67. Surah Al-Mulk

الملكThe Sovereignty · 30 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 67:1–4

تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ Open ayah 67:1 in the Quran reader

وہ (خدا) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے بڑی برکت والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ Open ayah 67:2 in the Quran reader

اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے اور وہ زبردست اور بخشنے والا ہے

الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ Open ayah 67:3 in the Quran reader

اس نے سات آسمان اوپر تلک بنائے (اے دیکھنے والے) کیا تو (خدا) رحمن کی آفرینش میں کچھ نقص دیکھتا ہے ؟ ذرا آنکھ اٹھا کر دیکھ بھلا تجھ کو آسمان میں کوئی شگاف نظر آتا ہے ؟

ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ Open ayah 67:4 in the Quran reader

پھر دوبارہ (سہ بارہ) نظر کر تو نظر (ہر بار) تیرے پاس ناکام اور تھک کر لوٹے گی۔

(تبارک الذی بیدہ الملک) یعنی وہ ہستی بہت عظمت والی اور بلند ہے اس کی بھلائی بہت زیادہ اور اس کا احسان عام ہے۔ یہ اس کی عظمت ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی کا اقتدار اسی کے ہاتھ میں ہے وہی ہے جس نے اس کو پیدا کیا ہے وہ جیسے چاہتا ہے احکام دینی اور احکام قدری میں تصرف کرتا ہے جو اس کی حکمت کے تابع ہوتے ہیں اس کی عظمت اور اس کی قدرت کا کمال ہے جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر قادر ہے اسی قدرت کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات، مثلا آسمان اور زمین کو وجود بخشا اور آیت (خلق الموت والحیوۃ) ، اس نے موت وحیات کو پیدا کیا، یعنی اس نے اپنے بندوں کے مقدر کیا کہ وہ ان کو زندگی عطا کرے پھر موت سے ہم کنار کرے (لیبلوکم ایکم احسن عملا) تاکہ وہ آزمائے کہ تم میں سے کون سب سے زیادہ صاحب اخلاص اور کون سب سے زیادہ راہ صواب پر ہے یہ آزمائش اس طرح ہے کہ اللہ نے اپنے بندوں کو پیدا کرکے ان کو اس دنیا میں بھیجا، انہیں یہ بھی بتادیا کہ انہیں عنقریب یہاں سے منتقل کیا جائے گا ان کو اوامر ونواہی دیے اور اپنے ان اوامر کی معارض شہوات کے ذریعے سے ان کو آزمایا پس جس کسی نے اللہ کے اوامر کے سامنے سرتسلیم خم کردیا تو اللہ اسے دنیا وآخرت میں بہترین جزادے گا اور جو کوئی شہوات نفس کی طرف مائل ہوا اور اللہ کے اوامر کو دور پھینک دیا تو اس کے لیے بدترین سزا ہے (وھوالعزیز) تمام غلبہ اسی کا ہے جس کے ذریعے سے وہ تمام چیزوں پر غالب ہے اور مخلوقات اس کی مطیع ہے (الغفور) وہ بدکاروں، کوتاہی کرنے والوں اور گناہ گاروں کو بخش دیتا ہے خاص طور پر جب وہ توبہ کرکے اس کی طرف رجوع کریں وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے خواہ وہ آسمان کے کناروں تک پہنچے ہوئے ہوں وہ ان کے عیوب کو چھپاتا ہے، خواہ وہ زمین بھر ہوں۔ (الذی خلق سبع سموات طباقا) یعنی اس نے آسمانوں کو ایک ہی طبق نہیں بنایا بلکہ ان کو ایک دوسرے کے اوپر بنایا، ان کو انتہائی خوبصورتی اور مضبوطی کے ساتھ پیدا کیا (ماتری فی خلق الرحمن من تفوات) تم رحمن کی تخلیق میں کوئی بےربطی نہیں دیکھو گے، یعنی خلل اور نقص۔ جب نقص کی ہر لحاط سے نفی ہوگئی تو وہ ہر لحاظ سے خوبصورت، کامل اور متناسب بن گئے، یعنی اپنے رنگ میں، اپنی ہیبت میں، اپنی بلندی میں، اپنے سورج، کواکب، ثوابت اور سیارات میں خوبصورت اور متناسب ہیں چونکہ ان کا کامل معلوم ہے اس لیے اللہ نے ان کو یار بار دیکھنے اور ان کو کناروں میں غور کرنے کا حکم دیا ہے (فارجع البصر) عبرت کی نظر سے دیکھنے کے لیے اس پر دوبارہ نگاہ ڈال (ھل تری من فطور) کیا تجھے کوئی نقص اور خلل نظر آتا ہے ؟ (ثم ارجع البصر کرتین) ۔ پھر لوٹا تو نگاہ کو دوبارہ باربار۔ اس سے مراد کثرت تکرار ہے (ینقلب الیک البصر خاسا وھوحسیر) ، نظر (ہربار) تیرے پاس ناکام اور تھک کرلوٹ آئے گی، یعنی کوئی خلل اور کوئی نقص دیکھنے سے عاجز آکر واپس لوٹے گی اور خواہ وہ خلل دیکھنے کی بےانتہاء خواہش رکھتی ہو، پھر اللہ تبارک وتعالی نے نہایت صراحت کے ساتھ آسمانوں کی خوبصورتی کا ذکر کیا، چناچہ فرمایا۔
Ayahs 67:5–10

وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ Open ayah 67:5 in the Quran reader

اور ہم نے قریب کے آسمان کو (تاروں کے) چراغوں سے زینت دی اور ان کو شیطان کے مارنے کا آلہ بنایا اور ان کے لئے دہکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے

وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 67:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اپنے پروردگار سے انکار کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے

اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ Open ayah 67:7 in the Quran reader

جب وہ اس میں ڈالے جائیں کے تو اس کا چیخنا چلانا سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہوگی۔

تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ Open ayah 67:8 in the Quran reader

گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغہ ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ہدایت کرنیولا نہیں آیا تھا ؟

قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ Open ayah 67:9 in the Quran reader

وہ کہیں گے کیوں نہیں ضرور ہدایت کرنے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور کہا کہ خدا نے تو کوئی چیز نازل ہی نہیں کی۔ تم تو بڑی غلطی میں (پڑے ہوئے) ہو۔

وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:10 in the Quran reader

اور کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو دوزخیوں میں نہ ہوتے

یعنی ہم نے جمال بخشا (السماء الدنیا) دنیا کے آسمان کو، جسے تم دیکھ رہے ہو اور جو تمہارے قریب اور متصل ہے (بمصابیح) ، چراغوں کے ساتھ، اس سے مراد مختلف اقسام کی روشنیاں رکھنے والے ستارے ہیں کیونکہ اگر آسمان میں ستارے نہ ہوتے تو یہ ایک تاریک چھت ہوتی جس میں کوئی حسن و جمال نہ ہو، مگر اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کو آسمان کی زینت، حسن و جمال اور راہ نمایاں جن کے ذریعے سے بحروبر میں راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر کہ اس نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کیا، اس امر کے منافی نہیں کہ بہت سے ستارے ساتوں آسمانوں کے اوپر ہوں کیونکہ آسمان شفاف ہوتے ہیں اور اگر آسمان دنیا پر ستارے نہ بھی ہوں تو ساتوں آسمانوں کے ستاروں کے ذریعے سے آسمان دنیا کو زینت حاصل ہوسکتی ہے۔ (وجعلناھا) اور بنایا ہم نے چراغوں کو (رجوما للشیطان) شیطانوں کو مارنے کا آلہ، جو آسمانوں سے خبر چوری کرنا چاہتے ہیں، پس یہ شہاب جنہیں ستاروں سے شیاطین پر پھینکا جاتا ہے، انہیں اللہ تبارک وتعالی نے دنیا کے اندر شیاطین کے لیے تیار کررکھا ہے (واعتدنالھم) اور آخرت میں ان کے لیے تیار کیا ہے (عذاب السعیر) بھرکتی ہوئی آگ کا عذاب، کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور اس کے بندوں کو گمراہ کیا، اس لیے ان کی پیروی کرنے والے کفار انہی کی مانند ہیں، ان کے لیے بھی اللہ عالی نے جہنم کا عذاب تیار کررکھا ہے، اس لیے فرمایا (وللذین کفروا بربھم عذاب جھنم وبئس المصیر) ، اور جن لوگوں نے اپنے رب کا انکار کیا، ان کے لیے جہنم کا عذاب اور برا ٹھکانا ہے، وہ ایسا ٹھکانہ ہے کہ وہاں کے لوگوں کو بےرسوا کیا جائے گا۔ (اذا القوافیھا) جب ذلت اور رسوائی کے ساتھ ان کو جہنم کے اندر پھینک دیا جائے گا (سمعوا لھا شھیقا) تو وہ جہنم کی بہت بلند اور انتہائی کریہہ آواز سنیں گے (وھی تفور) اور حالت یہ ہوگی کہ جہنم جوش ماررہی ہوگی۔ (تکاد تمیز من الغیظ) گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی، یعنی مجتمع ہونے کے باوجود یوں لگتا ہے کہ وہ ایک دورے سے علیحدہ ہوجائے گی اور کفار پر مارے غیظ وغضب کے پھٹ کر ٹکڑے ہوجائے گی تم سمجھ سکتے ہو کہ ان کو جہنم میں ڈالاجائے گا تو جہنم ان کے ساتھ کیا کرے گی ؟ جہنم کا داروغہ اہل جہنم کو جو زجر وتوبیخ کرے گا، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (کلما القی فیھا فوج سالھم خزنتھا الم یاتکم نذیر) جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغے ان سے پوچھیں گے، کیا تمہارے پاس کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا تھا ؟ یعنی تمہارے اس حال اور تمہارے جہنم کے مستحق ہونے سے یوں لگتا ہے گویا کہ تمہیں اس کے بارے میں آگاہ ہی نہیں کیا گیا اور متنبہ کرنے والوں نے تمہیں کبھی اس سے متنبہ ہی نہیں کیا (قالوا بلی قد جاءنا نذیر فکذبنا وقلنا مانزل اللہ من شئی ان انتم الافی ضلال کبیر) ۔ وہ کہیں گے، کیوں نہیں، ضرور ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلادیا اور کہا کہ اللہ نے کوئی چیز نازل ہی نہیں کی تم تو بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو، پس انہوں نے نبی کی تکذیب خاص اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہر چیز کی تکذیب عام کو جمع کردیا اور انہوں نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے متنبہ کرنے والے رسولوں کو علی الاعلان گمراہ کہا حالانکہ وہی تو راہ دکھانے والے اور سیدھی راہ پر ہیں پھر انہوں نے مجرو گمراہی کے فتوے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کی گمرای کو بہت بڑی گمراہی قرار دیا تب کون ساعنا، تکبر اور ظلم اس کے مشابہ ہوسکتا ہے ؟ (وقالو) رشد و ہدایت کے اہل نہ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے (لوکنا نسمع اور نعقل ماکنا فی اصحاب السعیر) ، اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے، تو دوزخیوں میں نہ ہوتے، پس وہ اپنی ذات سے ہدایت کے تمام راستوں کی نفی کریں گے اور وہ ہیں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ اور رسول کی لائی ہوئی کتاب کو سننا اور عقل جو صاحب عقل کو فائدہ دیتی ہے جو اسے حقائق اشیائ، بھلائی کو ترجیح دینے اور ہراس چیز سے اجتناب کرنے پر ٹھہراتی ہے جس کا انجام قابل مذمت ہو، مگر ان کے پاس تو سماعت ہے نہ عقل۔ ان کا یہ رویہ اہل یقین و عرفان اور ارباب صدق و ایمان کے رویے کے برعکس ہے کیونکہ انہوں نے سمعی دلائل سے اپنے ایمان کی تائید کی اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا اور جو کچھ رسول لے کر آئے انہوں نے اسے حصول علم، معرفت اور عمل کے لیے سنا نیز انہوں نے عقلی دلائل کے ذریعے سے گمراہی میں سے ہدایت، قبیح میں سے حسین اور شر میں سے خیر کی معرفت حاصل کی، وہ اپنے ایمان میں منقول و معقول کی اقتداء کے مطابق تھے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا پاک ہے وہ ذات جو بندوں میں سے جسے چاہتی ہے اپنے فضل کے لیے مختص کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اپنے احسان سے بہر مند کرتی ہے اور جو بھلائی کے قابل نہیں ہوتا اسے تنہا چھوڑ دیتی ہے۔
Ayah 67:11

فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:11 in the Quran reader

پس وہ اپنے گناہوں کا اقرار کرلیں گے سو دوزخیوں کیلئے (رحمت خدا سے) دوری ہے

جہنم میں داخل ہونے والوں اور اپنے ظلم وعناد کا اعتراف کرنے والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، (فاعترفوا بذنبھم فسحقا لاصحاب السعیر) ۔ یعنی ان کے لیے رحمت الٰہی سے دوری، خسارہ اور بدبختی ہے وہ کتنے بدبخت اور کس قدر ہلاکت میں مبتلا ہیں کہ انہوں نے اللہ کے ثواب کو کھودیا اور جہنم کا ایندھن بنے، جو ان کے ابدان میں بھڑکتی رہے گی اور ان کے دلوں سے لپٹتی رہے گی۔
Ayah 67:12

اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 67:12 in the Quran reader

اور جو لوگ بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے۔

اللہ تعالیٰ نے بدبخت فاجروں کا ذکر کیا تو سعادت مند نیک لوگوں کا وصف بھی بیان کیا چناچہ فرمایا (ان الذین یخشون ربھم بالغیب) بیشک وہ لوگ جو اپنے تمام احوال میں اپنے رب سے ڈرتے ہیں حتی کہ وہ اس حالت میں بھی اللہ سے ڈرتے ہیں جس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، پس وہ اس کی نافرمانی کا ارتکاب کرتے ہیں نہ اس کے حکم کی تعمیل میں کوتاہی کرتے ہیں جو ان کو دیا گیا ہے (لھم مغفرۃ) ان کے لیے گناہوں کی بخشش ہے جب اللہ نے ان کے گناہوں کو بخش دیا تو اس نے ان کو ان گناہوں کے شر سے اور جہنم کے عذاب سے بچالیا (و) ، اور، ان کے لیے (اجر کبیر) بڑا اجر ہے جو اللہ نے ان کے لیے جنت میں تیار کررکھا ہے یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمتیں، بہت بڑی بادشاہی، پیہم لذتیں، محلات، بالاخانے، خوبصورت حوریں، خدمت گار اور خدمت کرنے والے لڑکے۔ اس سے بھی عظیم تر اور بڑا اجر رحمن کی رضا ہے جو جنت کے رہنے والوں کو حاصل ہوگی۔
Ayahs 67:13–14

وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 67:13 in the Quran reader

اور تم (لوگ) بات پوشیدہ کہو یا ظاہر وہ دل کے بھیدوں تک سے واقف ہے۔

اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ Open ayah 67:14 in the Quran reader

بھلا جس نے پیدا کیا وہ بیخبر ہے ؟ وہ تو پوشیدہ باتوں کا جاننے والا اور ہر چیز سے آٰگاہ ہے

یہ اللہ تبارک وتعالی کی طرف سے اپنے وسیع علم، بےپایاں لطف و کرم کے بارے میں خبر ہے، چناچہ فرمایا (واسروا قولکم اواجھروا بہ) اور تم پوشیدہ کہو یا ظاہر، یعنی اس کے لیے دونوں برابر ہیں، دونوں میں سے کوئی بات اس سے چھپی نہیں رہ سکتی، پس (انہ علیم بذات الصدور) وہ سینے میں چھپائی ہوئی نیتوں اور ارادوں کو بھی جانتا ہے وہ ان اقوال کو کیوں کر نہیں جانتا جن کو سنا جاسکتا ہے اور جن کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے علم پر عقلی دلیل سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا (الایعلم من خلق) یعنی وہ ہستی جس نے مخلوق کو نہایت مہارت سے اور بہترین طریقے سے پیدا کیا وہ سینوں کے بھید کیونکر نہ جانتی ہوگی ؟ (وھواللطیف الخبیر) اس کے علم وخبر بہت لطیف ہیں حتی کہ وہ سینے کے بھیدوں، ضمیر کے رازوں، تمام چھپی ہوئی چیزوں، خفیہ امور اور غیوب کو جانتا ہے، وہی ہے جو (یعلم السر واخفی) (طہ 7) چھپی ہوئی اور پوشیدہ باتوں کو بھی جانتا ہے۔ (اللطیف) کے معانی میں سے ایک معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے بندے اور دوست کے ساتھ نہایت لطف و کرم سے پیش آتا ہے، اس کے ساتھ احسان اور نیکی اس طرح کرتا ہے کہ اسے شعور تک نہیں ہوتا، وہ اسے شر سے ایسے بچاتا ہے جس کا اسے وہم و گمان نہیں ہوتا، وہ اسے ایسے اسباب کے ذریعے سے اعلی مراتب پر فائز کرتا ہے جو بندے کے تصور میں بھی نہیں ہوتے یہاں تک کہ وہ اسے ناگوار حالات کا مزا چکھاتا ہے تاکہ ان کے ذریعے سے اسے جلیل القدر محبوبات اور اعلی مطالب و مقاصد تک پہنچائے۔
Ayah 67:15

