Ayah 67:1تبارک۔ یہ لفظ برکت سے ماخوذ ہے ‘ برکت اس زیادتی کو کہتے ہیں جو زیادتی والے کے کمال پر دلالت کرتی ہے اور مقتضی
نقصان نہیں ہوتی۔ مخلوق کی صفات میں نقص ہونا لازم ہے ‘ اس لیے وہ کمال وصفی جس پر لفظ تبارک دلالت کر رہا ہے صفات مخلوق سے بالکل منزہ ہوگا (گویا تبارک کا معنی ہوا تعالیٰ اور تنزہ) اللہ پر تمام اسماء وصفی کا اطلاق محض نتائج کے لحاظ سے ہوتا ہے۔ مبادی ساقط الاعتبار ہوتے ہیں (مثلاً اللہ کا ایک اسم وصفی رحمن ہے۔ رحمت کا معنی ہے ایسا میلان نفس جس کا نتیجہ مہربانی اور احسان ہو میلان نفس مبدء احسان ہے اور احسان میلان نفس کا نتیجہ اور ظاہر ہے کہ اللہ نفس اور نفسانیات سے پاک ہے اس لیے اس کی ذات میں میلان نفس ہونے کا احتمال ہی نہیں میلان نفس تو حقیقت میں نفس کا تاثر ہوتا ہے۔ کسی قرابت ‘ دوستی یا اور کسی قسم کے تعلق کے زیر اثر دل میں رقت اور جھکاؤ پیدا ہوتا ہے اس رقت اور جھکاؤ کا تقاضا ہوتا ہے کہ جس کو دیکھ کر تاثر ہوا ہے اس کے ساتھ مہربانی کی جائے۔ اللہ میں تاثر کہاں ممکن ہے۔ اثر پذیری ‘ کمزوری اور عجز کی نشانی ہے اور اللہ نہ عاجز ہے نہ ضعیف۔ اس لیے اللہ پر لفظ رحمان کا اطلاق اس اعتبار سے نہیں کہ اس کے اندر میلان نفس پیدا ہوتا ہے بلکہ اس کے رحمن ہونے کا معنی یہ ہے کہ میلان نفس کا جو نتیجہ ہوتا ہے اور جو نفسانی میلان کا (انسان میں) باعث ہوتا ہے یعنی احسان اور مہربانی وہ اللہ میں متحقق ہے ‘ پس اللہ رحمن ہے یعنی محسن ہے ‘ منعم ہے ‘ فضل کرنے والا ہے۔ یہی حالت اللہ کے بابرکت ہونے کی ہے۔ برکت کا معنی ہے زیادتی جس کا تقاضا متبرک کا کمال وصفی اور ہر نقص سے تنزہ ہے۔ اللہ کی شان میں زیادتی مقداری نہیں بلکہ مرتبہ اور تنزہ کی ہے۔ پس اللہ صاحب برکت ہے (یعنی بزرگ ‘ شان و الا اور مشابہت مخلوق سے پاک ہے) اور جس طرح دوسرے عظمت ظاہر کرنے والے صیغے (مثلاً کَبِیْرٌ‘ عَظِیْمٌ‘ مَتَعَالی) اللہ کے کمال وصفی پر دلالت کرتے ہیں ‘ اسی طرح یہ لفظ بھی اس کی بڑائی کو ظاہر کرتا ہے۔
الذی بید الملک . لفظ ” ید “ متشابہات میں سے ہے کیونکہ اللہ جسمانی مادی ہاتھ نہیں رکھتا۔ علماء متاخرین نے ید کی تفسیر قدرت سے کی ہے (یعنی اسی کے قبضہ وقدرت میں ملک ہے) ملک یعنی ہر چیز پر اقتدار اور ہر شے پر تصرف۔
وھو علی کل شیء قدیر . یعنی جس چیز کو وہ چاہے اس پر پردہ قدرت رکھتا ہے۔ (مراد یہ ہے کہ شئ اگرچہ مصدر ہے لیکن اس جگہ اسم مفعول کا معنی مراد ہے یعنی مشئی کے معنی میں ہے مشئی سے مراد ہے وہ چیز جس کو اللہ چاہتا ہے۔ اس صورت میں یہ لفظ معدومات ممکنہ کو شامل ہے اور محال کو شامل نہیں کیونکہ محال واقعی وہی ہوتا ہے جس پر نہ ممکن کو قدرت ہوتی ہے ‘ نہ واجب کو (جیسے اللہ کی صفات کمالیہ کا سلب ‘ ذاتِ الٰہی کا فناء وغیرہ) جس چیز کا اللہ ارادہ کرے اس کو کوئی دفع نہیں کرسکتا اس لیے اس کے سوا کسی سے امید و بیم رکھنا جائز نہیں۔
اس آیت میں گویا اللہ کے وجود ‘ اس کے کمال وصفی اور ہر نقص سے پاک ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے اور دعوے کا تقاضا ہے کہ دلیل بیان کی جائے اس لیے بعد کو آنے والی آیات کو بطور دلیل ذکر فرمایا۔ دعوئے مذکور کے ثبوت کی کچھ نشانیاں تو خود انسانوں میں موجود ہیں یعنی موت وحیات کی پیدائش ‘ کچھ آسمانوں میں موجود ہیں یعنی آسمانوں کی تخلیق کی ہم آہنگی اور ان کے اندر کسی رخنہ کا نہ ہونا ‘ کچھ زمین میں موجود ہیں یعنی زمین کا قابل سکونت ہونا ‘ کچھ زمین کی پیداوار میں موجود ہیں یعنی (زندہ مخلوق کا) رزق (جو بقائے حیات کا سبب ہے) اور پرندوں کے قطار در قطار جھنڈ۔ ان چیزوں کا ذکر تو بطور دلیل کیا گیا ہے (اس سے اللہ کی قدرت ‘ اس کی صفات کاملہ ‘ اس کی ہستی اور اس کا بےعیب ہونا ثابت ہوتا ہے) درمیان میں ذیلی 1 طور سے ان کافروں کے عذاب کا بھی تذکرہ کردیا ہے جو نہ صداء حق سنتے ہیں ‘ نہ دلائل و آیات کو سمجھتے ہیں اور ان اہل ایمان کے ثواب کو بھی بیان کردیا ہے جو اللہ کا خوف رکھتے اور براہین و شواہد کے مطالعہ سے فائدہ اٹھاتے ہیں ‘ فرمایا :
Ayah 67:2الذی خلق الموت والحیاۃ . حیات اللہ کی بھی صفت ہے اور مخلوق کی بھی (مطلق) حیات کے لیے صاحب حیاۃ کا عالم ‘ قادر اور صاحب ارادہ ہونا لازم ہے۔ اللہ نے اپنے ارادہ اور ممکنات کی استعداد (فطری) کے موافق مختلف ممکنات کو مختلف درجات کی زندگی عطا فرمائی ہے۔
ا) کسی مخلوق (یعنی انسان) کو ایسی زندگی عطا فرمائی جس کے نتیجہ میں اللہ کی ذات وصفات کی معرفت اس کو حاصل ہوگئی ‘ یہی وہ امانت ہے جس کو انسان نے برداشت کرلیا اور تمام آسمان ‘ زمین ‘ پہاڑ اس کو اٹھانے سے خوفزدہ ہوگئے ‘ یہ حیات (معرفت اندوز) اللہ کی طرف سے محض القاء نوری کے ذریعہ سے حاصل ہوتی ہے ‘ اس کو اور اس کے مقابل والی موت کو آیت : افمن کان میتا
.........
