67. Surah Al-Mulk

الملكThe Sovereignty · 30 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 67:1

تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ Open ayah 67:1 in the Quran reader

” نہایت بزرگ و برتر ہے وہ جس کے ہاتھ میں (کائنات کی) سلطنت ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے “۔

اس سورت کے آغاز میں اللہ کب برکات پر مشتمل یہ سپاس نامہ اس بات پر دال ہے کہ اللہ کی برکتیں اور اللہ کے کرم ، اور اللہ کے فیوض کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ اللہ کی برکتیں اللہ کی سلطنت میں ہیں اور اس کی بادشاہت میں کوئی کمی نہیں۔ اللہ کی ذات اور اللہ کی صفات کی برکات کا فیض عام اس پوری کائنات میں جاری وساری ہے اور یہ پوری کائنتا اس کی حمد گا رہی ہے اور اس لاانتہا وجود کی وادیوں میں اس کی گونج ہے۔ قلب مومن ان برکتوں سے لبالب ہے اور یہ کائنات اس کتاب الٰہی کے ذریعہ قلب مومن پر نازل ہوتی ہے اور اس پوری کائنات میں ان کا ظہور ہے۔ بیدہ الملک (76 : 1) ” جس کے ہاتھ میں سلطنت ہے “۔ وہ اس کائنات کا مالک ہے ، اس کا اس نے احاطہ کررکھا ہے۔ اس کی چوٹی کے بال اس کے ہاتھ میں ہیں ، وہ اس میں متصرف ہے۔ یہ ہے اصل حقیقت کہ اس پوری کائنات کا بادشاہ وہی ہے جب یہ حقیت انسانی ضمیر میں بیٹھ جاتی ہے تو یہ اپنی راہ خود بخود متعین کردیتی ہے اور اس کے بعد پھر کوئی بھی اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کے لئے فارغ نہیں ہوتا۔ پھر وہ ایک ہی آقا ، ایک معبود اور ایک ہی بادشاہ کا قائل ہوتا ہے۔ وھو علی ............ قدیر (76 : 1) ” اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے “۔ کوئی چیز اس پر غالب نہیں ہے ، کوئی چیز اس کے ارادے کے سامنے رکاوٹ نہیں بن سکتی ، اس مشیت کی حدود وقیود سے باہر ، جو چاہتا ہے ، تخلیق کرتا ہے ، جو چاہتا ہے کرتا ہے ، جو چاہے کرسکتا ہے ، جو حکم دے اس کی تعمیل کرواسکتا ہے۔ اس کی قدرت بےحدو بےقید ہے۔ جب یہ حقیقت ذہن میں بیٹھ جائے تو ہمارے احساسات ، تصورات اور عقل میں کسی قوت کے لئے کوئی سوچ جاتی ہے تو اس کی نفی ہوجاتی ہے۔ انسان جو کچھ بھی سوچ سکتا ہے اس کی قدرت اس سے زیادہ ہوتی ہے۔ انسان کا تصور بہت ہی محدود ہے کیونکہ انسان کی ذات اور اس کی فکری کائنات محدود ہے۔ انسان اپنے ماحولیات اور معلومات کے محدود دائرے میں سوچنے کا عادی ہے جو بہت ہی محدود ہوتا ہے۔ یہ حقیقت کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ یہ انسان کو اس محدود دائرے سے نکالتی ہے۔ انسان یقین کرتا ہے کہ اللہ کی قدرت لامحدود ہے تو انسان اپنے آپ کو اس کے حوالے کرتا ہے اور یوں وہ اس محدود سوچ سے لامحدود سوچ کی طرف نکل جاتا ہے ورنہ انسان حاضر وموجود کے محدود تصور ہی کا غلام ہوتا ہے۔
Ayah 67:2

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ Open ayah 67:2 in the Quran reader

جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے ، اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی “۔

یہ کہ وہ قادر مطلق ہے اور اپنی مملکت میں ہر قسم کے تصرفات کرتا ہے ، تو اس کے آثار قدرت اور نمونہ تصرفات ملاحظہ فرمائیں کہ اس نے موت وحیات کی تخلیق کی۔ موت میں وہ حالت بھی شامل ہے جو کسی زندہ چیز کو حیات دینے سے پہلے ہوتی ہے۔ اور وہ حالت بھی شامل ہے ، جو حیات واپس لینے کے بعد طاری ہوتی ہے۔ اور حیات میں بھی پہلی زندگی شامل ہے اور مرنے کے بعد اٹھائے جانے والی زندگی بھی شامل ہے۔ یہ سب حالات اللہ کی تخلیقات میں آتے ہیں۔ ذہن انسانی میں یہ حقیقت بٹھانے کا مقصد یہ ہے کہ اے انسان تجھے بےمقصد نہیں پیدا کیا گیا تو ایک ذمہ دار مخلوق ہے۔ یہ نہیں ہے کہ بس یونہی اتفاقاً تو آگیا ہے اور بس یونہی ایک دن مرکر مٹی ہوجائے گا۔ اور یہ کام اور یہ عظیم تخلیقی عمل بےمقصد نہیں ہے بلکہ یہ انسانوں کو آزمانے کے لئے پیدا کیا گیا ہے تاکہ اللہ کے علم میں جن انسانوں کو جو مظاہرہ کرنا تھا وہ سامنے آجائے ، جس کا اللہ کو پہلے سے علم تھا۔ اور وہ اپنے اعمال پر مناسب جزاء وسزا کے حقدار ہوجائیں۔ لیبلوکم ................ عملاً (76 : 2) ” تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے “۔ جب یہ عقیدہ ذہن میں بیٹھ جائے تو انسان بیدار ، محتاط ، چوکنا اور سمجھدار ہوجاتا ہے۔ وہ دل میں چھوٹے بڑے کاموں کے بارے میں سوچنا ہے اور پوشیدہ اور ظاہری باتوں کے بارے میں غور کرتا ہے۔ یہ عقیدہ انسان کو غفلت میں نہیں چھوڑتا۔ نہ مطمئن اور بےفکر چھوڑتا ہے۔ چناچہ کہا جاتا ہے۔ وھوالعزیز الغفور (76 : 2) ” اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی “۔ اس اختتامیہ سے یہ اطمیانان دلانا مطلوب ہے کہ بیشک اللہ قدیر ہے اور زبردست ہے لیکن وہ غفور بھی ہے۔ وہ بندوں پر سختی نہیں کرتا۔ جب انسان کے دل میں یہ بات بیٹھ جائے کہ میرا امتحان ہے تو وہ ہر وقت خائف رہتا ہے کہ کیا نتیجہ نکلے گا لیکن جب وہ یہ سوچے گا کہ اللہ تو غفور ورحیم ہے تو اسے امید بندھ جائے گی اور وہ ثبات وقرار کے ساتھ صراط مستقیم پر چلے گا۔ اسلام نے انسانوں کے سامنے خدا کا جو تصور پیش کیا ہے وہ ایسا نہیں ہے کہ جو ہر وقت انسانوں کا پیچھا کرتا ہے ، نہ ایسا ہے کہ اسے عذاب دینے میں مزا آتا ہے ، وہ عذاب دینے کو پسند کرتا ہے بلکہ اللہ ہر وقت یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ تمہارا ایک مقصد وجود ہے ، اس کو نظروں سے اوجھل ہونے نہ دو ، اپنی حقیقت کے مقام تک اپنے آپ کو بلند کرو ، اور جس طرح اللہ نے اپنی روح تم میں پھونک کر تمہیں ایک بلند مرتبہ دیا۔ اس پر فائز ہو کر اللہ کی مخلوقات سے اپنے آپ کو افضل ثابت کرو ، جب لوگ اس مقصد کو پالیں تو پھر ان پر اللہ کی رحمتوں کی بارش ہوتی ہے۔ قدم قدم پر ان کی معاونت کی جاتی ہے اور حساب و کتاب میں عفو و درگزر سے کام لیا جاتا ہے۔ یہ کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور اسی نے موت وحیات کو پیدا کیا تاکہ لوگوں کو آزمائے تو اس حقیقت کا مطالعہ ایک طرف اس پوری کائنات کے میدان میں کرایا جاتا ہے اور دوسری طرف حشر کے میدان میں اس کے مظاہردکھائے جاتے ہیں۔
Ayah 67:3

الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ Open ayah 67:3 in the Quran reader

” جس نے تہہ بہ تہہ آسمان بنائے۔ تم رحمن کی تخلیق میں کسی قسم کی بےربطی نہ پاﺅ گے۔ پھر پلٹ کر دیکھو ، کہیں تمہیں کوئی خلل نظر آتا ہے ؟

