67. Surah Al-Mulk

الملكThe Sovereignty · 30 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 67:18

وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 67:18 in the Quran reader

ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ جھٹلا چکے ہیں۔ پھر دیکھ لو کہ میری گرفت کیسی سخت تھی “۔

ولقد کذب .................... نکیر (76 : 81) ” ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ جھٹلا چکے ہیں۔ پھر دیکھ لو کہ میری گرفت کیسی سخت تھی “۔ نکسیر کا مفہوم ہے غصہ اور سرزنش اور اس کے نتیجے میں آنے والی سزا۔ ان کو وہ واقعات معلوم ہیں کہ اللہ نے امم سابقہ کو پکڑا۔ انہی سے پوچھا جاتا ہے کہ تم ہی بتاﺅ کہ پکڑ کیسے رہی۔ فکیف کان نکیر (76 : 81) ” کیونکہ آثار ان کے سامنے تھے۔ لہذا وہ جانتے کہ عذاب کیسا رہا۔ یہاں اللہ ان کی جس بےخوفی پر تنبیہ فرماتا ہے وہ ایسی بےخوفی ہے ، جس میں انسان اللہ سے غافل ہوجائے۔ ایسا امان ہے جس کے نتیجے میں انسان کے دل سے اللہ کی قدرت کا ڈر نکل جائے اور اللہ کی عظمت کا خیال نہ رہے۔ اس بےخوفی سے مراد وہ امن و اطمینان کی حالت نہیں ہے جو ذکر الٰہی کے نتیجے میں انسان کو حاصل ہوتی ہے۔ جو اللہ کی رحمت اور اس کی نگہبان کے یقین سے نصیب ہوتا ہے۔ مومن اللہ کی رحمت اور فضل کا امیدوار ہوتا ہے۔ لیکن غافل نہیں ہوتا۔ اللہ کو یاد کرنے والا مومن تو ہر وقت اس کی طرف نظریں اٹھائے ہوئے ہوتا ہے۔ اس سے حیا کرتا ہے ، اس کے غضب سے ڈرتا ہے۔ اور ہر وقت دعا کرتا ہے کہ اے اللہ تیری تقدیر میں میرے لئے جو مشکل لکھی ہے اس سے بچا اور عافیت نصیب کر۔ وہ ہر وقت ڈرتا ہے۔ امام احمد نے اپنی اسناد کے ساتھ حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : ” میں نے رسول اللہ کو کھبی بےفکری کی حالت میں یوں ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ کی حلق کا کوا نظرآتا ہو۔ آپ صرف تبسم فرماتے۔ اور رسول اللہ ﷺ یوں تھے کہ جب کوئی بادل دیکھتے یا تند ہوا دیکھتے تو آپ کے چہرے پر اثر ہوجاتا۔ تو میں نے کہا کہ اے رسول خدا لوگ جب بادل دیکھتے ہیں یا ہوا دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اس امید پر کہ اس میں بارش ہوگی۔ اور میں دیکھتی ہوں کہ آپ جب ان چیزوں کو دیکھتے تو آپ کے چہرے پر کراہیت کے آثار نظر آتے ہیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اے عائشہ .... اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ اس میں عذاب الٰہی نہ ہو ، بعض اقوام کو ہوا سے عذاب دیا گیا ، ” ایک قوم نے عذاب دیکھا اور کہا یہ ہے بادل جو ہم پر بارش کردے گا “۔ (صحیحین) یہ ہے دائمی جاگتا احساس ، اللہ تعالیٰ اور اللہ تعالیٰ کے نظام قضاوقدر کے بارے میں اور احادیث میں آپ کی سیرت سے بھی نقل ہوا ہے ، یہ احساس اللہ کی رحمت پر اطمینان اور اللہ کے فضل کی امیدواری کے خلاف نہیں ہے۔ یوں آیات میں بتایا جاتا ہے کہ تمام ظاہر اسباب کا ایک مسبب الاسباب ہے۔ تمام اسباب اول کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔ اور وہ ذات باری ہے ، جس کے ہاتھ میں پوری بادشاہت ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ لہٰذا کسی گاﺅں کو زمین میں دھنسا دینا ، کسی کو آتش فشاں کی زد میں لانا ، کسی بستی کو زلزلے سے تباہ کردینا ، اور کسی بستی کو تیز ہواﺅں کی زد میں لانا صرف اللہ کی قدرت میں ہے۔ اور ان کے علاوہ یہ تمام کائناتی قوتیں اور یہ تمام طبیعیاتی قوتیں کیا کسی انسان کے ہاتھ میں ہیں۔ ان کا معاملہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ ان کے بارے میں جو اسباب گنواتے ہیں۔ وہ تو محض مفروضے ہیں جن کے ذریعہ انسان ان واقعات کی کوئی معقول تشریح کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان واقعات میں ان کا دخل وعمل کوئی نہیں ہوتا۔ اور نہ اپنے آپ کو ان واقعات سے بچا سکتے ہیں۔ اور انسان اس زمین کی پشت پر جو تبدیلیاں لاتے ہیں وہ ایک ہی جھٹکے سے نیست ونابود ہوجاتی ہیں۔ ایک آندھی اٹھتی ہے جس میں آگ ہوتی ہے تو وہ بھسم کرکے رکھ دیتی ہے۔ گویا کہ یہ کاغذی کھیل تھا۔ لہٰذا لوگوں کو چاہئے کہ وہ ہر معاملے کو صرف خالق کائنات کی طرف لوٹائیں اور اسے ہی تما حادثات کا سبب اول سمجھیں ، اسے ہی ان قوانین قدرت کا جاری کرنے والا سمجھیں جن کے مطابق کائنات چلائی جاتی ہے۔ اور وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوں کیونکہ آسمان ہی علامت بلندی ہے۔ اور یوں اللہ کو یاد کریں جس کے ہاتھ میں سب بادشاہیاں ہیں اور وہ سب چیزوں پر قاد رہے۔ انسان کے اندر جو قوت ہے وہ وہی ہے جو اسے خالق نے بخشی ہے۔ اس کے پاس وہی علم ہے جو خالق نے اسے دیا ہے۔ لیکن اس پوری کائنات کی زمام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اور اس کائنات کے قوانین اس اللہ کے بنائے ہوئے ہیں۔ اور اس کے اندر جو قوتیں ہیں وہ اللہ کی مدد کی وجہ سے ہیں۔ اور یہ قوتیں اللہ کے نظام قضا وقدر کے مطابق چلتی ہیں ان سے جو تکلیف انسان کو پہنچتی ہے ، ان سے جو نعمتیں انسان کو پہنچتی ہیں اور وقتاً فوقتاً جو واقعات وحادثات اس کائنات میں انسان کو پیش آتے رہتے ہیں وہ سب اللہ کی طرف سے ہیں اور جو بڑے بڑے حادثات انسان کو اس دنیا میں پیش آتے ہیں اور جن کے سامنے انسان بےبس کھڑا ہوتا ہے اور نہایت ہی بڑا نقصان اٹھاتا ہے ان کے جواب میں انسان صرف یہ کرسکتا ہے کہ وہ اللہ خالق کائنات کو یاد کرے اور اس کے سامنے دست بدعا ہو۔ جس نے ان قوتوں کو انسان کے لئے مسخر کیا ہے اور صرف اللہ سے معاونت طلب کرے کہ وہ ان قوتوں کو انسان کے لئے مسخر کردے۔ اور انسان جب اس حقیقت کو بھول جاتا ہے اور غرے میں مبتلا ہوکر دھوکہ کھا جاتا ہے اور اکڑتا ہے کہ اس نے تو اس کائنات کی بعض قوتوں کو مسخر کرلیا ہے ، تو ایسا شخص دراصل حقیقی علم سے دور ہوجاتا ہے اور اس کا رابطہ اب حقیقی علم سے کٹ جاتا ہے حالانکہ یہ حقیقی علم اسے اعلیٰ سرچشمے تک بلند کرتا ہے۔ اس طرح وہ مسخ ہوکر زمین پر گر جاتا ہے جبکہ حقیقی علم رکھنے والا شخص جو سچا مومن ہوتا ہے ، وہ سرنگوں ہوتا ہے لیکن وہ اس کائنات کے وسیع میلے تک رسائی حاصل کرلیتا ہے ، اس کا رابطہ باری تعالیٰ تک ہوجاتا ہے ۔ یہ ہے وہ رحمت خداوندی جس کا مزا وہی شخص لے سکتا ہے جس پر یہ رحمت ہوئی ہو اور یہ رحمت خداوندی اس شخص پر ہوتی ہے جس کے لئے اللہ لکھ دے۔ لیکن انسان جس پدر چاہے غرور کرے ، اس کائنات کی قوتیں اسے مجبور کردیتی ہیں کہ وہ عجز و انکسار کے ساتھ اپنی بےبسی کا اعتراف کرلے ، چاہے وہ حقیقی علم سے لذت آشنا ہو یا نہ ہو۔ وہ نئے نئے انکشافات کرتا ہے اور نئی نئی طبعی قوتیں کی تسخیر کرتا ہے ، اس کے بعد جب وہ کائناتی سرکش قوتوں کا کبھی سامنا کرتا ہے تو وہ اپنی عاجزی تسلیم کرلیتا ہے اور نہایت ذلت کے ساتھ تسلیم کرتا ہے۔ ٹھیک ہے کہ کبھی وہ تندطوفان سے کسی پناہ گاہ میں چھپ جاتا ہے لیکن یہ طوفان نہایت سرکشی سے اس کے اوپر سے گزرتا ہے اور یہ اس کی راہ نہیں روک سکتا۔ زیادہ سے زیادہ وہ جو کرسکتا ہے ، وہ یہ ہے کہ طوفان کی زد سے بچ سکتا ہے۔ لیکن یہ بھی کبھی کبھار۔ بعض اوقات یہ قوتیں اس قدر سرکش ہوتی ہیں کہ دیواروں سے پیچھے اور تہہ خانوں کے اندر اسے ہلاک کردیتی ہیں اور کبھی جب اس کو سمندر کی سرکشی سے واسطہ پڑتا ہے تو اس بڑے جہاز موجوں اور بگولوں کے اندر آکر غرق ہوجاتے ہیں اور یوں نظر آتے ہیں جس طرح بچوں کا کوئی کھیل تھا۔ رہے زلزلے اور آتش فشاں تو وہ تو اول روز سے آج تک ناقابل کنٹرول ہیں۔ یہ صرف عقل کا اندھا پن ہے جو کسی انسان کو یہ باور کراسکتا ہے کہ وہ اللہ کے سوا اکیلا بھی یہاں رہ سکتا ہے یا یہ کہ وہ اس کائنات کا مالک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اس زمین میں خدا کا نائب اور خلیفہ ہے۔ اور اسے علم ، قوت اور قدرت اسی قدر دی گئی جس قدر اللہ نے چاہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں اس کا محافظ اور نگہبان اللہ ہی ہے۔ وہ رازق بھی ہے اور معطی بھی ہے۔ اگر اللہ کا دست قدرت ایک لحظہ کے لئے بھی اس کی نگہبانی چھوڑ دے تو اس دنیا کی طبیعی قوتیں اسے ایک سیکنڈ کے اندر پیس کر رکھ دیں۔ بلکہ صرف مکھیاں اور چیونٹیاں ہی اسے کھا جائیں۔ لیکن وہ اللہ کے حکم سے یہاں محفوظ ہے اور معزز ہے۔ لہٰذا اسے معلوم ہونا چاہئے کہ یہ شرف وکرم کہاں سے اخذ کرتا ہے ، یہ تو اللہ کا فضل ہے جو اسے دیا گیا ہے۔ اب ڈراوے اور تنبیہ کے بعد اسے دوبارہ غور وفکر کی دعوت دی جاتی ہے۔ اور یہ ایک ایسے منظر میں جسے وہ بہت دیکھتا رہتا ہے ، ہر وقت دیکھتا رہتا ہے لیکن یہ انسان اس پر کم ہی غور کرتا ہے۔ حالانکہ وہ منظر قدرت الٰہی کا ایک بہت بڑا مظہر ہے اور اگر وہ اس پر غور کرے تو بہت کچھ اس سے سیکھ سکتا ہے۔ کیونکہ یہ اللہ کی قدرت کے آثار میں سے ایک عجیب اثر ہے۔
Ayah 67:19