1 ذیلی ذکر سے مراد یہ ہے کہ دلیل کی تکمیل سے کفار کے عذاب اور اہل ایمان کے ثواب کا تعلق نہیں۔ یہ مراد نہیں کہ عذاب وثواب کا اس جگہ ذکر بےمحل یا غیر مفید یا غیر ضروری ہے کیونکہ اللہ کی ہستی اور اس کی صفات کے منزہ ہونے کا ثبوت آیات کونیہ کو گہری نظر سے دیکھنے اور دیکھنے کے بعد ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے۔ اب ظاہر کہ جو شخص ایمان لائے گا وہ ثواب کا مستحق ہوگا اور جو منکر ہوگا عذاب پائے گا اس لیے عذاب وثواب کا ذکر نہ بےمحل ہوا نہ غیر مفید۔ اس فقیر کے خیال میں اگر تفسیری تقریر اس طرح کی جائے تو زیادہ مناسب ہے کہ آیات مذکورہ میں تمام انسانوں کے لیے درس ہدایت دیا گیا ہے کچھ انسان کسی دعوے کے ثبوت کے لیے براہین و دلائل کے خواستگار ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی ہدایت کے لیے اللہ نے براہین تکوینی بیان کردیں کچھ لوگ کم حوصلہ اور کوتاہ نظر ہوتے ہیں ‘ براہین کو نہیں سمجھتے ان کی قوت مطالعہ ضعیف ہوتی ہے۔ ان کی ہدایت کے لیے اعمال کے اچھے برے نتائج کی تصویر کشی اور ترغیب و ترہیب کافی ہوتی ہے۔ آیات مذکورہ میں ضمنی طور پر ان چیزوں کی بھی صراحت فرما دی ‘ واللہ اعلم۔
فاحییناہ میں بیان فرمایا ہے (یعنی وہ حیات معرفت اندوز سے محروم تھا۔ ہم نے اس کو ایمان و معرفت دے کر زندہ کیا) امام احمد (رح) اور ترمذی (رح) نے ایک حدیث نقل کی ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پیدا کیا پھر ان پر اپنے نور کا کچھ حصہ (یعنی پرتو) ڈال دیا ‘ تو جس کو اس نور کا کچھ حصہ مل گیا اس نے ہدایت پائی اور جس کو نہ ملا وہ گمراہ ہوگیا (اسی لیے) میں کہتا ہوں کہ علم الٰہی کے مطابق لکھ کر قلم خشک ہوگیا۔
ب) کسی مخلوق کو ایسی زندگی بخشی کہ حس اور حیوانی حرکت کو وہ اپنے ساتھ لے آئی ‘ اس حیات اور اس کے مقابل (موت حیوانی) کی تعبیر اس آیت میں فرمائی ہے : کنتم امواتا فاحیاکم یمیتکم ثم یحییکم۔ تم بےحس و حرکت تھے ‘ اللہ نے تم کو حیات (حیوانی) عطا کی پھر وہ تم کو بےحس و حرکت کر دے گا پھر زندگی عطا کرے گا۔
ج) کسی مخلوق کو ایسی زندگی عطا کی کہ وہ اپنے ساتھ صرف نمو (تناسب طبعی کے موافق لمبائی ‘ چوڑائی اور موٹائی میں بیشی) لاتی ہے ‘ اس حیات (نباتی) کو اس آیت میں ظاہر فرمایا ہے : یحییٰ الارض بعد موتھا۔ یعنی زمین کے خشک ہونے کے بعد اللہ اس کو نباتی زندگی عطا فرماتا ہے ‘ یہ تینوں زندگیاں روح انسانی ‘ روح حیوانی اور نفس نباتی پھونکے جانے سے حاصل ہوتی ہے۔ جمادات میں ان تینوں اقسام میں سے کسی قسم کی زندگی نہیں ہے اس لیے بتوں کے متعلق فرمایا : اموات غیر احیاء۔ لیکن جمادات بھی ایک گونہ زندگی سے بےبہرہ نہیں ہیں۔ آیت : وان منھا لما یھبط من خشیۃ اللہ اس پر دلالت کر رہی ہے۔ اس آیت کی تفسیر سورة بقر میں گزر چکی ہے۔ حیات جمادی تو (ہر قسم کے) وجود کے لیے لازم ہے۔ اللہ نے فرمایا : وان من شیء الا یسبح بحمدہ۔ ہر چیز اللہ کی پاکی اور ثناء کا اظہار کرتی ہے (اور بغیر حیات کے نہ تسبیح ممکن ہے ‘ نہ حمد 1 ) ۔
موت کا معنی ہے مطلقاً زندگی نہ ہونا یا ایسی چیز میں زندگی نہ ہونا جو زندہ ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے (جیسے نابینا ‘ انسان یا حیوان کو ہی کہا جاتا ہے کیونکہ انہی میں بینا ہونے کی صلاحیت ہوتی ہے ‘ دیوار کو نابینا نہیں کہا جاتا ‘ کیونکہ دیوار میں بینا ہونے کی صلاحیت ہی نہیں ہے) بصورتِ اوّل موت وحیات میں نفی و اثبات کا تقابل ہے اور بصورتِ دوئم عدم و ملکہ کا تقابل ہے۔ دونوں صورتوں میں موت ایک وصف عدمی ہوگا جس کا تقاضا ہے کہ حقیقت ممکن کا عدم حیات عارضہ پر مقدم ہے (یعنی موت کو حیات پر تقدم حاصل ہے) ہم نے جو آیات اوپر نقل کی ہیں یعنی : او من کان میتا فاجیناہ اور آیت : کنتم امواتا فاحیاکم اور آیت یحییٰ الارض بعد موتھا اور آیت : کن فیکون یہ تمام آیات اسی مضمون کی طرف راہنمائی کر رہی ہیں اور چونکہ موت کو زندگی پر طبعی تقدم حاصل ہے اس لیے جگہ خلق الموت والحیاۃ میں بھی موت کا ذکر حیات سے پہلے کیا۔
کچھ علماء موت کو صفت وجودی قرار دیتے ہیں (یعنی جس طرح زندگی) ایک امر وجودی ہے ایس طرح موت بھی ایک وجودی مخلوق ہے) اس صورت میں موت وحیات کے درمیان تقابل تضاد ہوگا۔ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہوں گی گویا علم ‘ قدرت ‘ احساس ‘ حرکت وغیرہ سے جسم کو روکنے والی جسمانی کیفیات کا نام موت ہوگا۔ اس قول کے ثبوت میں آیت : خلق الموت والحیاۃ کو پیش کیا گیا ہے تخلیق موت کا تقاضا ہے کہ موت امر وجودی ہو کیونکہ (جو چیز اصلاً معدوم ہے وہ مخلوق نہیں) اعدام اصلیہ مخلوق نہیں ہیں۔
..........
1 امام رازی (رح) اور دوسرے اکابر اہل تفسیر نے تسبیح جمادی کو حالی تسبیح قرار دیا ہے یعنی ہر چیز کی فطرت ‘ خلقت ‘ بناوٹ اور پر حکمت صنعت خالق کی حکمت ‘ قدرت اور توحید پر دلالت کر رہی ہے مگر یہ فقیر اکابر کرام کی اس تشریح کو سمجھنے سے قاصر رہا کیونکہ مخلوق سے خالق اور مصنوع سے صانع کی قدرت حکمت اور توحید پر استدلال تو ہر ہوش مند کرتا اور ہر سمجھدار اس کو سمجھتا ہے اگر تسبیح سے یہی دلالت حال مراد ہے تو پھر اس سے آگے ولکن لا تفتھون کیوں فرمایا اور کیوں انسانی دانش کو ہر چیز کی تسبیح حالی سمجھنے سے قاصر قرار دیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز کی تسبیح سے تسبیح مقالی مراد ہے مگر ہر نوع کا مقالی جدا جدا ہے۔ ہر ایک کی زبان الگ ہے اور انسان دوسری مخلوق کی زبان نہیں جانتا ‘ اسی لیے اس کی تسبیح نہیں سمجھتا۔ شاید حضرت قاضی صاحب نے ایک گونہ حیات جمادی کی صراحت کی ہے ‘ اس سے اسی طرح اشارہ ہے۔ 12
ہم اس قول کی تردید میں کہتے ہیں کہ موت کوئی انضمامی امر نہیں کہ باہر سے لا کر جسم کے ساتھ اس کو ملا دیا جاتا ہو بلکہ ایک انتزاعی صفت ہے جو مردوں کے اجسام سے انتزاع کی جاتی ہے (امر انتزاعی کا وجود محض انتزاعی ہوتا ہے ‘ انتزاع کرنے والا عمل کسی سے اپنے دماغ میں کسی وصف کا انتزاع کرلیتا ہے۔ اگر انتزاع کرنے والا عمل انتزاع نہ کرے تو اس وصف کا کوئی وجود واقعی نہیں ہوتا) گویا امر انتزاعی اختراعی ہوتا ہے اور زمینی خارج میں امر انتزاعی کا کوئی متصل وجود نہیں ہوتا۔ پس موت بھی ایسی ہی ایک چیز ہے کہ مردہ کو دیکھ کر دماغ اس سے عدم حس و ارادہ اور فقدان حرکت و عمل کا مفہوم اخذ کرلیتا ہے (ورنہ عدم حسن ‘ عدم ارادہ ‘ عدم حرکت و عمل کوئی خارجی چیزیں نہیں ہیں) جس طرح نابینا کو دیکھ کر نابینائی کا انتزاع کیا جاتا ہے۔ بصیرت کشف کا فیصلہ ہے کہ علم الٰہی میں ہر چیز اپنی نقیض کے ساتھ الگ الگ امتیاز کو لیے ہوئے موجود تھی اور ہے ‘ زندگی اور اس کی نقیض موت ‘ علم اور اس کی نقیض جہالت ‘ قدرت اور عجز ‘ بینائی اور نابینائی غرض تمام اعدام اصلیہ اپنے نقائض اضافی کے ساتھ علم الٰہی میں ثابت ہیں جس رنگ سے صفات کمالیہ رنگین ہیں اسی رنگ سے اس مرتبہ میں ثبوت اور تقرر رکھتی ہیں ‘ یہی حقائق کونیہ اور اعیان ثابتہ ہیں جو اگرچہ بجائے خود صفات کا پر تو ہیں لیکن آنے والے وجود خارجی کی اصل بھی ہیں اور موجودات خارجیہ انہی کے سائے میں ہر ماہیت (وجود خارجی سے پہلے) درجۂ تقرر و ثبوت میں کون اوّل کہلاتی ہے تمام ممکنات خارجیہ اعیان ثابتہ کے سائے ہیں ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ مبدء فیاض (خالق کائنات) سے ہر ممکن کو وجود خارجی عطا ہوتا ہے وہ ثبوت کونی یا تقرر علمی کی وساطت سے ہوتا ہے۔ اعیان ثابتہ کے حجاب زجاجی (لیمپ کی چمنی) سے نور وجودچھن کر باہر آتا ہے اسی کی طرف آیت : مثل نورہ کمشکٰوۃ فیھا مصباح المصباح فی زجاجۃ میں اشارہ کیا گیا ہے۔