” ان شیطان کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ ہم نے مہیا کررکھی ہے۔ جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے ان کے لئے جہنم کا عذاب اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ جب وہ اس میں پھینکے جائیں گے تو اس کے دہاڑنے کی ہولناک آواز سنیں گے اور وہ جوش کھارہی ہوگی ، شدت غضب سے پھٹی جاتی ہوگی۔ ہر بار جب کوئی انبوہ اس میں ڈالا جائے گا ، اس کے کارندے ان لوگوں سے پوچھیں گے ” کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا ؟ “ وہ جواب دیں گے ” ہاں ! خبردار کرنے والا ہمارے پاس آیات تھا مگر ہم نے اسے جھٹلادیا اور کہا اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ہے ، تم بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو “۔ اور کہیں گے ” کاش ہم سنتے یا سمجھتے تو آج اس بھڑکتی ہوئی آگ کے سزاواروں میں نہ شامل ہوتے “۔ اس طرح وہ اپنے قصور کا خود اعتراف کرلیں گے ، لعنت ہے ان دوزخیوں پر “۔ ان آیات میں جو باتیں بتائی گئی ہیں وہ پہلی آیت کا مفہوم ہیں اور اس کی مثالیں ہیں۔ اللہ اپنی بادشاہت کو جس طرح چلاتا ہے اس کے مظاہر ہیں اور اللہ کی بےقید قدرت کے آثار ہیں۔ اور پھر تفصیلات میں انسان کی آزمائش اور جزاوسزا کی۔ تہہ بہ تہہ سات آسمانوں کا مطلب ہم موجودہ فلکی نظریات سے اخذ نہیں کرسکتے کیونکہ فلکی نظریات ، جوں جوں ہمارے آلات مشاہدہ آگے بڑھتے ہیں ، بدلتے رہتے ہیں۔ آیت سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ فقط اس قدر ہے کہ اوپر کی کائنات کے سات ایسے طبقے ہیں جو ایک دوسرے سے ایک فاصلے پر ہیں ، اس لئے انہیں طبقات کہا گیا ہے۔ قرآن مجید ہماری نظر کو زمین و آسمان کی تخلیق کی طرف مبذول کرتا ہے اور انسانوں کو یہ چیلنج کرتا ہے کہ ذرا زمین و آسمان کے اس نظام کو دیکھو ، اس میں کوئی نقص بھی ہے۔ تمہارا مشاہدہ تھک تھکا کر عاجز رہ جائے گا اور اسے کوئی نقص نظر نہ آئے گا۔ ماتری .................... تفوت (76 : 3) ” تم رحمن کی تخلیق میں کسی قسم کی بےربطی نہ پاﺅ گے “۔ اللہ کی مخلوقات میں نہ کہیں خلل ہے ، نہ نقص ہے اور نہ اضطراب ہے۔ فارجع البصر (76 : 3) فارجع ” پھر پلٹ کر دیکھو “۔ دوبارہ کوشش کرو ، اچھی طرح معلوم کرنے کی کوشش کرو۔ ھل تری من فطور (76 : 3) ” کہیں تمہیں کوئی خلل نظر آتا ہے “۔ کیا تمہاری نظروں نے کوئی شگاف دیکھا ، کوئی نقص اور کوئی خلل دیکھا ؟
Ayah 67:4

ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ Open ayah 67:4 in the Quran reader

بار بار نگاہ دوڑاﺅ۔ تمہاری نگاہ تھک کرنا مراد پلٹ آئے گی۔

ثم ارجع البصر کرتین (76 : 4) ” بار بار نگاہ دوڑاﺅ“۔ شاید کوئی چیز دیکھنے سے رہ گئی ہو ، اور تم معلوم نہ کرسکے ہو ، لہٰذا پھر بھی نگاہ ڈالو۔ ینقلب .................... حسیر (76 : 4) ” تمہاری نگاہ تھک کرنا مراد پلٹ آئے گی “۔ یہاں چیلنج یہ ہے کہ ان آسمانوں اور اللہ تمام کی تمام مخلوقات کو ذرا گہری نظر سے دیکھو ، اس کائنات کا سنجیدہ مطالعہ کرو ، اور اس میں تامل و تدبر کرو ، اور اس چیز اور اس صفت ہی کو دراصل قرآن کریم انسانوں میں عام کرنا چاہتا ہے کہ تم اس کائنات کا گہرا مشاہدہ کرو۔ یہ کائنات دراصل بہت عجیب و غریب اور نہایت ہی خوبصورت ہے اور اس کے اندر معجزات و کمالات موجود ہیں لیکن ہم اس کے اندر اس قدر مانوس ہوگئے ہیں کہ اس کا انوکھا پن ہماری نظروں سے اوجھل ہوگیا ہے۔ اور اس کی عظیم خوبصورتی ہمیں کوئی خوبصورتی نظر نہیں آتی۔ حالانکہ یہ اس قدر خوبصورت ہے کہ نظر اس کی خوبصورتی کو دیکھ دیکھ کر سیر ہی نہ ہو اور اس کے اندر جو سبق اور اشارات ہیں ہمارے قلب ونظر کو اس سے سیر ہی نہ ہو۔ اور عقل تدبر کرتی ہی رہ جائے اور اس کے نظام کی بوقلمونیاں ختم ہی نہ ہوں۔ اس نقطہ نظر سے اگر انسان اس کائنات کا مطالعہ کرے تو اسے یہ کائنات اللہ تعالیٰ کی تیار کردہ اور سجائی ہوئی حسین و جمیل نمائش گاہ نظر آئے ، جس کا انوکھا پن اور جس کی خوبصورتی کبھی پرانی نہ ہو کیونکہ اس طرح عقل ونظر کے لئے اس کی خوبصورتی ہر روز نئی ہوگی۔ جو لوگ اس کائنات کی حقیقت سے قدرے واقف ہیں اور وہ جدید سائنسی علوم کے مطابق اس کے بعض پہلوﺅں کے حالات اور اس کے نظام کو کام کرتا ہوا دیکھتے ہیں وہ تو حیران رہ جاتے ہیں اور ان کی عقل چکرانے لگتی ہے۔ لیکن اس کائنات کی خوبصورتی کے مشاہدے کے لئے کسی بڑی مقدار علم کی ضرورت نہیں ہے۔ انسان پر اللہ کا یہ کرم ہے کہ اس کو اللہ نے ایسی صلاحیت دی ہے کہ وہ معمولی مشاہدے اور غوروفکر کے ساتھ اس کائنات کے ہمقدم اس طرح چل سکتا ہے جس طرح ایک زندہ آدمی دوسرے زندہ آدمی کے ساتھ چلتا ہے۔ انسان کا قلب براہ راست اس کائنات کے پیغام کو پاتا ہے اور اس کی خوبصورتی کو دیکھتا ہے ، بشرطیکہ وہ آنکھیں اوپر کرکے دیکھے اور دل کھول کر کچھ اخذ کرے۔ اور وہ اس کائنات کو ایک زندہ مخلوق سمجھ کر اس کا رفیق بن جائے ، قبل اس کے کہ وہ اپنے نور فکر اور اپنی صد گاہوں سے اس عظیم اور عجیب کائنات کے رازوں کو افشا کرے۔ چناچہ قرآن مجید لوگوں کو اس کائنات کے حوالے کرتا ہے۔ ان کے ہاتھ میں کائنات کی کھلی کتاب پکڑاتا ہے ، کہ اس کائنات کی آواز سنو ، اس کے تناظر اور عجائبات کی سیر کرو ، اس لئے کہ قرآن مجید کے مخاطب صرف سائنس دان نہیں ہیں ، بلکہ ہر دور اور ہر سطح کے انسان ہیں۔ قرآن کو ایک جنگلی اور صحراوی بھی پڑھتا ہے اور شہر میں بسنے والا اور سمندروں میں سفر کرنے والا بھی پڑھتا ہے ۔ وہ ایک ان پڑھ سے بھی مخاطب ہے ، جس نے ایک حرف بھی نہیں پڑھا۔ اور اسی طرح وہ باہر علم نجوم وفلکیات سے بھی مخاطب ہے۔ وہ ماہر طبیعیات سے بھی ہمکلام ہے اور ماہ رفلسفی سے بھی۔ ہر ایک کو قرآن میں عجائبات ملتے ہیں ، جن میں وہ تامل کرتا ہے اور قرآن ان سب کے غوروفکر کی قوتوں کو بیدار کرتا ہے۔
Ayah 67:5

وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ Open ayah 67:5 in the Quran reader

ہم نے تمہارے قریب کے آسمان کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور انہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنادیا ہے “۔

