66. Surah At-Tahrim

التحريمThe Prohibition · 12 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 66:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ١ۚ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 66:1 in the Quran reader

اے پیغمبر، کیوں حرام کئے لیتے ہو اس چیز کو جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہے ؟ کیا اس لئے کہ تم اپنی بیویوں کی خوشنودی چاہتے ہو ؟ اور اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے

[1] شان نزول کی دو مختلف روایتیں ہیں۔ دونوں میں قدر مشترک یہ ہے کہ نبی ﷺ نے ازواج مطہرات میں سے کسی کی دلجوئی کے لئے یہ عہد کرلیا تھا کہ فلاں نعمت سے آئندہ تمتع نہ کریں گے۔ عام حالات میں تو یہ کوئی غیر معمولی بات نہ تھی لیکن کیونکہ پیغمبر کا قول و فعل دین میں بڑی اہمیت رکھتا ہے اور اس کا ہر عمل پوری امت کے لئے مثال اور نمونہ ہوتا ہے اس وجہ سے اس کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ کوئی ایسی بات کہے یا کرے جو بال برابر بھی اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حدود سے متجاوز ہو ورنہ پوری امت کے لئے ایک غلط مثال قائم ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کے اس فعل پر گرفت فرمائی۔ اس بات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پیغمبر کو بھی بطور خود کسی چیز کو حلال یا حرام کردینے کا اختیار نہیں جب تک اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہو۔ [2] یعنی ایک حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرلینے کا فعل اگرچہ گناہ نہ تھا لیکن پیغمبرانہ شان کے شایان نہ تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے صرف اس پر ٹوک دیا اور آپ ﷺ کی اس لغزش کو معاف کردیا۔
Ayah 66:2

قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَیْمَانِكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 66:2 in the Quran reader

بیشک تم لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمہاری قسموں کے توڑنے کا (طریقہ) مقرر کردیا ہے۔ اور اللہ ہی تمہارا کارساز ہے اور وہ بڑا علم والا حکمت والا ہے۔

[3] مطلب یہ ہے کہ قسموں کو توڑنے کا جو طریقہ اللہ تعالیٰ نے سورة مائدہ آیت 89 صفحہ 264 میں بیان کیا ہے اس کے مطابق عمل کر کے آپ اپنی قسم توڑ دیں جو آپ نے ایک حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرنے کے لئے کھائی تھی۔
Ayah 66:3

وَ اِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِیْثًا١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِهٖ وَ اَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَیْهِ عَرَّفَ بَعْضَهٗ وَ اَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَهَا بِهٖ قَالَتْ مَنْ اَنْۢبَاَكَ هٰذَا١ؕ قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 66:3 in the Quran reader

اور (یہ معاملہ بھی قابل ذکر ہے کہ) جب پیغمبر نے ایک بات اپنی کسی بیوی سے راز میں کہی تھی، پھر جب اس (بیوی) نے وہ بات (کسی اور کو) بتلا دی اور اللہ نے پیغمبر پر اس کو ظاہر کردیا تو پیغمبر نے اس کا کچھ حصہ (اس بیوی کو) بتلا دیا اور کچھ ٹال دیا۔ پھر جب پیغمبر نے اس (بیوی) کو وہ بات جتا دی تو اس نے (حیران ہو کر پیغمبر سے) پوچھا کہ آپ کو یہ خبر کس نے دی۔ (پیغمبر نے) جواب دیا کہ مجھے اس ( اللہ) نے خبر دی جو (سب کچھ) جانتا اور (ہر طرح کی) خبر رکھتا ہے۔