لیکن یاد رکھو کہ صفات اور ممکنات خارجیہ کے درمیان اعیان ثابتہ کی وساطت صرف اسی دنیا میں ہے ‘ آخرت میں وجود اور صفات وجود کا فیضان مبدء فیاض کی طرف سے اعیان ثابتہ کی وساطت کے بغیر ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں تمام ممکنات آماجگاہ فناء ہیں اور آخرت میں کسی کے لیے فنا نہیں۔ پس آیات مذکورہ یعنی : کنتم امواتا فاحیاکم اور او من کان میتا فاییناہ واضح دلالت کر رہی ہیں کہ موت صفت ممکن ہے اور حیات پر مقدم ہے۔ رہا خَلَقَ الْمَوْتَ کا معنی تو اس جگہ خلق کا معنی اظہار ہے یعنی حیات کو موجود کر کے یا زائل کر کے اللہ نے موت کو ظاہر کیا یا یہ مطلب ہے کہ اللہ نے مردوں کو اس طرح کردیا کہ عدم حیات ان سے منتزع ہوتی ہے۔ خلق کا معنی تقدیر (اندازہ کرنا) بھی ہے یعنی اللہ نے موت وحیات کا اندازہ کرلیا۔
بغوی نے بروایت عطاء حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ نے دنیا میں موت کو خلق (مقدر) کردیا ہے اور آخرت میں (دوامی) زندگی کو۔ میں کہتا ہوں شاید حضرت ابن عباس ؓ کی مراد یہ ہے کہ اللہ نے دنیوی زندگی کی تعبیر موت سے اور آخرت کی زندگی کی تعبیر حیات سے فرمائی ہے کیونکہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ اعیان ثابتہ ممکنات خارجیہ کے اصول ہیں اور تمام موجودات ممکنہ کی حقیقت میں عدم داخل ہے۔ اس لیے دنیوی زندگی موت کی آمیزش سے خالی نہیں اور فی الحال اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّاِنَّھُمْ مَّیِّتُوْنَ اور کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ اور کُلُّ شَیْ ءٍ ھَالِکٌ کہنا صحیح ہے کیونکہ صیغۂ مشتق (اسم فاعل۔ صفت مشبہ وغیرہ) کا حال میں استعمال حقیقی ہے اور ماضی و مستقبل کے معنی میں مجازی۔
ایک گروہ کا خیال ہے کہ موت عرض نہیں بلکہ جسم ہے ‘ اس کی پیدائشی شکل مینڈھے کی ہے اور زندگی کی پیدائشی صورت گھوڑی کی بدورسافرہ میں سیوطی (رح) نے اسی قول کو اختیار کیا ہے۔ اس قول کی بنیاد حضرت ابن عباس ؓ کے اس قول پر ہے جس کو بغوی نے نقل کیا ہے کہ اللہ نے موت کو چتکبرے مینڈھے کی شکل پر اور زندگی کو چتکبری گھوڑی کی شکل پر پیدا کیا ہے۔ موت کا مینڈھا جس طرف سے گزرتا ہے اور جس کو اس کی بو بھی آجاتی ہے ‘ وہ مرجاتا ہے اور زندگی کی گھوڑی وہی تھی جس پر جبرئیل اور تمام انبیاء ( علیہ السلام) سوار ہوتے تھے۔ جس چیز کی طرف سے یہ گھوڑی گزرتی تھی اور جو چیز اس کی بو سونگھ لیتی تھی وہ زندہ ہوجاتی تھی۔ اسی گھوڑی کے قدم کے نیچے کی مٹھی بھر خاک سامری نے لے کر بچھڑے کے اندر ڈالی تھی ‘ جس کی وجہ سے وہ زندہ ہوگیا تھا۔
میں کہتا ہوں اس رروایت سے یہ ثابت نہیں ہوتا ہے کہ موت اور زندگی صفت نہیں ‘ جسم ہے بلکہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ چتکبرے مینڈھے کی شکل کا ایک جسم ہے جس کو موت کہا جاتا ہے اور گھوڑی کی شکل کا ایک جسم ہے جس کو زندگی کہا جاتا ہے اوّل الذکر جس چیز کی طرف سے گزرتا ہے اور وہ چیز اس کی بو پا لیتی ہے تو مرجاتی ہے اور مؤخر الذکر جس چیز کی طرف سے گزرتا ہے تو وہ چیز زندہ ہوجاتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ موت و زندگی بعینہٖ اس حیوان کے جسم کا نام ہے بلکہ جس طرح زہر کے قرب سے ایک خاص اثر مرتب ہوتا ہے اسی طرح ان دونوں جانوروں کے گزرنے اور ان کی بو محسوس کرنے سے ایک اثر پیدا ہوجاتا ہے جو موت و زندگی ہے۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے ایک حدیث آئی ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا : جب دوزخی دوزخ کو (اور جنتی جنت کو) جا چکیں گے تو موت کو لا کر دوزخ اور جنت کے درمیان ذبح کردیا جائے گا اور پھر ایک پکارنے والا پکارے گا : اے اہل جنت (آئندہ) موت نہیں اور اے دوزخ والو ‘ آئندہ موت نہیں ‘ اس وقت جنت والوں کی مسرّت بالائے مسرت ہوگی اور دوزخیوں کا رنج بالائے رنج۔ صحیحین میں حضرت ابن سعید کی روایت سے ایک حدیث آئی ہے جس میں حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن موت کو چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لا کر دوزخ و جنت کے درمیان کھڑا کیا جائے گا۔ اس حدیث کے آخر میں ہے پھر اس کو حکم کے مطابق ذبح کردیا جائے گا۔ حاکم اور ابن حبان نے بیان کیا اور حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : موت کو چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا ‘ الخ۔
ان روایات کے سلسلہ میں سلف کا طریقہ یہ رہا ہے کہ ان کے معنی پر غور نہ کیا جائے ‘ صرف مان لیا جائے اور دوسرے متشابہات کی طرح ان کے (حقیقی) علم کو اللہ کے سپرد کردیا جائے اور (کہہ دیا جائے ہمارا ان پر ایمان ہے اور ان کی حقیقت اللہ ہی جانتا ہے) سیوطی (رح) نے حکیم ترمذی کا یہی قول نقل کیا ہے لیکن صوفیہ صافیہ کو چونکہ عالم مثال کا بھی کشف ہوتا ہے اور عالم مثال میں ہر جوہر ‘ عرض بلکہ ہر غیر مادی چیز بلکہ باری تعالیٰ کی بھی ایک شکل ہے باوجودیکہ اللہ ہر شبہات سے پاک ہے اور عالم مثال پر ہی اس حدیث کو محمول کیا جاتا ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ میں نے اپنے رب کو بےریش و بروت جوان کی شکل میں دیکھا ‘ اس کے دونوں پاؤں میں سونے کی جوتیاں تھیں۔
کبھی اللہ کی قدرت سے صورت مثالیہ عالم مثال سے عالم شہادت کی طرف منتقل ہو کر آجاتی ہے۔ بکثرت اولیاء کی اس سلسلہ میں کرامتیں مشہور ہیں تو ممکن ہے کہ قیامت کے دن خدائے تعالیٰ عالم مثال سے موت کی صورت مثالیہ لوگوں کے سامنے لے آئے اور بحکم الٰہی اس کو ذبح کردیا جائے تاکہ جنت اور دوزخ والے سمجھ جائیں کہ (موجودہ مکان میں) ہمیشہ رہنا ہے (آئندہ کبھی) موت نہیں ہوگی۔ اسلام ‘ ایمان ‘ قرآن ‘ اعمال ‘ امانت ‘ رحم اور دنیوی ایّام کے حشر کا جو صحیح احادیث میں تذکرہ آیا ہے اس کی مراد بھی یہی ہے کہ (عالم مثال میں چونکہ ان سب کی صورتیں ہیں وہی صورتیں سامنے لے آئی جائیں گی) ۔
سیوطی (رح) نے بدورسافرہ میں بیان کیا ہے کہ تمام اعمال اور معانی (یعنی اجسام کے علاوہ) بھی مخلوق ہیں ‘ جن کی صورتیں اگرچہ ہم کو نظر نہیں آتیں لیکن اللہ کے علم میں ان کی صورتیں ہیں۔ اہل حقیقت نے صراحت کی ہے کہ معافی کی حقیقتوں سے واقف ہونا اور ان کا بصورت جسمانی مشاہدہ کرنا کشف (اولیاء) کی ایک خاص قسم ہے۔ احادیث اس کی بکثرت شاہد ہیں (انتہیٰ ) سیوطی (رح) کا یہ قول عالم مثال کا بیان ہے (اولیاء کو عالم مثال ہی کا کشف ہوتا ہے عالم مثال ہی میں وہ معانی کی صورتیں دیکھتے ہیں) ۔
لیبلوکم . یعنی اوامرو نواہی کا پابند بنا کر اللہ تمہارے ساتھ بھی ویسا ہی عمل کرنا چاہتا ہے جیسا ممتحن ‘ امتحان دینے والوں کے ساتھ (انکے درجات کو الگ الگ کردینے کے لیے) کرنا چاہتا ہے (مطلب یہ ہے کہ بندوں کو مکلف کرنا بصورت امتحان ہے لیکن یہ امتحان اس لیے نہیں کہ اللہ کو بندوں کی وہ حالت معلوم ہوجائے جو پہلے معلوم نہ تھی بلکہ اس لیے ہے کہ بندوں کے درجات کو الگ الگ کردیا جائے ‘ کوئی دوزخی اور کوئی جنتی ہوجائے) ۔
اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً . یہ جملہ لیبلوکم کا مفعول دوئم ہے۔ بغوی نے بروایت حضرت ابن عمر ؓ مرفوعاً بیان کیا ہے کہ اَحْسَنُ عَمَلاً (یعنی) کون زیادہ اچھی سمجھ رکھتا ہے اور کون ممنوعاتِ الٰہیہ سے اپنے نفس کی بازداشت کرنے والا ہے اور کون اطاعت الٰہیہ میں زیادہ سرگرم ہے (گویا عمل سے مراد ہے فہم ‘ تقویٰ اور اطاعت) لیبلوکم کا تعلق خلق الموت والحیاۃ سے ہے یعنی تخلیق موت وحیات کی حکمت یہ ہے کہ فرمانبردار اور نافرمان کا (جدا ‘ جدا) ظہور ہوجائے کیونکہ اوامرو نواہی کا پابند بنانے کا مدار زندگی پر ہے ‘ زندگی ہی کی وجہ سے تعمیل احکام کی قدرت حاصل ہوتی ہے اور موت ایک وعظ ہے جس سے دانش مند نصیحت اندوز ہوتا ہے اور آخرت کے لیے توشہ فراہم کرنے کا موقع غنیمت سمجھتا ہے۔
حیات و موت کا انقلاب صانع حکیم و مختار کے وجود کی دلیل ہے۔ حضرت عمار بن یاسر ؓ کی مرفوع روایت ہے : موت سب سے بڑا وعظ اور ایمان سب سے بڑی دولت۔ (رواہ الطبرانی)
امام شافعی (رح) اور امام احمد (رح) نے ربیع بن انس کا مرسل قول نقل کیا ہے کہ دنیا سے بےرغبت بنانے اور آخرت کی اندرونی طلب پیدا کرنے کے لیے موت کافی ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے سات چیزوں سے پہلے عمل کرلو جو تمہارے سامنے آئیں گی : 1) ایسا افلاس جو (خدا اور احکام خدا کو) فراموش کرا دے ‘ 2) ایسی دولت جو سرکش بنا دے ‘ 3) تباہ کن بیماری ‘ 4) بےعلم بنا دینے والا بڑھاپا ‘ 5) (دُنیا کو چھڑا دینے والی) موت ‘ 6) دجال ‘ یہ ایسا شر ہے جس کا (ہر پیغمبر کے زمانہ میں) انتظار کیا جاتا رہا ہے ‘ 7) اور قیامت کی ساعت جو سب سے بڑی مصیبت اور تلخ ترین حقیقت ہے۔ ترمذی اور حاکم نے اس حدیث کو بیان کیا ہے کہ چھ چیزوں سے پہلے (اصلاح اعمال) کرلو : 1) مغرب سے آفتاب کا طلوع ‘ 2) دھواں ‘ 3) دابۃ الارض ‘ 4) دجال ‘ 5) وہ چیز جو ہر شخص کے لیے مخصوص ہے یعنی موت ‘ 6) اور وہ امر جو عمومی ہوگا یعنی قیامت۔ بیہقی نے حضرت ابو امامہ کی روایت سے اسی طرح کی حدیث نقل کی ہے۔
وھو العزیز . یعنی نافرمانوں سے انتقام لینے پر خدا غالب ہے۔
الغفور . یعنی جس کو چاہے بخشنے والا ہے۔
Ayah 67:3الذی خلق . یہ ھُوَ کی دوسری خبر یا الغفور کی صفت یا موصول اوّل (یعنی الذی بیدہ الملک) سے بدل ہے۔
سبع سموات طباقا . یعنی طبقات والے سات آسمان۔ طباق۔ طبق کی جمع ہے جیسے حبال ‘ حبل کی ‘ یا طبقۃٌ کی جمع ہے جیسے رحاب ‘ رَحْبَۃٌکی ‘ یا طباقافعل محذوف کا مصدر ہے (یعنی مفعول مطلق ہے) موچی اگر جوتے کو تہ بہ تہ کر کے سیتا ہے تو کہتے ہیں : طابق النَّعل۔ بہرحال لفظ طباق جمع ہو یا فعل محذوف کا مصدر سَمٰوٰتٍ کی صفت ہے یا حال ہے۔ سماوات سبع اور ان کی درمیانی مسافت کا بیان سورة بقر میں لکھا جا چکا ہے۔
ما تری . یہ خطاب صرف رسول اللہ ﷺ کو ہے یا مخاطب عام ہے کوئی ہو اس میں ما نفی کے لیے ہے یا استفہام
انکاری کے لیے۔ مؤخر الذکر صورت میں ما لفظ تَرٰیکا مفعول مقدم ہوگا۔
فی خلق الرحمن . خلق کی اضافت عہدی ہے۔ سماوات سبع جن کا ذکر اوپر کیا جا چکا ہے ‘ مراد یہ ہے۔ تعریف جنس کے لیے اضافت نہیں ہے (یعنی عمومی مخلوق مراد نہیں ہے بلکہ آسمان ہی مراد ہیں) کیونکہ جنس خلق میں تو بہت زیادہ واضح تفاوت ہے۔
الرحمٰن کی جانب خلق کی اضافت تعظیمی ہے (یعنی رحمن اتنا عظیم الشان ہے کہ ساتوں آسمان اسی کے پیدا کیے ہوئے ہیں) ہاں ! اگر تفاوت سے مراد ہو عدم تناسب اور توازن ضروری سے تجاوز (یعنی نقص اور عیب) تو اضافت جنسی ہوسکتی ہے (کیونکہ کسی مخلوق میں تخلیقی عدم تناسب اور نقص نہیں ہے) اس وقت عبارت کا مقتضا (یعنی مفہوم لازم) یہ ہوگا کہ مخلوق کی پیدائش جن احوال کے ساتھ ہوئی ہے ‘ ان سے بہتر احوال کا امکان ہی نہ تھا۔ یعنی مجموعی اعتبار سے اس سے اعلیٰ نظام ممکن نہ تھا۔
من تفاوت لفظ من زائد ہے یا تبعیض کے لیے ہے (یعنی کچھ بھی تفاوت) بشرطیکہ ما کو نافیہ قرار دیا جائے لیکن اگر ما کو سوالیہ کہا جائے تو من بیانیہ ہوگا۔
پورا جملہ (ما تری فی خلق الرحمٰن من تفاوت) سبع سماوات کا حال ہے یا خلق کے فاعل یا اس کے مفعول سے حال ہے۔
(بجائے فی خلقہ کہنے کے فی خلق الرحمٰن کہنے میں یعنی بجائے ضمیر لانے کے الرحمٰن کا لفظ ذکر کرنے میں یا (بجائے فیہ کہنے کے) فی خلق الرحمٰن کہنے میں آسمانوں کی تخلیق کے لیے بےعیب اور ناقص نہ ہونے کی صراحت ہے کیونکہ ان کی تخلیق ایسی ذات کی طرف منسوب ہے جو ہر عیب سے پاک اور رحمت سے متصف ہے (اس لیے اس کی تخلیق بھی ناقص نہیں ہوسکتی) یا کَیْفَ خُلِقَتْ سوال محذوف ہے اور یہ جملہ پہلے کلام سے بالکل الگ ‘ سوال محذوف کا جواب ہے۔ مراد یہ ہے کہ تعمیر انسانی کی طرح تخلیق خداوندی میں کوئی خرابی اور نقص نہیں ہے۔
فارجع البصر . یہ شرط محذوف کی جزاء ہے یعنی اگر تمہارا خیال ہو کہ بار بار دیکھنے سے آسمان کی تخلیق میں کچھ عدم تناسب دکھائی دے گا تو پھر دیکھ لو۔
ھل تری من فطور . تم کو کوئی شگاف نظر نہ آئے گا۔ فطور کا لفظ فطرہ (اس کو پھاڑ دیا) سے ماخوذ ہے اس میں لفظ مِنْ زائد ہے یا تبعیض کے لیے ہے (کوئی شگاف) اور استفہام تقریری ہے۔
Ayah 67:4ثم ارجع البصر کر تین . اس جملہ کا عطف فارجع پر ہے اور تثنیہ (یعنی لفظ کر تین جو کرۃٌ کا تثنیہ ہے)
تکثیر کے لیے ہے (صرف دو مرتبہ دیکھنا مراد نہیں ہے بلکہ) بار بار دیکھنا مراد ہے جیسے لفظ لبیک میں (صرف دو مرتبہ حاضری مراد نہیں بلکہ بکثرت حاضری مراد ہے) ۔
ینقلب . ب ساکن ہے یہ (ارجع) امر کا جواب ہے۔
الیک البصر خاسئا . دھتکاری ہوئی خاسئی کا معنی ہے ناکام ‘ نامراد ‘ ذلت اور حقارت کے ساتھ دور پھینکا ہوا۔
وھو حسیر . ینقلب کے فاعل یعنی لبصر کا پہلا حال خاسئا تھا۔ یہ دوسرا حال ہے حسیر کا معنی ہے ماندہ یعنی
بار بار دیکھنے سے تھکی ہوئی۔
بغوی نے کعب کا قول نقل کیا ہے کہ نچلا دنیوی آسمان موج بستہ ہے (یعنی لہریں ہے جن کو روک دیا گیا ہے) دوسرا آسمان سفید زمرد کا ہے ‘ تیسرا لوہے کا ‘ چوتھا پیتل کا ‘ پانچواں چاندی کا ‘ چھٹا سونے کا ‘ ساتواں یاقوت سرخ کا ‘ ساتویں آسمان اور ذات خداوندی کے حجابوں کے درمیان نور کے سات صحراء ہیں۔
Ayah 67:5ولقد زینا السما الدنیا . یعنی نچلا آسمان جو زمین سے (بہ نسبت دوسرے آسمان کے) قریب ہے۔
بمصابیح . مصابیح سے مراد ہیں ستارے ‘ یہ تاریکی کے چراغ ہیں ‘ ان سے راستہ مل جاتا ہے۔
یہ آیت بتارہی ہے کہ تمام تارے دنیاوی آسمان میں پیوست ہیں ‘ اس صراحت کے خلاف علماء فلکیات کا قول بےدلیل ہے ‘ ستاروں کی حرکات کے تعدد سے ہر ستارہ کے لیے جدا فلک ہونے پر استدلال کرنا نامکمل ہے۔ جب تک آسمان کا فرق ٗوالیتام (پھٹنا اور جڑنا یعنی عنصری اجسام کی طرح اس کے اندر تو ڑجوڑ ہونا) محال ثابت نہ کردیا جائے اس وقت تک (ضخامت فلک کے اندر ستاروں کی پیوستگی اور سیر کا محال ہونا اور) ہر ستارہ کا خصوصی فلک ہونا ثابت نہیں ہوسکتا۔ جسم آسمان کا توڑ جوڑ عقلاً جائز ہے اور شرعاً ضروری۔
وجعلنا ھا رجوما للشیطان . یعنی شیاطین جب (ملائکہ کی باتیں) چوری سے سننا چاہتے ہیں تو ان کے مارنے کے لیے ستاروں کو ہم نے آتشی پتھر بنایا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ستارے اپنی جگہ سے ہٹ کر شیطانوں پر پتھروں کی طرح برستے ہیں بلکہ ان سے مجسم شعلے ٹوٹ کر شیطانوں پر پڑتے ہیں۔
واعتدنا لھم . اور آخرت میں ہم نے ان کے لیے تیار کر رکھا ہے۔
عذاب السعیر . دھکتی آگ کا عذاب۔
اِس کلام میں شیاطین کے عذاب کا ذکر آیا تھا ‘ اس لیے اس سے متصل عام کافروں کے عذاب کا ذکر فرمایا کیونکہ شیطان بھی کافروں کے گروہ میں شامل ہیں اور کافر بھی شیطانوں کے بھائی ہیں ‘ فرمایا :
Ayah 67:6وللذین کفروا .. المصیر .