کمال کی طرح اس کائنات کی ہر چیز میں جمال بھی مقصود بالذات ہے بلکہ کمال اور جمال ایک ہی حقیقت کے دو نام یا دو پہلو ہیں ، کسی چیز میں کمال ہی اس کی خوبصورتی کا اعلیٰ درجہ ہوتا ہے۔ چناچہ قرآن نے پہلے آسمانوں کی خوبصورتی کی طرف متوجہ کیا اور اس کے بعد کمال کی طرف۔ ولقد .................... بمصابیح (76 : 5) ” اور ہم نے تمہارے قریب کے آسمان کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے “۔ یہ سمائے دنیا کہلاتا ہے۔ شایدہ یہ وہ بلندی ہے جو زمین کے مکان اور قرآن کے مخاطب انسانوں کے فہم کے قریب ہے۔ مصابیح اور چراغوں سے مراد ستارے اور سیارے ہیں جو ہمیں نظر آتے ہیں ، جن انسانوں سے قرآن مخاطب تھا وہ آسمانوں کو دیکھ کر یہی سمجھتے تھے کیونکہ ان کے پاس رصد گاہیں نہیں تھیں اور اس وقت بھی اور آج بھی کوئی آنکھوں سے آسمان کو دیکھے تو اس میں ستارے روشن چراغ نظر آتے ہیں۔ یہ منظر کس قدر خوبصورت ہے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں۔ اس قدر خوبصورت کہ انسان کے دل کو کھینچ لیتا ہے۔ اس منظر کے کئی رنگ ہیں۔ صبح وشام اس کا الگ الگ نظارہ ۔ طلوع اور غروب کا الگ نظارہ ہے۔ تاریک رات اور چاندنی ہے۔ گھڑی بھر میں مناظر بدلتے رہتے ہیں۔ جگہ کی تبدیلی سے مناظر بدلتے ہیں۔ زاویہ کی تبدیلی سے بدلتے ہیں لیکن جو منظر بھی سامنے آئے ذہن کو گرفت میں لے لیتا ہے۔ یہ اکیلا ستارہ جو دور افق پر چمک رہا ہے گویا وہ خوبصورت آنکھ ہے ، نہایت محبت سے پکارتی ہے۔ پھر وہ دو ستارے جو الگ نظر آتے ہیں ، یہ اژدحام سے دور محو گفتگو ہیں۔ اور وہ ستاروں کا جھرمٹ جو جگہ جگہ نظر آتا ہے وہ کائنات کے میلے کا ایک حلقہ یاراں ہے جو کبھی یہاں جمع ہوتا ہے تو کبھی وہاں ! یہ باریک چاند جو ایک رات ایک شاخ کی طرح ہوتا ہے اور ایک رات اپنے کمال کو پہنچ جاتا ہے اور پھر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر معدوم ہوجاتا ہے اور دوبارہ وہ ولادت پاتا ہے۔ ہر رات کو اس کا نیا روپ ہوتا ہے۔ یہ وسیع فضائے کائنات جس کی لمبائیوں اور دوریوں تک بینائی ساتھ نہیں دیتی۔ اور خوبصورت اس قدر کہ آنکھیں دیکھتی رہ جائیں۔ یہ ہے حقیقی خوبصورتی ، جس کا تصور بھی انسان نہیں کرسکتا ، لیکن انسان اگر ان خوبصورتیوں کو الفاظ کا جامہ پہنانا چاہے تو ممکن نہیں۔ انسانی عبارات اس سے قاصر ہیں۔ قرآن کریم انسانوں کو اس آسمان اور اس پوری کائنات کے جمال کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ کیونکہ جمال کائنات کا ادراک ہی ایک ذریعہ ہے جس کی وساطت سے انسان خالق کائنات کے جمال کا تصور کرسکتا ہے۔ اور یہی ادراک انسان کو اس بلند مقام تک پہنچاتا ہے ، جس تک انسان کبھی پہنچنے کی تمنا کرسکتا ہے کیونکہ اس یونٹ تک پہنچ جاتا ہے جہاں سے آگے وہ ابدی حیات پاسکتا ہے۔ اب وہ ایک خوبصورت آزاد اور لازوال دنیا میں پہنچ جاتا ہے۔ یہ زندگی اس دنیا کی آلودگیوں سے پاک ہوتی ہے اور انسانی زندگی کے وہ لمحات لازوال لمحات ہوتے ہیں جن میں کوئی انسان اس کائنات کے لازوال حسن کا ادراک کرلے ، ایسے ہی حالت میں وہ ذات باری کے قریب ترہوجاتا ہے اور ذات باری کے کمالات کا تصور کرسکتا ہے۔ اور اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ انسان کے یہ خوبصورت ستارے ایک دوسرا کام بھی کرتے ہیں۔ یہ شہاب ثاقی بن کر شیطانوں پر بمباری بھی کرتے ہیں۔ وجعلنھا ................ للشیطین (65 : 5) ” اور انہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنایا “۔ ہم نے ” فی ظلال القرآن “ میں یہ رویہ اختیار کیا ہے کہ غیبی امور کے بارے میں بات کو اسی حد میں رکھیں جس حد تک قرآن کریم نے کہہ دی ہے۔ اس معاملے میں قرآن نے جو پہلو بتایا ہے اسی تک محدود رہیں۔ جس قدر قرآن نے کہہ دیا ہے وہ ایک مکمل بات ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ ایک مخلوق ہے ، جس کا نام شیطان اور شیاطین ہے ، قرآن میں ان شیطانوں کی بعض صفات وارد ہیں۔ ظلال القرآن میں اس موضوع پر پہلے بات ہوچکی ہے۔ اس پر مزید اضافے کی ضرورت نہیں ہے ، اور ہمارا یہ ایمان ہے کہ یہ شیطان جب عالم بالا میں جانے کی کوشش کرتے ہیں تو انکو شہاب ثاقب بھگاتے ہیں ، دوسری جگہ آیا ہے۔ وحفظا ................ مارد (7).................... الا من ........ شھاب ثاقب (73 : 01) ” اور ہر شیطان سرکش سے اس کو محفوظ کردیا .... تاہم اگر کوئی ان میں سے کچھ لے اڑے تو ایک تیز شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے “۔ یہ شہاب ثاقب کس طرح پیچھا کرتا ہے۔ یہ شہاب کس قدر بڑا ہے۔ اس کی شکل کیا ہوتی ہے۔ اس کے بارے میں اللہ نے تفصیلات ہمیں نہیں بتائی اور کوئی دوسرا ذریعہ علم انسانوں کے پاس نہیں ہے ، جس سے کوئی بات پوچھی جاسکے۔ بس جس قدر قرآن نے کہہ دیا اس پر اکتفا کرنا چاہئے۔ اور یہی یہاں مقصود ہے۔ اگر اس سے زیادہ بتانا مقصود ہوتا تو اللہ بتا دیتا۔ اس لئے جس چیز کو اللہ نے ہمارے لئے موجب خیروبرکت نہیں سمجھا ، اس کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے۔ شیاطین کا رجم بھی اسیے ہی معاملات میں سے ہے ، جس کا تفصیلی علم ہمیں نہیں دیا گیا۔ اور دنیا میں شہاب ثاقب کی سزا کے علاوہ آخرت میں ان کے لئے اور سزا ہے۔ واعتدنا ................ السعیر (86 : 5) ” اور ان شیطانوں کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ ہم نے مہیا کررکھی ہے “۔ یہ بمباری دنیا اور آگ کا عذاب آخرت میں۔
Ayah 67:6

وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 67:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے ان کے لئے جہنم کا عذاب اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے “۔

وللذین ............................ المصیر (76 : 6) ” اور جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے ان کے لئے جہنم کا عذاب اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے “۔ اس کے بعد جہنم کے ایک منظر کی تفصیلات دی جاتی ہیں جس میں جہنم نہایت ہی غیض وغضب اور نہایت انتقامی حالت میں نظر آتی ہے۔
Ayah 67:7

اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ Open ayah 67:7 in the Quran reader