[4] یعنی آپ ﷺ نے اپنی کسی زوجہ محترمہ سے کوئی بات مصلحتاً رازدارانہ فرمائی تھی اور منشائے مبارک یہ تھا کہ پھیلنے نہ پائے۔ لیکن ان زوجہ محترمہ نے وہ بات ایک دوسری زوجہ محترمہ کو پہنچا دی۔ ادھر بذریعہ وحی آپ ﷺ کو اس واقعہ کی اطلاع کردی گئی تو پھر بھی آپ ﷺ نے اپنی پہلی زوجہ محترمہ سے اس شکایت کے وقت بھی پوری بات نہ دہرائی کہ انہیں اور زیادہ شرمندگی ہوگی بلکہ اتنے ہی پر اکتفا فرمایا کہ تم نے ہماری آپس کی بات کو دوسری تک بلا اجازت کیوں پہنچا دیا۔ [5] اللہ تعالیٰ کا نبی ﷺ کو اس بات کی خبر دینے کا ذکر پورے قرآن میں کہیں نہیں ہے یہ اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ قرآن کے علاوہ بھی نبی ﷺ پر وحی کا نزول ہوتا تھا۔ [6] یہاں قرآن نے اس بات کی وضاحت نہیں کی ہے کہ وہ راز کی بات کیا تھی کیونکہ جس مقصد کے لئے یہ آیت نازل ہوئی اس کے لحاظ سے یہ سوال سرے سے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ اصل مقصد جس کے لئے اس معاملے کا یہاں ذکر کیا گیا ہے وہ ازواج مطہرات کو اور بالواسطہ تمام مسلمانوں کی بیویوں کو اس بات پر متنبہ کرنا ہے کہ وہ رازوں کی حفاظت میں بےپروائی سے کام نہ لیں۔
Ayah 66:4

اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا١ۚ وَ اِنْ تَظٰهَرَا عَلَیْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ Open ayah 66:4 in the Quran reader

(تو اے پیغمبر کی بیویو، ) اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرتی ہو (تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے) کیونکہ تمہارے دل سیدھی راہ سے ہٹ گئے ہیں۔ اور اگر تم پیغمبر کے خلاف ایکا کرو گی تو (جان رکھو کہ) اللہ اس کا رفیق ہے اور جبرائیل اور تمام نیک مسلمان اور مزید براں فرشتے بھی اس کے مددگار ہیں۔

[7] اصل الفاظ ہیں فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکْمَا صغو عربی زبان میں کج اور ٹیڑھے ہوجانے کے متعلق بھی بولا جاتا ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ فروگزاشت تو ایک زوجہ محترمہ سے ہوئی تھی تو یہاں خطاب دو سے کیوں ہوا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب نبی ﷺ نے ایک زوجہ محترمہ پر ان کے افشائے راز کے بہ سبب ناخوشی کا اظہار فرمایا تو دوسری زوجہ محترمہ کو یہ گمان گزرا ہوگا کہ شاید اس ناخوشی کا سبب یہ ہے کہ یہ افشائے راز ان کے سامنے کیوں ہوا ؟ انہوں نے خیال کیا ہوگا کہ بات میرے ہی سامنے ظاہر کی گئی تھی کسی غیر کے سامنے نہیں تو پھر اس عتاب کی کیا وجہ ہوئی۔ اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ مجھے غیر خیال کیا گیا۔ بہرحال ان دونوں ہی ازواج مطہرات نے اس گرفت کو اپنی خودداری کے خلاف محسوس کیا اور اس وجہ سے دونوں ازواج مطہرات نبی ﷺ سے کچھ روٹھ سی گئیں عام حالات میں یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ میاں بیوی میں اس طرح کی باتیں ہوتی ہیں لیکن یہاں معاملہ نبی ﷺ اور آپ کی ازواج مطہرات کا تھا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس پر سختی سے گرفت فرمائی۔ [8] آیت میں خطاب اگرچہ دو ازواج مطہرات سے ہے لیکن اس میں جو تنبیہہ ہے وہ تمام ازواج مطہرات سے متعلق ہے۔ ان کو بتایا گیا ہے کہ اگر وہ روٹھ جائیں گی تو یہ نہ سمجھیں کہ اس سے ہمارے پیغمبر کی بزم سونی ہوجائے گی۔ پیغمبر کو جو دلچسپی ان کے ساتھ ہے اس کی حیثیت ثانوی ہے۔ اس کی اصل وابستگی اللہ کے ساتھ ہے، پھر جبرائیل ہیں جو وحی لاتے ہیں، پھر مومنین ہیں جو اس کی توجہ و تربیت کے اصل حقدار ہیں، پھر فرشتے ہیں جن کی رفاقت و معیت اس کو ہر مشکل میں حاصل ہے۔
Ayah 66:5

عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ یُّبْدِلَهٗۤ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْكُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّ اَبْكَارًا Open ayah 66:5 in the Quran reader