اور جنہوں نے اپنے رب کا انکار کیا ‘ ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ (جہنم) برا ٹھکانا ہے۔
Ayah 67:7اذا القوا فیھا . جب کافروں کو جہنم میں ڈالا جائے گا۔
سمعوا لھا شھیقا . شہیق ‘ گدھے کی آواز یعنی گدھے جیسی آواز جہنم کی آگ سے نکلتی ہوئی سنیں گے۔ یہ آگ کی آواز ہوگی یا ان لوگوں کی جو ان داخل ہونے والوں سے پہلے جہنم میں جا چکے ہوں گے یا خود ان کی ہوگی۔ لھا حال ہے شھیقًا کا شھیقًا نکرہ تھا ‘ اس لیے حال کو اس سے پہلے ذکر کردیا۔
وھی تفور . ہانڈی کی طرح جہنم میں ابال آتا ہوگا ‘ ہناد نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ جس طرح کم پانی والے کنوئیں سے کبھی پانی اوپر کو ابلتا ہے ‘ اسی طرح کافروں کے داخلہ کے بعد جہنم میں ابال آئیگا۔ یہاں مجازی معنی (جوش کی شدت) مراد ہے۔
Ayah 67:8تکاد تمیز من الغیظ . من الغیظ کا تعلق تمیز سے ہے اور پورے جملہ میں تفور کے فاعل (یعنی جہنم) کی حالت بیان کی ہے اور جملہ وھی تفور لھا کی ضمیر سے حال ہے ‘ غیظ سے مراد یا اللہ کا غضب ہے یا عذاب کے فرشتوں کا غضب یا خود آگ کا غصہ ہے جو اللہ کے دشمنوں پر ہوگا۔ آگ کی طرف غیظ کی نسبت مجازی ہے بطور استعارہ یا حقیقی ہے لیکن حقیقی نسبت اس وقت ہوگی جب آگ کا صاحب شعور ہونا ثابت کردیا جائے ‘ جس طرح جمادات کا شعور ہم نے ثابت کیا ہے۔
کلما القی فیھا فوج . فوج سے مراد ہے کافروں کی جماعت۔
سالھم خزنتھا . جب کافروں کی کوئی جماعت دوزخ کے اندر ڈالی گئی تو دوزخ کے نگرانوں نے زجر و تذلیل کے طور پر ان سے پوچھا۔
الم یاتکم نذیر . کیا تمہارے پاس اللہ کے عذاب سے ڈرانے والے پیغمبر نہیں پہنچے تھے۔ یہ جملہ علیحدہ ہے سوال ہوسکتا تھا کہ جب کافروں کو دوزخ میں ڈالا جائے گا تو ان سے کیا کہا جائے گا۔ اس محذوف سوال کا جواب اس جملہ میں دیا گیا ہے۔ کلمَا کا تعلق سالھم سے ہے اور استفہام تقریری ہے۔
Ayah 67:9قالوا بلی قد جاء نا نذیر . انہوں نے کہا : یہ مستقبل کی حکایت ہے۔ نذیر صیغۂ صفت ہے یا بمعنی جمع ہے یا مصدر ہے اس صورت میں مضاف محذوف ہوگا یعنی اہل اتدار (ڈرانے والے) یا بغیر حذف مضاف کے خود مصدر کو صفت قرار دیا جائے اور مقصود مبالغہ انذار ہو یا صیغۂ صفت بمعنی مفرد ہے (ڈرانے والا) مطلب یہ ہے کہ کافروں نے کہا : ہم میں سے ہر ایک کے پاس ڈرانے والا آیا تھا۔ قَدْ جَآءَ نَا نَذِیْرٌ میں بلٰی کے مفہوم کی تاکید ہے۔
فکذبنا . لیکن ہم نے نذیر کو جھوٹا قرار دیا اور اتنی زیادہ تکذیب کی کہ کہہ دیا
وقلنا ما نزل اللہ من شیء . اللہ نے کچھ نہیں اتارا۔
اس فقرہ میں کتاب اتارنے کا بھی انکار ہے اور پیغمبر بنا کر بھیجنے کا بھی۔
ان انتم الا فی ضلال کبیر . بظاہر یہ کافروں کا کلام معلوم ہوتا ہے جس سے تکذیب کو پختہ کرنا مقصود ہے کہ تم بڑی گمراہی میں ہو اور بڑی گمراہی میں ہونا جھوٹے ہونے کی علامت ہے۔ ممکن ہے یہ کلام دوزخ کے فرشتوں کا ہو۔ یعنی فرشتوں نے کافروں سے یہ الفاظ کہے۔ اگر نذیر بمعنی واحد ہو اور انتم جمع کی ضمیر ہے تو (کلام میں توافق نہ ہوگا لیکن) اس وقت مراد انبیاء کی جماعت ہی ہوگی۔ مگر خطاب میں حاضر کو غائب پر ترجیح دی گئی یعنی اے مخاطب تو اور تیری طرح کے تمام لوگ تم سب بڑی گمراہی میں ہو یا ایک کی تکذیب کو پوری جماعت کی تکذیب کے قائم مقام قرار دیا (کیونکہ پیام سب کا ایک تھا اور ہر ایک دوسرے کی تصدیق کرتا تھا ‘ اب ایک کو جھوٹا قرار دینا سب کو جھوٹا قرار دینا ہوا) ۔
Ayah 67:10وقالوا . گزشتہ قالوا پر عطف ہے۔
لو کنا نسمع . یعنی اگر ہم بغیر عناد کے گوش قبول سے سنتے اور سنی ہوئی دلیلوں سے جو حقانیت ثابت ہو رہی تھی ‘ اس کو مان لیتے۔
او نعقل . یعنی ایسے عقلی دلائل وبراہین پر غور کرتے جو اللہ تعالیٰ اور اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ اور اللہ کے پیام پر ایمان لانے کو ضروری قرار دینے والے ہیں۔ نسمع کو نعقل سے پہلے ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ دلائل سمعیہ براہین عقلیہ سے زیادہ واجب التسلیم اور زیادہ صحیح ہوتے ہیں۔ تنہا عقل (حق و صداقت کو پالینے کے لیے) کافی نہیں ہے۔ آیت سے یہ بات معلوم ہو رہی ہے کہ عقل صحیح (یعنی وہ عقل جو آمیزش وہم سے پاک ہو) وحی کے مطابق ہوتی ہے ‘ یہ بھی احتمال ہے کہ اَوْ کا لفظ (تردید کے لیے نہ ہو بلکہ) واو (عاطفہ) کے معنی میں استعمال کیا گیا ہو یعنی اگر ہم نذیر کے کلام کو سن لیتے اور اس کے معنی کو سمجھ لیتے اور بصیرت اندوز لوگوں کی طرح اس پر غور کرلیتے تو آج دوزخ میں نہ ہوتے۔
ما کنا فی اصحاب السعیر . یعنی دوزخیوں میں ہمارا شمار نہ ہوتا۔ ہم ان میں سے نہ ہوتے۔
Ayah 67:11فاعتر فوابذنبھم . قالوا پر عطف تفسیری ہے ‘ یعنی انہوں نے اپنے جرم کا ایسے وقت اعتراف کیا جب اعتراف غیر مفید تھا۔ اعتراف کا معنی ہے پہچاننے کے بعد اقرار کرنا اور گناہ سے مراد ہے کفر ‘ ذنب چونکہ اصلاً مصدر ہے (اور مصادر میں باعتبار اصل جمع نہیں ہوتی) اس لیے ذنب کو بصورت جمع ذکر نہیں کیا۔
فسحقا لاصحب السعیر . سحقًا مصدر (مفعول مطلق) ہے۔ اس کا فعل محذوف ہے یعنی فَاَسْحَقَھُمُ ﷲُ سُحْقًااللہ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا۔ کلام میں ایجاز اور معنی میں مبالغہ پیدا کرنے کیلئے یہ تغیر کیا گیا۔ یہ جملہ معترضہ بددعائیہ ہے۔
Ayah 67:12ان الذین یخشون ربھم بالغیب . یعنی جو لوگ اپنے رب کے اس عذاب سے ڈرتے ہیں جو ابھی تک ان پر نہیں آیا اور ظاہر نہیں ہوا یا بالغیب سے مراد یہ ہے کہ وہ ابھی عذاب کے سامنے نہیں پہنچے یا یہ کہ وہ تنہائی میں اپنے رب سے ڈرتے ہیں ‘ منافقوں کی طرح نہیں ہیں یا غیب سے مراد وہ حصۂ بدن ہے جو مخفی ہے یعنی دِل۔ یعنی وہ دلوں میں اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔
لھم مغفرۃ . یعنی ان کے گناہوں کی مغفرت۔