” جب وہ اس میں پھینکے جائیں گے تو اس کے دہاڑنے کی ہولناک آواز سنیں گے

اذا القوا .................... الغیظ (76 : 8) ” جب وہ اس میں پھینکے جائیں گے تو اس کے دہاڑنے کی ہولناک آواز سنیں گے اور وہ جوش کھارہی ہوگی ، شدت غضب سے پھٹی جاتی ہوگی “۔ ذرا جہنم کو دیکھو ، یہ زندہ مخلوق کی طرح ہے۔ اسے غصہ آرہا ہے اور وہ اپنے غصے پر قابو پانے کی کوشش کررہی ہے اور اس کی سانس پھول رہی ہے اور اس طرح اس کی سانس شدت غضب سے پھنکار کی شکل اختیار کررہی ہے۔ اس پر اس کے غصے ، کراہت اور نفرت کی وجہ سے اس قدر دباﺅ ہے کہ قریب ہے کہ وہ پھٹ پڑے۔ بظاہر تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ انداز بیان ایک مجازی تصویر کشی کا انداز ہے لیکن ہم اس کائنات کا جس قدرگہرا مطالعہ کریں گے ، معلوم ہوگا کہ اللہ کی مخلوقات میں سے ہر مخلوق زندہ ہے اور اس کی ایک مخصوص روح ہے۔ اور ہر مخلوق اپنے رب کو جانتی ہے۔ اور اس کی حمدوثنا کرتی ہے اور اللہ کی ہر مخلوق جب دیکھتی ہے کہ انسان رب تعالیٰ کا کفر کرتا ہے تو تمام مخلوقات خوفزدہ ہوجاتی ہیں کیونکہ ہر چیز کو اپنے خالق کی معرفت حاصل ہے اور ہر چیزمطیع فرمان ہے ، لہٰذا ہر چیز کو نافرمان مخلوق پر غصہ آتا ہے اور مخلوقات کی روح تمام منکرین سے نفرت کرتی ہے۔ قرآن کریم میں آتا ہے۔ تمسبح لہ………….. تسبیحھم (71 : 44) ” اس کی پاکی کو ساتوں آسمان و زمین اور وہ ساری چیزیں بیان کررہی ہیں جو آسمان اور زمین میں ہیں۔ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کررہی ہو ، مگر تم اس کی تسبیح سمجھتے نہیں ہو “۔ اور اسی طرح حضرت داﺅد (علیہ السلام) کے بارے میں ہے۔ یجبال……………. والطیر (43 : 01) ”(ہم نے حکم دیا) اے پہاڑو ! اس کے ساتھ ہم آہنگی کرو اور یہی حکم ہم نے پرندوں کو دیا “۔ اور دوسری جگہ بھی صراحت کے ساتھ وارد ہے : ثم استوی………….. طائعین (14 : 11) ” پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اس وقت محض دھواں تھا ، اس نے آسمان اور زمین سے کہا وجود میں آجاﺅ تم چاہو یا نہ چاہو ، دونوں نے کہا : ہم آگئے فرماں برداروں کی طرح “۔ یہ تمام چیزیں ، جس حقیقت کی طرف اشارہ کررہی ہیں وہ یہ ہے کہ ہر چیز رب تعالیٰ پر ایمان لاتی ہے ، اس کی تسبیح کرتی ہے ، تعریف کرتی ہے اور جب یہ چیزیں دیکھتی ہیں کہ انسان خالق کائنات کی نافرمانی کرتا ہے تو یہ دہشت زدہ ہوجاتی ہیں۔ جب انسان ایک مختلف رویہ اختیار کرتا ہے تو یہ چیزیں غضب الٰہی کے خوف سے کانپ اٹھتی ہیں۔ اور ان کو اس قدر غصہ آتا ہے کہ شدت غضب کی وجہ سے قریب ہے کہ یہ ایک دھماکے کے ساتھ انسان پر حملہ آور ہوجائیں۔ جس طرح کوئی کسی شریف اور عزت نفس رکھنے والے شخص کو برا بھلا کہے۔ غضب کے مارے اس کا گلا گھٹ جاتا ہے اور سانس پھول جاتی ہے اور وہ بڑی مشکل سے اپنے آپ پر قابو پاتا ہے اور اسی طرح کی حالت جہنم کی بتائی گئی۔ وھی ……………. من الغیظ (76 : 8) ” وہ جوش کھارہی ہوگی اور شدت غضب سے پھٹی جارہی ہوگی “۔
Ayah 67:8

تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ Open ayah 67:8 in the Quran reader

اور وہ جوش کھارہی ہوگی ، شدت غضب سے پھٹی جاتی ہوگی “” ہر بار جب کوئی انبوہ اس میں ڈالا جائے گا ، اس کے کارندے ان لوگوں سے پوچھیں گے ” کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا ؟

اور جہنم کے نگرانوں کی حالت بھی یہی ہوگی۔ کلما .................... نذیر (76 : 8) ” ہر بار جب کوئی انبوہ اس میں ڈالا جائے گا ، اس کے کارندے ان لوگوں سے پوچھیں گے ” کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا ؟ “ یہ بات واضح ہے کہ جہنم میں ان سے یہ سوال محض معلومات حاصل کرنے کے لئے نہ ہوگا ، یہ ان کی سرزنش کرنے اور ان کو دلیل کرنے کے لئے ہوگا ، گویا جہنم کے کارندے بھی جہنم کے ساتھ اس غیظ وغضب میں شریک ہوں گے ۔ جس طرح وہ دونوں ان کو عذاب دینے میں شریک ہیں اور کسی مصیبت زدہ اور پریشان شخص پر اگر سرزنش اور دھتکار کے کوڑے بھی لگیں تو اس کی تلخی کی تو حد ہی نہ ہوگی لیکن ذرا ان لوگوں کا جواب سنیں کہ یہ لوگ کس پدر ذلیل و خوار ہوگئے ہیں۔ اب وہ برخورداروں کی طرح اپنی غفلت اور حماقت کا اقرار کرتے ہیں ، جبکہ وہ پہلے بڑے غرور کے ساتھ رسولوں کو گمراہ کہتے تھے۔
Ayahs 67:9–10

قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ Open ayah 67:9 in the Quran reader

وہ جواب دیں گے ” ہاں ! خبردار کرنے والا ہمارے پاس آیات تھا مگر ہم نے اسے جھٹلادیا اور کہا اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ہے ، تم بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو

وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:10 in the Quran reader

اور کہیں گے ” کاش ہم سنتے یا سمجھتے تو آج اس بھڑکتی ہوئی آگ کے سزاواروں میں نہ شامل ہوتے “

قالو .................... السعیر (76 : 11) ” وہ جواب دیں گے ” ہاں ! خبردار کرنے والا ہمارے پاس آیات تھا مگر ہم نے اسے جھٹلادیا اور کہا اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ہے ، تم بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو “۔ اور کہیں گے ” کاش ہم سنتے یا سمجھتے تو آج اس بھڑکتی ہوئی آگ کے سزاواروں میں نہ شامل ہوتے “۔ اس طرح وہ اپنے قصور کا خود اعتراف کرلیں گے ، لعنت ہے ان دوزخیوں پر “۔ جو سنتا ہے اور عقل سے بات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے وہ اپنے آپ کو اس پوزیشن میں نہیں ڈالتا۔ اور اس طرح انکار نہیں کرتا جو ان بدبختوں نے کیا۔ اور وہ رسولان برحق کو جھٹلانے کی جسارت نہیں کرتا اور نہ اس قدر بھونڈے انداز کی ساتھ ان پر گمراہی کا الزام لگاتا ہے ، بغیر کسی معقول وجہ کے ، الٹا یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ اللہ نے کچھ نازل نہیں کیا ، تم جھوٹ بول رہے ہو ، جیسا کہ گویا وہ ابھی اللہ کے پاس سے آیا ہے۔
Ayah 67:11

فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:11 in the Quran reader

اس طرح وہ اپنے قصور کا خود اعتراف کرلیں گے ، لعنت ہے ان دوزخیوں پر “

فاعترفوا .................... السعیر (76 : 11) ” اس طرح وہ اپنے قصور کا خود اعتراف کرلیں گے ، لعنت ہے ان دوزخیوں پر “۔ سحق کے معنی بعد کے ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے ان کے لئے بددعا ہے۔ جب انہوں نے اعتراف کرلیا اور یہ اعتراف ، اس وقت کیا جب وہ منظر ان کے سامنے آگیا ، جس کے وقوع کا وہ انکار کررہے تھے۔ اور اللہ جس کے لئے بددعا کردے تو گویا ان کی بربادی کا فیصلہ ہوگیا۔ یہ لوگ رحمت خداوندی سے دور ہوگئے ، اب ان کو اللہ کی مغفرت کی کوئی امید نہیں رہی ہے۔ نہ عذاب سے چھوٹنے کی کوئی امید ہے۔ اب تو وہ دوزخ کے ساتھی ہیں۔ کیا ہی بری صحبت ہے اور کیا ہی بری ہم نشینی ہے ان کی اور کیا ہی برانجام ! یہ عذاب ، جہنم کا عذاب ، جو پھٹکاریں ماررہی ہے ، ایک شدید عذاب ہے۔ خوفناک عذاب ہے۔ اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر نفس کے اندر اللہ نے ایمان کی حقیقت اور ایمان کے دلائل رکھ دیئے ہیں اس کے باوجود بھی اگر کو ئی نفس کے اندر اللہ نے ایمان کی حقیقت اور ایمان کے دلائل رکھ دیئے ہیں اس کے باوجود بھی اگر کوئی نفس اللہ کا انکار کرتا ہے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے اندر کوئی بھلائی نہیں اور وہ ہر قسم کی بھلائی سے محروم ہے۔ اسی طرح وہ اپنے وجود اور شخصیت کی تمام بنیادی صفات کا بھی وزن کھوبیٹھتی ہے۔ وہ اسی طرح ہے جس طرح جہنم میں پتھروں کو جلایا جائے۔ اس کی شخصیت نے اپنے آپ کو اپنے مکان سے گرا کر اس آگ میں ڈالا ہے حالانکہ اس کا فرض یہ تھا کہ وہ اس سے بھاگتی۔ جو متنفس اللہ کا انکار کرتا ہے وہ آگے بڑھنے کے بجائے الٹے پاﺅں پھرتا ہے اور اوندھے منہ گرتا ہے اور وہ زندگی کے ہر دوڑ میں گرتا ہی چلا جاتا ہے ، یہاں تک کہ وہ انتہائی بری ، پسماندہ اور قابل نفرت شکل اختیار کرلیتا ہے۔ آخرکار وہ ایک مکروہ جہنمی کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ وہ اس قدر بدشکل ہوجاتا ہے کہ اس جہاں کی کوئی چیز بھی اس قدر کریہہ المنظر نہیں ہوتی۔ جس طرح کوئی چیز مسخ ہوجائے۔ تو ایسے متنفس کے سوا تمام جہاں ایک طرف ہوتی ہے۔ ہر چیز مومن ہے۔ اللہ کی ثناخواں ہے ، اور ہر چیز میں خیر موجود ہے اور تمام اشیاء کے اندر ایمان ایک رابطہ ہے۔ ماسوائے ان نفوس انسانی وشیطانی کے جو کفر اختیار کرتے ہیں۔ ان منکر اور بھٹکے ہوئے افراد کا ہر قسم کا تعلق جہاں بھی وہ ہوں ، ہر چیز سے کٹ جاتا ہے ، ماسوائے جہنم کے وہو کسی کام کے نہیں ہوتے۔ ان کے اندر کوئی معنی کوئی حقانیت اور کوئی عزت نہیں ہوتی۔ اس لئے یہ نفوس جہنم کے مستحق ہوجاتے ہیں۔ قرآن کریم کا یہ انداز ہے کہ وہ صفات بالمقابل پیش کرتا ہے۔ جس طرح جہنم والوں کے مناظر دکھائے گئے۔ اس کے بالمقابل مومنین کے حالات بھی دکھائے جاتے ہیں۔ اور یہ پورے قرآن کریم کا انداز ہے۔ چناچہ یہاں بھی آیات۔
Ayah 67:12

اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 67:12 in the Quran reader

جو لوگ بےدیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں ، یقینا ان کے لئے مغفرت ہے اور بڑا اجر “۔

ان الذین ................ اجرکبیر غیب سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے اپنے رب کو دیکھا نہیں اور اس سے ڈرتے ہیں ، اور یہ مراد بھی ہے کہ اس حالت میں بھی رب سے ڈرتے ہیں جب انہیں کوئی نہیں دیکھ رہا ہوتا۔ ایک انسان جب چھپے ہوئے بھی برائی نہیں کرتا تو اس کا ضمیر زندہ ہوتا ہے اور وہ خدا کا صحیح طرح مومن ہوتا ہے۔ حافظ ابوبکر بزار نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے ، طالوت ابن عباد سے ، انہوں نے حارث ابن عبید سے ، انہوں نے ثابت سے ، انہوں نے انس سے وہ کہتے ہیں صحابہ کرام ؓ نے پوچھا اے رسول خدا .... ہم آپ کے پاس ایک حال میں ہوتے ہیں لیکن جب ہم آپ سے جدا ہوتے ہیں تو ہمارا حال اور ہوتا ہے۔ تو آپ نے فرمایا تم اور تمہارے رب کے ساتھ تعلق کیسا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ رب تو تنہائی میں اور محفل میں ہر جگہ ہمارا رب ہے۔ تو آپ نے فرمایا کہ یہ ” نفاق نہیں ہے “۔ لہٰذا اللہ کے ساتھ رابطہ حقیقی رابطہ ہے۔ جب اللہ پر یقین ہو تو ایسا شخص مومن ہے۔ یہ مذکورہ بالا آیت مضمون ماقبل اور مضمون مابعد دونوں کو آپس میں ملاتی ہے۔ یہ کہ اللہ کو ہر حالت کا علم ہے خواہ کوئی ظاہر ہو یا خفیہ ، تنہائیوں میں ہو۔ اللہ تعالیٰ پکار کر لوگوں کو کہتا ہے کہ میں نے تمہیں پیدا کیا اور میں تمہارے ظاہر و باطن دونوں سے واقف ہوں مجھے اپنی مخلوق کی تمام صلاحیتوں کا علم ہے۔
Ayah 67:13

وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 67:13 in the Quran reader

تم خواہ چپکے سے بات کرو یا اونچی آواز سے (اللہ کے لئے یکساں ہے) وہ تو دلوں کا حال تک جانتا ہے۔ کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے ؟ حالانکہ وہ باریک بین اور باخبر ہے “۔

واسروا .................... الخبیر تم کوئی بات خفیہ کرو یا جہرا کرو ، اللہ کو تو علم ہے۔ وہ جہر ، خفی اور دل کی باتوں کو بھی جانتا ہے۔ انہ علیم ............................ الصدور (76 : 31) ” وہ دلوں کا حال جانتا ہے “۔ وہ بات جو ابھی دل کو چھوڑ کر منہ پر نہیں آئی۔ کیونکہ ان باتوں کو دلوں کے اندر اس نے تو پیدا کیا ہے جس طرح دلوں کو اس نے پیدا کیا ہے۔
Ayah 67:14

اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ Open ayah 67:14 in the Quran reader

کیا وہی نہ جانے جس نے پیدا کیا “ حالانکہ وہ باریک بین اور باخبر ہے “

الا یعلم من خلق (76 : 41) ” کیا وہی نہ جانے جس نے پیدا کیا “۔ وھو ................ الخبیر (76 : 41) ” حالانکہ وہ باریک بین اور باخبر ہے “۔ اس کا علم بہت ہی باریکی اور تاریکی تک پہنچا ہواہوتا ہے۔ ہر خقی ومستور بھی اس کے علم میں ہے۔ جو لوگ اپنی کوئی حرکت اللہ سے چھپاتے ہیں ، یا باتیں اللہ سے چھپاتے ہیں ، یا دل کی نیت کے بارے میں یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ تو نیت ہے ، وہ ایک مضحکہ خیز سوچ رکھتے ہیں۔ جس ضمیر میں وہ بات چھپاتے ہیں وہکس کے ہاتھ میں ہے ؟ وہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اور اس کے اندر ابھرنے والی سوچ کی تمام لہروں کو وہ جانتا ہے۔ نیت و ارادہ بھی اللہ کی مخلوقات کا حصہ ہے۔ اور اس کو بھی وہ جانتا ہے کہ کون کیا ارادہ رکھتا ہے۔ لوگ کیا چھپاتے ہیں اور کیا نہیں چھپاتے۔ قرآن انسان قلب میں یہ حقیقت بٹھانا چاہتا ہے اس لئے کہ اس طرح وہ حقیقت کبریٰ کا صحیح ادراک کرسکتے ہیں۔ مزید یہ کہ ان کے اندر بیداری اور تقویٰ کا احساس بڑھتا ہے ، جس کا تعلق اس عظیم ذمہ داری کے ساتھ ہے ، جو انہوں نے اس جہاں میں اٹھائی ہے یعنی دنیا میں صحیح نظریہ حیات پھیلانا ، عدالت کا قیام ، اور نیت اور عمل میں خلوص کا حصول اور یہ مقام کوئی انسان اس وقت تک نہیں پاسکتا جب تک وہ ظاہر و باطن میں خدا سے نہ ڈرتا ہو ، اور اللہ بہت ہی لطیف وخبیر ہے۔ جب ایک مومن اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو وہ خفیہ نیت میں بھی اللہ سے ڈرتا ہے اور دل میں پوشیدہ وسوسہ کے بارے میں بھی ڈرتا ہے اور ظاہری قول اور قعل سے بھی ڈرتا ہے اگر وہ اللہ کی مرضی کے خلاف ہو ، کیونکہ اللہ تو وسوسہ سے خبردار ہے۔ اس کے بعد اب روئے سخن انسان کے نفوس اور ان کی نگرانی کے موضوع سے ، زمین کی طرف پھرتا ہے کہ اس کی تخلیق انسان کے لئے ہوئی ہے اور اس زمین کو تمہارے زیر نگیں بنایا گیا اور سب چیزیں تمہارے لئے پیدا کی ہیں۔
Ayah 67:15

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ Open ayah 67:15 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو تابع رکھا ہے ، چلو اس کی چھاتی پر اور کھاﺅ خدا کا رزق ، اسی کے حصور تمہیں دوبارہ زندہ ہوکر جانا ہے “۔