اگر پیغمبر تم (سب بیویوں) کو طلاق دے دے تو عجب نہیں کہ اس کا رب تمہارے بدلے تم سے بہتر بیویاں اسے بہم پہنچا دے (جو) اسلام والیاں، ایمان والیاں، اطاعت شعار، توبہ گزار، عبادت کرنے والیاں، روزہ رکھنے والیاں، شوہر دیدہ (بھی) اور کنواریاں (بھی ہوں) ۔

[9] یہ وہی اوپر والا مضمون نسبتاً سخت الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ ازواج مطہرات کو خطاب کر کے فرمایا کہ تمہیں یہ گمان نہیں ہونا چاہئے کہ اگر تم پیغمبر سے روٹھ گئیں تو پھر اس کی دلبستگی کا کوئی سہارا نہیں رہے گا۔ اگر وہ تمہیں طلاق دے چھوڑے تو اللہ تعالیٰ تم سے بہتر ازواج اس کے لئے منتخب فرمائے گا جن کے اوصاف یہ اور یہ ہوں گے۔
Ayahs 66:6–7

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ Open ayah 66:6 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنے آپ کو اور اپنے اہل (و عیال) کو (دوزخ کی) آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے۔ اس پر تندخو اور سخت گیر فرشتے (مقرر) ہوں گے۔ اللہ جو حکم ان کو دے گا وہ اس کی نافرمانی نہیں کریں گے اور وہی کریں گے جس کا حکم ان کو دیا جائے گا۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 66:7 in the Quran reader

(قیامت کے دن جب دوزخ سب کے سامنے حاضر کی جائے گی اس وقت کافروں سے کہا جائے گا کہ) اے کافرو، آج معذرتیں مت (پیش) کرو۔ تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جا رہا ہے جیسے عمل تم (دنیا میں) کرتے رہے تھے۔

[10] یہ آیت بتاتی ہے کہ ایک مسلمان کے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ وہ فقط اپنے آپ کو جہنم کے عذاب سے بچانے کی کوشش کرے بلکہ اس کے لئے یہ بھی لازم ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کو بھی دین کی راہ پر لائے اور اگر وہ جہنم کی راہ پر جا رہے ہوں تو جہاں تک بھی اس کے بس میں ہو ان کو اس سے روکنے کی کوشش کرے۔
Ayahs 66:8–11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا١ؕ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰهُ النَّبِیَّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۚ نُوْرُهُمْ یَسْعٰى بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَ اغْفِرْ لَنَا١ۚ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 66:8 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کی جناب میں توبہ کرو، سچی توبہ۔ عجب نہیں کہ تمہارا رب (آخرت میں) تمہارے گناہ تم سے دور کر دے اور تم کو (ایسے) باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی۔ یہ وہ دن ہوگا جب اللہ پیغمبر کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں رسوا نہیں کرے گا۔ ان (کے ایمان) کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے داہنی طرف دوڑتاہو گا اور وہ دعا کر رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ہمارا نور ہمارے لئے کامل کر دے اور ہماری مغفرت فرما۔ بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 66:9 in the Quran reader

اے پیغمبر، کافروں اور منافقوں (دونوں) سے جہاد کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ (کہ وہ اس کے مستحق ہیں) اور بالآخر ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ (کیا ہی) بری جگہ ہے !۔

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَتَ لُوْطٍ١ؕ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا وَّ قِیْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِیْنَ Open ayah 66:10 in the Quran reader

اللہ کافروں کے لئے مثال بیان کرتا ہے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی۔ وہ دونوں ہمارے دو نیک بندوں کے نکاح میں تھیں مگر انہوں نے ان (نیک بندوں) سے خیانت کی (کہ اپنے شوہروں کے خلاف کافروں سے ملی رہیں) تو دونوں کے شوہر (باوجودیکہ پیغمبر تھے) اللہ کے مقابلے میں ان کے کچھ بھی کام نہ آسکے اور دونوں عورتوں سے کہہ دیا گیا کہ (جاؤ، جہنم میں) جانے والوں کے ساتھ تم بھی جہنم میں چلی جاؤ۔

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ١ۘ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَكَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 66:11 in the Quran reader

