67. Surah Al-Mulk

الملكThe Sovereignty · 30 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 67:1–2

تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ Open ayah 67:1 in the Quran reader

نہایت بزرگ وبرتر ہے وہ (ذات) جس کے ہاتھ میں (اس کائنات کی) بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ Open ayah 67:2 in the Quran reader

جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تم لوگوں کو آزمائے کہ تم میں کون عمل میں بہتر ہے۔ اور وہ زبردست (بھی) ہے (اور) مغفرت فرمانے والا (بھی) ۔

[1] یعنی اللہ تعالیٰ نے زندگی اور موت کا یہ کارخانہ عبث نہیں بنایا ہے بلکہ لوگوں کے امتحان کے لئے بنایا ہے کہ کون نیکی کی زندگی اختیار کرتا ہے اور کون بدی کی۔ زندگی امتحان کی مہلت ہے اور موت کے معنی یہ ہیں کہ امتحان کا وقت ختم ہوگیا۔ اس امتحان کا لازمی تقاضا ہے کہ ایک دن ایسا آئے جس میں نیکوکار اپنی نیکیوں کا صلہ پائیں اور بدکار اپنی بدکاریوں کی سزا بھگتیں۔
Ayahs 67:3–5

الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ Open ayah 67:3 in the Quran reader

جس نے تہہ بر تہہ سات آسمان پیدا کر دئیے۔ (اے انسان، ) تو ( اللہ) رحمن کی (اس) تخلیق میں (کوئی) بےضابطگی نہ دیکھے گا۔ (اگر ایک بار دیکھنے سے نہ دکھائی دے) تو دوبارہ نظر کر (اور پھر دیکھ، ) تجھے کہیں کوئی دراڑ دکھائی دیتی ہے۔ ؟

ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ Open ayah 67:4 in the Quran reader

پھر باربار نگاہ دوڑا، (نتیجہ یہی ہوگا کہ) تیری نگاہ تھک کر ناکام تیری طرف لوٹ آئے گی۔

وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ Open ayah 67:5 in the Quran reader

اور (یقینا) ہم نے آسمان دنیا کو (ستاروں کے) چراغوں سے سجایا ہے اور ہم نے ان (چراغوں) کو شیاطین کے مار بھگانے کا ذریعہ (بھی) بنایا ہے اور (آخرت میں) ہم نے ان (شیاطین) کے لئے دوزخ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

[2] یعنی وہ آسمان جو زمین کی طرف سب سے زیادہ قریب ہے اور ہمیں نظر آتا ہے۔ [3] یہ مضمون سورة حجر آیت 18 صفحہ 588 اور سورة صافات آیت 6 تا 10 صفحہ 1046 میں گزر چکا ہے۔
Ayahs 67:6–15

وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 67:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اپنے رب (کو ماننے) سے انکار کیا ہے ان کے لئے (بھی) دوزخ کا عذاب ہے اور وہ (بہت ہی) برا ٹھکانا ہے۔

اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ Open ayah 67:7 in the Quran reader

جب (یہ لوگ) اس میں ڈالے جائیں گے تو اس کا دھاڑنا سنیں گے اور وہ (ایسی) جوش مارتی ہوگی۔

تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ Open ayah 67:8 in the Quran reader

کہ (گویا ابھی) غصہ سے پھٹ پڑے گی۔ جب (منکرین کا) کوئی گروہ اس میں ڈالا جائے گا تو اس کے محافظ (فرشتے) ان سے پوچھیں گے، کیا تمہارے پاس (اللہ کے عذاب سے) ڈرانے والا (کوئی پیغمبر) نہیں آیا تھا ؟

قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ Open ayah 67:9 in the Quran reader

وہ جواب دیں گے، ہاں، ڈرانے والا تو ہمارے پاس آیا تھا مگر ہم نے (اس کو) جھٹلایا اور کہا کہ اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ہے، بلاشبہ تم (اور تمہارے پیرو کار سب کے سب) بڑی گمراہی میں (پڑے ہوئے) ہو۔

وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:10 in the Quran reader

اور وہ کہیں گے، کاش ہم (پیغمبر کے کہنے کو) سنتے یا سمجھتے تو (آج) دوزخیوں میں نہ ہوتے۔

فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:11 in the Quran reader

غرض کہ دوزخی اپنے گناہوں کا اقرار کرلیں گے، سو لعنت ہے دوزخیوں پر !

اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 67:12 in the Quran reader

بیشک جو لوگ بغیر دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔

وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 67:13 in the Quran reader

اور (لوگو، ) تم اپنی بات چپکے سے کہو یا بلند آواز سے (اللہ کے لئے یکساں ہے) وہ تو لوگوں کے دلی خیالات (تک) سے واقف ہے۔

اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ Open ayah 67:14 in the Quran reader

کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے ؟ اور وہ باریک بین (اور) بڑا باخبر ہے۔

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ Open ayah 67:15 in the Quran reader

(لوگو، ) وہ ( اللہ) ہی تو ہے جس نے زمین کو تمہارے لئے مسخر کردیا ہے، تو چلو پھرو اس کے راستوں میں اور کھاؤ (پیو) اس کے (دئیے ہوئے) رزق میں سے اور اسی کے پاس (تمہیں) زندہ ہو کر جانا ہے۔

[4] یعنی جو چاہو اس میں تصرف کرو۔
Ayah 67:16

ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ Open ayah 67:16 in the Quran reader

کیا تم اس بات سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ (ہستی) جو آسمان میں ہے تمہیں زمین میں دھنسا دے اور یہ زمین یکایک ہچکولے کھانے لگے ؟

[5] یعنی وہ اللہ جو آسمان میں بھی اپنا حکم و تصرف رکھتا ہے۔
Ayahs 67:17–20

اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ Open ayah 67:17 in the Quran reader

کیا تم اس بات سے بےخوف ہو کہ وہ (ہستی) جو آسمان میں ہے تم پر پتھربرسا دے ؟ پھر تمہیں معلوم ہوجائے کہ ہمارا ڈرانا کیسا تھا۔

وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 67:18 in the Quran reader

اور ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں نے بھی (ہمارے پیغمبروں کو) جھٹلایا تھا، پھر (دیکھ لو ہمارا) عذاب کیسا (سخت) تھا۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ Open ayah 67:19 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اپنے اوپر (اڑتے ہوئے) پرندوں کو پر پھیلاتے اور سکیڑتے نہیں دیکھتے ؟ ( اللہ) رحمن کے سوا کوئی انہیں (فضا میں) تھامے ہوئے نہیں ہے۔ بیشک وہ ہر چیز کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ Open ayah 67:20 in the Quran reader

(منکرو، بتاؤ) تمہارے پاس وہ کون سا لشکر ہے جو ( اللہ) رحمن کے مقابلے میں تمہاری مدد کرسکے ؟ (حقیقت یہ ہے کہ) یہ کافر دھوکے میں (پڑے ہوئے) ہیں۔

[6] یعنی کافر سخت دھوکے میں ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے باطل معبودوں اور فرضی دیوتاؤں کی فوج ان کو اللہ کے عذاب اور آنے والی آفت سے بچا لے گی۔
Ayahs 67:21–22

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ Open ayah 67:21 in the Quran reader

(بتاؤ) وہ کون ہے جو تمہیں روزی دے گا اگر اللہ اپنی روزی روک لے ؟ مگر کافر تو سرکشی اور (حق سے) گریز کرنے پر اڑے ہوئے ہیں۔

اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 67:22 in the Quran reader

بھلا جو شخص اپنا منہ اوندھائے ہوئے چلے وہ سیدھی راہ پانے والا ہے یا وہ شخص جو سیدھا (سر اٹھائے) راہ راست پر چلا جا رہا ہے ؟