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ Open ayah 67:19 in the Quran reader

” کیا یہ لوگ اپنے اوپر اڑنے والے پرندوں کو پر پھیلائے اور سکیڑتے نہیں دیکھتے ؟ رحمن کے سوا کوئی نہیں جو انہیں تھامے ہوئے ہو ؟ وہی ہر چیز کا نگہبان ہے “۔

اولم یروا .................... بصیر یہ خارق العادت معجزہ جو ہر وقت واقع ہوتا رہتا ہے۔ یہ چونکہ بار بار واقع ہوتا ہے اس لئے ہم اسے اہم نہیں سمجھتے۔ اور اس کے اندر اللہ کی جو قدرت کام کررہی ہے اسے بھی ہم بھول جاتے ہیں۔ خصوصاً جبکہ وہ صف بندی میں اڑتے ہیں اور پروں کو پھیلاتے ہیں اور سکیڑ لیتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں وہ سف بستہ اڑتے ہیں۔ اور یہ پرندے بعض اوقات ایسے کرتب دکھاتے ہیں ، جن سے ان کی تخلیق کی خوبصورتی ظاہر ہوتی ہے۔ انسان دیکھتا ہی رہ جاتا ہے۔ اللہ کی عجیب و غریب مخلوقات کا یہ ایک عجیب تماشا ہے۔ جس کے اندر کمال اور جمال باہم یکجا نظر آتے ہیں۔ اس منظر کی طرف قرآن کا اشارہ یہ ہے ! اولم .................... ویقبضن (76 : 91) ”” کیا یہ لوگ اپنے اوپر اڑنے والے پرندوں کو پر پھیلائے اور سکیڑتے نہیں دیکھتے ؟ “ اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کو کس نے ڈیزائن کیا ہے ؟۔ ما یمسکھن الا الرحمن (76 : 91) ” رحمن کے سوا کوئی نہیں جو انہیں تھامے ہوئے ہو ؟ “۔ اور رحمن نے ان کو ہوا میں ان قوانین قدرت کے مطابق رکھا ہوا ہے جو ہوا کے بارے میں اللہ نے یہاں رکھے ہوئے ہیں اور ان قوانین کے اندر ایک عجیب ترتیب ہے اور ان قوانین کے مطابق اللہ ان پرندوں کی تخلیق کی ہے جس میں ایک ایک خلیے اور ایک ایک ذرے کا حساب محلوظ ہے۔ یہ وہ قوانین ہیں جن کے مطابق فضا کے اندر ہزاروں مساواتی فارمولے چلتے ہیں تاکہ ہوا میں پرندوں کی اڑان کا عمل مکمل ہو۔ اور یونہی انتظام کے ساتھ چلتا رہے۔ اور رحمن نے ان پرندوں کو اس حالت میں اپنی قدرت قادرہ کے ذریعے یوں رکھا ہوا ہے اور ان پر اس کی نظر اور نگرانی ہر وقت حاضر ہے اور کسی بھی وقت دور نہیں ہوتی۔ یہ اللہ ہی ہے کہ جو ان قوانین اور فارمولوں کو اس جہاں میں ہر وقت قائم ، متوازن اور منظم رکھتا ہے۔ یہ اصول کسی بھی وقت ٹوٹتے نہیں۔ ان میں کبھی خلل نہیں آتا۔ کبھی ان میں اضطراب نہیں آتا۔ ایک پلک جھپکنے کے لئے بھی ، ہر وقت۔ ما یمسکھن الا الرحمن (76 : 91) ” صرف رحمان ہی انہیں اس طرح تھامے ہوئے ہے “۔ کہ ہر پرندے اور ہر پر کو اللہ نے تھام رکھا ہے۔ اور یہ پرندہ جب ہوا میں پروں کو سیکڑلیتا ہے تو پھر فضا میں معلق ہوتا ہے ، اللہ اسے وہاں رکھ رہا ہوتا ہے۔ انہ بکل ................ بصیر (76 : 91) ” وہی ہر چیز کا نگہبان ہے “۔ وہ ہر چیز کو دیکھتا ہے ، ہر چیز کی خبر رکھتا ہے۔ اس کے لئے حالات زندگی تیار رکھتا ہے ، اسے قوت دیتا ہے اور ہر لمحہ اس کی ضروریات ، روز مرہ کی ضروریات مہیا رکھتا ہے۔ جس طرح کوئی خبیر وبصیر رکھتا ہے۔ پرندوں کو فضا میں اسی طرح رکھتا ہے جس طرح تمام حیوانات کو زمین پر رکھتا ہے ، جو فضا میں اڑتے ہیں۔ جس طرح اس فضائے کائنات میں اس نے بڑے بڑے اجرام فلکی روک رکھے ہیں۔ جنہیں یوں روکنے والا اللہ کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔ لیکن قرآن کریم لوگوں کو پکڑ کر ان کی آنکھوں اور دلوں کو ان تمام مناظر کی طرف کھینچ کر لاتا ہے جن کو وہ دیکھ سکتے ہیں اور سمجھ سکتے ہیں۔ اور ان کے دلوں پر ان مناظر کے اشارات اور اثرات بٹھاتا ہے۔ ورنہ اللہ کی ہر صنعت میں اعجاز ہے اور اللہ کی ہر مخلوق میں اس کے آثار ہیں۔ اور ہر تن اور ہر نسل اس سے اپنی عقل کے مطابق دیکھ سکتی ہے۔ ایک بدوی کہتا تھا : البعرة تدل علی البعیر ” اونٹ کی مینگنی دلالت کرتی ہے کہ اونٹ گزرا ہے “۔ اور آ کا انسان اپنے مشاہدات کے ذریعہ توفیق الٰہی سے سب کچھ جانتا ہے یا بہت کچھ جانتا ہے۔ اب قرآن دوبارہ ان کو ان کے ان حالات کی طرف لاتا ہے جن میں وہ بےبس ہوتا ہے ، طوفان ، زلزلوں ، آتش فشانی میں اور سنگ باری میں۔ فضا میں تیرنے والے پرندے کو دیکھ لیں کہ وہ تو فضائے کائنات میں اللہ کی توفیق سے امن میں ہیں تو دوبارہ ان کو ان کے مشکل لمحات یاد دلائے جاتے ہیں اور اسکی تکرار کا بہت اثر ہوتا ہے۔
Ayah 67:20

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ Open ayah 67:20 in the Quran reader

بتاﺅ، آخروہ کون سا لشکر تمہارے پاس ہے جو رحمن کے مقابلے میں تمہاری مدد کرسکتا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ منکرین دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں “۔

امن ھذا ................................ فی غرور ” اللہ نے اس سے پہلے انسانوں کو خسف سے ڈرایا ، جبکہ اس سے قبل کئی مکذبین کو یہ سزا دی گئی ، پھر سنگباری سے ڈرایا جبکہ کئی پر سنگباری کی گئی۔ اور اسی طرح دوسرے مکذبین کی مختلف ہلاکتوں سے ڈرایا تھا۔ یہاں دوبارہ ان سے پوچھا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کون ہے جو ان کی امداد کرتا ہے اور اس قسم کی مختلف ہلاکتوں سے تمہیں بچاتا ہے ؟ اللہ کو پکڑ کر رحمن کے سوا کون روکے ہوئے ہیں ؟۔ ان الکفرون الا فی غرور (76 : 02) ” حقیقت یہ ہے کہ یہ منکرین دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں “۔ یہ دھوکہ ان کو اس بات پر مطمئن کردیتا ہے کہ وہ امن میں ہیں۔ کسی کی ضمانت اور اطمینان میں ہیں ، حالانکہ وہ اللہ کے غضب اور عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں۔ کیونکہ وہ نہ ایمان لائے ہیں اور نہ عمل صالح کررہے ہیں ، جن کی وجہ سے اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے اور اللہ کا عذاب واقع نہیں ہوتا ہے۔ اور ایک چٹکی پھر دوبارہ ، ان کو احساس دلایا جاتا ہے کہ یہ رزق الٰہی جس کا ذکر اوپر ہوچکا ہے اگر اللہ کی طرف سے بند کردیا جائے تو پھر کون ہے جو اس قدر عظیم انتظام کرسکتا ہے۔
Ayah 67:21