اور اہل ایمان کے لئے اللہ (ایک تو) فرعون کی بیوی کی مثال دیتا ہے جبکہ اس نے دعا کی کہ اے میرے رب، میرے لئے بہشت میں اپنے پاس ایک گھر بنا دے اور مجھے فرعون اور اس کے عمل (بد کے اثر) سے نجات دے اور مجھے (اس) ظالم قوم سے (بھی) نجات دے۔

[11] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة حدید حاشیہ 19 صفحہ 1330۔ [12] یعنی راستے میں بجھ نہ جائے بلکہ دخول جنت تک باقی رکھ۔ یہ وہ اس وقت کہیں گے جب وہ پل صراط پر سے گزر رہے ہوں گے۔
Ayah 66:12

وَ مَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَ كُتُبِهٖ وَ كَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ۠ Open ayah 66:12 in the Quran reader

اور (دوسری مثال) عمران کی بیٹی مریم کی (دیتا ہے) جس نے اپنی عصمت کو محفوظ رکھا، پھر ہم نے اس کے اندر اپنی طرف سے ایک روح پھونک دی اور اس نے اپنے رب کے کلام اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ ہمارے فرماں بردار بندوں میں سے تھی

[13] یعنی بغیر اس کے کہ ان کا تعلق کسی مرد سے ہوتا، ان کے رحم میں اپنی طرف سے ایک جان ڈال دی۔ [14] یعنی کامل مردوں کی طرح بندگی و اطاعت پر ثابت قدم تھی۔ اس سورت میں جو مثالیں دیں گئی ہیں ان کا مقصود یہ بتانا ہے کہ اللہ کا دین بالکل بےلاگ ہے۔ اس میں ہر شخص کے لئے صرف وہی کچھ ہے جس کا وہ اپنے ایمان اور اعمال کے لحاظ سے مستحق ہو۔ کسی بڑی سے بڑی ہستی کے ساتھ نسبت بھی اس کے لئے قطعاً نافع نہیں ہے اور کسی بری سے بری ہستی کے ساتھ نسبت بھی اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ اس معاملہ میں خاص طور پر ازواج مطہرات کے سامنے تین قسم کی عورتوں کو بطور مثال پیش کیا گیا ہے۔ ایک مثال نوح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کی بیویوں کی ہے، جو اگر ایمان لاتیں اور اپنے جلیل القدر شوہروں کا ساتھ دیتیں تو ان کا مقام امت مسلمہ میں وہی ہوتا جو نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کا ہے۔ لیکن چونکہ انہوں نے اس کے برعکس رویہ اختیار کیا، اس لیے انبیاء کی بیویاں ہونا ان کے کچھ کام نہ آیا اور وہ جہنم کی مستحق ہوئیں۔ دوسری مثال فرعون کی بیوی کی ہے، جو اگرچہ اللہ کے ایک بد ترین دشمن کی بیوی تھیں، لیکن چونکہ وہ ایمان لے آئیں اور انہوں نے قوم فرعون کے عمل سے اپنے عمل کا راستہ الگ کرلیا، اس لئے فرعون جیسے اکفرا لکافرین کی بیوی ہونا بھی ان کے لئے کسی نقصان کا موجب نہ ہوا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں جنت کا مستحق بنادیا۔ تیسری مثال مریم (علیہ السلام) کی ہے جنہیں یہ مرتبہ عظیم اس لئے ملا کہ اللہ نے جس شدید آزمائش میں انہیں ڈالنے کا فیصلہ فرمایا تھا اس کے لئے انہوں نے سر تسلیم خم کردیا۔ مریم (علیہ السلام) کے سوا دنیا میں کسی شریف اور نیک لڑکی کو کبھی ایسی سخت آزمائش میں نہیں ڈالا گیا کہ کنوار پنے ّکی حالت میں اللہ کے حکم سے اس کو معجزے کے طور پر حاملہ کردیا گیا ہو اور اسے بتادیا گیا ہو کہ اس کا رب اس سے کیا خدمت لینا چاہتا ہے۔ جب مریم (علیہ السلام) نے اس پر کوئی واویلا نہ کیا بلکہ ایک سچی مومنہ کی حیثیت سے وہ سب کچھ بر داشت کرنا قبول کرلیا جو اللہ کی مرضی پوری کرنے کے لئے برداشت کرنا ناگزیر تھا۔