ھوالذی .................... النشور ” لوگوں کی حالت یہ ہے کہ اس زمین پر رہتے رہتے اور اس زمین پر ان کو ہر قسم کی رہائشی سہولتیں ہونے کی وجہ سے ، اس میں چلنے پھرنے کی قدرت اور اس کی مٹی ، پانی ، ہوا اور دوسرے خزانوں پر دسترس کی وجہ سے اور اس کی تمام پیداوار استعمال کرنے کی وجہ سے ، لوگ یہاں کی زندگی کے عادی ہوگئے ہیں اور یہ بات تک بھول گئے ہیں کہ اللہ نے اس کو ان کے لئے مسخر کردیا ہے اور ان کی دسترس میں دے دیا ہے۔ قرآن کریم بار بار ان کو یہ سبق یاد دلاتا ہے کہ ذرا اس پر غور کرو اور دیکھو۔ چناچہ ہر دور میں لوگوں نے اپنے اپنے علم کے مطابق تسخیر کائنات کے مفہوم کو سمجھا۔ ایک مسخر زمین ، ابتدائی دور کے سننے والوں کے ذہن میں صرف یہ مفہوم رکھتی تھی کہ اس زمین کے اوپر ہم چل سکتے ہیں۔ پیدل یا گھوڑوں پر سوار ہوکر ، یا کشتی پر سوار ہوکر جو سمندر کے سینے کو چیرتی چلی جاتی ہے۔ اور اس میں زراعت کرسکتے ہیں اور اس کے اندر جو کچھ زندہ و مردہ مخلوقات ہے ، اسے استعمال کرسکتے ہیں۔ پانی ، ہوا اور زمین اور ہر قسم کے نباتات وغیرہ۔ یہی مجمل مفہومات تھے جن کو اب سائنس نے ذرا مزید مفصل بنادیا ہے ، جہاں تک آج ہمارا علم آگے بڑھا ہے اور ہمارے اس علم کی وجہ سے اس نص قرآنی کا مفہوم بھی مزید وسیع ہوگیا ہے آئندہ نسلیں اس سے زیادہ سمجھیں گی۔ اب جدید علوم کے مطابق اس کا مفہوم کس قدر وسیع ہے۔ یہ لفص ذلول بالعموم ایک جانور کے لئے استعمال ہوتا ہے جو سدھایا ہوا ہو۔ یعنی جو سواری کے لئے اچھا ہو ، مطیع ہو ، زمین پر اس لفظ کا اطلاق اب ہم اچھی طرح سمجھے ہیں کہ یہ زمین بھی درصال ایک سواری ہے ، اگر یہ ٹھہری ہوگی ، پر سکون اور جمی ہوئی ہے ، لیکن دراصل یہ متحرک سواری ہے بلکہ نہایت ہی تیز رفتار سواری ہے۔ اللہ نے اسے ایسا تابع جانور بنایا ہے کہ سوار کو اٹھا کر پھینک نہیں دیتی اور نہ اسے ہوا میں اڑا دیتی ہے۔ نہ اس کے اوپر انسان کے قدم ڈگمگاتے ہیں اور نہ یہ انسان کو گھڑے یا اونٹ پر سوار ہونے والے کی طرح ہلاتی ہے ، جھٹکے دیتی ہے ، اچھالتی ہے ، جس طرح ایک غیر ” ذلول “ جانور ایسا کرتا ہے۔ پھر یہ ایک ایسا جانور ہے کہ تابع جانور کی طرح دودھ دینے والی بھی ہے۔ یہ جانور یا یہ گولا جس کے اوپر ہم سوار ہیں ، یہ اپنے ارد گرد ایک ہزار میل فی گھنٹہ کے حساب سے چکر لگارہی ہے اور اس محوری رفتار کے ساتھ ساتھ یہ سورج کے گرد 56 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی دوڑ رہی ہے۔ پھر یہ زمین یہ سورج اور سورج کی پوری کہکشاں 02 ہزار میل فی گھنٹہ کے حساب سے آسمان کے برج جبار (VAST ORBTTA) کی سمت چلتے ہیں جس کا ایک چکر 62 کروڑ سال میں پورا ہوتا ہے۔ ان تمام رفتاروں کے باوجود ، ان تمام دوڑوں کے باوجود ہم بڑے آرام سے اس گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھے ہوتے ہیں اور یہ گھوڑا بہت بڑا ” ذلول “ ہے۔ اس قدر سکون سے جارہا ہے کہ رفتار کا احساس بھی ہیں ہورہا ہے۔ بڑے سکون سے بیٹھا ہے۔ اس کے اعصاب پر کوئی دباﺅ نہیں ہے اور یہ نہیں ہورہا کہ اس سے گر کر اس کی بوٹی بوٹی اس کائنات میں بکھر جائے۔ اور اس گھوڑے کے اوپر سے انسان کبھی بھی نہیں گرتا۔ پھر یہ تین مختلف الاطراف حرکتوں میں یہ گھوڑا جتا ہوا ہے۔ ان میں دو حرکتوں ، یعنی حرکت محوری اور حرکت شمسی کے اثرات کو تو ہم جانتے ہیں۔ انسانوں پر بھی ان کا اثر ہے ، زمین پر بھی ان کا اثر ہے اور اس زمین پر پائی جانے والی زندگی پر بھی ان کا اثر ہوتا ہے۔ زمین کی گردش کی محوری کی وجہ سے لیل ونہار پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ہمیشہ رات ہوتی تو سردی کی وجہ سے تمام چیزیں جم جاتیں ، اور سورج کے گرد اس کا جو دورہ ہے اس سے موسم اور مختلف فصلوں کے اوقات کا تعین ہوتا ہے۔ اور اگر ایک ہی موسم رہتا تو زمین کی موجودہ شکل نہ ہوتی۔ رہی تیسری حرکت تو ابھی ہمیں اس کی حکمت کا علم نہیں ہوسکا اور یہ ضروری ہے کہ اس عظیم کائنات کے کسی عظیم تر نظام سے اس کا کوئی تعلق ہو۔ واللہ اعلم ! یہ گھوڑاجو بیک وقت ان مختلف اطراف میں یہ حرکات کررہا ہے اپنی اس حرکت کے دوران اپنی جگہ جما ہوا ہے یا جما ہو نظر آتا ہے۔ اور یہ اپنے محور پر 5 ئ 23 درجہ جھکا ہوا ہے۔ اور اس جھکاﺅ کے نتیجے ہی میں چار مختلف موسم پیدا ہوتے ہیں۔ یہ موسم زمین کی گردش شمسی کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ اگر اس حرکت میں ذرا بھی خلل آجائے تو ہمارا تمام موسمی نظام ، بارشوں کا نظام اور فصلیں اگنے کا نظام اور ماہ وسال کا نظام ختم ہوجائے ، بلکہ ممکن ہے کہ زمین پر سے زندگی ہی ناپید ہوجائے۔ اللہ نے زمین کو اس رطح انسان کے لئے سدھایا ہوا ہے کہ اس کے اندر جاذبیت کی ایسی مقداررکھی ہے کہ زمین انسان کو اپنے اوپر چپکائے رکھتی ہے اور تمام حرکات کے دوران انسان اس کے اوپر ادھر ادھر نہیں لڑھکتے۔ اسی طرح اس کے اوپر فضا کے دباﺅ کا نظام قائم کیا گیا ہے جس کی وجہ سے انسان بسبولت اس کے اوپر چل سکتا ہے۔ اگرچہ موجودہ فضائی دباﺅ ذرا بھی زیادہ ہوتا تو انسان کے لئے زمین کے اوپر چلنا ممکن ہی نہ رہتا یا چلنا ممکن بہت ہی مشکل ہوتا۔ زیادہ دباﺅ کی وجہ سے انسان چپک جاتا یا چلنے کے قابل نہ ہوتا۔ اور اگر موجود دباﺅ سے بھی اسے قدرے کم کردیا جاتا تو انسان فضا میں چھلانگیں لگاتا پھرتا اور اس کے قدم مضطرب ہوجاتے۔ یا اس کا پیٹ اندرونی دباﺅ سے پھٹ جاتا۔ کانوں کے پردے پھٹ جاتے۔ جس طرح ان لوگوں کو پیش آتا ہے جو بالائی فضا میں چلے جاتے ہیں اور ان کو موجودہ فضائی دباﺅ مصنوعی طور پر فراہم نہیں کیا جاتا۔ پھر اللہ نے موجودہ زمین کو مسخر کردیا۔ اس نے زمین کی سطح کو ہموار کردیا ہے اور اوپر سے اس پر نرم مٹی فراہم کردی ہے۔ اگر یہ زمین ایک مضبوط صحرا کی طرح ہوتی جس طرح سائنس دانوں نے یہ مقروضہ کیا ہے کہ یہ ٹھنڈی ہوکر ایک چٹان بن گئی تھی۔ تو اس پر چلنا بھی مشکل ہوتا اور اس کے اندر کوئی روئیدگی بھی نہ ہوتی ، لیکن فضائی عوامل ، ہوا ، گرمی ، سردی اور سارشوں نے ان سخت پتھروں کو توڑاپھوڑا اور اس طرح زمین پر یہ مٹی پیدا ہوئی ، جس کے اندر ہر قسم کی پیداوار ممکن ہوتی ہے ( اور اسی سے انسان بھی بنایا گیا) یوں اس سوار یکے سوار اس کا دودھ بھی پیتے ہیں۔ اور اللہ نے زمین کو اس طرح مسخر بنایا کہ اس کے اوپر جو ہوا جمع کی اس کے اندر انسان اور دوسری زندگی کی تمام ضروریات جمع کردیں۔ اور یہ ضروریات اس طرح باریک بینی کے ساتھ اس ہوا کے اندر رکھ دیں کہ اگر ان عناصر میں سے کوئی چیز ذرا بھی کم وبیش کردی جائے تو کرہ ارض کے اوپر سے تمام زندگی ختم ہوجائے۔ ہوا میں آکسیجن کی نسبت 12 ہے اور نائٹروجن 87 % ہے اور باقی کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے اور دوسری گیسیں ہیں۔ اور یہ نسبت زمین پر زندگی کے قیام کے لئے لازمی ہے۔ پھر اللہ نے زمین کو انسانی زندگی کی ہزارہا ضروریات کے لئے موزوں قرار دیا۔ ان میں زمین کا موجودہ حجم ، سورج کا موجودہ حجم اور چاند کا موجودہ حجم سب کے سب سازگار ہیں۔ پھر شمس وقمر سے زمین کی موجودہ دوری ، سورج کا درجہ حرارت ، اور زمین کے چھلکے کا موجودہ موٹاپا اور زمین کی موجودہ رفتار ، زمین کا اپنے محور پر ایک طرف جھکا ہوا ہونا اور پھر خشکی اور تری کی موجودہ نسبت اور ہوا کی موجودہ کثافت اور یہ اس قسم کی دوسری چیزیں سب مل کر زمین کو انسان کے لئے مسخر کرتی ہے اور ذلول بناتی ہیں اور انہی چیزوں کی وجہ سے انسانوں کا رزق فراہم ہوا ہے اور ان سے مختلف حیوانات اور پھر انسان کو زندگی ملی ہے۔ یہ قرآنی آیت ان امور کی طرف اشارہ کررہی ہے تاکہ اسے ہر دور کا آدمی اپنی علمی استطاعت کے مطابق سمجھ سکے۔ جس قدر انسانی مشاہدہ آگے بڑھے گا۔ آیت کا مفہوم وسیع ہوتا جائے گا اور انسان یہ شعور تازہ کرتا رہے گا کہ سب بادشاہی اللہ کے ہاتھ ہی میں ہے۔ وہ ہر چیز کا نگہبان ہے۔ انسان کے پورے ماحول میں ہر چیز کا بھی نگہبان ہے۔ یہ زمین انسان کے لئے مسخرکردی گئی ہے۔ انسان کی حفاظت بھی اللہ کررہا ہے اور اگر کسی وقت اس کی نگہبانی اٹھ جائے تو یہ پورے کا پورا نظام یکلخت بگڑ جائے۔ جب انسانی ضمیر میں یہ بات بیٹھ گئی ، تو اللہ رحمن اور رحیم نے حکم دیا کہ اس زمین کی چھاتی پر گھومو پھرو اور اس کے اندر جو ارزاق رکھے ہوئے ہیں ان کو استعمال کرو۔ فامشوا .................... من رزقہ (76 : 51) ” چلو اس کی چھاتی پر اور کھاﺅ خدا کا رزق “۔ مناکب کے معنی ہیں اس کی بلندیاں یا اس کی پہلو۔ جب اللہ نے زمین کی بلندیوں اور پہلوﺅں کی اجازت دے دی تو اس کے میدان اور اس کی وادیوں میں پھرنے کی اجازت بھی اس میں آگئی اور اس کے اندر جو بھی رزق ہے وہ اللہ کا پیدا کردہ ہے۔ وہ کسی کا مال نہیں ہے ، جو کسی کے ہاتھ میں ہو ، یہ سب اس کی ملکیت میں ہے۔ اور اس کا مفہوم بہت ہی وسیع ہے ، اس سے جو بالعموم لوگوں کے ذہن میں آتا ہے ، لفظ رزق سے۔ اس سے صرف وہ مال مراد نہیں ہے و کسی کے قبضے میں ہوتا کہ وہ اس سے اپنی ضروریات پوری کرے۔ اس رزق سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جو انسان کے لئے رزق کے اسباب ہیں اور جو اس زمین کے اندر ودیعت کی ہوئی ہیں۔ وہ تمام عناصر جن سے یہ زمین بنائی گئی ہے اور وہ تمام عناصر جن کے استعمال کے لئے اللہ نے نباتات ، حیوانات اور انسانوں کو اہل بنایا۔ اس رزق کی تشریح جدید علوم ناے خوب کردی ہے مختصراً اس کی نوعیت یوں ہے : ” ہر پودے کی زندگی ہوا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کے چھوٹے ذرات مالیکیولزئزوزرات پر موقوف ہے جو ہوا میں ہوتے ہیں۔ جن کو یہ پودا سانس لے کر کذب کرتا ہے۔ یہ ایک کیمیاوی عمل ہے جو سورج کی روشنی میں مکمل ہوتا ہے ، یوں سمجھنا چاہئے کہ درختوں کے پتے دراصل درختوں کے پھیپھڑے ہیں۔ سورج کی روشنی میں پودے اس قابل ہوتے ہیں کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کریں اور کاربن کو آکسیجن سے علیحدہ کردیں اور آکسیجن کو واپس کردیں اور کاربن کو ہائیڈروجن کے ساتھ ملا کر ، جسے جڑوں کے ذریعہ پودا پانی کی شکل میں اخذ کرتا ہے ، (جہاں پانی کی آکسیجن اور ہائیڈرون کی علیحدگی ہوجاتی ہے) اور پھر نہایت ہی حیران کن انداز سے قدرت ان عناصر سے شکر اور نامیاتی ریشے اور متعدد دوسرے کیمیاوی مواد تیار کرتی ہے ، جس سے پھل اور پھول تیار ہوتے ہیں اور جس مواد سے پودا اپنی غذا بھی لیتا ہے اور روئے زمین کے تمام دوسرے حیوانات کے لئے غذا تیار بھی کرتا ہے ، اور اس دوران یہ پودا جو آکسیجن سانس کے ذریعہ کھینچتا ہے اسے نکال دیتا ہے ، جس کے بغیر پانچ سیکنڈ کے اندر اندر زندگی ختم ہوجاتی ہے “۔ ” اسی طرح معلوم ہوتا ہے تمام نباتات ، تمام جنگلات ، تمام جھاڑیاں پانی پر پائی جانے والی کائی ، تمام فصلیں دراصل کاربن اور پانی سے تشکیل پاتی ہیں۔ حیوانات اور انسان کاربن ڈائی آکسائیڈ سے نکالتے ہیں اور نباتات آکسیجن نکالتے ہیں۔ اگر یہ تبادلہ نہ ہوتا تو انسان زندگی اور حیوانی زندگی سب آکسیجن اور سب کاربن ڈائی آکسائیڈ کو آخر کار ختم کردیتے اور جب یہ توازن ختم ہوجاتا تو پودے جھلس جاتے اور انسان مرجاتے۔ حال ہی میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی ایک قلیل مقدار حیوانات کی زندگی کے لئے ضروری ہے جبکہ نباتات کو بھی آکسیجن کی قلیل مقدار کی ضرورت ہوتی ہے “۔ ” اگرچہ ہم ہائیڈروجن کو سانس کے ذریعے نہیں جذب کرتے۔ لیکن اس کا وجود بھی ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر پانی موجود نہیں ہوتا اور پانی انسانی اور حیوانی زندگی کے لئے نباتات کے لئے اس قدر ضروری ہے کہ اس کے بغیر انسانوں اور حیوانوں کی زندگی ممکن ہی نہیں “۔ (” سائنس ایمان کی دعوت دیتی ہے “ ترجمہ محمود صالح فلکی ص 02 ، 12) ۔ اسی طرح نائٹروجن کا بھی زمین کے رزق کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ ” نائٹروجن کے بغیر کوئی غذائی پودا نشوونما نہیں پاسکتا۔ اسے کسی نہ کسی طرح نائٹروجن ملنا چاہئے۔ زرعی زمین میں نائٹروجن کے داخل ہونے کے دو طریقے ہیں۔ یہ کہ ایک خاص قسم کا بیکٹریا یعنی (جراثیم) سبزی نما نباتات کی جڑوں میں رہتے ہیں۔ شفتل ، چنا ، لوبیا وغیرہ کی جڑوں میں۔ یہ جراثیم خالص نائٹروجن حاصل کرتے ہیں مثلاً ہوا اسے اور ان کو مرکب شکل میں زمین میں چھوڑتے ہیں اور پھر پودا اس کو اپنے اندر جذب کرسکتا ہے۔ جب یہ پودا مرجاتا ہے تو یہ مرکب نائٹروجن زمین کے اندر ہی رہ جاتا ہے “۔ ” ایک طریقہ دوسرا بھی ہے ، جس کے ذریعہ نائٹروجن زمین میں داخل ہوجاتی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ جب ایسی ہوائیں چلتی ہیں جن میں بجلی چمکتی ہے۔ ہواﺅں کے اندر جب بھی چمکتی ہے تو کسی آکسیجن اور نائٹروجن کو متحد کردیتی ہے۔ اور بارش اسے زمین پر ایک مرکب نائٹروجن کے طور پر پھینک دیتی ہے۔ اس صورت میں کہ پودے ان کو جذب کرسکیں “۔ کیونکہ پودے خالص نائٹروجن کو اپنے اندر جذب نہیں کرسکتے۔ اس لئے کہ ہوا میں اس کی نسبت 87 % ہوتی ہے “۔ (” سائنس ایمان کی دعوت دیتی ہے “ ترجمہ محمود صالح فلکی ص 02 ، 12) ۔ اور زمین کے اندر جو جامد اور سیال رزق موجود ہے یہ سب زمین اس کے حالات رزق کے ساتم متعلق ہے۔ یہاں اندر کے ارزاق کی تشریحات کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ الفظ رزق کا مفہوم یہاں بہت ہی وسیع ہے اور بہت ہی گہرا ہے۔ اور جب اللہ ہمیں اجازت دیتا ہے کہ تم زمین میں پھرو اور رزق تلاش کرو کہ تمہارے لئے زمین کو مسخر کیا گیا ہے تو یہ سب اس لفظ کے مفہوم میں داخل ہیں اور ہمیں اجازت ہے۔ جس قدر انسان اس سے استعفادہ کرسکے۔ فامشوا ............................ من رزقہ (76 : 51) ” چلو اس کی چھاتی پر اور کھاﺅ خدا کا رزق “۔ لیکن یہ اجازت ایک متعین وقت تک کے لئے ہے اور وقت کا تعین کردیا گیا ہے جو اللہ کے علم میں ہے۔ اللہ کی تدبیر کائنات کے مطابق ہے۔ زندگی اور موت کے عرصہ ابتلا تک کھاﺅ لیکن اس کے بعد۔ والیہ النشور (76 : 51) ” اسی کے حضور تمہیں دوبارہ زندہ ہوکر جانا ہے “۔ اسی کی طرف جانا اور اگر تم نہیں مانتے تو بتاﺅ کس کی طرف جانا ہے ؟ اس کے سوا جائے پناہ تو کہیں بھی نہیں ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ابھی انسان اس زمین کی پشت پر اور اس کے اندر اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہی ہورہا تھا اور اللہ کے حکم سے زمین پر چل کر نعمتیں سمیٹ رہا تھا کہ اچانک اس سدھائی ہوئی تابعداد زمین کے اندر ایک جنبش پیدا ہوتی ہے اور اس کا یہ توازن اور رفتار یکدم ختم ہوجاتی ہے۔ اب یہی پر سکون زمین ان پر بمباری کررہی ہے اور پہاڑ گرارہی ہے۔ ان کے احساس اور تصورات میں ایک زلزلہ برپا کردیا جاتا ہے تاکہ یہ لوگ زمین کے قرار و سکون اور نعمتوں سے لطف اندوز ہونے میں ہی مگن نہ ہوجائیں اور ذرا اس بادشاہ کی طف بھی دیکھیں جس نے اس نظام کو قائم کررکھا ہے ، اپنے دلوں اور سوچوں کو اللہ کے ساتھ مربوط رکھیں۔
Ayahs 67:16–17

ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ Open ayah 67:16 in the Quran reader

کیا تم اس سے بےخوف ہو کہ وہ جو آسمان میں ہے ، تمہیں زمین میں دھنسادے اور یکایک یہ زمین جھکولے کھانے لگے ؟

اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ Open ayah 67:17 in the Quran reader

کیا تم اس سے بےخوف ہو کہ وہ جو آسمان میں ہے ، تم پر پتھراﺅ کرنے والی ہوا بھیج دے ؟ پھر تمہیں معلوم ہوجائے کہ میری تنبیہہ کیسی ہوتی ہے۔

ء امنتم ........................ نکیر یہ انسان جو اس سدھائی ہوئی مطیع فرمان سواری پر سوار ہوکر مزے لوٹ رہا ہے اور اس سواری کے اندر ہی اپنا رزق دودھ کی شکل میں حاصل کرتا ہے ، اسے معلوم ہے کہ یہ مطیع فرمان سواری ایک دن بگڑ جائے گی اور جب اللہ کا حکم ہوگا تو یہ ایسی نہ رہے گی۔ یہ ذرا سا جھٹکا ہی دے گی کہ اس کے اوپر کی تمام چیزیں ادھر ادھر بکھر جائیں گی اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح لرز جائیں گے اور یہ اس قدر تیز جھکولے کھانے لگے گی اور ایسے حالات بڑے زلزلوں اور بڑی بڑی آتش نشانیوں کے وقت بھی ہوتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس رکی ہوئی اور تابع زمین کے اندر کس قدر سرکشی ہے جو ناقابل کنٹرول ہے۔ اس کی زمام تو اللہ نے پکڑ رکھی ہے۔ اس لئے یہ جھٹکے نہیں کھاتی ہے اور جب یہ چند سیکنڈ یا ایک منٹ کے لئے بھی جھٹکے دے تو زمین کے اوپر انسانوں نے جس قدر پختہ سے پختہ قلعے تعمیر کیے ہوئے ہیں ، سب مسمار ہوجاتے ہیں۔ اور یہ بستیوں کی بستیاں اس کے پیٹ کے اندر دھنس جاتی ہیں اور جب انسان اس کے اندر جارہے ہوں تو کوئی چیز بھی انہیں بچا نہ سکے۔ زلزلوں ، آتش فشانی اور دھنسنے کے وقت یہ فرعون انسان پھر چوہوں کی طرح ادھر ادھر بھاگتے ہیں۔ جس طرح چوہے پنجرے میں بند ہوں اور وہ نکلنے کے لئے ادھر ادھر بھاگتے ہیں۔ ایک منٹ پہلے تو یہ غافل ، مست ، سرکش اور اس ذات عالی مقام سے غافل تھے جس نے اس سرکش سواری کی زمان کو تھام رکھا تھا اور اب ہر طرف بھگڈر ہے۔ انسان اس دنیا میں ایسی آندھیاں بھی دیکھتے ہیں جو بادوباراں کے ساتھ پتھر بھی برسارہی ہوتی ہیں اور جس جس بستی سے گزرتی ہیں ، درختوں ، خیموں اور مکانات کو اڑاتی چلی جاتی ہیں۔ جنگلات کو جلا کر بھسم کردیتی ہیں اور لوگ دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں۔ بےبس دیکھتے چلے جاتے ہیں۔ ان کا علم اور ان کی قوت اور ٹیکنالوجی دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ یہ طوفان ہزاروں میل کی رفتار سے چلتے ہیں اور پتھر اڑاتے اور سمندروں کو خشکیوں پر چڑھاتے چلے جاتے ہیں تو انسان ان کے سامنے ایک مچھر اور چیونٹی کے برابر رہ جاتا ہے ، لیکن یہ اللہ کی قوت ہی ہوتی ہے جو اپنی افواج کو روکتی ہے اور پھر یہ زمین اور یہ سواری قرار پکڑتی ہے۔ قرآن کریم انسانوں کو یاد دلاتا ہے کہ یہ سواری جو تمہارے لئے سدھائی ہے اور بڑی سلامتی سے چل رہی ہے ، تم کہیں دھوکہ نہ کھا جاﺅ، یہ تو خالق کائنات کے کنٹرول میں ہے اور اسی نے اسے تمہارے لئے سدھایا ہے ، اس کی سرکشیاں جب شروع ہوں گی تو تم پھر اپنے آپ کو کسی صورت میں بچا نہ سکو گے۔ یہ زمین جھکولے کھاسکتی ہے اور تیز رفتاری اختیار کرسکتی ہے۔ یہ اپنے اندر سے گرم گرم لاوا بھی اگل سکتی ہے ، یہ تمہیں زمین کے اندر بھی دھنسا سکتی ہے ، پتھروں کی بارش بھی ہوسکتی ہے۔ کوئی انسانی طاقت اس کو نہیں روک سکتی۔ اور نہ کوئی انسانی طاقت اسے تباہی و بربادی سے دور کرسکتی ہے۔ اللہ اس قدر ڈراتا ہے کہ دل دہل جاتے ہیں اور اعصاب شل ہوجاتے ہیں اور اعضا تھرتھرانے لگتے ہیں۔ فستعلمون ................ نذیر (76 : 71) ” پھر تمہیں معلوم ہوجائے کہ میری تنبیہہ کیسی ہوتی ہے “۔ اب ان کے سامنے تاریخی واقعات کی طرف ایک مجمل اشارہ پیش کیا جاتا ہے کہ ازمنہ ماضیہ میں بعض منکرین کا عبرتناک انجام تمہارے سامنے ہے۔