نے موت وحیات کو پیدا کیا، یعنی اس نے اپنے بندوں کے مقدر کیا کہ وہ ان کو زندگی عطا کرے پھر موت سے ہم کنار کرے…
Read the full tafseer →9 تمام حجرت کیلئے دعوت مکرر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر تم بار بار نگاہ ڈال کر دیکھ لو۔ تمہاری نگاہ تھکی ہاری ناکام ہو کر تمہاری طرف واپس لوٹے گی مگر تم کو اس میں کوئی خلل و قصور نظر نہیں آئے گا "۔ یعنی۔ " کرتین "۔ یہاں پر تنبیہہ کیلئے نہیں تکریر و تکثیر کیلئے ہے۔ جیسا کہ " لبیک " اور " سعدیک " وغیرہ میں ہے۔ (جامع ‘ محاسن ‘ مدارک وغیرہ سو اس ارشاد عالی میں اتمام حجت کیلئے پھر دعوت غور و فکر دی گئی ہے کہ تم ایک ہی مرتبہ نہیں ‘ بلکہ بار بار ناقدانہ نگاہ دوڑا کر دیکھ لو ‘ تمہاری نگاہ تھک ہار کر واپس آجائے گی مگر وہ اللہ تعالیٰ کی اس عظیم الشان تخلیق میں کوئی نقص یا خلل نہیں پاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
اللہ بادشاہوں کا بادشاہ ہے
تشریح : جیسا کہ سورت کے نام سے ظاہر ہے ” ملک “ مطلب ہے بادشاہی۔ دنیا کا نظام بناتے ہوئے جس حکمت کا اندازہ ہوتا ہے وہ کسی بندے بشر کے بس کی بات نہیں۔ جب ہم اس کی تخلیقات کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی رحمت اور برکت کا بھی کوئی شمار نہیں اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی تخلیقات سے نہ تو غافل ہے اور نہ ہی لاعلم ” اس کو ہر چیز کا علم ہے اور وہ مہربانیوں کا رحمتوں اور برکتوں کا سرچشمہ ہے۔ موت اور زندگی کسی کے اختیار میں ہرگز کسی صورت بھی نہیں یہ مرحلہ بھی بڑا غور طلب ہے۔ موت ختم ہوجانے کا نام نہیں بلکہ یہ دوسری دنیا میں داخل ہونے کا ایک ذریعہ ہے جیسے زندگی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
آیات 1 تا 14۔
اسرار ومعارف۔
بہت ہی بابرکت ہے وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں ہے سلطنت و حکومت کہ حقیقی حکومت اسی کو سزوار ہے جو ہر چیز پر قادر ہے۔
صفات باری تعالیٰ جو اس کی حکومت پر دلالت کرتے ہیں۔
اول اس کا موجود ہوناہمیشہ سے ہمیشہ کے لیے دوم اس کا صفات کمال کا مالک ہونا سوم اس کا ہر چیز پر قادر ہونا اور چہارم ہر چیز کا خالق ہونا حتی کہ موت وحیات کا بھی ، وہی ذات ہے جس نے پیدا فرمایا موت کو اور حیات کو کہ تمہاری آزمائش ہوسکے کہ کون تم میں سے نیک عمل کرتا ہے اور وہ بھی ہے زبردست اور بخشنے والا بھی۔
موت اور اس کی اقسام۔
زندگی ایک حال ہے اور مخلوق ہے اسی طرح حیا تکے تعلق کو بدن سے الگ کرنا بھی ایک…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی دیکھتے دیکھتے نگاہ تھک جائے گی لیکن آسمان ( اور اسی طرح دوسری مخلوق) میں کوئی عیب نظر نہ آئے گا۔
Read the full tafseer →(67:4) ثم ارجع البصر کرتین۔ اس جملہ کا عطف فارجع پر ہے اور تثنیہ (یعنی لفظ کر تین جو کرۃ کا تثنیہ ہے) تکثیر کے لئے ہے۔ صرف دو دفعہ دیکھنا مراد نہیں ہے بلکہ بار بار دیکھنا مراد ہے پھر با ربارنگاہ ڈالو۔
ینقلب : مضارع مجزوم (بوجہ جواب امر) صیغہ واحد مذکر غائب ۔ ابقلاب (انفعال) مصدر۔ وہ (نگاہ تیری طرف) لوٹے گی