[7] یعنی یہ کافر کتے کی مانند اپنی خواہشوں کے غلام ہیں۔ جس طرح کتا زمین کو سونگھتا ہوا چلتا ہے کہ شاید کوئی چیز کھانے کو مل جائے اسی طرح ان لوگوں کی رہنما بھی عقل کی جگہ ان کی خواہش ہے اور یہ سر جھکائے اپنی خواہش کے پیچھے چل رہے ہیں۔ خواہش کے پیچھے چلنے والا کبھی ہدایت کی راہ نہیں پاسکتا۔ ہدایت کی راہ اسی کو ملتی ہے جو سیدھی راہ پر سر اٹھا کر دائیں بائیں اور آگے پیچھے کا جائزہ لیتا ہوا چلتا ہے۔
Ayah 67:23

قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 67:23 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ وہ ( اللہ) ہی تو ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں (سننے کو) کان، (دیکھنے کو) آنکھیں اور (سوچنے سمجھنے کو) دل دئیے، لیکن تم لوگ بہت ہی کم (اس کا) شکر ادا کرتے ہو

[8] یعنی اللہ تعالیٰ نے تو ان کو سمع و بصر اور دل و دماغ کی صلاحیتیں حق شناسی کے لئے عطا فرمائی تھیں لیکن یہ نہایت ناشکرے نکلے کہ ان صلاحیتوں سے اور سارے کام تو لیتے ہیں مگر بس وہی ایک کام نہیں لیتے جس کے لئے وہ دی گئی تھیں۔ اسی سبب سے کفر و شرک میں مبتلا ہوئے۔
Ayahs 67:24–28

قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 67:24 in the Quran reader

(ان سے) کہو کہ وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہیں (روئے) زمین پر پھیلا رکھا ہے اور (قیامت کے دن) اسی کے حضور میں تم (سب) جمع کئے جاؤ گے۔

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 67:25 in the Quran reader

اور (یہ کافر مسلمانوں سے) کہتے ہیں کہ اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو (تو بتاؤ) یہ وعدہ (قیامت) کب پورا ہوگا ؟

قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 67:26 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) تم جواب دو کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے۔ میں تو بس صاف صاف (انکار و بدعملی کے نتائج سے) خبردار کرنے والا ہوں۔

فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ Open ayah 67:27 in the Quran reader

پھر جب یہ اس (عذاب موعود) کو پاس آتا ہوا دیکھیں گے تو (مارے رنج وہیبت کے ان) کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے۔ اس وقت (ان سے) کہا جائے گا کہ یہی وہ (عذاب) ہے جس کا تم تقاضا کیا کرتے تھے۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 67:28 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) پوچھو کہ اگر اللہ مجھے اور ان لوگوں کو جو میرے ساتھ ہیں ہلاک کر دے یا ہم پر رحم فرمائے تو کافروں کو (آخرت کے) دردناک عذاب سے کون بچا لے گا ؟

[9] کفار رسول اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کی ہلاکت کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ اس پر ارشاد ہوا کہ ان سے کہو کہ خواہ میں اور میرے ساتھی ہلاک کر دئیے جائیں یا اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے رفقاء کو اپنی رحمت سے کامیاب و بامراد کرے، ان دونوں صورتوں میں جو صورت بھی ہو مگر تم کو اس سے کیا فائدہ ہوگا ؟ تم اپنی فکر کرو کہ اس کفر و سرکشی پر جس دردناک عذاب کا آنا یقینی ہے اس سے تمہیں کون بچائے گا ؟۔
Ayahs 67:29–30

قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 67:29 in the Quran reader

(ان سے) کہو کہ وہ ( اللہ) رحمن ہے، اسی پر ہم ایمان لائے ہیں اور اسی پر ہمارا بھروسہ ہے، پس عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ (ہم دونوں فریقوں میں) کون صریح گمراہی میں ہے۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠ Open ayah 67:30 in the Quran reader

(ان سے) پوچھو، کبھی تم نے غور کیا کہ اگر تمہارا (یہ کنوؤں کا) پانی (زمین میں) اتر جائے تو کون تمہارے لئے پانی کی سوتیں لے آئے گا ؟

[10] پس جب اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کسی کو اتنی بھی قدرت نہیں کہ معمولی طبعی واقعات میں تصرف کرسکے تو عذاب آخرت سے بچانے کی کس کی مجال ہوسکتی ہے ؟