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ Open ayah 67:15 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو نرم کیا تو اس کی راہوں میں چلو پھرو اور خدا کا (دیا ہوا) رزق کھاؤ اور (تم کو) اسی کے پاس (قبروں سے) نکل کر جانا ہے۔

یعنی وہی ہے جس نے زمین کو مسخر کردیا اور اسے تمہارا مطیع کردیا تکاہ تم اس میں سے ہر وہ چیز حاصل کرسکو جس سے تمہاری حاجات متعلق ہیں۔ باغات لگانا، عمارتیں تعمیر کرنا، کھیتیاں اگانا اور ایسی شاہراہیں بنانا جو تمہیں دور دراز ملکوں اور شہروں تک پہنچاتی ہیں (فامشوا فی مناکبھا) پس تم اس کی راہوں میں چلو پھرو یعنی طلب رزق ومکاسب کے لیے (وکلوا من رزقہ والیہ النشور) اور اللہ کے رزق سے کھاؤ اور اسی کی طرف جی اٹھنے کے بعد جانا ہے۔ یعنی اس گھر سے منتقل ہو کر جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے امتحان گاہ اور ایسا وسیلہ بنایا ہے جس کے ذریعے سے آخرت کے گھر تک پہنچا جاتا ہے، تمہارے مرنے کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے پاس اکٹھا کیا جائے گا تاکہ وہ تمہیں تمہارے اچھے اور برے اعمال کی جزا وسزا دے۔
Ayahs 67:16–18

ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ Open ayah 67:16 in the Quran reader

کیا تم اس جو آسمان میں ہے بےخوف ہو کہ تم کو زمین میں دہنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے

اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ Open ayah 67:17 in the Quran reader

کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے نڈر ہو کہ تم پر کنکر بھری ہوا چھوڑ دے سو تم عنقریب جان لو گے کہ میرا ڈرانا کیسا ہے

وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 67:18 in the Quran reader

اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی جھٹلایا تھا سو (دیکھ لو کہ) میرا کیسا عذاب ہوا۔

یہ اس شخص کے لیے تہدید وعید ہے جو اپنی سرکشی، تعدی اور نافرمانی پر جماہوا ہے جو سزا اور عذاب کے نزول کی موجب ہے، چناچہ فرمایا (ء أمنتم من فی السماء) کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے، نڈر ہو۔ اس سے مراد اللہ تعالیٰ ہے جو اپنی مخلوق پر بلند ہے (ان یخسف بکم الارض فاذاھی تمور) کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے، تمہیں لے کر کانپنے لگے اور تم ہلاک اور تباہ و برباد ہوجاؤ گے۔ (أء منتم من فی السماء ان یرسل علیکم حاصبا) کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے، بےخوف ہو کہ وہ تم پر پتھر برسا دے۔ یعنی آسمان سے عذاب نازل کرے، تم پر پتھر برسائے اور اللہ تعالیٰ تم سے انتقام لے (فستعلمون کیف نذیر) یعنی تمہیں عنقریب معلوم ہوگا کہ وہ عذاب تم پر کیسے آتا ہے جس کے بارے میں تمہیں رسولوں اور کتابوں نے ڈرایا تھا۔ پس تم یہ نہ سمجھو کہ اللہ کی طرف سے زمین اور آسمان کے عذاب سے تمہارا محفوظ ومامون ہونا تمہیں کوئی فائدہ دے گا، تم عنقریب اپنے کرتوتوں کا انجام ضرور دیکھو گے، خواہ یہ مدت لمبی ہو یاچھوٹی کیونکہ تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں نے بھی جھٹلایا جیسے تم نے جھٹلایا ہے تو دیکھ لو کیسے اللہ نے انہین اس تکذب سے روکا ؟ اللہ نے آخرت کے عذاب سے پہلے انہیں دنیا میں عذاب کا مزا چکھایا اس لیے ڈرو کہ کہیں تم پر بھی وہی عذاب نازل نہ ہوجائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
Ayah 67:19