خسئا : خسأ (باب فتح) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ، بمعنی درماندہ، ذلیل و خوار، تھک کر رہ جانے والا۔ دھتکارا ہوا۔ عربی میں ہے خسات الکلب فخسأ میں نے کتے کو دھتکارا پس وہ دور ہوگیا۔
کسی کو دھتکارنے کے لئے عربی میں اخسأ کہا جاتا ہے چناچہ قرآن مجید میں ہے :۔ اخسئوا فیہا ولا تکلمون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
لغات القرآن۔
تبرک۔ برکت والا۔ ید۔ ہاتھ۔ یبلوا۔ وہ آزماتا ہے۔ ایکم۔ تم میں کون۔ احسن عملا۔ عمل کے اعتبار سے زیادہ بہتر۔ طباقا۔ ایک پر ایک۔ تفوت۔ فرق ۔ ارجع۔ لوٹالے۔ فطور (فطر) ۔ شگاف۔ دراڑ۔ کرتین۔ بار بار۔ ینقلب۔ پلٹ کر آئے گا۔ خاسئا۔ ذلیل و رسوا۔ حسیر۔ تھکا ماندہ۔ مصابیح (مصباح) ۔ چراغ۔ رجوما۔ مارنے کی چیز۔ القوا۔ ڈالے گئے۔ سمعوا۔ انہوں نے سنا۔ شھیقا۔ زبردست ڈرائونی آواز۔ دھاڑنا۔ تفور۔ جوش مارتی ہوگی۔ تکار۔ قریب ہے۔ تمیز۔ پھٹ پڑے گی۔ الغیظ۔ غصہ۔ فوج۔ جماعت۔ گروہ۔ سال۔ اس نے پوچھا۔ خزنۃ۔ حفاظت کرنے والا۔ نگران۔ لوکنا۔ اگر ہم ہوتے۔ اعترفوا۔ انہوں نے اقرار کیا۔ سحقا۔ دور دور۔ اسروا۔ تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
خدا کا حقیقی بادشاہ ہونا، حاکمیت اعلی اور دنیوی بادشاہوں میں فرق ۔
(ف 1) سورة زخرف میں گذرچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کا چند روزہ انتظام اس طرح فرمادیا ہے کہ کسی کو بادشاہ کیا کسی کو رعیت ، اور ایک کی ضرورت دوسرے لگادی ، مثلا رعیت کے لوگ کھیتی کرکے بادشاہ کو محصول دیتے ہیں، فوج کے لوگ ضرورت کے وقت بادشاہ کی طرف سے لڑتے ہیں لکھنے پڑھنے والے لوگ بادشاہ کے دفتری کاموں کا انجام دیتے ہیں، جس طرح ان کاموں میں بادشاہ کی ضرورتیں رعیت اور نوکروں سے متعلق ہیں اسی طرح کھیتی کے لیے زمین کے ملنے کی رعیت کی ضرورت خرچ کے لیے تنخواہ کے ملنے کی ضرورت ، فوج اور قسم کے نوکروں کی ضرورتیں بادشاہ سے متعلق ہیں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
[2] یعنی وہ آسمان جو زمین کی طرف سب سے زیادہ قریب ہے اور ہمیں نظر آتا ہے۔
[3] یہ مضمون سورة حجر آیت 18 صفحہ 588 اور سورة صافات آیت 6 تا 10 صفحہ 1046 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
ف 2: جس طرح زندگی ایک ایجابی حقیقت کا نام ہے ۔ اسی طرح موت بھی صرف عناصر کا پریشان ہونا نہیں ۔ بلکہ ایک مثبت شئے ہے ۔ جو خدا کے قبضہ قدرت میں ہے ۔ اور ان دونوں حقیقتوں پر عالم کون و فساد کی بنیادیں استوار ہیں ۔ فرمایا ۔ کہ اس مقام حیات وممات کی غرض اور غایت یہ ہے ۔ کہ زندگی کو موت پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔ اور انسان اپنے حسن عمل سے یہ ثابت کردے ۔ کہ یہ اللہ کا نائب ہے ۔ اور شجروحجر کی طرح زندگی پسند نہیں کرتا ۔ اس کے بعد کارگاہ حکمت کی طرف انسانی ذہن کو متصف کیا ہے کہ اس میں تمام قسم کی ضروریات کو مہیا کردیا گیا ہے ۔ خواہ کتنا ہی باریک بین انسان ہو جب اس پر غور کریگا ۔ تو اس میں کوئی…
