67. Surah Al-Mulk

الملكThe Sovereignty · 30 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 67:1–14

تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ Open ayah 67:1 in the Quran reader

بڑی برکت والا ہے وہ (اللہ) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پہ قادر ہے۔

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ Open ayah 67:2 in the Quran reader

جس نے موت اور زندگی کو پیدا فرمایا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں کون عمل میں زیادہ اچھا ہے اور وہ زبردست (اور) بخشنے والا ہے

الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ Open ayah 67:3 in the Quran reader

جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا فرمائے۔ تو رحمن (اللہ) کی اس صنعت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا۔ تو تو پھر سے نگاہ ڈال (کر دیکھ لے) کیا تجھ کو کوئی خلل نظر آتا ہے ؟

ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ Open ayah 67:4 in the Quran reader

پھر بار بار نگاہ ڈال (کر دیکھ) تو نظر تیرے پاس ناکام اور تھک کر پلٹ آئے گی

وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ Open ayah 67:5 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے قریب کے آسمان کو چراغوں (ستاروں) سے آراستہ کررکھا ہے اور ہم نے ان کو شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ بھی بنادیا ہے۔ اور ہم نے ان کے لئے دہکتی ہوئی آگ کا عذاب تیار کررکھا ہے

وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 67:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اپنے پروردگار کے ساتھ کفر کیا ان کے لئے دوزخ کا عذاب ہے اور وہ بری جگہ ہے

اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ Open ayah 67:7 in the Quran reader

جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے تو اس کا سخت شور سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہوگی

تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ Open ayah 67:8 in the Quran reader

گویا مارے غصہ کے پھٹ پڑے گی۔ جب کبھی اس میں کوئی گروہ ڈالا جائے گا تو اس کے محافظ ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس کو ڈرانے والا (پیغمبر) نہیں آیا ؟

قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ Open ayah 67:9 in the Quran reader

وہ کہیں گے واقعی ہمارے پاس ڈرانے والا (پیغمبر) آیا تھا تو ہم نے (اس کو) جھٹلادیا اور کہا کہ اللہ نے تو کچھ نازل ہی نہیں فرمایا (اور) تم تو بڑی غلطی میں پڑے ہو

وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:10 in the Quran reader

اور کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو دوزخ (کے رہنے) والوں میں نہ ہوتے

فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:11 in the Quran reader

پس اپنے جرم کا اقرار کریں گے۔ سو اہل دوزخ پر لعنت ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 67:12 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سے بےدیکھے ڈرتے ہیں ان کے لئے بخشش اور بہت بڑا صلہ ہے

وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 67:13 in the Quran reader

اور تم لوگ اپنی بات پوشیدہ کہو یا اس کو ظاہر کہو ، بیشک وہ دلوں کے رازوں سے واقف ہے

اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ Open ayah 67:14 in the Quran reader