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ Open ayah 67:19 in the Quran reader

کیا انہوں نے اپنے سروں پر اڑتے جانوروں کو نہیں دیکھا جو پروں کو پھیلائے رہتے ہیں اور ان کو سکیٹر بھی لیتے ہیں ؟ خدا کے سوا انہیں کوئی تھام نہیں سکتا۔ بیشک وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے

یہ عتاب ہے اور پرندوں کی حالت پر غور کرنے کی ترغیب ہے جن کو اللہ نے مسخر کرلیا اور پھر ان کے لیے فضا اور ہوا کو مسخر کیا جس میں وہ پرواز کے لیے پر پھیلائے پھر تے ہیں، نیچے اترنے کے لیے اپنے پروں کو اکٹھا کرتے اور فضا میں اپنے ارادے اور ضرورت کے مطابق ادھر ادھر تیرتے پھرتے ہیں۔ (مایمسکھن الا الرحمن) انہیں اللہ رحمن ہی تھامے ہوئے ہے پس رحمن ہی ہے جس نے ان کے لیے فضائے بسیط کو مسخر کیا اور ان کو ایسی حالت میں پیدا کیا جو پرواز کے لیے مناسب ہے پس جو کوئی پرندوں کی حالت میں غور کرکے عبرت حاصل کرتا ہے تو ان کی یہ حالت اس کے لیے قدرت الٰہی اور عیانت ربانی پر دلالت کرتی ہے، نیز اس حقیقت پر دلالت کرتی ہے کہ وہ ایک ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں (انہ بکل شئی بصیر) بیشک ہر چیز اس کی نگاہ میں ہے وہ اپنے بندوں کے لیے ان کے لائق احوال اور اپنی حکمت کے تقاضوں کے مطابق تدبیر کرتا ہے۔
Ayahs 67:20–21

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ Open ayah 67:20 in the Quran reader

بھلا ایسا کون ہے جو تمہاری فوج ہو کر خدا کے سوا تمہاری مدد کرسکے کافر تو دھوکے میں ہیں

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ Open ayah 67:21 in the Quran reader

بھلا اگر وہ اپنا رزق بند کرلے تو کون ہے جو تم کو رزق دے ؟ لیکن یہ سرکشی اور نفرت میں پھنسے ہوئے ہیں

اللہ تعالیٰ اپنے امر سے دور بھاگنے اور حق سے رو گردانی کرنے والے سرکشوں سے فرماتا ہے (امن ھذا الذی ھو جندلکم ینصرکم من دون الرحمن) ۔ یعنی جب رحمن تمہارے ساتھ کوئی برائی کرنے کا ارادہ کرے تو کون سا تمہارا لشکر اس برائی کو تم سے دور کرسکتا ہے ؟ یعنی رحمن کے سوا تمہارے دشمنوں کے خلاف کون تمہاری مدد کرسکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی مدد کرنے والا، عزت عطا کرنے والا اور ذلت سے ہم کنار کرنے والا ہے، اور اس کے سوا تمام مخلوق کسی بندے کی مدد کے لیے اکٹھی ہوجائے تو کسی بھی دشمن کے خلاف اس ذرہ بھر فائدہ نہیں دے سکتی، پس کفار کا یہ جان لینے کے بعد کہ رحمن کے سوا کوئی ان کی مدد نہیں کرسکتا، اپنے کفر پر جمے رہنا فریب اور حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ (امن ھذالذی یرزقکم ان امسک رزقہ) یعنی رزق تمام تر اللہ کی طرف سے ہے اگر وہ تم سے رزق کو روک لے تو کون تمہارے لیے رزق بھیج سکتا ہے ؟ کیونکہ مخلوق تو خود اپنے رزق پر قادر نہیں، دوسروں کو کیسے رزق دے سکتی ہے ؟ بندوں کو جو نعمت عطا ہوتی ہے وہ صرف اللہ کی طرف عطا ہوتی ہے پس رزق عطا کرنے والی نعمتوں سے بہر ور کرنے والی ہستی ہی اس بات کی مستحق ہے کہ اسی ایک کی عبادت کی جائے۔ مگر کفار (لجوا) جمے ہوئے ہیں (فی عتو) حق کے معاملے میں سختی اور درشتی میں (ونفور) اور نفرت میں، یعنی حق سے د ور بھاگتے ہی۔
Ayah 67:22

اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 67:22 in the Quran reader

بھلا جو شخص چلتا ہوا منہ کے بل گرپڑتا ہے وہ سیدھے راستے پر ہے یا وہ جو سیدھے راستے پر برابر چل رہا ہو

یعنی ان دو شخصوں میں سے کون زیادہ ہدایت کی راہ پر ہے ؟ کیا وہ شخص جو گمراہی میں سرگشتہ پھرتا ہے، اپنے کفر میں غرق ہے اور اس کی سمجھ الٹ گئی ہے اس کے نزدیک حق باطل اور باطل حق بن چکا ہے یا وہ شخص جو حق کا علم رکھنے والا ہے ؟ ان دونوں اشخاص کے احوال پر مجرد ایک نظر ڈالنے سے ہدایت یافتہ اور گمراہ کے درمیان فرق معلوم ہوجائے گا، احوال، اقوال سے بڑے گواہ ہیں۔
Ayahs 67:23–26

قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 67:23 in the Quran reader

کہہ دو وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے (مگر) تم کم احسان مانتے ہو۔

قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 67:24 in the Quran reader

کہہ دو وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا اور اسی کے روبرو تم جمع کئے جاؤ گے۔

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 67:25 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعید کب (پوری) ہوگی ؟

قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 67:26 in the Quran reader

کہہ دو کہ اس کا علم خدا ہی کو ہے اور میں تو کھول کھول کر ڈر سنا دینے والا ہوں۔

اللہ تعالیٰ یہ حقیقت بیان کرتے ہوئے کہ وہی اکیلا معبود ہے اپنے بندوں کو اپنے شکر کی طرف بلاتے ہوئے اور عبادت میں اپنے متفرد ہونے کی طرف دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے (قل ھوالذی انشاکم) یعنی وہی ہے جو کسی معاون اور مددگار کے بغیر تمہیں عدم سے وجود میں لایا، جب اس نے تمہیں پیدا کیا تو کانوں، آنکھوں اور دلوں کے ساتھ تمہارے وجود کی تکمیل کی جو بدن کے نافع ترین اور کامل ترین جسمانی اعضا ہیں مگر ان نعمتوں کے باوجود (قلیلا ما تشکرون) تم کم ہی اللہ کا شکر ادا کرتے ہو، تم میں شکر گزار لوگ اور شکر گزاری بہت کم ہے۔ (قل ھوالذی ذراکم فی الارض) کہہ دیجئے کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا، یعنی اس نے تمہیں زمین کے چاروں سمت پھیلایا اور اس کے کناروں تک تمہیں آباد کیا، تمہیں امر ونہی کا مکلف کیا، تمہیں یہ معاندین حق، جزا وسزا کے اس وعدے کا انکار کرتے ہیں۔ (ویقولون) اور تکذیب کرتے ہوئے کہتے ہیں (متی ھذا الوعد ان کنتم صادقین) ۔ اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔ انہوں نے انبیاء کی صداقت کی علامت یہ رکھی کہ انہیں قیامت کے دن کی آمد کے وقت کے بارے میں آگاہ کریں، جبکہ یہ ظلم اور عناد ہے۔ پس اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے مخلوق میں سے کسی کے پاس نہیں اور نہ اس خبر اور اس کے وقوع کے وقت کی خبر میں کوئی تلازم ہی ہے کیونکہ صداقت اپنے دلائل سے پہچانی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی صحت پر دلائل وبراہین قائم کردیے ہیں اس شخص کے لیے ادنی سا شک نہیں رہتا جو توجہ کے ساتھ سنتا ہے۔
Ayahs 67:27–30

فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ Open ayah 67:27 in the Quran reader

تو جب وہ دیکھ لیں گے کہ وہ (وعدہ) قریب آگیا تو کافروں کے منہ برے ہوجائیں گے اور (ان سے) کہا جائے گا کہ یہ وہی ہے جس کے تم خواستگار تھے۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 67:28 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر خدا مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر مہربانی کرے تو کون ہے جو کافروں کو دکھ دینے والے عذاب سے پناہ دے

قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 67:29 in the Quran reader

کہہ دو کہ وہ (جو خدائے) رحمن (ہے) ہم اسی پر ایمان لائے اور اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ تم کو جلد معلوم ہوجائیگا کہ صریح گمراہی میں کون پڑ رہا تھا