Read the full tafseer →(4) پھر بار بار نگاہ کو دوہرا کر دیکھ اور بار بار نگاہ ڈال کر دیکھ تیری نگاہ ذلیل اور درماندہ ہوکر تیری طرف لوٹ آئے گی۔ یعنی پہلی مرتبہ کے بعد دو مرتبہ دیکھنے کا پھر حکم فرمایا یعنی تین مرتبہ دیکھنے کا حکم دیا۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہاں مقصود بار بار دیکھنے کی تاکید ہے کہ عالم علوی کی اس صنع میں جس کو آسمان کہتے ہیں کوئی عیب نکالنے کی غرض سے اس پر تنقیدی نظر ڈالو سوائے اس کے کہ اے مخاطب تیری نظر ذلیل ہوکر اور تھک کر تیری طرف واپس آجائے۔ حضرت حق تعالیٰ کے بنائے ہوئے آسمانوں میں کوئی تفاوت تجھ کو نظر نہ آئے گا پھر یہ آسمان پوری زمین کو اسی طرح محیط ہے جس طرح انڈا اپنی سفیدی اور زردی کو محیط ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
ف 5۔ یعنی وہ جس چیز کو جیسا چاہے بنا سکتا ہے، چناچہ آسمان کو مضبوط بنانا چاہا تو کیسا بنایا کہ باوجود مرور زمان دراز اب تک اس میں کوئی خلل نہیں آیا، اسی طرح کسی شے کو ضعیف و منفعل بنادیا، غرض اس کو ہر طرح قدرت ہے۔
Read the full tafseer →فرمایا بار بار آنکھ اٹھا کر دیکھو تمہاری نگاہ تھک جائے گی لیکن تم کسی کی نشاندہی نہیں کرسکو گے
4 ؎ دنیا کے اندر یہ ترقیاں اور یہ ایجادات جو اس وقت تک ہوچکی ہیں بلاشبہ اس وقت نہیں تھیں جب یہ اعلان کیا گیا تھا لیکن قرآن کریم کے ابدی تسلیم ہونے کے ثبوت میں یہ بات بالکل کافی ہے کہ ان حالات میں جو اس نے اعلان کیا آج تک بدستور وہ اسی حالت میں موجود ہے اور رہتی دنیا تک موجود رہے گا۔ سائنس چاہے جتنی ترقی کرلے اور آسمان و زمین کی مخلوق کا آپس میں الحاق (Colloboration) شروع ہوجائے جو ابھی تک دریافت بھی نہیں ہوسکی اور پھر یہ اوپر اور نیچے کی ساری مخلوق مل کر اس کا کوئی توڑ پیش کرنے کی کوشش کرے یقینا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَىٰ مِن فُطُورٍ (So, cast your eye again. Do you see any rifts?...67:3). Apparently, this verse shows that it is possible to see the nearest sky with the naked eyes. Sky, in this context, does not necessarily refer to the bluish atmosphere seen over the earth. In fact, the sky may be very much higher than this, and the bluish colour may be that of the upper atmosphere, as claimed by the scientists. This, on the other hand, does not necessarily imply that the sky cannot be seen at all. It is possible that the bluish atmosphere, on account of being transparent, may…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
6 For explanation, see E.N. 34 of AI-Baqarah, E.N 2 of Ar-Ra`d, E.N. 8 of Al-Hijr, E.N. 113 of Al-Hajj, E.N. 15 of Al-Mu'minun, E.N. 5 of As-Saaffat, E.N. 90 of Al-Mu'min.
7 Literally, tafawut is disproportion: two things being out of accord and agreement with each other. So, the Divine words mean: "You will not see any indiscipline, any disorder and discordance anywhere in the universe, there is nothing disjointed and out of proportion in this world created by Allah: all its parts are well connected and in perfect harmony and coordination.
8 The word futur means a crack, rift, fissure, or a…
Read the full tafseer →