واجر کبیر . اور بڑا ثواب ہے جس کے مقابلہ میں ہر لذت کا تصور حقیر ہے۔ یہ جملہ معترضہ ہے۔ اللہ نے (پہلے) کافروں پر ہونے والے عذاب پر تنبیہ کی پھر اس کے مقابلہ میں مؤمنوں سے مغفرت وثواب کا وعدہ فرمایا اور ثواب کی اساسی تمہید خشیت (خوف) کو قرار دیا (گویا) اس امر پر تنبیہ کی کہ ایمان سے اصل مقصود خشیت ہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا خوفِ الٰہی دانش کی چوٹی ہے۔ ترمذی بروایت حضرت ابن مسعود ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ مشرک آپس میں رسول اللہ ﷺ کی شان میں کچھ ناشائستہ باتیں کرتے تھے اور کہتے تھے ‘ چپکے چپکے پاتیں کرو ‘ کہیں خدا نہ سن لے اور محمد ﷺ کو اطلاع ہوجائے۔ جبرئیل آکر رسول اللہ ﷺ کو خبر پہنچا دیتے تھے۔ اس پر مندرجہ ذیل آیت نازل ہوئی۔
Ayah 67:13واسروا قولکم او اجھروا بہ . (دونوں امر کے صیغے ہیں) لیکن امر بمعنی خبر ہے یعنی تمہارا چپکے چپکے باتیں کرنا
اور بلند آواز سے بولنا دونوں علم الٰہی میں برابر ہیں (اللہ دونوں سے واقف ہے اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں) پہلے کفار کا ذکر غائبانہ تھا۔ اس آیت میں (تفنن کلام کے علاوہ) تہدید پیدا کرنے کیلئے غائب سے حاضر کی طرف کلام کو موڑ کر رُوئے خطاب کافروں کی طرف کیا گیا۔
انہ علیم بذات الصدور . مساوات (سابقہ) کی یہ علّت ہے۔ یعنی اللہ دلوں کی باتوں سے واقف ہے زبان پر لانے سے پہلے ہی وہ ان کو جانتا ہے ‘ نہ اس کو بلند آواز سے بولنے کی ضرورت ‘ نہ آہستہ آہستہ کہنے کی۔
Ayah 67:14الا یعلم من خلق . یہ استفہام انکاری ہے اور نفی علم ‘ نفی ثبوت علم کی موجب ہے۔ یعنی جس نے سینوں کو اور سینوں کے اندرونی خیالات کو بلکہ ہر چیز کو پیدا کیا وہ قلبی اسرار سے ناواقف کس طرح ہوسکتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ جس کو اللہ نے پیدا کیا ‘ اس سے ناواقف کیونکر ہوسکتا ہے۔ (پہلی صورت میں الا یعلم کا مفعول محذوف ہے اور مَنْ فاعل ہے اور دوسری صورت میں یعلم کی ضمیر (یعنی اللہ) فاعل ہے اور مَنْ خَلَق کا مفعول ہے۔ بہرحال کلام سابق کی یہ تاکید ہے۔
وھو اللطیف الخبیر . خَلَقَ کی ضمیر سے حال ہے یعنی اللہ کا علم ہر چیز تک رسائی رکھتا ہے خواہ وہ چیز ظاہر ہو یا باطن۔
Ayah 67:15ھو الذی . اللہ کی ندرت آگیں صنعت اس کے علم اور اس کی قدرت کی ہمہ گیری کو ظاہر کر رہی ہے لیکن کافر جاہل ہیں ‘ وہ اس سے ناواقف ہیں پھر اللہ کی طرف سے عطا کی ہوئی نعمتیں اداء شکر کی مقتضی ہیں لیکن کافر ناشکرے ہیں ‘ نعمت کا تقاضا پورا نہیں کرتے ‘ آئندہ آیات میں کافروں کی اس جہالت اور بد اطواری پر تنبیہ کرنے کے لیے اپنی حیرت آفریں صنعت کو بیان فرمایا ہے۔
جعل لکم الارض ذلولا . ذلول بمعنی سہل یعنی اللہ نے تمہارے لیے زمین کو ایسا بنا دیا کہ تم آسانی کے ساتھ اس میں چل پھر سکتے ہو ‘ ایسا (نرم اور سخت) نہیں کہ چلنا پھرنا ناممکن ہو۔ المناقۃ الذلول فرمانبردار ‘ سرکشی نہ کرنے والی اونٹنی کو کہا جاتا ہے۔
فامشوا فی مناکبھا . مناکب ارض سے مراد ہیں زمین کے اطراف۔ آدمی کے مونڈھے کو اسی مناسبت سے منکب کہا جاتا ہے۔ بعض کا قول ہے کہ مناکب سے پہاڑ مراد ہیں۔
اِس آیت میں زمین کی انتہائی فرمان پذیری کی تصویر کشی ہے اونٹ (یا گھوڑے وغیرہ) کے شانہ پر کوئی سوار نہیں ہوتا ‘ نہ جانور کسی کا اپنے شانہ پر سوار ہونا برداشت کرتا ہے لیکن زمین کی فرمان پذیری اس حد تک ہے کہ زمین کے شانوں پر چلنا ممکن ہے تو معلوم ہوا کہ زمین (ہر سواری سے زیادہ سہل الرکوب ہے اور اُس) کا کوئی حصہ ایسا نہیں کہ چلنے والے کا فرمان پذیر نہ ہو۔
و کلوا من رزقہ . یعنی خداداد نعمت کی طلب کرو (کھانے سے مراد ہے طلب کرنا اور رزق سے مراد ہے نعمت خداوندی) والیہ النشور . یعنی اللہ ہی کے پاس واپس جانا ہے۔ وہ اپنی دی ہوئی نعمتوں کے ادائے شکر کی باز پرس کرے گا۔
Ayah 67:16ء امنتم من فی السماء . حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : کیا بصورت نافرمانی ان کو اس (خدا) کے عذاب کا جو
آسمان میں ہے ‘ ڈر نہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : روزانہ جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے ‘ اللہ نچلے آسمان کی طرف نزول فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے کوئی ہے مجھ سے دعا کرنے والا کہ میں اس کی دعا قبول کروں ‘ کوئی ہے مجھ سے مانگنے والا کہ میں اس کو عطا کروں ‘ کوئی ہے مجھ سے معافی مانگنے والا کہ میں اس کے گناہ معاف کروں (بخاری و مسلم) مسلم کی روایت میں اتنا اور بھی ہے کہ پھر اللہ اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر فرماتا ہے : کون عرض کرتا ہے اس خدا سے جو نہ نادار ہے ‘ نہ حق تلفی کرنے والا (ندائے رحمت کا) یہ سلسلہ فجر ہونے تک جاری رہتا ہے (اس روایت کی روشنی میں بغیر کسی تاویل و توجیہ کے) یہ آیت متشابہات میں سے ہے کیونکہ اللہ (مادیت سے منزہ ہونے کی وجہ سے) آسمان میں سکونت پذیر اور مکان گیر ہونے سے پاک ہے۔ اس لیے سلف نے اس آیت کی توضیح کرنے سے سکوت اختیار کیا ہے صوفیہ کا اس جگہ بھی وہی قول ہے جو آیت : یاتیھم اللہ فی ظلل من الغمام کی تفسیر میں ہم نے ذکر کردیا ہے۔ علماء متاخرین نے آیت کی مختلف تاویلیں کی ہیں مثلاً اللہ کا حکم ‘ اللہ کا فیصلہ آسمانوں میں جاری ہے یا یوں کہا جائے کہ عرب کے گمان کے موافق آیت کا نزول ہوا (عرب خدا کو آسمانوں میں خیال کرتے تھے) یا سماء سے آسمان مراد نہیں ہے بلکہ بلندی مراد ہے مگر بلندی بھی مکانی نہیں بلکہ مرتبہ کے لحاظ سے یعنی اللہ اونچے مرتبہ پر ہے۔ استفہام بہرحال انکاری ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ من فی السماء سے اللہ نہیں بلکہ وہ فرشتے مراد ہیں جن کے ذمہ انتظام امور ہے ‘ ان کی حیثیت (مادی) اسباب و ذرائع کی ہے زمین کو دھنسانے اور سنگ بار طوفان لانے کے لیے وہ (غیبی) کارندے ہیں۔
ان یخسف بکم الارض یعنی کیا ان کو ڈر نہیں کہ اللہ ان کو زمین میں دھنسا دے اور زمین کے اندر چھپا
دے۔ جیسا قارون کو دھنسا دیا ہے۔
فاذاھی تمور . اذا مفاجات (ناگہاں ‘ اچانک) کے لیے ہے اور تمود کا معنی ہے ہلکنے لگے ‘ زمین میں زلزلہ آ
جائے یعنی اچانک زمین میں لرزہ پیدا ہوجائے (اور اللہ کافروں و کو زمین کے اندر دھنسا دے) ۔
Ayah 67:17ام امنتم . ام بمعنی ھل (استفہامیہ) ہے اور استفہام انکاری ہے۔
من فی السماء ان یرسل علیکم حاصبا . حاصب سنگ بار طوفان جیسا قوم لوط پر آیا تھا۔