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ Open ayah 67:21 in the Quran reader

یا پھر بتاﺅ، کون ہے جو تمہیں رزق دے سکتا ہے۔ اگر رحمن اپنا رزق روک لے ؟ دراصل یہ لوگ سرکشی اور حق سے گریز پر اڑے ہوئے ہیں۔ “

امن ھذا ................ نفور ” جیسا کہ اوپر گزر گیا۔ ہر انسان اللہ کے پیدا کردہ اسباب کا مرہون منت ہے۔ اللہ ان اسباب میں سے کسی ایک سبب کو کھینچ لے تو بھول سے لوگ مرجائیں۔ اور یہ رزق اللہ نے اس کائنات کی اسکیم میں بطور سلسلہ اسباب رکھا ہوا ہے۔ یہ اسباب سب کے سب ایسے ہیں جو انسان کی قدرت میں نہیں ہیں۔ اور یہ تمام انسانوں کی دسترس میں ہیں۔ یہ سب اسباب انسان کے وجود سے بھی پہلے پیدا کردیئے گئے تھے۔ اور یہ اسباب اپنی طبیعی قوت اور طاقت کے اعتبار سے انسان سے بہت ہی بڑے ہیں اور ایسے ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی ایک سبب بھی دست قدرت کی طرف سے محو کردیا جائے تو انسان سب کے سب صفحہ ہستی سے مٹ جائیں۔ اگر اللہ پانی ختم کردے ، ہوا کو بند کردے یا وہ عناصر ختم کردے جس سے اشیاء بنی ہیں ، تو کون ہے جو لاسکتا ہے۔ زمین سے ہزار گنا بڑے ستارے موجود ہیں لیکن حیات اور اسباب حیات سے خالی ہیں۔ اس گہرے وسیع اور عظیم مفہوم کے اندر لفظ رزق کے تمام مفہوم سما جاتے ہیں۔ جس رزق کے بارے میں انسان یہ زعم رکھتا ہے کہ اسے وہ کماتا ہے ، مثلاً محنت کرکے ایجاد کرکے ، پیداوار حاصل کرکے ، جبکہ یہ تمام کام بعض اسباب وعناصر پر موقوف ہیں اور دوسری جانب سے اللہ نے جن اقوام کو وہ اسباب دیئے ہیں ان پر بھی موقوف ہیں۔ کیونکہ ایک کام کرنے والا جو سانس بھی لیتا ہے اور جو حرکت بھی کرتا ہے ، وہ اللہ کے رزق ہی کی وجہ سے کرتا ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جس نے اس عامل کو پیدا کیا۔ اسے قدرت اور طاقت بخشی۔ اسے ایک نفس دیا ، جو اس دنیا میں سانس لیتا ہے ، پھر اس کے جسم کے اندر جو مواد چلتا ہے ، اس کے ذریعہ اسے قوت حاصل ہوتی ہے اور وہ حرکت کرتا ہے ، اور جو عقلی کام وہ کرتا ہے وہ بھی اس عقلی قوت کی وجہ سے کرپاتا ہے جو اللہ نے اس کے دماغ میں رکھی ہے اور صانع اور موجد جو بھی ایجاد کرتا ہے اس میں اللہ ہی کا پیدا کردہ میٹریل استعمال کرتا ہے۔ اور اس عمل میں بھی انسان اور کائناتی اسباب استعمال کرتا ہے جو اللہ کا رزق اور عطیہ ہیں۔ امن ھذا ........................ رزقہ (76 : 12) ” پھر بتاﺅ، کون ہے جو تمہیں رزق دے سکتا ہے۔ اگر رحمن اپنا رزق روک لے “۔ بل ............ ونفور (76 : 12) ” دراصل یہ لوگ سرکشی اور حق سے گریز پر اڑے ہوئے ہیں۔ “ یہ طے کرنے کے بعد کہ رزق صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے ، یہ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ روگردانی اور سرکشی کرتے ہیں اور نہایت ہی تکبر میں دعوت اسلامی سے نفرت کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ اللہ کے رزق پر پل رہے ہیں ، لہٰذا اللہ کا رزق کھا کر سرکشی کرنا اور غرور میں دین سے گریز کرنا نہایت قبیح اور گھٹیا فعل ہے کیونکو ان کی تمام ضروریات اللہ کی طرف سے فضل وکرم پر مشتمل ہے۔ اور پھر یہ بھی روگردانی اور تکبر کرتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کی تصویر ہے جو اللہ کی دعوت کا انکار کرتے ہیں ، کبروسرکشی کی حالت میں اور سخت تکبرانہ نفرت کے ساتھ ، یہ بھولے ہوئے ہیں کہ وہ اللہ کی مخلوق ہیں اور اللہ کے فضل وکرم پر زندہ رہے ہیں اور وہ اپنے وجود ، اپنی زندگی کی ضروریات کے مالک بھی نہیں ہیں۔ اپنے ان حالات کے باوجودالٹا وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھیوں کے بارے میں یہ دعویٰ کرتے تھے کہ یہ گمراہ لوگ ہیں۔ اور اپنے آپ کو ہدایت پر سمجھتے تھے۔ اور ہر دور میں خدا کی طرف بلانے والوں کے بارے میں یہی سمجھا جاتا ہے ، چناچہ ایسے مدعیان اور اہل ایمان کی اصل حقیقت کو ایک تمثیل یا ایک منظر کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔
Ayah 67:22

اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 67:22 in the Quran reader

بھلا یہ سوچو ، جو شخص منہ اوندھائے چل رہا ہو ، وہ زیادہ صحیح راہ پانے والا ہے یا وہ جو سر اٹھائے سیدھا ایک ہموار سڑک پر چل رہا ہو ؟ “