بھلا کیا وہ نہ جائے گا جس نے پیدا فرمایا ! اور وہ باریک بین (اور) باخبر ہے

آیات 1 تا 14۔ اسرار ومعارف۔ بہت ہی بابرکت ہے وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں ہے سلطنت و حکومت کہ حقیقی حکومت اسی کو سزوار ہے جو ہر چیز پر قادر ہے۔ صفات باری تعالیٰ جو اس کی حکومت پر دلالت کرتے ہیں۔ اول اس کا موجود ہوناہمیشہ سے ہمیشہ کے لیے دوم اس کا صفات کمال کا مالک ہونا سوم اس کا ہر چیز پر قادر ہونا اور چہارم ہر چیز کا خالق ہونا حتی کہ موت وحیات کا بھی ، وہی ذات ہے جس نے پیدا فرمایا موت کو اور حیات کو کہ تمہاری آزمائش ہوسکے کہ کون تم میں سے نیک عمل کرتا ہے اور وہ بھی ہے زبردست اور بخشنے والا بھی۔ موت اور اس کی اقسام۔ زندگی ایک حال ہے اور مخلوق ہے اسی طرح حیا تکے تعلق کو بدن سے الگ کرنا بھی ایک حال ہے اسی کا نام موت ہے وہ بھی زندگی کی طرح مخلوق ہے عدم محض نہیں جس طرح زندگی کی اقسام ہیں کہ جمادات میں حیات ہے نباتان میں ہے اور حیوانات میں ہے مگر سب کی اپنی اپنی حیات ہے اور سب سے کامل حیات انسان میں ہے کہ وہ معرفت باری کا شعور رکھنے کی استعداد رکھتا ہے اور یہی استعداد ایمان وعمل اور آزمائش کی بنیاد ہے کہ جس بار سے آسمان اور زمین اور پہاڑ تک ڈر گئے وہ انسان نے اٹھالیا اسی طرح موت کی بھی اقسام ہیں اور انسانی موت دو طرح سے ہے کہ معرفت باری کی وہ استعداد اپنے کردار کے باعث ضائع کردے تو بھی ایک طرح سے انسانیت سے عاری ہوکرمردہ قرار پایا جیسے کفار کو مردہ کہا گیا ہے اور دوسرے جب بدن اور روح کا وہ رشتہ منقطع ہوجائے جو دنیا کی زندگی کا سبب ہے اور یوں دار عمل سے اس کا کام ختم ہوا اور دار آخرت پر اجل کو چل دیا۔ آسماں۔ وہی ہستی ہے جس نے سات آسمانون کو تہہ درتہہ پیدا فرمایا کسی کو اس کے بنانے میں کوئی کمی نظر نہیں آتی خواہ بار بار نظردوڑائیں آلات سے دیکھیں یامشینوں سے نظر تھک ہار کر رہ جائے گی مگر اسے کوئی خامی نہ ملے گی ضروری نہیں کہ یہ نیلگوں نظر آنے والا ہی آسمان ہو بلکہ ہوسکتا ہے دوری کے باعث فضا ایسی نظر آتی ہو اور آسمان بہت پرے یہ بھی ممکن ہے فضاصاف ہو اور آسمان ہی نظر آتا ہوں بہرحال مادی نظر سے دیکھیں یا عقل وخرد سے کسی طرح کی کوئی کمی نظر نہیں آتی اور ہم نے ستاروں کو چراغوں کی طرح سجا کر پہلے آسمان کے لیے زینت کا سبب بنادیا اگرچہ ستارے آسمان سے بہت نیچے ہوں مگر زمین سے نظر کریں تو آسمان پر ٹانکے ہوئے ہی نظر آتے ہیں نیز ان سے شیطانوں کو بھگانے کا کام بھی لیا جاتا ہے ۔ اس سے مراد شہاب ثاقب بی ہوسکتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شیاطین کو بھگانے کے لیے کوئی شعلہ یاکرنٹ ستاروں سے نکلتا ہو ضروری نہیں کہ ہمیں بھی نظر آئے ہاں یہ طے ہے کہ شیاطین کو ستاروں کی حدود پار نہیں کرنے دی جاتیں اور شیطانوں کے لیے دہکتی آگ کا عذاب بھی تیار کررکھا ہے ۔ ساتھ وہ لوگ بھی جو شیطاین کی راہ اختیار کرکے اپنے رب سے کفر کرتے ہیں وہ بھی جہنم میں ڈالے جائیں گے جو بہت ہی تکلیف دہ جگہ ہے جب انہیں اس میں پھینکا جائے گا تو وہ اس کی دھاڑ سن کر دہشت زدہ ہوجائیں گے اور الگ رہا ہوگا کہ غصے سے پھٹ جائے گی اور کفار سے دوزخ میں متعین فرشتہ یاداروغہ پوچھے گا کیا تمہارے پاس کوئی اللہ کا نبی نہ آیا جو تمہیں بروقت اس برے انجام سے مطلع کرتا اور تم بچنے کی تدبیر کرتے تو کہیں گے ہاں بیشک ہمارے پاس ایسی ہستی آئی جس نے ہم کو ان سب باتوں کی اطلاع دی مگر ہم نے اس بات کو قبول کرنے سے انکار کردیا بلکہ کہہ دیا کہ اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا آپ نے محض جھوٹا فسانہ گھڑ رکھا ہے اور آپ خود غلطی کیے جا رہے ہیں اور تب کہیں گے کاش ہم ان کی باتوں پہ غوروفکر کرتے اور عقل سے کام لیتے تو آج دوزخ میں نہ ہوتے۔ انہوں نے اپنی غلطی قبول بھی کی اب آکر جب ساراکام ختم ہوچکا اب اس اقرار کا انہیں کچھ حاصل نہیں ہاں وہ لوگ جو دنیا میں اپنے رب پر غائبانہ ایمان لائے اور پھر اس کی عظمت کو اپنے دلوں میں محسوس کیا ان کے لیے اللہ کی بخشش ہے کہ انسانی کمزوریوں کی بنا پر اگر کوئی خامی رہ گئی تو اللہ کریم معاف فرما کر انہیں بہت عظیم الشان بدلہ عطافرمائیں گے۔ اے لوگو تم چھپ کر باتیں کرویاظاہر میں کرو اللہ کی ذات تو ایسی ہے جو دلوں کے بھید تک سے واقف ہے اور کیوں نہ ہو اس نے خود ہر ایک کو پیدا کیا حیات بخشی کام کرنے اور سوچنے کی طاقت دی بھلاوہ ہر حال سے کیوں واقف نہ ہوگا بلکہ وہ تمام چھپے بھید جاننے والا اور ہر شے اور ہر حال سے باخبر ہے۔
Ayahs 67:15–30