فستعلمون . کلام سابق کے مضمون پر اس کا عطف ہے یعنی میں تم کو ڈراتا ہوں اور جب تم خود عذاب کو دیکھ لو گے تو تم کو۔
کیف نذیر . میرے ڈرانے کی کیفیت معلوم ہوجائے گی مگر اس وقت جان لینا ‘ سودمند نہ ہوگا ‘ (نذیر بمعنی انذار ‘ ڈرانا)
Ayah 67:18ولقد کذب الذین من قبلھم فکیف کان نکیر . یہ قسم محذوف کا جواب ہے نکیر بمعنی انکار کسی چیز
کو برا جاننا یعنی ان کے خلاف میری ناگواری جو بصورت نزول عذاب ہوگی (ان کو معلوم ہوجائے گی) اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی اور کافروں کے لیے تہدید عذاب ہے۔ استفہام تعجب کے لیے بھی ہے اور تاکید مدعا کے لیے بھی اور جملہ سوالیہ (اگرچہ انشایہ ہے لیکن) خبریہ کی تاویل میں ہو کر کَذَّب پر معطوف ہے یعنی گزشتہ کافروں نے تکذیب کی اور ان کے خلاف میری ناگواری بہت زیادہ ہوگئی (پہلا کلام خطابی ہے اور یہ کلام بصورت غائب ہے ‘ پس) کلام کا رخ خطاب سے غائب کی طرف پھیر دیا گیا ہے۔
Ayah 67:19اولم یروا . ہمزہ (1َ ) استفہام کی اور واو (و) عطف کے لیے ہے۔ معطوف علیہ محذوف ہے۔ اصل کلام یوں مانا
جائے گا ‘ کیا انہوں نے آسمان و زمین کی تخلیق کا مشاہدہ نہیں کیا اور
الی الطیر فوقھم صفت . ان پرندوں کو نہیں دیکھا جو ان کے اوپر بازو پھیلائے اڑتے ہوتے ہیں۔ فوقھم کا
تعلق صافات سے ہے صافات سے الطیر کی حالت بیان کی گئی ہے اور دیکھنے سے مراد ہے آنکھوں سے دیکھنا کیونکہ یروا کے بعد الٰی مذکور ہے۔ صافات کا معنی ہے فضا میں اڑنے کی حالت میں بازو پھیلائے ہونا ‘ پرندے جب پر پھیلائے ہوتے ہیں توشہ پر (اور ان سے اندر والے پر) ترتیب کے ساتھ پھیلے ہوئے ہوتے ہیں و یقبضن۔ صافات پر عطف ہے یعنی اور پرندے پَر سمیٹتے ہیں قابضات کی جگہ یَقْبِضْنَ (اسم کی جگہ فعل) لانے سے مقصود ہے۔ حدوث اور تجدد کا اظہار کیونکہ اڑتے وقت پر پھیلے رہنا اصل ہے اور پردوں کا سمٹاؤ عارضی طور پر اس وقت ہوجاتا ہے جب پرندہ حرکت کرنے کے لیے پروں کو سمیٹنے سے مدد لینا چاہتا ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ معطوف علیہ (فعل) محذوف ہو یعنی پرندے کبھی پر پھیلاتے ہیں ‘ کبھی سمیٹتے ہیں۔
ما یمسکھن الا الرحمن . اس جملہ میں صافات کے فاعل کی حالت کا بیان ہے یعنی فضا میں پرندوں کو ان
کی فطرت کے خلاف صرف رحمن ہی روکے رکھتا ہے۔
انہ بکل شیء بصیر . یعنی عجیب و غریب چیزوں کی تخلیق و تدبیر سے اللہ واقف ہے۔
Ayah 67:20امن ھذا الذی ھو جند لکم ینصرکم من دون الرحمن . اس سے پہلے اَوَلَمْ یَرَوْا آچکا ہے
اس لیے اس جگہ اَمْ متصلہ ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ کیا انہوں نے ایسی مصنوعات کو دیکھ کر اس بات کو نہیں سمجھا کہ خسف زمین اور سنگ بار طوفان کا عذاب دینے پر اللہ کو قدرت ہے یا ان کے پاس ان کا کوئی جتھا اور لشکر ایسا ہے جو رحمن کے مقابلہ میں ان کی حمایت کرسکے اور خدا کے بھیجے ہوئے عذاب کو دفع کرسکے۔
بعض لوگ قائل ہیں کہ تکرار استفہام سے بچنے کے لیے اس جگہ اَمْ کو ابتدائیہ قرار دیا جائے گا نہ متصلہ ہوگا نہ منفصلہ۔ مَنْ استفہامی مبتداء ہے ھٰذَا خبر ہے اَلَّذِیْ صفت ہے یا بدل ہے۔ ینصرکم جُنْدٌ کی صفت ہے چونکہ لفظ جندٌ مذکر ہے اس لیے ینصر مذکر لایا گیا۔
س) اسم اشارہ (ہذا) اور اسم موصول (الذی) کا ذکر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ ان کے ذکر کے بعد کلام کے جو معنی پیدا ہوتے ہیں وہ بغیر ذکر کے بھی سمجھ میں آجاتے تھے (کیا ان کا ذکر بےفائدہ ہے ؟ )
ج) ابہام کے بعد تفصیل کرنے سے مطلب زیادہ دل نشین ہوجاتا ہے (ھذا الذی میں ابہام ہے صرف موصوف کے ذکر میں صفت کا ذکر مبہم ہوتا ہے ‘ اس کے بعد ھو جند کہنے سے مبہم صفت کی تفصیل ہوگئی) ۔
یہ بھی احتمال ہے کہ ھٰذا مبتداء ہو اور الذی خبر ہو اور یقال محذوف قرارر دیا جائے اور پورے جملہ کو اس کا مفعول (نائب فاعل) قرار دیا جائے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہوگی : امّن یقال ھذا الذی ھو جندٌ لکم ‘ جُند سے مراد وہ بت ہیں جن کو اہل شرک معبود قرار دیتے تھے۔ یعنی یہ بات تو تصور میں بھی نہیں آتی کہ یہ بت مدد کرسکیں یا تم کو رزق دے سکیں یا جند سے مراد کافروں کے حمایتی ہیں۔
ان الکافرون الا فی غرور . غرور سے مراد ہے ‘ شیطانی فریب یعنی شیطان فریب دیتا ہے کہ اللہ کا عذاب ان پر
نازل نہ ہوگا اور یہ اغواء محض فریب ہوتا ہے ‘ ناقابل اعتماد۔
پہلا کلام (لکم) خطابی تھا۔ اس جگہ (الکافرون) غائبانہ مذکور ہے کلام کا رخ خطاب سے غیبت کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔
Ayah 67:21امن ھذا الذی یرزقکم ان امسک رزقہ . یعنی تم کو رزق کون دے گا اگر خدا اپنا رزق تم سے روک لے
یعنی بارش اور رزق پیدا کرنے والے اسباب (فطری) روک لے یا رزق پیدا کرنے والے اسباب کی اثر انگیزی ختم کر دے (بارش ہو ‘ ہوا بھی چلے ‘ زمین میں قوت نامیہ بھی ہو مگر غلّہ پیدا نہ ہو) ۔
اس عبارت کی نحوی تحلیل بھی وہی ہے جیسی مذکورہ بالا عبارت کی ذکر کردی گئی۔
بل لجوا . یعنی کافر بڑھتے جاتے ہیں ‘ (جمے ہوئے ہیں) ۔
فی عتو . گمراہ کنی میں۔
و نفور . اور حق سے دوری اختیار کرنے میں (اوّل کی وجہ) کافروں کی انتہائی جہالت ہے اور (دوسری کا باعث)
کافروں کی طبعی نفرت ہے۔
Ayah 67:22افمن یمشی مکبا علی وجھہ اھدی . کلام تقریری اور رنگ استفہامی ہے یعنی کلام میں مخاطب کو حق کا
اقرار کرنے پر آمادہ کیا گیا ہے (مقصود یہ ہے کہ استفہام سے مراد طلب علم نہیں ‘ نہ جواب دینے سے عجز کا اظہار مقصود ہے بلکہ مدعا کو مدلل طور پر ثابت کرنا غرض ہے) ۔
مَکِبًّا : (اسم فاعل) اکباب سے مشتق ہے اور اکباب کا مادہ کبٌّ ہے۔ کبٌّ متعدی ہے اور اکبابٌ لازم اور یہ امر (یعنی ثلاثی مجرد کے باب کا متعدی ہونا اور باب افعال کا لازم ہونا) عربی میں نادر ہے جیسے فَشَعَ اللہ السَّحَابَ فَاَقْشَعَ ۔ اللہ نے بادلوں کو پھاڑ دیا اور ابر پھٹ گیا۔
یا مکبًّا کا مفعول محذوف ہے یعنی مکبًّا نفسہٗ اپنے آپ کو سرنگوں کرنے والا (اس صورت میں اکبابٌ بھی متعدی ہوگا) قاموس میں ہے : کَبَّہٗ اور اکبہ دونوں کا معنی ایک ہی ہے ‘ یعنی الٹ دیا ‘ پچھاڑ دیا اور کببتہ فاکب بھی آتا ہے۔ میں نے اس کو اوندھا کردیا اور وہ اندھا ہوگیا۔ اس صراحت سے معلوم ہوا کہ (اکباب لازم بھی ہے اور متعدی بھی) ۔