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠ Open ayah 67:30 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر تمہارا پانی (جو تم پیتے ہو اور برتتے ہو) خشک ہوجائے تو (خدا کے سوا) کون ہے جو تمہارے لیے شیریں پانی کا چشمہ بہا لائے

کفار کی تکذیب اور اس بنا پر ان کے فریب کا محل ومقام اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ اس دنیا میں ہیں جب جزاوسزا کا دن ہوگا اور وہ عذاب کو (زلفۃ) اپنے قریب دیکھیں گے تو یہ انہیں بہت برا لگے گا اور انہیں خوف زدہ کردے گا، ان کے چہرے بدل جائیں گے، ان کی تکذیب پر انہیں زجر وتوبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا، یہ وہی ہے جس کی تم تکذیب کرتے تھے آج تم نے اسے عیاں دیکھ لیا ہے اور تمام معاملہ تمہارے سامنے ظاہر ہوگیا ہے، تمہارے تمام اسباب منقطع ہوگئے ہیں اور اب عذاب بھگتنے کے سوا کچھ باقی نہیں۔ چونکہ رسول مصطفیٰ ﷺ کو جھٹلانے والے جو آپ کی دعوت کو ٹھکراتے تھے، آپ کی ہلاکت اور آپ کے بارے میں گردش زمانہ کے منتظر تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں کہ اگر تمہاری آرزو پوری ہو بھی جائے اور اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کردے تو یہ چیز تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے گی، کیونکہ تم نے اللہ کی آیات کا انکار کیا اور تم عذاب کے مستحق بن گئے۔ پس اب تمہیں دردناک عذاب سے کون بچا سکتا ہے جس کا تم پر واقع ہونا حتمی ہے ؟ تب میری ہلاکت کے بارے میں تمہاری مشقت اور حرص غیر مفید ہے اور وہ تمہارے کچھ کام نہیں آئے گی۔ انہوں نے اپنے اس قول کا، ، کہ وہ ہدایت پر ہیں اور رسول ﷺ گمراہی پر ہیں۔۔ اعادہ کیا، اس کے اظہار میں جرات دکھائی، اس پر جھگڑا اور لڑائی کی۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ وہ اپنے حال اور آپ کی پیروی کرنے والوں کے حال سے آگاہ کردیں جس سے ہر شخص پر ان کی ہدایت اور تقوی واضح ہوجائے اور وہ یہ کہنے کا حکم تھا (اٰمنا بہ وعلیہ توکلنا) ۔ ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے اس پر توکل کیا۔ اور ایمان، باطنی تصدیق اور اعمال باطنہ وظاہر کو شامل ہے۔ چونکہ تمام اعمال کا وجود اور ان کا کمال توکل پر موقوف ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمام اعمال میں سے توکل کا خاص طور پر ذکر کیا ورنہ توکل، ایمان اور اس کے جملہ لوازم میں داخل ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا (وعلی اللہ فتوکلوا ان کنتم مومنین۔ المائدہ 23) اور اللہ ہی پر بھروسا کرو اگر تم مومن ہو۔ جب رسول اللہ اور ان لوگوں کا یہ حال ہے جو آپ کی پیروی کرتے ہیں۔۔۔۔ اور یہ ایسا حال ہے جو فلاح کے لیے متعین ہے اور جس پر سعادت موقوف ہے۔ اور آپ کے دشمنوں کا حال اس کے متضاد ہے پس ان کے پاس ایمان ہے کہ توکل تب اس سے معلوم ہوگیا کہ کون ہدایت پر ہے اور کون کھلی گمراہی میں مبتلا ہے۔ پھر اللہ تبارک وتعالی نے خبر دی کہ وہ نعمتیں عطا کرنے میں اکیلا اور متفرد ہے، خاص طور پر پانی کی نعمت جس سے اللہ نے ہر چیز کو پیدا کیا چناچہ فرمایا (قل ارء یتم ان اصبح ماء کم غورا) کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر تمہارا پانی خشک ہوجائے، یعنی گہرا چلا جائے (فمن یاتیکم بماء معین) تو کون ہے جو تمہارے لیے شیریں پانی کا چشمہ بہالائے۔ جس کو تم خود پیتے ہو، اپنے مویشیوں کو پلاتے ہو اور اپنے باغات اور کھیتوں کو سیراب کرتے ہو ؟ یہ استفہام بمعنی نفی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اس پر قادر نہیں۔