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ Open ayah 67:15 in the Quran reader

وہی ہستی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو مسخر کردیا ، سو تم اس کی راہوں میں چلو پھر وہ اور اس کی عطا کردہ روزی میں سے کھاؤ اور اس کے پاس دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے

ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ Open ayah 67:16 in the Quran reader

کیا تم اس سے بےخوی ہوگئے ہو کہ جو آسمان میں (بھی اپنا تصرف رکھتا) ہے ، کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے گا پھر وہ (زمین) تھر تھرانے لگے ؟

اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ Open ayah 67:17 in the Quran reader

یا تم لوگ اس سے بےخوف ہوگئے ہو کہ جو آسمان میں (بھی اپنا تصرف رکھتا) ہے کہ وہ تم پر ایک تیز ہوا بھیج دے ؟ سو تم عنقریب جان لو گے کہ میرا ڈرنا کیسا ہے

وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 67:18 in the Quran reader

اور بیشک ان سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا سو (دیکھ لو) میرا عذاب کیسا ہوا

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ Open ayah 67:19 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر پرندوں کو نہیں دیکھا کبھی پروں کو پھیلائے ہوئے اڑتے ہیں اور کبھی سمیٹ لیتے ہیں۔ رحمن (اللہ) کے سوا انہیں کوئی تھام نہیں سکتا۔ بیشک وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ Open ayah 67:20 in the Quran reader

رحمن (اللہ) کے سوا بھلا ایسا کون ہے جو تمہارا لشکر ہو کر تمہاری مدد کرسکے۔ کافر تو نرے دھوکے میں ہیں

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ Open ayah 67:21 in the Quran reader

بھلا اگر وہ اپنا رزق روک لیں تو کون ہے جو تم کو رزق دے ؟ بلکہ یہ سرکشی اور نفرت میں پھنسے ہوئے ہیں

اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 67:22 in the Quran reader

بھلا جو شخص اپنے منہ کے بل گر کر چلتا ہو وہ سیدھی راہ پانے والا ہے یا جو شخص سیدھے راستے پر برابر چل رہا ہو

قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 67:23 in the Quran reader

فرما دیجئے وہی ذات ہے جس نے تم کو پیدا فرمایا اور تم کو کان اور آنکھیں اور دل عطا فرمائے۔ تم لوگ بہت کم شکر ادا کرتے ہو

قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 67:24 in the Quran reader

فرمادیجئے وہی ہے جس نے تم کو زمین پر پھیلایا ہے اور تم اسی کے پاس اکٹھے کیے جاؤ گے

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 67:25 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ (قیامت کا) کب پورا ہوگا

قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 67:26 in the Quran reader

فرمادیجئے کہ یہ علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور بلا شبہ میں تو صاف صاف (انجام بد سے) ڈرانے والا ہوں

فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ Open ayah 67:27 in the Quran reader

پھر جب اس (عذاب) کو قریب آتا ہوا دیکھیں گے تو کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے اور (ان سے) کہا جائے گا یہی ہے جو تم مانگا کرتے تھے

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 67:28 in the Quran reader

فرمادیجئے بھلا دیکھو اگر اللہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو (جیسا تم چاہتے ہو) ہلا کردیں یا (ہماری تمنا کے مطابق) ہم پر رحم فرمائیں تو کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچائے گا ؟

قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 67:29 in the Quran reader

فرمادیجئے وہ بڑا مہربان ہے ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور اسی پر ہم بھروسہ کرتے ہیں سو عنقریب تم جان لوگے کہ صریح گمراہی میں کون ہے ۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠ Open ayah 67:30 in the Quran reader

فرما دیجئے بھلا دیکھو ! اگر تمہارا پانی خشک ہوجائے تو کون ہے جو تمہارے لئے شیریں پانی کا چشمہ بہا لائے ؟

آیات 15 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ وہی ذات کریم ہے کہ جس نے زمین کو تمہارے لیے مسخر کردیا اب اس کے راستوں میں چلو یعنی وہ طریقے اور قاعدے دریافت کرو جن سے اس سے فائدہ حاصل کرسکو تمہیں اس کی استعداد بھی دی اور یوں اس کے سینے سے اپنے لیے اللہ کی نعمتیں اور رزق حاصل کرکے زندگی بسر کرو کہ اس کے بعد پھر تمہیں اسی عظیم بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ یعنی صرف ایجادات اور اشیاء کی لذات میں نہ کھوجاؤ بلکہ ان سب کو اللہ کی نعمتیں شمار کرکے اس کا شکر ادا کرتے رہو اور اطاعت اختیار کرو کہ پھر پیشی پر شرمندگی نہ ہو۔ اور اے وہ لوگو جو اس سب کو محض اپنا ذاتی کمال خیال کرتے ہو کیا تم تب مانو گے کہ اللہ جو زمین ہی نہیں آسمانوں کا بھی مالک ہے اسی زمین میں تم کو دھنسا دے گا اور تمہاری ساری عقل اور سائنس دھری کی دھری رہ جائے اور خود زمین بھی غضب الٰہی سے لرزنے لگے گی یاتب مانو گے جب اللہ کی قدرت سے آسمانوں سے پتھر برسنے لگیں گے اور تمہیں سمجھ آجائے کہ غضب الٰہی کیا ہوگا جس کی یہ ادنی جھلک ہے اور یہ سب گاہے بگاہے ہوتارہتا ہے اگرچہ پہلی قوموں کی طرح اجتماعی ہلاکت کا عزاب اب نہیں آتا مگر کہیں نہ کہیں زمین پھٹ جاتی ہے زلزلے تباہی مچادیتے ہیں اور پتھروں کی طرح اولے پڑتے ہیں جسے انسانی سائنس روکنے سے بےبس ہوجاتی ہے پھر پہلی قوموں کے حالات پڑھو کہ انہوں نے کفر اور انکار کا راستہ اختیار کیا تو ان اقوام پر کیسی تباہی آئی۔ تم اس کی قدرت کاملہ کو نہیں دیکھتے تمہیں آج راکٹوں میں اڑنے پر نازل ہے وہ بھی اسی کی دی ہوئی عقل سے مگر یہ کمال اس نے بےزبان پرندوں میں تخلیقی طور پر پیدا کردیا کہ ان کے اجسام اور پرا ایسے بنائے کہ کبھی پھیلاتے ہیں اور کبھی پروں کو سکیڑ کر ہوا میں تیرتے پھرتے ہیں کس طرح انہوں نے اس بہت بڑے رحم کرنے والے نے سکھادیا اور وہ ہر شے سے باخبر ہے۔ بھلا یہ تو بتاؤ کہ اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو کون سالشکر جو تمہاری مدد کو آئے گا تمہیں زندگی اور یہ نعمتیں دے گا خود تمہارے وجود کو قائم رہنے میں مدد دے گا کوئی بھی نہیں صرف کافر دھوکے میں میں گرفتار ہیں یہ نہیں سوچتے کہ اگر وہ رزق روک لے صرف بارش نہ برسائے یا زمین سے اگانا بند کردے اور اس کی زرخیزی چھین لے تو کوئی ہے جو اپن طاقت سے یہ سب کردے کوئی نہیں محض کفار برائی اور شرارت پر اڑے ہوئے ہیں اور ان کا حال یا رویہ ایسا ہے جیسا کوئی الٹا سر کے بل چلناشروع کردے بھلایہ شخص صحیح ہے یا وہ جو سیدھا اور سیدھی راہ پر چلتا ہے وہی عظیم ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں کان آنکھ اور دل عطا فرمایا کہ تم اس کی ذات کو بھی پہچانو اور دنیا کے کمالات بھی حاصل کرو۔ مرکز علم دل ہے۔ علم الابدان کے ماہرین کے نزدیک پانچ حسیں حصول علم کا ذریعہ جنہیں حواس خمسہ کہتے ہیں سننا ، دیکھنا ، سونگھنا ، چکھنا ، اور محسوس کرنا اور ان سے حاصل ہونے والے علم کامرکز دماغ ہے مگر قرآن نے صرف دو ذریعوں کا ذکر فرمایا سب سے اول سننے کا اور ظاہر ہے انسان سب سے زیادہ علم سن کر حاصل کرتا ہے ۔ بچپن سے موت تک اس کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور یا پھر مشاہدے سے اور دیکھ کر باقی تین ذرائع اتنے اہم نہیں وہ ذاتی زندگی کے لیے ہیں عظیم امور میں ان کا دخل نہیں اور تمام علوم کا مرکز دل کو قرار دیا کہ اگر سب کا تجربہ کرکے دل درست اور صحیح کیفیت اختیارنہ کرے تو سب ضائع ہوجاتا ہے۔ لہذا تنی بڑی نعمتوں پہ تو انسان کو شکر ادا کرنا چاہیے تھا جو بہت کم لوگ کرتے ہیں اگر ان ذرائع علم سے تجربہ کرو تو یہ حقیقت جان سکتے ہو کہ اسی نے تمہیں پیدا کرکے زمین پر پھیلادیا ہے اور تم اس کی نعمتیں حاصل کرکے زندگی بسر کرتے ہو اس تمام کارگہ حیات کا نتیجہ اور حساب بھی تو ہونا ہے لہذا تمہین اسکی بارگاہ میں پھر سے جمع ہوناپڑے گا پھر کہتے ہیں کہ بھلا وہ جمع ہونے کا دن اور تاریخ کونسی ہے اگر اے نبی آپ کی بات درست ہے تو وقت بتادیجئے اور فرمادیجئے کہ اس میں انسان کو دخل نہیں نہ اس نے اس کا کوئی انتظام کرنا ہے کہ اسے بتایاجائے یہ سب اللہ کا اپنا کام ہے اور وہی خوب جانتا ہے ہاں میرا منصب ہے کہ میں تمہیں اس کی تیاری کے لیے مکمل معلومات فراہم کردوں۔ اور جب یہ اسے سامنے پائیں گے توہیبت سے ان کے چہرے تک مسخ ہوجائیں گے تب ان سے کہاجائے گا کہ وہ وقت آگیا ہے جس کا تم مطالبہ کیا کرتے تھے۔ کفر ہمیشہ سے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کا دشمن رہا ہے۔ ان سے فرمادیجئے کہ تم ہماری یعنی مسلمانوں کی تباہی اور ہلاکت کے درپے ہو ہمارا معاملہ تو اللہ کے ساتھ ہے کہ ہمیں ہلاک کرے گایاسلامت رکھے گا ذرایہ بتاؤ کہ تمہارے پاس اللہ کے دردناک عذابوں سے بچنے کی کیا تدبیر ہے یا کون ہے جو تمہیں بچالے گا جبکہ اللہ سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے اور ہم تو اسی پر ایمان لائے ہیں اور اسی پر بھروسہ کرتے ہیں اسی کی رحمت ہمیں تمام عذابوں اور ہلاکتوں سے بچانے کا سبب ہے لہذا عنقریب تم بھی دیکھ لوگے کہ کون گمراہی کا شکار ہے یعنی تم پر اپنی غلطی واضح ہوجائے گی ان سے فرمادیجئے کہ اپنی بیشمار نعمتوں میں سے صرف پانی کو خشک کردے تو بھلا کون ہے جو تمہیں ایسی حیات آفریں نعمت عطا کرے گا کہ جس کے باعث معمورہ عالم آباد ہے۔ کتنے سمندر بادل ، برسات برف ، چشمے ، ندیاں ، دریا ، اور زیر زمین سونے پھیلاکر بےشمارنعمتوں کو وجود میں لانے کا سبب بنادیا بھلا کوئی ہے جو اللہ کے بغیر ایسا کرسکے ، ہرگز ہرگز نہیں۔