بعض لوگوں کا قول ہے کہ : مُکِبًّا عَلٰی وَجْھِہٖ کا معنی یہ ہے کہ راستہ کی دشواری اور نشیب و فراز کی وجہ سے چلتے چلتے ٹھوکر کھا کر منہ کے بل گرپڑتا ہے (اس صورت میں اکباب متعدی نہ ہوگا (بلکہ صاحب ماخذ یعنی متصف بمادہ ہونے کا معنی ہوگا) ۔
ام من یمشی سویا . یا جو سیدھا چلتا ہے ‘ عناد کی طرف سے مڑا ہوا۔
علی صراط مستقیم . یعنی ہموار راستہ ‘ آیت مذکورہ میں من موصولہ مبتداء ہے اور اھدٰی خبر ہے یا محذوف
ہے۔ معطوف علیہ میں خبر مذکور تھی اس لیے یہاں اسی پر اکتفا کیا گیا۔ بہرحال (استفہام تقریری ہونے کی وجہ سے) یہاں اس امر کا اقرار واجب ہے کہ ہموار راستہ پر سیدھا چلنے والا ہدایت یافتہ ہوتا ہے۔ مؤمن کی بھی یہی حالت ہوتی ہے۔ بصیرت کے ساتھ دانش (اور رسول) کے بتائے ہوئے راستہ پر وہ چلتا ہے اور کافر نہ دانش سے کام لیتا ہے نہ رسول کی بات سنتا ہے ‘ اس لیے مؤمن کافر کے مقابلے میں ہدایت یافتہ ہوتا ہے۔
ایک شبہ : اھدٰی اسم تفضیل ہے جس کا معنی ہے زیادہ ہدایت یافتہ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہدایت یافتہ تو کافر بھی ہے۔
اصل ہدایت تو اس کو بھی حاصل ہے مگر مؤمن اس سے زیادہ ہدایت یافتہ ہے۔
ازالہ : لفظ اھدٰی نہیں چاہتا کہ مفضل علیہ (کافر) میں اصل ہدایت واقعی طور پر متحقق ہو بلکہ فرضی وجود کافی ہے (یعنی کافر میں اگر
بالفرض ہدایت مان بھی لی جائے تب بھی مؤمن اس سے زیادہ ہدایت یافتہ ہے) ۔
قتادہ نے فرمایا جو شخص دنیا میں گناہوں پر اوندھا ہوگیا۔ قیامت کے دن منہ کے بل چلے گا جب کہ مؤمن سیدھے چل رہے ہوں گے۔ بخاری اور مسلم نے بیان کیا ‘ حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ کافر کو منہ کے بل کیسے چلایا جائے گا ؟ فرمایا : کیا وہ خدا جو دنیا میں قدموں سے چلاتا ہے ‘ قیامت کے دن منہ کے بل چلانے پر قادر نہیں ہے۔ ایسی ہی روایت حضرت ابوہریرہ ؓ کے حوالہ سے ابوداؤد نے نقل کی ہے (گزشتہ کلام میں کافروں کی فریب خوردگی کی صراحت کی تھی ‘ اس جملہ میں ان کی حالت بد کو اور زیادہ واضح کردیا) ۔
Ayah 67:23قل ھو الذی انشاکم . مذکورہ بالا (دونوں) آیات امن ھذا الذی ھو جند لکم ینصرکم اور امن ھذا
الذی یرزقکم میں صراحت فرمائی تھی کہ کافروں کا کوئی حمایتی نہ ان کی مدد کرسکتا ہے ‘ نہ ان کو رزق دے سکتا ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر نصرت و رزق کون عطا کرتا ہے ٗ اس سوال ؟ مقدر ’ کے جواب میں فرمایا کہ تم کو نصرت و رزق وہی عطا فرماتا ہے جس نے تم کو پیدا کیا تاکہ تم اس کو پہچانو اور اس کی عبادت کرو۔
و جعل لکم السمع . اور تمہارے کان بنائے تاکہ نصیحتوں کو سنو۔
والابصار . اور آنکھیں بنائیں تاکہ مصنوعات الٰہیہ کو دیکھو۔
والافئدۃ . اور دل بنائے تاکہ غور کرو اور عبرت اندوز ہو۔ السمع اصل میں مصدر ہے اور مصدر کی جمع (اصل وضع کے
اعتبار سے) نہیں آتی۔ اس لیے السمع۔ کو بصورت مفرد ذکر کیا لیکن البصر اور الفواد کی یہ حالت نہیں ہے (یہ مصدر نہیں ہیں) اس لیے الابصار اور الافئدۃ کو بصورت جمع ذکر کیا۔ اس کے علاوہ السمع کو مفرد اور الابصار اور الافئدۃ کو جمع لانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کان سے ایک ہی نوع کا علم حاصل ہوتا ہے اور آنکھ سے علم حاصل ہونے کی متعدد صورتیں ہیں۔ (رنگ ‘ شکل ‘ مقدار ‘ حسن و قبح وغیرہ) اور دل سے ادراک بھی مختلف طریقوں سے ہوتا ہے (شک ‘ وہم ‘ ظن ‘ یقین ‘ حصولی ‘ حضوری ‘ مختلف تصورات و تخیلات وغیرہ) ۔
قلیلا . یعنی تھوڑا شکر ‘ یا کم وقت میں (دونوں صورتوں میں موصوف محذوف ہے اوّل صورت میں مفعول مطلق اور دوسری
صورت میں مفعول فیہ ہوگا) ۔
ما (لفظاً ) زائد ہے اور (معنیً ) مفہوم قلت کی تاکید ہے (یعنی بہت ہی کم شکر یا بہت تھوڑے وقت میں شکر) ۔
تشکرون . تم شکر کرتے ہو۔ قلت شکر سے مجازاً مکمل نفی شکر مراد ہے (یعنی تم بالکل شکر نہیں کرتے یا کسی وقت بھی
شکر نہیں کرتے) ۔
Ayah 67:24قل . یہ (لفظاً ) زائد اور (معنیً ) مفید تاکید ہے۔
ھو الذی ذراکم فی الارض . یہ جملہ ھُوَ الَّذِیْٓ اَنْشَاَکُمْ سے بدل ہے۔
والیہ تحشرون . اسی کے پاس تم کو جزا و سزا کیلئے لے جایا جائیگا۔ یہ جملہ ذراکم کے فاعل (یعنی اللہ) کا حال ہے۔
Ayah 67:25و یقولون . یعنی وعید قیامت کا انکار کرنے اور بہت ہی بعید الوقوع قرار دینے کے لیے کافر کہتے ہیں۔
متی ھذا الوعد . یہ وعدۂ حشر کب پورا ہوگا۔
ان کنتم . اے نبی اور مسلمانو ! یعنی رسول اللہ ﷺ اور مسلمان کفار کے مخاطب ہیں) اگر تم
صدقین . حشر کے متعلق صحیح بات کہتے ہو تو بتاؤ اس کا وقت کب آئے گا۔
Ayah 67:26قل . کلام سابق سے ایک سوال پیدا ہوتا تھا کہ جب کافر قیامت کا وقت پوچھتے ہیں تو ان کے جواب میں ہم کیا
کہیں ؟ اس سوال کا جواب بتانے کے لیے فرمایا کہ تم ان سے کہہ دو ۔
انما العلم عند اللہ . کہ قیامت کے وقت کا (معین ٹھیک ٹھیک) علم اللہ ہی کو ہے ‘ اسکے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔
وانما انا نذیر مبین . میں تو اس کے واقع ہونے کی خوفناک اطلاع دینے والا ہوں اور خوفناک اطلاع کے لیے
اتنا کافی ہے کہ وہ خطرناک چیز مستقبل میں واقع ہوگی ‘ کب ہوگی ؟ اس کا صحیح وقت جاننے کی ضرورت خبر دینے والے کے لیے نہیں۔
Ayah 67:27فلما راوہ . جب کافر اس وعدہ کے وقوع کو دیکھیں گے یعنی جس چیز سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے ‘ جب وہ چیز ان کے
سامنے آجائے گی۔ اکثر اہل تفسیر کے نزدیک اس سے مراد عذاب آخرت ہے لیکن مجاہد کا قول ہے کہ جنگ بدر کی تباہی مراد ہے۔
زلفۃ . (زلفۃ بمعنی قرب ہے لیکن مراد ہے) قریب۔
سیئت . تو بدنما سیاہ ہوجائیں گے۔
وجوہ الذین کفروا . کافروں کے منہ عذاب کو دیکھنے سے۔
و قیل ھذا الذی کنتم بہ تدعون . اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی عذاب ہے جس کے جلد آنے کے
تم خو استگار تھے۔ تَدَّعُوْنَ دعاء سے مشتق ہے یعنی تم طلب کرتے تھے یا دعویٰ سے ماخوذ ہے یعنی تمہارا دعویٰ تھا کہ قیامت نہ آئے گی۔