افمن .................... مستقیم ” جو شخص اوندھا چلتا ہے وہ دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک وہ کہ وہ پاﺅں پر سیدھا نہیں چلتا بلکہ منہ کے بل چلتا ہے ، حالانکہ اللہ نے چلنے کے لئے پاﺅں پیدا کئے ہیں ، یا اس سے مراد یہ ہے کہ وہ راہ میں گرتا پڑتا ہے اور پھر اٹھ کر چلتا ہے۔ اور پھر منہ کے بل گرتا ہے ، اور اسے سیدھی چال نصیب نہیں ہے۔ یہ اس بدبخت شخص کی حالت ہے جو مشقت برداشت کرتا ہے ، تکلیفیں اٹھاتا ہے ، گرتا پڑتا جاتا اور منزل مقصود سے بھی محروم رہتا ہے ، اس کے مقابلے میں ایک مومن سیدھا شاہراہ پر ایک متوازن رفتار سے جارہا ہے ، راستہ بھی واضح ہے ، جاری راستہ ہے اور یقینا منزل تک پہنچانے والا راستہ ہے۔ پہلا حال ایک بدبخت ، گمراہ اور سرکش انسان کا ہے۔ یہ اللہ کی راہ سے محروم ہے ، اللہ کی ہدایت سے محروم ہے۔ یہ اللہ کے قوانین قدرت سے محروم ہے ، یہ فطرت کے اصولوں سے ٹکراتا ہے ، مخلوق خدا سے متصادم ہے۔ اس لئے کہ یہ غلط راہ پر چلتا ہے اور سیدھی راہ نہیں لیتا۔ یہ غلط پگڈنڈیوں پر جارہا ہے جن میں نشیب و فراز اور پتھریلی راہ ہے۔ یہ گرتا جاتا ہے اور سخت مشقت میں راہ طے کررہا ہے اور دائمی گمراہی میں ہے۔ اور دوسرا وہ شخص ہے جو نیک بخت ، سنجیدہ ، راہ خدا سے واقف ، اس پر چلنے والا ، اللہ کے قوانین قدرت کے مطابق صحیح رفتار رکھتا ہے ، سیدھی جاری راہ پر ہے جس پر قافلہ ایمان اپنے لاﺅ لشکر اور سازو سامان کے ساتھ رواں دواں ہے جس پر اس پوری کائنات کا قافلہ مخلوقات رواں دواں ہے۔ خواہ زندہ مخلوق ہے یا غیر زندہ ! ایمان کی زندگی درصل یسر ہے ، آسانی ہے ، استقامت ہے ، سیدھی راہوں پر چین ہے ، اور کفر کی زندگی سختی ہے ، گرنا پڑنا ہے ، اوندھا چلنا ہے اور غلط راہوں پر چلنا ہے۔ پھر ہر شخص غور کرے کہ ان دونوں میں سے کون سی راہ درست ہے ، کیا اس کے جواب کی ضرورت ہے۔ نہیں اس سوال کے اندر جواب موجود ہے۔ یہ تصدیقی اور تقریری سوال ہے کہ بات یہی ہے۔ یہ سوال و جواب یوں ختم ہوتا ہے جب ہمارا تخیل ان دو افراد کی تصویر اور تمثیل کے پیچھے دوڑتا ہے۔ ایک گروہ ہے کہ اپنے منہ کے بل چتا ہے ، گرتا ہے ، اٹھتا ہے ، پھر گرتا ہے ، پتھریلی راہ ہے۔ ٹیڑھی راہ ، خاردار راہ ہے۔ منزل مقصود معلوم نہیں ہے ، صرف گرتا ، اٹھتا ہے۔ ہر کوئی اپنے طور پر بھاگ رہا ہے جبکہ دوسری ایک جماعت ہے جو ایک قافلے کی شکل میں ہمقدم چل رہی ہے۔ جس عے قدم سیدھے نہیں ، راہ سیدھی ہے ، جاری رہا ہے بلکہ شاہراہ ، اور منزل مقصود یعنی کہ سب لوگ ادھر جارہے ہیں۔ یہ ہے قرآنی انداز گفتگو کہ معنوی اور فلسفیانہ حقائق کو نہایت ہی مجسم اور مشخص انداز میں ہماری نظروں کے سامنے رکھ دیتا ہے کہ معانی چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ مکبا علی ................ اھدی (76 : 22) ہدایت وضلالت کے ذکر کے بعد ، اب ان کو وہ وسائل دکھائے جاتے ہیں جو اللہ نے ہدایت وضلالت کے سلسلے میں ان کو دے رکھے ہیں ، یعنی وہ قدرتی قوتیں جن کے ذریعے وہ حقائق کا ادراک کرسکتے ہیں۔ جن سے وہ فائدہ نہ اٹھاتے تھے اور جن کا وہ شکر بھی ادا نہ کرتے تھے۔
Ayah 67:23

قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 67:23 in the Quran reader

ان سے کہو ، اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ، تم کو سننے اور دیکھنے کی طاقتیں دیں اور سوچنے سمجھنے والے دل دئیے ، مگر تم کم ہی شکر ادا کرتے ہو “۔

قل ھوا .................... تشکرون ” یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ اللہ ہی نے انسان کو پیدا کیا ، اور اسے دیکھنے سننے اور سوچنے کی قوتیں بھی اللہ ہی نے دیں اور یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اللہ کی مخلوقات میں سے انسان اعلیٰ ارفع مخلوق ہے۔ اور وہ اس جہاں میں موجود ہے۔ اس نے خود اپنے آپ کو نہیں پیدا کیا ، لہٰذا اس سے اعلیٰ وارفع اور زیادہ علم والا موجود ہوگا۔ اور وہی خالق ہے ، کوئی شخص خالق کے اعتراف سے نہیں بھاگ سکتا ، کیونکہ خود انسان کا محض وجود ہی تقاضا کرتا ہے کہ کوئی ارفع قوت موجود ہے اور اس میں بحث وجدال کرنا اور شک کرنا محض ہٹ دھرمی ہے۔ قرآن کریم اس حقیقت کو یہاں اس لئے لاتا ہے کہ وہ بتائے کہ اللہ نے انسان کو سوچنے سمجھنے کی قوتیں دی ہیں۔ وجعل .................... والا فئدة (76 : 32) ” تم کو سننے ، دیکھنے اور سوچنے کی طاقتیں دیں “۔ اور انسان نے اللہ کے یہ انعامات پاکر کیا کیا ؟ یہ سمع ، یہ بصارت اور یہ عقل کی قوت ؟ اور انسان کا طرز عمل دیکھئے ! قلیلاً ما تشکرون (76 : 32) ” مگر تم کم ہی شکر ادا کرتے ہو “۔ سننے کی قوت اور دیکھنے کی قوت انسان کے نفس کے اندر دو عجیب معجزے ہیں۔ انسان نے ان کے بعض پہلو معلوم کر لئے ہیں۔ اور والافئدة سے قرآن سوچنے کی قوت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ تو اعجب العجائب ہے۔ انسان کی عقلی قوت کے بارے میں ابھی تک انسان پوری معلومات نہیں حاصل کرسکا۔ عقل انسان کے اندر اللہ کا ایک منفرد معجزہ ہے۔ جدید علوم نے سننے کی قوت کے بارے میں بعض حیران کن باتوں کو دریافت کرلیا ہے ، مناسب ہے ان میں سے بعض چیزوں کا یہاں ذکر کردیا جائے۔ ” ہمارے سننے کی حس بیرونی کان سے کام شروع کرتی ہے اور اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ اس کی انتہا کہاں ہوتی ہے ؟ سائنس دان کہتے ہیں کہ کہ آواز ہوا کے اندر جو لہریں پیدا کرتی ہے یہ لہریں کان تک جاتی ہیں۔ یہ کان ان کے اندر داخل کرنے کے لئے منظم کرتا ہے ، تاکہ یہ کان کے پردے کے اوپر پڑیں اور یوں یہ آواز کام کے پردے کی دوسری طرف گہرائی تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ گہرائی ایسی ہے کہ اس میں اسپرنگ کی طرح گول نالیاں ہیں اور یہ نصف دائرے کی شکل میں ہیں۔ اس گول نالیوں کے حصے میں چار ہزار قوس ہیں ، جو سر کے آلہ سماعت کے ساتھ پیوست ہیں “۔ ” سوال یہ ہے کہ ہر ایک قوس کا طول کیا ہے اور اس کا حجم کیا ہے اور یو قوس کس طرح بنائے گئے ہیں ، جن کی تعداد ہزاروں میں ہے اور یہ کس قدر چھوٹی جگہ میں رکھ دیئے گئے ہیں جبکہ ان کے علاوہ اور کئی ہڈیاں ہیں جو موجوں کی طرح متحرک ہوتی ہیں۔ اور یہ تمام سامان کان کے پردے کے پیچھے ایک چھوٹی سی کھلی جگہ میں ہے ! کان میں ایک سو ہزار (ایک لاکھ) سماعتی خلیات ہیں ! اور سماعت کے اعصاب کے آخر میں باریک ترین ریشے ہیں ، جن کی باریکی ہی محیرالعقول ہے اور اس کے تصور ہی سے سر چکرانے لگتا ہے “۔ (اللہ اور جدید علوم ، عبدالرزاق نوفل ، ص 75) ” انسانی حاسہ بصارت کو ذرا دیکھئے ، اس کے مرکز میں روشنی کا استقبال کرنے والوں کی 031 ملین (31 لاکھ) سیل ہیں۔ یہ استقبال کرنے والی آنکھیں اعصاب کے سرے ہیں اور آنکھ کے اہم حصے صلبہ قرنیہ (Cornea) جھلی (Plancenta) جالی (Ratina) یہ اہم اعضا ، ہزارہا اعصاب اور مراکز کے علاوہ ہیں۔ (حوالہ بالا ص 85) ۔ اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ اللہ نے انسان کو پیدا کرکے یہ خصوصیات اسے عبث نہیں دیں۔ اور نہ بغیر کسی ارادے منصوبے کے یونہی اتفاقاً یہ کام ہوگیا ہے۔ بلکہ یہ اس لئے دی گئی ہیں کہ انسان اس زمین پر زندگی بسر کرسکے۔ اور یوم الجزاء میں پھر اس سے زندگی کا حساب لے کر اسے جزاء وسزا دی جائے۔
Ayah 67:24

قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 67:24 in the Quran reader

ان سے کہو ، اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا ہے اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاﺅ گے “۔

قل ھو ................ تحشرون ” الذرء کا عربی میں مفہوم ہے کہ کسی چیز کا بڑھنا۔ اور بڑھانے کے ساتھ ساتھ پھیلانا بھی اس کے مفہوم میں ہے اور الحشر کے معنی جمع کرنا ، یعنی پھیلانے کے بعد جمع کرنا۔ ” تصوراتی اعتبار سے یہ دونوں مخالف یا مختلف حرکتیں ہیں اور معنوی اعتبار سے باہم مقابل ہے۔ ایک کے مفہوم میں بڑھانا ، زمین میں پھیلانا اور بکھیرنا اور دوسرے مفہوم کا منظر ہے جمع کرنا اور اٹھانا ، ایک ہی آیت میں اللہ تعالیٰ دونوں مناظر کو جمع فرما دیتا ہے تاکہ انسانی احساس میں دونوں مناظر آجائیں۔ یہ قرآن کا تصور ہے۔ انسان جو زمین کے اندر منتشر ہوتے اور پھیلتے جاتے ہیں ان کو یادرکھنا چاہئے کہ ایک دن تمہارے جمع کا بھی ہے۔ جہاں جمع کرکے تمہیں ایک ہی میدان میں اٹھایا جائے گا اور اس حیات اور اس موت کے بعد یہ بہت ہی بڑا معاملہ ہے۔
Ayah 67:25

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 67:25 in the Quran reader

یہ کہتے ہیں ” اگر تم سچے ہو تو بتاﺅ یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟ “

اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ اس بڑے معاملے میں تم شک میں پڑے ہو ؟ اور سوالات کرتے ہو ؟ ویقولون .................... صدقین ” یہ ایک خلجان آلود سوال ہے اور اس کے اندر ہٹ دھرمی اور تکبر کی بو بھی۔ اس وعدے اور قیام قیامت کے وقت کا علم ہمیں اس قدر ہے کہ وہ اپنے وقت سے مقدم وموخر نہیں ہوسکتا۔ اس کا وقت ہمیں معلوم ہو یا نہ ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ یہ یوم الجزاء ہے۔ ہمارے لئے اس میں کیا فرق ہے کہ وہ کل آجائے یا کئی ملین سال بعد آجائے ، ہماری زندگی تو مختصر زندگی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ آنے والی ہے اور اس کے لئے تیاری کرنا ضروری ہے۔ تمہیں اس میں بہرحال اٹھایا جائے گا اور جزاء وسزا ہوگی۔ اس لئے اللہ نے اس کے وقت کی اطلاع کسی کو نہیں دی ۔ کیونکہ قیامت کا وقت کسی کو معلوم ہوجانے میں کوئی فائدہ ہی کیا ہے۔ انسان کی عملی زندگی کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ان احکامات کے ساتھ اس کا تعلق ہے ، جو انسان کو دیئے گئے ہیں۔ بلکہ مصلحت تو اس میں ہے کہ عام لوگوں کو اس کے وقوع کے وقت کا پتہ نہ ہو ، صرف اللہ کو پتہ ہو۔
Ayah 67:26

قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 67:26 in the Quran reader

کہو ،” اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے ، میں تو بس صاف صاف خبر کردینے والا ہوں “۔

قل انما ................ مبین ” یہاں خالق اور مخلوق کے درمیان پورا فرق ہوجاتا ہے۔ اللہ کی ذات علیحدہ اور ممتاز ہوجاتی ہے ، نہ اس کا کوئی شبیہ رہتا ہے اور نہ شریک۔ اور علم خالص اسی کے لئے مخصوص ہوجاتا ہے اور تمام مخلوق رسول ، ملائکہ اللہ کے سامنے باادب کھڑے رہ جاتے ہیں۔” کہو اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے۔ میں تو بس صاف صاف خبردار کردینے والا ہوں “۔ جس طرح حدیث جبرائیل میں آتا ہے۔ مالمسﺅل عنھا باعلم من السائل ” کہ مسﺅل عنہ سائل سے زیادہ علم نہیں رکھتا “۔ یہ علم نہ رسولوں کے پاس ہے اور نہ فرشتوں کے پاس ہے ، رسول کا کام فقط ڈرانا ہے۔ یہ لوگ شک کے انداز میں قیامت کے بارے میں سوالات کرتے تھے اور اللہ کی طرف سے ان کو نہایت قطعی انداز میں جواب دیا جارہا تھا ، قرآن کریم اپنے مخصوص انداز میں یہ تخیل دیتا ہے کہ گویا یہ دن آہی گیا ہے اور یہ لوگ حشر کے میدان میں ہیں اور قیامت درپیش ہے اور اب وہاں یہ ہورہا ہے۔
Ayah 67:27

فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ Open ayah 67:27 in the Quran reader

پھر جب یہ اس چیز کو قریب دیکھ لیں گے تو ان سب لوگوں کے چہرے بگڑ جائیں گے ، جنہوں نے انکار کیا ہے ، اور اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ چیز جس کے لئے تم تقاضا کررہے تھے “۔

فلما راوہ .................... تدعون ” جب انہوں نے اسے دیکھ لیا اور وہ ان کے سامنے ہے۔ ان کو توقع ہی نہ تھی کہ ان کے سامنے کھڑی ہوگئی۔ اب تو ان کے چہروں کی شکل بگڑ رہی ہے۔ غم کے بادل ہیں ان چہروں پر۔ اب ان کو یوں سرزنش کی جاتی ہے۔ ھذا الذی ................ تدعون (76 : 72) ” یہی ہے وہ چیز جس کے لئے تم تقاضے کرتے تھے “۔ یہ ہے حاضر اور قریب۔ اور دعویٰ تمہارا یہ تھا کہ قیامت کہاں ہے ؟ یہ انداز کہ ہونے والے واقعات کو قرآن اس طرح پیش کرتا ہے کہ گویا ہوگئے ، یہ ان کے شکوک و شبہات کے جواب میں کیا ہی خوب انداز ہے۔ ان کو ایک شعوری جھٹکا دیا جاتا ہے کہ وہ دیکھو قیامت تو برپا ہے۔ اور تکذیب کرنے والا اور شک کرنے والا کلام ربانی کے سامنے مبہوت رہ جاتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ وہ منکر ہے بلکہ منظر کے سامنے کھڑا رہتا ہے۔ اور یہ تصویر کشی اثر انداز اس لئے ہوئی ہے کہ اللہ کے علم میں ہیں وہ ہونے والے مناظر ، گویا فی الواقعہ وہ مناظر قائم ہیں ، کیونکہ اللہ کا علم زمان ومکان کے قید کے اندر محدود نہیں۔ یہ ماضی ، حال اور مستقبل تو انسان کے لئے ہیں۔ آج اگر اللہ حکم دے تو یہ شاید ہم اسی طرح دیکھ سکتے ہیں۔ اس طرح اچانک منکرین مخاطبین کو دنیا سے آخرت میں منتقل کردیا جاتا ہے۔ اور شک وشبہ کی بجائے ان کا سامانا کرادیا جاتا ہے۔ اس حقیقت کے سامنے ان کو لایا جاتا ہے جو اللہ کے علم میں قائم ہے ، اگر پردہ اٹھادے تو ہم بھی دیکھ لیں ، لیکن اللہ یہاں صرف اس کی تصویر دکھاتا ہے۔ مشرکین مکہ اس قدر احمق ، خوش فہم اور معاند تھے کہ وہ رسول اکرم ﷺ اور مٹھی بھر مومنین کے بارے میں یہ تمنائیں کرتے تھے کہ وہ ہلاک ہوجائیں اور یہ مومنین سے بےغم ہوجائیں۔ اور وہ ایک دوسرے کو بھی نصیحت کیا کرتے تھے کہ بھائی صبر کرو ، چند لوگ ہیں مرکھپ جائیں گے۔ اس لئے یہ انتشار خود بخود ختم ہوجائے گا جو قریش کی صفوں میں انہوں نے برپا کردیا اور بعض اوقات تو وہ اس زعم میں مبتلا ہوجاتے تھے کہ اللہ عنقریب محمد ﷺ اور اس کے ساتھیوں کو ہلاک کردے گا۔ اس لئے کہ وہ صابی اور گمراہ ہیں کیونکہ یہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ اب حشرونشر کے اس میدان کے بعد ان کو کہا جاتا ہے تمہاری یہ تمنائیں تو اپنی جگہ ، لیکن اگر محمد ﷺ اور ان کے ساتھی ہلاک کردیئے گئے تو تم عذاب الیم سے کس طرح بچ جاﺅ گے۔ تم اپنے رویہ اور اپنے عقائد اور اپنے اعمال پر غور کرو ۔ اگر یہ پیغمبر اور اس کے مٹھی بھر ساتھی ہلاک ہوگئے تو اس سے تمہیں کیا فائدہ ہوگا ؟
Ayah 67:28

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 67:28 in the Quran reader

ان سے کہو ، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اللہ خواہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کردے یا ہم پر رحم کرے ، کافروں کو درد ناک عذاب سے کون بچالے گا “۔

قل ارئیتم ............................ عذاب الیم ” یہ ایسا سوال ہے ، جو انہیں سنجیدہ غوروفکر کی دعوت دیتا ہے اور یہ دعوت ہے کہ اپنے معاملات پر ذرا غور کرو ، تمہارے لئے بہتر یہ ہے۔ اگر نبی اور اس کے مٹھی بھر ساتھی ہلاک بھی ہوجائیں تو تمہیں کیا فائدہ ہوگا۔ اللہ تو باقی ہے۔ نبی اور اس کے ساتھی اللہ کے دائرہ رحم میں ہیں۔ لیکن تمہیں تو اس کے سامنے جانا ہے۔ اس نے تمہیں پیدا کیا اور اسی کی طرف جانا ہے۔ تمہاری تیاری کیا ہے ؟ یہ سیاق کلام میں۔ من ................ الکفرین (76 : 82) ؟ ؟ کہا جاتا ہے۔ یہ نہیں کہا جاتا کہ تم کافر ہو ، بلکہ یہ کہ جو کافر ہوں گے ان کو کون بچائے گا۔ اشارہ یہ ہے کہ عذاب کافروں کے لئے ہے۔ فمن ........................ الیم (76 : 82) ” کافروں کو درد ناک عذاب سے کون بچائے گا “۔ یہ دعوت کا حکیمانہ اسلوب ہے۔ ایک طرف انہیں ڈرایا جاتا ہے دوسری جانب اشارہ دیا جاتا ہے کہ واپس ہوجاﺅ حماقت کا راستہ اختیار کرکے منہ آتے۔ اور براہ راست اقدام کی وجہ سے عناد میں مبتلا ہوجاتے۔ بعض اوقات اشاراتی انداز صریح انداز سے زیادہ اثر کرتا ہے۔” نہ ہم سمجھے کہ تم آئے کہیں سے “۔ ایسا انداز بہت موثر ہوتا ہے۔ اب اس اشارہ کے بعد دونوں موقف برابر نہیں ہیں۔ مومنین کو اپنے رب پر بھروسہ ہے۔ وہ توکل علی اللہ کرکے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ، اور اپنے ایمان پر وہ مطمئن ہیں ، وہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ راہ ہدایت پر ہیں اور دراصل کھلی گمراہی میں تو ان کا فریق مخالف مبتلا ہے۔
Ayah 67:29

قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 67:29 in the Quran reader

ان سے کہو ، وہ بڑا رحیم ہے ، اسی پر ہم ایمان لائے ہیں ، اور اسی پر ہمارا بھروسہ ہے ، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ صریح گمراہی میں پڑا ہوا کون ہے “۔

قل ھو ................ مبین ” یہاں اللہ کی جگہ رحمن کی صفت اس لئے لائی گئی ہے کہ اللہ نبی اور اس کے مٹھی بھر ساتھیوں کو ہلاک نہیں کرتا بلکہ وہ ان پر رحیم وکریم ہے ، جس طرح کہ تمہاری تمنائیں ہیں۔ نبی ﷺ اور ساتھیوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اللہ کے ساتھ اپنے موجودہ تعلق کو مضبوط کرو ، اعلان کردو۔ امنا بہ (76 : 92) ” ہم اس پر ایمان لائے ہیں “۔ صرف اللہ پر۔ انداز کلام اس کا اظہار کرتا ہے کہ اللہ مسلمانوں کے بہت ہی قریب ہے۔ ان کے درمیان اعتماد کا تعلق ہے۔ وعلیہ توکگنا (76 : 92) ” اور اس پر ہمارا بھروسہ ہے “ صرف اس پر۔ اللہ تعالیٰ نبی کو حکم دیتا ہے کہ اس فضل وکرم کا اعلان کردیں۔ آپ کو گویا کہا جاتا ہے کہ ان کفار کی تمناﺅں اور اقوال سے نو ڈریں۔ میں تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے ساتھ ہوں۔ لہٰذا یہ اعلان کردیں اور یہ اللہ کی جانب سے نبی اور دوستان نبی کے ساتھ دوستی کا اعلان ہے۔ جس میں ان کے لئے اعزاز ہے۔ اور فریق مخالف کو بالاواسطہ دھمکی دی جاتی ہے۔ فستعلمون ................ مبین (76 : 92) ” عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ صریح گمراہی میں پڑا ہوا کون ہے “۔ یہ بھی ایک انداز ہے جو ہٹ دھرمی اور اصرار کے قلعوں میں دراڑیں ڈال دیتا ہے اور مخاطب کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنی پوزیشن پر غور کرے کہ کہیں وہ خود تو گمراہ نہیں ہے۔ کہیں وہ خود تو عذاب کا مستحق نہیں ہورہا ہے۔ فمن یجیر .................... الیم (76 : 92) ” کون ہوگا جو کافروں کو عذاب الیم سے پناہ دے گا “۔ لیکن اس پوری گفتگو میں اللہ ان کو یہ نہیں کہتا کہ تم کافر ہوتا کہ وہ ضد میں نہ آجائیں۔ یہ دعوت کا اسلوب ہے جو زیادہ تر حالات میں مفید رہتا ہے۔ اور اب عقل وخر کی تاروں پر آخری شدید ضرب جن سے زمزمہ اٹھتا ہے۔ یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ خبردار یہ تو ہے اخروی عذاب۔ لیکن اللہ نافرمانوں کو اس دنیا میں بھی عذاب دیا کرتا ہے۔ آج ہی اگر اللہ پانی بند کردے تو سوچو تمہاری حالت کیا ہوجائے۔
Ayah 67:30

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠ Open ayah 67:30 in the Quran reader

ان سے کہو ، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر تمہارے کنوﺅں کا پانی زمین میں اتر جائے تو کون ہے جو اس پانی کی بہتی ہوئی سوتیں تمہیں نکال کر لادے گا ؟ “۔

قل ارءیتم .................... معین ” ماﺅکم غورا (76 : 03) ” کے معنی اس پانی کے ہیں جو زمین کی رگوں میں دور تک چلاجائے اور اسے واپس لانے کی کوئی سبیل نہ ہو۔ معین (76 : 03) وہ چشمہ جو زمین سے ابل کر پانی لارہا ہو۔ یہ مناظر وہ دیکھتے رہتے تھے۔ اگرچہ وہ اس دن اس میں شک کرتے تھے۔ لیکن زمین و آسمان کی بادشاہت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے ، وہ جس وقت چاہے ان چشموں کو خشک کردے۔ اگر اللہ ان کی زندگی کے اس سبب کو ہی کشید کرلے تو نتائج کیا ہوں۔ اس کے بعد ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے ذرا اس پر بھی غور کرلو۔ یوں اس سورت کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ یہ دلائل ، تاثرات ، ملکوت سماوات اور ارض کی سیر ، ہر آیت ایسی کہ بذات خود فکر انگیز ، قلب ونظر اور فکر و خیال کی جولانی۔ یہ بہت ہی زیادہ فکر انگیز سورت ہے۔ حجم اگرچہ کم ہے لیکن تصورات ، ہدایات آفاق کائنات میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ اشاراتی تیر ہیں جو بہت ہی دور تک فکر و خیال کو لے جاتے ہیں اور کائنات کی سیر کراتے ہیں۔ یہ سورت اسلامی تصور حیات کی بنیادیں رکھ دیتی ہے۔ یہ ضمیر کے اندر بٹھاتی ہے کہ تمام فیصلے ازل میں ہوچکے ہیں۔ تمام کائنات پر اللہ کا مکمل کنٹرول ہے ، انسانوں کو یہاں آزمائش اور امتحان کے لئے بھیجا گیا جس کا نتیجہ حشر ونشر کے دن نکلے گا۔ اللہ کی مخلوقات میں کمال و جمال انتہاﺅں پر ہے۔ اللہ کا علم ظاہر و باطن پر محیط ہے ، رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ مخلوقات کا محافظ ہے ، وہ مخلوقات کے ساتھ ہے ، ایک مسلم کا تصور اب کیا ہے ، پھر اس کائنات کا اللہ کے ساتھ کیا تعلق ہے ، یہ وہ مجموعہ تصورات ہے جس کے اوپر اسلامی نظام حیات کی عمارت استوار ہوتی ہے۔ مومن کا تعلق اپنے رب کے ساتھ ، مومن کا تعلق اپنے نفس کے ساتھ ، مومن کا تعلق اپنے بھائیوں اور انسانوں کے ساتھ ، مومن کا تعلق تمام زندہ مخلوقات کے ساتھ ، مومن کا تعلق روئے زمین کے اشیاء کے ساتھ۔ یہ تصورات انسان کے ضمیر میں ان تعلقات کو اس تفصیلی کیفیات عطا کرتے ہیں۔ اس سے ایک مسلم کی زندگی کی اقدار اور پیمانے واضع ہوتے ہیں۔